Explained with ayahs 60–62
نیند موت کی چھوٹی بہن
وفاۃ صغریٰ یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے آیت (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۚثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ) 3۔ آل عمران :55) یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں اور جیسے اس آیت میں ہے آیت (اَللّٰهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
سورة الْاَنْعَام 40
یعنی ایسے فرشتے جو تمہاری ایک ایک جنبش اور ایک ایک بات پر نگاہ رکھتے ہیں اور تمہاری ہر ہر حرکت کا ریکارڈ محفوظ کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
تیسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ایک قوت قاہرہ رکھتا ہے، جب تک اس کو ان کا زندہ رکھنا منظور ہوتا ہے تو حفاظت کرنے والے فرشتے ان کی حفاظت کے لئے بھیج دیتا ہے، کسی کی مجال نہیں جو اس کو نقصان پہنچائے اور جب کسی بندہ کا مقررہ وقت عمر کا پورا ہوجاتا ہے تو یہی حفاظت کرنے والے فرشتے اس کی موت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور اب اس کی موت کے اسباب فراہم کرنے میں ذرا کمی نہیں کرتے، اور پھر مر کر ہی معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ بلکہ ردوا الی اللّٰہ، یعنی دوبارہ زندہ ہو کر پھر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر کئے جائیں گے، اس جگہ احکم الحاکمین کے سامنے پیشی اور عمر…
Read the full tafseer →لفظ قہر کا مفہوم آیت 18 اور تفریط کا مفہوم آیت 38 کے تحت بپا ہوچکا ہے۔ حفظۃً ، حافظ کی جمع ہے جس کے معنی کسی شے کی نگرانی کے ذمہ دار کے ہیں۔ اس سے مراد یہاں وہ خدائی ہرہ دار ہیں جو ہر جان پر خدا کی طرف سے برابر مقرر رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہ خیال کرے کہ خدا اپنی مخلوق کے کسی فرد اور اپنے گلے کی کسی بھیڑ سے کبھی غافل ہوتا ہے، سب ہر وقت اسی کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ برابر اپنے نگران فرشتوں کو ان پر مقرر رکھتا ہے جو ایک پل کے لیے بھی ان کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتے۔ پھر جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو فرمایا“ ہمارے فرستادہ فرشتے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور مجال نہیں ہے کہ وہ اس کام میں کوئی…
Read the full tafseer →61۔ 1 یعنی اپنے اس مفوضہ کام میں اور روح کی حفاظت میں بلکہ وہ فرشتہ، مرنے والا اگر نیک ہوتا ہے تو اس کی روح عِلِّیِّیْنَ میں اور اگر بد ہے تو سِجِّیْنَ میں بھیج دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
23: نگہبان فرشتوں سے مراد وہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے ہیں اور وہ بھی جو ہر انسان کی جسمانی حفاظت پر مقرر ہیں۔ اور جن کا ذکر سورة رعد (11: 13) میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(آیت) ” نمبر 61 تا 62۔
(آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (6 : 61) ” اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے ۔ “ یعنی وہ صاحب قوت بادشاہ ہے اور تمام انسان اس کی ایسی رعایا ہیں جو اس کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اس بادشاہ کی حقیقی قوت اور لوگوں کی قوت کی درمیان کوئی نسبت نہیں ہے ۔ اس کے بالمقابل نہ صرف یہ کہ ان کی کوئی قوت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے سب پوری طرح اس کے غلام ہیں اور پوری طرح اس کے تابع اور زیر قبضہ ہیں ۔
یہ ہے انسان کی جانب سے ایک قاہر اور مکمل طور پر حاوی خدا کی مکمل غلامی اور یہی وہ حقیقی تصور ہے جو لوگوں کی عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے چاہے اللہ…
Read the full tafseer →9 یعنی وہ فرشتے جو تمہاری اور تمہارے اعمال کی نگہداشت کرتے ہیں۔
10 یعنی جو فرشتے روح قبض کرنے کیلئے بھیجے جاتے ہیں۔
11 یعنی جس وقت اور جس طرح جان نکالنے کا حکم ہوتا ہے اس میں وہ کسی طرح کی رعایت یا کوتاہی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →آیت 61 وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط۔
اللہ تعالیٰ کی مشیت سے انسان کو اپنی اجل معیّن تک بہر صورت زندہ رہنا ہے ‘ اس لیے ہر انسان کے ساتھ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے اس کے باڈی گارڈز کی حیثیت سے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ چناچہ کبھی انسان کو ایسا حادثہ بھی پیش آتا ہے جب زندہ بچ جانے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہوتا ‘ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ہاتھ دے کر اسے بچایا لیاہو۔ بہر حال جب تک انسان کی موت کا وقت نہیں آتا ‘ یہ محافظ اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔
حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُوْنَ
اب یہاں پھر لفظ…
Read the full tafseer →66 سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تم میں دن اور رات کے فرشتے ایک دوسرے کے بعد باری باری آتے رہتے ہیں۔ عصر اور فجر کی نماز کے وقت وہ جمع ہوجاتے ہیں پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے پاس رہے تھے اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ حالانکہ وہ تم سے خوب واقف ہوتا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں ہم نے جب انہیں چھوڑا وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ اور جب انکے پاس گئے تو بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری۔ کتاب مواقیت الصلٰوۃ۔ باب فضل صلٰوۃ العصر۔ بخاری کتاب التوحید۔ باب قول اللہ تعرج الملئکۃ والروح الیہ )
خ حفاظت کرنے والے اور اعمال لکھنے والے فرشتے :۔ اس حدیث میں…
Read the full tafseer →93 ۔ یہ فرشتے اعمال کی کتابت کے لیے بھی ہوتے ہیں اور جان کی حفاظت کے لیے بھی (آیت) ” حفظۃ “ میں دونوں مفہوم آگئے۔ گوحفظ و کتابت اعمال کا پہلو ظاہر تر ہے۔ اتفقوا علی ان المقصود من حضور ھولاء الحفظۃ ضبط الاعمال (کبیر) ای ملائکۃ حافظین لاعمالکم (کشاف) عن قتادۃ یحفظون العمل والرزق والاجل (روح) ارسال الملئکۃ بما حملوا من الحفظ الذی امروابہ (قرطبی) (آیت) ” ھو القاھر فوق عبادہ “۔ اس کا غلبہ اپنے بندوں پر اس کے علم و حکمت وقدرت کے لحاظ سے نہ کہ سمت ومکان کی بلندی کے اعتبار سے۔ لایجوزان یکون المراد من ھذہ الایۃ الفوقیۃ بالمکان والجھۃ بل یجب ان یکون منھا الفوقیۃ بالقھر والقدرۃ (کبیر) یعنی فوقیۃ المکانۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور تم پر نگران فرشتے بھیجتا ہے جو تمہارے اعمال کا حساب رکھتے ہیں، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے جو روح قبض کرنے پر متعین ہوتے ہیں اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور ایک قراءت میں توفَّاہ ہے جس کام کا ان کو حکم دیا جاتا ہے وہ اس میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے، پھر مخلوق کو اپنے مالک برحق کی طرف لایا جائیگا جو کہ باقی رہنے والا عادل ہے، تاکہ ان کو جزاء دے، خوب سن لو ان میں اسی کا فیصلہ نافذ ہے اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے اور پوری مخلوق کا حدیث کی رو سے دنیوی دنوں کے اعتبار سے نصف دن سے حساب…
Read the full tafseer →وہو القاہر فوق عبادہ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے۔ فوقیت سے مراد ہے غلبہ اور برتری۔
قاہر اس غالب کو کہتے ہیں جس کا مقابلہ ممکن نہ ہو۔
ویرسل علیکم حفظۃ حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وہم لا یفرطون : اور وہی تم پر نگرانی کرنے والے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور (اپنے فرض کی ادائیگی میں) وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ حفظہ سے مراد ہیں نام ہائے اعمال میں اعمال کا اندراج کرنے والے اور لکھنے والے تاکہ قیامت کے دن ان اعمال ناموں کو کھولا جائے اور نافرمان و فرماں بردار کا سب کے سامنے ظہور ہوجائے۔
حَتّٰیسے ارسال حفظہ کی غرض ظاہر کی…
Read the full tafseer →(61) وہی اپنے بندوں پر غالب ہیں اور وہ ہر ایک شخص کے لیے دو فرشتے رات کو اور دو دن کو تمہاری نیکیاں اور برائیاں لکھنے کے لیے بھیجتے ہیں، جب موت کا وقت آئے گا تو ملک الموت اور اس کے ساتھی تمہاری روح قبض کرلیں گے اور وہ آنکھ جھپکنے کے بقدر بھی دیر نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ : ”َهُوَ“ اس جملے میں مبتدا ہے، ”الْقَاهِرُ“ خبر پر الف لام آنے کی وجہ سے ترجمہ ”وہی“ کیا ہے۔ ”الْقَاهِرُ“ کے معنی غالب ہیں اور یہ ”اَلْقَادِرُ“ سے زائد صفت ہے، یعنی خود قادر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو مراد حاصل کرنے سے روک دینے والا بھی ہے۔ (بغوی) اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت یہ ہے کہ وہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، پھر وجود پر فنا اور خرابی طاری کرتا رہتا ہے، تو کائنات میں جس قدر بھی پیدا کرنے اور فنا کرنے کا کام ہو رہا ہے سب اللہ تعالیٰ کی قہاریت کا مظہر ہے۔ سورة آل عمران کی آیات (26، 27) اس صفت کی پوری تشریح کر رہی ہیں۔
وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً ۭ:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
آیت نمبر 61، 62
قولہ تعالیٰ : (آیت) وھو القاھر فوق عبادہ یعنی وہی عظمت اور رتبہ میں فوقیت رکھتا ہے (اس میں) مکان اور جہت کے اعتبار سے فوقیت مراد نہیں ہے، جیسا کہ اس کا بیان سورت کی ابتدا میں گزر چکا ہے۔
ویرسل علیکم حفظۃ یعنی ملائکہ میں سے نگہبان تم پر بھیجتا ہے۔ ارسال کا حقیقی معنی اطلاق الشیء بما حمل من الرسالۃ ہے ( یعنی کسی شی کو اس کے ساتھ چھوڑنا ہے جو وہ پیغام وغیرہ میں سے اٹھائے ہوئے ہو) پس مقصود ملائکہ کو اس حفاظت اور نگہبانی کی ذمہ داری کے ساتھ بھیجنا ہے جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے : وان علیکم لحفظین (انفطار) یعنی ملائکہ بندوں کے اعمال کی نگہبانی کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت علیکم حفظۃ کے بارے میں فرمایا کہ وہ پیچھے آنے والے فرشتے ہیں جو بندے اور اس کے ہر عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ویرسل علیکم حفظۃ کے بارے میں فرمایا اے ابن آدم اپنے عمل اپنے رزق اور اپنی مدت کی حفاظت تجھ پر لازم ہے۔ کیونکہ جب یہ ختم ہوجائے گی تو تجھے اپنے رب کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت…
Read the full tafseer →وَهُوَ [ اور وہ ہی ] الْقَاهِرُ [ غالب ] فَوْقَ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں پر ] وَيُرْسِلُ [ اور وہ بھیجتا ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] حَفَظَةً ۭ [ ایک نگہبان ] حَتّٰٓي اِذَا [ یہاں تک کہ جب ] جَاۗءَ [ آتی ہے ] اَحَدَكُمُ [ تمہارے کسی ایک کو ] الْمَوْتُ [ موت ] تَوَفَّتْهُ [ تو پورا پورا لے لیتے ہیں اس کو ] رُسُلُنَا [ ہمارے رسول (یعنی فرشتے) ] وَهُمْ [ اور وہ ] لَا يُفَرِّطُوْنَ [ کوتاہی نہیں کرتے ]
ک ر ب : (ن) کر با ۔ سخت غمگین ہونا ۔ کرب شدید رنج ، سخت تکلیف ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 64 ۔
ش ی عـ: (ض) شیعا ۔ کسی خبر ، عقیدہ یا نظریہ کا پھیلنا اور زورپکڑنا ۔ (1) پھیلنا ، (2) تقویت حاصل کرنا ۔…
Read the full tafseer →اللہ غالب ہے وہ نگرانی کرنے والے فرشتوں کو بھیجتا ہے اور ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے اسے کوئی عاجز نہیں کرسکتا وہ اپنے بندوں کے بارے میں جو کچھ ارادہ فرمائے اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔
پھر فرمایا (وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ) اور وہ تم پر اپنے نگران بھیجتا ہے۔ اس سے اعمال لکھنے والے فرشتے مراد ہیں جیسا کہ سورة الانفطار میں فرمایا (وَ اِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ) (اور تمہارے اوپر نگران ہیں جو عزت والے کاتب ہیں وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو) بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے کاتبین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت
قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔
گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
68 یہ تخویف دنیوی ہے تَوَفَّتہُ رُسُلُنَا سے اہل بدعت اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ایک فرشتہ عزرائیل ایک وقت میں ہزاروں جگہ حاضر و ناظر ہو کر ہزاروں انسانوں کی جانیں قبض کرلیتا ہے تو کیا آنحضرت ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوسکتے۔ اس آیت سے ان کا اعتراض باطل ہوگیا کیونکہ یہاں رُسُلُنَا جمع کے صیغہ سے معلوم ہوا کہ قبض ارواح پر صرف ایک فرشتہ ہی مقرر نہیں بلکہ اس کے ماتحت ہزاروں لاکھوں فرشتے ہیں جو اس کام پر مقرر ہیں ان کو ملائکۃ الموت یا ملک الموت (بارادہ اسم جنس) کہتے ہیں اس لیے صرف ایک فرشتہ ہی تمام انسانوں کی جانیں نہیں قبض کرتا بلکہ وہ تو صرف حکم خداوندی کے ماتحت اپنے ماتحتوں کو حکم دیتا ہے لہذا اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا ذکر تھا جو الوہیت کی صفت خاصہ ہے اور ساتھ ساتھ قدرت تامہ کا بھی ذکر تھا۔ اب ان آیات میں بھی اللہ کی قدرت تامہ ہی کا بیان ہے اور اس سے اگلی آیات بھی ایسی ہی ہیں۔ علم محیط اور قدرت تامہ دونوں صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں ‘ لہٰذا غیروں کی پرستش کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ مشرکین کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دیکھو ! عبادت کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو قدرت تامہ کا مالک ہو اور جس کا علم ہر چیز پر محیط ہو ‘ امداد فوق الاسباب بھی وہی کرسکتا ہے ‘ لہٰذا مصیبت کے وقت دوسروں کو پکارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان…
Read the full tafseer →وَہُوَالْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَۃً 0ۭ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ 61
قهر
القَهْرُ : الغلبة والتّذلیل معا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقال : وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ
[ الرعد/ 16] ، فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ، فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلا تَقْهَرْ
[ الضحی/ 9] أي : لا تذلل، وأَقْهَرَهُ : سلّط عليه من يقهره، والْقَهْقَرَى: المشي إلى خلف .
( ق ھ ر ) القھر ۔
کے معنی کسی پر غلبہ پاکر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور ان دنوں ( یعنی غلبہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ترکیب : ویرسل ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو اور یہ بھی کہ یتوفّٰکم پر معطوف ہو۔ مولٰہم الحق دونوں اللہ کی صفت ہیں۔ الحکم مبتدا لہ خبر مقدم وھو اسرع الخ جملہ لہ ضمیر سے حال بھی ہوسکتا ہے اور معطوف بھی جملہ مقدمہ پر۔
تفسیر : اس جگہ اور دوسری طرح سے اپنی قدرت اور حساب و حشر کا برحق ہونا بھی انسان کی حالت اندرونی و بیرونی سے ثابت کرتا ہے تاکہ اس بےصبرے انسان کو جو بن دیکھے خدا پر اور بن دیکھے مرنے کے بعد کے حالات پر تردد کرتا ہے یقین ہوجاوے۔ (1) وھوا لقاھر فوق عبادہ کہ اس کا اپنے بندں پر قبضہ و اقتدار ہے۔ جب انسان اپنی ابتدائِ آفرنیش کو دیکھتا ہے کہ ایک پانی کا قطرہ تھا۔ پھر رحم میں اس کے ہاتھ پائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط حَتّٰٓی اِذَا جَآئَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَ ھُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ ۔ ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَی اللہِ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ ط اَلَا لَہٗ الْحُکْمُ قف وَھُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ ۔ (الانعام : 61۔ 62)
(اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ تم پر اپنے نگران مقرر رکھتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچتا ہے تو ہمارے فرستادے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ اس کام میں کوتاہی نہیں کرتے ‘ پھر وہ سب اپنے مولائے حقیقی ‘ اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ خبردار کہ فیصلے کا سارا اختیار اسی کے ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح نیند اور بیداری پر اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح ہی انسان کی موت کے بعد اسے زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں حاضر کرنے پر قوت و اختیار رکھتا ہے۔ وہ بندوں پر مکمل اختیار رکھنے کے باوجود ہدایت کے بارے میں جبر اختیار نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ اپنی ذات، قدرت، علم، حکمت اور ہر لحاظ سے اپنے بندوں پر قادر اور قاہر ہے۔ وہی ہر چیز کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور ایک مدت معینہ کے بعد اس کے وجود کو ناپید کردیتا ہے۔ پھر قیامت کے دن ہر چیز کو وجود میں لائے گا۔ وہ ظلمت پر روشنی کو اور روشنی پر ظلمت کو غالب کرتا ہے۔ وہی ہر نعمت دینے والا ہے۔ اور جب چاہتا ہے اسے واپس لے لیتا ہے۔ زمین…
Read the full tafseer →صحائف کا لکھنا برائی سے بچنے میں معاون ہے :
آیت 61 : وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً محافظ فرشتے جو تمہارے اعمال کی نگرانی کرتے ہیں۔ وہ کراماً کاتبین ہیں۔ تاکہ برائی سے بچنے کے لیے یہ چیز زیادہ معاون بنے۔ جب وہ اس بات کو سوچیں۔ کہ ان کے صحائف تمام انسانوں کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حَتّٰی حفظ اعمال کی غایت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ یعنی فرشتوں کی یہ عادت مکلفین کے ساتھ پوری زندگی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ موت ان پر آ کر طاری ہوجاتی ہے۔ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں۔ اور وہ ملک الموت اور اس کے معاون ہیں۔…
Read the full tafseer →تفسیر :-(61) (وھو القاھر فوق عبادہ ویرسل علیکم حفظۃ) یعنی وہ فرشتے جو بنی آدم کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ حافظ کی جمع ہے اس کی نظیر (وان علیکم لحافظین کراماً اکتبین) ہے (حتی اذا جآء احد کم الموت توقتہ) حمزہ نے ” توفاہ “ پڑھا ہے (رسلنا) یعنی ملک الموت کی مددگار فرشتے اس کو قبض کر کے ملک الموت کو دیتے ہیں وہ اس کی روح نکال لیتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ملک الموت کی مددگار اس کے حکم سے خود روح قبض کرلیتے ہیں اور بعض نے کہا کہ آیت میں ” رسل “ سے ملک الموت مراد ہے ایک کے لئے جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے اور یہ بات احادیث میں آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کے سامنے دنیا کو چھوٹے سے دستر خوان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(60 ۔ 64) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہر انسان کے سونے اور جاگنے کا ذکر فرمایا ہے اور پھر مرنے اور پھر مر کر جینے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ روز کے سونے اور جاگنے سے ہر عقلمند آدمی مرنے اور مر کر جینے کا قیاس کرلے کیونکہ غور کیا جاوے تو روز کا سونا چھوٹی موت سو کر پھر جاگنا روز کا ایک چھوٹا حشر ہے کس لیے کہ جس طرح موت کے بعد آدمی کے مثلا کان آنکھیں بیکار ہوجاتے ہیں وہی حال آدمی کا سونے میں ہوجاتا ہے ہے پھر جس طرح جاگنے کے بعد آدمی کے حواس قائم ہوجاتے ہیں وہی حالت اس کی حشر میں ہوگی تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہر سوتے آدمی پر اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
آیت 60
یہ آیت کریمہ تمام تر توحید الوہیت کے تحقق، مشرکین کے خلاف دلائل اور اس بیان پر مشتمل ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی محبت، تعظیم، اجلال اور اکرا مکا مستحق ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی، ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انہیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہوجاتا ہے اور ان یک بدن آرام کرتے ہیں، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان میں اسیطرح تصرف کرتا…
Read the full tafseer →107 اللہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے : پس کوئی اس کی قدرت و مشیت اور اس کی گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتا۔ اور وہ زمان و مکان کی حدود سے پاک اور رفعت شان اور بلندی مقام کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس نے اپنی قدرت و عنایت سے ان پر ایسے فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو ان کی نگرانی کرتے اور ان کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ تیار کرتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر ارشاد فرمایا گیا۔ اور ان کا تیار کردہ یہ ریکارڈ کل آخرت کے اس یوم حساب میں سب کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَخْرَجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَِامَۃِ کِتَابًا یَُّلْقَاہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
غیب کی چابیاں اور انسانی زندگی کا نقشہ
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی، طاقت اور قادر مطلق ہونے کا بیان ہے یہ آیات اسی قدرت رکھنے والے بادشاہوں کے بادشاہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی زبانی ہم انسانوں کو بتائی گئی ہیں۔ وہ اتنا عظیم اور بڑا ہے کہ کوئی انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ زمین اور آسمانوں کو اس نے بنایا، ان کے تمام راز وہی جانتا ہے۔ عالم، فاضل سائنسدان ہر وقت تحقیق اور جستجو میں لگے رہتے ہیں کہ زمین، سمندر، ہوائوں اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے ان سب چیزوں کا پتا لگا لیں لیکن وہ ابھی تک کچھ تھوڑا بہت ہی جان سکے ہیں۔ مگر اللہ کا علم اتنا زیادہ ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔
اسرار و معارف :
نگراں فرشتے :
اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…
Read the full tafseer →ف 1 اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے جیسا کہ قرآن کی متعد آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے تاہم اللہ تعالیٰ کی قاھر فق عبادہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے بندوں پر کامل غلبہ اور اقتدار رکھت ہے جنانچہ امام رازی لکھتے ہیں کہ یہاں فوقیتہ سے مراد قہر و قدرۃ ہے نہ کہ فوقیت بمعنی الجھتہ کیوں کہ مکان کی بلندی قہر اور غلبہ کو مستلز م نہیں ہے بغوی لکھتے ہیں کہ : القاھر الغالب وفی القھر زیادۃ معنی القدرۃ وھو منع غیرہ عن بلوغ المررام المراد ( معالم) یعنی قاہر کے معنی لکھتے ہیں کہ یہاں فوقیتہ سے مراد قہر وقدرت ہے یعنی خود قادر ہونے کے لیے ساتھ دوسرے کو مراد حاصل کرنے سے روک دینے والا۔ اللہ…
Read the full tafseer →(6:61) حفظۃ۔ حافظ کی جمع۔ نگہبان۔ حفاظت کرنے والے۔
توفتہ رسلنا۔ (فرشتوں کی جماعت) اس کو اٹھا لیتی ہے۔ اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں۔
لا یفرطون۔ وہ (اس میں) کوتاہی نہیں کرتے ۔ یعنی اللہ کے فرستادے اس کے حکم کی بجاآوری میں کوتاہی نہیں کرتے۔ ملاحظہ ہو 6:31 ۔ 6:38
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 62 :
حفظۃ ( نگہبان۔ نگراں) ‘ لایفرطون ( وہ کمی نہیں کرتے ہیں) ردوا ( وہ لوٹائے گئے) ‘ اسرع ( وہ جلدی کرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 62 :
کوئی اللہ کی گرفت سے چھوٹ کر بھاگ نہیں سکتا۔ نہ آج نہ کل۔ نہ موجودہ زندگی میں آئندہ زندگی میں۔ جب تک اللہ کا حکم ہے فرشتے انسانی جان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ اور جس جان کی وہ حفاظت کرتے رہے تھے دوسرا حکم الٰہی آتے ہی اسے نکا لنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ اور کام یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ یہی فرشتے قیامت کے دن اسے گھیر کر لائیں گے اور سزا و جزا کے لئے مالک حقیقی کے پاس حاضر کردیں گے۔
فرمایا ” مولھم الحق “۔ مولیٰ کا لفظ قدرت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر
اس آیت میں مر کر جینے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ روز کے سونے اور جاگنے سے ہر عقلمند آدمی مرنے اور مر کر جینے کو قیاس کرلے، کیونکہ غور کیا جاوے تو روز کا سونا چھوٹی موت اور سو کر پھر جاگنا روز کا ایک چھوٹا حشر ہے۔ کس لئے کہ جس طرح موت کے بعد آدمی کے مثلا کان، آنکھیں بیکار ہوجاتی ہیں وہی حال آدمی کا سونے میں ہوجاتا ہے۔ پھر جس طرح جاگنے کے بعد آدمی کے حواس قائم ہوجاتے ہیں وہی حالت اس کی حشر میں ہوگی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :'' ہر سوتے آدمی پر اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جو سانس کی آمد و رفت کی خبر رکھتا ہے اور اگر اسی نیند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
[24] یعنی طعن و استہزا کرنے والوں کے اعمال کی ذمہ داری پرہیزگاروں پر نہیں۔ اس کا حساب انہیں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(ف 1) یعنی موت اور نیند میں صرف بیداری کا امتیاز ہے ، خدا چاہے تو انسان کو بستر ہی پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلا دے ، یہ اس کا کرم اور نوازش ہے کہ ہمیں زندگی کی دوبارہ مہلت دیتا ہے ، تاکہ دنیا کی تگ ودو میں حصہ لے سکیں ،
مگر یہ انتباہ ہے ، تاکہ انسان کبھی عیش چند روزہ پر مغرور نہ ہوجائے ،
Read the full tafseer →-61 اور وہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہر اعتبار سے پوری طرح غالب ہے اور وہ تمہاری نگہداشت کرنے کو تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے وہ فرشتے جو اس کام کے لئے مقرر ہیں اس شخص کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے یعنی روح قبض کرنے کے متعلق ان کو جو حکم ہوتا ہے اس کی بجا آوری میں ان سے کوتاہی سر زد نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →ف 7۔ غرض مدت نہیں لگتی۔
Read the full tafseer →وہ اپنے بندوں پر اپنے علم ، حکمت اور قدرت کے لحاظ سے غالب ہے :
96: ” وَ ہُوَ الْقَاہِرُ “ وہ قبضہ قدرت میں رکھنے والا ہے ، زبردست ہے ، تسلط میں رکھنے والا۔ قاہر اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے جو دوسری بار اس سورة میں آرہی ہے اس سے قبل آیت 18 میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ خیال رہے کہ قاہر کا لفظ عر بی زبان میں ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتا جن معنوں میں اردو میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے معنی اختیار اور قابو میں رکھنے کے ہیں۔ اس سے لفظ ” قہار “ ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں کہ وہ تمام جہانوں اور تمام بندوں کو اپنے قابو میں رکھنے والا ہے اور سب کچھ اس کی مٹھی ہے۔ کوئی چیز اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
In the third verse, this subject has been further enlarged by saying that Allah Ta` ala has absolute subduing power over all His servants. As long as He wills to have them living, He assigns angels to protect them as a result of which no one dares harm them. And when one has reached the appointed limit of one's age, these very guardian angels become the agents of one's death without ever falling short in providing the relevant causes leading to one's death. Then, death is not all, for the matter is still not closed. Instead of that, there is the next phase, that of: رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ ;…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
40. The angels who keep watch and maintain a record of everything, i.e. all their movements, deeds and so on.
Read the full tafseer →