Explained with ayahs 46–47
جنت اور جہنم میں دیوار و حجاب
جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک اور حجاب حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے اسی دیوار کا ذکر آیت (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب 13) 57۔ الحدید) ، میں ہے یعنی ان کے درمیان ایک دیوار ہائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ اسی کا نام (اعراف) ہے۔ (اعراف) (عرف) کی جمع ہے ہر اونچی زمین کو عرب میں عرفہ کہتے ہیں اسی لئے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں (عرف الدیک) کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
سورة الْاَعْرَاف 34
یعنی یہ اصحاب الاعراف وہ لوگ ہوں گے جن کی زندگی کا نہ تو مثبت پہلو ہی اتنا قوی ہوگا کہ جنت میں داخل ہو سکیں اور نہ منفی پہلو ہی اتنا خراب ہوگا کہ دوزخ میں جھونک دیے جائیں۔ اس لیے وہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک سرحد پر رہیں گے۔
Read the full tafseer →سورة اعراف کی آیت مذکورہ میں ہے (آیت) وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ، ابن جریر اور دوسرے ائمہ تفسیر کی تحریر کے مطابق اس آیت میں لفظ حجاب سے وہی حصار مراد ہے جس کو سورة حدید کی آیت میں لفظ سور سے تعبیر کیا گیا ہے، اس حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے، کیونکہ اعراف عرف کی جمع ہے، اور عرف ہر چیز کے اوپر والے حصہ کو کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ دور سے معروف و ممتاز ہوتا ہے، اس تشریح سے معلوم ہوا کہ جنت و دوزخ کے درمیان حائل ہونے والے حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے، اور آیت اعراف میں یہ بتلایا گیا ہے کہ محشر میں اس مقام پر کچھ لوگ ہوں گے…
Read the full tafseer →وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ 46۔
حجاب سے مراد جنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار ہے : وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ، حجاب مراد جیسا کہ خود قرا ان کے دوسرے مقام سے واضح ہے، وہ دیور ہے جو دوزخ اور جنت کے درمیان کھڑی کردی جائے گی۔ سورة حدید میں ہے۔ فضرب بینہم بسور (حدید۔ 14) (پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی) ایک ایسی دیوار کے طور و عرض کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو پورے عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46۔ 1 ' ان دونوں کے درمیان ' سے مراد جنت دوزخ کے درمیان یا کافروں اور مومنوں کے درمیان ہے۔ حِجَاب، ُ (آڑ) سے وہ فصیل (دیوار) مراد ہے جس کا ذکر سورة حدید میں ہے : (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ) 57۔ الحدید :13) پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا یہی اعراف کی دیوار ہے۔
46۔ 2 یہ کون ہونگے ؟ ان کی تعین میں مفسرین کے درمیان خاصا اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ وہ لوگ ہونگے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ ان کی نیکیاں جہنم میں جانے سے اور برائیاں جنت میں جانے سے مانع ہونگی اور یوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قطعی فیصلہ ہونے تک وہ درمیان میں معلق رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
25: یوں تو اعراف والے جنت اور جہنم دونوں کا خود نظارہ کررہے ہوں گے، اس لئے انہیں جنتیوں اور دوزخیوں کو پہچاننے کے لئے کسی علامت کی ضرورت نہیں ہوگی ؛ لیکن یہاں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ جنت اور دوزخ والوں کو دنیا میں بھی ان کی علامتوں سے پہچانتے تھے اور چونکہ یہ لوگ صاحب ایمان تھے، اس لئے انہیں دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے اتنی حس عطا فرمادی تھی کہ یہ متقی پرہیزگار لوگوں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ نیک لوگ ہیں اور کافروں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ کافر ہیں۔ تفسیر کبیر امام رازی .
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان…
Read the full tafseer →1 حجاب کے معنی پردہ اور آڑ کے ہیں۔ یہاں پردہ کی دیوار مراد ہے جس کی تصریح سورة حدید میں کی گئی ہے ( فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ) 57 ۔ الحدید :13) یہ دیوار جنت کی لذتوں کو دوزخ تک اور دوزخ کی کلفتوں کو جنت تک پہنچنے سے مانع ہوگی اس کی تفصیلی کیفیت کا ہم کو علم نہیں۔
2 اسی درمیانی دیوار کی بلندی پر جو مقام ہوگا اس کو " اعراف " کہتے ہیں۔ اصحاب اعراف کون لوگ ہیں ؟ قرطبی نے اس میں بارے قول نقل کئے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان میں راجح وہ ہی قول ہے جو حضرت حذیفہ، ابن عباس، ابن مسعود ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ اور اکثر سلف و خلف سے منقول ہے۔ یعنی وزن اعمال کے بعد جن کے حسنات بھاری ہوں گے وہ جنتی…
Read the full tafseer →آیت 46 وَبَیْنَہُمَا حِجَابٌ ج۔
اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ہونے والی اس نوعیت کی گفتگو کا نقشہ زیادہ واضح طور پر سورة الحدید میں کھینچا گیا ہے۔ وہاں آیت نمبر 13 میں فرمایا گیا ہے : فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ ط یعنی ایک طرف جنت اور دوسری طرف دوزخ ہوگی اور درمیان میں فصیل ہوگی جس میں ایک دروازہ بھی ہوگا۔
وَعَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلاًّمبِسِیْمٰٹہُمْ ج ۔
یہ اصحاب اعراف اہل جنت کو بھی پہچانتے ہوں گے اور اہل جہنم کو بھی۔ قلعوں کی فصیلوں کے اوپر جو برجیاں اور جھروکے بنے ہوتے ہیں جہاں سے تمام اطراف و جوانب کا مشاہدہ ہو سکے ‘ انہیں عرف جمع اعراف کہا جاتا ہے۔ دوزخ…
Read the full tafseer →45 اعراف کیا ہے ؟ اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان ایک اوٹ ہے سورة حدید میں اس اوٹ کی یہ تفصیل ملتی ہے کہ وہ ایک دیوار ہوگی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے بیرونی طرف تو عذاب ہوگا اور اندرونی طرف رحمت (57 : 13) یعنی یہ دیوار جنت کے لذائذ اور خوشیوں کو جہنم کی طرف جانے سے اور جہنم کی کلفتوں کو اور آگ کی لپیٹ اور گرمی اور دھوئیں کو جنت کی طرف جانے سے روک دے گی۔
46 اعراف اور اہل اعراف :۔ اصحاب اعراف کون لوگ ہیں ؟ اس کے متعلق بہت سے اقوال ہیں جن میں سے راجح تر یہی قول ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر برابر ہوں گی وہ اس مقام پر مقیم ہوں گے ان کے ایک طرف اہل جنت ہوں گے جنہیں وہ ان کے…
Read the full tafseer →64 ۔ (بہ طور دیوار کے جس کا خاصہ یہ ہوگا کہ نہ جنت کی لذتوں اور نعمتوں کا اثر دوزخ تک پہنچ سکے اور نہ دوزخ کی سختیوں اور کلفتوں کا اثر جنت تک) اس پر یہ سوال پیش کرنا کہ پھر اس دیوار کے ہوتے جنت اہل جہنم کے درمیان مخاطبت کیونکر ہوسکے گی، عالم آخرت کی فضا کو تمام تر اس عالم عنصری کے مادی قوانین کا پابند و محکوم سمجھ لینا ہے۔ یہ آڑ تو صرف اسی لیے ہوگی کہ ایک مقام کی لذت یا اذیت دوسرے مقام تک نہ پہنچ سکے نظر کی حائل نہ ہوگی۔ ایسی نہ ہوگی کہ ایک جگہ دکھائی نہ دے سکے۔ لیس یعنی بہ ما یحجب البصر وانما یعنی یایمنع من وصول لذۃ اھل الجنۃ الی اھل النار واذیۃ اھل النار الی اھل الجنۃ۔ (راغب) (آیت) ” بینھما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
وعلی الاعراف رجال (الآیۃ) یہ کون لوگ ہوں گے جن کو جنت و دوزخ کے باڈر پر روک لیا جائیگا ؟ ان کے بارے میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے اکثر مفسرین کے نزدیک اہل اعراف سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی زندگی کا نہ تو مثبت پہلو ہی اتنا قوی ہوگا کہ جنت میں داخل ہو سکیں اور نہ منفی پہلو اتنا خراب ہوگا کہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں اسلئے وہ دوزخ و جنت کے درمیان ایک سرحد پر رہیں گے۔
Read the full tafseer →وبینہما حجاب وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماہم . اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑہو گی اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے وہ لوگ (اہل جنت اور اہل جہنم میں سے) ہر فریق کو علامات سے پہچان لیں گے۔
بینہما یعنی جنت دوزخ یا اہل جنت و اہل جہنم کے درمیان۔ حجاب یعنی وہ آڑ اور دیوار جس کا ذکر سورة حدید کی آیت فضرب بینہم بسورلہ باب میں آیا ہے اور وہاں ہم نے اس کی تشریح کردی ہے۔ الاعرافعرف کی جمع ہے یعنی حجاب کی چوٹیاں یہ لفظ عرف الفرس (گھوڑے کی ایال) یا عرف الدیک (مرغ کی کلغی) سے ماخوذ ہے بعض علماء نے کہا عرف کسی چیز کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں کیونکہ (معرفت اور عرفان کا معنی ہے پہچاننا اور) کسی چیز کی…
Read the full tafseer →(46) اور جنت اور دوزخ کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور اس آڑ اور دیوار (اعراف) پر بہت لوگ ہوں گے جن کی حسنات اور سیئات میزان میں برابر ہوں گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے عالم فقہا ہوں گے جو رزق کے معاملے میں شک کرتے تھے۔
یہ لوگ دونوں جماعتوں کو یعنی اہل جنت میں اور اہل دوزخ کو ان کے قیافہ سے پہچان لیں گے کیوں کہ دوزخیوں کی صورتیں سیاہ اور ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی، اور جنت میں داخل ہونے والوں کے چہرے سفید، چمک دار، اور نورانی ہوں گے۔
اور اصحاب اعراف اہل جنت کو کہیں گے السلام علیکم ! مگر یہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے۔
Read the full tafseer →وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ: جو جنت اور جہنم کے درمیان ایک دیوار ہوگی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ) [ الحدید : 13 ] یعنی جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایک دیوار بنادی جائے گی، جس کے اندر کی طرف اللہ کی رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب۔ شاہ ولی اللہ ؓ فرماتے ہیں : ”وآں مسمی ب اعراف است۔“ یعنی اس دیوار کو ”اعراف“ کہا جاتا ہے۔ (فتح الرحمن)
وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ: ”الْاَعْرَافِ“ یہ ”عُرْفٌ“ کی جمع ہے اور لغت میں ”عَرَفَ یَعْرِفُ مَعْرِفَۃً“ پہچاننے کو اللہ ”عُرْفٌ“ بلند جگہ کو کہتے ہیں، کیونکہ بلند چیز ممتاز ہونے کی وجہ سے آسانی سے پہچانی جاتی ہے اسی سے مرغ کی کلغی اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 46
قولہ تعالیٰ : آیت : وبینھما حجاب یعنی جہنم اور جنت کے درمیان پردہ ہے، کیونکہ انہیں دو کا ذکر جاری ہے۔ حجاب کا معنی حاجز ( رکاوٹ، پردہ) یعنی دیوار ہے اور یہ سورة ( دیوار) وہی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں فرمایا ہے : آیت : فضرب بینھم بسور ( الحدید : 13) ( پس کھڑی کردی جائے گی ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار)
آیت : وعلی الاعراف رجال یعنی علی اعراف السور یعنی دیوار کی بلندیوں پر کچھ مرد ہوں گے۔ اور اسی سے عرف الفرس ( گھوڑے کی گردن کے بال) اور عرف الدیک ( مرغ کی کلغی) ہیں۔ عبداللہ بن ابی یزید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : اعراف سے مراد بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا “ کے بارے میں فرمایا کہ (ہم نے پالیا) نعمتوں میں سے اور عزت میں سے لفظ آیت ” فہل وجدتم ما وعد ربکم حقا “ یعنی (کیا تم نے پالیا) رسوائی، ذلت اور عذاب میں سے۔
(2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جنت والے پائیں گے جو وعدہ دئیے گئے ثواب میں سے اور دوزخ والے پائیں گے جو وہ وعدہ دئیے گئے عذاب میں سے۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس کنویں کے پاس ٹھہرے جس میں مشرکین کو ڈالا گیا تھا۔ آپ نے (ان کو…
Read the full tafseer →وَبَيْنَهُمَا [ اور ان دونوں کے درمیان ] حِجَابٌ ۚ [ ایک رکاوٹ ہے ] وَعَلَي الْاَعْرَافِ [ اور (اس کی ) بلندیوں پر ] رِجَالٌ [ کچھ لوگ ہیں ] يَّعْرِفُوْنَ [ جو پہچانتے ہیں ] كُلًّاۢ [ سب کو ] بِسِيْمٰىهُمْ ۚ [ ان کی نشانی سے ] [ وَنَادَوْا : اور وہ پکاریں گے ] اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ [ جنت والوں کو ] اَنْ [ کہ ] سَلٰمٌ [ سلامتی ہو ] عَلَيْكُمْ ۣ [ تم لوگوں پر ] لَمْ يَدْخُلُوْهَا [ وہ لوگ داخل نہیں ہوئے اس میں ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] يَطْمَعُوْنَ [ آرزو کرتے ہیں ]
(آیت ۔ 46) رجال مبتدا مؤخر نکرہ ہے اور نکرہ مخصوصہ بھی ہے۔ اس کی خبر موجود محذوف ہے۔ علی الاعراف قائم مقام مقدم جبکہ یعرفون ، اس کی…
Read the full tafseer →اصحاب اعراف کا اہل جنت کو سلام پیش کرنا اور اہل دوزخ کی سر زنش کرنا
اہل جنت اور اہل دوزخ دو جماعتیں ہوں گی اور ہر جماعت اپنے اپنے مقام اور مستقر پر ہوگی۔ ان دونوں کے درمیان پردہ حائل ہوگا۔ یہ پردہ ایک دیوار کی صورت میں ہوگا۔ جس کو (وَ بَیْنَھُمَا حِجَابٌ) سے تعبیر فرمایا۔ اس پردہ کے باوجود آپس میں ایک دوسرے کو خطاب کرنے کا موقع دیا جائے گا جس کا ذکر اوپر (وَ نَادآی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبِ النَّار) میں ہوا۔ اور عنقریب ہی دوسری آیت میں دوزخیوں کا جنتیوں سے خطاب کرنے کا اور ان سے پانی طلب کرنے کا ذکر آ رہا ہے۔
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان کچھ جھرو کے ہوں گے جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون،
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی…
Read the full tafseer →51 اہل جنت اور اہل نار کے درمیان ایک بہت بڑا پردہ حائل ہوگا جو جنت اور دوزخ کا اثر ایک دوسری طرف پہنچنے سے مانع ہوگا۔ “ وَ عَلَی الْاَ عْرَافِ ” اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان حجاب حاجز کے اوپر کا بلند حصہ ہے۔ الذی علیہ الالکثر ان المراد من الاعراف اعالی ذلک السور المضروب بین الجنۃ والنار وھذا قول ابن عباس (کبیر ج 4 ص 311) اس میں وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیں برابر ہوں گی جیسا کہ مرفوع حدیث میں ہے۔ قیل یارسول اللہ فمن استوت حسناتہ و سیئاتہ قال اولیائک اصحب الاعراف لم یدخلوھا وھم یطمعون وقالہ ابن مسعود و ابن عباس و حذیفۃ و ابوہریرہ (بحر ج 4 ص 301) اصحاب اعراف کے بارے میں محقق قول یہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ربط آیات
یہ آیات بھی گزشتہ درس والی آیات کے ساتھ مربوط ہیں اللہ تعالیٰ نے مکذبین اور متکبرین کا برا انجام بیان فرمایا پھر فرمایا کہ کفر کرنے والوں کا جنت میں داخلہ اس طرح محال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا ان کے لیے آسمان اور رحمت کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور مجرمین کا اوڑھنا اور بچھونا جہنم کی آگ ہوگی اس کے برخلاف اہل ایمان اور نیک اعمال کرنے والوں کا ٹھکانا جنت ہوگا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور اگر دنیا کی زندگی میں ان کے دلوں میں کوئی کدورت یا شکر رنجی تھی تو وہ سب نکال لی جائے گی اور وہ بالکل پاک صاف ہو کر جنت میں جائیں گے پھر وہاں پر وہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُہُمْ تِلْقَاۗءَ اَصْحٰبِ النَّارِ 0 ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ 47 ۧ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ترکیب : نادی فعل اصحب الجنۃ فاعل اصحب النار مفعول ان مفسرہ جو بیان ندا کرتا ہے حقا وجدنا کا مفعول ثانی ہے۔ ماوعدربکم مفعول اول وعدکم بقرینہ اول کلام محذوف بینہم اذن یا مؤذن سے متعلق ان مفسرہ اذن کی تفسیر کے لئے۔ الذین الظالمین کی صفت۔ یعرفون رجال کی قالوا تفسیر ہے نادٰی اصحاب الاعراف کی۔ اھؤلاء جملہ قالوا کا بیان ہے اور اشارہ ہے اہل الجنۃ کی طرف خطاب کفار سے ہے۔
تفسیر : اس جگہ اہل جنت و اہل دوزخ کی باہم گفتگو کا ذکر کرتا ہے کہ جس سے حسرت ٹپکتی ہے کہ اہل جنت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ لو جی ہم نے تو جو کچھ ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا برحق پا لیا تم نے بھی جو کچھ تم سے وعدہ کیا تھا برحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ارشاد فرمایا گیا ہے :
وَبَینَھُمَا حِجَابٌ ج وَ عَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلًّا م بِسِیْمٰھُمْ ج وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ قف لَمْ یَدْخُلُوْھَا وَ ھُمْ یَطْمَعُوْنَ ۔ وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُھُمْ تِلْقَآئَ اَصْحٰبِ النَّارِ لا قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
(الاعراف : 46، 47)
” اور ان دونوں گروہوں کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی بلندیوں پر کچھ لوگ ہوں گے ‘ جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر۔ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے ‘ مگر اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی اور جہنمیوں کا اپنے اپنے مقام اور انجام کا اعتراف۔
جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے توجہنمیوں کو ان کی ذلت کا احساس دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جہنمیوں کے ساتھ سوال و جواب کرنے کا موقع عنایت فرمائے گا۔ جنتی حضرات جہنمیوں سے جنت کی آسائش وزیبائش، انعام وکرام اور جنت کی بیش بہا نعمتوں کا تذکرہ کرکے کہیں گے کہ ہم نے رب کریم کی طرف سے وہ سب کچھ پالیا جس کا ہمارے رب نے ہمارے ساتھ دنیا میں وعدہ فرمایا تھا۔ اے مجرمو ! تم بتاؤ کہ کیا تم نے وہ بلائیں اور سزائیں دیکھ لیں جن کو تم دنیا کی زندگی میں جھٹلایا کرتے تھے۔ جہنمی ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے…
Read the full tafseer →اہل اعراف کمزور مومن :
آیت 46: وَبَیْنَھُمَا (اور ان دونوں کے درمیان) جنت و دوزخ کے درمیان یا فریقین کے درمیانحِجَابٌ (ایک آڑ ہوگی) یہ وہ دیوار ہے جس کا تذکرہ اس ارشاد میں ہے فضُرب بینہم بسور ( الحدید 13) وَعَلَی الْاَعْرَافِ (اور اعراف کے اوپر) حجاب کی دیوار پر یہ جنت و دوزخ کے درمیان والی دیوار ہے وہ ان دونوں سے بلند ہے اعراف جمع عرف یہ دراصل عرف الفرس اور عرف الدیک سے بطور استعارہ لیا گیا ہے۔ رِجَالٌ (بہت سے آدمی ہونگے) یہ بچے کھچے مسلمان ہونگے یا جنت میں آخر میں داخل ہونے والے مسلمان جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہونگی۔ یا وہ جن کے ماں باپ ان سے راضی نہ ہونگے۔ یا مشرکین کے نابالغ بچے…
Read the full tafseer →(46) (وبینھما حجاب) یعنی جنت اور جہنم کے درمیان اور بعض نے کہا جہنمیوں کے درمیان دیوار ہوگی اور یہ وہی سور ہے جس کا تذکرہ قرآن میں ہے۔ ” قضرب بینھم بسورلہ باب “ …(وعلی الاعراف رجال) اعراف وہی سور ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان ہوگا۔
اصحاب الاعراف کی وضاحت اور مصداق
اعراف عرف کی جمع ہے ہر بلند جگہ کو عرف کہتے ہیں اور مرغے کی کلغی کو بھی ” عرف الدیک “ کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی تمام جسم سے بلند ہوتی ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سور کا نام اعراف اس وجہ سے رکھ اگیا کہ اعراف والے لوگوں کو پہچانتے ہوں گے۔
اعراف پر کون لوگ ہوں گے ؟ اس کی تعیین میں علماء کا اختلاف ہے۔ حذیفہ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(46 ۔ 47) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان میں اعراف ایک دیوار ہے جس میں دروازہ ہے حضرت ابن عباس ﷺ کا قول ہے کہ اعراف اونچی چیز کو کہتے ہیں دوزخ و جنت کے بیچ میں ایک دیوار ہے اس جگہ گنہگار لوگ روکے جاوینگے ضحاک کا بھی یہی قول ہے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں یہ تو گذر چکا کہ جنت اور دوزخ کے بیچ میں ایک بلند دیوار پہاڑ کی طرح کی ہے اس کا نام اعراف ہے جن لوگوں کی بدیاں اور نیکیاں برابر ہوں گی ان کا فیصلہ سب سے پیچھے قیامت کے دن ہوگا کیونکہ ان کی نیکیوں کا پلہ ایسا بھاری ہوگا کہ فورا ان کو جنت کا حکم ہوجاوے نہ بدیاں ایسی ہوں گی کہ دوزخی ٹھہر جاویں اس لئے زیادہ نیکیوں والے جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
آیت 46
یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف “ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جاسکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جاسکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے (ان سلم علیکم) ” سلامتی ہے تم پر “ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
64 جنت اور دوزخ کے درمیان ایک عظیم الشان آڑ : یعنی حجاب کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لئے ہے۔ اور اس حجاب اور آڑ کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس جنت کے لئے حجاب اور آڑ ہوگی جس کی چوڑائی نص قرآنی کے مطابق زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہوگی ۔ { عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالاَرْضِ } ۔ سو کیا کہنے اس خالق ومالک کی عظمت شان کے ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ مِنْ خَالِقٍ عَظِیْمٍ ۔ اور یہ آڑ اس لئے ہوگی کہ جنت کا کوئی اثر دوزخیوں تک پہنچ کر ان کے لئے راحت کا سبب نہ بننے پائے اور دوزخ کا کوئی اثر جنت تک پہنچ کر اہل جنت کے لئے تکلیف کا باعث نہ بن سکے۔ اور ہر ایک کو اس کا صلہ و بدلہ پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ
تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 40 تا 47 ۔
اسرار و معارف :
دعا پر عدم اعتماد کی وجہ :
جو لوگ ہمارے ارشدات کو قبول نہیں کرتے اور اکڑ دکھاتے ہیں ان کا سارا کروفر مھض دکھاوا ہی رہ جاتا ہے کہ ان کے سارے کمالات زیر آسمان ہی رہتے ہیں اور ان پر آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے۔ اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوسکیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ن کے سے گزر جائے یعنی جس طرح یہ امر محال ہے کفار کے لیے دخول جنت بھی محال ہے۔ مفسرین کرام نے آسمانوں کے دروازے نہ کھلنے سے متعدد امور مراد لیے ہیں اول دعا کہ ان کی دعا کو بارگاہ الوہیت تک رسائی کی اجازت نہیں ملتی اور یہ بھی بہت بڑی محرومی ہے غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ دعا پر بہت کم لوگ…
Read the full tafseer →ف 3 جو جنت اور جہنم کے درمیان ایک دیوار ہوگی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا فضرب بینھم بسور تو ان کے یعنی جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایک دیوار بناد ی جائے گی ( حدید 13) اور فتح الر حمن میں ہے وآم مسی باعرف مست یعنی اس حجاب کو اعراف کہا جاتا ہے۔4 اعراف عرف کی جمع ہے اور لغت میں عرف بلند جگہ کو کہتے ہیں۔ لہذا اعراف سے مراد دیوار کی بلندیاں ہیں، جہاں ٹھہرنے والوں کو ایک طرف جنتی اور دوسری طرف جہنمی لوگ نظر آئیں گے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ یہ قول ابن عباس ؓ کا ہے وعلیہ الا کثرون (کبیر)5 مثلا جنتیوں کے چہرے سفید اور نورانی ہوں گے۔ اور جہنمیوں کے کالے سیاہ جنتویں کے مو ضع وضو چمک رہے ہوں، اعراف میں…
Read the full tafseer →(7:46) الاعراف۔ سے مراد وہ دیوار ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان حائل ہے۔ اعراف عرف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں مکان مرتفع۔ بلند جگہ۔ عرف الفردوس۔ گھوڑے کی گردن کے بال ۔ عرف الدیک۔ مرغے کی کلغی۔
سیمہم۔ ان کا چہرہ۔ ان کی نشانی۔ سیما کے معنی نشانی اور علامت کے ہیں۔ یہ اصل میں وسمی تھا۔ واؤ کو فاء کلمہ کی بجائے عین کلمہ پر رکھا گیا ۔ تو سومی ہوا پھر واؤ کے ساکن اور ماقبل کے مکسور ہونے کی وجہ سے واؤ کو باء کرلیا گیا تو سیمی ہوگیا۔ سیمی مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔
نادوا ماضی جمع مذکر غائب نداء مصدر باب مفاعلہ۔ انہوں نے پکارا (یا ماضی بمعنی مضارع) وہ پکاریں گے۔ اس کا فاعل رجال
لم یدخلوھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
لغات القرآن آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔
وجدنا (ہم نے پا لیا ) ۔ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا تھا) ۔ حق (سچ ۔ سچا ) ۔ وجدتم (تم نے پایا ) ۔ نعم (جی ہاں) ۔ موذن (پکارنے والا۔ اعلان کرنے والا ) ۔ یصدون (وہ روکتے ہیں ) ۔ یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں ) ۔ عوج (ٹیڑ ھا پن۔ کجی ) ۔ حجاب (پردہ ) ۔ الاعراف (ٹیلے۔ پردے) ۔ یطمعون (وہ امید رکھتے ہیں) ۔ صرفت (پھیر دی گئی۔ (پھیر دی جائیں گی) ۔ لا تجعلنا (تونہ بنا ہمیں) ۔ یعرفون (وہ پہچان لیں گے ) ۔ سیما (پیشانیاں۔ نشانیاں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ ” ان آیات میں تین جماعتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے (1) اہل جنت (2) اہل جہنم (3) جنت اور جہنم کے درمیان کسی اونچے مقام پر جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
اعراف کی تشریح
مطلب یہ ہے کہ جنت اور دوزخ کے بیچ میں ایک دیوار پہاڑ کی طرح ہے۔ اس کا نام اعراف ہے۔ جن لوگوں کی بدیاں اور نیکیاں برابر ہوں گی، ان کا فیصلہ سب سے پیچھے قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ نہ ان کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا کہ فورا ان کو جنت کا حکم ہوجاوے، نہ بدیاں ایسی ہوں گی کہ دوزخی ٹھہر جاویں۔ اس لئے زیادہ نیکیوں والے جنت میں اور زیادہ بدیوں والے دوزخ میں جب تک حساب کتاب کے بعد جاویں گے اس وقت تک ان لوگوں کو اعراف دیوار پر کھڑا کردیا جاوے گا۔ یہ وہاں سے جنتی اور دوزخی دونوں گروہ کے لوگوں کو جنت اور دوزخ میں جاتے ہوئے دیکھیں گے اور باتیں کریں گے۔
مطلب یہ ہے کہ اہل اعراف دوزخیوں کو چہرہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
[22] یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں دونوں تول میں برابر ہوں گی۔ اس وجہ سے ان کا فیصلہ ابھی
معلق ہوگا کہ دوزخ میں بھیجے جائیں یا جنت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
اعراف :
(ف 1) جنت اور دوزخ کے بین بین ایک برزخ ہوگا جسے قرآن کی اصطلاح میں اعراف کہا جاتا ہے ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ، وہاں ایسے لوگ رہیں گے ، جو جنت میں داخل نہیں ہوئے جن کو یہ معلوم نہیں ، کہ ہمیں کہاں رکھا جائیگا ، جنت والوں کو دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں ، اور جہنم والوں کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں ، ان کی خواہش یہ ہے ، کہ جنت میں رہیں ۔
بات یہ ہے کہ دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک وہ ہیں جن تک اسلام کی نعمت پہنچی اور انہوں نے قبول کرلی ، ایک وہ ہیں جن تک اسلام پہنچا مگر وہ بدبختی کی وجہ سے محروم رہے باقی سب وہ ہیں جن تک یا تو پیغام پہنچا نہیں یا پہنچا مگر غلط صورت میں لیکن بجائے خود وہ نیک تھے…
Read the full tafseer →46 اور اہل جنت اور اہل جہنم کے مابین ایک آڑ اور دیوار ہوگی اس دیوار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے اور اس اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم میں سے ہر ایک کو اس کی نشانی اور علامت سے پہچانتے ہوں گے چونکہ یہ اعراف کے لوگ بلندی پر ہوں گے اس لئے دونوں فرقوں کو آسانی سے دیکھ لیں گے اور اہل جہنم اور اہل جنت کے چہرے صاف صاف پہچانے جاتے ہوں گے کیونکہ ایک فریق کے چہرے پر پھٹکار برستی ہوگی اور دوسرے فریق کے چہرے پر آثار مسرت نمایاں ہوں گے اور یہ اعراف کے لوگ اہل جنت کو پکار کر سلام علیک کریں گے اور اعرانی ابھی خود جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے ہاں جنت میں داخل ہونے کے امیدوار ضرور ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ف 6۔ اس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہ جانے دے گی۔
Read the full tafseer →اعراف ایک جگہ کا نام ہے جہاں رزلٹ لیٹ ہونے والوں کو کچھ دیر کے لئے رکھا جائے گا :
57: ” وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ 1ۚ“ اور ان دونوں کے درمیان حجاب یعنی پردہ ہے۔ دوسری جگہ اس حجاب کو ” سور “ یعنی دیوار فرمایا گیا اور اس کی تفصیلی حقیقت اللہ ہی کو معلوم ہے اور جو ہمیں معلوم نہیں اس کو یقیناً معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اس زندگی میں ضرورت ہوتی تو کتاب اللہ نے اس کی وضاحت کردی ہوتی۔ فرمایا جنت دوزخ کے علاوہ ایک اور جگہ ہے جس کو اعراف کہا جاتا ہے وہاں یہ لوگ ہوں گے جن کا رزلٹ گویا لیٹ ہوچکا ہے وہ ابھی جنت یا دوزخ میں داخل نہیں ہوئے لیکن ان کی طلب جنت داخل ہونے کی ضرور ہے۔ ان کا رزلٹ کیوں لیٹ ہے ؟ اس…
Read the full tafseer →Commentary
When the people of Paradise will reach Paradise, where they belong, and the people of Hell, will reach Hell, where they belong, it is evident that the two places will be far apart from each other in all respects. But, despite this being so, many verses of the Holy Qur'an con-firm that in between the two places, there will be points from where one could see the other, and engage in an exchange of conversation.
In Surah Al-Saffat, mentioned there are two persons who had known each other in their mortal life. But, one of them was a believer while the other, a disbeliever. In the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
34. The people of A'raf (Heights) will be the people who are neither righteous enough to enter Paradise nor wicked enough to he cast into Hell. They will, therefore, dwell at a place situated between the two.
Read the full tafseer →