Al-Muddaththir 74:46

Al-Muddaththir · from ayah 46

74:46

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۟ۙوَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِۙ‏

اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And we used to deny the Day of Recompense

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:46

اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم روزِ جزا کو جھٹلایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم جزا کے دن کو جھٹلا یا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور روز جزا کو جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم جھٹلایا کرتے تھے بدلے کے دن کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم روز جزا کو جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (سب سے بڑھ کر یہ کہ) ہم جزاء وسزا کے دن کا انکار کرتے رہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

and we gave the lie to the Day of Judgement

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and we used to deny the Day of Requital,

— Muhammad Taqi Usmani

and we used to deny the Day of Requital,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And we used to deny the Day of Recompense,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we used to deny the Day of Judgment,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And we used to deny the Day of Recompense

— Saheeh International

and rejected the Day of Judgment

— Muhammad Sarwar

And we used to call the day of judgment a lie;

— Muhammad Habib Shakir

And we have been belying the Day of Requital.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 74:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–56

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 44–46

سورة الْمُدَّثِّر 34 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کو بھوک میں مبتلا دیکھنا اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو کھانا نہ کھلانا اسلام کی نگاہ میں کتنا بڑا گناہ ہے کہ آدمی کے دوزخی ہونے کے اسباب میں خاص طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–47

ۭكُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38؀ۙاِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ رھنتہ بمعنی مرہونہ ہے اور مراد اس سے اس کا محبوس ومقید ہونا ہے جس طرح کوئی شخص قرص کے بدلے میں کوئی چیز رہن رکھدے تو وہ چیز قرض خواہ کے قبضہ میں محبوس رہتی ہے، مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح قیامت کے روز ہر ایک نفس اپنے گناہوں کے بدلے میں محبوس اور مقید رہیگا مگر اصحاب الیمین اس حبس اور قید سے مستثنی ہوں گے۔ یہاں حبس سے مراد جہنم میں محبوس ہونا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگنتے کے لئے جہنم میں محبوس رہے گا مگر اصحاب الیمین اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 45–46

اس کے بعد وہ اس امر کا اعتراف کریں گے کہ قیامت اور جزا و سزا کے باب میں جس طرح کی نکتہ چینیاں اور موشگافیاں دوسرے کرتے تھے اسی طرح کی موشگافیاں کرنے والوں میں وہ بھی رہے ہیں اور انہی موشگافیوں کی آڑ لے کر انھوں نے جزا و سزا کے دن کو جھٹلایا یہاں تک کہ موت آ گئی اور اس نے ان تمام چیزوں کا یقین دلا دیا جن کے بارے میں وہ شکوک پیدا کرتے رہے تھے۔ ’کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَائِضِیْنَ‘ سے اشارہ اس طرح کی باتوں کی طرف ہے جس کی ایک مثال دوزخ پر مامور فرشتوں کی تعداد کے بارے میں اوپر گزر چکی ہے۔ ’خوض فی الحدیث‘ کے معنی ہیں کسی بات میں مین میکھ نکالتے نکالتے کہیں سے کہیں جا نکلنا اور اس کو فتنہ اور حق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 45–47

45۔ 1 یعنی کج بحثی اور گمراہی کی حمایت میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–51

19: اس سے مراد کافروں کے وہ سردار ہیں جو اسلام اور قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے محفلیں سجایا کرتے تھے، اور بےہودہ مذاق سے حق کی تردید کیا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جو ہر قسم کی بےہودہ گفتگو اور بےہودہ مشغلوں کو شامل ہیں، جو آخرت میں انسان کے لیے مصیبت کا سبب بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وکنا ........................ الدین (74:46) ” اور روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے “۔ یہ ہے اس مصیبت کی اصل بنیاد ، جو شخص قیام قیامت کا منکر ہوتا ہے اس کی زندگی کی تمام قدریں اور پیمانے خلل پذیر ہوجاتے ہیں اور اس کی تمام اقدار مضطرب ہوتی ہیں۔ اس کے احساسات میں زندگی کا دائرہ بہت ہی محدود اور تنگ ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس کی پوری سوچ اس زمین کی مختصر عمر تک محدود ہوجاتی ہے اور وہ انہی نتائج کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ جو اس مختصر زندگی میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ ان نتائج پر کبھی مطمئن نہیں ہوتا اور آخرت کا کوئی حساب و کتاب اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام معیارات اور تمام قیاسات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 43–47

10 یعنی نہ اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کی خبر لی۔ البتہ دوسرے لوگوں کی طرح حق کے خلاف بحثیں کرتے رہے اور بدصحبتوں میں رہ کر شکوک و شبہات کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم کو یقین نہ ہوا کہ انصاف کا دن بھی آنے والا ہے۔ ہمیشہ اس بات کو جھٹلایا کیسے یہاں تک کہ موت کی گھڑی سر پر آن پہنچی اور آنکھوں سے دیکھ کر ان باتوں کا یقین حاصل ہوا جن کی تکذیب کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–51

آیت 51{ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۔ } ”جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔“ یہ لوگ ایک اللہ ‘ قرآن اور آخرت کے ذکر سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شیر کی آہٹ پا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ ایسے مناظر اب ٹیلی ویژن پر عام دکھائے جاتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں زیبروں کے غول کے غول شیر کی آہٹ محسوس کر کے بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 46–49

22 دوزخ میں لے جانے والے چار بڑے گناہ :۔ اہل دوزخ نے اہل جنت کے سوال کے جواب میں چار باتیں بتائیں گے جو انہیں دوزخ میں لے جانے کا باعث بنیں۔ پہلی یہ کہ ہم نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ نماز کی باقاعدگی صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ پر بھی ایمان رکھتا ہو اور روز آخرت کے محاسبہ پر بھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص باقاعدہ نماز ادا کرتا ہے تم اس کے ایماندار ہونے کی گواہی دو ۔ جس کا دوسرا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا، نہ اس کا اللہ پر ایمان ہوتا ہے نہ روزآخرت پر، دوسرا جرم وہ یہ بتائیں گے کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے۔ پہلا جرم اللہ کے حق سے متعلق تھا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 42–47

20۔ (اور ہم انہیں غفلتوں اور سرشاریوں میں پڑے رہ گئے) (آیت) ” نخوض مع الخآئضین “۔ خوض سے مطلق مشغلہ نہیں بلہ ایسا مشغلہ مراد ہے جو دین اور واجبات دین سے غافل کردے۔ الخوض الشروع فی الباطل ومالا ینبغی (کشاف) والمراد منہ الاباطیل (کبیر) کافروں کی تقریر کا حاصل یہ ہوگا کہ ہم نے نہ حق اللہ ہی ادا کئے نہ حقوق العباد، اور ادائے حقوق تو کیا کرتے سرے سے روز حشر کی آمد ہی سے انکار کرتے رہے۔ اور ابطال دین کو ایک مشغلہ سا بنا کر اسی میں لگے رہے۔ تو بہ وانابت کی توفیق کبھی نہ ہوئی اور موت ہی اس حالت میں آگئی۔ (آیت) ” حتی اتنا الیقین “۔ یقین کے معنی یہاں عام طور پر موت ہی کے لئے گئے ہیں۔ وقال المفسرون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و کنا نکذب بیوم الدین . یعنی ان تمام جرائم کے بعد (سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ) ہم روز جزا کو غلط جانتے تھے۔ تکذیب یوم الدین کو تمام جرائم کے بعد ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے ‘ کہ یہ سب سے بڑا جرم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 40–48

(40۔ 48) دوزخیوں کا حال پوچھتے ہوں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس بات نے داخل کیا۔ دوزخی جواب میں کہتے ہوں گے کہ ہم نہ تو مسلمانوں کی طرح پانچوں نمازیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہم مساکین کو صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے یا یہ کہ ہم زکوٰۃ اور صدقہ کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے۔ اور جھوٹوں کے ساتھ رہا کرتے تھے اور قیامت کے ہونے کا انکار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں موت آئے گی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے فرمائے گا کہ تمہیں انبیاء کرام ملائکہ اور مسلمانوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 43–46

(1) قالوا لم نک من المصلین…: جہنمی اپنے جہنم میں جانے کے چار اسباب بیان کریں گے، پہلا یہ کہ وہ نماز ادا کرنے والوں میں شامل نہ ہوئے، دوسرا یہ کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، تیسرا یہ کہ دین کی باتوں کو مذاق کرنے اور جھٹلانے کیلئے وہ مجلسوں میں بیٹھ کر فضول بحث کیا کرتے تھے اور چوتھا یہ کہ وہ روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔ ان کی فصیل حسب ذیل ہے :(1) نماز ایمان کے ان ارکان میں سے ہے جن کے بغیر کوئی شخص اسلامی برادری میں شامل ہی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسے ”انما المومنون اخوۃ“ والی اخوت دینی حاصل ہوسکتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(فان تابوا واقاموا ال صلوۃ و اتوا الزکو ۃ فاخوانکم فی الدین) (التوبۃ :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 46–47

وکنا نکذب بیوم الدین، حتی اتناالیقین۔ ہم یوم قیامت یعنی یوم جزا کو جھٹلا تھے تھے یہاں تک کہ ہم پر موت واقع ہوگئی اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، واعبد ربک حتی یاتیک الیقین۔ الحجر) اپنے رب کی عبادت کریہاں تک کہ تجھے موت آجائے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–46

9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکنا نخوض مع الخائضین۔ اور ہم بکواس کرنے والوں کے ساتھ بکواس کیا کرتے تھے۔ جب بھی گمراہ ہوانے وال گمراہ ہوا تو ہم بھی اس کے ساتھ گمراہ ہوگئے۔ آیت فما تنفعہم شفاعۃ الشفعین۔ پس ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی سفارش قبول فرمائیں گے ان کے بعض لوگوں کی بعض کے بارے میں۔ قتادہ ؓ نے فرمایا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کی سفارش کے سبب بنو تمیم سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ حسن (رح) نے فرمایا کہ ربیعہ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَكُنَا نُكَذِّبُ : اور ہم جھٹلایا کرتے تھے ] [بِيَوْمِ الدِّيْنِ : بدلے کے دن کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–47

﴿وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِۙ0046 حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْيَقِيْنُؕ0047﴾ (اور ہم بدلہ کے دن یعنی یوم آخرت کی تکذیب کرتے تھے اور یہ تکذیب اور انکار اخیر وقت تک رہا یہاں تک ہمیں موت آگئی ) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–47

16:۔ ” قالوا “ کفار و مشرکین جواب میں کہیں گے۔ ہم نماز کی فرضیت کے معتقد نہیں تھے، نہ فقراء و مساکین پر خرچ کرنے کو اچھا سمجھتے تھے۔ دین کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی دین کا تمسخر اڑاتے تھے اور قیامت کے دن کو بھی نہیں مانتے تھے۔ ہم اسی حال میں رہے۔ یہاں تک کہ موت نے ہمیں آلیا۔ کفار چونکہ مخاطب بالفروع نہیں ہیں اس لیے نماز نہ پڑھنے سے نماز کی فرضیت کا اعتقاد نہ رکھنا مراد ہے۔ یا مصلین، مومنین سے کنایہ ہے۔ فیجوز ان یکون المعنی من المعتقدین للصلاۃ ووجوبھا فیکون العذاب علی ترک الاعتقاد وایضا المصلین یجوز ان یکون کنایۃ عن المؤمنین (روح ج 29 ص 133) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ۝ 46 ۙ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–47

ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–48

مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ ۔ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ حَتّٰیٓ اَتٰـنَا الْیَقِیْنُ ۔ فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیْنَ ۔ (المدثر : 42 تا 48) (سوال کریں گے) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی۔ وہ جواب دیں گے، ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور نہ غریبوں کو کھلاتے ہی تھے۔ اور کٹ حجتیاں کرتے تھے، کٹ حجتیاں کرنے والے کے ساتھ۔ اور ہم جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتیٰ کہ آپہنچی ہم پر وہ یقینی بات۔ تو ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–48

فہم القرآن ربط کلام : ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے اسی بنیاد پر ہی نجات پائے گا یا پکڑا جائے گا۔ اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے جانے والے لوگوں سے جنتی مستثنیٰ ہوں گے انہیں نیک اعمال کے بدلے جنت میں داخلہ دیا جائے گا وہ جنت میں تشریف فرما ہونے کے باوجود گاہے گاہے جہنمیوں سے بات چیت کرسکیں گے تاکہ جہنمیوں کو یہ احساس ہو کہ دنیا میں ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ جنہیں ہم حقیر سمجھتے تھے وہ آج جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں اذّیت ناک سزائیں پا رہے ہیں۔ جب جنتی ان سے سوال کریں گے کہ تمہیں کون سی چیز جہنم میں لے آئی ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46 : وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ (اور ہم قیامت کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے) یعنی حساب و جزاء کے دن کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–56

38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ ) اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں ہے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزاوسزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–46

37 حق کے خلاف باتیں بنانا ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو وہ بدبخت اپنے دخول دوزخ کے اسباب کے ذکر وبیان کے سلسلے میں مزید کہیں گے اور ہم حق کے خلاف باتیں بنانے میں لگے رہتے تھے : خوض کے اصل معنی آتے ہیں کژۃ الکلام یعنی زیادہ باتیں کرنا مگر اس کا زیادہ تر استعمال باطل ہی کیلئے ہی ہوتا ہے (صفوۃ البیان ‘ التسہیل العلوم التنزیل وغیرہ) اور یہ ماخوذ ہے خوض فی الماء سے جس کے معنی پانی میں گھسنے کے ہیں، سو اس کا مطلب ہوتا ہے کسی بات میں میں میکھ نکالنا ‘ نکتہ چینی کرنا ‘ بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دینا اور اس کو فتنہ بنادینا ‘ وغیرہ وغیرہ۔ سو حق کے خلاف باتیں بنانا اور نکتہ چینی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–56

اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 46–47

ف 3 ’ دیقین “ فرمایا ہے موت کو کیونکہ اس کا آنا یقینی ہے۔ نیز دیکھیے سورة حجر 99)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–51

(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–47

ف 4: خوض کے معنے عربی میں مطلقاً سوچنے کے ہیں اور غور وفکر کے ہیں ۔ مگر قرآن کی اصطلاع میں اس سے مراد مخلصانہ کدوکاوش کے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 45–48

(اور بےہودہ بحثیں کرتے تھے بےہودہ گویوں کے ساتھ ساتھ) یعنی محمد عربی ، کی شان میں ہم بحث کرتے تھے اور ان کی غیبت میں مشغول ہوتے تھے۔ (اور ہم جھٹلایا کرتے تھے روز جزا کو) اور اسے ہم باور نہ کرتے تھے (یہاں تک کہ آگئی ہمیں موت) اور موت سے پہلے جو حالتیں تھیں جن میں سے بعض اوپر مذکور ہوئیں اسی حال میں ہم مرگئے توبہ کی توفیق نہ مل سکی اور ہم ایمان نہ لاسکے۔ (اب) اگر بفرض محال کوئی ان کی شفارش بھی کرے تو (نہ فائدہ دے گی انہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت) شفاعت کے باب میں بنیادی بات یہ ہے کہ شفاعت وہی کرے گا جس کو رب کریم شفاعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائے گا۔ اور وہ اسی کے لیے شفاعت کرے گا جس کی شفاعت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–47

كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ (Everyone will be detained [ in the Hell ] because of what he did, [ 38] except the People of the Right, [ i.e. those who will be given their Book of Deeds in their right hands ] 74:38-39) The word rahinah is used in the sense of marhunah 'will be detained'. The word is derived from rahn 'to give something valuable to a pawnbroker as a security for a debt. The valuable thing is thus merely detained by the pawnbroker. He cannot use it or take advantage of it. Likewise, every person on the Day of Judgment will be detained in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–46

34 This shows how grave a sin it is in Islam to see a hungry man and fail to feed him even if one can, for this has been particularly mentioned as one of the causes of one's going to Hell.

Read the full tafseer →