Explained with ayahs 70–72
قوم عاد کا باغیانہ رویہ
قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضرت ہود ؑ سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کرلیں ؟ سنو اگر یہی مقصود ہے تو اسکا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لئے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا کہنے لگے کہ یا اللہ محمد کا کہا حق ہے اور وہ واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں صمد۔ صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 56
جڑ کاٹ دی، یعنی ان کا استیصال کردیا اور ان کا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہ چھوڑا۔ یہ بات خود اہل عرب کی تاریخی روایات سے بھی ثابت ہے، اور موجودہ اثری اکتشافات بھی اس پر شہادت دیتے ہیں کہ عاد اولیٰ بالکل تباہ ہوگئے اور ان کی یادگاریں تک دنیا سے مٹ گئیں۔ چناچہ مورخین عرب انہیں عرب کی امم بائدہ (معدوم اقوام) میں شمار کرتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی عرب کے تاریخی مسلّمات میں سے ہے کہ عاد کا صرف وہ حصہ باقی رہا جو حضرت ہود کا پیرو تھا۔ انہی بقایائے عاد کا نام تاریخ میں عاد ثانیہ ہے اور حصن غراب کا وہ کتبہ جس کا ہم ابھی ابھی ذکر کرچکے ہیں انہی کی یادگاروں میں سے ہے۔ اس کتبہ میں (جسے…
Read the full tafseer →آخری آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہود ؑ کی ساری جدوجہد اور عاد قوم کی سرکشی کا آخری انجام یہ ہوا کہ ہم نے ہود ؑ کو اور ان لوگوں کو جو ان پر ایمان لائے تھے عذاب سے محفوظ رکھا اور جھٹلانے والوں کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔
اس قصہ میں غافل انسانوں کے لئے خدا کی یاد اور اطاعت میں لگ جانے کی ہدایت اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے سامان عبرت اور مبلغین و مصلحین کے لئے پیغمبرانہ طریقہ تبلیغ و اصلاح کی تعلیم ہے۔
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔ یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو رسول کے ذریعے سے قوم پر حجت تمام کردینے کے بعد لازماً ظاہر ہوتی ہے اللہ تعالیٰ رسول اور اس کے ساتھیوں کو اپنے فضل خاص سے، اپنی حفاظت میں لے کر علاقہ و عذاب سے نکال دیتا ہے اور رسول کے تمام جھٹلانے والوں کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ کن عذاب ہوتا ہے جو اس وقت نازل ہوتا ہے جب مخاطب قوم اپنی ہٹ اور ضد سے یہ ثابت کردیتی ہے کہ اس کے اندر صلاحیت ایمان کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہی ہے۔ وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ سے اسی حقیقت کی طرف…
Read the full tafseer →72۔ 1 اس قوم پر باد تند کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل جاری رہا جس نے ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور یہ قوم عاد کے لوگ، جنہیں اپنی قوت پر بڑا ناز تھا، ان کے لاشے کھجور کے کٹے ہوئے تنوں کی طرح زمین پر پڑے نظر آتے تھے (دیکھئے سورة الحاقہ 6۔ 8 سورة ھود۔ 53۔ 56 سورة احقاف 42۔ 25 آیات)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
38:، یہ لوگ اپنے قد و قامت میں اتنے لمبے چوڑے تھے کہ سورة فجر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان جیسی قوم کسی بھی ملک میں پیدا نہیں کی گئی۔
Read the full tafseer →آیت ” َأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَمَا کَانُواْ مُؤْمِنِیْنَ (72)
” آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے ۔ “
یہ ہے وہ حقیقت جس سے کوئی بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ کہا گیا کہ ہم نے انکی جڑ کاٹ دی ۔ (دابر) عربی میں اس آخری شخص کہا جاتا ہے جو قافلے کے آخری سرے میں ہوتا ہے ۔ غرض جھٹلانے والوں کی تاریخ کا یہ دوسرا صفحہ بھی اب الٹ دیا جاتا ہے اور ایک بار پھر تاریخ دیکھتی ہے کہ جن لوگوں نے نصیحت سے استفادہ نہ کیا ان…
Read the full tafseer →4 یعنی ان پر سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل آندھی کا طوفان آیا جس سے تمام کفار ٹکرا ٹکرا کر اور پٹک پٹک کر ہلاک کردیئے گئے۔ یہ تو " عاد اولیٰ " کا انجام ہوا۔ اور اسی قوم کی دوسری شاخ (ثمود) جسے " عاد ثانیہ " کہتے ہیں، اس کا ذکر آگے آتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 72 فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ
سات دن اور آٹھ راتوں تک ایک تیز آندھی مسلسل ان پر چلتی رہی اور انہیں پٹخ پٹخ کر گراتی رہی ‘ اسی آندھی کی وجہ سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔ جب بھی کسی قوم پر عذاب استیصال کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو اللہ کے رسول علیہ السلام اور اہل ایمان کو وہاں سے ہجرت کا حکم آجاتا ہے۔ چناچہ آندھی کے اس عذاب سے پہلے حضرت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی وہاں سے ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔
Read the full tafseer →76 قوم عاد پر ٹھنڈی آندھی کا عذاب :۔ جب اس قوم کی سرکشی انتہا کو پہنچ گئی اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا چیلنج دے دیا تو ان پر تیز آندھی کا عذاب آیا جس میں شدید ٹھنڈک تھی۔ یہ آندھی ان کے زمین دوز گھروں میں گھس گئی اور مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی اور اس نے اس قوم کے ایک ایک فرد کو ان کے اپنے گھروں ہی کے اندر ہلاک کر ڈالا اور وہ تن و توش رکھنے والی اور اپنی قوت و طاقت پر گھمنڈ کرنے والی قوم اپنے گھروں میں یوں گری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔ اس طرح اس قوم کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا گیا رہے وہ چند لوگ جو سیدنا ہود (علیہ السلام) پر…
Read the full tafseer →96 ۔ یعنی ایمان کا ان میں گزر ہی نہ تھا۔ ایمان اگر موجود ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔ تنبیہ علی ان الفارق بین من نجا وبین من ھلک ھو الایمان۔ (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
آیت نمبر 65 تا 72
ترجمہ : اور ہم نے عاد اولی کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو (یعنی) اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، سو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ، ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تم کو حماقت جہالت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میری قوم میں ذرا بھی حماقت میں مبتلا نہیں، میں تو رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں، (اُبلغکم) میں تخفیف وتشدید دونوں قراءتیں ہیں، اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں…
Read the full tafseer →فانجینہ والذین معہ برحمۃ منا وقطعنا دابر الذین کذبوا بایتنا وما کانوا مؤمنین۔ غرض (عذاب آیا) اور ہم نے ہود ( علیہ السلام) کو اور ہود کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے (عذاب سے) بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ایماندار نہ تھے۔
دابرجڑ یا پیچھے آنے والی (نسل) جڑ کاٹ دینے سے مراد ہے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا اور سب کو ہلاک کردینا کہ کوئی بھی باقی نہ رہا۔ وما کانوا مؤمنیناس سے درپردہ ان لوگوں کی حالت کا بیان ہوگیا۔ جو ایمان لے آئے تھے اور اس بات پر تنبیہ بھی ہوگئی کہ ایمان ہی نجات و ہلاکت کے درمیان فارق تھا (مؤمن کو بچا لیا گیا اور غیر مؤمن کو ہلاک کردیا گیا)
قوم…
Read the full tafseer →(72) چناچہ ہم نے حضرت ہود ؑ اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری کتاب اور ہمارے رسول ہود ؑ کی تکذیب کی تھی ہلاک کردیا اور جن لوگوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ سب کے سب منکر اور انکار کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے تباہ کیے جانے کی کیفیت تفصیل سے بیان فرمائی ہے، مثلاً سورة قمر (18 تا 20) ، سورة ذاریات (41، 42) اور سورة حاقہ (6 تا 8) میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان خیز آندھی چلائی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی، وہ آندھی اس قدر تند و تیز تھی کہ جس چیز پر سے گزرتی اسے چورا کر ڈالتی، حتیٰ کہ اس نے انھیں پٹخ پٹخ کر ہلاک کر ڈالا، ان کی لاشیں اس طرح دکھائی دیتیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ قرآن نے یہاں اور دوسرے مقامات پر بھی تصریح فرمائی ہے کہ عاد اولیٰ کا نام و نشان تک باقی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
تو آپ نے انہیں فرمایا : آیت : قد وقع علیکم تحقیق تم پر واجب ہوگیا، اس میں وقع بمعنی وجب ہے۔ کہا جاتا ہے : وقع القول والحکم یعنی قول اور حکم واجب ہوگیا اور اسی کی مثل یہ آیت ہے : آیت : ولما وقع علیم الرجز (الاعراف : 134) یعنی جب ان پر عذاب نازل ہوا۔ آیت : واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دابۃ من الارض ( النمل : 82) ( اس میں بھی وقع بمعنی وجب ہے) اور الرجس کا معنی عذاب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجس سے مراد وہ زنگ ہے جو کفر کی زیادتی کے سبب دل پرجم جاتا ہے۔ آیت : اتجادلوننی فی اسمآء ( الاعراف : 71) اس میں اسماء سے مراد وہ بت ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور ان کے نام مختلف تھے۔
آیت : مانزل اللہ…
Read the full tafseer →قوم عاد پر ہوا کا عذاب
(1) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عظیم (بےفائدہ) ہوا کی طرف وحی بھیجی کہ وہ قوم عاد پر چلے ان سے اس کا انتقام لے تو وہ بغیر ناپ کے بیل کے نتھنوں کے برابر نکلی یہاں تک کہ ساری زمین کے مشارق اور مغارب کے درمیان جو کچھ ہے سب کو ہلاک کر دے گی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی تو لوٹ جا تو وہ لوٹ گئی اور (پھر) وہ ایک انگوٹھی کے حلقہ کے سوراخ کی مقدار نکلی اللہ تعالیٰ نے ھود کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے ساتھ ایمان والوں کو ایک باڑہ میں الگ کرلے۔ انہوں نے الگ کرلیا۔ اور ان پر ایک خط…
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ [ پھر ہم نے نجات دی ان کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان لوگوں کو جو ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ تھے ] بِرَحْمَةٍ [ رحمت سے ] مِّنَّا [ اپنی طرف سے ] وَقَطَعْنَا [ اور ہم نے کاٹ دی ] دَابِرَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی جڑ جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] وَمَا كَانُوْا [ اور وہ لوگ نہیں تھے ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور سر کشی اختیار کر کے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ قوم ثمود تھی۔ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام تھے۔ بنو عاد قوم عاد کے نام سے اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسوم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔ جس کو سورة حجر کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے۔ یہ لوگ بھی قوت اور طاقت والے تھے۔ زمین پر بڑے بڑے مکانات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
قصہ دوم حضرت ہود (علیہ السلام) با قوم عاد
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا مومن ین۔
(ربط) اب دوسرا قصہ قوم عاد کا بیان کرتے ہیں یہ قوم طوفان نوح کے بعد ملک عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں آباد تھی یمن میں ایک مقام احقاف تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے اور اس قوم کے لوگ بڑے قد آور اور تناور تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود (علیہ السلام) اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے پر ناز تھا اور یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ کوئی قوی نہیں وقالوا من اشد منا قوۃ۔
ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور شرک اور ظلم سے منع کیا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر کچھ اثر نہ ہوا جسم…
Read the full tafseer →80 آخر مقررہ اجل پر اللہ کا عذاب آگیا اور پوری قوم کا نام و نشان ہی مٹا دیا گیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانیوالوں کے سوا کوئی عذاب سے نہ بچ سکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کا تذکرہ اللہ نے ان کی بعثت کا ذکر کیا انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور غیر اللہ کی عبادت سے منع فرمایا مگر قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا اور آپ پر جھوٹ اور بےوقوفی کا الزام لگایا حضرت ہود (علیہ السلام) نے نہایت نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! مجھ میں بےعقلی کی کوئی بات نہیں ہے میں تو رب العلمین کی طرف سے تمہارا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں میں اپنے رب کے پیغام تک پہنچانے پر مامور ہوں میں تمہارا خیر خواہ اور امانت دار ہوں کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ایک ایے شخص پر نازل ہوئی ہے…
Read the full tafseer →وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا 0 ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ 0 ۭ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ 0 ۭ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَكُمْ اٰيَۃً فَذَرُوْہَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللہِ وَلَا تَمَسُّوْہَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 73
ثمد
ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ،
( ث م د ) ثمود
( حضرت صالح کی قوم کا نام )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
؎ یعنی یہ جو تم نے اور تمہارے بڑوں نے اپنے معبود بنا رکھے ہیں ان کی اصل کچھ نہیں صرف نام ہی نام ہیں پھر ان پر مجھ سے جھگڑتے ہو جن کی کوئی بھی سند نہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 72)
” آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی ‘ جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے “۔
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اپنے اس اصول کا ذکر فرمایا ہے جس کے تحت قوموں پر عذاب آتا ہے اس میں تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ بات کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک اس کے اندر قبولیتِ ایمان کے تمام سوتے خشک نہیں ہوجاتے۔ جب تک کچھ بھی ان میں ایمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
فہم القرآن
حضرت ھود (علیہ السلام) :
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔
اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ…
Read the full tafseer →نتیجتاً کفار کی جڑ کاٹ دی :
آیت 72: فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ (غرض ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بچالیا) یعنی جو ان پر ایمان لائے بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَ ابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰ یٰتِنَا (اپنی رحمت سے۔ اور ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا) ۔
الدابرجڑ یا جو کسی چیز کے بعد ہو۔ اور قطع دا بر سے مراد مکمل استیصال اور ملیامیٹ ہونا ہے۔ وَ مَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ (اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے) : ان سے ایمان کی نفی کی اس کے باوجود کہ تکذیب آیات کا ان کے لئے اثبات کیا۔ تو اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ہلاکت مکذبین کے ساتھ خاص ہے۔
علاقہ قوم عاد اور…
Read the full tafseer →(72) فانجینہ) ہم نے ھود (علیہ السلام) کو عذاب کے وقت نجات دی (والذین معہ برحمۃ منا و قطعنا دابر الذین کذبوا بایتناً ) یعنی ہم ان کو جڑوں سے اکھڑا پھینک دیں گے اور ان کو ہلاک کردیں گے (وما کانوا مئومنین)
عاد کا واقعہ
محمد بن اسحاق اور دیگر نے ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ یمن میں رہتے تھے ان کی رہائش احقاف پر تھی یہ عمان اور حضر موت کے دریمان ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ ساری زمین میں پھیلے اور اپنی طاقت سے زمین والوں کو مغلوب کردیا۔ یہ بتوں کی عبادت کرنے تھے۔ ایک بت کو صداء ایک کو صمود اور ایک کو ھباء کہا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ھود (علیہ السلام) ک نبی بنا کر بھیجا۔ یہ ان میں درمیانے نسب والے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–79
آیت 72
(والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف “ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا (اخاھم صلحاً ) اللہ تعالیٰ نے صالح کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائ دیگر انبیا ومرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →96 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو عذاب آنے پر ہم نے بچا لیا ہود کو بھی اور آپ کے ساتھیوں کو بھی کہ بچانے والے اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم اور صرف ہم ہی ہیں۔ اور جب ہود جیسے پیغمبر اور ان کے ساتھی بھی اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی وغیرہ میں ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب طور پر کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکے ؟ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جن لوگوں نے اپنے طور پر طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
97 حق کی تکذیب و انکار کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم کی تباہی
تشریح : ان آیات میں سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم ہود کا مختصرقصہ بیان کیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ نوح (علیہ السلام) کی پا نچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے، عاد ایک بڑی زبردست طاقتور قوم کا نام ہے۔ یہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے پوتے ارم کی اولاد تھے اور یمن میں احقاف کے علاقے میں رہتے تھے۔ عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لیکر حضرموت تک کی بستیاں آباد تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی زرحیز اور باغات تھے۔ بڑے بڑے شاندار محلات بناتے اور ان میں خوشگوار زندگیاں گزارتے تھے، مضبوط، صحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72
اسرار و معارف :
توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور…
Read the full tafseer →ف 3 الہ تعالیٰ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے تباہ کئے جانے کی کیفیت تفصیل مثلا سورت ذاریات (آیت 41 اور سورت الحاقہ آیت 7 میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان خیز آندھی چلائی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی۔ وہ آندھی اس قدر تندوتیز تھی کہ جس چیز پر سے گزرتی اسے چورا کر ڈالتی حتی کہ ان کے پٹخ پٹخ کر ہلاک کر ڈالا۔ ان کی لاشیں اس طرح دکھائی دیتیں جیسے کھجور کے کھو کھلے تنے میں ( ابن کثیر) قرآن نے یہاں اور دوسرے مقامات پر بھی تصریح فرمائی ہے کہ عاد اولی کا نام ونشان تک باقی نہ چھوڑا اور عرب مئورخین بھی بالا تفاق ان کو عرب ہائدہ میں شمار کیا ہے، صرف حضرت ہود ( علیہ السلام) اور ان…
Read the full tafseer →(7:72) دابر۔ جڑ۔ بیج۔ بنیاد۔ پچھاڑی۔ پیچھا۔ دبور سے جس کا معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
لغار القرآن آیت نمبر (71 تا 72 ) ۔
قدوقع (یقینا واقع ہوچکا ہے) ۔ رجس (گندگی۔ عذاب) ۔ اتجاد لوننی (کیا تم ہم سے جھگڑتے ہو) ۔ اسمآء (اسم) ۔ نام) ۔ سمیتموا (تم نے نام رکھ لئے ہیں) ۔ انتظروا (تم انتظار کرو) ۔ قطعنا (ہم نے کاٹ ڈالا) ۔ دابر (دبر) ۔ جڑ) ۔
تشریح : آیت نمبر (71 تا 72 ) ۔ ” وہ قوم جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے ” عاداول “ کہلاتی ہے۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے تھی۔ ان کا اقتدار عمان سے لے کر حضر موت اور یمن تک وسیع تھا۔ ان کی زمینیں بڑی سر سبز و شاداب تھیں، وہ لوگ ہر طرح کی نعمتوں سے مالامال تھے جسمانی صحت اور طویل العمری میں بھی ان کا کوئی مقابل نہ تھا اسی لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–73
حضرت صالح (علیہ السلام) اور عذابچنگھاڑ کا ذکر
حضرت صالح (علیہ السلام) بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان سے ہیں۔ قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اس سرزمین میں قوم صالح کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے۔ بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے۔ اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے۔ نوعمری سے حضرت صالح (علیہ السلام) نبی ہوئے۔ نصیحت کرتے کرتے بڈھے (بوڑھے) ہوگئے مگر ان میں سے چند ایک ہی ایمان لائے۔ سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا۔ اس روز انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے لئے ایک معجزہ کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
[33] قوم ثمود کا مسکن عرب کا شمال مغربی علاقہ تھا۔ اس کے دارالحکومت کا نام حجر تھا جو حجاز سے شام کو جانے والے قدیم راستے پر واقع تھا۔
[34] قوم نے صالح (علیہ السلام) سے فرمائش کی تھی کہ کوئی معجزہ دکھاؤ تو ہم تمہیں سچا سمجھیں۔ ایک خاص قسم کی اونٹنی کا ظہور اسی فرمائش کا نتیجہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
بت صرف نام کے ہیں ! ۔
(ف 1) (آیت) ” اتجادلوننی فی اسمآئ “۔ سے غرض یہ ہے کہ بت اور تمام دیوتا نام کے بت اور دیوتا ہیں ان کے اختیارات کچھ بھی نہیں ، یہ بھی تو ان سے نہیں ہو سکتا ، کہ مکھی اڑا لیں ، پھر تم کیوں ان کی پوجا کرتے ہو ۔
Read the full tafseer →72 آخرکار جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ہم نے حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ان کو نجات دی اور جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کیا کرتے تھے اور ہماری نشانیوں کو جھوٹا بتایا کرتے تھے ان کی جڑ تک کاٹ کر رکھ دی اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے اور ان کے لچھن ایمان لانے والوں کے سے نہ تھے یعنی ہود (علیہ السلام) اور ہود (علیہ السلام) کے ساتھی بچالئے گئے اور عاد کی تمام قوم کو ایسا برباد کردیا کہ ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی بالکل ہلاک کردیا۔ قطعنا دابرا سے بعض نے کہا ہے کہ ان کی نسل بالکل منقطع ہوگئی اور بعض نے کہا ہے کہ کفار بالکل ہلاک ہوگئے اور مومنین باقی رہے اور ممکن ہے کہ کفار کی صنعار اولاد رہ گئی ہو ان کی نسل آگے بڑھی ہو ان کو عاد اخری کہتے ہیں اور سابقین کو عاد اولی۔ اور عذاب اس قوم کا ریح صرصر تھی جیسا کہ کئی جگہ قرآن میں منصوص ہے اور سورة فصلت میں جو صاعقہ آیا ہے اس سے مراد مطلق عذاب ہے اور سورة مومنون میں بعد قصہ نوح (علیہ السلام) کے جو ثم انشانا من بعد ھم قرنا اخرین آیا ہے جنہوں نے اس کی تفسیر قوم عاد سے کی ہے وہ قائل ہوئے ہیں کہ ان پر صیحہ بھی آیا اور ریح بھی۔ واللہ اعلم۔ اور اس کا مسکن…
Read the full tafseer →اب کیا ہوا ؟ جس کو ہونا تھا اس کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوگئے :
83: الحاصل قوم ہود (علیہ السلام) یعنی عاد کی انتہائی شرارت اور بغاوت اور اپنے پیغمبر کی تعلیم سے بےپناہ بغض وعناد کی پاداش عمل اور قانون جزاء کا وقت آپہنچا اور غیرت حق حرکت میں آئی اور عذاب الٰہی نے سب سے پہلے خشک سالی کی شکل اختیار کی۔ عاد (علیہ السلام) سخت گھبرائے ، پریشان ہوئے اور عاجز و درماندہ نظر آنے لگے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو جوش ہمدردی نے اکسایا اور مایوسی کے بعد پھر ایک مرتبہ ان کو سمجھایا کہ راہ حق اختیار کرلو ، میری نصائح پر ایمان لے آئو کہ یہی نجات کی راہ ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ورنہ پچھتائو گے۔ لیکن…
Read the full tafseer →(5)-In the last verse (72) it was said that the final outcome of the entire struggle of Sayyidna Hud (علیہ السلام) against the contumacy of the people of ` Ad was that Allah Ta` ala kept Sayyidna Hud (علیہ السلام) and those who had believed in him safe from the punishment and cut off the root of those who had belied him - and they were not of those who would have believed.
This story leaves a trail of good counsel. It reminds heedless human beings to keep remembering Allah and take to a life style which is marked with obedience to Him. Then, to those who elect to reject honest advice and…
Read the full tafseer →56. The Qur'an informs us that God brought about the total extermination of the 'Ad, a fact borne out by both Arabian historical traditions and recent archaeological discoveries. The 'Ad were so totally destroyed and their monuments so completely effaced that the Arab historians refer to them as one of the umam ba'idah (extinct peoples) of Arabia. The Arab tradition also affirms that the only people belonging to the 'Ad who survived were the followers of the Prophet Hud. These survivors are known as the Second 'Ad ('Ad Thaniyah). The Hisn al-Ghurib inscriptions referred to earlier (n. 51…
Read the full tafseer →