Ar-Rahmaan 55:50

Ar-Rahmaan · from ayah 50

55:50

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ ۟ۚفِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ‌ۚ

ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

In both of them are two springs, flowing.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:50

دونوں باغوں میں دو چشمے رواں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان دونوں (جنتوں) میں دو بہتے ہوئے چشمے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہی دو باغوں میں دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان میں دو چشمے بہتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان دونوں میں دو چشمے ہیں، جو بہ رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے اندر دو چشمے جاری ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

ان باغوں میں دو دو چشمے بھی بہتے ہی چلے جائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان میں دو چشمے بہ رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

In each of the two Gardens are two flowing springs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In both there are two flowing springs.

— Muhammad Taqi Usmani

In both there are two flowing springs.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In them (both) will be two springs flowing (free).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In both of them are two springs, flowing.

— Saheeh International

In the two gardens there will be two flowing springs.

— Muhammad Sarwar

In both of them are two fountains flowing.

— Muhammad Habib Shakir

In which, will be two fountains running.

— Abdul Majid Daryabadi

In them (each) will be two Springs flowing (free);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 46–53

فکر آخرت اور انسان ابن شوذب اور عطا خراسانی فرماتے ہیں آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) حضرت صدیق اکبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، حضرت عطیہ بن قیس فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–51

سورة الرَّحْمٰن 42 یہاں سے آخر تک آلاء کا لفظ نعمتوں کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور قدرتوں کے معنی میں بھی۔ اور ایک پہلو اس میں صفات حمیدہ کا بھی ہے۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو اس سلسلہ بیان میں اس فقرے کا بار بار دہرانے کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جھٹلانا چاہتے ہو تو جھٹلاتے رہو، خدا ترس لوگوں کو تو ان کے رب کی طرف سے یہ نعمتیں ضرور مل کر رہیں گی۔ دوسرے معنی لیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے نزدیک اللہ کا جنت بنانے پر قادر ہونا اور اس میں یہ نعمتیں اپنے نیک بندوں کو عطا کرنا غیر ممکن ہے تو ہوتا رہے، اللہ یقیناً اس کی قدرت رکھتا ہے اور وہ یہ کام کر کے رہے گا۔ تیسرے معنی کے لحاظ سے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–51

ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ، یہ پہلے دو باغوں کی صف ہے کہ بہت شاخوں والے ہوں گے، جس کا یہ اثر لازمی ہے کہ ان کا سایہ بھی گھنا ہوگا اور پھل بھی زیادہ ہوگا، دوسرے دو باغ جن کا ذکر آ گے آتا ہے ان میں یہ صفت مذکور نہیں، جس سے اس معاملہ میں ان کی کمی کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–51

(فیھما عینن تجرین فبای الاء ربکما تکذبن) (50۔ 51) اس کی شادابی و زرخیزی کی ضمانت کے لیے ان میں الگ الگ دو چشمے بھی روں دواں ہوں گے۔ تو بتائو اپنے رب کی کتنی نعمتوں کو جھٹلائو گے ! اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–61

9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–51

ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: 8 4 تا 55) ” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “ ذواتا افنان (55: 8 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50{ فِیْہِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ۔ } ”ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔“ یعنی ہر جنت میں ایک چشمہ رواں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

33 ایک چشمے کا نام تسنیم ہوگا اور دوسرے کا سلسبیل، اور یہ دونوں چشمے ہمیشہ جاری رہیں گے، کبھی خشک نہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 49–52

27۔ یہ غالبا تلذذ میں تنوع کے بیان کے لیے ہے غرض یہ کہ روحانی، عقلی، فکری لذتوں کے ساتھ ساتھ جسمانی ومادی لذتیں بھی پوری طرح ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فیھا عینن تجرین ” دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ بہتے جائیں گے ‘ تَجْرِیَانِ : بہتے ہوئے۔ بلندی کی جانب بہتے ہوئے یا نشیب کی جانب جس طرف کو اہل جنت چاہیں گے ‘ اسی طرف کو چشمے نکلیں گے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دونوں جنتوں میں دو چشمے رواں ہوں گے یا ہر ایک جنت میں دو ‘ دو چشمے ہوں گے بلکہ مراد یہ ہے کہ ہر جنت میں دو قسم کے چشمے ہوں گے خواہ سو ہوں یا ہزار یا اس سے کم و بیش کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : فِیْھَآ اَنْھٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرُ اٰمِنٍ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَذَّۃٍ لِّلشَّارِ بِیْنَ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی۔ اس سے معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 50–51

(50۔ 51) اور دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے جو جنتیوں پر خیر و رحمت و کرامت و برکت اور فضل خداوندی بہاتے چلے جائیں گے سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 50–51

فِیْہِمَا عَیْنٰـنِ تَجْرِیٰـنِ : چشمے دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جن سے اتنا پانی نکلتا ہے جو آگے بہنے لگتا ہے اور ندی نالے کی صورت اختیار کرلیتا ہے وہ ایک وہ جن سے پانی نکلتا ہے مگر اتنا ہی جتنا ان میں سے نکالا جاتا ہے ، جیسا کہ زمزم کا چشمہ پھوٹ کر نکلا اور ہاجرہ (علیہا السلام) نے اس کے گرد ریت وغیرہ کی منڈیر بنادی تو وہ وہیں رک گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”اللہ ام اسماعیل پر رحم فرمائے، اگر وہ اس کے گرد منڈیر نہ بناتی تو وہ ندی کی صورت میں جاری ہوجاتا“۔ (دیکھئے ، بخاری : 2368) مطلب یہ ہے کہ ان دونوں چشموں کا پانی ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں بلکہ بہہ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–51

یعنی ان دونوں باغوں میں جاری چشمے ہوں گے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جنتیوں پر زیادتی اور کرامت کے ساتھ پانی جاری کئے ہوں گے حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری سے یہ قول مروی ہے : وہ میٹھا پانی جاری کئے ہوں گے دونوں چشموں میں سے ایک تسنیم اور دوسرا سلسبیل ہوگا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے۔ دو چشمے ہوں گے جس طرح دنیا میں ہوتے ہیں ان کا پانی کئی گنا زیادہ ہوگا ان کے سنگریزے سرخ یا قوت اور سبز زبر جد کے ہوں گے ‘ ان کی مٹی کو فور کی ہوگی ‘ ان کا کیچڑ خوشبودار کستوری کا ہوگا ‘ اس کے کنارے زعفران کے ہوں گے۔ عطیہ نے کہا : ان میں سے ایک ایسے پانی کا ہوگا جو بدبودار نہیں ہوگا اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–51

24:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ مختلف رنگوں والے ہوں گے۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 26:۔ ھناد نے ضحاک (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 27:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے دونوں باغوں میں مختلف رنگ کے میوے ہوں گے۔ 28:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے کثیر شاخوں والے مراد ہیں۔ 29:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–53

اہل تقویٰ کی دو جنتیں اور اس کی صفات ان آیات میں اہل جنت کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور ہر نعمت بیان کرنے کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے کہ اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، پہلے رکوع میں دنیاوی جنتوں کا تذکرہ فرمایا اور تیسرے رکوع میں آخرتک جنت کا تذکرہ کیا اور دوسرے رکوع میں جنات اور انسانوں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جس میں قیامت کے دن اور اس کے بعد دوزخ میں مجرمین مبتلا ہوں گے۔ مذکورہ بالا آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے، جنت خود بہت بڑا باغ ہے پھر اس باغ میں الگ الگ باغ ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 50–55

19:۔ فیھما عینن تجریان۔ ان باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے جن کا پانی صاف شفاف میٹھا اور خوشبودار ہوگا اس سے مراد تسنیم اور سلسبیل ہیں۔ قال الحسن البصری احداھما یقال لھا تسنیم والاخری السلسبیل (ابن کثیر ج 4 ص 277) ۔ ” فیھما من کل فاکہۃ زوجا “ جنت کا ہر میوہ کم از کم دو قسم کا ہوگا ہر ایک کی لذت جداگانہ ہوگی۔ متکئین علی فرش۔ بطائن، بطانۃ کی جمع ہے مراد اندرونی حصہ ہے۔ استبرق موٹا ریشم جن بستروں پر وہ آرام کریں گے ان کا اندرونی حصہ اعلی قسم کے موٹے ریشم کا ہوگا اس سے انداز کیا جاسکتا ہے کہ پھر وہ بستروں کے غلاف تو اس سے زیادہ اعلی قسم کے ہوں گے۔ (من استبرق) من دیباج ثخین واذا کانت البطائن کذلک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–61

ربطہ آیات پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔ متقین کے لیے انعامات ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فِيْہِمَا عَيْنٰنِ تَجْرِيٰنِ۝ 50 ۚ عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ «3» ، وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا [ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–61

ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–51

فِیْہِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 50، 51) (ان دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ ) جنت میں بہتے ہوئے چشمے اہلِ جنت کو جو باغات دیئے جائیں گے ان کی سیرابی کے لیے الگ الگ دو چشمے بھی رواں دواں ہوں گے۔ کیونکہ پانی ہی کسی بھی باغ کی سرسبزی و شادابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ ان باغوں کی بھی سرسبزی کے لیے اس ضمانت کو فراہم کیا جائے گا۔ آگے آیت ترجیع ہے جو اپنے مفہوم میں واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–55

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے باغات کی بہاریں اور ان کے پھل۔ ” اللہ “ کا خوف رکھنے والے جنتی کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے جن کے درخت طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ان باغات میں دو دو چشمے ہوں گے اور ان کے پھل بھی دو قسم کے ہوں گے۔ جنتی حضرات ایسے قالینوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے جن کے استر اطلس کے بنے ہوئے ہوں گے اور جنت کے پھل ان کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس ارشاد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جن اور انسان آخرت کی فکر پیدا کرلیں اور اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

50 : فِیْھِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ (ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہونگے کہ بہتے جائیں گے) ھماؔ کی ضمیر باغات کی طرف راجع ہے تجریانؔ کا مطلب جہاں جنتی اوپر، نیچے ان کو بہنے کیلئے اشارہ کریگا بہتے جائیں گے۔ قولِ حسن (رح) : دو چشمے میٹھے پانی کے بہتے ہونگے نمبر : 1 تسنیم نمبر : 2 سلسبیل۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–53

46۔ 53۔ جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجا لانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرمائے گا چناچہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں حشر کی گرمی اور پسینے کے وقت سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ ملنے کی عزت کا ذکر ہے ان سات شخصوں میں ایک شخص وہ ہے جس کو کوئی مالدار حسین عورت بدکاری کا پیغام دے اور وہ شخص اللہ کے خوف سے بدکاری نہ کرے۔ اس بات میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں بھی ایسے لوگوں کی عزت کا یہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–51

ان جنتوں کے اندر ( عَيْنٰنِ تَجْرِيٰنِ ) دو چشمے بہہ رہے ہوں گے وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کرلے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–67

آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–51

[ 43] ان دونوں باغوں کی شادابی کا ذکر وبیان : سو ان دونوں باغوں کی سرسبزی و شادابی کے بیان کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ دو دونوں باغ ڈالیوں سے بھرپور ہوں گے۔ افنان یا تو جمع ہے فن کی، بمعنی نوع اور قسم، یا یہ جمع ہے فنن کی جس کے معنی شاخ کے آتے ہیں۔ سو ان دونوں باغوں میں قسما قسم کے درخت بھی ہوں گے اور طرح طرح کے پھل بھی، سو اس سے ان دونوں باغوں کی رزخیزی، شادابی اور ان کے برگ و بار کی کثرت کا ظاہر فرمایا گیا ہے، کہ وہ کوئی اجاڑ اور بیاباں قسم کے باغ نہیں ہوں گے، بلکہ وہاں پر ایک ایک درخت شاخوں، ٹہنیوں اور پھلوں کی کثرت سے رشک چمن ہوگا، اور یہ بھی صرف الفاظ کی حد تک ورنہ ان کی اصل حقیقت خدا ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 47–52

ف 4 ایک قسم وہ جس سے وہ دنیا میں آشنا تھا اور دوسری قسم وہ جو کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی تھی یا مطلب یہ ہے کہ ایک باغ میں ایک طرح کئے ہیں اور پھول ہوں گے اور دوسرے میں دوسری طرح کے واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:50) فیہا عینن تجریان : ان دونوں جنتوں میں دو چشمے جاری ہوں گے۔ عین اصل معنی آنکھ کے ہیں جو کہ بطور مؤنث مستعمل ہے اس کے معانی چشمہ، ندی، وغیرہ بطور استعارہ استعمال ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–62

(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–51

[11] یعنی جب دوزخ میں پیاس کے مارے ان کا برا حال ہوگا تو وہ بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے مگر وہاں کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اسی طرح انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–54

دورِ عیش کا آغاز 2: جنت نام ہے ۔ پوری آسودگی اور کامل عیش کا ۔ اور ایسی جگہ کا جہاں ہر آن اللہ کے فضل کی بارش ہوتی ہے ۔ اور انسان کو ہر نوع کے انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ یہ مقام ہے ، اللہ کی رحمت اور عفو کا ۔ یہ ٹھکانہ ہے ۔ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ہر جذبہ کو ٹھکرایا ہے ۔ اور تکلیفوں او صعوبتوں کو برداشت کیا ہے ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ اور فقر میں استغنا کا ثبوت دیا ہے ۔ جنہوں نے روح کی تسکین کے لئے جسم کی تذلیل کی ہے ۔ اور مظاہرہ عبودیت میں اپنا سب کچھ اس کی راہ میں صرف کیا ہے ۔ ان لوگوں کے لئے اب دور عیش و تقرب ہے ۔ ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) ان دونوں باغوں میں دو بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔ شاید یہ چشمے سلسبیل اور تسنیم کے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–54

ف 1۔ قاعدہ ہے کہ ابرہ بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے پس جب استر استبرق کا ہوگا تو ابرہ کیسا کچھ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور دونوں باغوں میں دو دو چشمے بہتے ہوں گے۔ 05 جب باغات کا ذکر آیا تو باغات کی سیرابی کا ذکر آنا بھی ضروری تھا کہ باغات کی خوبیوں میں یہ بھی خوبی ہے کہ وہ گھنے ہوں ‘ پھلوں سے لدھے ہوئے ہوں اور ان کے پانی دیئے جانے کا سارا انتظام صحیح اور درست چل رہا ہو تاکہ ضررت کے وقت ان کو پانی مہیا ہو سکے اور پھر یہ بھی کہ ایسا پانی ہو جو کہ کڑوا نہ ہو بلکہ بہت ہی میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہو جس سے وہ سیراب ہوتے ہوں تاکہ جوں ہی ان کو پانی کی ضرورت محسوس ہو تو پانی وہاں موجود ہو۔ اس تصور کے تحت یہ بات ارشاد فرمائی جارہی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کہ باغات تو ہوں گے لیکن ان کی سیرابی کا کوئی انتظام موجود ہی نہ ہو۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–51

ذَوَاتَا أَفْنَانٍ (both having lot of branches...55:48). This describes the first two Gardens. There will be plenty of trees abounding in. branches and consequently their shade will be dense, and the fruits will be in abundance. The other two Gardens are described later. No such qualities are mentioned about them, which may imply their relative deficiency in this quality.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

42 From here till the end, the word alaa ' has been used both for the blessings and forthe powers, and there is an aspect of the praiseworthy qualities too. in it. If we take the first meaning, the meaning of repeating the refrain in this context will be: "If you like to deny the blessings of AIIah, you may do so. The righteous will certainly receive these blessings from their Lord." In the second case the meaning would be: "If you think it is impossible for AIIah to create the Garden and bless His righteous servants with these bounties in it, you may think so. AIIah certainly lass the power…

Read the full tafseer →