Al-A'raaf 7:117

Al-A'raaf · from ayah 117

7:117

وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ— فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَ ۟ۚوَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ‌ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ

(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We inspired to Moses, "Throw your staff," and at once it devoured what they were falsifying.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:117

ہم نے موسیٰؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ بس پھر کیا تھا، اس نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساری چیزیں نگلنی شروع کردیں جو انہوں نے جھوٹ موٹ بنائی تھیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے موسٰی ؑ کی طرف وحی فرمائی کہ (اب) آپ اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیں تو وہ فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے وضع کر رکھی تھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک، تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اب تو (بھی) اپنا عصا ڈال دے (عصا کا پھینکنا تھا کہ وہ اژدہا بن کر) فوراً ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلنے لگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم اپنی لٹھیا ڈال دو ، تو دفعۃ نگلنے لگی اس کو جو وہ گھڑتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ ڈال دو تم اپنا عصا، پس اس کا ڈالنا تھا کہ اس نے نگلنا شروع کردیا اس پورے سوانگ کو جوا نہوں نے رچایا تھا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کو کہ آپ اپنا عصا ڈال دیجیے سو یک بیک اس نے ان کے گڑھے ہوئے (شعبدہ) کو نگلنا شروع کردیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے وحی کی موسیٰ کو کہ ڈالو (تو سہی ذرا) اپنا عصا تو دفعتہً وہ (اژدھا بن کر) نگلنے لگا ان سب کو جو وہ گھڑلائے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (اس وقت) ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ تو وہ (فوراً سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے جھوٹے شعبدے کو ایک ایک کرکے نگلنے لگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We directed Moses: 'Now you throw your rod.' And lo! it swallowed up all their false devices.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We revealed to Musa, :Throw your staff. Then of a sudden, it began to swallow all that they had concocted.

— Muhammad Taqi Usmani

We revealed to Musa, :Throw your staff. Then of a sudden, it began to swallow all that they had concocted.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," and behold! It swallowed up straight away all the falsehood which they showed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We inspired Moses (saying): Throw thy staff! And lo! it swallowed up their lying show.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We inspired to Moses, "Throw your staff," and at once it devoured what they were falsifying.

— Saheeh International

We inspired Moses to throw his staff, and suddenly it began to swallow-up all that the magicians had (falsely) invented.

— Muhammad Sarwar

And We revealed to Musa, saying: Cast your rod; then lo! it devoured the lies they told.

— Muhammad Habib Shakir

And we revealed unto Musa: cast down thy rod. And lo! it Was swallowing up that which they had feigned.

— Abdul Majid Daryabadi

We put it into Moses's mind by inspiration: "Throw (now) thy rod": and behold! it swallows up straight away all the falsehoods which they fake!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:117

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 117–122

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 113–117

سورة الْاَعْرَاف 90 یہ گمان کرنا صحیح نہیں ہے کہ عصا ان لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا جو جادوگروں نے پھینکی تھیں اور سانپ اور اژد ہے بنی نظر آرہی تھیں۔ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ عصا نے سانپ بن کر ان کے اس طلسم فریب کو نگلنا شروع کردیا جو انہوں نے تیار کیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانپ جدھر جدھر گیا وہاں سے جادو کا وہ ا ثر کافور ہوتا چلا گیا جس کی بدولت لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی طرح لہراتی نظر آتی تھیں، اور اس کی ایک ہی گردش میں جادوگروں کی ہر لاٹھی، لاٹھی اور ہر رسی، رسی بن کر رہ گئی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو طہٰ ، حاشیہ 42)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ، یعنی ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دو ، وہ زمین پر گرتے ہی سب سے بڑا سانپ بن کر ان تمام سانپوں کو نگلنے لگا جو جادوگروں نے جادو سے ظاہر کئے تھے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ ہزاروں جادوگروں کی ہزاروں لاٹھیاں اور رسیاں جب سانپ بن کر دوڑ نے لگیں تو سارا میدان سانپوں کو نگل کر ختم کردیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ۔ لقف کے معنی کسی چیز کو جلدی جلدی نگلنے اور افک یافک کے معنی جھوٹی اور خلاف واقعہ بات کہنے یا کرنے کے ہیں۔ اوپر گزرا کہ سحر سے کسی شے کی حقیقت یا ماہیت میں کوئی تبدیلی نہی ہوتی بلکہ اس کا تمام تر تعلق دیکھنے والوں کی نگاہ اور ان کی قت متخیلہ کے تاثر سے ہوتا ہے اس وجہ سے سحر سے جو کرشمہ ظاہر ہوتا ہے وہ یکسر باطل، جھوٹ اور فریب نظر و تخیل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس معجزہ یکسر حقیقت ہوتا ہے۔ فرمایا کہ جب ساحروں نے اپنا سحر دکھایا اور اس کے اثر ان کی رسیاں سانپوں کی طرح رینگتی نظر آئیں تو ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 117–120

117۔ 1 لیکن یہ جو کچھ بھی تھا ایک تخیل شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا چناچہ موسیٰ ؑ کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 112–119

54: جا دو گروں کو جمع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 117–119

لیکن اب ایک دوسری سرپرائز سامنے آتی ہے۔ ایک عظیم واقعہ پیش آتا ہے۔ فرعون اور اس کا ٹولہ اور جادوگر سب کے سب ششدر رہ جاتے ہیں۔ تمام لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں اور اس عظیم میدان کے بیشمار اور عظیم سکتہ طاری ہوجاتا ہے جنہوں نے جادوگری کے اس عظیم عمل کو دیکھا۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نکلتا چلا گیا۔ اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 117–120

8 یعنی عصائے موسیٰ سانپ بن کر ان کی تمام لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا۔ جس سے ساحرین کو تنبہ ہوئی کہ یہ سحر سے بالا تر کوئی اور حقیقت ہے۔ آخر فرعون کے لوگ بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور ساحرین خدائی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون نے ظہور حق پر سجدہ شکر ادا کیا۔ اسی وقت ساحرین بھی سر بسجود ہوگئے۔ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی ایسا قوی حال ان پر طاری ہوا جس کے بعد بجز خضوع و استسلام کوئی چارہ نہیں رہا۔ رحمت الٰہیہ کا کیا کہنا کہ جو لوگ ابھی ابھی پیغمبر خدا سے نبرد آزمائی کر رہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 117–118

آیت 117 وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَج فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ۔ موسیٰ علیہ السلام کا عصا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 117–119

119 مقابلے میں فرعون کی شکست :۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدہا بن کر ان رسیوں اور لاٹھیوں کے مصنوعی سانپوں کو نگلنے لگا اور چونکہ یہ مصنوعی سانپ حقیقتاً سانپ نہیں تھے بلکہ حقیقتاً وہ رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں محض لوگوں کی نظر بندی ہوئی تھی۔ اس لیے جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کے اژدہا نے نگلا وہ فی الحقیقت رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مطلب واضح ہوتا ہے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اژدہا پہنچتا تھا تو مصنوعی سانپ لوگوں کو پھر سے رسیاں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

154 ۔ (اژدہابن کر) (آیت) ” مایافکون “۔ کا فاعل السحرۃ (جادوگر ہے) (آیت) ” ان الق عصاک “۔ یعنی اپنا عصاڈال دیجئے جیسا کہ اس سے پیشتر بھی کئی موقعوں پر ڈال چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–119

یرید ان۔۔۔۔ ارضکم، فرعون کے درباریوں اور قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ شخص عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھا کر عوام کو اپنی طرف مائل کرکے اور انجام کار ملک میں اثر و رسوخ کے ذریعہ ملک میں اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے، اور بنی اسرائیل کی آزادی اور حمایت کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں ان کے ملک وطن مصر سے بےدخل کرکے خود قابض ہونا چاہتا ہے، ان سب حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے ؟ باہمی مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ فرعون سے یہ درخواست کی جائے کہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون علیہم السلام) کے معاملہ میں جلدی نہ کی جائے، ان کا بہترین توڑ اور مؤثر جواب یوں ہوسکتا ہے کہ پوری ملک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و اوحینا الی موسیٰ ان الق عصاک ‘ فاذا ہی تلقف ما یافکون : اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ تم اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈالو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے (اژدہا بن کر) ان کے سارے جھوٹے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کردیا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 106–122

(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔ سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔ وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 117–119

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي۔۔ : موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے اپنی لاٹھی پھینکی تو اس نے ان کے جھوٹ موٹ بنائے ہوئے سانپوں کو نگلنا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معجزہ جو حق تھا، ثابت ہوگیا اور جادو جو جھوٹ شعبدے اور مکاری پر مبنی تھا، بےکار اور باطل ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 115–117

آیت نمبر : 115۔ 117 وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ادب سے پیش آئے تو یہی ان کے ایمان کا سبب بن گیا اور ان کسائی اور فراء کے نزدیک محل نصب میں ہے، معنی یہ ہے اما ان تفعل الالقائ ( یا آپ ڈالیں) اور اسی کی مثل شاعر کا یہ قول بھی ہے : قالوا الرکوب فقلنا تلک عادتنا قال القو فراء نے کہا ہے : کلام میں حذف ہے اور معنی یہ ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا بلاشبہ تم ہر گز اپنے رب پر غالب نہیں آسکو گے اور تم ہر گز اس کی آیات اور نشانیوں کو باطل نہیں کرسکو گے۔ اور یہ قرآن کریم کے اس معجزہ میں سے ہے کہ اس کی مثل لوگوں کا کلام نہیں ہو سکتا اور نہ وہ اس پر قادر ہو سکتے ہیں کہ قرآن کریم کے تھوڑے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 113–126

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد (3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰى مُوْسٰٓي : موسیٰ کی طرف ] [ اَنْ : کہ ] [ اَلْقِ : آپ ڈالیں ] [ عَصَاكَ : اپنا عصا ] [ فَاِذَا : پھر جب ہی ] [ هِىَ : وہ ] [ تَلْقَفُ : نگلنے لگا [ مَا : اس کو جو ] [ يَاْفِكُوْنَ : وہ جھوٹی بناوٹ کررہے تھے ] ل ق۔ (س) ۔ لقفا ۔ کسی چیز کو جلدی جلدی لینا ۔ نگلنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 117 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 117–120

اب آگے یہ ہوا کہ جادو گروں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے جس سے مقابلہ کیا یہ جادو گر نہیں ہے، یہ واقعی اللہ کا رسول ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ جب حق واضح ہوگیا تو ان سے نہ رہا گیا اور فوراً سجدہ میں گرگئے اور یہ اعلان کردیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ چونکہ ایمانیات کا تفصیلی علم نہ تھا اس لیے انہوں نے اجمالی ایمان کا اعلان کردیا۔ قرآن مجید میں لفظ سجدوا یا خروا سجدوا کے بجائے (وَ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ ) فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ ان کے دل میں حق نے اس قدر گھر کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ تو حضرت موسیٰ کا مقابلہ کر کے فرعون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–129

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

114: جادوگروں کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسا لاجواب جادو تیار کر کے لائے ہیں کہ دنیا کے تمام جادوگر مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ ہاں اگر کوئی خدائی امر ہو تو ہم میں اس کے مقابلے کی طاقت نہیں۔ “ روي ان السحرة قالوا قد عملنا سحرا لا یطیقه سحرة اھل الارض الا ان یکون امرا من السماء فانه لا طاقة لنا به ” (کبیر ج 4 ص 401) ۔ جب جادوگر اپنی سیاں اور لاٹھیاں ڈال چکے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے اپنی لاٹھی میدان میں پھینک دی اور گرتے ہی وہ ایک عظیم اژدہا کی شکل میں منقلب ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جادوگروں کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گئی۔ “ مَا یَافِکُوْنَ ” یعنی جو کچھ انہوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 109–119

ربط آیات تبلیغ رسالت کے سلسلے میں پہلے پانچ انبیا (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر ہوا۔ پھر سنت اللہ اور اقوام کی ذہنیت کا بیان ہوا یہ صرف ان پانچ انبیاء کی بات نہیں بلکہ دیگر انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا پھر اللہ کا دستور یہ رہا کہ پہلے ان لوگوں پر تنگی ڈال کر انہیں آزمایا اور پھر آسودگی دے کر بھی آزمائش کی۔ اکثر و بیشتر نتیجہ یہی نکلا کہ لوگوں نے انبیاء کو تسلیم نہ کیا اور تباہ ہوئے۔ ان کی ہلاکت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہوچکا ہے ” فانظرکیف کان عاقبۃ المفسدین “ دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ ان انبیاء کے بعد پھر دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ۝ 0 ۚ فَاِذَا ہِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ۝ 117 ۚ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 117–118

ترکیب : ان الق مفعول اوحینا فاذا مفاجات کے لئے ہے مبتدا تلقف خبر۔ صاغرین حال ہے انقلبوا سے قبل متعلق ہے آمنتم سے الی ربنا متعلق۔ تفسیر : اول فراعنہ کا کہ جن کی سلطنت ایک ہزار چھ سو بائیس (1622) برس تک رہی۔ ان میں اخیر بادشاہ سمنی توس تھا جس کو کمبیس شاہ ایران نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پانچ سو بیس (520) برس پیشتر قتل کرکے ان کے خاندان کو تمام کردیا اور ایرانیوں کی سلطنت قائم ہوئی۔ دوسرا دور سکندر اعظم تک ایک سو چورانوے (194) برس تک ان کی سلطنت رہی۔ پھر تیسرا دور بطلیمیوسیون کا ہے جن کی سلطنت سکندر سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تیس برس پیشتر تک رہی۔ چوتھا دور رومیوں کا ہے جو مسیح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 117–119

وَ اَوْحَیْنَٓا اِلیٰ مُوسٰٓی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ج فَاِذَ ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْ فِکُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا ھُنَالِکَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 117، 118، 119) ” اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو وہ دفعتاً نگلنے لگا اس کو جو وہ گھڑتے تھے تو حق ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ سب باطل ہوگیا تو تب وہ مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے “۔ اللہ کے حکم کے مطابق جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ ایک اژدھا بن گیا لوگ جو اب تک جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپوں کی طرح لہراتا ہوا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 109–122

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔ سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وحی سے اظہار معجزہ کا حکم : آیت 117: وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ (اور ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ آپ اپنا عصا ڈال دیں۔ پس عصا کا ڈالنا تھا اس نے نگلنا شروع کیا) تلقف نگلنے کو کہتے ہیں۔ قراءت : حفص نے تلقفْ پڑھا۔ مَایَاْفِکُوْنَ (ان کے بنے بنائے کھیل کو) ماؔ موصولہ یا مصدریہ یعنی جو وہ باندھتے تھے یعنی حق سے باطل کو پلٹتے تھے۔ اور جھوٹ کے طور پر پیش کرتے تھے۔ نمبر 2۔ افک سے مافوک بنایا گیا گھڑا ہو امراد ہے۔ روایت میں ہے کہ جب اس نے رسیوں اور لاٹھیوں سے بھری وادی نگل لی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کو اٹھایا۔ تو پہلے کی طرح لاٹھی بن گئی۔ اور ان بڑے اجسام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

117(واوحینآ الی موسیٰ ان الق عصاک) جب موسیٰ ع لیہ السلام نے عصا ڈالا تو وہ اتنا بڑا اژدھا بنا کہ افق کو اپنے حجم سے بند کردیا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مقابلہ اسکندریہ میں ہوا اور کہا گیا ہے کہ سانپ کی دم سمندر تک پہنچ گئی اور اس نے اسی گز بڑا منہ کھولا (فاذاھی تلقف) حفص (رح) نے ” تلفف “ لام کے سکون اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی ہو اور دیگر حضرات نے لام کے زبر اور قاف کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ نگلنے لگا۔ (مایافکون) جو خیالی جھوٹ انہوں نے بنایا تھا وہ اژدھا ان کے سب عصا اور رسیوں کو ایک ایک کر کے نگل گیا تو بھگدڑ سے پچیس ہزار لوگ مارے گئے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–127

(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 117–119

150 غلبہ حق اور شکست باطل کا ظہور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے موسیٰ سے بذریعہ وحی کہا کہ ڈال دو تم اپنے عصا کو زمین پر۔ سو عصائے موسیٰ نے زمین پر پڑتے ہی نگلنا اور ہڑپ کرنا شروع کردیا اس سارے سو انگ کو جو ان لوگوں نے اپنے جادو کے کرشمے اور کرتب سے رچایا تھا اور اس طرح وہ ذلت آمیز شکست سے دو چار ہوئے اور ان کو منہ کی کھانی پڑی اور ان کی دوڑ دھوپ اور تگ و دو کا نتیجہ خود ان ہی کے خلاف نکلا۔ حق غالب آیا اور باطل مغلوب ہوا۔ اور غلبہ حق سب کے سامنے ظاہر اور واضح ہوگیا۔ اور حق کیخلاف قائم کیا جانے والا وہ محاذ حق کی سربلندی کیلئے ایسا بڑا عظیم الشان ذریعہ بن گیا ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ عصائے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 109–126

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 117–118

ف 2 چناچہ اس معجزہ کو قرآن نے حق اور جادو کو باطل سے تعبیر فرمایا ہے لیکن ہر جادو محض تخیل نہیں ہوتا جمہور اہل سنت کا مسلک یہ ہے یہ سحر کئی قسم کا ہوتا ہے بعض قسم کا جادو تو وقعی تخیل ہوتا ہے مگر بعض قسم کے جادو مبنی بر حقیقت ہوتے ہیں جیسا کہ لبید بن اعصم یہو دی کا آنحضرت ﷺ پر جادو چلانا اس لیے سرے سے جادو کی حقیقت کا نکار صحیح نہیں ہے ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے مقابلے میں جس جادو کا ذکر ہو رہا ہے وہ محض دھوکا تھا۔ ( روح )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 117–118

(7:117) تلقف۔ وہ نگل جاتی ہے۔ وہ نگل جائے گی۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی وہ نکل گئی (باب سمع) لقف سے جس کے معنی پھرتی سے لے لینے اور جھٹ اتار لینے کے ہیں خواہ منہ میں نکلنے کی صورت میں ہو یا ہاتھ سے لے لینے کی شکل میں۔ یافکون ۔ مضارع جمع مذکر غائب افک سے (باب ضرب) جس کو وہ پلٹ رہے تھے۔ جس کو وہ جھوٹے طور پر بنا رہے تھے۔ انک جھوٹ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–122

لغات القرآن آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔ اجر (انعام) ۔ المقربین (مقربین۔ (باعزت درباری) ۔ ان تلقی (یہ کہ تو ڈالے گا) ۔ القوا (انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا ) ۔ سحروا (باندھ دیا ) ۔ اعین الناس (لوگوں کی آنکھوں کو) ۔ استرھبوا (انہوں نے ڈرادیا ) ۔ بسحر عظیم (بڑے جادو سے ) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی ) ۔ الق (ڈال دے ) ۔ عصاک (اپنی لاٹھی کو ) ۔ تلقف (نگلنے لگا ) ۔ مایا فکون (جو کچھ کہ وہ بناتے ہیں ) ۔ وقع (واقع ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بطل (تبا ہوگیا ) ۔ غلبوا (وہ مغلوب کردیئے گئے) ۔ ھنالک (اس جگہ) ۔ انقلبوا (وہ پلٹ گئے) ۔ صغرین (ذلیل و سوا ہونے والے ) ۔ القی (ڈال دیئے گئے۔ (القاء) ۔ سجدین (سجدہ کرنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 111–126

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 117–121

[45] یعنی یہ معجزہ دیکھ کر ان پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بےاختیار سجدے میں گرگئے۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے ان کی پیشانیاں پکڑ کر زمین پر لگا دیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 116–117

ز (ف 1) سحروا اعین الناس “۔ سے معلوم ہوا کہ جادو کا تعلق محض فریب نظر سے ہے ، یا ایک قسم کی شعبدہ بازی ہے ورنہ حقیقت میں اشیاء میں تبدیل ناممکن ہے ۔ اگر جادو گر واقعی حقائق کو بدل سکیں ، تو بری حالت میں کیوں رہیں ، انہیں کو دیکھئے فرعون سے انعام مانگ رہے ہیں ، حالانکہ اگر واقعی یہ لوگ تحویل طبائع پر قادر ہوں ، تو ان کو احتیاج کس بات کی ہے جو چاہا کردیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

117 اور اس وقت ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ حکم دیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصا ڈال دے اور اپنی لاٹھی جس طرح پھینکا کرتا ہے پھینک دے لاٹھی کا پھینکنا تھا کہ وہ لاٹھی اس تمام کھیل اور سانگ اور جھوٹے طلسم کو نگلنے لگا جو وہ بنا رہے تھے یعنی لاٹھی کا اژدہا بنا اور اس اژد ہے نے ان کی تمام فرضی مصنوعات کو نگل لیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 116–121

ف 1۔ جس سے وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ کی شکل میں لہراتی نظر آنے لگیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس وقت ہم نے عصا ڈالنے کی وحی موسیٰ (علیہ السلام) پر کردی : 128: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسے وقت میں جب لوگوں کی آنکھیں اور خیال دونوں باطل سے مرعوب ہو رہے تھے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دلائل حق کی لاٹھی پھینک دینے کا حکم فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا لاٹھی کو پھینکنا تھا کہ وہ ان کی ایک ایک بناوٹ کو ہڑپ کرتی چلی گئی۔ جادوگروں کی طرف سے جو کچھ بنایا گیا تھا وہ سراسر جھوٹ ، دھوکا اور فریب تھا اگرچہ اس وقت ظاہری نظر سے دیکھنے والوں کو وہ جھوٹ جھوٹ دکھائی نہ دیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ صرف ایک چیز کو دیکھ کر فیصلہ کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے جب تک ساتھ دوسری بھی نہ ہو اور یہ بھی کہ دونوں چیزوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 117–119

The next verse 117 said, وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ﴿117﴾ "And We revealed to Musa 'Throw your staff.' Then, of a sudden it began to swallow all that they had concocted." We find it reported in history, when thousands of staffs and ropes were turned into snakes leaping all over the ground, Allah commanded Musa to drop down his staff on the ground. It turned into a great snake and instantly began to eat up the snakes of the sorcerers. The crowd stood bewildered and stunned at this sight. Within no time all the snakes were eaten up…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–117

90. It would be a mistake to believe that the rod of Moses swallowed up the rods and ropes cast by the other sorcerers and which had looked like serpents. The Qur'anic statement means that the rod of Moses swallowed up the falsehood faked by them. This clearly shows that wherever Moses' rod moved, it destroyed the magical effect which had caused the transformation of their ropes and rods. One blow of Moses' rod caused every other rod to revert to a rod, and every rope to revert to a rope. (For further elaboration see Tafhim al-Qur'an, Ta Ha 20, n. 42)

Read the full tafseer →