Explained with ayahs 54–61
جنت یافتہ لوگ
جنتی لوگ بےفکری سے تکئے لگائے ہوئے ہوں گے خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہوگا پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہوگا اسے تم آپ سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہوگا جو سراسر اظہار رحمت و نور ہوگا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
سورة الرَّحْمٰن 44
یعنی جب ان کے استر اس شان کے ہونگے تو اندازہ کرلو کہ ابرے کس شان کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ ، پہلے دو باغوں کی صفت میں فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ کے الفاظ سے تمام انواع فواکہ کا ہونا بیان فرمایا ہے، اس کے بالمقابل دوسرے باغوں میں فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ کے بجائے صرف فَاكِهَةٍ کے الفاظ ہیں اور زوجان کے معنی یہ ہیں کہ ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی، یہ دو قسمیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خشک و تر کی ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک تو عام معروف و مشہور اور مزے کی ہو اور دوسری غیر معمولی انداز کی (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(متکئین علی فرش بطائنھا من استبرق وجنا الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن) (54۔ 55)۔ یعنی یہ اہل جنت گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ایسے تختوں پر بیٹھے ہوں گے جن پر بچھے ہوئے فرشوں کے استر سبرق کے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جن بچھونوں کے استر استبرق کے ہوں ان کے بارے کا اندازہ کون کرسکتا ہے ! مزید یہ کہ دونوں باغوں کے اندر پھلوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ سروں پر لٹک رہے ہوں گے۔ انکے حاصل کرنے میں کسی کو کوئی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
54۔ 1 ابری یعنی اوپر کا کپڑا ہمیشہ استر سے بہتر اور خوبصورت ہوتا ہے، یہاں صرف استر کا بیان ہے، جس کا مطلب ہے کہ اوپر (ابری) کا کپڑا اس سے کہیں زیادہ عمدہ ہوگا۔
54۔ 2 اتنے قریب ہونگے کہ بیٹھے بیٹھے بلکہ لیٹے لیٹے بھی توڑ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
متکئین ............ استبرق (55:45) ” جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استردبیزریشم کے ہوں گے “ استبرق ریشمی مخمل جو دبیز ہوگا۔ اگر ان کے استرای سے ہوں گے تو ان کے ظاہری غلاف تو نہایت ہی خوبصورت ہوں گے۔ وجنا الجنتین دان (55:45) ” اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی “ یعنی اگر کوئی پھل توڑنا چاہے تو اسے کسی مشقت کا سامنا کرنا نہ ہوگا۔
لیکن انہی باتوں پر جنت کی نعمتیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اس سے بھی لطیف تر انعامات ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
1 جب ان کا استر دبیز ریشم کا ہوگا تو ابرے کو اسی سے قیاس کرلو۔ کیسا کچھ ہوگا۔
2 جس کے چننے میں کلفت نہ ہوگی۔ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں بےتکلف متمتع ہو سکیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 54{ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍم بَطَآئِنُہَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ط } ”وہ وہاں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ایسے بچھونوں پر جن کے استر گاڑھے ریشم کے ہوں گے۔“
یہاں پر جنت کے بچھونوں کے اندرونی کپڑے اَستر کا ذکر ہوا ہے کہ وہ گاڑھے یعنی موٹے ریشم کے بنے ہوں گے لیکن ان کے بیرونی غلافوں کا ذکر نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بیرونی غلافوں کی کیفیت ہمارے احاطہ خیال میں آ ہی نہیں سکتی۔
{ وَجَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ۔ } ”اور دونوں جنتوں کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔“
یعنی وہ اہل جنت میں سے ہر ایک کی پہنچ میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
35 ان آیات میں اہل جنت پر اللہ کے انعامات کا ذکر ہے یعنی جن بچھونوں پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھا کریں گے ان کا استر تو موٹے ریشم کا ہوگا اور ابرہ تو بہرحال اس سے بھی بہتر ہی کوئی کپڑا ہوگا جس کا وجود غالباً اس دنیا میں نہیں پایا جاتا۔ یہ بچھونے انہیں باغوں میں ہوں گے جو ان کی اپنی ذاتی قیام گاہیں ہوں گی اور ان باغوں کے پھل اتنے جھکے ہوئے ہوں گے کہ جب چاہیں اور جونسا پھل چاہیں اسی وقت ہاتھ سے پکڑ کر توڑ کر کھا سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
28۔ (اور جب استر یعنی اندر کا حصہ ایسا نفیس ہوگا جو ابرا یعنی باہر کا حصہ جیسا ہوگا ظاہر ہے)
29۔ (اہل جنت سے ہر حال میں) یعنی اہل جنت انہیں کھڑے، لیٹے بیٹھے، ہر حال میں اور ہر وضع میں بلاادنی مشقت وتعب حاصل کرلیا کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →متکئین علی فرش بطائنھا من استبرق وجنا الجنتین دان
وہ لوگ تکیے لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور ان دونوں باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوگا۔
اَسْتَبْرَقٍ : دبیز ریشمی کپڑا ‘ ابون جریر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : تم کو کپڑے کے استر کی اطلاع دی گئی ہے (جب استر ایسا ہوگا) تو ابرے کی کیا کیفیت ہوگی۔ بغوی نے بھی یہ اثر حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے ‘ ابو نعیم نے سعید بن جبیر کا قول بیان کیا ہے کہ ابرہ نور جامد کا ہوگا (یعنی مجسم نور کا) بغوی نے سعید بن جبیر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ استبرق کا جب استر ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
(53۔ 55) اور وہ لوگ خوشی میں تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے غلاف باریک رشیم کے ہوں گے اور ان دونوں باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوگا کہ کھڑے بیٹھے ہر طرح ہاتھ آسکتا ہے سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
1۔ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍ م۔۔۔۔۔”مُتَّکِئِیْنَ“”و کی“ سے ”اتکا یت کی اتکا“ (افتعال) ہے اسم فاعل ”من کی“ کی جمع ہے ، پہلو پر کہنی کے سہارے لیٹے ہوئے یا ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے شخص کو کہتے ہیں۔”فرش“ ”فراش“ کی جمع ہے ، جیسے ”کتاب“ کی جمع ”کتب“ ہے۔ ”بطائن“ ”بطانۃ“ کی جمع ہے ، گدے کے بیرونی حصے کو ”ظھارۃ“ اور اندرونی حصے کو ”بطانۃ“ کہتے ہیں۔ اردو میں ”بطانۃ“ کو استر اور ”ظھارۃ“ کو ابرا کہتے ہیں۔ ”استبرق“ موٹا ریشم جس میں سونے کی تاریں ہوں۔ یعنی اپنے رب سے ڈرنے والے یہ جنتی بےفکری کے ساتھ ایسے بستروں پر ٹیک لگا کر بیٹھے یا لیٹے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے۔ جب استر ایسے ہوں گے تو ابرے کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
زوجن کا معنی ہے دو قسم کے، دونوں میٹھے ہوں گے جن سے لذت حاصل کی جائے گی حضرت ابن عباس نے کہا : دنیا میں کوئی میٹھا یا کڑوا درخت نہیں ہوگا مگر وہ جنت میں میٹھا ہوگا یہاں تک کہ تنبہ بھی میٹھا ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دو قسم کے پھل تر اور خشک ہوں گے فضلیت اور خوشبو میں یہ دوسرے سے کم درجہ کا نہیں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارادہ کیا گیا ہے کہ یہ دو جنتیں ان دو جنتوں سے فضلیت والی ہیں جو ان سے مرتبہ میں کم ہیں کیونکہ یہاں کا ذکر کیا جو پانی بہار رہے ہوں گے۔ نضح کی صورت میں جری کی بنسبت پانی کم نکلتا ہے گویا فرمایا : ان دونوں جنتوں میں ہر پھل کی ایک قسم ہے اور اس جنت میں ہر پھل کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
35:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) فی الزوائد وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' متکئین علی فرش بطآئنھا من استبرق '' (وہ لوگ تکیہ لگائے ہوئے ایسے گدوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے یعنی تم کو اندر کے کپڑوں کی خبر دی گئی اور ظاہری کپڑے کیسے ہوں گے۔
36:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) '' متکئین علی فرش بطآئنھا من استبرق '' (اور) استبرق فارسی زبان میں گاڑھے ریشم کو کہتے ہیں۔
37:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ [ ٹیک لگانے والے ہوتے ہیں ] عَلٰي فُرُشٍۢ [ بچھونوں پر ] بَطَاۗىِٕنُهَا [ جن کے استر ] مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ۭ [ چمکیلے ریشم سے ہوں گے ] وَجَنَا الْجَنَّـتَيْنِ [ اور دونوں باغ کے تازہ پھل ] دَانٍ [ نزدیک ہونے والے ہوں گے ]
ترکیب : (آیت ۔ 54) ۔ نوٹ کرلیں کہ استبرق کا ہمزہ ، ہمزہ الوصل نہیں ہے بلکہ ہمزۃ القطع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ من استبرق کے بجائے من استبرق آیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس لفظ کا باب استفعال سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک جامد لفظ ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ غیر عربی لفظ ہے۔ ڈکشنری میں بہرحال یہ مادہ ” ب ر ق “ کے تحت ہی دیا جاتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
متقی حضرات کے بستر :
متقی حضرات کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ان کے بستروں اور بیویوں کا بھی تذکرہ فرمایا، بستروں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جس کا استر یعنی اندر کا کپڑا استبرق یعنی دبیز ریشم کا ہوگا، دنیا میں جو بستر بچھائے جاتے ہیں ان میں ایک استر اوپر کا اور ایک استر نیچے کا ہوتا ہے اوپر والا نقش و نگار والا خوبصورت ہوتا ہے اور نیچے والا نقش و نگار والا نہیں ہوتا قیمتاً بھی اوپر والے کی نسبت گھٹیا ہوتا ہے، آیت میں اہل جنت کے بستروں کے نیچے والے حصے کے بارے میں بتایا کہ وہ دبیز یعنی موٹے ریشم کے ہوں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ تمہیں جنت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔
(ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
19:۔ فیھما عینن تجریان۔ ان باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے جن کا پانی صاف شفاف میٹھا اور خوشبودار ہوگا اس سے مراد تسنیم اور سلسبیل ہیں۔ قال الحسن البصری احداھما یقال لھا تسنیم والاخری السلسبیل (ابن کثیر ج 4 ص 277) ۔ ” فیھما من کل فاکہۃ زوجا “ جنت کا ہر میوہ کم از کم دو قسم کا ہوگا ہر ایک کی لذت جداگانہ ہوگی۔ متکئین علی فرش۔ بطائن، بطانۃ کی جمع ہے مراد اندرونی حصہ ہے۔ استبرق موٹا ریشم جن بستروں پر وہ آرام کریں گے ان کا اندرونی حصہ اعلی قسم کے موٹے ریشم کا ہوگا اس سے انداز کیا جاسکتا ہے کہ پھر وہ بستروں کے غلاف تو اس سے زیادہ اعلی قسم کے ہوں گے۔ (من استبرق) من دیباج ثخین واذا کانت البطائن کذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ربطہ آیات
پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔
متقین کے لیے انعامات
ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍؚبَطَاۗىِٕنُہَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ 0 ۭ وَجَنَا الْجَنَّـتَيْنِ دَانٍ 54 ۚ
تكأ
المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله،
( ت ک ء ) التکاء
( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔
فرش
الفَرْشُ : بسط الثّياب، ويقال لِلْمَفْرُوشِ : فَرْشٌ وفِرَاشٌ. قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍ م بَطَـآئِنُھَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ط وَجَنَا الْجَنَّـتَـیْنِ دَانٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 54، 55)
(وہ ایسے فرشوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور دونوں باغوں کے پھل ان کے سروں پر لٹک رہے ہوں گے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اہلِ جنت کی نشست اور آرام گاہ
اہلِ جنت ایسے تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے جن پر بچھے ہوئے فرشوں کے استر موٹے اور دبیز ریشم کے ہوں گے۔ اور اس سے اشارہ اس طرف ہے کہ جن بچھے ہوئے فرشوں کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے ان کے ابرے کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ اور پھلدار درختوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کے باغات کی بہاریں اور ان کے پھل۔
” اللہ “ کا خوف رکھنے والے جنتی کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے جن کے درخت طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ان باغات میں دو دو چشمے ہوں گے اور ان کے پھل بھی دو قسم کے ہوں گے۔ جنتی حضرات ایسے قالینوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے جن کے استر اطلس کے بنے ہوئے ہوں گے اور جنت کے پھل ان کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس ارشاد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جن اور انسان آخرت کی فکر پیدا کرلیں اور اپنے…
Read the full tafseer →54 : مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍم بَطَآ ئِنُھَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ وَجَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ (وہ لوگ تکیے لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہونگے جن کے استردبیز ریشم کے ہونگے) متکئین۔
نحو : یہ خائفین کی مدح کے طور پر منصوب ہے یا نمبر 2۔ اس سے حال ہے کیونکہ من خافؔ جمع کے معنی میں ہے۔ علی فرشؔ جمع فراش۔ بطائنھا ؔ جمع بطانَۃ اندرون۔ من استبرقؔ : موٹا ریشم۔ یہ لفظ معرب ہے۔ ایک قول یہ ہے ان کے ابرے سندس کے ایک قول ان کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ وجنا الجنّتینِ دانٍ یعنی ان کے پھل قریب ہونگے ان کو بیٹھا، کھڑا تکیہ لگائے ہوئے ہر طرح حاصل کرسکے گا۔
Read the full tafseer →53 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–61
54۔ 61۔ معتبر سند سے بیہقی 3 ؎ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ جس بچھو نے کا استر ریشمی کپڑے بیش قیمت کا ہوگا اس بچھونے کے بارے کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کیسا ہوگا استبرق دلدار ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں 4 ؎۔ مجاہد کے قول کے موافق جنت کی میوہ دار شاخیں ایسی حالت پر ہوں گی کہ کھڑے بیٹھے لیٹے سب طرح ان شاخوں میں کا میوہ جنتی لوگ کھا سکیں گے۔ صحیح بخاری 5 ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن اوفی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے لو مشرق سے مغرب تک ساری زمین پر اس کی خوبصورتی کی چمک پھیل جائے۔ بعض 1 ؎ روایتوں میں یوں بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ۭ ) وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم ہوں گے۔ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے نیز یہ کہ وہ تکیے لگائے ان بچھونوں پر بیٹھیں گے یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہوگا جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتی کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلی ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے ان کی خوبصورتی کیسی ہوگی۔ (وَجَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
[ 46] جنتیوں کے آرام و سکون کا ذکر وبیان :
سو ارشار فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ یعنی وہ انتہائی اطمینان و سکون اور امن و چین سے ہوں گے، کیونکہ اس طرح تکیہ لگا کر امن و سکون سے رہنا اسے نصیب ہوسکتا ہے جو ہر طرح سے مطمئن اور فارغ البال اور خوش باش ہو۔ اللّٰہم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین جنت تو ہوگی ہی امن وامان اور سکون و اطمینان کی جگہ، اور جس ایمان و اسلام سے یہ خوش نصیب اپنی دنیاوی زندگی میں سرفراز و سرشار رہے ہوں گے، اس کے صلے اور بدلے میں ان کو وہاں پر یہ دائمء، ابدی، اور بےمثال امن و سکون نصیب ہوگا، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام
تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی)
یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔
اسرار ومعارف۔
جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 5 یعنی جب انکے استر اس شان کے ہوں گے تو ابروں کا کیا کہنا۔
6 یعنی قریب ہوں گے تاکہ توڑنے میں وقت نہ ہو۔
Read the full tafseer →(55:54) متکئین : اسم فاعل جمع مذکر اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگانے والے۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے خائفین سے آیت (46) ۔ درآں حال یہ کہ وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (من خاف جمع کے معانی میں ہے)
فرش۔ فراش کی جمع بمعنی بستر، بچھونا۔ فرش وفراش مصدر (باب نصر، ضرب) ۔ الفرش کے اصل معنی کپڑے کو بچھانے کے ہیں۔ لیکن بطور اسم کے ہر اس چیز کو جو بچھائی جائے فرش وفراش کہا جاتا ہے۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ الذی جعل لکم الارض فراشا (2:22) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ آیت زیر غور کا ترجمہ ہوگا۔ ایسے بچھونوں پر جن کے استر اطلس کے ہوں گے۔
بطائنھا : مضاف مضاف الیہ۔ بطائن بطانۃ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78
ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 79
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–62
(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
[13] یعنی جب ان کا استر دبیز ریشم کا ہوگا تو ابرے کو اس سے قیاس کرلو کہ ابرا کیسا کچھ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
دورِ عیش کا آغاز
2: جنت نام ہے ۔ پوری آسودگی اور کامل عیش کا ۔ اور ایسی جگہ کا جہاں ہر آن اللہ کے فضل کی بارش ہوتی ہے ۔ اور انسان کو ہر نوع کے انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ یہ مقام ہے ، اللہ کی رحمت اور عفو کا ۔ یہ ٹھکانہ ہے ۔ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ہر جذبہ کو ٹھکرایا ہے ۔ اور تکلیفوں او صعوبتوں کو برداشت کیا ہے ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ اور فقر میں استغنا کا ثبوت دیا ہے ۔
جنہوں نے روح کی تسکین کے لئے جسم کی تذلیل کی ہے ۔ اور مظاہرہ عبودیت میں اپنا سب کچھ اس کی راہ میں صرف کیا ہے ۔ ان لوگوں کے لئے اب دور عیش و تقرب ہے ۔ ان…
Read the full tafseer →(54) اہل جنت ایسے فرشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استرو بیزریشم کے ہوں گے اور ان دونوں باغوں کے پھل بہت ہی قریب ہوں گے۔ استر کے ریشمین ہونے سے ابرے کی خوبی خود بخود سمجھ میں آسکتی ہے کیونکہ استر سے ابرابڑھیا ہوا کرتا ہے پھلوں کے قریب اور جھکے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان پھلوں کا حاصل کرنا بہت آسان ہوگا چاہے کھڑے ہو کر چاہے بیٹھ کرچا ہے لیٹے لیٹے وہ پھل حاصل کئے جاسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ف 1۔ قاعدہ ہے کہ ابرہ بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے پس جب استر استبرق کا ہوگا تو ابرہ کیسا کچھ ہوگا۔
Read the full tafseer →تکیہ لگائے ہوئے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر ریشم کے ہوں گے
45 (بطائن) بطانۃ کی جمع ہے اور بطانۃ ایک کپڑے کے نیچے جو کپڑا لگایا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں بطائنھا ان کے اندرس یا استر۔ جمع ہے ھاضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ڈرتے زندگی گزارنے والے تھے جنت میں جب ان کو سامان عیش و نشاط دیا جائے گا تو اس میں نہایت خوبصورت پلنگ بھی ہوں گے جن پر گدے اور بچھونے اور اوڑھنے کے سارے سیٹ میسر ہوں گے اور جو تکیے ان کے لیے تیار کیے گئے ہیں ان کا ذکر خاص کر کے کیا جارہا ہے کہ ان کے استر بھی استبرق کے ہوں گے جب کہ استبرق خالص ریشم کے موٹے کپڑے کو کہتے ہیں جو بہت ہی قیمتی گنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ (In both there are two kinds of every fruit...52). The phrase مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ "of every fruit " denotes that the first two gardens will comprehend all kinds of fruit. As opposed to this, verse [ 68] simply states فَاكِهَةٍ fakihah [=fruits ] about the second two gardens. The word زَوْجَانِ zawjan [ two kinds ] means every fruit will be of two types. This may be referring to one kind of dried fruits, and the other of fresh ones. It could also mean that one kind will be of normal taste, and the other of some extra ordinary flavor. [ Mazhari ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
44 That is, "When their lining will be of such superior quality, you may magine what will be the quality of the outer layer of the carpets."
Read the full tafseer →