Explained with ayahs 37–45
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہوگا
آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے آیت (وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ 16ۙ) 69۔ الحاقة :16) ایک اور جگہ ہے آیت (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا 25) 25۔ الفرقان :25) ، اور فرمان ہے آیت (اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :1) ، وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہوجائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
سورة الرَّحْمٰن 37
جرم کی حقیقی بنیاد قرآن کی نگاہ میں یہ ہے کہ بندہ جو اپنے رب کی نعمتوں سے متمتع ہو رہا ہے، اپنے نزدیک یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ نعمتیں کسی کی دی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ اسے مل گئی ہیں، یا یہ کہ یہ نعمتیں خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس کی اپنی قابلیت یا خوش نصیبی کا ثمرہ ہیں، یا یہ کہ یہ ہیں تو خدا کا عطیہ مگر اس خدا کا اپنے بندے پر کوئی حق نہیں ہے۔ یا یہ کہ خدا نے خود یہ مہربانیاں اس پر نہیں کی ہیں بلکہ یہ کسی دوسری ہستی نے اس سے کروا دی ہیں۔ یہی وہ غلط تصورات ہیں جن کی بنا پر آدمی خدا سے بےنیاز اور اس کی اطاعت و بندگی سے آزاد ہو کر دنیا میں وہ افعال کرتا ہے جن سے خدا نے منع کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ ، سیماء کے معنی علامت کے ہیں، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس روز مجرمین جن کو جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ ہوگا ان کی علامت یہ ہوگی کہ چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں ہوں گی، رنج و غم سے چہرے فق ہوں گے، فرشتے اسی علامت کے ذریعہ ان کو پکڑیں گے۔
نواصی ناصیتہ کی جمع ہے پیشانی کے بالوں کو کہا جاتا ہے نواصی اور اقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو سر کے بال پکڑ کر گھسیٹا جائے گا، کسی کا ٹانگیں پکڑ کر یا کبھی اس طرح کبھی اس طرح گھسیٹا جائے گا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں کو ایک جگہ جکڑ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
(فیومیذ لا یسئل عن ذنبم انس ولا جان فبای الاء ربکما تکذبن یعرف المجرمون بسمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام فبای الا ربکما تکذبین) (39۔ 42)۔
(مجرموں کا جرم بےتحقیق واضح ہوگا)۔ یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اس دن تمہارے جرائم کی تفتیش و تحقیق کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کو کوئی محنت کرنی پڑے گی۔ محنت تو درکنار کسی سے اس کے جرم کی بابت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ اس دن ہر مجرم اپنی پیشانی سے پہچان لیا جائے گا کہ وہ کس درجے کا مجرم اور کس سزا کا مستحق ہے۔ سوال کی مختلف نوعتیں ہوتی ہیں۔ یہاں جس سوال کی نفی ہے وہ تحقیق و تفتیش کی نوعیت کا سوال ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہ آنے کی وجہ قرآن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
41۔ 1 یعنی جس طرح اہل ایمان کی علامت ہوگی کہ ان کے اعضائے وضو چمکتے ہونگے، اسی طرح گنہگاروں کے چہرے سیاہ، آنکھیں نیلگوں اور وہ دہشت زدہ ہونگے۔
41۔ 2 فرشتے ان کی پیشانیاں اور ان کے قدموں کے ساتھ ملا کر پکڑیں گے اور جہنم میں ڈال دیں گے، یا کبھی پیشانیوں سے اور کبھی قدموں سے انہیں پکڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
یعرف ................ تکذبن (3 4) (55: 1 4 ۔ 2 4) ” مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ اس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
یہ ایک سخت منظر ہے اور توہین آمیز بھی کہ جب ماتھوں اور پیشانی کے بالوں سے اور پاؤں سے پکڑکر کھینچے جائیں گے یعنی ماتھے اور پاؤں اکٹھے ہوں گے اور اس حالت میں جہنم رسید۔ کیا ایسے حالات میں تکذیب ہوگی۔
یہ منظر پیش نظر ہے۔ لوگوں کو پاؤں اور سر کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر جہنم میں پھینکا جارہا ہے اور جو لوگ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں وہ بھی گویا جہنم کے کنارے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سے بھی کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
7 یعنی چہروں کی سیاہی اور آنکھوں کی نیلگونی سے مجرم خود بخود پہچانے جائیں گے جیسے مومنین کی شناخت سجدہ اور وضو کے آثار و انوار سے ہوگی۔
8 یعنی کسی کے بال اور کسی کی ٹانگ پکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا۔ یا ہر ایک مجرم کی ہڈیاں پسلیاں توڑ کر پیشانی کو پاؤں سے ملا دیں گے اور زنجیر وغیرہ سے جکڑ کر دوزخ میں ڈالیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 41{ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰہُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ۔ } ”پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہروں سے ‘ پھر ان کو پکڑ اجائے گا پیشانی کے بالوں سے اور پائوں سے۔“
اس دن مجرمین کے اترے ہوئے چہرے ہی ان کی پہچان ہوں گے۔ چناچہ فرشتے انہیں ٹانگوں اور پیشانی کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر جہنم کی طرف اچھالتے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
29 ان کی خوف زدہ آنکھیں، گبھرائے ہوئے اور اترے ہوئے چہرے، دبی ہوئی آوازیں اور انہیں چھوٹتے ہوئے پسینے اس بات کی پہچان کے لیے کافی ہوں گے کہ یہ مجرم ہیں خواہ وہ جن ہوں یا انسان۔ ہر شخص ان کے چہرے پر مایوسی کے آثار اور چھائی ہوئی مردنی سے انہیں شناخت کرلے گا فرشتے ان کی پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر انہیں گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جا پھینکیں گے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے ان کی پیشانی اور قدموں کو اس طرح چلا دیں گے کہ ان کی ہڈی پسلی چور چور ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
23۔ (اور طرح طرح کی تعذیب کے ساتھ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے) (آیت) ’ یعرف المجرمون بسیمھم “۔ یعنی منکروں، مجرموں کا چہرہ خود ان کے جرائم کا آئینہ ہوگا، فرشتوں کو کسی مزید تحقیق کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ صوفیہ عارفین کی تحقیق ہے کہ ناسوت میں ہر معصیت کے نقوش چہرہ اور سارے جسم پر مرتسم ہوجاتے ہیں۔ اور آخرت میں یہی نقوش جو آج خفی ہیں خوب واضح ونمایاں ہوجائیں گے۔
سیرتے کو بر نہادت غالب ست
ہم برآں تصویر حشرت واجب است
حشر پر حرص سگ مردار خوار
صورت خو کے بود روز شمار
زانیاں راگندہ اندام نہاں
خمرخواراں رابود گندہ دہان
(مثنوی مولانائے روم (رح))
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان اس کی تشریح آگے والا فقرہ یعرف المجرمون بسیمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام کر رہا ہے کہ مجرم اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے، مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تم اولین اور آخرین جمع ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں ؟ مجرموں کے اترے ہوئے چہرے اور ذلت و ندامت سے جھکی ہوئی آنکھیں اور بدن سے چھوٹتا ہوا پسینہ خود ہی یہ راز فاش کردیں گے، اگر باز پرس ہوگی تو اس بات کی کہ تم نے یہ جرم کیوں کیا ؟ نہ یہ کہ کیا یا نہیں، یہ بعض مقام کا بیان ہے۔
نوای، ناصیۃ کی جمع ہے، پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں نواصی والاقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی…
Read the full tafseer →یعرف المجرموں بسیماھم فیوخذ بالنواصی والاقدام
” مجرم لوگ اپنے حلیے سے پہچان لیے جائیں گے۔ سو ان کے سر کے بال اور پاؤں پکڑ لیے جائیں گے۔
یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ : یہ ایک امکانی سوال کا جواب ہے۔ سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ جب مجرم انسان و جن سے اس کے جرم کے متعلق سوال ہی نہیں کیا جائے گا تو عذاب کے فرشتوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ مجرم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عذاب کے فرشتے مجرموں کے چہرے دیکھ کر شناخت کرلیں گے۔ ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔ اللہ نے فرمایا ہے : یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ۔ مختفی نے دیباج میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اور مجرم اپنے حلیہ سے پہچانے جائیں گے کیونکہ مشرکین کی سیاہ صورتیں اور نیکی آنکھیں ہوں گی سو ان کے سر کے بال اور پاؤں پکڑ لیے جائیں گے اور ان کو گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
1۔ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰہُمْ۔۔۔ (56) یعنی ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ، جیسا کہ فرمایا (یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج) (آل عمران : 106) ”جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے“۔ آنکھیں نیلی ہوں گی ، جیسا کہ فرمایا :(وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًا) طہٰ : 102) ”اور ہم مجرموں کو ان دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے“۔ اور اعمال نامے پیٹھ کے پیچھے بائیں ہاتھ میں پکڑ رکھے ہوں گے۔ دیکھئے سورة ٔ انشقاق (10) اور سورة ٔ حاقہ (25)۔
2۔ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ : یعنی ہر مجرم کو پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
یعرف المجرمون بسیماھم۔ حضرت حسن بصری نے کہا : چہرے کی سیاہی اور آنکھوں کی زردی (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
(طہٰ ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آل عمران :106)
یعنی فرشتے ان کی پیشانیوں کو پکڑ لیں گے یعنی ان کے سروں کے اگلے حصہ کے بالوں اور ان کے قدموں سے پکڑ لیں گے اور انہیں جہنم میں پھینک دیں گے۔ نواصی ناصیہ کی جمع ہے۔ ضحاک نے کہا : اس کی پیشانی اور اس کے قدموں کو اس کی پشت کے پیچھے ایک زنجیر میں جمع کردیا جائے گا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : آدمی کی دونوں ٹانگوں کو پکڑا جائے گا اور ان دونوں اور اس کی پیشانی کو جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے گی ‘ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
28:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجرموں کو ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔
29:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔
30:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' فیؤخذ بالنواصی والاقدام '' کے بارے میں روایت کیا کہ زبانیہ (یعنی جہنم کے داروغے) ان کو پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں سے پکڑیں گے پھر ان کو…
Read the full tafseer →يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ [ پہنچانے جائیں گے جرم کرنے والے لوگ ] بِسِيْمٰهُمْ [ اپنی علامت سے ] فَيُؤْخَذُ [ پھر اس کو پکڑ جائے گا ] بِالنَّوَاصِيْ [ پیشانیوں سے وَالْاَقْدَامِ [ اور قدموں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کے دن کفار انس و جانّ کی پریشانی، مجرمین کی خاص نشانی، پیشانی اوراقدام پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جانا
ان آیات میں قیامت کے دن کا کچھ حال بتایا ہے اور مجرموں کا دوزخ میں داخلہ اور وہاں جو ان کی بدحالی ہوگی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان حالات کا پیشگی اطلاع دینا بھی نعمت ہے تاکہ لوگ کفر سے اور بداعمالیوں سے بچیں اور قیامت کے دن بدحالی اور دوزخ کے داخلہ سے بچیں اس لیے ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا۔
اول تو یہ فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو تم دونوں پر آگ کے شعلے پھینکے جائیں گے اور دھواں بھی پھینکا جائے گا یہ دھواں بھی آگ ہی سے نکلا ہوا ہوگا چونکہ اس میں روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
16:۔ ” فیومئذ۔ الایۃ “ ظرفف یعرف سے متعلق ہے اور اصل میں فاء یعرف پر تھی، ظرف کو مقدم کیا گیا تو فاء اس پر رکھ دی گئی (رضی) حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن مجرم جنوں اور انسان سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھنے کی ضروری ہی نہیوں ہوگی بلکہ مجرمین اپنی مخصوص علامات سے پہچان لیے جائیں گے اور ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائیگا ایک فرشتہ بالوں سے اور دوسرا پاؤں سے پکڑے گا جیسا کہ سورة ق میں ارشاد ہے۔ القیا فی جہنم۔ الایۃ “ صیغہ تثنیہ دو پر دلالت کرتا ہے اور حقیقت پر محمول ہے تثنیہ سے تکرار مراد نہیں۔ ” سیماھم “ ان کے چہروں پر اہل جہنم کی مخصوص علامات ہوں گی جن سے وہ پہچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان خصوصی انعامات کا ذکر کیا جو اس نے اپنی مخلوق اور خاص طور پر نسل انسانی پر کیے ہیں۔ پھر جزائے عمل کے بارے میں فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز فانی ہے اور باقی رہنے والی صرف پروردگار کی ذات ہے اس کے ساتھ انعامات کے سلسلے کو دہرا کر لوگوں کو یہ بات باور کرائی گئی کہ وہ محتاج ہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ سے ہی اپنی حاجات طلب کرتی ہے ۔ پھر وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر کیا۔ مجرمین کے متعلق فرمایا کہ ان پر آگ کے شعلے اور دھواں پھینکاجائے گا۔ مگر انہیں کسی طرف سے مدد نہیں مل سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے یہ جملہ بھی دہرایا کہ اے جنو اور انسانو…
Read the full tafseer →يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰہُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ 41 ۚ
عرف
المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ : إدراک الشیء بتفکّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار،
قال تعالی: فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] ، فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ
[يوسف/ 58]
( ع رف ) المعرفۃ والعرفان
کے معنی ہیں کسی چیز کی علامات وآثار پر غوروفکر کرکے اس کا ادراک کرلینا یہ علم سے اخص یعنی کم درجہ رکھتا ہے اور یہ الانکار کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛
فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] پھر جس کو وہ خوب پہنچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس کافر ہوگئے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ترکیب : فاذا شرط فکانت جواب الشرط وقیل جو ابہ فیومئذ الخ فکانت علیٰ ھذاعطف۔ وقیل جو ابہ محذوف اے رأیت امرمھولا۔ کالدھان جمع دھن کقرط وقیراط ورمح و رماح۔ وقیل اسم مفرد کالخرام والادام۔ خبرتان علی کان الناقصۃ وحال علیٰ تقدیر کو نھا تا مۃ عن ذنبہ والضمیر للانس باعتبار اللفظ وان تاخر لفظاً تقدم رتبۃً ۔ والاخذ یستعمل بالباء تارۃً بغیر ھاتارۃً یقال اخذت الخطام واخذت بالخطام قالہ الکرخی یطوفون حال من المجرمون ویجوز ان یکون مستانفاً ان اسم فاعل منقوص کقاص۔ قال الزجاج انی یانی فھوآن اذا انتہٰی فی النضج والحرارۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا یرسل علیکما شواظ من نار کہ تم پر آگ کا شعلہ چھوڑا جائے گا۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلاَجَآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰـھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 39 تا 42)
(پس اس روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہ کی بابت پوچھا نہیں جائے گا۔ تو اے جن و انس ! تم اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرو گے۔ مجرم اپنی علامتوں سے پہچان لیے جائیں گے، اور انھیں پیشانی کے بال اور پائوں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ پس اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
منکرین کا جرم چہروں سے عیاں ہوگا
تم اولاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح جن اور انسانوں کے پاس زمین و آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کی طاقت نہیں اسی طرح باغی جن اور انسانوں کے پاس اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں۔
قیامت کے اسرافیل جونہی دن صورپھونکیں گے تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور وہ اس قدر ہلنا شروع ہوجائے گا کہ بالآخر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر گرپڑے گا۔ زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور محشر کے میدان میں لوگوں کو جمع کرلیا جائے گا۔ اس دن لوگوں کا حساب و کتاب پیش کرنے اور ان پر شہادتیں قائم کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ مجرم جن اور انسانوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں جرم کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے…
Read the full tafseer →41 : یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰھُمْ (اور مجرم لوگ اپنے حلیے سے پہچان لیے جائیں گے) وہ چہروں کی سیاہی اور آنکھوں کا نیلا پن ہوگا۔ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَ اصِیْ وَالْاَقْدَامِ (پس ان کے سر کے بال اور پائوں پکڑ لیے جائیں گے) کبھی ان کو پیشانی کے بالوں اور کبھی قدموں سے پکڑا جائے گا۔
Read the full tafseer →40 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
37۔ 45۔ پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اس وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لئے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت نیا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے۔ ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صور کے بعد ہوگا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح 1 ؎ مسلم اور ترمذی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان کا طرح طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں سے اور ان کے پاؤں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انہیں گھسیٹ کرلے جایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان سے محض زجر وتوبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہو اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →[ 36] مجرموں کی پہچان ان کے چہروں سے :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز مجروموں کو پہچان لیا جائے جائے گا ان کے چہروں کی نشانیوں سے۔ کہ ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہٌ ج فاما الذین اسودت وجوھھم قف اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون } [ آل عمران : 106] نیز فرمایا گیا۔ { یوم ینفخ فی الصور ونحشر المجرمین یومئذٍ زرقا۔} [ طہ : 102 پ 16] بہرکیف مجرموں کو ان کے چہرے مہروں سے پہچان لیا جائے گا اور ان سے پوچھنے اور سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی، رہا وہ سوال جو مجروں کی توبیخ و ملامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کیسے آئے گی اور دوزخ کا عذاب
تشریح : جہنم کا ہولناک نقشہ اور قیامت کا خوفناک منظر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ اللہ کے رحمن ہونے کی دلیل ہے۔ کہ قبل از وقت اس غیب کی خبر سے مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ اس دن کی سختیوں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکنے کا بندوبست ابھی اس دنیا کی زندگی میں ہی کرلیا جائے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کی خبر نہ تو کوئی افواہ ہے نہ نجومیوں کی پیشگوئی ہے نہ ہی کوئی سائنسی خبر ہے کہ جو اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے بلکہ یہ اٹل، پکی اور سچی خبر ہے جو وحی الٰہی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کو اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس لیے قیامت کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 12 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ جس روز کچھ چہرے سفید ہونگے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔ (آل عمران :106 اور یہ کہ ونحشر المجرمین یومئذ زرقا اور اس روز ہم مجرموں کو جمع کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلگوں ہوں گی۔ (طہ 102)
13 یعنی ایک زنجیر سے پیشانی اور پائوں دونوں کس کر جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے یا کبھی فرشتے انہیں مشانی کے اوپر کے بال پکڑ کر گھسیٹیں اور کبھی پائوں پکڑ کر۔
Read the full tafseer →(55:41) یعرف المجرمون : یعرف : مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ عرفان (باب ضرب) مصدر۔ المجرمون : اسم فاعل جمع مذکر اجرام (افعال) مصدر۔ جرم کرنے والے ۔ گناہ کرنے والے۔ نائب فاعل ۔ گنہگار لوگ پہچانے جائیں گے۔
بسیمہم : ب حرف جر۔ سیماہم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ سیما کے معنی نشانی۔ اور علامت کے ہیں۔ یہ اصل میں وسعی تھا۔ واؤ کا فاء کلمہ کی بجائے ع کلمہ کی جگہ رکھا گیا۔ تو سومی ہوا۔ پھر واؤ ماقبل مکسور واؤ کو یاء کرلیا گیا اور سیمی ہوگیا۔ ان کا چہرہ ۔ ان کی نشانی۔ اس صورت میں اس کا مادہ و س م ہے۔
مادہ س و م سے السیماء کے معنی علامت کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ سیماہم فی وجوھہم من اثر السجود (48:29)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
جنت کے اوصاف اور اہل جنت کی اعلی زندگی۔
(ف 1) جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب وکتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی بڑی عزت فرمائے گا کہ ایک جنت ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک ان کے خوف کے بدلے میں اس طرح ان کو دوجنتیں ملیں گی۔ اور وہ دو عالیشان باغ جن کے اوصاف بیان کرتا ہے کہ وہ دونوں باغ ایسے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں نہایت پر میوہ اور سایہ دار ہوں گی اور ان باغوں کی یہ بھی صفت ہے یعنی وہ ایسے باغ ہوں گے جن میں چشمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
[10] یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اس دن تمہارے جرائم کی تحقیق و تفتیش کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو محنت کرنا پڑے گی۔ محنت تو درکنار کسی سے اس کے جرم کی بابت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئے گی کیونکہ جیسے کہ آگے کی آیت میں فرمایا گیا وہاں ہر مجرم اپنے چہرے کی علامت سے پہچان لیا جائے گا کہ وہ کس درجے کا مجرم ہے۔ یہاں جس سوال کی نفی ہے وہ تحقیق و تفتیش کی نوعیت کا سوال ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہ آنے کی وجہ قرآن کے دوسرے مقامات پر یہ بیان ہوئی ہے کہ اس دن آدمی کے اعضاء سے اس کے جرائم کی شہادت ملے گی۔ رہا وہ سوال جو توبیخ یا ملامت یا استہزا اور طنز کی نوعیت کا ہوتا ہے اس کی نفی یہاں نہیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
گنہگار پہچانے جائینگے
2: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ مجرمین کا گروہ اپنی بداعمالیوں میں ممتاز اور منفرد حیثیت رکھے گا ۔ اور اپنی بےنور شکل و صورت اور سیاہ چہروں کی وجہ سے صاف پہچاناجائے گا ۔ ان کو دیکھتے ہی خوف زدہ ہوکر ہر شخص کہہ اٹھیگا ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں کسب انوار کی سعی نہیں کی ۔ انہوں نے دنیوی عزت ووجاہت کے لئے اللہ کا پیغام ٹھکرایا ہے ۔ اس لئے آج زشت رو ہیں ۔ اور نحوست کا پیکر ہیں ۔ ان کو سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جائیگا ۔ اور پاؤں باندھ لئے جائینگے اور پھر جہنم میں پھینک کر کہا جائیگا ۔ کہ یہ وہ مقام غضب وسخط ہے ۔ جس کا تم انکار کرتے تھے ۔ یہاں ہر نوع کی تکلیف کا سامنا ہے ۔ اور ہر قسم…
Read the full tafseer →(41) گناہگار اپنے چہرے کی علامت اور حلیے سے پہچانے جائیں گے پھر اس گناہ گار کو اس کی پیشانی کے بال اور اس کے پائوں ملا کر پکڑا جائے گا۔ یعنی سیاہ چہ رہے اور نیلی نیلی آنکھوں سے پہچانے جائیں گے اور جہنم میں ڈالتے وقت پیشانی کے بال اور ان کے پائوں پکڑ کر ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 7۔ یہ پہچان موقوف علیہ تعیین مجرمین کی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی حکمت سے اسی طرح واقع کردیں گے، اور یہ خبر دینا بھی ایک نعمت ہے۔
Read the full tafseer →گناہگاروں کا حلیہ ہی ان کے گناہوں کی ساری حقیقت کھول کر رکھ دے گا
14 وہ لوگ جو دنیا میں نافرمانیاں کرتے رہے اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے اس کی اصل وجہ کیا تھی ؟ یہی کہ ان کو اس بات کا یقین تھا کہ قیامت ویامت کچھ نہیں ہے اور اگر اس طرح کی کوئی چیز ہوئی بھی تو ہم کو ہمارے فلاں بزرگ اور فلاں پیر اس کی معصیت سے بچا لیں گے اور وہ ہماری سفارش کردیں گے تو سارا معاملہ حل ہوجائے گا۔ ان کو مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہا ی سے مجرم جب اپنی آنکھوں سے اس دن کو دیکھ لیں گے جس دن کا وہ انکار کرتے رہے تھے تو ان کے چہرے کی ہوائیاں اڑ جائیں گی اور پھر جب ان کو پکڑ لیا جائے گا اور وہاں کوئی ان کو چھڑانے کیلئے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ (The guilty ones will be recognized [ by the angels ] by their marks and will be seized by foreheads and feet...55:41). The word sima means 'a sign'. Hasan Basri (رح) says that the day when sentence will be passed against the guilty to go to Hell, the following will be their signs: They will be known by their dark faces and their blue eyes. Through grief their faces will turn pale. The angels will recognize the guilty by these signs and seize them.
The word نَّوَاصِي nawasi is the plural of نَاصِیۃُ nasiyah, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
37 The real basis of the crime according to the Qur'an is that the servant who is benefiting by the Blessings of his Sustainer; should harbour the misunderstanding that the blessings have been bestowed by no one, but have reached him of their own accord, or that the blessings are not the gift of God but the fruit of his own ability or good fortune, or that they are the gift of God, but God has no right on His servants, or that God Himself has not done him those favours but some other being has got these done him. These are the wrong concepts on account of which man becomes independent of God…
Read the full tafseer →