Al-A'raaf 7:59

Al-A'raaf · from ayah 59

7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ— اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۟لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ فَقَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

We had certainly sent Noah to his people, and he said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Indeed, I fear for you the punishment of a tremendous Day.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 8 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:59

ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا چنانچہ انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ یقین جانو مجھے سخت اندیشہ ہے کہ تم پر ایک زبردست دن کا عذاب نہ آکھڑا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا میری قوم اللہ کو پوجو اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے کہا: اے میری قوم (کے لوگو!) تم اﷲ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، یقیناً مجھے تمہارے اوپر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف آتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ میں تم پر ایک بڑے دن کا عذاب واقع ہونے سے ڈرتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے ان کو دعوت دی اے میرے ہم قومو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں۔ میں تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کے تسلط سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف (رسول بنا کر) تو آپ نے (ان سے) کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، تم بندگی کرو اللہ ہی کی، کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک میں ڈرتا ہوں تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب سے،

— مولانا اسحاق مدنی

بالیقین ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم والو تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں مجھے تمہارے لئے ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے بھیجا تھا نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed We sent forth Noah to his people and he said: 'O my people! Serve Allah, you have no other god than Him Indeed I fear for you the chastisement of an awesome Day.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely We sent NuH to his people. So he said, :O my people, worship Allah. You have no god other than Him. I fear for you the punishment of a great Day.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely We sent NuH to his people. So he said, :O my people, worship Allah. You have no god other than Him. I fear for you the punishment of a great Day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed, We sent Nuh to his people and he said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We sent Noah (of old) unto his people, and he said: O my people! Serve Allah. Ye have no other Allah save Him. Lo! I fear for you the retribution of an Awful Day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We had certainly sent Noah to his people, and he said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Indeed, I fear for you the punishment of a tremendous Day.

— Saheeh International

We sent Noah to his people. He told them, "Worship God for He is your only Lord. I am afraid of the punishment that you might suffer on the great Day (of Judgment)".

— Muhammad Sarwar

Certainly We sent Nuh to his people, so he said: O my people! serve Allah, you have no god other than Him; surely I fear for you the chastisement of a grievous day.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly We sent Nuh unto his people, and he said: O my people! worship Allah; no god ye have but He; verily I fear for you the torment of a mighty day.

— Abdul Majid Daryabadi

We sent Noah to his people. He said: "O my people! worship Allah! ye have no other god but Him. I fear for you the punishment of a dreadful day!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–62

پھر تذکرہ انبیاء چونکہ سورت کے شروع میں حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوا تھا پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا ذکر ہوا کیونکہ آدم ؑ کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن ملک بن مقوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس ؑ یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم ؑ۔ ائمہ نسب جیسے امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں حضرت نوح جیسا کوئی اور نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 47 اس تاریخی بیان کی ابتدا حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم سے کی گئی ہے، کیونکہ قرآن کی رو سے جس صالح نظام زندگی پر حضرت آدم ؑ اپنی اولاد کو چھوڑ گئے تھے اس میں سب سے پہلا بگاڑ حضرت نوح ؑ کے دور میں رونما ہوا اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور فرمایا۔ قرآن کے ارشادات اور بائیبل کی تصریحات سے یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ حضرت نوح ؑ کی قوم اس سر زمین میں رہتی تھی جس کو آج ہم عراق کے نام سے جانتے ہیں۔ بابل کے آثار قدیمہ میں بائیبل سے قدیم تر جو کتبات ملے ہیں ان سے ملے ہیں ان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے، ان میں تقریباً اسی قسم کا ایک قصہ مذکور ہے جس کا ذکر قرآن اور تورات میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ہم نے نوح ؑ کو (پیغمبر بنا کر) ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے (اس قوم سے) فرمایا کہ اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں (اور بتوں کی پرستش چھوڑ دو جن کا نام سورة نوح میں ہے وَد اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) مجھ کو تمہارے لئے (در صورت میرا کہنا نہ ماننے کے) ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے (کہ وہ یوم قیامت ہے یا یوم طوفان) ان کی قوم کے آبرودار لوگوں نے کہا کہ ہم تم کو صریح غلطی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں (کہ توحید کی تعلیم کر رہے ہو اور عذاب کا ڈراوا دکھلا رہے ہو) انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ اے میری قوم مجھ میں تو ذرا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فصل 10۔ آیات 59۔۔۔ 93: اب آگے وہی انذار کا مضمون، جو اوپر سے چلا آ رہا ہے، تاریخی دلائل سے واضح کیا گیا ہے اور عرب کی پچھلی قوموں میں سے ایک ایک کو لے کر دکھایا ہے کہ کس طرح اللہ نے ان کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا لیکن انہوں نے اقتدار پا کر ناشکری کی روش اختیار کی، زمین میں اصلاح کے بعد فساد برپا کیا، عدل و قسط کو درہم برہم کیا، بالاخر اللہ نے ان کے اندر اپنا رسول بھیجا جس نے ان کو توحید اور عدل و قسط کے قیا کی دعوت دی لیکن انہوں نے اپنے غرور اور گھمنڈ کے سبب سے نہ صرف یہ کہ رسول کی بات مانی نہیں بلکہ اس کے درپے آزار ہوگئے، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اس قوم کو تباہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 58–59

58۔ 1 علاوہ ازیں یہ تمثیل بھی ہوسکتی ہے۔ اَلْبَلَدُ الطَّیِّبُ سے مراد سریع الفہم اور اَلْبَلَدُ الطَّیِّبُ سے کند ذہن، وعظ و نصیحت قبول کرنے والا دل اور اس کے برعکس دل۔ قلب مومن یا قلب منافق یا پاکیزہ انسان اور ناپاک انسان مومن، پاکیزہ انسان اور وعظ و نصحت قبول کرنے والا دل بارش کو قبول کرنے والی زمین کی طرح، آیات الٰہی کو سن کر ایمان و عمل صالح میں مزید پختہ ہوتا ہے اور دوسرا دل اس کے برعکس زمین شور کی طرح ہے جو بارش کا پانی قبول ہی نہیں کرتی یا کرتی ہے تو برائے نام جس سے پیداوار بھی نکمی اور برائے نام ہوتی ہے۔ اسی کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ نے بیان فرمایا کہ ' مجھے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–63

35: اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت نوح ؑ کی پیدائش اور حضرت آدم ؑ کی وفات کے درمیان ایک ہزار سال سے کچھ زیادہ کا فاصلہ ہے لیکن محقق علماء نے ان روایات کو مستند نہیں سمجھا۔ حقیقی فاصلے کا یقینی علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ البتہ اتنی بات قرآن کریم سے واضح ہوتی ہے کہ اس طویل عرصے کے دوران بت پرستی کا رواج بہت بڑھ گیا تھا۔ حضرت نوح ؑ کی قوم نے بھی بہت سے بت بنا رکھتے تھے، جن کے نام سورة نوح میں مذکور ہیں۔ سورة عنکبوت (14:29) میں ہے کہ حضرت نوح ؑ نے ساڑھے نو سو سال تک اس قوم کو حق کی تبلیغ فرمائی۔ اور سمجھانے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا۔ کچھ نیک بخت ساتھی جو زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 77 تشریح آیات : 59۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 93۔ انسانی تاریخ میں قافلہ انسانیت کے اس سفر کے بیان سے پہلے ‘ ایسے ہی ایک کائناتی مومن قافلے کا ذکر تھا ‘ جو اس کائنات میں رواں دواں نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں ایسے مومنین کا ذکر جو امر الہی سے ذرا بھی سرتابی نہیں کرتے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا گیا ہے ۔ آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 59–60

3 آدم (علیہ السلام) کا قصہ ابتدائے سورت میں گزر چکا۔ ان کے بعد نوح (علیہ السلام) پہلے اولوالعزم اور مشہور رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف مشرکین کے مقابلے میں بھیجے گئے گو باعتبار اپنی خاص شریعت کے ان کی بعثت خاص اپنی قوم کی طرف مانی جائے تاہم ان اساسی اصولوں کے اعتبار سے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم میں مشترک ہیں کہا جاسکتا ہے کہ تمام انسان ہر نبی کے مخاطب ہوتے ہیں مثلاً توحید اور اقرار معاد کی تعلیم پر سارے پیغمبر متفق اللسان ہیں تو ایسی چیزوں کی تکذیب کرنا فی الحقیقت تمام انبیاء کی تکذیب کرنا ہے۔ بہرحال نوح (علیہ السلام) نے توحید وغیرہ کی عام دعوت دی۔ کہتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 59–61

اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّام اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے قبل ازیں اس سورت کے مضامین کا عمود قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ انباء الرّسل پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے تو اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاً ان کا مقام ‘ تقویٰ اور استقامت وغیرہ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے ‘ جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول علیہ السلام آیا تو وہ کسی قوم کی طرف بھیجا گیا ‘ لہٰذا قرآن مجید میں رسول علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ لازماً متعلقہ قوم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

63 سیدنا نوح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے شرک کا آغاز کیسے ہوا تھا ؟ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی وفات کے بعد مدتوں ان کی اولاد راہ ہدایت پر قائم رہی پھر آہستہ آہستہ ان میں بگاڑ پیدا ہونے لگا اور یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ فساد فی الارض کی بنیاد شرک پر ہی اٹھتی ہے۔ ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق اس شرک کا آغاز اس طرح ہوا کہ اس قوم میں سے وقتاً فوقتاً پانچ بزرگ اور صالح قسم کے لوگ وفات پا گئے جنہیں دیکھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی یاد آنے لگتی تھی جب یہ بزرگ فوت ہوگئے تو عبادت گزار لوگوں نے ان کے خلا کو بری طرح محسوس کیا شیطان نے انہیں پٹی پڑھائی کہ اگر تم ان بزرگوں کے مجسمے بنا کر سامنے رکھ لو تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بن لامک قدیم ترین انبیاء میں سے ہیں۔ زمانہ کی تعیین دشوار ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ان کا زمانہ 3800 ؁ ق، م تا 2850 ؁ ق، م سمجھئے۔ توریت کی کتاب پیدائش میں ان کا مفصل ذکر باب 5 سے باب 9 تک آتا ہے البتہ اس میں مناقب کے ساتھ ساتھ مثالب بھی موجود ہیں۔ (آیت) ” قومہ “۔ یہ لوگ ملک عراق میں آباد تھے۔ اور دنیا کی ہر جاہلی، گو بہ ظاہر مہذب قوم کی طرح شرک میں مبتلا تھے۔ (آیت) ” عذاب یوم عظیم “۔ سے مراد دونوں عذاب ہوسکتے ہیں۔ عذاب قیامت بھی اور دنیا کا عذاب طوفان بھی۔ ولا شک ان المراد منہ اما عذاب یوم القیامۃ او عذاب یوم الطوفان (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 59–64

آیت نمبر 59 تا 64 ترجمہ : قسمیہ بات ہے ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (لَقَدْ ) قسم محذوف کا جواب ہے (غیرہ) کے جر کے ساتھ اِلٰہ کی صفت ہے اور رفع، (اِلٰہ) کے محل سے بدل ہونے کی وجہ سے ہے اگر تم اس کے علاوہ کسی اور کی بندگی کرو گے تو مجھے تمہارے حق میں بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے اور وہ بڑا دن قیامت کا دن ہے، ان کی قوم کے سرداروں نے کہا ہم تم کو صریح غلطی پر دیکھتے ہیں انہوں نے جواب دیا میں کسی گمراہی میں نہیں ہوں ضلالت ضلال سے عام ہے، ضلالت کی نفی ضلال کی نفی سے ابلغ ہے، بلکہ میں رب العلمین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد ارسلنا نوحا الی قومہ بلاشبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا۔ لقد ارسلنا محذوف قسم کا جواب ہے یہ لام تقریباً بغیر قد کے مستعمل نہیں کیونکہ اس قسم کا جملہ سننے کے بعد مخاطب کو مضمون جملہ کے وقوع کی توقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا قد کا آنا ضروری قرار پایا۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا نسب نامہ حسب ذیل ہے (نوح بن لامک یا لمک بن متشونح یا متوشخ بن خنوخ یا اخنوخ) ۔ ماں کا نام عوفہ یافینوس بنت برالیک بن قتشونح تھا۔ اخنوخ کا اسلامی نام ہی حضرت ادریس تھا آپ ہی سب سے پہلے نبی ہیں جنہوں نے قلم سے لکھنے کی ایجاد کی۔ اخنوخ بن مہلیل یا مہلائیل تھے مہلیل کا باپ قینن یا قینان یا قانن ‘ قانن کا باپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 59–62

(59۔ 60۔ 61۔ 62) حضرت نوح ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو، اس کے سوا جن کو تم لوگ پکارتے ہو وہ کچھ نہیں، میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ اگر تم ایمان نہ لاتے تو تم پر بڑے دن کے عذاب کا خدشہ ہے۔ سردار کہنے لگے نوح ؑ تم تو ایک صریح غلطی میں مبتلا ہو، حضرت نوح ؑ نے فرمایا میں تمہیں اوامرو نواہی کی تبلیغ کرتا اور اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور ایمان اور توبہ کی طرف بلاتا ہوں اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب نازل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ : اوپر بیان فرمایا ہے کہ ہدایتِ الٰہی اور اس کی برکات سے فائدہ اٹھانے یا نہ اٹھانے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں، ایک پاکیزہ فطرت (طیب) جو ہدایتِ الٰہی اور اس کی برکات سے خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے علم و عمل سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، دوسرے وہ جو شرارت پسند اور بد فطرت ہوتے ہیں، یہ لوگ ہدایت کی بارش سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹے جھاڑیاں اور کانٹے بن کر نکل آتے ہیں اور ان کے دلوں کی زمین چونکہ شور ہوتی ہے، اس لیے ان پر رحمت کی بارش اتنی فائدہ بخش نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد اب یہاں سے تاریخی شواہد کے طور پر پہلی قوموں کے واقعات بیان کر کے گویا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : آیت : لقد ارسلنا نوحا الی قومہ فقال یقوم اعبدوا للہ جب یہ بیان کیا کہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) خالق بھی ہے اور کمال پر قادر بھی تو اس نے کئی امتوں کے قصص اور واقعات بیان کیے اور ان میں کفار کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے والی چیزوں کا ذکر کیا۔ لقد میں لام تاکید کے لیے ہے جو قسم پر متبنہ کرتی ہے۔ اور فا اس معنی پر دلالت کرتی ہے کہ دوسری ( شے) اول کے بعد ہے۔ یٰقوم اس میں منادی مضاف ہے۔ اور اسے اپنے اصل پر رکھتے ہوئے یا قومی پڑھنا بھی جائز ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول ہیں جو بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خلاؤں کی حرمت کا حکم لے کر زمین پر مبعوث ہوئے نحاس نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن عساکر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے نبی نوح کو بنا کر بھیجا گیا۔ (2) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابو نعیم اور ابن عساکر نے یزید رقاشی (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کو اپنی ذات پر لمبا نوحہ کرنے کی وجہ سے نوح کہا گیا۔ (3) امام ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نوح اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ نوحہ کرتے تھے اپنی ذات پر۔ (4) امام اسحاق بن بشیر ابن عساکر نے مقاتل و جویبر (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوگئے اور کمزور ہوگئیں ان کی ہڈیاں تو فرمایا اے میرے رب کب تک میں سخت محنت اور مشقت کرتا رہوں گا۔ فرمایا اے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ اَرْسَلْنَا [ بیشک ہم بھیج چکے ہیں ] نُوْحًا [ نوح کو ] اِلٰي قَوْمِهٖ [ ان کی قوم کی طرف ] فَقَالَ [ تو انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] مَا [ نہیں ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْ اِلٰهٍ [ کوئی بھی الہ ] غَيْرُهٗ ۭ [ اس کے علاوہ ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کے عذاب سے ] ترکیب (آیت 59) ما نافیہ کا اسم غیرہ ہے ۔ اسی لیے غیر پر رفع آئی ہے ۔ اس کی خبر محذوف ہے اور لکم قائم مقام خبر ہے ۔ نوٹ ۔ 1: مادہ ” ع م ی “ کی لغت آیت نمبر ۔ 2: 18 میں دی ہوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ فرمانا اور قوم کا سر کش ہو کر ہلاک ہونا امت حاضرہ کی یاد دلانی اور عبرت دلانے کے لیے قرآن مجید میں جگہ جگہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے اور ان کی امتوں کے واقعات ذکر فرمائے ہیں کہیں ایک ہی نبی کا تذکرہ فرمایا اور کہیں متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا۔ کہیں تذکرے مختصر ہیں کہیں مفصل ہیں۔ یہاں سورة اعراف میں حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی تبلیغ و تذکیر اور ان کی امتوں کے انکار و تکذیب پھر اس پر ان کی سزا و تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے دشمن فرعون کا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–64

قصۂ اول نوح (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ لقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ انھم کانوا قوما عمین (ربط) اس سورت کے شروع میں حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا اور پھر اسی ذیل میں فتنۂ شیطان سے بچنے کی تاکید اکید فرمائی اور بعد ازاں اس عہد قدیم کو یاد دلایا کہ جو حق تعالیٰ نے اولاد آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا اب اس کے بعد دیگر حضرات انبیاء کرام کے قصے برعایت ترتیب بیان کرتے ہیں جو متعدد فوائد کو متضمن ہیں (اول) یہ کہ حضرات انبیاء سے سرکشی اور سرتابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں قدیم زمانہ سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ لوگ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کرتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

70 یہ پہلا قصہ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہے جو تیسرے دعوے سے متعلق ہے۔ کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا سب سے پہلا اعلان ہی یہی ہے۔ “ اُعْبُدُوْا اللّٰهَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہ ” صرف اللہ کی عبادت کرو اور حاجات میں صرف اسی کو پکارو اس کے سوا کوئی تمہارا کارساز نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 59–62

انبیاء کے واقعات گزشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی کا ذکر فرمایا تھا اور اس سے سورة کی ابتداء میں تخلیق آدم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے معیشت اور ہدایت کے سامان پیدا کیے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شیطان کی عداوت کا تذکرہ بھی ہوا اور اس کے بعد نیکی اور برائی کرنے والوں کے انجام کو بیان فرمایا اس کے ساتھ ساتھ وحی الٰہی کی حیثیت بھی بیان فرمائی اب یہاں سے حضرت نوع (علیہ السلام) اور کئی دیگر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کی زندگی کے اہم واقعات بیان فرمائے ہیں اور ان کے طریقہ تبلیغ پر روشنی ڈالی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی کس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝ 60 ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ( م ل ء ) الملاء ( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–64

ترکیب : من الٰہ غیرہ من زائدہ الہ مبتدا لکم خبر غیرہ کو بالرفع پڑھا جاوے تو الہ کی صفت ہوگی علی الموضع کی یا وہ اس کے موضع سے بدل جیسا کہ لا الہ میں الا اللہ۔ فی ضلال مبین مفعول ثانی لنراک اگر اس کو رؤیت قلب سے لیا جاوے ورنہ حال ابلغکم جملہ مستانفہ اور علی المعنی رسول کی صفت بھی ہوسکتا ہے لان الرسول ھوا لضمیر فی انی فی الفلک حال ہے ضمیر معہ سے۔ تفسیر : مسائل مبدء و معاد اور ان کے دلائل ظاہرہ و برا ہیں باہرہ کے بعد پھر 1 ؎ انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ان چند فوائد کے لئے بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ سرکشی اور انبیاء سے سرتابی کچھ محمد ﷺ کی قوم کی ہی عادت خاصہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے لوگ اپنے انبیاء…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُا اللہ َ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الاعراف : 59) ” ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے کہا : اے برادرانِ قوم ! اللہ ہی کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ‘ میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں “۔ حضرت نوح اور قوم نوح کی مثال اور اس کی وضاحت اس تاریخی بیان کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم سے کی گئی ہے کیونکہ قرآن کی رو سے جس صالح نظام زندگی پر حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو چھوڑ گئے تھے اس میں سب سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–64

فہم القرآن حضرت نوح (علیہ السلام) : آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔ حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے یہ سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان : 6157) قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے اگر ایک نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دعوتِ نوح ( علیہ السلام) کا تذکرہ : آیت 59: لَقَدْ اَرْسَلْنَا یہ قسم محذوف کا جواب ای واللّٰہ لَقَدْ اَرْسَلْنَا۔ نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ (ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا) ان کو رسول بنایا جبکہ ان کی عمر پچاس سال تھی اور انکا سلسلہ نسب یہ ہے۔ نوح بن لمک بن متوشلخ بن اخنوخ اور یہ ادریس ( علیہ السلام) کا نام ہے۔ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (پس انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں) ۔ قراءت : علی نے غیرہٖ پڑھا ہے۔ نحو : رفع تو محل کی وجہ سے ہے گویا عبارت اس طرح ہے مالکم الٰہ غیرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 59(لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) وہ نوح بن لمک بن متوشکخ بن اخنوخ اور یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ نوح (علیہ السلام) پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ادریس (علیہ السلام) کے بعد بھیجا۔ یہ بڑھئی تھے اللہ تعالیٰ نے پچاس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں اور بعض نے کہا دو سو پچاس سال کی عمر میں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ سو سال کی عمر۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) اپنے اوپر کثرت سے نوحہ کرتے تھے اس وجہ سے ان کا نام نوح رکھا گیا پھر اس نوحہ کے سبب میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا اپنی قوم پر ہلاکت کی بد دعا کرنے کی وجہ سے افسوس کرتے تھے اور بعض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 59–64

(59 ۔ 64) ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب ( علیہ السلام) تک چند صاحب شریعت انبیاء کے قصے ان رکوعوں میں آنحضرت کی تسکین اور تشفی کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تاکہ آپ کو یہ اطمینان ہوجاوے کہ سرکش قوموں پر انبیاء کے جھٹلانے کا ہمیشہ سے جس طرح وبال پڑا ہے اگر اہل مکہ ایمان نہ لاویں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اہل مکہ میں اکثر سرکش لوگ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور آپ نے ان کی لاشوں پر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ خدا کے وعدے کو تم نے دیکھ لیا اور بقیہ اہل مکہ فتح مکہ پر اسلام لے آئے اگر قضا وقدر میں ان کا ایمان لانا نہ ٹھہرا ہوتا تو پچھلی امتوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–71

آیت 59 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

81 حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت و رسالت کا ذکر : ان کو پیغام حق پہنچانے کے لئے۔ اور یہی قرآن حکیم کا طریقہ و اسلوب ہے کہ انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے قصوں کے ضمن میں کلام کا آغاز ان کی بعثت و رسالت ہی سے کیا جاتا ہے نہ کہ ان کے جسمانی میلاد اور دنیا میں ان کی تشریف آوری کے بیان سے۔ کہ اصل چیز وہ پیغام ہی ہوتا ہے جو یہ حضرات اپنے رب کی طرف سے لے کر آتے ہیں نہ کہ جسمانی ولادت و میلاد سے متعلق قصہ گوئی۔ اسی لئے پورے قرآن حکیم میں کسی ایک بھی پیغمبر کی ولادت و میلاد کا ذکر نہیں فرمایا گیا ماسوائے حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے۔ کہ ان کی ولادت خلاف عادت بغیر باپ کے قدرت کے ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–64

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر عذاب تشریح :ــــ قرآن پاک میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ قرانی آیات اور کائنات پر غور و فکر کرو۔ کیونکہ جیسے جیسے علم و عرفان اور سائنسی ترقی ہو رہی ہے رب اور اس کی صفات، قدرت، وحدانیت اور توکل کے دروازے زیادہ روشن اور زیادہ واضح ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کفر و شرک کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں تک توحید، رسالت اور آخرت کا بیان بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے اب سورة الاعراف میں آٹھویں رکوع سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کا ذکر ہے اور آئندہ چودہ رکوع اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–64

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 59 ۔ تا۔ 64 ۔ اسرار و معارف : اس تمام بحثت کی علمی صورت جو انسانی زندگی میں پیدا ہوگی ہے وہ بھی انسان کے سامنے ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کا قصہ کہ ان کی قوم اللہ کی نافرمانی پہ کاربند ہوگئی مگر اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے محروم نہیں فرمایا بلکہ ان میں اپنا رسول مبعوث فرمایا جیسے مردہ زمین پہ ابر رحمت۔ تفسیر مظہری کے مطابق نوح (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت میں تھے اور ان سے پہلے زیادہ تر احکام انسانی ضروریات کے متعلق ہی تھے ان کے زمانے تک کفر و شرک بھی پھیل گیا اسی طرح وہ پہلے رسول تھے جنہیں کفر و شرک سے بھی مقابلہ کرنا پڑا۔ حدیث شریف میں واد ہے کہ انہیں چالیس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اوپر بیان فرمایا ہے کہ ہدایت الہی اور اس کے برکات سے مستفیض ہونے یا نہ ہونے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں ایک پاکیزہ فطرت ( طیب) جو ہدایت الہیٰ اور اس برکات سے خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے علم وعمل سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے دوسرے وہ جو شررت پسند اربد فرطرت ہوتے ہیں یہ لوگ باران ہدایت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹے چھاڑیاں اور کانٹے بن کر نکل آتے ہیں اور ان کے دلوں کی زمین چونکہ شور ہوتی ہے اس یے ان پر باراب رحمت چنداں فائدہ بخش نہیں ہوسکتی اس کے بعد اب یہاں سے تاریخی شواہد کے طور پر پہلی قوموں کے واقعات بیان کر کے گویا تاریخی شواہد کے طور پر پہلی قوموں کے وقعات بیان کر کے گویا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 58–59

(7:58) خبت۔ وہ خبیث ہوا۔ وہ خراب ہوا۔ الذی اسم موصول البلد کے لئے ہے یعنی وہ بستی جو خبیث اور خراب ہے۔ نکدا۔ اسم صفت منصوب۔ بےفائدہ ۔ قلیل النفع۔ گھٹیا۔ شعر ہے ؎ باراں کہ در لطافت طبعش کلام نیست در باغ لالہ روید و در شورہ بوم وخس نصرف۔ ہم مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ ہم پھیر پھیر کر بیان کر رتے ہیں۔ تصریف۔ مصدر۔ مضارع جمع متکلم۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 59–64

لغات القرآن آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ الملا (سردار ) ۔ لنرک (البتہ ہم تجھے دیکھتے ہیں ) ۔ ضللتہ (گمراہی) ۔ ابلغ (میں پہنچاتا ہوں) ۔ انصح (نصیحت کرتا ہوں) ۔ عجبتم (تم نے تعجب کیا) ۔ لینذر (تاکہ وہ ڈرائے) ۔ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ اغرقنا (ہم نے غرق کردیا) ۔ عمین (اندھے (بن گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ ” ہر پیغمبر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اور جیسا کہ سورة ابراہیم میں ارشاد ہے کہ وہ ان ہی کی زبان میں کلام کرتا ہے تاکہ دل کی بات دل تک آسانی سے پہنچ سکے۔ وہ ان ہی کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ ان ہی کے درمیان بچپن، نوجوانی اور جوانی کی منزلیں طے کرتا ہے اور اس کی شخصیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–65

حضرت ہود علیہ السلام، آندھی کے عذاب کا ذکر حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضر موت سے عمان وغیرہ تک تھا اور بڑا شاداب ملک تھا۔ قوم عاد کے لوگ بڑے قوی، ساٹھ ساٹھ گز کے قد تک کے تھے۔ عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی، پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ، اور ان کے جانور ہلاک ہوئے، پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے۔ آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کا عذاب پھیلا۔ تین برس تک رہا۔ چند آدمی ان میں مکہ مکرمہ میں قحط رفع ہونے کے لئے دعا مانگنے گئے۔ مکہ مکرمہ میں ان دنوں مالقہ لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] ان تاریخی شواہد کے سلسلے میں سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی دعوت نمایاں ہوتی ہے جن کا ظہور اس سر زمین پر ہوا جو آج کل عراق کہلاتا ہے اور جہاں دنیا کا سب سے پہلا بگاڑ بت پرستی کی شکل میں رونما ہوا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–64

حضرت نوح (علیہ السلام) : (ف 1) نوح (علیہ السلام) ابو الانبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ابو البشر ہیں آپ لے تقریبا ایک ہزار سال تک قوم میں تبلیغ کی اللہ کی توحید کی طرف دعوت دی ، نہایت خلوص اور محبت سے لوگوں کو راہ راست کی جانب متوجہ کیا مگر قوم یہی کہتی رہی ، غلط ہے ، آپ گمراہ ہیں اور ہمیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہیں تعجب یہ تھا کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ کر اسے کیوں نبوت کے لئے منتخب کیا ہے ، اس میں کیا خصوصیات ہم سے زیادہ ہیں ، بدبختوں کو یہ معلوم نہیں تھا ، یہ اللہ کی دین ہے ، جسے چاہے ، دیدے اس کا معیار قلب کی پاکیزگی اور اعمال کی بلندی ہے یہ موہبت دل نشین ہے ، صلہ وانعام نہیں جو کسب و محنت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

59 بالتحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے پاس رسول بناکر بھیجا پھر اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم فقط اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں ہے میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں یعنی اگر تم غیر اللہ کی پرستش سے بازنہ آئوگے اور بتوں کی پوجا کو ترک نہ کروگے تو مجھ کو تم پر قیامت کے دن عذاب کا ڈر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–64

ف 2۔ خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے یہ کمالات ذاتی وصفاتی ثابت ہوئے تو عبادت اور طلب حاجت میں ان کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو اور ان کی قدرت کو پیش نظر رکھ کر بعث کا انکار مت کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرنے کا حکم : 70: سیدنا نوح (علیہ السلام) جو لامک کے بیٹے تھے قدیم ترین انبیاء میں سے ہیں۔ زمانہ کی تعیین دشوار ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ان کا زمانہ 3800 ق م تا 2850 ق م سمجھا جاتا ہے۔ توریب کی کتاب پیدائش میں ان کا مفصل ذکر باب 5 سے باب 9 تک آتا ہے۔ البتہ اس میں آپ کے مناقب کے ساتھ ساتھ مثالب بھی موجود ہیں۔ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ملک عراق میں آباد تھے اور دنیا کی ہر جاہلی قوم کی طرح گو وہ خود اپنے آپ کو مہذب قرار دیں شرک میں مبتلا تھے بلکہ مشرک ہونے میں وہ کچھ زیادہ ہی سخت تھے۔ قرآن کریم نے صرف ان انبیاء کرام (علیہ السلام) ہی کا ذکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Described from the beginning of Surah al-A` raf upto this point were the subjects of Tauhid, Risalah and 'Akhirah, the basic principles of Islam. These were proved and affirmed in different ways, people were persuaded to follow them and warned against taking opposing stands. Then, as a corollary, the guiles of Satan which make people go astray were mentioned. Now, from the eighth Ruku` (section) to almost the end of the Surah, there is a description of some prophets, may peace be upon them, and of their communities. The subject dealt with here consists of the commonly pursued…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47. This historical narrative opens with an account of the Prophet Noah and his people. For the people of Noah were the first to drift away from the right way of life which was followed by the Prophet Adarn and his descendants. God, therefore, sent Noah to guide and reform them. In light of the Qur'anic allusions and Biblical statements it seems certain the people of Noah inhabited the land presently known as Iraq. This view is also supported by inscriptions of pre-Biblical times discovered in the course of archaeological excavations in Babylonia. Those inscriptions contain almost the same…

Read the full tafseer →