Ar-Rahmaan 55:39

Ar-Rahmaan · from ayah 39

55:39

فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّلَا جَآنٌّ ۟ۚفَيَوۡمَئِذٍ لَّا يُسۡـٴَـلُ عَنۡ ذَنۡۢبِهٖۤ اِنۡسٌ وَّلَا جَآنٌّ‌ۚ

اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then on that Day none will be asked about his sin among men or jinn.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:39

اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن کسی انسان اورکسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن سے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اس دن گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جِن سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو اُس دن نہ تو کسی انسان سے اُس کے گناہ کی بابت پوچھا جائے گا اور نہ ہی کسی جِن سے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن ّسے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت نہ پوچھا جائے گا (کہ آیا اس نے یہ گناہ کیا تھا یا نہیں ؟)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت سوال کی ضرورت نہیں ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس دن نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کسی جن سے

— مولانا اسحاق مدنی

اس روز کسی انسان اور جن سے اس کے جرم کے باب میں نہ پوچھا جائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس روز پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی نہ کسی جن سے اور نہ انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day there will be no need to ask either men or jinn about their sins.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

On that day, neither a man will be questioned about his sin, nor a Jinn.

— Muhammad Taqi Usmani

On that day, neither a man will be questioned about his sin, nor a Jinn.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, on that Day he will not be questioned about his sin, (neither) human nor Jinn.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On that day neither man nor jinni will be questioned of his sin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then on that Day none will be asked about his sin among men or jinn.

— Saheeh International

On that day there will be no need to ask mankind or jinn about his sin

— Muhammad Sarwar

So on that day neither man nor jinni shall be asked about his sin.

— Muhammad Habib Shakir

Of his sin will be questioned that Day neither man nor jinn.

— Abdul Majid Daryabadi

On that Day no question will be asked of man or Jinn as to his sin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–45

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہوگا آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے آیت (وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ 16؀ۙ) 69۔ الحاقة :16) ایک اور جگہ ہے آیت (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا 25؀) 25۔ الفرقان :25) ، اور فرمان ہے آیت (اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :1) ، وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہوجائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 36 اس کی تشریح آگے کا یہ فقرہ کر رہا ہے کہ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے "۔ مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تمام اولین و آخرین اکٹھے ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں۔ نہ کسی انسان یا جن سے یہ دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ وہ مجرم ہے یا نہیں۔ مجرموں کے اترے ہوئے چہرے اور ان کی خوف زدہ آنکھیں اور ان کی گھبرائی ہوئی صورتیں اور ان کے چھوٹتے ہوئے پسینے خود ہی یہ راز فاش کردینے کے لیے کافی ہوں گے کہ وہ مجرم ہیں۔ پولیس کے گھیرے میں اگر ایک ایسا مجمع آجائے جس میں بےگناہ اور مجرم، دونوں قسم کے لوگ ہوں، تو بےگناہوں کے چہرے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–40

فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَاۗنٌّ، یعنی اس دن کسی انسان یا جن سے اس کا گناہ نہ پوچھا جائے گا، اس کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے قیامت میں یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں جرم کیا ہے یا نہیں، وہ تو فرشتوں کے لکھے ہوئے اعمالناموں میں محفوظ اور اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں اس سے پہلے سے موجود ہے، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ فلاں جرم تم نے کیوں کیا، یہ تفسیر ابن عباس کی ہے، اور مجاہد نے فرمایا کہ فرشتے جو مجرمین کے عذاب پر مامور ہیں ان کو مجرمین سے پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ تم نے یہ جرم کیا ہے یا نہیں بلکہ ہر جرم کی ایک خاص نشانی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–42

(فیومیذ لا یسئل عن ذنبم انس ولا جان فبای الاء ربکما تکذبن یعرف المجرمون بسمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام فبای الا ربکما تکذبین) (39۔ 42)۔ (مجرموں کا جرم بےتحقیق واضح ہوگا)۔ یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اس دن تمہارے جرائم کی تفتیش و تحقیق کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کو کوئی محنت کرنی پڑے گی۔ محنت تو درکنار کسی سے اس کے جرم کی بابت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ اس دن ہر مجرم اپنی پیشانی سے پہچان لیا جائے گا کہ وہ کس درجے کا مجرم اور کس سزا کا مستحق ہے۔ سوال کی مختلف نوعتیں ہوتی ہیں۔ یہاں جس سوال کی نفی ہے وہ تحقیق و تفتیش کی نوعیت کا سوال ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہ آنے کی وجہ قرآن کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

39۔ 1 یعنی جس وقت وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ ورنہ بعد میں موقف حساب میں ان سے باز پرس کی جائے گی، بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ گناہوں کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، کیونکہ انکا تو پورا ریکارڈ فرشتوں کے پاس بھی ہوگا اور اللہ کے علم میں بھی۔ البتہ پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیے ؟ ، یا یہ مطلب ہے، ان سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ انسانی اعضا خود بول کر بتلائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–61

9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–40

فیومئذ ................ ولاجان فبای الا ربکما تکذبن (0 4) (44: 93۔ 0 4) ” اسی روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی ، پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ “ قیامت کے مقامات میں سے یہ بھی ایک مقام ہوگا اور اس میں مختلف مقامات ہوں گے۔ بعض جگہ بندوں سے ان کے کام کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ بعض مقامات میں کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔ بعض جگہ مجرم اپنے بارے میں جھگڑ رہے ہوں گے اور اپنے کرتوتوں کی ذمہ داری شرکاء پر ڈالیں گے۔ بعض مقامات ایسے ہوں گے کہ وہاں بولنے کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ نہ جھگڑنے کی اجازت ہوگی۔ قیامت کا دن طویل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 38–39

6 یعنی کسی آدمی یا جن سے اس کے گناہوں کے متعلق معلوم کرنے کی غرض سے سوال نہ کیا جائے گا کیونکہ خدا کو پہلے سے سب کچھ معلوم ہے۔ ہاں بطور الزام و توبیخ ضابطہ کا سوال کریں گے۔ کما قال (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :92) یا یہ مطلب ہو کہ قبروں سے اٹھتے وقت سوال نہ ہوگا بعد میں ہونا اس کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَآنٌّ۔ } ”تو اس روز پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی ‘ نہ کسی جن سے اور نہ انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں۔“ اگرچہ سوال و جواب بھی ہوں گے اور ایک ایک عمل کا حساب بھی ہوگا ‘ لیکن چونکہ ہر انسان اپنے اندرونی احوال کو خوب سمجھتا ہے : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } القیامۃ اس لیے میدانِ حشر میں ہر شخص کا چہرہ ہی گویا اس کے انجام کی خبر دے رہا ہوگا۔ اس کیفیت کا نقشہ قرآن میں جابجا دکھایا گیا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس دن کئی چہرے تروتازہ ہوں گے ‘ جبکہ کچھ چہروں پر مردنی چھارہی ہوگی۔ اس کیفیت کی عملی مثال ہمارے ہاں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 38–39

28 قیامت کے دن مختلف مواقع پر مجرموں سے مختلف قسم کا سلوک ہوگا۔ ایک موقع پر ان سے ٹھیک طرح باز پرس ہوگی جیسے فرمایا : (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 92 ۝ ۙ ) 15 ۔ الحجر :92) اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب مجرم اپنے گناہوں سے مکر جائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ مجرموں سے نہیں پوچھے گا۔ بلکہ ان کی زبانوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں اور جلدوں کو بولنے کا حکم دے گا۔ وہ ان اثرات کو بیان کریں گے جو اس جرم کے دوران ان پر مرتب ہوئے تھے۔ اس طرح ان کے خلاف شہادت قائم ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–39

22۔ (عالم الغیب کی واقفیت کے لیے کہ اسے خود ہی سب کچھ معلوم ہے) جس سوال کی یہاں نفی ہورہی ہے وہ علم واخبار کی غرض سے ہے۔ باقی جو سوال و حساب دوسروں کو معلوم کرائے یا خود مجرم پر حجت قائم کرے یا اسے عار دلائے یا اس پر کسی اور نوع سے مزید عذاب کے لیے ہو۔ ان میں سے کسی کی نفی یہاں مقصود نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–45

فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان اس کی تشریح آگے والا فقرہ یعرف المجرمون بسیمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام کر رہا ہے کہ مجرم اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے، مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تم اولین اور آخرین جمع ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں ؟ مجرموں کے اترے ہوئے چہرے اور ذلت و ندامت سے جھکی ہوئی آنکھیں اور بدن سے چھوٹتا ہوا پسینہ خود ہی یہ راز فاش کردیں گے، اگر باز پرس ہوگی تو اس بات کی کہ تم نے یہ جرم کیوں کیا ؟ نہ یہ کہ کیا یا نہیں، یہ بعض مقام کا بیان ہے۔ نوای، ناصیۃ کی جمع ہے، پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں نواصی والاقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولاجان تو اس روز کسی انسان و جن سے اسکے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا ‘ یعنی یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کام کیا تھا یا نہیں کیا تھا کیونکہ اللہ کو تو اس کا علم پہلے ہی ہوگا اور اعمالناموں والے فرشتے اعمال لکھ ہی چکے ہوں گے اور عذاب کے فرشتے صورت دیکھتے ہی پہچان لیں گے۔ ہاں ! اعمال کی باز پرس ہوگی یعنی یہ پوچھا جائے گا کہ جب تم کو ممانعت کردی گئی تھی تو تم نے ایسا کیوں کیا اور جب کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا تو ایسا کیوں نہیں کیا۔ اس وضاحت کے بعد اس آیت میں اور آیت : فَوَرَبِّکَ لَنَسْاَلَنُّھُمْ اَجْمَعِیْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ میں تضاد پیدا نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 39–40

(39۔ 40) اور قیامت کے دن حساب کے بعد کسی انسان اور جن سے اس کے عمل کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ مومن خودبخود اپنے سفید چمکدار چہرے سے پہچانا جائے گا یا یہ کہ کسی انسان اور جن سے اس کے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 39–40

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسَئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنِسٌ وَّلَا جَآنٌّ : یعنی اس دن یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کون مجرم ہے اور اس نے کیا گناہ کیا ہے ، کسی انسان یا جن سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی ، کیونکہ تمام مجرم اپنی علامت ہی سے پہچانے جائیں گے ، جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے :(یعرف المجرمون بسمھم) ”مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے“۔ اور جیسا کہ سورة ٔ قصص میں فرمایا :(وَلَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِھِمُ الْمُجْرِمُوْنَ) (القصص : 78)”اور مجرموں سے انکے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔“ ہاں ڈانٹنے ، ذلیل کرنے اور ملامت کرنے کے لیے ضرورپوچھا جائے گا : جیسا کہ فرمایا :(فَوَ رَبِّکَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے۔ (القصص) قیامت کے کئی مقامات ہیں کیونکہ وہ دن لمبا ہوگا بعض مقامت پر اس سے سوال کیا جائے گا اور بعض مواقع پر سوال نہیں کیا جائے گا یہ عکرمہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے جب وہ جہنم میں قرار پذیر ہوجائیں گے تو ان سے سوال نہیں کیا جائے گا۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : ان سے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے گناہوں کو ان پر محفوظ کر رکھا ہے اور فرشتوں نے انہیں لکھ رکھا ہے عوفی نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور حضرت حسن بصری اور مجاہد سے بھی یہ نقل کیا ہے (1) معنی ہے فرشتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–40

24:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیومئذلا یسئل عن ذنبہ انس ولا جآن '' (تو اس روز کسی انسان وجن سے اس کے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا) یعنی ان سے یہ سوال نہیں کرے گا کہ کیا تم نے یہ عمل کئے ہیں کیونکہ وہ خود اس کے بارے میں ان سے زیادہ جاننے والا ہے ان سے کہے گا کہ تم نے یہ یہ عمل کیوں کیا تھا۔ 25:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' فیومئذلا یسئل عن ذنبہ انس ولا جآن '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں ان سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھوں گا اور نہ ہی ان میں سے بعض سے بعض کے بارے میں پوچھوں گا اور یہ اسی قول کی طرح ہے جیسے فرمایا (آیت )…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔــلُ [ پھر اس دن نہیں پوچھا جائے گا ] عَنْ ذَنْۢبِهٖٓ [ اس کے گناہ کے بارے میں ] اِنْسٌ وَّلَا جَاۗنٌّ [ کسی انسان سے اور نہ کسی جن سے ] نوٹ۔ 1: قیامت کے دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ تم نے فلاں جرم کیا ہے یا نہیں کیونکہ ہو لوگ اپنی نشانی سے پہچانے جائیں گے ۔ مجاہد نے فرمایا کہ فرشتے جو مجرمین کے عذاب پر مامور ہیں ان کو مجرمین سے پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ تم نے یہ جرم کیا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ ہر جرم کی ایک خاص نشانی مجرمین کے چہروں سے ظاہر ہوگی ، فرشتے وہ نشانی دیکھ کر ان کو جہنم میں دھکیل دیں گے ۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–45

قیامت کے دن کفار انس و جانّ کی پریشانی، مجرمین کی خاص نشانی، پیشانی اوراقدام پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جانا ان آیات میں قیامت کے دن کا کچھ حال بتایا ہے اور مجرموں کا دوزخ میں داخلہ اور وہاں جو ان کی بدحالی ہوگی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان حالات کا پیشگی اطلاع دینا بھی نعمت ہے تاکہ لوگ کفر سے اور بداعمالیوں سے بچیں اور قیامت کے دن بدحالی اور دوزخ کے داخلہ سے بچیں اس لیے ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا۔ اول تو یہ فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو تم دونوں پر آگ کے شعلے پھینکے جائیں گے اور دھواں بھی پھینکا جائے گا یہ دھواں بھی آگ ہی سے نکلا ہوا ہوگا چونکہ اس میں روشنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–45

عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–42

16:۔ ” فیومئذ۔ الایۃ “ ظرفف یعرف سے متعلق ہے اور اصل میں فاء یعرف پر تھی، ظرف کو مقدم کیا گیا تو فاء اس پر رکھ دی گئی (رضی) حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن مجرم جنوں اور انسان سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھنے کی ضروری ہی نہیوں ہوگی بلکہ مجرمین اپنی مخصوص علامات سے پہچان لیے جائیں گے اور ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائیگا ایک فرشتہ بالوں سے اور دوسرا پاؤں سے پکڑے گا جیسا کہ سورة ق میں ارشاد ہے۔ القیا فی جہنم۔ الایۃ “ صیغہ تثنیہ دو پر دلالت کرتا ہے اور حقیقت پر محمول ہے تثنیہ سے تکرار مراد نہیں۔ ” سیماھم “ ان کے چہروں پر اہل جہنم کی مخصوص علامات ہوں گی جن سے وہ پہچانے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–45

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان خصوصی انعامات کا ذکر کیا جو اس نے اپنی مخلوق اور خاص طور پر نسل انسانی پر کیے ہیں۔ پھر جزائے عمل کے بارے میں فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز فانی ہے اور باقی رہنے والی صرف پروردگار کی ذات ہے اس کے ساتھ انعامات کے سلسلے کو دہرا کر لوگوں کو یہ بات باور کرائی گئی کہ وہ محتاج ہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ سے ہی اپنی حاجات طلب کرتی ہے ۔ پھر وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر کیا۔ مجرمین کے متعلق فرمایا کہ ان پر آگ کے شعلے اور دھواں پھینکاجائے گا۔ مگر انہیں کسی طرف سے مدد نہیں مل سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے یہ جملہ بھی دہرایا کہ اے جنو اور انسانو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذَنْۢبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَاۗنٌّ۝ 39 ۚ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–45

ترکیب : فاذا شرط فکانت جواب الشرط وقیل جو ابہ فیومئذ الخ فکانت علیٰ ھذاعطف۔ وقیل جو ابہ محذوف اے رأیت امرمھولا۔ کالدھان جمع دھن کقرط وقیراط ورمح و رماح۔ وقیل اسم مفرد کالخرام والادام۔ خبرتان علی کان الناقصۃ وحال علیٰ تقدیر کو نھا تا مۃ عن ذنبہ والضمیر للانس باعتبار اللفظ وان تاخر لفظاً تقدم رتبۃً ۔ والاخذ یستعمل بالباء تارۃً بغیر ھاتارۃً یقال اخذت الخطام واخذت بالخطام قالہ الکرخی یطوفون حال من المجرمون ویجوز ان یکون مستانفاً ان اسم فاعل منقوص کقاص۔ قال الزجاج انی یانی فھوآن اذا انتہٰی فی النضج والحرارۃ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا یرسل علیکما شواظ من نار کہ تم پر آگ کا شعلہ چھوڑا جائے گا۔ اب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–42

فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلاَجَآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰـھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 39 تا 42) (پس اس روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہ کی بابت پوچھا نہیں جائے گا۔ تو اے جن و انس ! تم اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرو گے۔ مجرم اپنی علامتوں سے پہچان لیے جائیں گے، اور انھیں پیشانی کے بال اور پائوں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ پس اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ ) منکرین کا جرم چہروں سے عیاں ہوگا تم اولاً…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–45

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح جن اور انسانوں کے پاس زمین و آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کی طاقت نہیں اسی طرح باغی جن اور انسانوں کے پاس اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں۔ قیامت کے اسرافیل جونہی دن صورپھونکیں گے تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور وہ اس قدر ہلنا شروع ہوجائے گا کہ بالآخر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر گرپڑے گا۔ زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور محشر کے میدان میں لوگوں کو جمع کرلیا جائے گا۔ اس دن لوگوں کا حساب و کتاب پیش کرنے اور ان پر شہادتیں قائم کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ مجرم جن اور انسانوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں جرم کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39 : فَیَوْمَپذٍ (پس اس روز) یعنی جس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنچْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَآنٌّ (کسی جن و انس سے اس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا) یہاں جانٌ بول کر جو ابوالجن ہے جن مراد لیا ہے جیسا کہتے ہیں ہاشم اور مراد اس کی اولاد لیتے ہیں۔ تقدیر کلام اس طرح ہے لا یسأل انس ولا جانٌ عن ذنبہٖ ۔ ایک ابھرتا ہو اسوال اور اس کا حل : اس آیت میں فرمایا گناہ کے متعلق سوال نہ ہوگا۔ اور دوسری آیت میں فرمایا فو ربک لنسئلنھم اجمعین ] الحجر : 92[ وقفوھم انہم مسئولون ] الصافات : 24[ حل : وہ ایک طویل دن ہے جس میں بہت سے احوال درپیش ہونگے بعض مواقع میں پوچھا جائے گا اور دوسرے مواقع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–45

37۔ 45۔ پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اس وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لئے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت نیا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے۔ ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صور کے بعد ہوگا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح 1 ؎ مسلم اور ترمذی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان کا طرح طرح کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–40

یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا ہے اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد ماضی اور مستقبل ہر چیز کا علم رکھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کررکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے جیسا کہ اللہ کا قول ہے (یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ۔ آل عمران 106) اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–67

آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

[ 33] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر : سو ان دونوں گروہوں کو خطاب کرکے بطور تنبیہ و تذکیر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ کہ ان ہولناک مناظر سے تمہیں اس طرح پیشگی خبر دی جا رہی ہے، تاکہ تم اپنے بچاؤ کی فکر کرسکو، اور عمر رواں کی اس محدود مختصر فرصت سے صحیح طور پر کام لے سکو، کہ اس کے بعد آخرت کے اس جہان کیلئے کمائی اور تلافی مافات کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، بلکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پھل پانا ہوگا نیکی کا بدلہ وہاں کی دائمی نعمتوں اور ابدی آرام و راحت کی صورت میں، اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے آمین، اور برائی کا نتیجہ دائمی عذاب اور ابدی نار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–45

قیامت کیسے آئے گی اور دوزخ کا عذاب تشریح : جہنم کا ہولناک نقشہ اور قیامت کا خوفناک منظر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ اللہ کے رحمن ہونے کی دلیل ہے۔ کہ قبل از وقت اس غیب کی خبر سے مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ اس دن کی سختیوں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکنے کا بندوبست ابھی اس دنیا کی زندگی میں ہی کرلیا جائے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کی خبر نہ تو کوئی افواہ ہے نہ نجومیوں کی پیشگوئی ہے نہ ہی کوئی سائنسی خبر ہے کہ جو اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے بلکہ یہ اٹل، پکی اور سچی خبر ہے جو وحی الٰہی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کو اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس لیے قیامت کا واقعہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–45

آیات 26 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–39

ف 11 یعنی ان سے گناہوں کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے۔ قیامت کے دن متعدد مواقع ہوں گے۔ یہ ایک موقع کا ذکر ہے دوسرا موقع وہ ہوگا جب ان سے سوال کیا جائیگا جیسا کہ فرمایا فوربک لنسئلنھم اجمعین اور تیرے رب کی قسم ہم ان سے ضرور باز پرس کرینگے۔ (حجر 92) یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ان سے جو سوال ہوگا وہ گناہوں کی دریافت کے لئے نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو خود ہی تمام گاہوں کا علم ہے بلکہ اس لئے ہوگا کہ گنہگاروں کو ملامت کی جائے واللہ اعلم (قرطبی ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:39) فیومئذ : ای یوم اذ تنشق السماء جسما ذکر : یعنی جس دن حسب ذکر بالا آسمان پھٹ جائے گا۔ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان۔ (اس روز) کسی انسان و جن سے اس کے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں اس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں :۔ یعنی یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کام کیا تھا یا نہیں کیا تھا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو پہلے ہی اس کا علم ہوگا۔ اور اعمال ناموں والے فرشتے اعمال لکھ ہی چکے ہوں گے اور عذاب والے فرشتے دیکھتے ہی پہچان لیں گے۔ ہاں اعمال کی باز پرس ہوگی یعنی یہ پوچھا جائے گا کہ جب تم کو ممانعت کردی گئی تھی تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اور جب کرنے کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–45

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45 فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 45 اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–45

جنت کے اوصاف اور اہل جنت کی اعلی زندگی۔ (ف 1) جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب وکتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی بڑی عزت فرمائے گا کہ ایک جنت ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک ان کے خوف کے بدلے میں اس طرح ان کو دوجنتیں ملیں گی۔ اور وہ دو عالیشان باغ جن کے اوصاف بیان کرتا ہے کہ وہ دونوں باغ ایسے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں نہایت پر میوہ اور سایہ دار ہوں گی اور ان باغوں کی یہ بھی صفت ہے یعنی وہ ایسے باغ ہوں گے جن میں چشمے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–43

[10] یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اس دن تمہارے جرائم کی تحقیق و تفتیش کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو محنت کرنا پڑے گی۔ محنت تو درکنار کسی سے اس کے جرم کی بابت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئے گی کیونکہ جیسے کہ آگے کی آیت میں فرمایا گیا وہاں ہر مجرم اپنے چہرے کی علامت سے پہچان لیا جائے گا کہ وہ کس درجے کا مجرم ہے۔ یہاں جس سوال کی نفی ہے وہ تحقیق و تفتیش کی نوعیت کا سوال ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہ آنے کی وجہ قرآن کے دوسرے مقامات پر یہ بیان ہوئی ہے کہ اس دن آدمی کے اعضاء سے اس کے جرائم کی شہادت ملے گی۔ رہا وہ سوال جو توبیخ یا ملامت یا استہزا اور طنز کی نوعیت کا ہوتا ہے اس کی نفی یہاں نہیں کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–39

ف 1: لائیسئل سے مراد یہ ہے ۔ کہ بنظر عفو وکرم ان سے سوال نہیں کیا جائیگا ۔ بلکہ زعبود توبیخ کے انداز میں ڈانٹ ڈپٹ کر پوچھا جائیگا کہ دنیا میں تم نے کیوں ہماری نافرمانی کی ۔ اور کیوں ہماری ناراض کو خریدا ۔ کیا تمہیں ڈر نہیں معلوم ہوتا تھا ۔ اور گناہوں کے ارتکاب کے وقت کانپ نہیں جاتے تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) پھر اس دن کسی انسان سے اور کسی جن سے اس کے گناہوں کو معلوم کرنے کی غرض سے دریافت نہیں کیا جائے گا۔ یعنی جو سوال گناہوں سے ہوگا اس کی غرض یہ نہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کو مجرم کے گناہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوگی بلکہ مجرم پر جرم ثابت کرنے اور ان گناہوں کا اقرار کرانے کی غرض سے ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا فوربک لنئلنھم اجمعین یعنی سوال تو ضرور ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کو بتانے اور معلوم کرانے کی غرض سے نہیں ہوگا بلکہ جرم ثابت کرنے کی غرض سے ہوگا اور زجرتوبیخ کی غرض سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے یعنی ھساب اس غرض سے نہ ہوگا بلکہ خود ان کو معلوم کرانے اور جتلانے کے لئے سوال اور حساب ہوگا اور یہ خبر دینا بھی ایک نعمت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس روز کسی انسان اور جن سے اس کے گناہوں کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا 93۔ زیرنظر آیت نے یہ بات مزید واضح کردی ہے کہ ہر انسان کے اعمال من وعن اس کائنات کے شروع سے لے کر آج تک اور آج سے اس کا نظام قائم رہنے تک جو کچھ کسی نے کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوا بلکہ ہر مرنے والے کے اعمال اس کی اپنی تصویر کے ساتھ موجود ہیں اور اس کی ہر حرکت کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ محفوظ رکھا جارہا ہے اس لیے اس سے اس کی زندگی اور اس کے کسی عمل کے متعلق پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس کے اعمال کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ جس وقت اس نے اس عمل کو کیا ہے جب سب کے سامنے پیش کردیا جائے گا تو اس وقت وہ اس سے منکر نہیں ہوسکتے گا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–40

The Horrors of the Day of Resurrection فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ (On that day, neither a man will be questioned about his sin, nor a Jinn...55:39) One interpretation of this verse is that no one will be asked whether or not he had committed the sin, because it will have already been recorded by the angels in the ledger of deeds, and Allah has the Pre-Eternal knowledge of it. The question will be 'why' did they commit the sin? This is the interpretation of Ibn ` Abbas ؓ . Mujahid (رح) interprets it as follows: There will be no need for the angels of punishment…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36 This is being explained by the subsequent sentence: "The culprits there shall be recognized by their faces." It means that in that great assembly where aII the former and the latter generations will have gathered together, there will be no need to ask as to who are the culprits, nor will any man or jinn need be asked whether he is a culprit or not. The dejected faces of the culprits, their terror-stricken eyes, their disturbed and alarmed countenances will themselves be enough to expose the secret that they are the culprits. When a crowd comprising both the guilty and the innocent people,…

Read the full tafseer →