Explained with ayahs 26–27
حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی فضیلت
حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ حضرت نوح کے بعد سے لے کر حضرت ابراہیم تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ ہی کی نسل سے آئے اور پھر حضرت ابراہیم ؑ کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ ہی کی نسل سے ہوئے جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ 26) 57۔ الحدید :26) یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے حضرت محمد ﷺ کی خوش خبری سنائی۔ پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 51
اصل الفاظ ہیں رافت اور رحمت۔ یہ دونوں لفظ قریب قریب ہم معنی ہیں مگر جب یہ ایک ساتھ بولے جاتے ہیں تو رافت سے مراد وہ رقیق القلبی ہوتی ہے جو کسی کو تکلیف و مصیبت میں دیکھ کر ایک شخص کے دل میں پیدا ہو۔ اور زحمت سے مراد وہ جذبہ ہوتا ہے جس کے تحت وہ اس کی مدد کی کوشش کرے۔ حضرت عیسیٰ ؑ چونکہ نہایت رقیق القلب اور خلق خدا کے لیے رحیم و شفیق تھے۔ اس لیے ان کی سیرت کا یہ اثر ان کے پیروؤں میں سرایت کر گیا کہ وہ اللہ کے بندوں پر ترس کھاتے تھے اور ہمدردی کے ساتھ ان کی خدمت کرتے تھے۔
سورة الْحَدِیْد 52
اس کا تلفظ رَہْبانیت بھی کیا جاتا ہے اور رہبانیت بھی۔ اس کا مادہ رہب ہے جس کے معنی خوف…
Read the full tafseer →ان کے خصوصی ذکر کے بعد پورے سلسلہ انبیاء کو ایک مختصر جملے میں بیان فرمایا (آیت) ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا، آخر میں خصوصیت کے ساتھ آخر انبیاء بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر کر کے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اور آپ کی شریعت کا ذکر فرمایا گیا حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے ان کے حواریین کی خاص صفت یہ بتلائی گئی (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ۭ وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا) یعنی جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ ؑ یا انجیل کا اتباع کیا ہم نے ان کے دلوں میں رافت اور رحمت پیدا کردی، یعنی یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے پر مہربان و رحیم ہیں، یا پوری خلق…
Read the full tafseer →(ثم فقفینا علی اثارھم یرسلنا وقفینا بعیسی ابن مریم واتینہ الانجیل وجعلنا فی قلوب الدین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ ورھبا نیۃ ابتد عوھا ماکتبنھا علیھم الا ابتخاء رضوان اللہ فما رعوھا حق رعایتھا فاتینا الذین امنوا منھم اجرھم و کثیر منھم فسقون) (27)۔
(اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب تمام انبیاء کا طریقہ وہی رہا ہے جو اوپر بیان ہوا تو دین میں رہبانیت کی بدعت اور جہاد کو خلاف دینداری قرار دینے کی ضلالت کہاں سے اور کس طرح گھسی ؟ فرمایا کہ نوح ؑ اور ابراہیم ؑ کے بعد جتنے نبی بھی ہم نے بھیجے انہی کے نقش قدم پر بھیجے یعنی سب نے لوگوں کو نقطہ عدل پر استوار ہونے کی دعوت دی اور اگر ضرورت داعی ہوئی تو انہوں نے قیام قسط…
Read the full tafseer →27-1رَأْفَةً ، کے معنی نرمی اور رحمت کے معنی شفقت کے ہیں۔ پیروکاروں سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کے حواری ہیں، یعنی ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کر دئیے۔ جیسے صحابہ کرام ؓ اجمعین ایک دوسرے کے لیے رحیم و شفیق تھے۔ رحماء بینہم۔ یہود، آپس میں اس طرح ایک دوسرے کی ہمدر اور غم خوار نہیں، جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکار تھے۔
27-2رَهْبَانِيَّةً رھب (خوف) سے ہے یا رھبان (درویش) کی طرف منسوب ہے اس صورت میں رے پر پیش رہے گا، یا اسے رہبنہ کی طرف منسوب مانا جائے تو اس صورت میں رے پر زبر ہوگا۔ رہبانیت کا مفہوم ترک دنیا ہے یعنی دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحرا میں جاکر…
Read the full tafseer →23: یوں تو شفقت اور رحم دلی سارے ہی انبیائے کرام کی تعلیمات میں شامل رہی ہے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات میں اس پر بہت زیادہ زور دیا گیا تھا، اور بظاہر ان کی شریعت میں جہاد اور قتال کے احکام بھی نہیں تھے، اس لیے ان کے متبعین میں شفقت و رحمت ہی کا پہلو بہت نمایاں تھا۔
24: رہبانیت کا مطلب ہے دنیا کی لذتوں سے الگ رہنا، حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے کافی عرصے بعد عیسائیوں نے ایک خانقاہی نظام ایسا بنایا تھا کہ جو لوگ اس میں داخل ہوجاتے، وہ دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے، نہ شادی کرتے تھے، نہ دنیا کی کسی لذت میں حصہ لیتے تھے، ان کے اس خانقاہی نظام کو رہبانیت کہا جاتا ہے، اس کی ابتداء اس طرح…
Read the full tafseer →اور اس طویل تاریخ کی آخری کڑی نبوت محمدی سے پہلے یہ رہی۔
ثم قفینا ................ ابن مریم (75 : 72) ” اس کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث کیا “۔ یعنی نوح اور ابراہیم کی اولاد میں پے درپے رسول بھیجے اور ان میں سے آخری کڑی عیسیٰ ابن مریم کی تھی۔ یہاں حضرت عیسیٰ کے پیروکاروں کی ممتاز صفت بھی بیان کردی جاتی ہے۔
وجعلنا .................... ورحمة (75 : 72) ” اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ “ یہ ترس اور رحم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ آپ نے لوگوں کی روحانی تربیت پر زور دیا۔ اور…
Read the full tafseer →7 یعنی پچھلے رسول ان ہی پہلوں کے نقش قدم پر تھے اصولی حیثیت سے سب کی تعلیم ایک تھی۔
8 یعنی آخر میں انبیائے بنی اسرائیل کے خاتم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دے کر بھیجا۔
9 یعنی حضرت مسیح کے ساتھ جو واقعی ان کے طریقہ پر چلنے والے تھے ان کے دلوں میں اللہ نے نرمی رکھی تھی۔ وہ خلق خدا کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے تھے۔
10 یعنی آگے چل کر حضرت مسیح کے متبعین نے بےدین بادشاہوں سے تنگ ہو کر اور دنیا کے مخمصوں سے گھبرا کر ایک بدعت رہبانیت کی نکالی، جس کا حکم اللہ کی طرف سے نہیں دیا گیا تھا۔ مگر نیت ان کی یہ ہی تھی کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔…
Read the full tafseer →آیت 27{ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَـیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ } ”پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول علیہ السلام اور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی“
آیت 26 اور 27 میں حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء و رسل - کا ذکر تمہید کے طور پر آیا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے اصل میں یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرنا مقصود ہے جن کے پیروکاروں نے رہبانیت کی ابتدا کی تھی۔
{ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَــۃً وَّرَحْمَۃً } ”اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی…
Read the full tafseer →45 رأفۃ کا لغوی مفہوم :۔ رأفۃ کا معنی ہے کسی کو تکلیف میں دیکھ کر دل پسیج جانا، دل بھر آنا۔ رقیق القلب ہونا، رقت طاری ہوجانا اور رحمت کے معنی اس تکلیف کو دور کرنے میں مدد کرنا۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ خود رقیق القلب اور نرم دل تھے۔ ساری عمر نرم برتاؤ اور ایک دوسرے سے پیار و محبت سے رہنے کا سبق دیتے رہے لہذا آپ کی امت یعنی نصاریٰ میں بھی دو صفات سرایت کرگئی تھیں۔
46 رھبانیت کا مفہوم :۔ رَھْبَانِیّۃَ ۔ راھب ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں اضطراب اور احتیاط بھی شامل ہو۔ (ضد رغب) اور یہ خوف وقتی اور عارضی قسم کا نہ ہو بلکہ طویل اور مسلسل ہو۔ اور رہبانیت یا رہبانیت بمعنی مسلک خوف زدگی۔ یعنی…
Read the full tafseer →44۔ (جو سلسلہ انبیاء اسرائیل کے خامت ہوئے ہیں اور ان کے اور خاتم النبین ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں بجز یحییٰ (علیہ السلام) کے جو عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کے معاصر بھی تھے)
45۔ یہ دعوی تو مسلمانوں کا ہے کہ قرآن کی طرح انجیل نامی بھی ایک کتاب آسمانی نازل ہوچکی ہے، لیکن موجودہ مسیحیت صدیوں سے اس دعوے سے کلیۃ دستبردار ہوچکی ہے وہ تو اس کی قائل ہے کہ مسیح (علیہ السلام) سرے سے کوئی پیامبر ہی نہ تھے جو کسی اور کا پیام یا کسی کی طرف سے کتاب لے آتے وہ تو خود (نعوذ باللہ) مظہر ذات باری تھے۔ اور ان کی زبانی بعض بشارتیں سن کر اور ان کے معجزات وخوارق دیکھ کر بعض لوگوں نے زبانی یا تحریرا دوسروں تک پہنچا…
Read the full tafseer →ترجمہ : بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہم السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی ذریت میں نبوت اور کتاب جاری رکھی یعنی چاروں کتابیں، تورات، انجیل اور زبور اور قرآن، یہ سب ابراہمی (علیہ السلام) کی ذریت میں ہیں ان میں سے کچھ تو، راہ یافتہ ہوئے اور ان میں اکثر نافرمان رہے پھر بھی ان کے پیچھے پے در پے ہم رسولوں کو بھیجتے رہے اور ان کے پیچھے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت و رحمت پیدا کی اور رہبانیت، وہ عورتوں کو تزک کردینا ہے او خلوت خانے بنانا ہے تو انہوں نے از خود ایجاد کرلی ہم نے اسے ان پر واجب نہیں کیا تھا یعنی…
Read the full tafseer →پھر ان کے بعد اور رسولوں کو (جو مستقل شریعت والے نہیں تھے) یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی۔
عَلآی اٰثَارِھِمْ : یعنی نوح اور ابراہیم اور ان کی امتوں کے پیچھے۔ ذریت کی طرف آثارھم کی ضمیر راجع نہیں ہوسکتی کیونکہ پیچھے آنے والے پیغمبر بھی نوح و ابراہیم (علیہما السلام) کی ذریت ہی سے تھے۔
وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ : یعنی رسول اللہ ﷺ کے علاوہ باقی تمام پیغمبروں کے پیچھے حضرت عیسیٰ کو بھیجا۔ آپ تمام انبیائے بنی اسرائیل کے بعد آئے ‘ آپ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک پیغمبروں کا سلسلہ منقطع رہا۔
. ” اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا ان کے…
Read the full tafseer →اور نوح کے ایک ہزار دو سوبیالیس سال بعد ابراہیم کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی کہ ان میں انبیاء ہوتے رہے اور کتاب نازل ہوتی رہی، نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں میں کچھ تو کتاب اور رسول پر ایمان لے آئے اور بہت سے کافر تھے۔
اور پھر حضرت نوح اور ابراہیم کے بعد ان کی اولاد میں اور رسولوں کو یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور پھر ان تمام رسولوں کے بعد رسول اکرم سے پہلے عیسیٰ کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی اور جن لوگوں نے عیسیٰ کی پیروی کی تھی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت و رحم پیدا کردیا کہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے رہتے ہیں۔
اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد…
Read the full tafseer →1۔ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا :”قفینا“ ”قفا“ سے مشق ہے ، جس کا معنی گدی (گردن کا پچھلا حصہ) ہے۔ ”اثار“ ”اثر“ کی جمع ہے۔ نشان قدم۔ مراد یہ ہے کہ پہلے رسولوں کے بعد دوسرے رسول اس طرح بھیجے جس طرح ایک گردن کے پیچھے دوسرا اس کے نشان قدم پر چلتا ہوا آرہا ہو۔ سب کی تعلیم ایک تھی اور سب ایک ہی راستے کے مسافر تھے۔
2۔ وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ : عیسیٰ ؑ کا الگ خاص طور پر ذکر فرمایا ، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے پہلے سب سے آخر میں وہی تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجیل عطاء فرمائی ، جس میں تورات پر عمل کی تاکید کی تھی اور اسکے بعض سخت احکام میں…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: ضمیر سے مراد ذریۃ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں مراد حضرت موسیٰ حضرت الیاس حضرت دائود حضرت سلیمان حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں یعنی ان کے پیچھے ان انبیاء و رسول کو بھیجا۔
یہ اپنی ماں کی جانب سے حضرت ابراہییم علیہ اسلام کی اولاد میں سے تھے انجیل سے مراد وہ کتاب ہے جو ان پر نازل کی گئی اس کا مادہ اشتقاق سورة آل عمران کے آغاز میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: اسم موصول سے مراد حواری اور متبعین ہیں جنہوں نے آپ کے دین کی اتباع کی مراد محبت ہے وہ ایک دوسرے سے محبت کیا کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے…
Read the full tafseer →عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا
7۔ ابو یعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو۔ پھر تم پر سختی کی جائے گی۔ پہلے ایک قوم نے اپنے اوپر سختی کی تو ان پر سختی کی گئی یہ گرجے گھروں میں اور راہب خانوں میں ان کی باقیات ہیں آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا ما کتبناہا علیہم۔
8۔ البیہقی نے شعب میں سہل بن ابی امامہ بن سہل بن جبیر سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اور ان کے باقی لوگوں کو گرجے گھروں میں اور راہب خانوں میں عنقریب تم…
Read the full tafseer →[ثُمَّ قَفَّيْنَا : پھر ہم نے پیچھے بھیجا ][ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ : ان کے نقوش قدم پر ] [بِرُسُلِنَا : اپنے رسولوں کو ][ وَقَفَّيْنَا : اور ہم نے پیچھے بھیجا ][ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ : عیسیٰ ابن مریم کو ][ وَاٰتَيْنٰهُ الْانجِيْلَ : اور ہم نے دی ان کو انجیل ][وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِينَ : اور ہم نے رکھ دیا ان کے دلوں میں جنھوں نے ][اتَّبَعُوْهُ : پیروی کی ان کی ][ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً : نرمی اور مہربانی ][وَرَهْبَانيَّةَۨ: اور ترک دنیا کو !][ ابْتَدَعُوْهَا : انھوں نے ایجاد کیا اس (بدعت) کو ][ مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ : ہم نے فرض نہیں کیا تھا اسے ان پر ][اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَان…
Read the full tafseer →نصاریٰ کا رہبانیت اختیار کرنا پھر اسے چھوڑ دینا :
﴿ وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا ﴾ (اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا اتباع کرنے والوں نے رہبانیت کو جاری کردیا) ۔
علامہ بغوی ؓ نے معالم التنزیل میں حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا آپ نے فرمایا اے ابن ام عبد (یہ ابن مسعود ؓ کی کنیت ہے) تم جانتے ہو کہ بنی اسرائیل نے رہبانیت کہاں سے اختیار کی ؟ عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ظالم بادشاہوں کا غلبہ ہوگیا، گناہوں میں لگ گئے جن پر اہل ایمان ناراض ہوئے، اہل ایمان نے نے ان سے تین بار جنگ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
بعثت انبیاء (علیہم السلام) برائے ہدایت عالم وعطاء اسباب رشد و فلاح :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ارسلنا رسلنا بالبینت ...... الی ..... واللہ ذوالفضل العظیم “۔
(ربط) سابقہ آیات میں دنیا اور دنیا کی ہر راحت ونعمت کی ناپائیداری اور بےثباتی کا ذکر تھا اور یہ کہ انسان کو چاہئے کہ آخرت کی فکر کرے دنیا سر اسر دھوکہ ہے اس سے غرور وتکبر اور غفلت میں پڑجانا سب سے بڑی اور مہلک غلطی ہے تو اب ان آیات میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت نے تو ہمیشہ ہی تخلیق عالم کے بعد سے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کو بھیجا، ان پر کتابیں نازل کیں اور بینات و دلائل بھی دئیے تاکہ انسان کو رشد و فلاح کی منزل حاصل کرنے میں…
Read the full tafseer →29:۔ ” ثم قفینا “ ان کے بعد ہم پے در پے پیغمبر بھیجتے رہے یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سب سکے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اس پر کتاب انجیل نازل کی جس میں مسئلہ توحید اور دیگر احکام شریعت کا بیان تھا جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں محبت و الفت پیدا کردی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے نہایت محبت و مودت کا سلوک کرتے تھے۔۔ ” ورھبانیۃ ابتدعوہا “ رھبانیۃ، عزلت، ریاضت، لوگوں سے علیحدگی اختیار کر کے اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجانا، اس کا ناصب علی شریطۃ التفسیر محذوف ہے۔ منصوب بفعل مضمر یفسرہ الظاہر ای وابتدعوا رھبانیۃ (روح ج 27 ص 190) ۔ ” الا ابتغاء وجہ اللہ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ربط آیات :
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بینات کے ساتھ انبیاء کی بعثت ، نزول کتاب اور میزان کے قیام کا ذکر کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہ سکیں اور ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کریں۔ پھر اللہ نے لوہے کی تخلیق اور اس کے فوائد کا ذکر کیا ، اور فرمایا کہ اس کا بڑا مقصد اللہ کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون اس لوہے کا صحیح استعمال کرکے اس سے استفادہ کرتا ہے اور کون اس سے مستفید نہیں ہوتا۔ نیز فرمایا کہ خدا تعالیٰ بڑی قوت کا مالک ہے ، اس کو تو کسی چیز کی ضرورت نہیں مگر اس نے یہ چیزیں لوگوں کی آزمائش کے لئے قائم کی ہیں تاکہ لوگ ان سے ہدایت اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاٰتَيْنٰہُ الْاِنْجِيْلَ 0ۥۙ وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً 0 ۭ وَرَہْبَانِيَّۃَۨ ابْتَدَعُوْہَا مَا كَتَبْنٰہَا عَلَيْہِمْ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَايَــتِہَا 0 ۚ فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ 0 ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ 27
قفا
القَفَا معروف، يقال : قَفَوْتُهُ : أصبت قَفَاهُ ، وقَفَوْتُ أثره، واقْتَفَيْتُهُ : تبعت قَفَاهُ ، والِاقْتِفَاءُ :
اتّباع القفا، كما أنّ الارتداف اتّباع الرّدف، ويكنّى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ترکیب : فیہ باس الخ الجملۃ حال من حدید و منافع معطوف علی باس ولیعلم معطوف علیٰ مخذوف وھو یستعملوہ وقیل عطف علی قولہ لقیوم الناس بالغیب حال من فاعل ینصرا ومفعولہ ای غائبا عنھم اوغائبین عنہ رھبانیۃ منصوب بفعل مضمر یفسرہ مابعدہ وھو ابتدعوھادقیل بالعطف علی ماقبلہ ای جعلنا فی قلوبھم رہبانیۃ مبتدعۃ من عندھم وابتد عوھا علیٰ ھذا التقدیر صفۃ لھا۔ الرھبانیۃ الفعلۃ المنسوبۃ الی الراھب و قریٔ بضم الراء کانھا نسبۃ الی الرہبان جمع راھب۔
تفسیر : پہلے بخل کی برائی بیان فرمائی تھی اب یہ ذکر دیا کہ بخل پر کیا منحصر ہے جمیع نیک و بد امور بتلانے کے لیے ہم نے رسول بھیجے۔ معجزات و نشانیاں دے کر تاکہ بنی آدم کی…
Read the full tafseer →ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ 5 لا وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّ رَحْمَۃً ط وَرَھْبَانِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا مَاکَتَبْنٰـھَا عَلَیْھِمْ اِلاَّ ابْتِغَـآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا فَاٰ تَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ ج وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (الحدید : 27)
(پھر ان ہی کے نقش قدم پر پے در پے ہم نے اپنے رسول بھیجے اور ان ہی کے نقش قدم پر ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا کی، اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی بعثت کا مقصد۔
اللہ تعالیٰ نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد وقفے وقفے کے بعد بیشمار انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ ان کے آخر اور حضرت محمد ﷺ سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل کے ساتھ بڑے بڑے معجزات عطا فرمائے جن لوگوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اتباع کی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نرمی اور شفقت پیدا فرمادی۔ عیسائیوں نے از خود اپنے لیے رہبانیت ایجاد کرلی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لازم قرار نہیں دیا تھا۔ انہوں نے اسے اللہ کی رضا حاصل…
Read the full tafseer →27 : ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ (پھر ان کے بعد بھیجتے رہے، یکے بعد دیگرے) یعنی نوح و ابراہیم (علیہم السلام) کے بعد۔ اور اسی طرح جو انبیاء (علیہم السلام) ہو گزرے۔ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً (رسولوں کو اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا ان کے دلوں میں ہم نے شفقت و رحمت پیدا کردی) رأفۃ مودت و نرمی کو کہتے ہیں رحمتؔ اپنے بھائیوں سے مہربانی جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی صفات میں آیا ہے۔ رحماء بینہم ] الفتح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
26 ۔” ولقد ارسلنا نوحا وابراھیم وجعلنا فی ذریتھما النبوۃ والکتاب فمنھم مھتدو کثیر منھم یسقون، ثم قفینا علی آثارھم برسلنا وقفینا بعیسی ابن مریم وآتیناہ الانجیل وجعلنا فی قلوب الذین تبعوۃ “ اس کے دین پر۔ ” رافۃ “ اور وہ سخت نرم دلی۔ ” ورحمۃ “ وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب کا وصف بیان کیا۔” رحماء بینھم “…” ورھبانیۃ ابتدعوھا “ اپنی طرف سے اور یہ ماقبل پر عطف نہیں ہے اور اس کا منصوب ہونا پوشیدہ فعل کی وجہ سے ہے۔ گویا کہ کہا ” وابتدعوارھبانیۃ “ یعنی اس کو اپنی طرف سے لائے۔ ” ماکتبناھا “ یعنی ہم نے اس کو فرض نہیں کیا۔ ” علیھم الا ابتغاء رضوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26۔ 27۔ اوپر رسولوں کا ذکر مبہم طور پر تھا۔ ان آیتوں میں ان کے سلسلہ کا ذکر ہے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر وہ سلسلہ ختم ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ نبوت اور کتاب آسمانی کا سلسلہ ان ہی دو رسولوں کے خاندان میں رکھا گیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جن دو خاندانوں میں نبوت رکھی گئی ہے ان خاندانوں کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ کچھ تو ان میں سے راہ راست پر رہے اور اکثر بےراہ اور نافرمان ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسرائیل اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسماعیل کہتے ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے پوتے اور اسماعیل…
Read the full tafseer →(ثُمَّ قَفَّيْنَا) پھر ہم نے بھیجے (عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ) ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور اہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاری کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں۔ (وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ ) اور ہم نے ان کو انجیل دی۔ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے۔ (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ) اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
قول باری ہے (وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ ورھبانیۃ ن ابتدعوھا، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور نرمی رکھ دی تھی اور رہبانیت کہ انہوں نے خود ایجاد کرلیا تھا) تا آخر آیت۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بتادیا کہ انہوں نے رہبانیت کو عبادت کے طور پر خود ایجاد کیا پھر اس رہبانیت کی رعایت نہ کرنے پر ان کی مذمت کی چناچہ ارشادہوا (فما رعوھا حق رعایتھا، انہوں نے اس کی پوری پوری رعایت نہیں کی)
ابتداع یعنی ایجاد کبھی تو قول کے ذریعے ہوتی ہے یعنی بندہ ایک چیز کی اپنی جانب سے نذر مان لیتا ہے اور اسے اپنے اوپر واجب کردیتا ہے اور کبھی فعل کے ذریعے ہوتی…
Read the full tafseer →[ 106] حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری کا ذکر وبیان :
سو گزشتہ انبیاء ورسل کے ذکر کے بعد اب آخر میں اس ارشاد سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے انہی گزشتہ انبیاء ورسل کے نقش قدم پر اپنے رسولوں کو بھیجا ان سب کے آخر میں [ یعنی آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ] عیسیٰ بیٹے مریم کو بھی بھیجا اور ان کو بھی حق اور ہدایت کی روشنی سے نوازنے کے لئے انجیل عطا کی، تاکہ اس کی روشنی میں آنجناب بھی حق و ہدایت کی اسی راہ پر چلیں جس پر ان سے پہلے کے انبیاء ورسل چلے تھے کہ راہ حق تو بہرحال ایک ہی ہے جس کو سب ہی حضرات انبیاء و رسل نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
پہلی قوموں کی غلطیاں
تشریح : پچھلی آیات میں رسول، کتاب اور نیک لوگوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی پھر اللہ تعالیٰ پچھلی قوموں کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ ان کے اعمال واطوار اور پھر ان کے زوال اور عذاب پر غور و فکر کریں تاکہ عبرت حاصل کر کے اپنے راستے درست رکھ سکیں اور نجات پائیں۔
سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) پھر ان کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے بیشمار پیغمبر کتابیں دے کر بھیجے گئے یہاں خاص طور سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کا ذکر کیا گیا ہے۔ ویسے تو ہر بنی نے توحید کی ہی تعلیم دی مگر لوگوں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اصل عقائد سے پھر کر غلط عقائد اختیار کرلیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیات 26 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے مخلوق کی ہدایت واصلاح کے لیے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور ابراہیم (علیہ السلام) جیسے رسول بھیجے جو صاحب شریعت تھے اور مستقل شریعت لے کرمبعوث ہوئے تھے پھر ان کی نسلوں میں مسلسل آنے والے لوگوں ک لیے نبوت کو جاری فرمایا اور کتب الٰہی کے علوم ہمیشہ انسانوں تک پہنچتے رہے خو ش نصیبوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی جبکہ ان میں سے اکثر نافرمان ہوگئے مگر سلسلہ نبوت جاری رہا اور نبی یکے بعد دیگرے مبعوث ہوتے رہے تاآنکہ پھر ایک مستقل شریعت عطا فرما کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل عطا فرمائی جسے کچھ لوگوں نے مانا اور کچھ نے انکار کردیا ۔
اخذ برکات دل…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی دنیا کو چھوڑ دینا، شادی نہ کرنا اور خلقت سے الگ ہو کر جنگلوں اور غاروں میں رہنا بسنا۔7 یعنی انہوں نے دو جرم کئے ایک رہبانیت درویشی کو دین کا جزو لاینفک قرار دے لیا اور پھر اس درویشی کے حقوق و آداب کی بھی نگہداشت نہ کرسکے۔ چناچہ انہوں نے ابتداء میں توحید اور درویشی کو ایک ساتھ نبھانے کی کوشش کی لیکن حضرت مسیح کے تیسری صدی بعد سے اپنے بادشاہوں کے بہکانے میں آگئے۔ اور تثلیث کے جر میں پھنس کر توحید کہ چھوڑ دیا۔ پھر درویشی تو درکنار اصل ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ درویشی کو جاہ ریاست طلبی کا ذریعہ بنالیا اور ابطل طریقوں سے لوگوں کے مال کھانے لگے۔ القرض جہاد کے فریضہ لو چھوڑ کر تصرف کی…
Read the full tafseer →(57:27) ثم۔ پھر۔ (تراضی فی الوقت)
قفینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تقفیۃ (تفعیل) مصدر بمعنی پیچھے بھیجنا۔ پیچھے کہہ دینا۔ اس کا مادہ قفا ہے۔ قفا کے معنی گردن اور سر کا پچھلا حصہ (گدی) قفو، قفو کے معنی کسی کے پیچھے چلنا۔ پیروی کرنا۔ اس معنی میں مجرد (باب نصر) سے مستعمل ہے۔ تقفیۃ دو مفعول چاہتا ہے۔ دونوں مفعولوں پر کبھی حرف جر نہیں ہوتا۔ جیسے کہ فقیت زیدا عمرا میں نے زید کو عمر کے پیچھے بھیجا۔
کبھی مفعول دوئم پر ب آتا ہے۔ جیسے کہ آیت ہذا میں :۔ ثم قفینا علی اثارھم برسلنا۔ ہم نے ان کے قوموں کے نشان پر (یعنی بالکل ان کے پیچھے پیچھے) اپنے رسول بھیجے۔ اور کبھی مفعول اول حذف کردیا جاتا ہے۔ جیسے وقفینا بعیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
لغات القرآن۔ الحدید۔ لوہا۔ باس شدید۔ زبردست قوت اور ہیبت۔ قفینا ۔ ہم نے پے در پے بھیجے۔ رافۃ ۔ نرمی۔ رھبانیۃ ۔ ترک دنیا۔ دنیا کو چھوڑ دینا۔ ابتدعوا۔ انہوں نے نئی بات نکالی۔ انہوں نے خود ہی گھڑ لیا۔ کفلین۔ دو حصے۔
تشریح : سونے اور چاندی کو پرکھنے کے لئے کسوٹی، کسی چیز کی کمی یا زیادتی کو تولنے کے لئے (میزان) ترازو ہوا کرتی ہے۔ کسوٹی یہ بتا دیتی ہے کہ سونے اور چاندی میں ملاوٹ کتنی ہے اور اصلی سونا اور چاندی کس مقدار میں ہے۔ اسی طرح ترازو کے ذریعہ اس بارت کا یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ کون سی چیز وزن میں کتنی زیادہ اور کتنی کم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(ف 1) اوپر رسولوں کا ذکر مبہم طور پر تھا ان آیتوں میں ان کے سلسلہ کا ذکر ہے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہوکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر وہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اس لیے فرمایا کہ نبوت اور کتاب آسمانی کا سلسلہ ان ہی دورسولوں کے خاندان میں رکھا گیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جن دوخاندانوں کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ کچھ تو ان میں سے راہ راست پر رہے اور اکثر بےراہ اور نافرمان ہیں یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو بنی اسرائیل اور اسماعیل کی اولاد کو بنی اسماعیل کہتے ہیں ، یعقوب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت اسماعیل ، حضرت ابراہیم کے بیٹے ہیں ، بنی…
Read the full tafseer →[37] یعنی تارک دنیا ہوجانا اور لوگوں سے دور پہاڑوں یا جنگلوں میں زندگی بسر کرنا اور دنیا کی سب جائز لذتیں اپنے اوپر حرام کرلینا۔
[38] یہ آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ رہبانیت ایک غیر اسلامی چیز ہے یہی بات نبی ﷺ نے فرمائی کہ اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں ہے (مسنداحمد) ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے (مسند احمد) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
یہ انجیلیں اصلی نہیں ہیں
یہ واضح رہے کہ مودوہ انجیلیں ستی ، لوقاء مرتس اور یوحنا سب کی سب اصل میں حضرت مسیح کے نامکمل حالات میں جس کے بعد کے لوگوں نے قلمبند کیا ۔ ورنہ وہ انجیل جو حضرت مسیح پر نازل ہوئی ۔ ایک مستقل صحیفہ تھا ۔ جس میں ان کو زندگی کی مشکلات سے مخلصی حاصل کرنے کا طریق بتایا گیا تھا ۔ ان انجیلوں کے لکھنے والے لوگ حضرت مسیح کے حواری نہیں ۔ اور یہ بھی تفصیل کے ساتھ معلوم نہیں ۔ کہ یہ لوگ کون تھے ۔ کس قماش کے تھے ۔ اور اس وقت کی مسیحی دنیا میں ان کا درجہ اور مقام کیا تھا ۔ پھر بڑی مصیبت یہ ہے ۔ کہ صرف انہیں لوگوں نے انجیلیں نہیں لکھی ہیں ۔ بلکہ بیسیوں نے اس پر ہاتھ صاف کیا ہے ۔ جیسا…
Read the full tafseer →(27) پھران رسولوں کے پیچھے ہم اور رسولوں کو پے درپے بھیجتے رہے اور ان رسولوں کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے اس کو انجیل عطا فرمائی اور جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کی اور عیسیٰ ابن مریم کی اتباع کی ہم نے ان کے قلوب میں شفقت اور رحم پیدا کیا اور رہبانیت اور گوشہ نشینی یعنی رک دنیا کو خود انہوں نے ایجاد کیا ہم نے اس رہبانیت اور گوشہ نشینی کو ان پر فرض اور ان پر لازم نہیں کیا تھا۔
مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے رہبانیت مذکورہ کو اور گوشہ نشینی کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اختیارا اور ایجاد کیا تھا لیکن ترک دنیا اور گوشہ نشینی کی رعایت کا جو حق تھا ویسا نباہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 4۔ یعنی جس غرض سے اس کو اختیار کیا تھا اور وہ غرض طلب رضا حق تھی اس کا اہتمام نہیں کیا، یعنی احکام کی بجا آوری نہ کی، گو صورة رہبان رہے، اور بعضے بجا آوری احکام میں سرگرم رہے۔
5۔ یعنی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے۔
Read the full tafseer →کفارہ کی عمارت کا چوتھا ستون : عیسائیوں کا یہ استدلال ہے کہ انسان نے گناہ کیا۔ خدا کا عدل گناہ کی سزا کا متقاضی ہے اور خدا کا رحم نجات کا متقاضی ہے ۔ ہر دور تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اکلوتے بیٹے یسوع کو دنیا میں بھیج کر خدا کے رحم سے مستفید کیا اور خود اپنی جان صلیب پر دے کر عدل کے تقاضا کو پورا کیا اور بنی آدم کے لیے بخشش کا موجب ٹھہرا۔
عیسائیوں کا یہ استدلال کہ اللہ تعالیٰ کا رحم بلا بدل نہیں ہو سکتا اللہ تعالیٰ کی صفات کی ناسمجھی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رحمن ہے ، جس کا ظہور انسانوں کے اعمال اور محنت کے نتیجہ میں نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ…
Read the full tafseer →. After specific mention of these two Prophets, the whole chain of prophets is referred to by the words, ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِرُسُلِنَا "Then We made Our messengers follow them one after the other". Lastly ` Isa (علیہ السلام) has been specifically mentioned, as he was the last among the Israelite prophets. Then the Last of all prophets Sayyidna Muhammad ﷺ and his Shari'ah has a pointed reference in the next verse.
The special characteristics of the disciples of Prophet ` Isa (علیہ السلام) are given in part of verse 27 as follows: وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ…
Read the full tafseer →51 The words in the Text are rafat and rahmat, which are almost synonymous: But when they are used together, rafat implies the compassion that a person feels on seeing another person in pain and distress, and rahmat is the feeling under which be tries to- help him. As the Prophet Jesus was highly compassionate and merciful towards the people, his this trait of character deeply influenced his disciples: therefore, they treated the people with pity ant-sympat by and served them with aII their heart and soul.
52 The root rahb (from which rabaniyyat or ruhbaniyyat is derived) means fear; thus…
Read the full tafseer →