Explained with ayahs 46–53
فکر آخرت اور انسان
ابن شوذب اور عطا خراسانی فرماتے ہیں آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) حضرت صدیق اکبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، حضرت عطیہ بن قیس فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
سورة الرَّحْمٰن 43
اس کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں باغوں کے پھلوں کی شان نرالی ہوگی۔ ایک باغ میں جائے گا تو ایک شان کے پھل اس کی ڈالیوں میں لدے ہوئے ہوں گے۔ دوسرے باغ میں جائے گا تو اس کے پھلوں کی شان کچھ اور ہی ہوگی۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ہر باغ میں ایک قسم کے پھل معروف ہوں گے جن سے وہ دنیا میں بھی آشنا تھا، خواہ مزے میں وہ دنیا کے پھلوں سے کتنے ہی فائق ہوں، اور دوسری قسم کے پھر نادر ہونگے جو دنیا میں کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ ، پہلے دو باغوں کی صفت میں فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ کے الفاظ سے تمام انواع فواکہ کا ہونا بیان فرمایا ہے، اس کے بالمقابل دوسرے باغوں میں فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ کے بجائے صرف فَاكِهَةٍ کے الفاظ ہیں اور زوجان کے معنی یہ ہیں کہ ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی، یہ دو قسمیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خشک و تر کی ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک تو عام معروف و مشہور اور مزے کی ہو اور دوسری غیر معمولی انداز کی (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(فیھما من کل فاکھۃ زوجن فبای الاء ربکما تکذبن) (52۔ 53) یعنی دونوں باغوں میں ایک ہی قسم کے پھل نہیں ہوں گے بلکہ دونوں میں الگ الگ قسموں کے پھل ہوں گے۔ لفظ ’ زوج ‘ یہاں ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے جس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
25۔ 1 یعنی ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ہر پھل دو قسم کا ہوگا، مذید فضل خاص کی ایک صورت ہے، بعض نے کہا کہ ایک قسم خشک میوے اور دوسری تازہ میوے کی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فیھما من کل فاکھة زوجن (55: 2 5) (دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں) یعنی متنوع اور ڈبل اقسام کے پھل ، وافر مقدار میں۔ اہل جنت کس حال میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
1 جب ان کا استر دبیز ریشم کا ہوگا تو ابرے کو اسی سے قیاس کرلو۔ کیسا کچھ ہوگا۔
2 جس کے چننے میں کلفت نہ ہوگی۔ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں بےتکلف متمتع ہو سکیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 52{ فِیْہِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوْجٰنِ۔ } ”ان دونوں میں ہر قسم کے میوے ہوں گے جوڑوں کی شکل میں۔“
یعنی ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
34 اس کے کئی مطلب لیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ ایک باغ کے پھلوں کا رنگ، ذائقہ اور خوشبو دوسرے باغ کے پھلوں سے بالکل جداگانہ ہوگی اور دوسرا یہ کہ شکل و صورت اور رنگ و بو ایک جیسا ہونے کے باوجود ان کے ذائقے الگ الگ ہوں گے اور تیسرا یہ کہ ایک باغ کے پھلوں سے تو اہل جنت متعارف ہوں گے اور دوسرے باغ کے پھل ان کے وہم و گمان میں بھی نہ آئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
27۔ یہ غالبا تلذذ میں تنوع کے بیان کے لیے ہے غرض یہ کہ روحانی، عقلی، فکری لذتوں کے ساتھ ساتھ جسمانی ومادی لذتیں بھی پوری طرح ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →زَوْجٰن : دو قسم کے۔ ایک قسم وہ جو نادر ہوگی (دنیا میں اس سے کوئی واقف نہ ہوگا) اور دوسری وہ جو معروف ہے (جس کے نام سے لوگ واقف ہیں) بعض نے کہا : تر اور خشک میوے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : دنیا میں جو میٹھے یا کڑوے پھل ہیں وہ سب جنت میں ہوں گے ‘ یہاں تک کہ حنظل بھی ہوگا ‘ مگر وہ کڑوا نہ ہوگا۔ ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے مسند میں اور ہناد نے الزہد میں اور ابن جریر و بیہقی نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جنت کے اندر جو چیزیں ہوں گی ‘ دنیا میں ان کے صرف نام ہی نام ہیں (کیفیت ‘ لذت ‘ حالت ‘ حقیقت ‘ مقدار وغیرہ جنت کی…
Read the full tafseer →اور ان دونوں باغوں میں ہر ایک میوے کی دو قسمیں ہوں گی یعنی رنگت اور ذائقہ میں جدا ہوں گے سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فِیْہِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوْجٰـنِ : ہر پھل کی دو قسموں سے مراد یا تو ایک وہ ہے جو دنیا میں تھی اور دوسری وہ جو نہ کسی نے سنی ، نہ دیکھی اور نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزارا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی پھل میں متعدد ذائقے ہوں گے ، جیسا کہ دنیا میں آدم ہی کو لے لیجئے ، ہر آدم کا ذائقہ جدا ہے۔ دنیا کے پھلوں کی جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ”زوجن“ تثنیہ کا لفظ جمع اور کثرت کے معنی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ کلام عرب میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔”التحریر والتنویر“ میں اس کے کئی شواہد ذکر کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
زوجن کا معنی ہے دو قسم کے، دونوں میٹھے ہوں گے جن سے لذت حاصل کی جائے گی حضرت ابن عباس نے کہا : دنیا میں کوئی میٹھا یا کڑوا درخت نہیں ہوگا مگر وہ جنت میں میٹھا ہوگا یہاں تک کہ تنبہ بھی میٹھا ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دو قسم کے پھل تر اور خشک ہوں گے فضلیت اور خوشبو میں یہ دوسرے سے کم درجہ کا نہیں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارادہ کیا گیا ہے کہ یہ دو جنتیں ان دو جنتوں سے فضلیت والی ہیں جو ان سے مرتبہ میں کم ہیں کیونکہ یہاں کا ذکر کیا جو پانی بہار رہے ہوں گے۔ نضح کی صورت میں جری کی بنسبت پانی کم نکلتا ہے گویا فرمایا : ان دونوں جنتوں میں ہر پھل کی ایک قسم ہے اور اس جنت میں ہر پھل کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
33:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھما من کل فاکھۃ زوجن '' (ان دونوں باغوں میں ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی، یعنی ان دو باغوں میں ہر قسم کا پھل ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ دنیا میں جو پھل میٹھا یا کڑوا نہیں ہے مگر وہ جنت میں موجود ہوگا یہاں تک کہ اندرائن بھی ہوگا۔
34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ پھلوں کے خوشے (لمبائی میں) صنعاء سے زیادہ دور ہیں۔
Read the full tafseer →فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ [ ان دونوں میں ہر پھل سے ] زَوْجٰنِ [دو جوڑے ہیں ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 52 ۔ میں پھلوں کے دو جوڑے کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں باغوں کے پھلوں کی شان نرالی ہوگی ۔ ایک باغ میں ایک شان کے پھل اس کی شاخوں میں لدے ہوئے ہوں گے۔ دوسرے باغ کے پھلوں کی شان کچھ اور ہی ہوگی ۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر باغ میں ایک قسم کے پھل جانے پہچانے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں بھی آشنا تھا ۔ اور دوسری قسم کے پھل نادر ہوں گے جو دنیا میں کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئے تھے ۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
اہل تقویٰ کی دو جنتیں اور اس کی صفات
ان آیات میں اہل جنت کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور ہر نعمت بیان کرنے کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے کہ اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، پہلے رکوع میں دنیاوی جنتوں کا تذکرہ فرمایا اور تیسرے رکوع میں آخرتک جنت کا تذکرہ کیا اور دوسرے رکوع میں جنات اور انسانوں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جس میں قیامت کے دن اور اس کے بعد دوزخ میں مجرمین مبتلا ہوں گے۔
مذکورہ بالا آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے، جنت خود بہت بڑا باغ ہے پھر اس باغ میں الگ الگ باغ ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔
(ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
19:۔ فیھما عینن تجریان۔ ان باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے جن کا پانی صاف شفاف میٹھا اور خوشبودار ہوگا اس سے مراد تسنیم اور سلسبیل ہیں۔ قال الحسن البصری احداھما یقال لھا تسنیم والاخری السلسبیل (ابن کثیر ج 4 ص 277) ۔ ” فیھما من کل فاکہۃ زوجا “ جنت کا ہر میوہ کم از کم دو قسم کا ہوگا ہر ایک کی لذت جداگانہ ہوگی۔ متکئین علی فرش۔ بطائن، بطانۃ کی جمع ہے مراد اندرونی حصہ ہے۔ استبرق موٹا ریشم جن بستروں پر وہ آرام کریں گے ان کا اندرونی حصہ اعلی قسم کے موٹے ریشم کا ہوگا اس سے انداز کیا جاسکتا ہے کہ پھر وہ بستروں کے غلاف تو اس سے زیادہ اعلی قسم کے ہوں گے۔ (من استبرق) من دیباج ثخین واذا کانت البطائن کذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ربطہ آیات
پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔
متقین کے لیے انعامات
ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…
Read the full tafseer →فِيْہِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِہَۃٍ زَوْجٰنِ 52 ۚ
فكه
الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ
[ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ :
حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل :
تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فِیْہِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوْجٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 52، 53)
(ان باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ )
مختلف قسموں کے پھل
یعنی ان باغوں میں ایک ہی قسم کے پھل نہیں ہوں گے جیسے دنیا میں ہر باغ میں ہوتے ہیں بلکہ دونوں میں الگ الگ قسموں کے پھل ہوں گے۔ ان باغوں کے پھلوں کی بھی شکلیں مختلف ہوں گی اور ان کے پھلوں کا لطف و لذت ایک دوسرے سے الگ الگ ہوگا۔ تنوع اس قدر ہوگا کہ نہ آنکھیں اس سے سیراب ہوں گی اور نہ کام و دہن کی لذت ختم ہونے میں آئے گی۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جو بالکل واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کے باغات کی بہاریں اور ان کے پھل۔
” اللہ “ کا خوف رکھنے والے جنتی کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے جن کے درخت طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ان باغات میں دو دو چشمے ہوں گے اور ان کے پھل بھی دو قسم کے ہوں گے۔ جنتی حضرات ایسے قالینوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے جن کے استر اطلس کے بنے ہوئے ہوں گے اور جنت کے پھل ان کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس ارشاد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جن اور انسان آخرت کی فکر پیدا کرلیں اور اپنے…
Read the full tafseer →52 : فِیْھِمَامِنْ کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوْجٰنِ (ان دونوں باغوں میں ہر میوے کی دو قسمیں ہونگی) دو قسمیں نمبر 1 جانی پہچانی ہوئی نمبر 2۔ انوکھی۔
Read the full tafseer →51 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
46۔ 53۔ جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجا لانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرمائے گا چناچہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں حشر کی گرمی اور پسینے کے وقت سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ ملنے کی عزت کا ذکر ہے ان سات شخصوں میں ایک شخص وہ ہے جس کو کوئی مالدار حسین عورت بدکاری کا پیغام دے اور وہ شخص اللہ کے خوف سے بدکاری نہ کرے۔ اس بات میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں بھی ایسے لوگوں کی عزت کا یہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ ) ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے (زوجن) دو دو انواع ہوں گی ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہوگا اور جو دوسری نوع میں نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[ 48] جنت کے پھلوں کی شان کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں باغوں کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ تاکہ یہ خوش نصیب لوگ لیٹے بیٹھے کھڑے جس طرح اور جب چاہیں ان سے متمتع ہوسکیں۔ سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے اس جنت اور اس کی ان نعمتوں کے۔ اللہ نسیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں باغون کے اندر پھلوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ سروں پر لٹک رہے ہوں گے، ان کے حاصل کرنے میں کسی کو کوئی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ { فی جنۃٍ عالیۃٍ قطوفھا دانیۃٌ۔ [ الھاقۃ : 22-23 پ 29] یعنی " وہ ایسی عالی شان جنت میں ہوں گے جس کے پھل جھکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام
تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی)
یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔
اسرار ومعارف۔
جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 4 ایک قسم وہ جس سے وہ دنیا میں آشنا تھا اور دوسری قسم وہ جو کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی تھی یا مطلب یہ ہے کہ ایک باغ میں ایک طرح کئے ہیں اور پھول ہوں گے اور دوسرے میں دوسری طرح کے واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(55:52) فیہما۔ ضمیر ھما تثنیہ مذکر مؤنث غائب جنتن کے لئے ہے۔
من کل فاکھۃ : من حرف جر۔ کل فاکھۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ فاکھۃ بمعنی ہر قسم کے میوے (نیز ملاحظہ ہو آیت 11 ۔ متذکرۃ الصدر۔
زوجن : زوج کا تثنیہ۔ زوجن قسم قسم ، وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نظیر ہو، یا نقیض ہو۔
ترجمہ : اور ان دونوں باغوں میں ہر طرح کے میووں کی دو قسمیں ہوں گی (ایک وہ جسے تم جانتے ہو اسے دیکھا اور چکھا بھی ہوگا۔ دوسرے وہ جو تمہارے لئے جو تمہارے لئے بالکل نئی ہوگی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78
ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 79
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–62
(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[12] دو قسمیں کئی اعتبار سے ہوسکتی ہیں، مثلاً رنگت، مزہ، خوشبو وغیرہ اور یہ جنتیوں کے حق میں مزید نعمت ہے کیونکہ آدمی کی طبیعت ایسی جدت پسند واقع ہوئی ہے کہ وہ ایک ہی طرح کی چیز کھاتے کھاتے اکتا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
دورِ عیش کا آغاز
2: جنت نام ہے ۔ پوری آسودگی اور کامل عیش کا ۔ اور ایسی جگہ کا جہاں ہر آن اللہ کے فضل کی بارش ہوتی ہے ۔ اور انسان کو ہر نوع کے انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ یہ مقام ہے ، اللہ کی رحمت اور عفو کا ۔ یہ ٹھکانہ ہے ۔ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ہر جذبہ کو ٹھکرایا ہے ۔ اور تکلیفوں او صعوبتوں کو برداشت کیا ہے ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ اور فقر میں استغنا کا ثبوت دیا ہے ۔
جنہوں نے روح کی تسکین کے لئے جسم کی تذلیل کی ہے ۔ اور مظاہرہ عبودیت میں اپنا سب کچھ اس کی راہ میں صرف کیا ہے ۔ ان لوگوں کے لئے اب دور عیش و تقرب ہے ۔ ان…
Read the full tafseer →(52) ان دونوں باغوں میں ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوگی۔ یعنی جس قدر قسمیں اسی قدر لذتیں اور مختلف مزے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ف 1۔ قاعدہ ہے کہ ابرہ بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے پس جب استر استبرق کا ہوگا تو ابرہ کیسا کچھ ہوگا۔
Read the full tafseer →اور دونوں باغوں میں ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں ہوں گی
25 باغات کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہوتی ہے کہ اس میں پھلوں کی اقسام میں فرق ہوتا ہے کہ ایک کے مقابلہ میں دوسرا زیادہ طبیعت کو اپنی طرف مائل کرے اور دو دو قسم سے مراد یہ نہیں کہ ایک درخت مثلاً انار کے پودے پر آم بھی ہوں اور انار بھی بلکہ دو اقسام سے مراد گھٹیا اور بڑھیا پھلوں سے ہے یا چھوٹے اور بڑے پھلوں سے یعنی جنس کے لحاظ سے الگ الگ نہیں ہوں گے بلکہ قسم کے لحاظ سے قسم قسم کے ہوں گے اور یہ باغات کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے کہ اس میں جہاں اچھے پھل ہوں وہاں بہت اچھے بھی ہوں یعنی بڑھیا سے بھی بڑھیا تاکہ پھل کھانے والے ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ (In both there are two kinds of every fruit...52). The phrase مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ "of every fruit " denotes that the first two gardens will comprehend all kinds of fruit. As opposed to this, verse [ 68] simply states فَاكِهَةٍ fakihah [=fruits ] about the second two gardens. The word زَوْجَانِ zawjan [ two kinds ] means every fruit will be of two types. This may be referring to one kind of dried fruits, and the other of fresh ones. It could also mean that one kind will be of normal taste, and the other of some extra ordinary flavor. [ Mazhari ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
43 This can have two meanings: (1) "The fruits of the two gardens will have their own special flavors and tastes. In one garden he will find one kind of the fatir clustering on its branches, and in the other, another kind." (2) 'In each garden there will be two kinds of fruit; one kind of the familiar fath known and tasted in the world, though much superior to that found in the world, and the other kind of the rare fruit never imagined and tasted before."
Read the full tafseer →