Ar-Rahmaan 55:72

Ar-Rahmaan · from ayah 72

55:72

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ۟ۚحُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِى الۡخِيَامِ‌ۚ

(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Fair ones reserved in pavilions -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:72

خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)

— مولانا فتح محمد جالندہری

(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ حوریں جنہیں خیموں میں حفاظت سے رکھا گیا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایسی حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتیں، جو خیموں میں روکی ہوئی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ خوبصورت آنکھوں والی اور خیموں میں رکی رہنے والی ہوں گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

حوریں، خیموں میں رہنے والیاں ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایسی عظیم الشان حوریں جو محفوظ ہوں گی خیموں کے اندر

— مولانا اسحاق مدنی

گورے رنگ والیاں خیموں میں محفوظ ہوں گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یعنی حوریں جو قیام پذیر ہوں گی خیموں میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ حوریں ہیں جو خیموں میں مستور ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

There shall be maidens sheltered in tents.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__ the houris, kept guarded in pavilions__

— Muhammad Taqi Usmani

__ the houris, kept guarded in pavilions__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Hur (beautiful, fair females) guarded in pavilions;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Fair ones, close-guarded in pavilions -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Fair ones reserved in pavilions -

— Saheeh International

- with big, black and white beautiful eyes, dwelling in tents.

— Muhammad Sarwar

Pure ones confined to the pavilions.

— Muhammad Habib Shakir

Fair ones, confined in tents.

— Abdul Majid Daryabadi

Companions restrained (as to their glances), in (goodly) pavilions;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–78

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 72–75

سورة الرَّحْمٰن 51 حور کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 28۔ 29۔ اور تفسیر سورة دخان حاشیہ 42۔ خیموں سے مراد غالباً اس طرح کے خیمے ہیں جیسے امراء و رؤساء کے لیے سیرگاہوں میں لگائے جاتے ہیں۔ اغلب یہ ہے کہ اہل جنت کی بیویاں ان کے ساتھ ان کے قصروں میں رہیں گی اور انکی سیرگاہوں میں جگہ جگہ خیمے لگے ہو گے جن میں حوریں ان کے لیے لطف و لذت کا سامان فراہم کریں گی۔ ہمارے اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ پہلے خوب سیرت اور خوب صورت بیویوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد اب حوروں کا ذکر الگ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ ان بیویوں سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی۔ اس قیاس کو مزید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–75

فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ، خیرات سے مراد سیرت و کردار کی خوبی اور حسان سے مراد شکل و صورت کی خوبی ہے اور یہ امر بھی دونوں باغوں کی حوروں میں مشترک ہوگا جس کی طرف اشارہ سابقہ آیات میں موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 70–76

خیرت حسان کے معنی ہیں پاکیزہ سیرت اور پاکیزہ صورت (حور مقصورات فی الخیام) میں خاص عربی ذدوق نمایاں ہے خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔ امرائے عرب کے خیمے اور شامیانے شاندار محلوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتے تھے اور یہاں تو ذکر جنت کے خیموں کا ہے۔ اوپر کی جنت میں شرمیلی نازنینوں کا ذکر ہے اور ان کو یاقوت و مرجان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دونوں جگہ صفات کا جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ ہر صفت کے بیان کے بعد آیت ترجیح بھی آئی اور اس کا موقع نہ محل واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 71–72

72۔ 1 حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ' جنت میں موتیوں کے خیمے ہونگے، ان کا عرض ساٹھ میل ہوگا، اس کے ہر کونے میں جنتی کے اہل ہونگے، جس کو دوسرے کونے والے نہیں دیکھ سکیں گے۔ مومن اس میں گھومے گا ' (صحیح بخاری)۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 72–75

12: ان خیموں کے بارے میں صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ تفصیلی آئی ہے کہ یہ موتی سے بنے ہوئے بہت طویل و عریض خیمے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 72–73

حور ............ الخیام (55: 27) ” خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں ہوں گی۔ “ خیموں میں رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بدوی لوگوں کو ان کے ذوق بداوت کے مطابق سہولتیں ہوں گی۔ مقصورات کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ شرمیلی اور نظریں جھکانے والیاں ہوں گی یا وہاں ٹھہرائی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 71–72

310 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت ذات کی خوبی گھر میں رکے رہنے ہی سے ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72{ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْْخِیَامِ۔ } ”یعنی حوریں ‘ جو قیام پذیر ہوں گی خیموں میں۔“ یہاں پر ”خیموں“ کا ذکر خصوصی طور پر عرب کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت عرب میں شہروں کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور زیادہ تر لوگ خیموں میں رہتے تھے۔ اس لیے یہاں پر گھر یا محل کے بجائے خیمے کا ذکر آیا ہے۔ یہاں { مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ } کے الفاظ میں { وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } الاحزاب : 33 کے حکم کی عملی جھلک دکھائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ دراصل عورت کا وہ روپ ہے جس روپ میں اسلام اسے دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام عورت کو ”چراغ خانہ“ بن کر رہنے کی ترغیب دیتا ہے اور اسے ”شمع محفل“ بننے سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 71–72

44 اس آیت میں دراصل سابقہ آیت کی کچھ تفصیل ہے۔ خوب صورتی میں آنکھوں کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ آنکھ کی پتلی جتنی زیادہ سیاہ اور سفیدی جتنی زیادہ سفید ہو آنکھ اتنی ہی خوبصورت معلوم ہوتی ہے تو یہ ان کی صورت کی خوبی ہوئی اور سیرت کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے خیموں سے باہر نکلیں گی ہی نہیں۔ اور خیموں سے مراد اہل ثروت کے وہ خیمے ہیں جو وہ سیر و تفریح کی غرض سے سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 71–72

35۔ یعنی ہر طرح پاک دامن اور اچھوتی، جن کا تخیل بھی کسی ذوق سلیم رکھنے والے کو گراں نہ گزرے۔ (آیت) ” حور “۔ لفظی معنی گورے رنگ والی کے ہیں۔ مراد جنت کی نسوانی مخلوق سے ہے، جس کے ذکر سے خدا معلوم آج کی ” روشن خیالی “ کو اتنی حیاکیوں آتی ہے ! سو اس کے کہ اس کو مسیحیت سے دماغی مرعوبیت پر محمول کیا جائے، وہ مسیحیت جس کے نزدیک عورت معصیت مجسم ہے، اور اس کا نام لینا بھی باعث شرم وموجب ذلت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حور مقصورٰت فی الخیام وہ عورتیں گورے رنگ کی ہوں گی (اور خیموں میں محفوظ ہوں گی حور ‘ حوراء حوراء اس عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھوں کا حدقہ (پتلی) خوب سیاہ ہو اور سفیدی بجائے خود خوب سفید اور سیاہی بجائے خود خوب سیاہ ہو اور پلک چمکدار ہوں اور پلکوں کے گر داگرد سفیدی ہو اور بدن گورا ہو یا پوری آنکھ ہرن کی طرح چمکیلی سیاہ ہو ‘ ایسی آنکھ انسان کی نہیں ہوتی۔ مجازاً اس کا استعمال عورتوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ (کذا فی القاموس) طبرانی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حورعین کی بدنی ساخت زعفران سے کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے مرفوعاً اور حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 72–73

(72۔ 73) اور وہ عورتیں گوری گوری رنگت کی ہوں گی موتیوں کے خیموں میں محفوظ اور اپنے شوہروں پر قناعت کرنے و الی ہوں گی، سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 72–75

1۔”حور“ ”حورا“ کی جمع ہے، مادہ اس کا ”حور“ ہے ، ”گورے رنگ کی عورتیں“ جنہیں دیکھ کر آنکھ حیران رہ جائے اور جن کی آنکھ کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی بہت سیاہ ہو (دیکھئے بخاری : الجھاد والسیر ، باب الحور لعین و صفتھن ، قبل ح : 2175) 2۔ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ : لفظ ”حور“ میں ان کی صورت کا حسن بیان ہوا ہے اور ”مقصورت فی الخیام“ میں ان کی سیرت کا حسن بیان ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ عورت کی خوبی گھر رکے رہنے میں ہے۔ ان الفاظ میں ان عورتوں کے لیے ہر طرح کی خوش حالی اور نعمت میسر ہونے کا اشارہ بھی ہے ، کیونکہ دنیا میں سردار عورتوں کو کسی کی نوکری یا خدمت یا کھیتوں وغیرہ میں کام کرنے کے لیے گھر سے باہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 72–73

حور مقصودرت فی الخیام۔ حوریہ حوراء کی جمع ع ہے اس سے مراد ہے جس کی آنکھ کی سفیدی انتہا کی ہو ساتھ ہی ساتھ سیاہی بھی شدید ہو۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مقصورت وہ محبوس ہوں گی اور خیموں میں پوشیدہ ہوں گی وہ گلیوں میں گھومتی پھرتی نہیں ہوں گی، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت عمر نے کہا، خیمہ ایسا موتی ہوگا جو اندر سے خالی ہوگا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہا : یہ ایک فرسخ چوڑا ایک فرسخ لمبا ہوگا اس کے دروازے کے پٹ سونے کے ہوں گے۔ ترمذی حکیم ابوعبداللہ ناے حور مقصودرت فی الخیام۔ کے بارے میں کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک باول نے عرش سے بارش برسائی تو حوریں رحمت کے قطرات سے پیدا کی گئیں پھر ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–75

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' حورمقصورت فی الخیام '' جنتی عورتوں کا سلام : 9:۔ ابن مردویہ والبیہقی (رح) نے البعث میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے معراج کرائی گئی میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نہر پر آیا جس کو بیزخ کہا جاتا ہے جس پر موتی سبز زبرجد اور سرخ یاقوت کے خیمے ہیں وہاں مجھے آواز دی گئی السلام علیکم یا رسول اللہ ﷺ میں نے کہا اے جبرائیل (علیہ السلام) یہ کیا آواز ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ پردے دار عورتیں ہیں خیموں میں انہوں نے آپ کو سلام کرنے کے بارے میں اپنے رب سے اجازت لی تو ان کو اجازت دے دی گئی۔ (پھر) ان عورتوں نے کہنا شروع کیا ہم راضی ہونے والی ہیں ہم کبھی ناراض…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ [رہائش دی ہوئی حوریں ہیں ] فِي الْخِيَامِ [خیموں میں ] خ ی م (ض) خیما کسی جگہ اقامت کرنا ۔ خیمۃ ۔ ج : خیام ۔ اقامت گاہ ۔ ہر ایسا ڈیرہ جو مٹی۔ اینٹ ۔ پتھر وغیرہ سے نہ بنایا گیا ہو ۔ خیمہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 72 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 70–73

جنتی بیویوں کا تذکرہ : ﴿فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌۚ0070﴾ (ان چاروں جنتوں میں اچھی اور خوبصورت عورتیں ہوں گی) معالم التنزیل میں حضرت ابن سلمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ﴿ خَيْرٰتٌ حِسَانٌۚ0070﴾ کا مطلب بتائیے۔ آپ نے بتایا خیرات الاخلاق حسان الوجوہ یعنی وہ اچھے اخلاق والی اور خوبصورت چہروں والی ہوں گی مزید فرمایا ﴿ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِي الْخِيَامِۚ0072﴾ (وہ عورتیں حوریں ہوں گی جو خیموں میں محفوظ ہوں گی) یہ خوبصورت عورتیں پردوں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کی عورتوں میں سے اگر کوئی عورت زمین کی طرف کو جھانک لے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 68–75

23:۔ ” فیھما فاکھۃ۔ الایۃ “ ان باغوں میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور ان کے علاوہ کھجور اور انار کے درخت بھی ہوں گے۔ ” فیھن خیرات حسان “ ان میں ایسی حوریں بھی ان کے لیے ہوں گی جو ظاہری اور باطنی حسن و جمال سے آراستہ ہوں گی۔ خیرات، حسن اخلاق اور حسان، حسن و جمال ظاہری کی طرف اشارہ ہے۔ فسر الرسول ﷺ لام سلمۃ ذلک فقال خیرات الاخلاق حسان الوجوہ (بحر ج 8 ص 199) ۔ ” حور مقصورات فی الخیام “ خیام، خیمۃ کی جمع ہے یہ خیمہ ایک ہی بہت بڑے سچے موتی کا ہوگا جو اندر سے خالی ہوگا اور اس کی اندرونی وسعت کئی فرخ ہوگی (روح وغیرہ) یعنی وہ حوریں ان خیموں میں پردہ نشین ہوں گے۔ ” حور الخ “ خیرات سے بدل ہے۔ (روح) ۔ ” لم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–78

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِي الْخِيَامِ۝ 72 ۚ حور الحَوْرُ : التّردّد إمّا بالذّات، وإمّا بالفکر، وقوله عزّ وجلّ : إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ [ الانشقاق/ 14] ، أي : لن يبعث، وذلک نحو قوله : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا، قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 17] ، وحَارَ الماء في الغدیر : تردّد فيه، وحَارَ في أمره : تحيّر، ومنه : المِحْوَر للعود الذي تجري عليه البکرة لتردّده، وبهذا النّظر قيل : سير السّواني أبدا لا ينقطع «1» ، والسواني جمع سانية، وهي ما يستقی عليه من بعیر أو ثور، ومَحَارَة الأذن لظاهره المنقعر، تشبيها بمحارة الماء لتردّد الهواء بالصّوت فيه کتردّد الماء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–78

ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–75

فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 70 تا 75) (ان میں خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ہوں گی۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ حوریں خیموں میں رہنے والیاں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامت کو جھٹلائو گے۔ ان سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا، نہ کسی جن نے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ ) اصحابُ الیمین کو بھی جو بیویاں ملیں گی ان کے بھی دو وصف نمایاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–77

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔ اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔ 2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

72 : حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ (وہ عورتیں گورے رنگ کی ہونگی اور خیموں میں محفوط ہونگی) یعنی بند کہا جاتا ہے۔ امراۃ قصیرہ و مقصورۃ یعنی محذرہ، خیمہ میں بند۔ ایک قول یہ ہے خیمے جوف دار (اندر سے خالی) موتی کے ہونگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 72–77

72۔ 77 صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے خیمے دنیا کے خیموں کی طرح کپڑے کے نہیں ہوں گے بلکہ ساٹھ میل کی چوڑائی کے اندر سے خالی موتی ہوں گے ان موتیوں کے وہ خیمے ہوں گے۔ ایک ایک خیمہ کے ستر ستر دروازے ہوں گے تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ یہی دنیا کی نیک عورتیں اچھی صورت کی ہو کر جنت میں پیدا ہوں گی۔ ان کو قرآن شریف میں حور فرمایا ہے لیکن اور مفسروں نے اس قول پر اعتراض کیا ہے کہ حوریں اولاد آدم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مخلوق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پیدا کی ہے۔ ترمذی 2 ؎ اور ابن ماجہ میں حضرت معاذبن جبل کی جو حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 72–73

یعنی وہ حوریں موتیوں خے خیموں میں مستور ہوں گی جنہوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کررکھا ہوگا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں جیسا کہ باپردہ شہزدایوں کی عادت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

کھجور اور انار پھلوں میں شامل نہیں قول باری ہے (فیھما فاکھۃ ونخل ورمان اور ان دونوں میں میوے ہوں گے اور خرمے اور انار) آیت سے امام ابوحنیفہ کے قول کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے کہ کھجور اور انار میوئوں میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک چیز کو اس کی ذات پر عطف نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے غیر پر عطف کیا جاتا ہے۔ ظاہر کلام اور اس کا مفہوم تو یہی ہے۔ البتہ اگر کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس بات کی نشاندہی کردے کہ معطوف اگرچہ معطوف علیہ کے جنس میں سے تھا لیکن اسے کسی خصوصیت یا عظمت وغیرہ کی بنا پر عطف کی صورت میں الگ سے بیان کیا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (من کان عدوا اللہ وملئکۃ ورسلہ وجبرئیل و میکالی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 72–73

[ 57] حُوران جنت کی ایک خاص صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی عظیم الشان حوریں جو محفوظ ہوں گی خیموں کے اندر۔ اور یہ خیمے بھی دنیاوی خیموں کی طرح نہیں ہوں گے بلکہ بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ " درر مجوفہ " ہوں گے۔ اور ایک " درر مجوف " یعنی موتی کی لمبائی ساٹھ میل کی ہوگی۔ اور اسی طرح اس کی چوڑائی بھی ساٹھ میل کی ہوگی، اس کے مختلف حصوں اور زاویوں میں جنتی شخص کے اہل و عیال رہ رہے ہوں گے۔ مگر وہ غیر متعلقہ شخص کی نظروں سے محفوظ ہوں گی، سو عورت کی اصل خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے شریک حیات ہی کیلئے ہو اور اجانب کی نظروں سے محفوظ ہو، جنت کی عورتوں میں یہ خوبی بدرجہء تمام و کمال پائی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 69–72

ف 3 یعنی پردہ نشین ہوں گی۔ ” حود “ کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔ یعنی ایسی عورتیں جن کے رنگ سفید اور آنکھیں بڑی اور سیاہ ہوں گی۔ جنت کے یہ خیمے موتیوں کے ہونگے۔ حضرت قیس سے مرفو عاً مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : جنت میں کھوکھلے موتی کا ایک خیمہ ہے جس کا عرض ساٹھ میل ہے۔ اس کے ہر کونے میں رہنے والے دوسرے کو نے میں رہنے والوں کو نہ دیکھ پائیں گے۔ جنتی ان کے پاس لائے جائینگے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:72) حور مقصورات فی الخیام۔ جملہ یا خیرات سے بدل ہے۔ یا حور مبتداء ہے اور اس کی خبر فیہن محذوف ہے ای فیہن حور مقصورات فی الخیام۔ مقصورات فی الخیام حال ہے حور سے۔ درآں حالیکہ وہ خیموں میں مقیم ہوں گی : یا یہ صفت ہے حور کی، حوریں خیموں میں بیٹھی ہوئی۔ ترجمہ : حوریں ہوں گی خیموں میں بیٹھی ہوئی۔ حورا۔ حورائ کی جمع فعلاء فعل کے وزن پر، نہایت گوری عورتیں، جن کی آنکھ کی سفیدی نہایت سفید اور سیاہی نہایت گہری ہو مقصورات اسم مفعول جمع مؤنث قصر (باب نصر) مصدر۔ چھپائی ہوئی عورتیں، پردہ نشین، یا وہ عورتیں جنہوں نے اپنی نگاہ کو اپنے شوہروں تک روک رکھا ہوگا اور کسی دوسرے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–78

قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–76

[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–78

ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(72) وہ عورتیں گوری رنگت کی ہوں گی اور خیموں میں محفوظ ہوں گی۔ حور مقصورات خیرات حسان سے بدل ہے یعنی وہ نیک سیرت عورتیں حوریں ہوں گی جو اپنے خیموں میں جو سفید موتیوں کے ہوں گے بالکل محفوظ اور غیر استعمال شدہ ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–78

ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ حوریں خیموں میں مقیم ہوں گی 27 (حور) جمع ہے حوراء کی اور حورآء نہایت وری صورت کو کہتے ہیں جس کی رنگت سفیدی میں نکھری ہوتی ہو۔ یعنی اس کے گورے پن کے باعث ایک طرح کی چمک سی پیدا ہوگئی ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن کی آنکھوں کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی بہت گہری سیاہ ہو اور آنکھوں میں سرخی ڈورے موجود نہ ہوں۔ مردوں کی آنکھوں میں سرخ ڈورے خوبصورتی کی نشانی ہے اور عورتوں کی آنکھوں کی سفیدی نہایت سفید ہو تو وہ خوبصورتی کی علامت تصور ہوتی ہے۔ اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ (حور) کا لفظ اس دنیا کی عورتوں کے لیے بولا گیا ہے یہ جو تصور پیش کیا جاتا ہے کہ حوریں کوئی نوری مخلوق ہیں صحیح نہیں ہے جس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–75

فِيهِنَّ خَيْرَ‌اتٌ حِسَانٌ (In them there are women, good and gorgeous,...55:70) The word خَيْرَ‌اتٌ khairat (translated above as 'good' ) refers to 'the good character of those women'; and the word حِسَانٌ hisan (translated above as 'gorgeous' ) refers to 'women who have beautiful features'. These qualities too will be common with the maidens of both the Gardens, to which reference was made in the foregoing verses.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–75

51 For the explanation of her see E. N's 28, 29 of Surah As-Saaffat and E.N. 42 of Surah Ad-Dukhan the tents probably will be similar to those pitched for the nobles and rich people in the public parks. Most probably the wives of the dwellers of Paradise will live with them in their palaces and in their parks there will be tents pitched here and there in which there will be the houris to entertain them. Our this presumption is based on this that in the foregoing verses beautiful and chase wives havc been mentioned; now, here, mention of the houris signifies that they will be a different kind…

Read the full tafseer →