Explained with ayahs 111–112
درباریوں کا مشورہ
درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہر کارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استاد فن جادوگر آجائیں ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادو گروں کی کیا کمی ہے ؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة الْاَعْرَاف 89
فرعونی درباریوں کے اس قول سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں خدائی نشان اور جادو کے امتیازی فرق کا تصوّر بالکل واضح طور پر موجود تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خدائی نشان سے حقیقی تغیر واقع ہوتا ہے اور جادو محض نظر اور نفس کو متاثر کر کے اشیاء میں ایک خاص طرح کا تغیر محسوس کراتا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے حضرت موسیٰ کے دعوائے رسالت کو رد کرنے کے لیے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے، یعنی عصا حقیقت میں سانپ نہیں بن گیا کہ اسے خدائی نشان مانا جائے، بلکہ صرف ہمیں ایسا اور ان کے ذریعہ سے لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپوں میں تبدیل کر کے لوگوں کو دکھا دیا جائے تاکہ عامتہ الناس کے دلوں میں اس پیغمبرانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
خلاصہ تفسیر
(غرض مشورہ طے کر کرا کر) انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ آپ ان (موسیٰ ؑ کو اور انکے بھائی کو مہلت دیجئے اور (اپنی حدود قلمرو کے) شہروں میں (گردآوروں کو یعنی) چپراسیوں کو (حکم نامے دے کر) بھیج دیجئے کہ وہ (سب چہروں) سب ماہر جادوگروں کو (جمع کر کے) آپ کے پاس لاکر حاضر کردیں (چنانچہ ایسا ہی انتظام کیا گیا) اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے (اور) کہنے لگے کہ اگر ہم (موسیٰ ؑ پر) غالب آئے تو (کیا) ہم کو کوئی بڑا صلہ (اور انعام) ملے گا، فرعون نے کہا کہ ہاں (انعام بھی بڑا ملے گا) اور (مزید برآں یہ ہوگا کہ) تم (ہمارے) مقرب لوگوں میں داخل ہوجاؤ گے (غرض موسیٰ ؑ کو فرعون کی جانب سے اس کی طلاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
قَالُوْٓا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ۔ یہ وہ مشورہ ہے جو پورے اتفاق رائے کے ساتھ درباریوں کی طرف سے فرعون کو پیش کیا گیا۔ وہ یہ کہ موسیٰ اور ہارون کے معاملے میں کوئی عاجلانہ کاروائی مناسب نہیں ہوگی۔ تقاضائے مصلحت یہ ہے کہ ابھی ان کو ٹالیے اور مملکت کے تمام حصوں میں ہر کارے بھیج کر ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو جمع کیجئے تاکہ وہ کسی پبلک اجتماع میں اپنے فن سے موسیٰ اور ہارون کو ایسی شکست دیں کہ ان کی ہوا اکھڑ جائے۔ اگر عام جاوگروں سے ان کا مقابلہ کدرایا گیا تو اندیشہ ہے کہ وہ اس مقابلہ میں شکست کھا جائیں گے اور الٹے ہماری ہوا خیزی ہوگی۔
اَرْجِہْ اصل میں اَرْجِئْہ ہے۔ ارجاء کے معنی ٹالنے، کسی معاملے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
112۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادوگری کو بڑا عروج حاصل تھا، اس لئے حضرت موسیٰ ؑ کی پیش کردہ معجزات کو بھی انہوں نے جادو سمجھا اور جادو کے ذریعے اس کا توڑ مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری زمین سے نکال دے ؟ پس ہم بھی اس جیسا جادو تیرے مقابلے میں لائیں گے، اس کے لئے کسی ہموار جگہ اور وقت کا ہم تعین کرلیں جس کی دونوں پابندی کریں، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا نو روز کا دن اور چاشت کا وقت ہے اس حساب سے لوگ جمع ہوجائیں (سورة طٰہ۔ 57۔ 59)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
54: جا دو گروں کو جمع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
اب فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس وقت مصر میں کاہن اور جادوگر بڑی تعداد میں تھے۔ خود کاہن جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ تمام بت پرستانہ مذاہب میں جادو دین کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ چناچہ ان ادیان کے کاہن اور مجاور جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ آج کل ادیان کے جدید ماہرین اس صورت حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی رہا ہے کہ جادوگری سے دین کا آغاز ہوا۔ اور زیادہ پکے ملحد یہ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ جس طرح جادو بالکل دین قرار پا گیا ہے اسی طرح ہر ایک دین بھی ختم ہوجائے گا اور جس طرح سائنس نے جادگروی کے دور کو ختم کردیا ہے اسی طرح ایک وقت ایسا آئے گا کہ مذہب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
2 مشاورت باہمی کے بعد یہ پاس ہوا کہ فرعون سے درخواست کی جائے کہ وہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون) کے معاملہ میں جلدی نہ کرے۔ ان کا بہترین توڑ اور موثر جواب یوں ہوسکتا ہے کہ چپڑاسی بھیج کر تمام قلمرو میں سے فن سحر کے جاننے والے جو ان سے بھی بڑھ کر اس فن کے ماہر (سحّار) ہوں جمع کرلیے جائیں، ان سے ان کا مقابلہ کرایا جائے۔ چناچہ یوں ہی کیا گیا۔
Read the full tafseer →آیت 112 یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ
ملک کے کونے کونے سے چوٹی کے جادو گروں کو بلا کر ایک عوامی اجتماع کے سامنے مقابلے میں انہیں شکست سے دو چار کیا جائے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے خوف کے اثرات زائل ہو سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
114 فرعون اور درباریوں کی مرعوبیت :۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتیں سن کر فرعون اور فرعونیوں کو واقعی یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ یہ شخص اس ملک میں انقلاب لاسکتا ہے اور اس کی وجوہ کئی تھیں ایک یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہی میں رہ کر تربیت پائی تھی فنون جنگ سیکھے تھے بلکہ ایک دفعہ حبش پر چڑھائی کے دوران انہیں سپہ سالار بنا کر بھی بھیجا گیا اور وہ کامیاب و کامران واپس آئے تھے۔ وہ جرأت مند دلیر اور مضبوط قد و قامت کے مالک تھے اور ان کی صداقت کے سب لوگ معترف تھے۔ دوسرے یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ وضاحت کردی تھی کہ میں اس اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں جسے تم بھی رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
148 ۔ ارکان دربار ومشیران سلطنت نے مشورہ یہ پیش کیا کہ موسیٰ وہارون کو سردست مہلت دے دی جائے اور اس درمیان میں قلم روبھر میں سرکاری ہر کاروں کے ذریعہ سے منادی کرا کے ماہرین فن جادوگروں کو جمع کرلیا جائے (آیت) ” ارجہ “۔ یعنی انہیں روکے رکھیے، ٹالے رکھیے۔ یقال ارجأتہ وارجیتہ ای اخرتہ وقال ابن عباس اخرہ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–119
یرید ان۔۔۔۔ ارضکم، فرعون کے درباریوں اور قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ شخص عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھا کر عوام کو اپنی طرف مائل کرکے اور انجام کار ملک میں اثر و رسوخ کے ذریعہ ملک میں اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے، اور بنی اسرائیل کی آزادی اور حمایت کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں ان کے ملک وطن مصر سے بےدخل کرکے خود قابض ہونا چاہتا ہے، ان سب حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے ؟ باہمی مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ فرعون سے یہ درخواست کی جائے کہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون علیہم السلام) کے معاملہ میں جلدی نہ کی جائے، ان کا بہترین توڑ اور مؤثر جواب یوں ہوسکتا ہے کہ پوری ملک…
Read the full tafseer →یاتوک بکل سحر علیم : تاکہ وہ تمہارے پاس بڑے سے بڑے ماہر جادوگر کو لے آئیں۔
عَلِیْمٌسے مراد ہے ماہر جادوگر جو نظر بندی کر کے لوگوں کو لاٹھی کا سانپ اور ہاتھ کی معمولی جلد کو چمکدار شعاع ریز بنا کر دکھاتا ہے اور غیر واقعی چیز کو دیکھنے میں واقعی بنا دیتا ہے اس جگہ اس قول کا قائل سرداروں کو قرار دیا اور سورة الشعراء میں اس قول کی نسبت فرعون کی طرف کی گئی ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ قول برطریق مشورہ سب کا تھا فرعون کا بھی اور سرداروں کا بھی یا فرعون نے شروع میں کہا تھا اور سرداروں نے یہی بات آپس میں مشورہ میں طے کردی اور اپنے ماتحتوں سے بھی کہہ دی۔ یریدون ان یخرجکمیہ چاہتا ہے کہ اے قبطیو ! تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–122
(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔
سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔
وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
قَالُوْٓا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ۔۔ : ”اَرْجِهْ“ یہ ”أَرْجَأَ یُرْجِئُ إِرْجَاءً“ سے امر حاضر کا صیغہ ہے، جو اصل میں ”اَرْجِءْہُ“ تھا، جس کا معنی ”اَخِّرْہُ“ ہے، یعنی ان کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور ان کا معاملہ چند روز تک ملتوی رکھا جائے، اس اثنا میں ملک بھر کے شہروں سے تمام ماہر فن جادوگر جمع کیے جائیں۔ چناچہ فرعون نے ایسا ہی کیا (دیکھیے شعراء : 38) اور موسیٰ ؑ سے تقاضا کرکے مقابلے کا دن یوم الزینہ اور دن چڑھے کا وقت طے کرلیا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (59) یہاں یہ سب محذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیت نمبر : 104۔ تا 112
حقیق علی یعنی مجھ پر واجب ہے۔ اور جنہوں نے علی ان لا پڑھا ہے تو معنی یہ ہوگا حریص علی الاقوال ( وہ اس پر حریص ہے کہ میں نہ کہوں) اور حضرت عبداللہ کی قراءت میں حقیق الا اقول ہے یعنی اس میں علی موجود نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی بمعنی با ہے (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 182) ، یعنی حقیق بالا اقول اور اسی طرح حضرت ابی اور اعمش کی قراءت میں بالا اقول ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : رمیت بالقوس وعلی القوس۔ پس اس بنا پر حقیق بمعنی محقوق ( ثابت شدہ) ہوگا۔ اور آیت : فارسل معی بنی اسراء یل کا معنی ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ ( کیونکہ) وہ انہیں انتہائی مشقت آمیز کاموں میں لگائے رکھتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔
عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی
(2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا…
Read the full tafseer →[ يَاْتُوْكَ : وہ لوگ لے آئیں گے تیرے پاس ] [ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ : ہر ایک جاننے والے جادو گر کو ]
(آیت ۔ 112) یاتوک میں یا تو مضارع مجزوم ہے ، فعل امر ارسل کا جواب امر ہونے کی وجہ سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–116
موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا
جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین
(ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔
اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
110: یہ دیکھ کر قوم فرعون کے درباری امراء اور اہل حل و عقد بول اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا ماہر جادوگر ہے اور تمہیں ملک مصر سے نکال کر اس پر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔ اس پر فرعون نے کہا “ فَمَا ذَا تَامُرُوْنَ ” تو پھر اس کے معاملے میں تمہارا کیا مشورہ ہے۔ “ قَالُوْا اَرْجِهْ ” انہوں نے کہا اس کے معاملے میں آپ جلدی نہ کریں بلکہ اس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دے دیں اور اپنے ملک کے تمام شہروں میں اپنے آدمی بھیج دیں وہ ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے دربار میں لا حاضر کریں تاکہ ان دونوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–119
ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں پہلے پانچ انبیا (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر ہوا۔ پھر سنت اللہ اور اقوام کی ذہنیت کا بیان ہوا یہ صرف ان پانچ انبیاء کی بات نہیں بلکہ دیگر انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا پھر اللہ کا دستور یہ رہا کہ پہلے ان لوگوں پر تنگی ڈال کر انہیں آزمایا اور پھر آسودگی دے کر بھی آزمائش کی۔ اکثر و بیشتر نتیجہ یہی نکلا کہ لوگوں نے انبیاء کو تسلیم نہ کیا اور تباہ ہوئے۔ ان کی ہلاکت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہوچکا ہے ” فانظرکیف کان عاقبۃ المفسدین “ دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ ان انبیاء کے بعد پھر دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →يَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ 112
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40]
( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی " آنا " ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–116
ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔
تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَ آئِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍعَلِیْمٍ ۔
(الاعراف : 111، 112)
” قوم فرعون کے سرداروں نے کہا ابھی اس کو اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھو اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیجو جو تمام ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لائیں “۔
اس آیت کریمہ میں اَرْجِہْ کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ اصل میں اَرْجِئہُ ہے اِرْجَاء کے معنی ٹالنے ‘ کسی معاملے کو کسی دوسرے وقت پر مؤخر کرنے اور کسی کو منتظر بنانے کے ہیں۔ قرآن میں اس کے مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں یہ ہمزہ کے حذف اور ہ کے سکون کے ساتھ آیا ہے۔ تلفظ کا یہ اسلوب اہل عرب کے قاعدے کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–122
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔
سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…
Read the full tafseer →آیت 112: یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ۔ (کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس حاضر کردیں) قراءت : حمزہ و علی نے ساحر کو سحّار پڑھا ہے۔ یعنی وہ تیرے پاس اس جیسے پڑھے لکھے جادو گر لائیں یا اس سے بھی بہتر۔
Read the full tafseer →112(یاتوک بکل سحر علیم) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یہاں اور سورة یونس میں ” سحار “ پڑھا ہے اور سورة شعراء میں سب کا اتفاق ہے کہ ” سحار “ ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ساحر سے مراد وہ جو جادو سکیھا ہو لیکن آگے نہ سکھائے اور ” سحار “ جو آگے سکھائے اور عملاً جادو کرے اور بعض نے کہا سحر وہ شخص جس کا جادو کسی کسی وقت چلے اور سحار جس کا جادو دائمی ہو۔ ابن عباس ؓ ابن اسحاق اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے جب عصا میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھی تو سوچا کہ ہم اس سے اسی وقت غالب ہوسکتے ہیں جب کوئی اس سے زیادہ جادو جاننے والا ہو تو اس نے بنی اسرائیل کے کچھ لڑکے ” غوصائ “ بستی میں اسی وقت غالب ہوسکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
146 فرعون کی بوکھلاہٹ کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ کے ان معجزوں کو دیکھنے کے بعد فرعون نے اپنے سرداروں اور درباریوں سے کہا کہ یقینا یہ شخص ایک بڑا ماہر جادوگر ہے جو اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہاری اس سرزمین سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔ تو تم لوگ مجھے کیا حکم دیتے ہو ؟ اس بات سے فرعون کی بزدلی اور اس کی بوکھلاہٹ ملاحظہ ہو کہ کہاں تو وہ اپنے تئیں رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہاں یہ کیفیت کہ وہ اپنے درباریوں سے کہتا ہے تم کیا حکم دیتے ہو ؟ اور یہ سب خوف اور ڈر اس موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے جو کہ تنہا اور بظاہر بےیارو مددگار تھا۔ سو اس سے اندازہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–126
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
جادو اور معجزہ میں فرق :
جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…
Read the full tafseer →ف 10 چناچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، ( دیکھئے سورة قصص وشعریٰ یہ عبادت کلام میں مخذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
(7:112) یاتوک بکل ساحر علیم۔ کہ وہ لے آئیں تمہارے پاس تمام سرکردہ ماہر جادو گروں کو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
لغات القرآن آیت نمبر (107 تا 112 ) ۔
القی (اس نے ڈالا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ ثعبان ( اژدھا۔ بڑا سا سانپ) ۔ نزع (کھینچا۔ نکالا) ۔ بیضاء (سفید۔ چکمدار ) ۔ ناظرین (دیکھنے والے) ۔ سحر علیم (اچھی طرح جادو جاننے والا۔ ماہر جادو گر) ۔ ان یخرجکم (یہ کہ وہ تمہیں نکال دے) ۔ من ارضکم (تمہاری زمین سے) ۔ فما ذاتامرون (پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ ) ۔ ارجہ (ڈھیل دے اس کو) ۔ اخاہ (اس کے بھائی کو ) ۔ المدائن (شہر۔ بستیاں ) ۔ حشرین (جمع کرنے والے ) ۔ یا توک (آجائیں گے تیرے پاس ) ۔
تشریح : آیات نمبر (107 تا 112 ) ۔ ” اسزمانہ میں ملک مصر میں جادو کا بڑا زور تھا یعنی عام فطرت سے ہٹ کر کوئی نئی حیرت انگیز چیز پیش کردینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–126
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت
مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
[44] جس سے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ نظر آنے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ متعدد مواقع پر ذکر فرمایا ہے کیونکہ اس میں صدہانکات ومعارف پنہاں ہیں ۔
اس میں فرعون اور بنی اسرائیل کی تاریخ ہے آزادی اور حریت کے درس ہیں ، ایمان ویقین کے روح پرور نظارے ہیں معجزات ہیں خوارق ہیں ، بنی اسرائیل کی ذہنیت ہے ، گویا وہ سب کچھ ہے جس کی نسل انسانی کو ضرورت ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ جب مصر میں فرعون نے ظلم و استبداد کا ارتکاب کیا ، اور اسرائیلیوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ، تاکہ انکی رہنمائی کرے ، اور انہیں اس…
Read the full tafseer →112 کہ وہ آپ کے پاس ہر ایک ماہر فن جادوگر کو جمع کرلائیں یعنی یہ جادوگر ہے اس کا مقابلہ جادوگروں سے ہونا چاہئے لہٰذ اپنی قلم رو میں اپنے چپڑاسی بھیج کر اچھے اچھے ماہر فن جادوگروں کو جمع کرا لیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
ف 5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔
Read the full tafseer →ساحرین ملک و قوم کو پیغامات پہنچائے گئے تاکہ مقررہ دن پر جمع ہوجائیں :
123: سحر کیا ہے ؟ نرا دھوکا اور فریب ہے اور ایک وہمی چیز ہے تو پھر ساحر کیا ہوا ؟ دھوکا باز اور فریبی جو اپنی قوت وہمہ سے کام لے کر دوسروں کی قوت وہمہ کو متاثر کر دے اور ایک نہ ہونے والی چیز پر اس کے ہونے کا یقین دلا دے اس طرح کے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں اور آج بھی ہیں جو اپنی دھوکا دہی سے دوسروں کو دھوکا و فریب میں مبتلا کردیتے ہیں ناقدروں اور ناشناسوں نے ہمیشہ اللہ کے پیغمبروں پر ساحر ہونے کا شبہ کیا اور ان کو برملا ساحر کہا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں خصوصاً فرعونی آپ کو جادو گر ہی کے نام سے پکارا کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
These verses narrate the remaining part of the story of the prophet Musa (علیہ السلام) . Seeing these wonders of staves turning into serpents and making his hand emitting strong white light, the Pharaoh should have been convinced and have believed in Musa (علیہ السلام) as the logic and sense demanded. But it is the common practice of the wrong-doers that they always seek false interpretations of the truth in order to conceal it, the Pharaoh and his people belied him instead, and said to the people that he was a great sorcerer and that he wanted to expel them from their homes and take over the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
89. The plan of Pharaoh's courtiers clearly suggests that they knew the difference between mere sorcery and a miracle. They were well aware that miracles are effective and have the capacity to bring about actual transformation whereas sorcery results merely in optic illusion. Hence, they dubbed Moses a sorcerer so as to refute his claim to prophethood. They claimed instead that the transformation of the rod into a serpent was not a miracle; that it was rather a magical performance which could be undertaken by any sorcerer. Therefore, they asked all the sorcerers of the land to come together…
Read the full tafseer →