Explained with ayahs 37–45
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہوگا
آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے آیت (وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ 16ۙ) 69۔ الحاقة :16) ایک اور جگہ ہے آیت (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا 25) 25۔ الفرقان :25) ، اور فرمان ہے آیت (اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :1) ، وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہوجائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
سورة الرَّحْمٰن 37
جرم کی حقیقی بنیاد قرآن کی نگاہ میں یہ ہے کہ بندہ جو اپنے رب کی نعمتوں سے متمتع ہو رہا ہے، اپنے نزدیک یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ نعمتیں کسی کی دی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ اسے مل گئی ہیں، یا یہ کہ یہ نعمتیں خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس کی اپنی قابلیت یا خوش نصیبی کا ثمرہ ہیں، یا یہ کہ یہ ہیں تو خدا کا عطیہ مگر اس خدا کا اپنے بندے پر کوئی حق نہیں ہے۔ یا یہ کہ خدا نے خود یہ مہربانیاں اس پر نہیں کی ہیں بلکہ یہ کسی دوسری ہستی نے اس سے کروا دی ہیں۔ یہی وہ غلط تصورات ہیں جن کی بنا پر آدمی خدا سے بےنیاز اور اس کی اطاعت و بندگی سے آزاد ہو کر دنیا میں وہ افعال کرتا ہے جن سے خدا نے منع کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ ، سیماء کے معنی علامت کے ہیں، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس روز مجرمین جن کو جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ ہوگا ان کی علامت یہ ہوگی کہ چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں ہوں گی، رنج و غم سے چہرے فق ہوں گے، فرشتے اسی علامت کے ذریعہ ان کو پکڑیں گے۔
نواصی ناصیتہ کی جمع ہے پیشانی کے بالوں کو کہا جاتا ہے نواصی اور اقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو سر کے بال پکڑ کر گھسیٹا جائے گا، کسی کا ٹانگیں پکڑ کر یا کبھی اس طرح کبھی اس طرح گھسیٹا جائے گا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں کو ایک جگہ جکڑ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(ھذا جہنم التی یکذب بھا المجرمون یطوفون بینھا و بین حمیم ان فبای الا ربکما تکذبن) (43۔ 45)۔
(آگ اور کھولتے پانی کے درمیان گردش)۔ فرمایا کہ یہ ہے اس جہنم کی تصویر جس کی مجرمین تکذیب کر رہے ہیں بالآخر وہ اس کی آگ اور اس کے کھولتے پانی کے درمیان پھیرے لگائیں گے۔ ’ ان ‘ اس پانی کی صفت کے لیے آتا ہے جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔ یہ ان کی انتہائی بےکسی کی تصویر ہے کہ جب دوزخ کی آگ ان کو جھلسے گی تو وہ پانی کی تلاش میں بھاگیں گے لیکن پانی کا حال یہ ہوگا کہ وہ گرمی کے آخری نقطہ پر پہنچا ہوا ہوگا۔ انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔ سورة غاشیہ میں ان کی اس حالت کی تویر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
44۔ 1 یعنی کبھی انہیں دکھتی ہوئی آگ کا عذاب دیا جائے گا اور کبھی کھولتے ہوئے گرم پانی، جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →ھذہ جہنم ................ المجرمون (55: 2 4) ” اس وقت کہا جائے گا یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے۔ “ یہ ہے تمہاری نظروں کے سامنے ، تم دیکھ رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
9 یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ یہ وہ ہی دوزخ ہے جس کا دنیا میں انکار کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 43{ ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوْنَ۔ } ”اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جہنم جسے مجرمین جھٹلایا کرتے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
30 شدت حرارت کی وجہ سے اہل دوزخ کو بار بار پیاس لگے گی اور وہ گرم پانی کے چشموں کی طرف دوڑیں گے جو گرمی کی وجہ سے کھول رہے ہیں۔ انہیں کھولتا پانی پلا کر واپس لایا جائے گا۔ تو پھر جلدی ہی انہیں پیاس پھر ستانے لگے گی۔ پھر وہ انہیں چشموں کی طرف دوڑیں گے اور یہ عمل لگا تار جاری رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
24۔ یعنی کبھی اس طرح معذب ہوں گے اس طرح۔ کبھی انہیں سابقہ دہکتی ہوئی آگ کے عذاب سے پڑے گا اور کبھی کھولتے ہوئے پانی کے عذاب سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان اس کی تشریح آگے والا فقرہ یعرف المجرمون بسیمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام کر رہا ہے کہ مجرم اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے، مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تم اولین اور آخرین جمع ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں ؟ مجرموں کے اترے ہوئے چہرے اور ذلت و ندامت سے جھکی ہوئی آنکھیں اور بدن سے چھوٹتا ہوا پسینہ خود ہی یہ راز فاش کردیں گے، اگر باز پرس ہوگی تو اس بات کی کہ تم نے یہ جرم کیوں کیا ؟ نہ یہ کہ کیا یا نہیں، یہ بعض مقام کا بیان ہے۔
نوای، ناصیۃ کی جمع ہے، پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں نواصی والاقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی…
Read the full tafseer →ھذہ جھنم التی یکذب بھا المجرموں . ” یہ ہے وہ جہنم جس کو منکر لوگ جھٹلاتے تھے۔
ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ یہ جہنم ہے جس کو دنیا میں مشرک نہیں مانتے تھے ‘ اس کی تکذیب کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اور فرشتے ان سے کہیں گے کہ یہ وہ جہنم ہے جس کو دنیا میں مشرک لوگ جھٹلاتے تھے کہ یہ نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوْنَ : یہ بات مجرموں سے کہی جائے گی (دیکھئے طور : 14) اور یہ بھی ہے کہ میں سمجھانے کے لیے یہ بات بتائی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
یعرف المجرمون بسیماھم۔ حضرت حسن بصری نے کہا : چہرے کی سیاہی اور آنکھوں کی زردی (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
(طہٰ ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آل عمران :106)
یعنی فرشتے ان کی پیشانیوں کو پکڑ لیں گے یعنی ان کے سروں کے اگلے حصہ کے بالوں اور ان کے قدموں سے پکڑ لیں گے اور انہیں جہنم میں پھینک دیں گے۔ نواصی ناصیہ کی جمع ہے۔ ضحاک نے کہا : اس کی پیشانی اور اس کے قدموں کو اس کی پشت کے پیچھے ایک زنجیر میں جمع کردیا جائے گا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : آدمی کی دونوں ٹانگوں کو پکڑا جائے گا اور ان دونوں اور اس کی پیشانی کو جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے گی ‘ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
28:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجرموں کو ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔
29:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔
30:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' فیؤخذ بالنواصی والاقدام '' کے بارے میں روایت کیا کہ زبانیہ (یعنی جہنم کے داروغے) ان کو پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں سے پکڑیں گے پھر ان کو…
Read the full tafseer →هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ [ یہ وہ جہنم ہے ] يُكَذِّبُ بِهَا [ جھٹلاتے تھے جس کو ] الْمُجْرِمُوْنَ [جرم کرنے والے لوگ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کے دن کفار انس و جانّ کی پریشانی، مجرمین کی خاص نشانی، پیشانی اوراقدام پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جانا
ان آیات میں قیامت کے دن کا کچھ حال بتایا ہے اور مجرموں کا دوزخ میں داخلہ اور وہاں جو ان کی بدحالی ہوگی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان حالات کا پیشگی اطلاع دینا بھی نعمت ہے تاکہ لوگ کفر سے اور بداعمالیوں سے بچیں اور قیامت کے دن بدحالی اور دوزخ کے داخلہ سے بچیں اس لیے ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا۔
اول تو یہ فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو تم دونوں پر آگ کے شعلے پھینکے جائیں گے اور دھواں بھی پھینکا جائے گا یہ دھواں بھی آگ ہی سے نکلا ہوا ہوگا چونکہ اس میں روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
17:۔ ” ھذہ جہنم “ اس سے پہلے ” یقال “ مقدر ہے۔ جب مجرمین کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت کہا جائیگا یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین نہیں مانتے تھے۔ اب جہنم کی آگ اور انتہائی گرم اور کھولتے ہوئے پانی سے ان کی تواضع کی جائیگی، ” اٰن “ ایسا گرم پانی جو حرارت کے انتہائی درجہ تک گرم ہو، اٰن متناہ اناہ وطبخہ بالغ فی الحرارۃ اقصاھا۔ اذا استغاثوا من النار جعل غیاثہم الحمیم (روح ج 27 ص 115) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان خصوصی انعامات کا ذکر کیا جو اس نے اپنی مخلوق اور خاص طور پر نسل انسانی پر کیے ہیں۔ پھر جزائے عمل کے بارے میں فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز فانی ہے اور باقی رہنے والی صرف پروردگار کی ذات ہے اس کے ساتھ انعامات کے سلسلے کو دہرا کر لوگوں کو یہ بات باور کرائی گئی کہ وہ محتاج ہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ سے ہی اپنی حاجات طلب کرتی ہے ۔ پھر وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر کیا۔ مجرمین کے متعلق فرمایا کہ ان پر آگ کے شعلے اور دھواں پھینکاجائے گا۔ مگر انہیں کسی طرف سے مدد نہیں مل سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے یہ جملہ بھی دہرایا کہ اے جنو اور انسانو…
Read the full tafseer →ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوْنَ 43 ۘ
جهنم
جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام
( ج ھ ن م ) جھنم
۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ترکیب : فاذا شرط فکانت جواب الشرط وقیل جو ابہ فیومئذ الخ فکانت علیٰ ھذاعطف۔ وقیل جو ابہ محذوف اے رأیت امرمھولا۔ کالدھان جمع دھن کقرط وقیراط ورمح و رماح۔ وقیل اسم مفرد کالخرام والادام۔ خبرتان علی کان الناقصۃ وحال علیٰ تقدیر کو نھا تا مۃ عن ذنبہ والضمیر للانس باعتبار اللفظ وان تاخر لفظاً تقدم رتبۃً ۔ والاخذ یستعمل بالباء تارۃً بغیر ھاتارۃً یقال اخذت الخطام واخذت بالخطام قالہ الکرخی یطوفون حال من المجرمون ویجوز ان یکون مستانفاً ان اسم فاعل منقوص کقاص۔ قال الزجاج انی یانی فھوآن اذا انتہٰی فی النضج والحرارۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا یرسل علیکما شواظ من نار کہ تم پر آگ کا شعلہ چھوڑا جائے گا۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ یُـکَذِّبُ بِھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰن۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 43 تا 45)
(یہ ہے وہ جہنم جس کی مجرم تکذیب کرتے رہے تھے۔ وہ اس کے اور اس کے کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گردش کرتے رہیں گے۔ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
منکرینِ قیامت کو تنبیہ
مجرمین کو جہنم میں پھینکنے کے ذکر کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ وہ جہنم ہے دنیا میں مجرم جس کا انکار کرتے رہے اور اس کی خبر کو جھوٹ بتلاتے رہے ہیں، لیکن آج جب اسی جہنم میں انھیں ڈالا جائے گا تو تب انھیں یقین آجائے گا کہ جہنم کی خبر غلط نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح جن اور انسانوں کے پاس زمین و آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کی طاقت نہیں اسی طرح باغی جن اور انسانوں کے پاس اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں۔
قیامت کے اسرافیل جونہی دن صورپھونکیں گے تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور وہ اس قدر ہلنا شروع ہوجائے گا کہ بالآخر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر گرپڑے گا۔ زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور محشر کے میدان میں لوگوں کو جمع کرلیا جائے گا۔ اس دن لوگوں کا حساب و کتاب پیش کرنے اور ان پر شہادتیں قائم کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ مجرم جن اور انسانوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں جرم کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے…
Read the full tafseer →43 : ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ یُکَذِّبُ بِھَا الْمُجْرِمُوْنَ (یہ وہ جہنم ہے جس کو منکر جھٹلاتے تھے)
Read the full tafseer →42 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “۔ پائوں کے پیشانیوں سے ملا دیا جائے گا پیچھے سے اور جہنم میں ڈالا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
37۔ 45۔ پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اس وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لئے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت نیا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے۔ ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صور کے بعد ہوگا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح 1 ؎ مسلم اور ترمذی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان کا طرح طرح کا…
Read the full tafseer →جنہوں نے وعدہ وعید کو جھٹلایا جب ان پر جہنم کی آگ بھڑکے گی تو ان سے کہا جائے گا (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) یہی وہ جہنم ہے جسے گناہ گار جھٹلاتے تھے۔ پس ان کی تکذیب ان کو رسوا کرے گی اور اب وہ اس کے عذاب اس کی سزا، اس کی بھرکتی ہوئی آگ اور اس کی بیڑیوں کا مزا چکھیں گے یہ ان کے لیے ان کی تکذیب کی جزا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
[ 39] مجرموں کی تحقیر و تذلیل کا ایک منظر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ دوزخ جس کو مجرم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ سو اپنی اس تکذیب کے نتیجے میں، اور اپنے اس کفر و انکار کے بدلے میں اب تم ہمیشہ اس عذاب کا مزہ چکھتے رہو، سو ایسے منکروں کیلئے آج اس کا موقع ہے کہ وہ اس کو جھٹلانے کے بجائے اس سے ڈرنے اور اس سے بچنے کی فکر و کوشش کریں، اور اس کو جھٹلانے کے اس سنگین جرم سے باز آجائیں کہ یہ محرومیوں کی محرومی ہے، اسی لئے قیامت کے روز تجزیح و توبیخ کے طور پر دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے، پس اب اس کا مزہ چکھو اور چکھتے رہو، والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کیسے آئے گی اور دوزخ کا عذاب
تشریح : جہنم کا ہولناک نقشہ اور قیامت کا خوفناک منظر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ اللہ کے رحمن ہونے کی دلیل ہے۔ کہ قبل از وقت اس غیب کی خبر سے مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ اس دن کی سختیوں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکنے کا بندوبست ابھی اس دنیا کی زندگی میں ہی کرلیا جائے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کی خبر نہ تو کوئی افواہ ہے نہ نجومیوں کی پیشگوئی ہے نہ ہی کوئی سائنسی خبر ہے کہ جو اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے بلکہ یہ اٹل، پکی اور سچی خبر ہے جو وحی الٰہی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کو اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس لیے قیامت کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 1 ینی دوزخ میں جلائے جائیں گے۔ پیاس لگے گی تو کھولتے ہوئے پانی کی طر لے جائے جائیں گے۔ پھر وہاں سے دوزخ کی طرف لائے جائیں گے۔ اس طرح دوزخ اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →(55:43) ھذا جھنم التی ۔۔ ای یقال لہم : ھذا جھنم ۔۔ الخ۔
بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنھم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
جنت کے اوصاف اور اہل جنت کی اعلی زندگی۔
(ف 1) جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب وکتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی بڑی عزت فرمائے گا کہ ایک جنت ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک ان کے خوف کے بدلے میں اس طرح ان کو دوجنتیں ملیں گی۔ اور وہ دو عالیشان باغ جن کے اوصاف بیان کرتا ہے کہ وہ دونوں باغ ایسے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں نہایت پر میوہ اور سایہ دار ہوں گی اور ان باغوں کی یہ بھی صفت ہے یعنی وہ ایسے باغ ہوں گے جن میں چشمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
[10] یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اس دن تمہارے جرائم کی تحقیق و تفتیش کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو محنت کرنا پڑے گی۔ محنت تو درکنار کسی سے اس کے جرم کی بابت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئے گی کیونکہ جیسے کہ آگے کی آیت میں فرمایا گیا وہاں ہر مجرم اپنے چہرے کی علامت سے پہچان لیا جائے گا کہ وہ کس درجے کا مجرم ہے۔ یہاں جس سوال کی نفی ہے وہ تحقیق و تفتیش کی نوعیت کا سوال ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہ آنے کی وجہ قرآن کے دوسرے مقامات پر یہ بیان ہوئی ہے کہ اس دن آدمی کے اعضاء سے اس کے جرائم کی شہادت ملے گی۔ رہا وہ سوال جو توبیخ یا ملامت یا استہزا اور طنز کی نوعیت کا ہوتا ہے اس کی نفی یہاں نہیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
گنہگار پہچانے جائینگے
2: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ مجرمین کا گروہ اپنی بداعمالیوں میں ممتاز اور منفرد حیثیت رکھے گا ۔ اور اپنی بےنور شکل و صورت اور سیاہ چہروں کی وجہ سے صاف پہچاناجائے گا ۔ ان کو دیکھتے ہی خوف زدہ ہوکر ہر شخص کہہ اٹھیگا ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں کسب انوار کی سعی نہیں کی ۔ انہوں نے دنیوی عزت ووجاہت کے لئے اللہ کا پیغام ٹھکرایا ہے ۔ اس لئے آج زشت رو ہیں ۔ اور نحوست کا پیکر ہیں ۔ ان کو سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جائیگا ۔ اور پاؤں باندھ لئے جائینگے اور پھر جہنم میں پھینک کر کہا جائیگا ۔ کہ یہ وہ مقام غضب وسخط ہے ۔ جس کا تم انکار کرتے تھے ۔ یہاں ہر نوع کی تکلیف کا سامنا ہے ۔ اور ہر قسم…
Read the full tafseer →(43) جہنم میں ڈالتے وقت کہا جائیگا وہ جہنم یہی ہے جس کو یہ مجرم جھٹلایا کرتے تھے اور جھوٹا بتایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ف 8۔ یہ شان خواص کی ہے کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف طاری ہوجاتا ہے اور ان سے معاصی بھی سرزد ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہی وہ دوزخ ہے جس کو گنہگار جھوٹ بتایا کرتے تھے۔
34 یہ وہی مجرم ہیں جن کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے اور یہی وہ دوزخ ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے گویا عذاب دینے والے فرشتے ایک طرف تو ان کو جکڑ رہے ہوں گے جس کو کہتے ہیں کہ فلاں کی مشکیں اور بازو باندھ دیئے گئے ہیں اس طرح ان کو باندھ کر اوندھے منہ دوزخ میں گرایا جائے گا اور ساتھ ہی یہ بات بھی ان کو کہی جائے گی کہ یہی وہ دوزخ ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ (The guilty ones will be recognized [ by the angels ] by their marks and will be seized by foreheads and feet...55:41). The word sima means 'a sign'. Hasan Basri (رح) says that the day when sentence will be passed against the guilty to go to Hell, the following will be their signs: They will be known by their dark faces and their blue eyes. Through grief their faces will turn pale. The angels will recognize the guilty by these signs and seize them.
The word نَّوَاصِي nawasi is the plural of نَاصِیۃُ nasiyah, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
37 The real basis of the crime according to the Qur'an is that the servant who is benefiting by the Blessings of his Sustainer; should harbour the misunderstanding that the blessings have been bestowed by no one, but have reached him of their own accord, or that the blessings are not the gift of God but the fruit of his own ability or good fortune, or that they are the gift of God, but God has no right on His servants, or that God Himself has not done him those favours but some other being has got these done him. These are the wrong concepts on account of which man becomes independent of God…
Read the full tafseer →