Explained with ayahs 54–61
جنت یافتہ لوگ
جنتی لوگ بےفکری سے تکئے لگائے ہوئے ہوں گے خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہوگا پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہوگا اسے تم آپ سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہوگا جو سراسر اظہار رحمت و نور ہوگا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
سورة الرَّحْمٰن 45
یہ عورت کی اصل خوبی ہے کہ وہ بےشرم اور بیباک نہ ہو بلکہ نظر میں حیا رکھتی ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے درمیان عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ان کے حسن و جمال کی نہیں بلکہ ان کی حیا داری اور عفت مآبی کی تعریف فرمائی ہے۔ حسین عورتیں تو مخلوط کلبوں اور فلمی نگار خانوں میں بھی جمع ہوجاتی ہیں، اور حسن کے مقابلوں میں تو چھانٹ چھانٹ کر ایک سے ایک حسین عورت لائی جاتی ہے، مگر صرف ایک بد ذوق اور بد قوارہ آدمی ہی ان سے دلچسپی لے سکتا ہے۔ کسی شریف آدمی کو وہ حسن اپیل نہیں کرسکتا جو ہر بد نظر کو دعوت نظارہ دے اور ہر آغوش کی زینت بننے لیے تیار ہو۔
سورة الرَّحْمٰن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ، لفظ طمث کئی معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، حیض کے خون کو طمث کہتے ہیں اور حائضہ عورت کو طامث کہا جاتا ہے اور کنواری لڑکی سے مباشرت کو بھی طمث کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس جگہ یہی معنی مراد ہیں اور اس میں جو اس کی نفی کی گئی ہے کہ جن اہل جنت کے لئے یہ حوریں مقرر ہیں ان سے پہلے ان کو کسی انسان یا جن نے مس نہیں کیا ہوگا، اس کا مفہوم وہ بھی ہوسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ جو حوریں انسانوں کے لئے مقرر ہیں ان کو کسی انسان نے اور جو مومنین جنات کے لئے مقرر ہیں ان کو کسی جن نے ان سے پہلے مس نہیں کیا ہوگا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
(فیھن قصرت الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان، فبای الاء ربکما تکذبن، کا نھن الیاقوت والمرجان، فبای الاء ربکما تکذبین) (56۔ 59) (فیھن) میں ضمیر جمع کا مرجمع وہ تمام نعمتیں بھی ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اور جنت کے وہ تمام لان، چمن اور محل بھی جو لفظوں میں مذکورہ نہ سہی لیکن لوازم کی حیثیت سے وہ بدیہی طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ عربی میں اس طرح ضمیروں کا استعمال معروف ہے۔ اس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ فرمایا کہ عیش دوام کے ان باغوں اور سامانوں کے اندران کے لیے شرمیلی اور با حیا نازنینیں بھی ہوں گی۔ انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہوئی ہے کہ وہ چیز چیزوں سے اس وقت تک اچھی طرح لطف اندوز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
56۔ 1 جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی پر نہیں پڑیں گی اور ان کے اپنے خاوند ہی سب سے زیادہ حسین اور اچھے معلوم ہونگے۔
56۔ 2 یعنی باکرہ اور نئی نویلی ہوں گی۔ اس سے قبل وہ کسی کے نکاح میں نہیں رہی ہونگی۔ یہ آیت اور اس سے ماقبل کی بعض آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو جن مومن ہونگے وہ بھی مومن انسانوں کی طرح جنت میں جائیں گے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جو دیگر اہل ایمان کے لیے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
فیھن ................ والمرجان فبای الاء ربکما تکذبن (9 5) (55: 6 5 تا 9 5)
” ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے نہ چھوا ہوگا۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
قصرت الطرف (55: 6 5) ” شرمیلی نگاہوں والیاں “ پاکیزہ شعور رکھنے والیاں ہوں گی۔ ان کی نظریں جھکی ہوں گی اور وہ اپنے مالکوں کے سوا کسی اور کی طرف دیکھنے والیاں نہ ہوگی۔
لم یطمثھن (55: 6 5) ” ان کو چھوا نہ ہوگا “ نہ انسان نے نہ جن نے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
3 یعنی ان کی عصمت کو کسی نے بھی چھوا، نہ انہوں نے اپنے ازواج کے سوا کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا۔
Read the full tafseer →آیت 56{ فِیْہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ لا } ”ان میں ایسی عورتیں ہوں گی جن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔“
عورت کی جھکی ہوئی نگاہیں شرم و حیا کی علامت ہیں اور شرم و حیا نسوانیت کا خاص زیور بھی ہے اور اس کے اخلاق کا سب سے بڑا محافظ بھی۔ جنتی عورتوں کی جھکی ہوئی نظروں کا ذکر گویا ان کے حسن ظاہری و باطنی کا بیان ہے۔
{ لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَآنٌّ۔ } ”ان کو چھوا نہیں ہوگا ان سے پہلے نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے۔“
جنتی جنوں کی بیویاں ظاہر ہے انہی کی جنس سے ہوں گی جنہیں پہلے کسی جن نے نہیں چھوا ہوگا ‘ جبکہ انسانوں کی بیویاں انسان ہوں گی اور انہیں بھی پہلے کسی انسان نے نہیں چھوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
36 ان جنت کی عورتوں کی اولین اور اہم صفت یہ ہوگی کہ وہ شرمیلی اور حیادار ہوں گی اپنے شوہروں کے سوا کسی دوسرے کو دیکھنے کی کوشش نہ کریں گی۔ انتہائی خوبصورت ہونے کے باوجود دنیا کی عورتوں کی طرح اپنے چاہنے والوں سے آنکھیں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے والے نہیں ہوں گی۔ اور ان کی دوسری صفت یہ ہوگی کہ وہ باکرہ یا کنواری ہوں گی۔ اہل جنت کو حوروں کے علاوہ جو عورتیں ملیں گی وہ وہی ہوں گی جو اس دنیا میں ان کی بیویاں تھیں۔ اگر وہ اس دنیا میں صاحب اولاد تھیں یا بوڑھی ہوچکی تھیں۔ تب بھی انہیں نوخیز اور کنواری بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنوں میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
30۔ (یعنی ہر طرح غیر مستعمل اور اچھوتی) اس میں ایک بار پھر بشارت اور صراحت ہے کہ روحانی نعمتوں کے ساتھ ساتھ مادی لذتیں بھی اپنی تفصیلات وجزئیات کے ساتھ اہل جنت کو پوری طرح حاصل رہیں گی۔ اس دنیا سے کم نہیں زائد ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →فیھن قصرات الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان
ان (جنتوں) کے اندر نیچی نگاہ والیاں ہوں گی کہ ان جنتیوں سے پہلے ان پر نہ کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا ‘ نہ کسی جن نے
فِیْھِنَّ : جنتوں کے محلات میں یا من جملہ جنتوں کی نعمتوں کے۔
قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ : یعنی ایسی عورتیں جن کی نظریں اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کے اوپر نہیں پڑیں گے (نہ پڑی ہوں گی ‘ مترجم) بیہقی نے اس تشریح کی نسبت مجاہد کی طرف کی ہے۔
لَمْ یَطْمِثْھُنَّ.... یعنی انسانی عورتوں سے کسی انسان نے اور جنی عورتوں سے کسی جن نے مباشرت نہیں کی ہوگی۔ طمث کا لغوی معنی ہے ‘ خون۔ حیض کو بھی اسی وجہ سے طمث کہتے ہیں۔
ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بوساطت ابو طلحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(56۔ 57) اور ان تمام باغوں میں نیچی نگاہ والیاں حوریں ہوں گی جو صرف اپنے شوہروں پر قانع ہوں گی غیر کی جانب اصلا نگاہ اٹھا کر بھی دیکھنے والی نہ ہوں گے اور ان جنتی لوگوں سے پہلے ان پر نہ تو کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے یعنی انسانوں کے لیے جو حوریں ہیں ان کے خاوندوں سے پہلے کسی انسان نے ان کے ساتھ تصرف نہیں کیا ہوگا سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
1۔ فِیْہِنَّ قٰـصِرٰتُ الطَّرْفِ :”فیھن“ کی ضمیر ”فرش“ کی طرف جا رہی ہے۔”قصرت“ قصر قیصرقصرا“ (روکنا) سے اسم فاعل ہے ، آنکھوں کو خاوند پر روک کر رکھنے والیاں۔ جنت کے محلوں ، چشموں اور باغوں میں بچھے ہوئے بستروں میں جنتیوں کے دل لگانے والی عورتوں کے ظاہری و باطنی اوصاف اور ان کے کمال و جمال کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کا معنوی حسن بیان فرمایا کہ ان کی آنکھیں خاوندوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں اٹھیں گے اور نہ ہی ان کی نگاہ میں ان کی خاوندوں سے بڑھ کر کوئی ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک وصف ہی ہزاروں اوصاف پر بھاری ہے ، کوئی عورت کتنی ہی حسین و جمیل ہو، اس وصف سے عاری ہو تو مرد غیور کی نگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ھن ضمیر سے مراد دو مذکور باغات ہیں۔ زجاج نے کہا : فرمایا : نہیں کہا کیونکہ دونوں جنتیں اور جو نعمتیں ان کے لئے تیار کی گئی ہیں وہ مراد ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ھن ضمیر فرش کی طرف لوٹ رہی ہے جس کے بطائن استبرق کے ہیں یعنی ان فرش میں اطرف ہوں گی یعنی ایسی عورتیں ہوں گی جو نظریں جھکائے ہوئے ہوں گی جنہوں نے اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھا ہوگا وہ کسی اور کو نہ دیکھیں گی۔ سورة الصافات میں یہ بحث گزر چکی ہے طرف کو واحد ذکر کیا جبکہ یہ جمع کی طرف منسوب ہے کیونکہ یہ مصدر کے معنی میں ہے سے مشتق ہے پھر آنکھ کو یہ نام دیا تو واحد و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
حوریں غیر مردوں کو نہیں دیکھیں گی :
1:۔ ابن جریر (رح) وان المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن قصرت الطرف '' (اور جنتوں کے اندر نیچی نگاہ والیاں ہوں گی) سے مراد ہے کہ وہ نگاہ کو نیچی جھکائے ہوئے ہوں گی اپنے شوہروں پر وہ ان کی علاوہ کسی کو نہیں دیکھیں گی اللہ کی قسم نہ وہ اجنبی لوگوں پر اپنی زیب وزینت کو ظاہر کریں گی اور نہ اہی وہ انکے چہروں کی طرف دیکھیں گی۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن قصرت الطرف '' سے مراد…
Read the full tafseer →فِيْهِنَّ [ ان (نعمتوں) میں ] قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ۙ [ پلک نیچے رکھنے والیاں ہوں گے ] لَمْ يَطْمِثْهُنَّ [ ہاتھ لگایا ہی نہیں جن کو ] اِنْسٌ [ کسی انسان نے ] قَبْلَهُمْ [ ان سے پہلے ] وَلَا جَاۗنٌّ [ اور نہ کسی جن نے ]
ط م ث : (ض) طمثا ۔ چھونا ۔ ہاتھ لگانا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 56
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 56 ۔ سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ جنت میں نیک انسانوں کی طرح جن بھی داخل ہوں گے ۔ وہاں جس طرح انسان مردوں کے لیے انسان عورتیں ہوں گی اسی طرح جن مردوں کے لیے جن عورتیں بھی ہوں گی ۔ دونوں کی رفاقت کے لیے انہی کے ہم جنس جوڑے ہوں گے ۔ (تفہیم القرآن )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
اہل جنت کی بیویاں :
اس کے بعد اہل جنت کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا یہ بیویاں دنیا والی بھی ہوں گی اور وہ حورعین بھی ہوں گی جن سے وہاں نکاح کیا جائے گا، ان سب کا حسن و جمال بھی بہت زیادہ ہوگا، وہ اپنی آنکھوں کو نیچے رکھیں گی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کو ذرا سی نظر بھی اٹھا کر نہ دیکھیں گی۔
مزید فرمایا ﴿ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ0056﴾ ان کے جنتی شوہروں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو اپنے رجولیت والے کام میں استعمال نہیں کیا ہوگا وہ بالکل بکر یعنی کنواری ہوں گی کسی مرد نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہوگا اور ہر مرتبہ ان کے پاس جائیں گے تو کنواری ہی پائیں گے۔ قال صاحب الروح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔
(ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
20:۔ فیھن قصرات الطرف۔ الایۃ۔ کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ جنت میں جنسی تسکین کی خاطر حوریں بھی ہوں گی جن میں ایک اچھی فیقہ حیات کے تمام اوصاف موجود ہوں گے وہ سراپا شرم و حیا ہوں گے اور اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھیں گی اور وہ کنواری ہوں گی جن کو ملیں گی ان سے پہلے کسی دوسرے جن یا انسان نے انہیں چھو اتک نہیں ہوگا۔ کانہن الیاقوت والمرجان۔ اخلاقی حسن کے علاوہ وہ ظاہری حسن و جمال کی بھی تصویر ہوں گی۔ وہ حسن صورت میں، رنگ روپ میں، چہرے کی چمک دم میں اور رنگ کی آب و تاب میں یاقوت و مرجان اور لعل و جواہر کی مانند ہوں گی۔ یہ بیشمار نعمتیں اہل جنت کو ملیں گی یہ سب اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ربطہ آیات
پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔
متقین کے لیے انعامات
ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…
Read the full tafseer →فِيْہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ 0 ۙ لَمْ يَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَاۗنٌّ 56 ۚ
قصر
القِصَرُ : خلاف الطّول، وهما من الأسماء المتضایفة التي تعتبر بغیرها، وقَصَرْتُ كذا :
جعلته قَصِيراً ، والتَّقْصِيرُ : اسم للتّضجیع، وقَصَرْتُ كذا : ضممت بعضه إلى بعض، ومنه سمّي الْقَصْرُ ، وجمعه : قُصُورٌ. قال تعالی: وَقَصْرٍ مَشِيدٍ [ الحج/ 45] ، وَيَجْعَلْ لَكَ قُصُوراً [ الفرقان/ 10] ، إِنَّها تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ [ المرسلات/ 32] ، وقیل : الْقَصْرُ أصول الشّجر، الواحدة قَصْرَةٌ ، مثل : جمرة وجمر، وتشبيهها بالقصر کتشبيه ذلک في قوله : كأنّه جمالات صفر [ المرسلات/ 33] ، وقَصَرْتُه جعلته : في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
فِیْھِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ لا لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَـآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ کَاَنَّھُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 56 تا 59)
(ان میں شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جن کو ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا۔ تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ وہ حوریں ایسی ہوں گی گویا یاقوت اور مونگے ہوں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اہلِ جنت کے حرم کی شان
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہزاروں نعمتوں کے باوجود بیوی کی عدم موجودگی میں اپنی شخصیت میں خلاء محسوس کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی نعمتوں کا ذکر جاری ہے۔ جنت کی عورتوں کا حسن و جمال اور حیاء۔
جنت میں شرمیلی اور نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں جنتی سے پہلے کسی انسان اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ جنت کی حوریں اتنی خوبصورت ہوں گی جسے یاقوت اور مرجان خوبصورت اور پرکشش ہوتے ہیں یاد رہے کہ یاقوت اپنی سرخی میں بےمثال ہوتا ہے اور مرجان اپنی سفیدی میں بےمثل سمجھا جاتا ہے۔ جنتی کو اس لیے خوبصورت عورتیں دی جائیں گی کیونکہ یہ دنیا میں اللہ کے حکم کے مطابق نیکیاں کرتے رہے اور ہر نیکی کا بدلہ احسان ہی ہونا چاہیے۔
جنت کی عورتوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ انہیں انسانوں اور جنوں میں سے کسی نے چھوا نہیں…
Read the full tafseer →باغوں کی حالت :
56 : فِیْھِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلَاجَآنٌّ (ان باغوں میں نیچی نگاہ والیاں ہونگی کہ ان جنتیوں سے پہلے ان پر نہ کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا۔ نہ کسی جن نے) ھنؔ کی ضمیر جنتین کی طرف راجع ہے ان دو باغوں میں کیونکہ وہ باغ مقامات، محلات، مجالس پر مشتمل ہونگے۔ یا نمبر 2۔ یہ نعمتیں جو شمار کی گئیں جیسے دو باغ ‘ دو چشمے، میوے، فرش، تازہ پھل۔ قاصرات الطرفؔ ایسی عورتیں جن کی نگاہیں ان کے خاوندوں تک محدود رہنے والی ہونگیں کسی طرف نگاہ نہ اٹھائیں گئیں۔ لم یطمثھن۔
قراءت : اس کو دوری نے میم کے کسرہ اور علی نے میم کے ضمہ سے پڑھا ہے۔ الطمثؔ خون کے ساتھ…
Read the full tafseer →55 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–61
54۔ 61۔ معتبر سند سے بیہقی 3 ؎ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ جس بچھو نے کا استر ریشمی کپڑے بیش قیمت کا ہوگا اس بچھونے کے بارے کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کیسا ہوگا استبرق دلدار ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں 4 ؎۔ مجاہد کے قول کے موافق جنت کی میوہ دار شاخیں ایسی حالت پر ہوں گی کہ کھڑے بیٹھے لیٹے سب طرح ان شاخوں میں کا میوہ جنتی لوگ کھا سکیں گے۔ صحیح بخاری 5 ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن اوفی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے لو مشرق سے مغرب تک ساری زمین پر اس کی خوبصورتی کی چمک پھیل جائے۔ بعض 1 ؎ روایتوں میں یوں بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(فِيْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ۙ ) ان میں نیچی نگاہیں والی (حوریں) ہوگی اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انہیں پر جمی ہوں گی۔ ( لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ) یعنی ان سے پہلے انہیں جن وانس میں سے کسی نے حاصل نہ کیا ہوگا بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور نازواد کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
[ 49] اہل جنت کی بیویوں کی صفت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں ان کیلئے نیچی نگاہوں والی ایسی بیویاں بھی ہونگی جن کو ان جنتیوں سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے، اور وہ [ قٰصِرٰتُ الطرف ] یعنی " نیچی نگاہوں والی ہونگی "۔ یعنی وہ شرمیلی اور پاکیزہ نگاہوں والی۔ نیز یہ کہ ان کی نگاہیں اپنے شوہروں سے گزر کر اور کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی، یعنی وہ انتہاء درجہ کی وفا شعار ہوں گی۔ نیز ان کی سیرت و صورت کا کمال اس درجہ کا ہوگا کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے علاوہ اور کسی پر پڑنے نہ پائیں گی، اس طرح وہ پاکیزہ بیویاں اپنی نگاہوں کے ساتھ ساتھ اپنے شوہروں کی نگاہوں کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام
تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی)
یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔
اسرار ومعارف۔
جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ف 7 یعنی وہ پاک باز اور حیادار بھی ہوں گی اور بالکل کنواری بھی۔
Read the full tafseer →(55:56) فیھن : میں ضمیر جمع مؤنث غائب یا تو جنتوں کے محلات کے لئے ہے یا جنت کی جملہ نعمتوں کے لئے۔ ان باغات میں جو محلات اور مکانات ان جنتیوں کے لئے بنائے گئے ان میں ایسی عورتیں ہوں گئی جو شرم و حیا کا پیکر ہوں گی ان کی نگاہیں جھکی ہوں گے۔
قصرت الطرف : مضاف مضاف الیہ۔ قصرت اسم فاعل جمع مؤنث۔ قاصرۃ واحد قصر باب ضرب مصدر۔ نظر روکنے والیاں۔ پاک دامن عورتیں۔ وہ عورتیں جن کی نظر اپنے شوہروں سے ہٹ کر دوسروں پر نہ پڑے۔
قصر البصر کے معنی ہیں نظر کو روکا۔ نظر کو سمیٹا۔ الطرف نگاہ۔ اسم فاعل کی اضافت اپنے مفعول کی طرف کی گئی ہے۔
لم یطمثھن مضارع نفی تاکید۔ بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب ھن ضمیر مفعول جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78
ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 79
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–62
(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
[13] یعنی جب ان کا استر دبیز ریشم کا ہوگا تو ابرے کو اس سے قیاس کرلو کہ ابرا کیسا کچھ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
جنت کی عورتیں
1: یعنی وہاں جن عورتوں کی رفاقت نصیب ہوگی ۔ وہ اتنی باحیا اور با عصمت ہوں گی ۔ کہ ان کی نگاہیں صرف اپنے خاوندوں تک محدود رہیں گی ۔ وہ دوسروں کو پیارومحبت کی نظروں سے نہ دیکھیں گے ۔ اور نہ دوسروں کو چاہیں گی ۔ یہ ان حوران جنت کی تعریف بھی ہے ۔ اور نسوانی سیرت کا صحیح معیار بھی یعنی ایک ایک عورت کی سچی تعریف یہ نہیں ہے ۔ کہ اس کا حسن دلفریب ہو ۔
بلکہ اس کی محبت صرف خاوند کے دل تک محدود ہو ۔ اور وہ اپنی اداؤں کے ساتھ صرف اپنے آقا کی نظروں میں محبوب ہو ۔ یاقوت ومرجان کیساتھ تشبیہہ دینے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ تندرست اور خوبصورت ہونگی اور سرخ وسفید رنگ والی ہوں گی ۔
حل لغات :۔…
Read the full tafseer →(56) اور ان باغوں کے مکانات اور محلات میں نیچی نگاہ والی ایسی عورتیں ہوں گی جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے استعمال کیا ہوگا نہ کسی جن نے ان کو استعمال کیا ہوگا۔ یعنی بالکل محفوظ ہوں گی وہ حوریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
ف 2۔ انہوں نے غایت اطاعت کی، صلہ میں غایت عنایت کے مورد ہوئے، اور اس کو بدلا فرمانا اور بصورت استفہام اس کے وجوب کی طرف اشارہ کرنا یہ سب بطور تفضل کے ہے نہ بمقتضائے حکم عقلی کے۔
Read the full tafseer →ان کو ایسی عورتیں ملیں گی جو نظریں نیچی رکھنے والی ہوں گی اور وہ مستعمل بھی نہیں ہوں گی
65 (قصرت) کی اصل ق ص ر ہے۔ اسم فاعل جمع مؤنث قاصرۃ واحد۔ نظر کو روکنے والیاں پاک دامن عورتیں ‘ وہ عورتیں جن کی نظر اپنے شوہروں سے ہٹ کر دوسروں پر نہ جمے) راغب ، معجم السان العرب ، محلی ، خازن) اور نظر سے مراد خواہش نفسی کی نظر ہے۔ (قصر البصر) کے معنی ہیں نظر کو روکا اور نظر کو سمیٹا جو ایک عورت کے لیے نہایت ہی خوبی کی بات ہے۔ قرآن کریم نے اس کو (غض بصر) سے بھی تعبیر کیا ہے اور (قصربصر) سے بھی۔ (غض بصر) جس طرح عورتوں کے لیے ضروری ہے مردوں کے لیے بھی ہے۔ زیرنظر آیت میں چونکہ عورت کی خوبیاں بیان کرنا پیش نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ (...whom neither a man will have touched before them, nor a Jinn....55:56). The word طْمِث tamth has different meanings. 'Menstrual discharge' is termed as tamth, and the menstruating woman as طْامِث 'tamith'. It also means 'sexual intercourse with a virgin'. This second sense is meant here in this verse.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
45 This is the real character of the woman: she should neither be shameless nor immodest, but should have modesty in her looks. That is why AIIah while making a mention of women among the blessings ofParadise has first of aII praised their modesty and chastity and not their beauty and physical charms. Beautiful women can get together in mixed clubs and film studios and beauty contests where the select beautiful women onlv are admitted. but a person of low taste and mentality only can show any interest in them. No noble person can find any charm in the beauty that attracts every evil look and…
Read the full tafseer →