Explained with ayahs 150–151
موسیٰ ؑ کی کوہ طور سے واپسی حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہوچکا تھا اس لئے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یا قوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے جو حدیث میں ہے کہ دیکھنا سننا برابر نہیں، اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے جمہور سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
سورة الْاَعْرَاف 109
یہ طلبی اس غرض کے لیے ہوئی تھی کہ قوم کے 70 نمائندے کوہ سینا پر پیشی خداوندی میں حاضر ہو کر قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جرم کی معافی مانگیں اور از سرِنو اطاعت کا عہد استوار کریں۔ بائیبل اور تلمود میں اس بات کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ ذکر ہے کہ جو تختیاں حضرت موسیٰ ؑ نے پھینک کر توڑ دی تھیں ان کے بدلے دوسری تختیاں عطا کرنے کے لیے آپ کو سینا پر بلایا گیا تھا (خروج۔ باب 34)۔
سورة الْاَعْرَاف 110
مطلب یہ ہے کہ ہر آزمائش کا موقع انسانوں کے درمیان فیصلہ کن ہوتا ہے۔ وہ چھاج کی طرح ایک مخلوط گروہ میں سے کار آمد آدمیوں اور ناکارہ آدمیوں کو پھٹک کر الگ کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اس کے بعد اس خیال پر کہ حضرت ہارون ؑ نے اپنے فرائض قائم مقامی میں کوتاہی کی ہے ان کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے تو حضرت ہارون ؑ نے عرض کیا کہ میرا قصور نہیں قوم نے میرا کوئی اثر نہ لیا اور میری بات نہ سنی بلکہ قریب تھا کہ وہ مجھے قتل کر ڈالتے اس لئے آپ میرے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کریں جس سے میرے دشمن خوش ہوں اور آپ مجھے ان گمراہوں کے ساتھ نہ سمجھیں، تب حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ فرو ہوا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ، یعنی اے میرے پروردگار مجھے بھی معاف فرما دیجئے اور میرے بھائی کو بھی اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ
حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون کے اس عذر کو قبول کرلیا۔ حضرت ہارون پر یہ شبہ تو کسی طرح ہوسکتا ہی نہیں تھا کہ خدانخواستہ وہ اس فتنہ کے بانیوں میں ہوں گے البتہ یہ شبہ حضرت موسیٰ کو ہوا ہوگا کہ انہوں نے اس کے روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری کما حقہ ادا نہیں کی۔ حضرت ہارون کے مذکورہ بالا جواب سے یہ شبہ دور ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ اگر حالات ایسے ہوگئے تھے کہ وہ اپنا سر دے کر بھی اس فتنہ کو روک نہیں سکتے تھے تو ان کے لیے یہی بہتر تھا کہ وہ اس سے اپنے آپ کو الگ رکھیں اور حضرت موسیٰ کا انتظار کریں۔ صورت معاملہ واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
150۔ 1 جب حضرت موسیٰ ؑ نے آکر دیکھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو سخت غضبناک ہوئے اور جلدی میں تختیاں بھی جو کوہ طور سے لائے تھے، ایسے طور پر رکھیں کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ انہوں نے نیچے پھینک دی ہیں جسے قرآن نے " ڈال دیں " سے تعبیر کیا ہے۔ تاہم اگر پھینک بھی دی ہوں تو اس میں سوء بےادبی نہیں کیونکہ مقصد ان کا تختیوں کی بےادبی نہیں تھا بلکہ دینی غیرت و اہمیت میں بےخود ہو کر غیر اختیاری طور پر ان سے یہ فعل سر زد ہوا۔
150۔ 2 حضرت ہارون ؑ و موسیٰ ؑ آپس میں سگے بھائی تھے، لیکن یہاں حضرت ہارون نے ماں جائے ' اس لئے کہا کہ اس لفظ میں پیار اور نرمی کا پہلو زیادہ ہے۔
150۔ 3 حضرت ہارون ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–154
70: یہ تورات کی تختیاں تھیں جو وہ کوہ طور سے لائے تھے ”پھینکنے“ سے یہاں مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جلدی میں انہیں اس طرح ایک طرف رکھا کہ دیکھنے ولا اسے پھینکنے سے تعبیر کرسکتا تھا، خدا نخواستہ ان کی بےحرمتی مقصود نہیں تھی۔
Read the full tafseer →اب حضرت موسیٰ کے جذبات ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور آپ معذرت کو معقول سمجھ لیتے ہیں ، اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مغفرت اور شفقت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ۔ تب موسیٰ نے کہا " اے رب ، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما ، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے "
Read the full tafseer →3 یعنی شدت غضب میں جو بےاعتدالی یا اجتہادی غلطی مجھ سے ہوئی خواہ میں اس میں کتنا ہی نیک نیت ہوں، آپ معاف فرما دیجئے اور میرے بھائی ہارون سے اگر ان کے درجہ اور شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی طرح کی کوتاہی قوم کی اصلاح میں ہوئی، اس سے بھی درگزر فرمائیے۔
Read the full tafseer →آیت 151 قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ ز وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ
اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا :
Read the full tafseer →148 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے اور اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت :۔ سیدنا ہارون (علیہ السلام) کے حلیمانہ جواب سے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت کچھ اعتدال پر آئی تو سمجھے کہ انہوں نے اس معاملہ میں اپنے بھائی پر زیادتی کی ہے لہذا فوراً اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہوئے کہ مجھے بھی بخش دے اور اگر میرے بھائی سے ان لوگوں کو شرک سے باز رکھنے میں کچھ کوتاہی واقع ہوئی ہے تو اسے بھی معاف فرما دے اور ہمیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے اپنے بھائی سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو اس دعائے مغفرت و رحمت میں شریک کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی جو سیدنا ہارون (علیہ السلام) نے کہا…
Read the full tafseer →206 ۔ حضرات انبیاء سے بڑھ کر رحمت الہی کا قدر شناسا اور اندازہ دان اور کون ہوسکتا ہے۔ صحیح صورت حال کا علم ہوتے ہی معا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کلیم اللہ استغفار ومناجات میں مشغول ہوگئے۔ (آیت) ” رب اغفرلی ولاخی “۔ درخواست مغفرت اپنے ہی لیے نہیں اپنے ان بھائی کے لئے بھی ہے جن پر ابھی ابھی یہ تشدد ہورہا تھا ! اپنے لئے تو استغفار اس امر پر کہ غیرت توحید سے بےخود ہو کر قبل تحقیق ہارون (علیہ السلام) نبی پر سخت گیری کیوں شروع کردی تھی، اے فیما اقدمت علیہ من ھذا الغضب والحدۃ (کبیر) بما صنعت باخی (بیضاوی) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لئے استغفار اس امر پر کہ دفع فتنہ پر پوری طرح کامیاب نہ ہوسکے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
آیت نمبر 148 تا 151
ترجمہ : اور موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) نے موسیٰ کے مناجات کیلئے جانے کے بعد ان زیورات سے جن کو وہ فرعون کی قوم (قبطیوں) سے شادی کے بہانے عاریۃً لے آئے تھے، پھر وہ ان ہی کے پاس رہ گئے تھے، گوشت پوست (خون) کے بچھڑے کا ایک پتلا (معبود) سامری نے ان کیلئے اس زیور کا بنادیا، جَسَدًا، عجلاً سے بدل ہے معنی میں گوشت اور خون کے ہے اس کی بیل کے جیسی آواز تھی جو سنی جاتی تھی، اس طرح قلب ماہیت پتلے کے منہ میں اس مٹی کے ڈالنے کی وجہ سے ہوگئی جس کو سامری نے جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے لے لیا تھا، اس مٹی کا اثر زندگی ہر اس شئ پر ظاہر ہوتا تھا، جس میں وہ ڈالدی جاتی،…
Read the full tafseer →قال رب اغفرلی ولاخی وادخلنا فی رحمتک وانت ارحم الراحمین۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میری اور میرے بھائی کی خطا معاف فرما دے اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما دے تو سب سے بڑا رحیم ہے۔
واخذا براس اخیہ موسٰی ( علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے آپ کو گمان ہوا کہ ہارون کے قصور سے قوم گمراہی میں مبتلا ہوئی بغوی نے براسہ کی تشریح میں لکھا ہے کہ گیسو اور داڑھی پکڑ کر کھینچی۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اور چونکہ غصہ آور نہ تھے اس لئے بنی اسرائیل آپ سے موسیٰ ( علیہ السلام) کی بہ نسبت زیادہ محبت کرتے تھے۔ ابن…
Read the full tafseer →(151) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا میں نے اپنے بھائی ہارون ؑ کے ساتھ جو سلوک کیا اور ہارون ؑ نے جو ان لوگوں کی سرکوبی نہیں کی اسے معاف فرما اور ہمیں اپنی جنت میں داخل فرما۔
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ : ہارون ؑ کے حلیمانہ وعاجزانہ لہجے اور عذر سے موسیٰ ؑ نرم ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری اس زیادتی کو معاف فرما جو مجھ سے غصہ کی حالت میں ہارون ؑ کو ڈانٹنے میں ہوئی اور ہارون ؑ کی اس کوتاہی سے درگزر فرما جو ممکن ہے لوگوں کو باز رکھنے میں ان سے ہوئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
قولہ تعالیٰ : آیت : ولما رجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا اس میں غضبان غیر منصرف ہے، کیونکہ اس کی مونث غضبی ہے اور اس لیے کہ اس میں الف نون اس الف تانیث کی مثہ ہے جو تیرے قول حمراء میں ہے اور یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور اسفا سے مراد شدید الغضب (سخت غصہ) ہے۔ حضرت ابو الدرداء ؓ (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 77) نے فرمایا : اسف کا درجہ غضب کے بعد ہے یعنی جب غصہ غضب سے زیادہ شدید ہو تو اسف کہلاتا ہے (اور وہ آدمی) اسف واسیف اوسفان اور اسوف کہلاتا ہے۔ اور الاسیف کا معنی حزین ( غمگین) بھی ہے،۔
حضرت ابن عباس اور سدی ؓ (تفسیر طبری، جلد 2، صفحہ 78) نے بیان کیا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے چند طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” اسفا “ یعنی غمگین ہونا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولما رجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا “ کے بارے میں فرمایا جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غمگین ہوتے ہوئے اس عمل پر جو آپ کے بعد آپ کی قوم نے کیا۔
(3) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” غضبان اسفا “ یعنی غمگین اور سورة زخرف میں ہے۔ پس جب انہوں نے ہم کو ناراض کردیا پھر فرمایا اسف دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ایک غضب (یعنی غصہ) اور دوسرا حزن (یعنی غم) ۔
(4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →[ قَالَ : (موسی نے ) کہا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ اغْفِرْ لِيْ : تو بخش دے مجھ کو ] [ وَلِاَخِيْ : اور میرے بھائی کو ] [ وَاَدْخِلْنَا : اور تو داخل کر ہم دونوں کو ] [ فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ : اپنی رحمت میں ] [ وَاَنْتَ : اور تو ] [ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
بچھڑے کی پرستش کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور دنیا میں ان لوگوں کی ذلت
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو چھوڑ دیا اور بار گاہ الٰہی سے اپنے اور اپنے بھائی کے لیے مغفرت کا سوال پیش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی کہ انہیں عنقریب ان کے رب کی طرف سے غصہ پہنچے گا اور دنیا والی زندگی میں ذلت پہنچے گی اس غضب اور ذلت سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے کئی قول ہیں۔ حضرت ابو العالیہ نے فرمایا کہ غضب سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ حکم ہے جس میں قبولیت توبہ کے لیے ان لوگوں کے قتل کا حکم ہوا اور ذلت سے مراد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–154
تفسیر
قصہ اتخاذ عجل وانجامِ آن
قال اللہ تعالیٰ واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیھم عجلا۔۔۔ الی۔۔۔ للذین ھم لربھم یرھبون
(ربط) گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کی ایک جہالت کا بیان تھا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ کی جاہلانہ درخواست کی۔ اب ان آیات میں ان کی ایک اور حماقت اور سفاہت کو بیان کرتے ہیں کہ یہ نادان اپنے ایک خود ساختہ ڈھانچہ کی آواز پر ایسے مفتون ہوئے کہ اسے خدا سمجھ بیٹھے۔
(ربط دیگر) گزشتہ آیت یعنی والذین کذبوا بایتنا ولقاء الاخرۃ حبطت اعمالھم میں اس امر کا بیان تھا کہ تکذیب آیات کی وجہ سے ان کے اعمال حبط ہوگئے اب ان آیات میں حبط اعمال کے ایک اور سبب کا بیان…
Read the full tafseer →145: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حقیقت حال کا پتہ چلا اور مععلوم ہوگیا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) بےقصور ہیں تو شدت غضب میں اپنے فعل مذکور پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت اجابت کا ذکر ہورا ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل آپ کی رہنمائی میں مصر سے نکلے تھے انہوں نے بحیرہ قلزم کو پار کیا دشمن ہلاک ہوچکا تھا صحرائے سینا میں پہنچ کر خود قانون کا مطالبہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کتاب کے لیے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ کوہ طور پر اعتکاف بیٹھیں تو مقرر مدت کے بعد آپ کو کتاب کی صورت میں لائحہ عمل عطا کیا جائے گا طور پر چلتے وقت آپ نے اپنے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب مقرر کیا تاکہ ان کی عدم موجودگی میں قوم کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں اعتکاف کی تکمیل پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے اپنی…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ 0 ۡ ۖ وَاَنْتَ اَرْحَـمُ الرّٰحِمِيْنَ 151 ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
2 ؎ یعنی سر کے بالوں کو پکڑ کر کھینچنے لگے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًالا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمْوْنِیْ مِنْم بَعْدِیْج اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ ج وَاَلْقِی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِ یَجُرُّہٗٓ اِلَیْہِ ط قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادْوْا یَقْتُلْوْنَنِیْ زصلے فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآئَ وَلَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ زصلے وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 150، 151)
” اور جب موسیٰ رنج اور غصہ سے بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف پلٹے تو کہا تم نے میرے پیچھے میری بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر مطلع فرمایا کہ تیری قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی ہے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے۔
ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کی مدت اعتکاف پوری ہوئی اور انھیں تورات عنایت فرما دی گئی۔ اُدھر ان کی قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ جس کی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اطلاع دی کہ ” اے موسیٰ ٰتمہارے یہاں آنے کے بعد ہم نے تمہاری قوم کی آزمائش کی اور انھیں سامری نے گمراہ کردیا ہے۔ “ (طٰہٰ ، آیت : 84)
اب موسیٰ (علیہ السلام) غم و غصہ کی حالت میں قوم کی طرف واپس پلٹے اور اپنے بھائی ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →دعائے موسیٰ d:
آیت 151: قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِاَخِیْ (موسیٰ نے کہا اے میرے رب میری خطاء معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی) بھائی کو راضی کرنے کے لئے اور شماتت کی نفی کرتے ہوئے ان کو دعا میں اپنے ساتھ شریک فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ اے میرے رب مجھے بخش دے جو مجھ سے میرے بھائی کے سلسلہ میں زیادتی ہوئی اور ان کو بخش دے اگر خلافت ونیابت کے سلسلہ میں ان سے کوئی زیادتی ہوئی۔ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ (اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما) دنیا میں اپنی عصمت کے پردہ میں داخل فرما اور آخرت میں جنت جنان میں داخلہ عنایت فرما۔ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (اور آپ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم…
Read the full tafseer →تفسیر 151 (قال) موسیٰ (علیہ السلام) جب ان پر بھائی کا عذر واضح ہوگیا (رب اغفرلی) مجھے معاف کیجیے جو کچھ میں نے بھائی کے ساتھ کیا (ولا خی) اگر اس سے بچھڑے کے پجاریوں کے روکنے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے صواد خلنا فی رحمتک وانت ارحم الرحمین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
(150 ۔ 151) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر یہ بات اللہ پاک نے کہہ دی تھی کہ وہاں قوم کو سامری نے بگاڑ ڈالا اور ایک گوسالہ بنا کر آپ بھی پوجنے لگا اور بنی اسرائیل کو بھی اس میں شریک کرلیا۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) غیط وغضب میں بھرے ہوئے آئے کہ قوم اتنی نشانیاں اللہ پاک کی دیکھ چکی ہے اس پر کفرو شرک سے باز نہ آئی جھٹ بت بنالیا اور پوجنے لگے مفسروں نے اس کے معنے یہ بیان کئے ہیں کہ یہ بھی ایک قسم کا غضب ہے جو غضب سے کہیں بڑھا ہوا ہے بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) نے آتے ہی ان لوگوں سے یہ کہا کہ یہ کیا بری حرکت تم نے میرے جانے کے بعد کی کہ گوسالہ بنا کر پوجنے لگے خدا کا وعدہ جو میرے ساتھ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →201 حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت و رجوع الی اللہ : یعنی جب آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور یہ امر واضح ہوگیا کہ حضرت ہارون کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا تو آپ فوراً اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہوگئے تاکہ اس طرح اپنے بھائی کو بھی راضی کرسکیں اور اعداء کو شماتت کا موقع بھی نہ ملنے پائے۔ اور ان کے بارے میں جس سوئِ ادب کا ارتکاب کیا تھا اس کی معافی بھی ہوجائے۔ سو آپ نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " میری بھی بخشش فرما دے اور میرے بھائی کی بھی " اگر ان سے کوئی لغزش و کوتاہی سرزد ہوگئی ہو۔ اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما دے۔ سو یہی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام کی کہ وہ ایسے موقع پر فوراً اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
رکوع نمبر 18: آیات 148 ۔ تا۔ 151:
اسرارو معارف :
موسی (علیہ السلام) کی قوم کا حال سنیں کہ جب انہوں نے اتباع نبوت کے مقابلے میں اپنی عقل پر بھروسہ کیا تو عجیب گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ سامری نام کا ایک مشہور آدمی تھا اس نے سب سے سونا چاندی جمع کرکے اسے پگھلایا اور اس میں وہ مٹی ڈال جو وہ جبرائیل امین کی سواری کے قدموں سے اٹھالایا تھا چناچہ ایک بچھڑے کو بنا دیا جس میں کسی حد تک زندگی کا اثر تھا
دوسرے معجزات کے ساتھ یہ دو عظیم معجزات آپ کی نبوت کی دلیل ہیں آپ فرعون اور اس کے امراء سے بات کیجیے انہیں راہ راست کی طرف بلائیے کہ وہ بہت سخت نافرمان ہیں۔ آپ نے عرض کیا بارالہا مجھ سے تو ان کا ایک قبطی…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی میری اس زیادتی کو معاف فرما جو مجھ سے غصہ کی حالت میں ہاروں ( علیہ السلام) کو ڈانٹنے میں ہوئی او ہارون ( علیہ السلام) کی کی اس کوتاہی سے درگزر فرما جو ممکن ہے۔ ان سے لوگوں کو سمجھانے میں ہوئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
(7:150) غضبان۔ صیغہ مبالغہ۔ سخت غضبناک۔ غضبان وہ شخص جس کے غصہ میں شدت ہو۔ غضبۃ وہ شخص جس کو جلد غصہ آجائے۔
اسفا۔ مصدر ہے ۔ افسوس کرنا ۔ پچھتاوا۔ شدید الغضب (شدید غصہ میں) ۔ حرینا متاسف۔
بئسما۔ برا ہے جو کچھ ۔ بری ہے وہ چیز۔ ما بمعنی شیٔ کے تمیز ہے بئس کے فاعل مضمر کی یا ما موصولہ ہے بمعنی الذی اور بئس کا فاعل ہے۔ خلفتمونی۔ تم نے میری جانشینی کی۔ تم نے میرے بعد کیا۔
اعجلتم۔ اَ استفہامیہ۔ عجلتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے جلدی کی۔ تم نے جلد بازی کی۔ عجل اور عجلۃ سے۔
اعجلتم امر ربکم۔ کیا تم نے اپنا رب کا حکم آنے سے پہلے ہی یہ جلدی کر ڈالی ۔ یعنی میں جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کے احکام وصول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–153
تشرح آیات نمبر 150 تا 153
جب حضری موسیٰ (علیہ السلام) طور پر اعتکاف کی حالت میں تھے تو اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کردی تھی کہ تمہارے پیچھے تمہاری قوم نے سونے چاندی کا بچھرا بنالیا ہے اور اسکی پوجا کرنے لگے ہیں ( یہ سارا کام ایک جادوگر سامری کی زیر ہدایت ہوا) ۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دل پہلے ہی کھول رہا تھا جب واپس لوٹے اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ قوم نے ایک اللہ کو چھوڑکر بچھڑے کی پوجا کر رہی ہے تو اور بھی غصہ سے بپھر گئے۔ پہلے اپنی قوم والوں کو ملامت کی کہ تمہیں اللہ نے خلافت ارضی بخشی تھی کیا تمہاری کارکردگی کا یہی نمونہ ہے ؟ کہ ہمارے غائبانہ میں تم نے اللہ کو چھوڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ان آیتوں میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کا حل بیان فرمایا ہے جنہوں نے بچھڑا بناکر اس کو پوجا تھا اور ان پر خدا کا غضب نازل ہوا، وہ یہ کہ ان لوگوں نے آپس میں ایک کو ایک نے قتل کیا اور دنیا میں بہت ذلیل ہوئے، ملک سے نکالے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' جس طرح ان لوگوں پر غضب نازل ہوا اور ذلت نصیب ہوئی اسی طرح ان جھٹلانے والوں کی بھی یہی گت ہم کرتے ہیں ''۔ اس کے بعد اللہ پاک نے یہ بھی فرمادیا کہ جن لوگوں نے خواہ کسی قسم کا گناہ کیا ہو چھوٹا یا بڑا یہاں تک کہ شرک اور کفر بھی اگر ایسے لوگوں نے گناہ کے بعد سچے دل سے توبہ کی تو اللہ پاک بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے، اس کی توبہ قبول کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
[57] اس واقعے کا خلاصہ سورة بقرہ آیت 56 میں گزر چکا ہے۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تمہاری باتیں ہم اس وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ سے سن لیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ستر آدمیوں کو جو سردار تھے منتخب کر کے کوہ طور پر لے گئے اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا تو کہنے لگے کہ جب تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے بےحجاب نہ دیکھ لیں ہم کو یقین نہیں آسکتا۔ اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی اور وہ سب مرگئے یا مردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
پیغمبر کا غصہ :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب تورات لے کر قوم میں واپس آئے تو دیکھا سب میں بت پرستی کے جراثیم پھیل چکے ہیں اور گوسالہ پرستی کا عمل جاری ہے آپ نے نہایت غصے کا اظہار کیا ، ہارون (علیہ السلام) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور کہا یہ کیا معاملہ ہے ۔
بات یہ ہے انبیاء (علیہم السلام) میں صبر و استقلال کی استعداد عام لوگوں سے بہت زیادہ موجود ہوتی ہے مگر بےدینی والحاد ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ، ذاتی طور پر وہ ناراض نہیں ہوتے ، ان کی انفرادیت ختم ہوجاتی ہے ، ان کا غصہ اور مسرت محض اللہ کے لئے ہے ، غور کرو ، اس سے زیادہ اور کون سی بات صدمہ کی ہوسکتی ہے ، کہ روحانی اولاد بگڑ جائے ، جن کے لئے…
Read the full tafseer →151 حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی اے میرے رب ! میرے اور میرے بھائی کی مغفرت اور بخشش فرما اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ یعنی اس واقعہ میں جو خطا مجھ سے اور میرے بھائی سے سرزد ہوگئی ہو اس کو درگزر فرما دے اور ہم کو اس خاص رحمت میں داخل فرما جو انبیاء کے لئے تو نے مخصوص کررکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–153
ف 6۔ کیونکہ ان کو وحی سے یہ معلوم ہوگیا تھا۔
1۔ اور جلدی میں ایسے زور سے رکھی گئیں کہ دیکھنے والے اگر غور نہ کرے توشبہہ ہو کر جیسے کسی نے پٹک دی ہوں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو اپنے اور اپنے بھائی کے اللہ سے معافی کی درخواست کی :
165: ہارون (علیہ السلام) کے اس بیان سے جو آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دیا سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کا سارا غصہ جو ہارون (علیہ السلام) پر تھا فرو ہوگیا آپ نے ہارون (علیہ السلام) کا عذر قبول کرلیا کہ ہارون (علیہ السلام) نے اس فتنہ کو ہر ممکن روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رک نہ سکا اور یہ کہ کر ہارون (علیہ السلام) اس میں بےبس تھے موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنے غصہ کی حالت سے باہر آئے ذرا طبیعت سنبھلی تو اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ اے پروردگار ! میرا قصور معاف فرما دے اور میرے بھائی کو بھی ـ یعنی غصہ کی…
Read the full tafseer →Thereafter he turned to the Prophet Harun (علیہ السلام) and grasped the hair of his head. The Prophet Harun (علیہ السلام) then gave him the true account of the events and said that it was not his fault, for he stopped them from this wicked act but they did not listen to him. They were so obstinate about it that they were about to kill him. He said that he should not count him among the ignorant people and should not let his enemies laugh at him by treating him in that way. This made the Prophet Musa (علیہ السلام) cool down. At this occasion, he prayed to Allah, saying, رَبِّ اغْفِرْ لِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
109. Moses was summoned for the second time to Mount Sinai along with seventy chiefs of the nation in order that they might seek pardon for their calf-worship and renew their covenant with God. Reference to this event is not found in the Bible and Talmud. They simply mention that Moses was summoned to receive new tablets as replacements for the ones he had thrown down and broken. (Cf. Exodus 34.)
110. When a people are put to the test it is an occasion of crucial importance for it helps to distinguish the righteous from the wicked. Like a winnow, it separates out of the mass the useful from…
Read the full tafseer →