فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ ۟ۚفِيۡهِنَّ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌۚ
ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
In them are good and beautiful women -
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz
فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ ۟ۚفِيۡهِنَّ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌۚ
ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
In them are good and beautiful women -
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan
اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں
ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں
ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں
انہی میں خوب سیرت خوبصورت عورتیں ہوں گی۔
ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
ان میں (بھی) خوب سیرت و خوب صورت (حوریں) ہیں،
ان میں کئی خوب سیرت، خوبصورت عورتیں ہیں۔
ان دونوں میں خوب سیرت اور خوبصورت عورتیں ہوں گی
ان میں نیک سیرت اور خوب صورت حوریں ہوگی
ان میں (اہل جنت کے لئے) خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں بھی ہوں گی
ان میں اچھی سیرت والیاں اچھی صورت والیاں ہوں۔
ان میں ہوں گی نہایت نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں۔
ان میں نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں ہیں
In the midst of these will be maidens, good and comely.
In them there will be women, good and gorgeous,__
In them there will be women, good and gorgeous,__
Therein (Gardens) will be Khayrat Hisan;
Wherein (are found) the good and beautiful -
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
In them are good and beautiful women -
There will be well-disciplined, beautiful maidens.
In them are goodly things, beautiful ones.
Therein will be damsels agreeable and beauteous.
In them will be fair (Companions), good, beautiful;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 62–78
اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
سورة الرَّحْمٰن 50 ان باغوں کی تعریف میں لفظ مُدْھَا مَّتَان استعمال فرمایا گیا ہے۔ مُدْھَامَّۃ ایسی گھنی سرسبزی کو کہتے ہیں جو انتہائی شادابی کے باعث سیاہی مائل ہوگئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ، خیرات سے مراد سیرت و کردار کی خوبی اور حسان سے مراد شکل و صورت کی خوبی ہے اور یہ امر بھی دونوں باغوں کی حوروں میں مشترک ہوگا جس کی طرف اشارہ سابقہ آیات میں موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
خیرت حسان کے معنی ہیں پاکیزہ سیرت اور پاکیزہ صورت (حور مقصورات فی الخیام) میں خاص عربی ذدوق نمایاں ہے خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔ امرائے عرب کے خیمے اور شامیانے شاندار محلوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتے تھے اور یہاں تو ذکر جنت کے خیموں کا ہے۔ اوپر کی جنت میں شرمیلی نازنینوں کا ذکر ہے اور ان کو یاقوت و مرجان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دونوں جگہ صفات کا جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ ہر صفت کے بیان کے بعد آیت ترجیح بھی آئی اور اس کا موقع نہ محل واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
70۔ 1 خَیْرَات سے مراد اخلاق و کردار کی خوبیاں ہیں اور حِسَانکا مطلب ہے حسن و جمال میں یکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
11: سبزہ جب خوب گھنا اور گہرا ہوجائے تو وہ دور سے سیاہی مائل نظر آتا ہے یہ اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فیھن ............ حسان (55: 2 5) ” ان میں خوب سیرت اور خوبصورت پریاں ہوں گی “۔ خیرت اور خیرات دونوں سے مراد اچھی سیرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
9 یعنی اچھے اخلاق کی خوبصورت اور خوب سیرت۔
Read the full tafseer →آیت 70{ فِیْہِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ۔ } ”ان میں ہوں گی نہایت نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
43 یہ اہل جنت کی دنیا میں بیویوں کے علاوہ دوسری قسم کی عورتیں ہوں گی یعنی جنت کی حوریں انتہائی پاکیزہ کردار والی اور بہت خوب صورت جن کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
34۔ جنت کی مادی نعمتوں کا بیان اجمالا نہیں۔ بلکہ ایک ایک جزئیہ کی صراحت کے ساتھ ہورہا ہے۔ (آیت) ” فیھن “۔ ضمیر ھن سے مراد یہ ہے کہ ان باغوں، چمنوں، گلشنوں کے اندر جو آراستہ و پیراستہ کوٹھیاں بنگلے، حویلیاں، محل سرائیں ہوں گی، ان میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →فیھن خیرات حسان ان میں خوب سیرت ‘ خوبصورت عورتیں (یعنی حوریں) ہوں گی فِیْھِنَّ : یعنی ان دونوں باغوں کے مکانوں اور محلات میں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حسن نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ خدا تعالیٰ کے فرمان : فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ : کا مطلب مجھے بتائیے۔ فرمایا : خوش سیرت ‘ خوب صورت۔ (رواہ الطبرانی) حضرت ابن مبارک نے اوزاعی کا قول نقل کیا ہے : خوبصورت جو فحش زبان نہیں ہونگی ‘ مغرور نہیں ہونگی اور دکھ نہیں دینگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(70۔ 71) اور ان چاروں باغوں یا ان سب باغوں میں خوب سیرت خوب صورت عورتیں ہوں گی سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
1۔ فِیْہِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ :”خَیْرٰتٌ“ ”خیرۃ“ کی جمع ہے جو اصل میں ”یائ“ کی تشدید کے ساتھ ”خیرۃ“ ہے۔ مذکر اس کا ”خیر“ (روزوں فتر) ہے ، جس میں ”یائ“ کو تخفیف کے لیے حدف کردیا ہے ، جیسے ”ھین، لین“ اور ”میت“ کو ”ھین ، لین“ اور ”میت“ کردیتے ہیں۔ یہ تفصیل والا ”خیر“ نہیں جو ”شر“ کے مقابلے میں آتا ہے، کیونکہ اس کا اصل ”اخیر“ (افعل) ہے۔ ”حسان“ حسنائ“ کی جمع ہے۔”خیرت“ نیک ، یعنی خوب سیرت اور ”حسان“ خوبصورت عورتیں۔ 2۔ یہاں یہ بات زیر نظر رہنا ضروری ہے کہ اس جگہ یہ نہیں فرمایا کہ ”فیھما خیرات حسان“ (ان دونوں باغوں میں خوب سیرت و خوبصورت عورتیں ہیں) بلکہ فرمایا :(فیھن خیرت حسان) یعنی ان سب جنتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فیھن خیرت حسان۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبرۃ خیرت سے مراد عورتیں ہیں۔ اس کی واحد خیرۃ ہے معنی ہے ذوات خیر خیر والیاں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لفظ خیرات ہے خیرات کے معنی میں ہے پھر اس میں تخفیف کی گئی جس طرح ھین اور لین ہے۔ ابن مبارک نے کہا، اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے وہ سعید بن عامر سے روایت نقل کرتے ہیں اگر خیرت حسان میں سے ایک خیرہ آسمان کے سامنے آئے تو ہر چیز کو روشن کر دے اور اس کے چہرے کی روشنی، سورج اور چاند پر غالب آجائے وہ اوڑھنی جو اس پہنائی جاتی ہے وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ حسان وہ شکل و صورت میں بہتر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حسان تو وہ کون ہوگا جو ان کے حسن کا اندازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
1:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' (ان میں سے نیک خوبصورت عورتیں ہوں گی یعنی عورتیں ہوں گی (اچھی سیرت اور اچھی صورت والی) 2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' سے مراد ہے جنت کی کنواری عورتیں۔ 3:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' سے مراد ہے نیک اخلاق والیاں اور خوبصورت چہرے والیاں۔ 4:۔ ابن المبارک نے الزھد میں اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' سے مراد ہے وہ خوبصورت عورتیں جو فحش گو نہیں ہوں گی نہ کسی کو…
Read the full tafseer →فِيْهِنَّ [ ان سب (نعمتوں) میں ] خَيْرٰتٌ حِسَانٌ [خوبصورت نیک اطوار والیاں ہیں ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 70 ۔ میں پہلے خوب سیرت اور خوبصورت بیویوں کا ذکر کیا گیا اس کے بعد آیت ۔ 72 ۔ میں حوروں کا الگ ذکر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ حوریں ان خواتین سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی ۔ اس قیاس کو تقویت اس حدیث سے حاصل ہوتی ہے جس میں بی بی ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں ۔ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے (لحاف یا کوٹ کے اوپر والا کپڑا) کو استر پر ہوتی ہے میں نے پوچھا کس بنا پر ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس لیے کہ ان عورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
جنتی بیویوں کا تذکرہ : ﴿فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌۚ0070﴾ (ان چاروں جنتوں میں اچھی اور خوبصورت عورتیں ہوں گی) معالم التنزیل میں حضرت ابن سلمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ﴿ خَيْرٰتٌ حِسَانٌۚ0070﴾ کا مطلب بتائیے۔ آپ نے بتایا خیرات الاخلاق حسان الوجوہ یعنی وہ اچھے اخلاق والی اور خوبصورت چہروں والی ہوں گی مزید فرمایا ﴿ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِي الْخِيَامِۚ0072﴾ (وہ عورتیں حوریں ہوں گی جو خیموں میں محفوظ ہوں گی) یہ خوبصورت عورتیں پردوں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کی عورتوں میں سے اگر کوئی عورت زمین کی طرف کو جھانک لے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
23:۔ ” فیھما فاکھۃ۔ الایۃ “ ان باغوں میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور ان کے علاوہ کھجور اور انار کے درخت بھی ہوں گے۔ ” فیھن خیرات حسان “ ان میں ایسی حوریں بھی ان کے لیے ہوں گی جو ظاہری اور باطنی حسن و جمال سے آراستہ ہوں گی۔ خیرات، حسن اخلاق اور حسان، حسن و جمال ظاہری کی طرف اشارہ ہے۔ فسر الرسول ﷺ لام سلمۃ ذلک فقال خیرات الاخلاق حسان الوجوہ (بحر ج 8 ص 199) ۔ ” حور مقصورات فی الخیام “ خیام، خیمۃ کی جمع ہے یہ خیمہ ایک ہی بہت بڑے سچے موتی کا ہوگا جو اندر سے خالی ہوگا اور اس کی اندرونی وسعت کئی فرخ ہوگی (روح وغیرہ) یعنی وہ حوریں ان خیموں میں پردہ نشین ہوں گے۔ ” حور الخ “ خیرات سے بدل ہے۔ (روح) ۔ ” لم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–78
ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…
Read the full tafseer →فِيْہِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ 70 ۚ خَيْراتٌ وقوله : فِيهِنَّ خَيْراتٌ حِسانٌ [ الرحمن/ 70] ، قيل : أصله خَيِّرَات، فخفّف، فالخیرات من النساء الخيّرات، يقال : رجل خَيْرٌ وامرأة خَيْرَةٌ ، وهذا خير الرجال، وهذه خيرة النساء، والمراد بذلک المختارات، أي : فيهنّ مختارات لا رذل فيهنّ. والخیر : الفاضل المختصّ بالخیر، يقال : ناقة خِيَار، وجمل خيار، واستخار اللهَ العبدُ فَخَارَ له، أي : طلب منه الخیر فأولاه، وخَايَرْتُ فلانا کذا فَخِرْتُهُ اور آیت کریمہ : ۔ فِيهِنَّ خَيْراتٌ حِسانٌ [ الرحمن/ 70] ان میں نیک سیرت ( اور ) خوبصورت ۔ ) میں بعض نے کہا ہے کہ خیرات اصل میں خیرات ہے تخفیف کے لئے ایک یائ کو حزف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–78
ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 70 تا 75) (ان میں خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ہوں گی۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ حوریں خیموں میں رہنے والیاں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامت کو جھٹلائو گے۔ ان سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا، نہ کسی جن نے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ ) اصحابُ الیمین کو بھی جو بیویاں ملیں گی ان کے بھی دو وصف نمایاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–77
فہم القرآن ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔ اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔ 2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ…
Read the full tafseer →70 : فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ (ان میں خوبصورت، خوب سیرت عورتیں (یعنی حوریں) ہونگی) خیرات یہ خَیّرات ہے پھر تخفیف کی گئی اور خیرات اصل کے مطابق تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ معنی اعلی اخلاق اور خوبصورت خلقت۔
Read the full tafseer →69 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
62۔ 71۔ 1 ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ کا فاصلہ دوسرے درجہ تک سو برس کے راستہ کا ہے ہر درجہ میں اس قدر گنجائش ہے کہ تمام دنیا کے لوگ ایک درجہ میں رہ سکتے ہیں جس جنت کا نام فردوس ہے وہ سب درجوں میں اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ اسی واسطے آپ نے ان ہی روایتوں میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنت الفردوس کی خواہش کرنی چاہئے۔ میٹھے پانی کی اور شہد اور دودھ اور شراب کی نہریں اس جنت الفردوس سے جاری ہو کر اور جنتوں میں گئی ہیں صاحب مشکوٰۃ نے یہ جو لکھا 2 ؎ ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہے۔ شاید صاحب مشکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ) یعنی جنت کے ان تمام باغات میں بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی پس وہ ظاہری اور باطنی جمال حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
کھجور اور انار پھلوں میں شامل نہیں قول باری ہے (فیھما فاکھۃ ونخل ورمان اور ان دونوں میں میوے ہوں گے اور خرمے اور انار) آیت سے امام ابوحنیفہ کے قول کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے کہ کھجور اور انار میوئوں میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک چیز کو اس کی ذات پر عطف نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے غیر پر عطف کیا جاتا ہے۔ ظاہر کلام اور اس کا مفہوم تو یہی ہے۔ البتہ اگر کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس بات کی نشاندہی کردے کہ معطوف اگرچہ معطوف علیہ کے جنس میں سے تھا لیکن اسے کسی خصوصیت یا عظمت وغیرہ کی بنا پر عطف کی صورت میں الگ سے بیان کیا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (من کان عدوا اللہ وملئکۃ ورسلہ وجبرئیل و میکالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
[ 56] اہل جنت کی خوب سیرت اور خوبصورت بیویوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں ان کیلئے خوبصورت اور خوب سیرت بیویاں بھی ہونگی۔ یعنی وہ اپنے باطن کے اعتبار سے عمدہ اخلاق وصفات والی ہوں گی، اور اپنے ظاہر کے اعتبار سے عمدہ و دلربا صورت اور حسن والی، یعنی خوب سیرت بھی ہوں گی، اور خوبصورت بھی، سو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیرت کی عمدگی و خوبی صورت کی عمدگی و کو بی سے زیادہ اہم اور اصل ہے کہ اس کو یہاں پر پہلے ذکر فرمایا گیا ہے، اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے خیرات حسان کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا، یعنی ان کے اخلاق عمدہ ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
ف 3 یعنی پردہ نشین ہوں گی۔ ” حود “ کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔ یعنی ایسی عورتیں جن کے رنگ سفید اور آنکھیں بڑی اور سیاہ ہوں گی۔ جنت کے یہ خیمے موتیوں کے ہونگے۔ حضرت قیس سے مرفو عاً مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : جنت میں کھوکھلے موتی کا ایک خیمہ ہے جس کا عرض ساٹھ میل ہے۔ اس کے ہر کونے میں رہنے والے دوسرے کو نے میں رہنے والوں کو نہ دیکھ پائیں گے۔ جنتی ان کے پاس لائے جائینگے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(55:70) فیہن خیرات حسان۔ موصوف و صفت مل کر مبتدا۔ فیہن اس کی خبر خیرات نیکیاں۔ بھلائیاں، خوبیاں۔ نیک عورتیں خیرۃ کی جمع ہے۔ جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو خیر کے ساتھ مخصوص ہو۔ حسان : حسین، خوبصورت، نفیس، عمدہ، حسن، حسین، حسنۃ واحد ۔ ترجمہ : ان میں نیک سیرت۔ حسین عورتیں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–76
[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–78
ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…
Read the full tafseer →(70) ان باغوں کے مکانات اور محلات میں نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں ہوں گی۔ خیرات برگزیدہ بھلے اخلاق والیاں ، حسان ، خوبصورت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
ان دونوں باغوں میں اچھی صورت و سیرت کی عورتیں ہوں گی 07 پیچھے آپ عطف اور معطوف کی بات پڑھ چکے ہیں اور ہم بار بار اسی تفسیر میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کراتے چلے آرہے ہیں کہ اہل زبان لغت کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ لغت اہل زبان کی محتاج ہوتی ہے۔ اس بات کو نہ سمجھنے کے باعث اس طرح کی بحثیں پیدا ہوتی رہی ہیں ‘ ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی کیونکہ اہل زبان نہ ہونے کے باعث جو سیکھا اور پڑھا گیا ہے اس کے مطابق کرنے کی کو شس ایک فطری امر ہے لیکن اہل زبان کا لغت کا پابند نہ ہونا بھی اپنی جگہ فطری بات ہے۔ اس جگہ اس لیے آپ کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ دو باغوں کا سلسلہ چلا ہے اور مسلسل چلتا ہی آرہا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ (In them there are women, good and gorgeous,...55:70) The word خَيْرَاتٌ khairat (translated above as 'good' ) refers to 'the good character of those women'; and the word حِسَانٌ hisan (translated above as 'gorgeous' ) refers to 'women who have beautiful features'. These qualities too will be common with the maidens of both the Gardens, to which reference was made in the foregoing verses.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
50 The word madhammatan has been used in praise of these gardens. Mudhamma is such luxuriant vegetation which because of its extreme luxuriance assumes a darkish hue.
Read the full tafseer →