Explained with ayahs 59–62
پھر تذکرہ انبیاء
چونکہ سورت کے شروع میں حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوا تھا پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا ذکر ہوا کیونکہ آدم ؑ کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن ملک بن مقوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس ؑ یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم ؑ۔ ائمہ نسب جیسے امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں حضرت نوح جیسا کوئی اور نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
سورة الْاَعْرَاف 49
یہ معاملہ جو حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کے درمیان پیش آیا تھا بعینہ ایسا ہی معاملہ مکہ میں محمد ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان پیش آرہا تھا۔ جو پیغام حضرت نوح ؑ کا تھا وہی حضرت محمد ﷺ کا تھا۔ جو شہبات اہل مکہ کے سردار حضرت محمد ﷺ کی رسالت میں ظاہر کیے تھے۔ پھر ان کے جواب میں جو باتیں حضرت نوح ؑ کہتے تھے بعینہ وہی باتیں محمد ﷺ بھی کہتے تھے آگے چل کر دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے جو قصے مسلسل بیان ہو رہے ہیں ان میں بھی یہی دکھایا گیا ہے کہ ہر نبی کی قوم کا رویّہ اہل مکہ کے رویّہ سے اور ہر نبی کی تقریر محمد ﷺ کی تقریر سے ہُو بہُو مشابہ ہے۔ اس سے قرآن اپنے مخاطبوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
اس دل آزاد و دلخراش گفتگو کے جواب میں حضرت نوح ؑ نے پیغمبرانہ لہجہ میں جو جواب دیا وہ مبلغین اور مصلحین کے لئے ایک اہم تعلیم اور ہدایت ہے کہ اشتعال کی بات پر مشتعل اور غضبناک ہونے کے بجائے۔ سادہ لفظوں میں ان کے شبہات کا ازالہ فرما رہے ہیں۔ (آیت) قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
یعنی اے میری قوم مجھ میں کوئی گمراہی نہیں مگر بات یہ ہے کہ میں تمہاری طرح آبائی رسوم جہالت کا پابند نہیں بلکہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں جو کچھ کہتا ہوں ہدایت ربی سے…
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ حضرت نوح نے جواب میں فرمایا کہ مجھے کوئی سرپھرا اور بھٹکا ہوا آدمی نہ سمجھو، میں تمام عالم کے رب کی طرف سے تمہارے پاس پیغمبر کی حیثیت سے آیا ہوں اور جو کچھ تمہیں سنا رہا ہوں وہ بےکم وکاست خدا ہی کی طرف سے سنا رہا ہوں، کوئی بات اپنی طرف سے نہیں سنا رہا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
60۔ 1 شرک اس طرح انسانی عقل کو ماؤف کردیتا ہے کہ انسان کو ہدایت، گمراہی اور گمراہی۔ ہدایت نظریاتی ہے۔ چناچہ قوم نوح کی بھی یہی قلبی ماہیت ہوئی، ان کو حضرت نوح ؑ ، جو اللہ کی توحید کی طرف اپنی قوم کو دعوت دے رہے تھے، نعوذباللہ گمراہ نظر آتے تھے۔: تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
35: اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت نوح ؑ کی پیدائش اور حضرت آدم ؑ کی وفات کے درمیان ایک ہزار سال سے کچھ زیادہ کا فاصلہ ہے لیکن محقق علماء نے ان روایات کو مستند نہیں سمجھا۔ حقیقی فاصلے کا یقینی علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ البتہ اتنی بات قرآن کریم سے واضح ہوتی ہے کہ اس طویل عرصے کے دوران بت پرستی کا رواج بہت بڑھ گیا تھا۔ حضرت نوح ؑ کی قوم نے بھی بہت سے بت بنا رکھتے تھے، جن کے نام سورة نوح میں مذکور ہیں۔ سورة عنکبوت (14:29) میں ہے کہ حضرت نوح ؑ نے ساڑھے نو سو سال تک اس قوم کو حق کی تبلیغ فرمائی۔ اور سمجھانے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا۔ کچھ نیک بخت ساتھی جو زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62)
” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “
یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
4 یعنی میں تو ذرا بھی نہیں بہکا، ہاں تم بہک رہے ہو کہ خدا کے پیغامبر کو نہیں پہچانتے جو نہایت فصاحت سے خدائی پیغام تم کو پہنچا رہا ہے اور تمہاری بھلائی چاہتا ہے تم کو عمدہ نصیحتیں کرتا ہے۔ اور خدا کے پاس سے وہ علوم و ہدایت لے کر آیا ہے جن سے تم جاہل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّام اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے قبل ازیں اس سورت کے مضامین کا عمود قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ انباء الرّسل پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے تو اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاً ان کا مقام ‘ تقویٰ اور استقامت وغیرہ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے ‘ جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول علیہ السلام آیا تو وہ کسی قوم کی طرف بھیجا گیا ‘ لہٰذا قرآن مجید میں رسول علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ لازماً متعلقہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
64 سرداروں کی مخالفت کی وجوہ :۔ انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت کی مخالفت میں عموماً سرداران قوم ہی پیش پیش ہوا کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ نبی کی دعوت قبول کرلیں تو انہیں ان مناصب یا اس مقام سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جو معاشرے میں انہیں حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جب نبی یہ دعوت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو اس سے از خود ان کے بتوں کی توہین ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کی اپنی عقلوں اور آباؤ اجداد کی عقلوں کی بھی توہین ہوجاتی ہے۔ لہذا یہ سردار قسم کے لوگ انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت پر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہوتا ہے جس کے…
Read the full tafseer →84 ۔ (آیت) ” رب العلمین “۔ شرک کے پورے فلسفہ پر ضرب کاری لگانے والا لفظ یہی (آیت) ” رب العلمین “ ہے۔ مشرک نظام کائنات کو متفرق ومنتشر صورت میں دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ وہ یہ تو سمجھ سکتا ہے کہ فلاں دیوی اور فلاں دیوتا فلاں، فلاں شعبہ کے مالک ہیں لیکن یہ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کوئی مالک الملک سارے عالموں کا تاجدار اور پروردگار بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیت نمبر 59 تا 64
ترجمہ : قسمیہ بات ہے ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (لَقَدْ ) قسم محذوف کا جواب ہے (غیرہ) کے جر کے ساتھ اِلٰہ کی صفت ہے اور رفع، (اِلٰہ) کے محل سے بدل ہونے کی وجہ سے ہے اگر تم اس کے علاوہ کسی اور کی بندگی کرو گے تو مجھے تمہارے حق میں بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے اور وہ بڑا دن قیامت کا دن ہے، ان کی قوم کے سرداروں نے کہا ہم تم کو صریح غلطی پر دیکھتے ہیں انہوں نے جواب دیا میں کسی گمراہی میں نہیں ہوں ضلالت ضلال سے عام ہے، ضلالت کی نفی ضلال کی نفی سے ابلغ ہے، بلکہ میں رب العلمین کا…
Read the full tafseer →قال یقوم لیس بی ضلالۃ ولکنی رسول من رب العلمین : نوح نے کہا اے میری قوم مجھے کوئی بہکاوا نہیں بلکہ میں اپنے پروردگار عالم کا پیامبر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
(59۔ 60۔ 61۔ 62) حضرت نوح ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو، اس کے سوا جن کو تم لوگ پکارتے ہو وہ کچھ نہیں، میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ اگر تم ایمان نہ لاتے تو تم پر بڑے دن کے عذاب کا خدشہ ہے۔ سردار کہنے لگے نوح ؑ تم تو ایک صریح غلطی میں مبتلا ہو، حضرت نوح ؑ نے فرمایا میں تمہیں اوامرو نواہی کی تبلیغ کرتا اور اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور ایمان اور توبہ کی طرف بلاتا ہوں اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب نازل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖٓ۔۔ : کھلی گمراہی میں اس لیے کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر ہمیں ایک نئے دین (توحید) کی طرف کھینچنا چاہتا ہے۔ انبیاء ؑ کے واقعات میں یہ بات قرآن نے نمایاں طور پر بیان فرمائی ہے کہ ان کی دعوت توحید کی مخالفت کرنے والوں میں امراء کا طبقہ ہر زمانے میں پیش پیش رہا ہے، کیونکہ انقلابی دعوت کا پہلا نشانہ یہی لوگ بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
آیت نمبر : 60۔ 61۔ 62
الملا سے مراد قوم کے اشراف اور ان کے رؤساء ہیں۔ اس کا بیان پہلے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور الضلا اور الضلالۃ کا معنی ہے راہ حق سے پھرجانا اور اس سے ہٹ جانا، یعنی بلاشبہ ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمیں ایک خدا کی طرف دعوت دینے میں راہ حق سے پھرے ہوئے ہو۔ ابلغکم یہ تشدید کے ساتھ ہو تو التبلیغ سے ماخوذ ہے۔ اور تخفیف کے ساتھ ہو تو الا بلاغ سے ماخوذ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ہم معنی ہیں اور دو لغتیں ہیں، جیسا کہ کرمہ اور اکرمہ ہیں۔ وانصح لکم یہ النصح سے ہے اور اس کا معنی ہے : معاملات میں نیت کا فساد کی آمیزش سے خالص اور پاک ہونا، بخلاف غش ( ملاوٹ) کے۔
کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قال الملا “ سے مراد ہے اس کی قسم میں سے بڑے لوگ۔
(2) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اوعجبتم ان جاء کم ذکر من ربکم “ یعنی یہ بیان ہے تمہارے رب سے (کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو) ۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانوا قوما عمین “ سے کافر مراد ہیں۔
(4) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانو قوما عمین “ سے مراد ہے وہ لوگ جو حق کو دیکھنے سے اندھے تھے۔
Read the full tafseer →قَالَ [ انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] بِيْ [ مجھ میں ] ضَلٰلَةٌ [ کوئی گمراہی ] وَّلٰكِنِّيْ [ اور لیکن میں تو ] رَسُوْلٌ [ ایک رسول ہوں ] مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب (کی طرف) سے ]
(آیت 62) ابلغ کا مفعول اول کم ہے اور رسلت مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا، پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانت دار ہوں، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
قصۂ اول نوح (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ انھم کانوا قوما عمین
(ربط) اس سورت کے شروع میں حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا اور پھر اسی ذیل میں فتنۂ شیطان سے بچنے کی تاکید اکید فرمائی اور بعد ازاں اس عہد قدیم کو یاد دلایا کہ جو حق تعالیٰ نے اولاد آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا اب اس کے بعد دیگر حضرات انبیاء کرام کے قصے برعایت ترتیب بیان کرتے ہیں جو متعدد فوائد کو متضمن ہیں
(اول) یہ کہ حضرات انبیاء سے سرکشی اور سرتابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں قدیم زمانہ سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ لوگ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
72: قوم نے چونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف گمراہی کی نسبت کرنے میں مبالغہ کیا تھا اس لیے انہوں نے بھی نہایت بلیغ انداز میں اپنی ذات سے گمراہی کی نفی کی۔ “ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٍ ”“ ضَلٰلَةٍ ” کی تنوین تنکیر کے لیے اور پھر نفی کے تحت داخل ہے۔ یعنی کھلی گمراہی میں ہونا تو درکنار مجھ میں تو گمراہی کا ادنی شائبہ تک نہیں اور ہو بھی کیسے ہوسکتا ہے میں تو خداوند عالم کا رسول ہوں اور میرا فریضہ یہ ہے کہ اللہ کے پیغامات تم کو پہنچاؤں اور ہر طرح تمہاری خیر خواہی کروں اور یہ بھی یاد رکھو اللہ کی طرف سے جو علوم و معارف میں جانتا ہوں تم کو انکا علم نہیں اس لیے میری طرف گمراہی کی نسبت کرنا عقل و نقل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
انبیاء کے واقعات
گزشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی کا ذکر فرمایا تھا اور اس سے سورة کی ابتداء میں تخلیق آدم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے معیشت اور ہدایت کے سامان پیدا کیے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شیطان کی عداوت کا تذکرہ بھی ہوا اور اس کے بعد نیکی اور برائی کرنے والوں کے انجام کو بیان فرمایا اس کے ساتھ ساتھ وحی الٰہی کی حیثیت بھی بیان فرمائی اب یہاں سے حضرت نوع (علیہ السلام) اور کئی دیگر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کی زندگی کے اہم واقعات بیان فرمائے ہیں اور ان کے طریقہ تبلیغ پر روشنی ڈالی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی کس…
Read the full tafseer →اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 62
بَلَاغ : التبلیغ،
نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ :
بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106]
البلاغ ۔ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] یہ ( قرآن ) لوگوں کے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ترکیب : من الٰہ غیرہ من زائدہ الہ مبتدا لکم خبر غیرہ کو بالرفع پڑھا جاوے تو الہ کی صفت ہوگی علی الموضع کی یا وہ اس کے موضع سے بدل جیسا کہ لا الہ میں الا اللہ۔ فی ضلال مبین مفعول ثانی لنراک اگر اس کو رؤیت قلب سے لیا جاوے ورنہ حال ابلغکم جملہ مستانفہ اور علی المعنی رسول کی صفت بھی ہوسکتا ہے لان الرسول ھوا لضمیر فی انی فی الفلک حال ہے ضمیر معہ سے۔
تفسیر : مسائل مبدء و معاد اور ان کے دلائل ظاہرہ و برا ہیں باہرہ کے بعد پھر 1 ؎ انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ان چند فوائد کے لئے بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ سرکشی اور انبیاء سے سرتابی کچھ محمد ﷺ کی قوم کی ہی عادت خاصہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے لوگ اپنے انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ارشاد ہوتا ہے :
قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَۃٌ وَّ لٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَکُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 63 تا 60)
” اس کی قوم کے سرداروں نے کہا ! ہم تو تجھے صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ نوح نے کہا : اے برادرانِ قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں۔ بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
فہم القرآن
حضرت نوح (علیہ السلام) :
آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔
حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے یہ سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان : 6157)
قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے اگر ایک نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ…
Read the full tafseer →نوح ( علیہ السلام) کی تقریر اوّل :
آیت 61: قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم مجھ میں تو ذرا غلطی نہیں) یہاں ضلال نہیں کہا جیسا کہ انہوں نے کہا کیونکہ ضلالت ضلال میں سے خاص ہے۔ پس یہ لفظ اپنی ذات سے ضلال کی نفی کے لئے زیادہ بلیغ ہے گویا اس طرح کہا لیس بی شیء من الضلال مجھ میں ضلال نام کی کوئی چیز نہیں۔ پھر نفی ضلالۃ کی تاکید کے لئے استدراک کیا اور فرمایا وَّلٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (لیکن میں پروردگار عالم کا رسول ہوں) کیونکہ ان کا اللہ کی طرف سے رسول ہونا یہ ان کی رسالت کا مقصود ہے اور اس معنی میں ہے کہ وہ سیدھے راستے پر ہے پس وہ ہدایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(61) (قال یقوم لیس بی ضللۃ ) کہا آپ (علیہ السلام) (نوح علیہ السلام) نے اے میری قوم میں ہرگز بہکا نہیں ” لیست “ نہیں کہا اس لئے کہ ضلالتہ کا معنی ضلال ہے یا فعل کی تقدیم کی بناء پر (ولکنی رسول من رب العلمین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
(59 ۔ 64) ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب ( علیہ السلام) تک چند صاحب شریعت انبیاء کے قصے ان رکوعوں میں آنحضرت کی تسکین اور تشفی کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تاکہ آپ کو یہ اطمینان ہوجاوے کہ سرکش قوموں پر انبیاء کے جھٹلانے کا ہمیشہ سے جس طرح وبال پڑا ہے اگر اہل مکہ ایمان نہ لاویں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اہل مکہ میں اکثر سرکش لوگ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور آپ نے ان کی لاشوں پر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ خدا کے وعدے کو تم نے دیکھ لیا اور بقیہ اہل مکہ فتح مکہ پر اسلام لے آئے اگر قضا وقدر میں ان کا ایمان لانا نہ ٹھہرا ہوتا تو پچھلی امتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
84 پیغمبر کی وسعت قلبی اور تحمل مزاجی کا ایک نمونہ و مظہر : سو آنجناب کے اس جواب سے پیغمبر کی وسعت قلبی، تحمل اور کشادہ ظرفی کا نمونہ ملاحظہ ہو کہ ان لوگوں کی اس قدر بےہودہ گفتگو اور یا وہ گوئی کے جواب میں آنجناب نے ذرہ برابر بھی کسی اشتعال یا جذباتیت کا کوئی اظہار نہیں فرمایا۔ بلکہ سادہ اور مختصر لفظوں میں اتنا فرمایا کہ لوگو ! مجھ میں ضلالت و گمراہی کی کوئی بات نہیں۔ بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اسکا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں اور بس۔ سو یہ کمال عبدیت اور للہیت و بےنفسی کا ایک ایسا عظیم الشان مظہر و نمونہ ہے جو حضرات انبیائے کرام کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتا ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلاَمُہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر عذاب
تشریح :ــــ قرآن پاک میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ قرانی آیات اور کائنات پر غور و فکر کرو۔ کیونکہ جیسے جیسے علم و عرفان اور سائنسی ترقی ہو رہی ہے رب اور اس کی صفات، قدرت، وحدانیت اور توکل کے دروازے زیادہ روشن اور زیادہ واضح ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کفر و شرک کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں تک توحید، رسالت اور آخرت کا بیان بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے اب سورة الاعراف میں آٹھویں رکوع سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کا ذکر ہے اور آئندہ چودہ رکوع اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 59 ۔ تا۔ 64 ۔
اسرار و معارف :
اس تمام بحثت کی علمی صورت جو انسانی زندگی میں پیدا ہوگی ہے وہ بھی انسان کے سامنے ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کا قصہ کہ ان کی قوم اللہ کی نافرمانی پہ کاربند ہوگئی مگر اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے محروم نہیں فرمایا بلکہ ان میں اپنا رسول مبعوث فرمایا جیسے مردہ زمین پہ ابر رحمت۔ تفسیر مظہری کے مطابق نوح (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت میں تھے اور ان سے پہلے زیادہ تر احکام انسانی ضروریات کے متعلق ہی تھے ان کے زمانے تک کفر و شرک بھی پھیل گیا اسی طرح وہ پہلے رسول تھے جنہیں کفر و شرک سے بھی مقابلہ کرنا پڑا۔ حدیث شریف میں واد ہے کہ انہیں چالیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 9 کیونکہ میری طرف وحی میری طرف وحی آتی ہے اور تمہاری وحی نہیں آتی۔ ( شوکانی )
Read the full tafseer →(7:61) لیس بی ضلالۃ۔ لیس فعل ناقص۔ واحد مذکر غائب۔ بمعنی نہیں۔ ضلالۃ۔ گمراہی۔ لیس بی ضلالۃ مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
لغات القرآن آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔
الملا (سردار ) ۔ لنرک (البتہ ہم تجھے دیکھتے ہیں ) ۔ ضللتہ (گمراہی) ۔ ابلغ (میں پہنچاتا ہوں) ۔ انصح (نصیحت کرتا ہوں) ۔ عجبتم (تم نے تعجب کیا) ۔ لینذر (تاکہ وہ ڈرائے) ۔ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ اغرقنا (ہم نے غرق کردیا) ۔ عمین (اندھے (بن گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ ” ہر پیغمبر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اور جیسا کہ سورة ابراہیم میں ارشاد ہے کہ وہ ان ہی کی زبان میں کلام کرتا ہے تاکہ دل کی بات دل تک آسانی سے پہنچ سکے۔ وہ ان ہی کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ ان ہی کے درمیان بچپن، نوجوانی اور جوانی کی منزلیں طے کرتا ہے اور اس کی شخصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
حضرت ہود علیہ السلام، آندھی کے عذاب کا ذکر
حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضر موت سے عمان وغیرہ تک تھا اور بڑا شاداب ملک تھا۔ قوم عاد کے لوگ بڑے قوی، ساٹھ ساٹھ گز کے قد تک کے تھے۔ عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی، پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ، اور ان کے جانور ہلاک ہوئے، پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے۔ آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کا عذاب پھیلا۔ تین برس تک رہا۔ چند آدمی ان میں مکہ مکرمہ میں قحط رفع ہونے کے لئے دعا مانگنے گئے۔ مکہ مکرمہ میں ان دنوں مالقہ لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
[31] قوم عاد کا مسکن جنوب عرب کا علاقہ تھا جس میں آج کے یمن، حضرموت اور عمان وغیرہ شامل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
حضرت نوح (علیہ السلام) :
(ف 1) نوح (علیہ السلام) ابو الانبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ابو البشر ہیں آپ لے تقریبا ایک ہزار سال تک قوم میں تبلیغ کی اللہ کی توحید کی طرف دعوت دی ، نہایت خلوص اور محبت سے لوگوں کو راہ راست کی جانب متوجہ کیا مگر قوم یہی کہتی رہی ، غلط ہے ، آپ گمراہ ہیں اور ہمیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔
انہیں تعجب یہ تھا کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ کر اسے کیوں نبوت کے لئے منتخب کیا ہے ، اس میں کیا خصوصیات ہم سے زیادہ ہیں ، بدبختوں کو یہ معلوم نہیں تھا ، یہ اللہ کی دین ہے ، جسے چاہے ، دیدے اس کا معیار قلب کی پاکیزگی اور اعمال کی بلندی ہے یہ موہبت دل نشین ہے ، صلہ وانعام نہیں جو کسب و محنت…
Read the full tafseer →61 نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے برادرانِ قوم گمراہی میں تو میں ذرا بھی مبتلا نہیں ہوں البتہ یہ ضرور ہے کہ میں رب العالمین کا فرستادہ اور اس کا پیغامبر ہوں۔ یعنی جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے اس نے مجھ کو اپنا پیام دیکر بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
ف 2۔ خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے یہ کمالات ذاتی وصفاتی ثابت ہوئے تو عبادت اور طلب حاجت میں ان کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو اور ان کی قدرت کو پیش نظر رکھ کر بعث کا انکار مت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
قوم کے سربر آوردہ لوگوں کا نوح (علیہ السلام) کو جواب :
71: نوح (علیہ السلام) نے قوم کو دعوت الٰہی سنائی ہی تھی کہ قوم کے سر بر آوردہ لوگ فوراً بول پڑے کہ نوح (علیہ السلام) ! تم نے باپ دادا کے دین کی تحقیر شروع کردی ہے جس کا انجام تمہارے حق میں کبھی اچھا نہیں نکل سکتا۔ جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ان کا تم نے انکار کیا ہے اس لئے باغی تم ہو لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم ہمیں عذاب کی دھمکیاں سنانے لگے ہو اور تم کو اپنی اور ہماری حالت کا بھی ذرا خیال نہیں آیا کہ ہماری بات کو ہر آدمی سننے والا ہے اور تمہاری اس دعوت پر کوئی بھی کان نہیں دھر سکتا اس لئے کہ یہ بات تو پورے معاشرہ کے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
These were harsh words. But, the reply given by Sayyidna Nuh (علیہ السلام) carries an eloquent diction fit for a prophet. Here, he is leaving a trail for all carriers of da'wah, preachers and reformers, as a signpost of education and guidance. Here, he is not responding on the same wave length, not anger against anger, but trying to remove their doubts in the simplest possible words: قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَـٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿61﴾ أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿62﴾. (He said, "0 my…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
49. There were striking similarities between Muhammad and Noah (peace be on them). The Prophet Muhammad (peace be on him) received the same treatment from his people as did Noah from his. The message that each of them sought to preach was also the same. Likewise, the doubts and objections raised by the people of Muhammad (peace be on him) with regard to his prophethood were the same as those raised by Noah's people several thousand years ago. Again, what Muhammad (peace be on him) said in response to the doubts and objections raised against him were exactly the same as what Noah had said.
The…
Read the full tafseer →