Explained with ayahs 54–61
جنت یافتہ لوگ
جنتی لوگ بےفکری سے تکئے لگائے ہوئے ہوں گے خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہوگا پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہوگا اسے تم آپ سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہوگا جو سراسر اظہار رحمت و نور ہوگا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
سورة الرَّحْمٰن 45
یہ عورت کی اصل خوبی ہے کہ وہ بےشرم اور بیباک نہ ہو بلکہ نظر میں حیا رکھتی ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے درمیان عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ان کے حسن و جمال کی نہیں بلکہ ان کی حیا داری اور عفت مآبی کی تعریف فرمائی ہے۔ حسین عورتیں تو مخلوط کلبوں اور فلمی نگار خانوں میں بھی جمع ہوجاتی ہیں، اور حسن کے مقابلوں میں تو چھانٹ چھانٹ کر ایک سے ایک حسین عورت لائی جاتی ہے، مگر صرف ایک بد ذوق اور بد قوارہ آدمی ہی ان سے دلچسپی لے سکتا ہے۔ کسی شریف آدمی کو وہ حسن اپیل نہیں کرسکتا جو ہر بد نظر کو دعوت نظارہ دے اور ہر آغوش کی زینت بننے لیے تیار ہو۔
سورة الرَّحْمٰن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ، لفظ طمث کئی معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، حیض کے خون کو طمث کہتے ہیں اور حائضہ عورت کو طامث کہا جاتا ہے اور کنواری لڑکی سے مباشرت کو بھی طمث کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس جگہ یہی معنی مراد ہیں اور اس میں جو اس کی نفی کی گئی ہے کہ جن اہل جنت کے لئے یہ حوریں مقرر ہیں ان سے پہلے ان کو کسی انسان یا جن نے مس نہیں کیا ہوگا، اس کا مفہوم وہ بھی ہوسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ جو حوریں انسانوں کے لئے مقرر ہیں ان کو کسی انسان نے اور جو مومنین جنات کے لئے مقرر ہیں ان کو کسی جن نے ان سے پہلے مس نہیں کیا ہوگا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
(فیھن قصرت الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان، فبای الاء ربکما تکذبن، کا نھن الیاقوت والمرجان، فبای الاء ربکما تکذبین) (56۔ 59) (فیھن) میں ضمیر جمع کا مرجمع وہ تمام نعمتیں بھی ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اور جنت کے وہ تمام لان، چمن اور محل بھی جو لفظوں میں مذکورہ نہ سہی لیکن لوازم کی حیثیت سے وہ بدیہی طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ عربی میں اس طرح ضمیروں کا استعمال معروف ہے۔ اس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ فرمایا کہ عیش دوام کے ان باغوں اور سامانوں کے اندران کے لیے شرمیلی اور با حیا نازنینیں بھی ہوں گی۔ انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہوئی ہے کہ وہ چیز چیزوں سے اس وقت تک اچھی طرح لطف اندوز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
60۔ 1 پہلے احسان سے مراد نیکی اور اطاعت الٰہی اور دوسرے احسان سے اس کا صلہ، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
کانھن ............ والمرجان (55: 8 5) ” ہیرے اور موتی کی طرح خوبصورت “ چمکدار اور نرم ونازک۔
یہ ہے جزاء ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب کے مقام اور مرتبے سے ڈرتے تھے اور جنہوں نے اس کی عبادت اس طرح کی جیسا کہ گویا رب کو دیکھ رہے ہوں اور اس شعور کے ساتھ کہ وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ یوں وہ مرتبہ احسان تک پہنچ گئے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح وہ اپنی جزا از جانب رحمان پاگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
5 یعنی نیک بندگی کا بدلہ نیک ثواب کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ ان جنتیوں نے دنیا میں اللہ کی انتہائی عبادت کی تھی۔ گویا وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ اللہ نے ان کو انتہائی بدلہ دیا۔ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ) 32 ۔ السجدہ :17)
Read the full tafseer →آیت 59{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
38 پہلے احسان سے مراد اہل جنت کے وہ نیک اعمال ہیں جو وہ دنیا میں سرانجام دیتے رہے۔ اور دوسرے احسان سے مراد جنت کی وہ نعمتیں ہیں جن کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ سوالیہ فقرہ کی شکل میں لکھا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ نہیں بدلہ احسان کا مگر احسان۔ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
32۔ یہ سب ذکر خواص اہل جنت کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” احسان “۔ کے معنی حسن پیدا کرنے کے ہیں۔ جب بندوں نے طاعت و اطاعت میں حسن پیدا کرکے دکھا دیا تو کیسے ممکن ہے کہ مالک کی طرف سے صلہ وانعام بھی حسن کاری کی حد تک نہ پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →فبای الا ربکما تکذبان .
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
(58۔ 59) اور رنگت ان کی اس قدر صاف و شفاف ہوگی گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَا :”الیاقوت“ سرخ رنگ کا پتھر جو اتنا صاف شفاف ہوتا ہے کہ اس کے درمیان سوراخ میں دھاگہ ڈالا جائے تو باہر سے نظر آتا ہے۔”المرجان“ مونگے (چھوٹے موتی) کو کہتے ہیں۔ جتنی عورتوں کی سرخ و سفید رنگت ، دلکشی ، صفائی اور شفاعت میں انہیں یاقوت اور مرجان سے تشبیہ دی ہے۔ محمد (ابن سیرین) کہتے ہیں :(امام تفاخروا واما تذاکروا الرجال فی الجنۃ اکثرام النسائ ؟ فقال ابوہریرہ او لم یقل ابو القاسم ﷺ ان اول زمرۃ تدخل الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البلدر والتی تلیھا علی اضوا کوکب ذری فی السماء لکل امرء منھم زوجتاک اثنتان یری مخ سوقھما من وراء اللحم وما فی الجنۃ عزب) (مسلم الجنۃ وصفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
کانھن الیاقوت والمرجان۔ امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : ” اہل جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت کی پنڈلی کی سفیدی ستر حلوں سے دکھائی دے گی۔ یہاں تک کہ اس کا گودا بھی دکھائی دے گا۔ “ (3) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ جہاں تک یاقوت کا تعلق ہے وہ پتھر ہے اگر تو اس میں دھاگہ ڈالے پھر اسے صاف کرے تو وہ تو تجھے اس لڑی کو دکھا دے گا اسے موقف روایت کیا گیا ہے عمرو بن میمون نے کہا : حورعین میں سے ایک عورت ستر حلے پہنے گی اس کی پنڈلی کا مغز انکے باہر دکھائی دے گا جس طرح سفید جام میں سرخ شراب دکھائی دتی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : وہ یاقوت جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
14:۔ احمد وابن حبان والحاکم وصححہ والبیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' (گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں) کے بارے میں فرمایا کہ وہ اس کے چہرے کی طرف اس کے حسن میں دیکھے گا جو شیشے سے زیادہ صاف شفاف ہوگا اور اس پر ایک ادنی مشرق اور مغرب کے درمیان کو روشن کردے گا اور اس پر ستر جوڑے (کپڑوں کے) ہوں گے اس کی نگاہ اس کے پاس نکل جائے گی یہاں تک کہ اس کی پنڈلیوں کا گودہ بھی دیکھ لے گا اس کے پیچھے۔
15:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' کے بارے میں روایت…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
اہل جنت کی بیویاں :
اس کے بعد اہل جنت کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا یہ بیویاں دنیا والی بھی ہوں گی اور وہ حورعین بھی ہوں گی جن سے وہاں نکاح کیا جائے گا، ان سب کا حسن و جمال بھی بہت زیادہ ہوگا، وہ اپنی آنکھوں کو نیچے رکھیں گی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کو ذرا سی نظر بھی اٹھا کر نہ دیکھیں گی۔
مزید فرمایا ﴿ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ0056﴾ ان کے جنتی شوہروں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو اپنے رجولیت والے کام میں استعمال نہیں کیا ہوگا وہ بالکل بکر یعنی کنواری ہوں گی کسی مرد نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہوگا اور ہر مرتبہ ان کے پاس جائیں گے تو کنواری ہی پائیں گے۔ قال صاحب الروح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔
(ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
20:۔ فیھن قصرات الطرف۔ الایۃ۔ کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ جنت میں جنسی تسکین کی خاطر حوریں بھی ہوں گی جن میں ایک اچھی فیقہ حیات کے تمام اوصاف موجود ہوں گے وہ سراپا شرم و حیا ہوں گے اور اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھیں گی اور وہ کنواری ہوں گی جن کو ملیں گی ان سے پہلے کسی دوسرے جن یا انسان نے انہیں چھو اتک نہیں ہوگا۔ کانہن الیاقوت والمرجان۔ اخلاقی حسن کے علاوہ وہ ظاہری حسن و جمال کی بھی تصویر ہوں گی۔ وہ حسن صورت میں، رنگ روپ میں، چہرے کی چمک دم میں اور رنگ کی آب و تاب میں یاقوت و مرجان اور لعل و جواہر کی مانند ہوں گی۔ یہ بیشمار نعمتیں اہل جنت کو ملیں گی یہ سب اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ربطہ آیات
پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔
متقین کے لیے انعامات
ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 59
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
فِیْھِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ لا لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَـآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ کَاَنَّھُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 56 تا 59)
(ان میں شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جن کو ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا۔ تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ وہ حوریں ایسی ہوں گی گویا یاقوت اور مونگے ہوں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اہلِ جنت کے حرم کی شان
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہزاروں نعمتوں کے باوجود بیوی کی عدم موجودگی میں اپنی شخصیت میں خلاء محسوس کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی نعمتوں کا ذکر جاری ہے۔ جنت کی عورتوں کا حسن و جمال اور حیاء۔
جنت میں شرمیلی اور نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں جنتی سے پہلے کسی انسان اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ جنت کی حوریں اتنی خوبصورت ہوں گی جسے یاقوت اور مرجان خوبصورت اور پرکشش ہوتے ہیں یاد رہے کہ یاقوت اپنی سرخی میں بےمثال ہوتا ہے اور مرجان اپنی سفیدی میں بےمثل سمجھا جاتا ہے۔ جنتی کو اس لیے خوبصورت عورتیں دی جائیں گی کیونکہ یہ دنیا میں اللہ کے حکم کے مطابق نیکیاں کرتے رہے اور ہر نیکی کا بدلہ احسان ہی ہونا چاہیے۔
جنت کی عورتوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ انہیں انسانوں اور جنوں میں سے کسی نے چھوا نہیں…
Read the full tafseer →59 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Read the full tafseer →58 ۔” کانھن الیاقوت والمرجان “۔
کانھن الیاقوت والمرجان کی تفسیر
قتادہ (رح) فرماتے ہیں یاقوت کی چمک مرجان کی سفیدی میں۔ ابو سعید ؓ نے اہل جنت کی صفت میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ ہر آدمی کے لئے دو بیویاں ہوں گی، ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے، ان کی پنڈلیوں کا گودہ ان کے گوشت اور خون اور جلد کے نیچے سے دیکھا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، بیشک پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوں گے چودھویں کے چاند کی صورت پر، پھر جو ان کو ملے ہوں گے آسمان میں سب سے زیادہ چمک دار ستارہ کی طرح ان کے دلوں کی روشنی ایک آدمی کے دل پر ہوگی۔ ان میں کوئی اختلاف اور باہم بغض نہ ہوگا۔ ہر آدمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–61
54۔ 61۔ معتبر سند سے بیہقی 3 ؎ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ جس بچھو نے کا استر ریشمی کپڑے بیش قیمت کا ہوگا اس بچھونے کے بارے کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کیسا ہوگا استبرق دلدار ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں 4 ؎۔ مجاہد کے قول کے موافق جنت کی میوہ دار شاخیں ایسی حالت پر ہوں گی کہ کھڑے بیٹھے لیٹے سب طرح ان شاخوں میں کا میوہ جنتی لوگ کھا سکیں گے۔ صحیح بخاری 5 ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن اوفی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے لو مشرق سے مغرب تک ساری زمین پر اس کی خوبصورتی کی چمک پھیل جائے۔ بعض 1 ؎ روایتوں میں یوں بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
(كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
[ 50] اہل جنت کی بیویوں کے بےمثال حسن کا ذکر وبیان :
سو اہل جنت کی ان بےمثال بیویوں کے بےمثال حسن سیرت کے بیان کے بعد ان کے بےمثال حسن صورت کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسی ہونگی کہ گویا کہ وہ پیرے اور موتی ہیں۔ مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) وغیرہ کا کہنا ہے کہ وہ صفائی میں یاقوت [ ہیروں ] کی طرح ہوں گی۔ اور سفیدی و چمک میں مرجان [ موتیوں ] کی مانند۔ [ ابن کثیر، خازن، مراغی وغیرہ ] سو پہلے " قصرات الطرف " سے ان کے باطنی حسن کا بیان فرمایا گیا جو کہ ایک عورت کا اصل اور حقیقی حسن ہے، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں ذکر کیا گیا۔ اور اب یہ ان کی ظاہری حسن کا بیان ہے۔ سو وہ اپنی سیرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام
تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی)
یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔
اسرار ومعارف۔
جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 9 یعنی دنیا کے نیک عمل کا بدلہ آخرت میں نیک ہی دیا جائے گا … حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی : ” جسے توحید کی نعمت دی گئی اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ “ (شوکانی)
Read the full tafseer →(55:59) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78
ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 79
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–62
(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
[13] یعنی جب ان کا استر دبیز ریشم کا ہوگا تو ابرے کو اس سے قیاس کرلو کہ ابرا کیسا کچھ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 2: جنت کا نتیجہ ہے ۔ احسان کا ۔ یعنی خلوص کا ، فددیت کا ۔ اور ایثار کا ۔ جب بندے اس کی رضا کے لئے اپنی تمام آسودگیوں کو چھوڑ دیں گے ۔ اور آرام اور راحت کو ترک کردیں گے ۔ تو آقا بھی ان کے لئے ہر نوع کے سامان عیش کو مہیا کریگا ۔ اور ان کو خوش رکھے گا اور بتائے گا ۔ کہ اس پر بھروسہ کرنا بالکل جائز اور درست ہے ۔
Read the full tafseer →(59) سوتم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
ف 2۔ انہوں نے غایت اطاعت کی، صلہ میں غایت عنایت کے مورد ہوئے، اور اس کو بدلا فرمانا اور بصورت استفہام اس کے وجوب کی طرف اشارہ کرنا یہ سب بطور تفضل کے ہے نہ بمقتضائے حکم عقلی کے۔
Read the full tafseer →پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے
95 جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ آیت ترجیع ہے جو بار بار پیش کی جارہی ہے۔ گزشتہ آیت میں جنتی عورتوں کے جمال اور ان کی سچی دلربائی اور ان کی پاکدامنی اور ان کی آنکھوں کے شرمیلے پن کا ذکر تھا۔ گویا بتایا گیا تھا کہ
گہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں
اس طرح ان کی پاکدامنی اور عفت ما آبی کی مثال بیان کرنے کے بعد تنبیہاً دونوں گروہوں کو مخاطب کر کے پھر پوچھا جارہا ہے کہ کیا تم ایسی نعمتوں کا بیان سننے کے بعد بھی اللہ رب کریم کی نعمتوں کا انکار ہی کرو گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ (...whom neither a man will have touched before them, nor a Jinn....55:56). The word طْمِث tamth has different meanings. 'Menstrual discharge' is termed as tamth, and the menstruating woman as طْامِث 'tamith'. It also means 'sexual intercourse with a virgin'. This second sense is meant here in this verse.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
45 This is the real character of the woman: she should neither be shameless nor immodest, but should have modesty in her looks. That is why AIIah while making a mention of women among the blessings ofParadise has first of aII praised their modesty and chastity and not their beauty and physical charms. Beautiful women can get together in mixed clubs and film studios and beauty contests where the select beautiful women onlv are admitted. but a person of low taste and mentality only can show any interest in them. No noble person can find any charm in the beauty that attracts every evil look and…
Read the full tafseer →