Explained with ayahs 37–45
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہوگا
آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے آیت (وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ 16ۙ) 69۔ الحاقة :16) ایک اور جگہ ہے آیت (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا 25) 25۔ الفرقان :25) ، اور فرمان ہے آیت (اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :1) ، وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہوجائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 34
یہ روز قیامت کا ذکر ہے۔ آسمان کے پھٹنے سے مراد ہے بندش افلاک کا کھل جانا، اجرام سماوی کا منتشر ہوجانا، عالم بالا کے نظم کا درہم برہم ہوجانا۔ اور یہ جو فرمایا کہ آسمان اس لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہنگامہ عظیم کے وقت جو شخص زمین سے آسمان کی طرف دیکھے گا اسے یوں محسوس ہوگا کہ جیسے سارے عالم بالا پر ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ڏ وَّنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَــصِرٰنِ ، حضرت ابن عباس اور دوسرے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ شواظ بضم شین آگ کے اس شعلے کو کہا جاتا ہے جس میں دھواں نہ ہو اور نحاس اس دھویں کو کہا جاتا ہے جس میں آگ کی روشنی نہ ہو، اس آیت میں بھی جن و انس کو خطاب کر کے ان پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑنے کا بیان ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حساب کتاب کے بعد جو مجرمین کو جہنم میں ڈالا جائے گا اس میں یہ دو طرح کے عذاب ہوں گے، کہیں آگ ہی آگ اور شعلہ ہی شعلہ دھویں کا نام نہیں اور کہیں دھواں ہی دھواں جس میں آگ کی کوئی روشنی نہیں اور بعض مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کا تکملہ قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(فاذا انشقت السماء فکانت وردۃ کا لدھان فبای الاء ربکما تکذبن) (37۔ 38)۔۔۔ (شہابوں سے متعلق یہ تحقیق انسائیکلو پیڈیا برٹیا نیکا میں فہرست شھب (Gatalogue of Meteorites) کے مصنف (Max hohey) کے مضمون ’ شہاب ثاقب ‘ سے مآخوذ ہے۔
(دھان کے معنی) دھان کے معنی لوگوں کے تلچھٹ کے بھی لیے ہیں لیکن یہ لفظ کھال کے معنی میں بھی معروف ہے۔ سرخی کی تشبیہ کے لیے کھال زیادہ موزوں ہے اس وجہ سے ہم نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ دوسرے مقام میں (واذا السماء لشطت) (التکویر : 88) بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں جب کہ آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ یعنی جس طرح کھال کھینچ لینے کے بعد جسم کا گوشت سرخ سرخ نظر آتا ہے اسی طرح آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
37۔ 1 قیامت والے دن آسمان پھٹ پڑے گا، فرشتے زمین پر اتر آئیں گے، اس دن یہ نار جہنم کی شدت حرارت سے پگھل کر سرخ چمڑے کی طرح ہوجائے گا۔ دِھَان سرخ چمڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
8: مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کی باز پرس اور عذاب سے بھاگ کر کہیں اور چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فاذا انشقت ............ حمیم ان فبای الاء ربکما تکذبن
وردة یعنی سرخ تیل کی طرح یعنی بہہ جائے گا۔ قیامت کے دن سے قبل کائنات میں ہونے والے تغیر کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ افلاک کے موجودہ نظام میں مکمل ابتری آجائے گی اور نظام سماوات پر تمام کرے موجودہ نظام کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور مثلاً ۔
اذرجت ............ منبسا (6) (6 5:4 تا 6) (زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبارہ جائیں گے) اور انہی آیات میں سے یہ بھی ہے۔
فاذابرق ................ والقمر (9) 5 7 : 7 تا 9) (پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے…
Read the full tafseer →5 یعنی قیامت کے دن آسمان پھٹے گا اور رنگ میں لال تری کی طرح ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 37{ فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ۔ } ”پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور ہوجائے گا گلابی ‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔“
Read the full tafseer →27 پہلے وردۃ کا لفظ استعمال فرمایا۔ ورد بمعنی گلاب کا پھول اور وَرْدَۃً بمعنی گلابی رنگ دِھَانٌ بمعنی تیل کی سرخی مائل تلچھٹ یعنی جس دن آسمان پھٹے گا اس دن تمام سیاروں کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور جو شخص آسمان کی طرف نظر دوڑائے گا اسے یوں معلوم ہوگا کہ عالم بالا میں ہر طرف ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
21۔ (اور یہ سب قیامت کے دن واقع ہوگا) (آیت) ” کالدھان “۔ دھان کے مختلف معنی منقول ہوئے ہیں۔ یہاں اتباع حضرت عباس ؓ کے قول کا کیا گیا ہے، قال الضحاک عن عباس ؓ الادیم الاحمر (ابن کثیر) قال الکلبی اے کالادیم الاحمر (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
یرسل علیکما شواظ (الآیۃ) حضرت ابن عباس اور دیگر ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ شواظ ضمہ شین کے ساتھ، آگ کا وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اور نحاس اس دھوئیں کو کہا جاتا ہے جس میں آگ نہ ہو، اس آیت میں بھی جن و انس کو مخاطب کر کے ان پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑنے کا بیان ہے، مطلب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے جہنم کے مجرمین کو مذکورہ دونوں قسم کا عذاب دیا جائے اور عض مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کا تکملہ قرار دیکر یہ معنی کئے ہیں کہ اے جن و انسانو ! آسمانوں کی حدود سے نکل جانا تمہارے بس کی بات نہیں، اگر تم ایسا ارادہ کر بھی لو تو جس طرف تم بھاگ کر جائو گے تو آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بگولے تمہیں گھیر لیں گے (ابن…
Read the full tafseer →فاذا انشقت السماء فکانت وردۃ کالدھان .
” غرض جب (قیامت آئے گی اور) آسمان پھٹ جائے گا اور سرخ نری کی طرح سرخ ہوجائے گا فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ : یعنی آسمان پھٹ کر اس میں ملائکہ کے اترنے کے راستے بن جائیں گے۔ فَاِذَا میں فَ بتارہا ہے کہ آگ کے شعلوں کا چھوڑا جانا ‘ آسمان کے شگافتہ ہونے سے پہلے ہوگا لہٰذا آسمان کا یہ شکافتہ ہونا ‘ آسمان کو فنا کرنے کے لیے نہیں ہوگا بلکہ فرشتوں کے نزول کے لیے ہوگا اور ایسا قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد ہوگا ‘ جیسا ہم نے حدیث ضحاک میں ذکر کردیا ہے۔
وَرْدَۃً : یعنی سرخ گلاب کی طرح ‘ بعض نے وردۃً کا ترجمہ کیا ہے : سرخ گھوڑا جو کمیت اور اشقر کے درمیان ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(37۔ 38) جس روز فرشتوں کے کثرت نزول کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال سے آسمان پھٹ جائے گا اور ایسا سرخ ہوجائے گا جیسا کہ تیل ہوتا ہے یا یہ کہ جیسا کہ گلاب کا پھول ہوتا ہے یا ایسا سرخ ہوجائے گا جیسا کہ سرخ نری یعنی سیاہی مائل چمڑا۔ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ۔۔۔۔۔۔”وردۃ“ گلاب کے پھول کی طرح گلابی۔۔۔۔ ”الدھان“ میں علماء کے دو قول ہیں ، ایک سرخ چمڑا اور دوسرا ”تیل“ جو ملا جاتا ہے۔ اس معنی میں بعض کہتے ہیں : ”الدھان“ ”’ ھن“ کی جمع ہے اور بعض کہتے ہیں مفرد ہے۔ تیل کو ”دھن“ بھی کہتے ہیں اور ”دھان“ بھی۔ ”فاذا انشقت السمائ“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حاقہ (16) ، فرقان (25) اور سورة ٔ انشقاق (1، 2)
اگر ”الدھان“ کا معنی سرخ چمڑا کریں تو اس وقت آیت میں آسمان کے ایک وصف کا بیان ہے کہ آسمان جو آج نیلگوں ہے اس وقت سرخ چمڑے کی طرح لال گلابی ہوجائے گا اور اگر ”الدھان“ کا معنی تیل کیا جائے تو آیت میں آسمان کے پھٹنے کے وقت اس کے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فاذا انشقت السماء۔۔۔۔۔۔ قیامت کے روز جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الدھان سے مراد تیل ہے ‘ یہ مجاہد ‘ ضحاک اور دوسرے علماء سے مروی ہے معنی ہوگا وہ صاف تیل کی طرح ہوجائے گا۔ اس تعبیر کی بنا پر دھان ‘ دھن کی جمع ہوگا۔ سعید بن جبیر اور قتادہ نے کہا : معنی ہے وہ سرخ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ گلاب کی طرح سرخ اور تیل کی طرح جاری ہوگا ‘ یعنی پھٹنے کے ساتھ پگھل جائے گا یہاں تک کہ جہنم کی آگ کی گرمی سے سرخ ہوجائے گا اور اپنی نری اور پگھلنے کی وجہ سے تیل کی طرح ہوجائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے : الدھان سے مراد سرخ جلد ہے (1) ابو عبید اور فراء نے یہ ذکر کیا ہے یعنی آسمان آگ کی گری کی شدت کی وجہ سے چمڑے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
15:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ '' (جب آسمان پھٹ جائے گا اور سرخ ہوجائے گا یعنی سرخ (آیت ) '' کالدھان '' سے مراد ہے سرخ چمڑا۔
آسمان سرخ ہوجائے گا :
16:۔ الفریابی و سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' سے مراد ہے کہ گھوڑے کے رنگ کی طرح سرخ ہوجائے گا۔
17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ '' سے مراد ہے جب آسمان پھٹ جائے گا تو سرخ جانور کی طرح سرخ ہوجائے گا۔
18:۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ [ پھر جب پھٹ جائے گا آسمان ] فَكَانَتْ [ تو وہ ہوجائے گا ] وَرْدَةً [ گلابی ] كَالدِّهَانِ [ جیسے تیل کی تلچھٹ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کے دن کفار انس و جانّ کی پریشانی، مجرمین کی خاص نشانی، پیشانی اوراقدام پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جانا
ان آیات میں قیامت کے دن کا کچھ حال بتایا ہے اور مجرموں کا دوزخ میں داخلہ اور وہاں جو ان کی بدحالی ہوگی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان حالات کا پیشگی اطلاع دینا بھی نعمت ہے تاکہ لوگ کفر سے اور بداعمالیوں سے بچیں اور قیامت کے دن بدحالی اور دوزخ کے داخلہ سے بچیں اس لیے ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا۔
اول تو یہ فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو تم دونوں پر آگ کے شعلے پھینکے جائیں گے اور دھواں بھی پھینکا جائے گا یہ دھواں بھی آگ ہی سے نکلا ہوا ہوگا چونکہ اس میں روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
15:۔ ” فاذا نشقت۔ الایۃ “ وردۃ، گلاب کا پھول۔ الدھان، سرخ چمڑا۔ قیامت کے دن جب آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اس وقت وہ شدت حرارت سے گلاب کے پھول کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ سرخ رنگ کے چمڑے کی طرح ہوجائیگا۔ ورۃ کالدھان دونوں کان کی خبریں ہیں۔ یا کالدھان، وردۃ کی صفت ہے۔ (روح) یہ ہولناک منظر قیامت بپا ہونے کے وقوت ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان خصوصی انعامات کا ذکر کیا جو اس نے اپنی مخلوق اور خاص طور پر نسل انسانی پر کیے ہیں۔ پھر جزائے عمل کے بارے میں فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز فانی ہے اور باقی رہنے والی صرف پروردگار کی ذات ہے اس کے ساتھ انعامات کے سلسلے کو دہرا کر لوگوں کو یہ بات باور کرائی گئی کہ وہ محتاج ہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ سے ہی اپنی حاجات طلب کرتی ہے ۔ پھر وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر کیا۔ مجرمین کے متعلق فرمایا کہ ان پر آگ کے شعلے اور دھواں پھینکاجائے گا۔ مگر انہیں کسی طرف سے مدد نہیں مل سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے یہ جملہ بھی دہرایا کہ اے جنو اور انسانو…
Read the full tafseer →فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَكَانَتْ وَرْدَۃً كَالدِّہَانِ 37 ۚ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ترکیب : فاذا شرط فکانت جواب الشرط وقیل جو ابہ فیومئذ الخ فکانت علیٰ ھذاعطف۔ وقیل جو ابہ محذوف اے رأیت امرمھولا۔ کالدھان جمع دھن کقرط وقیراط ورمح و رماح۔ وقیل اسم مفرد کالخرام والادام۔ خبرتان علی کان الناقصۃ وحال علیٰ تقدیر کو نھا تا مۃ عن ذنبہ والضمیر للانس باعتبار اللفظ وان تاخر لفظاً تقدم رتبۃً ۔ والاخذ یستعمل بالباء تارۃً بغیر ھاتارۃً یقال اخذت الخطام واخذت بالخطام قالہ الکرخی یطوفون حال من المجرمون ویجوز ان یکون مستانفاً ان اسم فاعل منقوص کقاص۔ قال الزجاج انی یانی فھوآن اذا انتہٰی فی النضج والحرارۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا یرسل علیکما شواظ من نار کہ تم پر آگ کا شعلہ چھوڑا جائے گا۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّھَانِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 37، 38)
(اور یاد رکھو اس وقت کو جب آسمان پھٹے گا اور کھال کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
روزِقیامت کا منظر
دِہَانْ کے معنی کھال کے ہیں۔ اور سرخی کی تشبیہ کے لیے کھال زیادہ موزوں ہے۔ اور قرآن کریم کی سورة التکویر میں فرمایا گیا ہے کہ وَاِذَالسَّمَائُ کُشِطَتْ جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کھال کھینچ لینے کے بعد جس طرح جسم کا گوشت سرخ دکھائی دیتا ہے اسی طرح آسمان بھی سرخ دکھائی دے گا۔ اور پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح جن اور انسانوں کے پاس زمین و آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کی طاقت نہیں اسی طرح باغی جن اور انسانوں کے پاس اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں۔
قیامت کے اسرافیل جونہی دن صورپھونکیں گے تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور وہ اس قدر ہلنا شروع ہوجائے گا کہ بالآخر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر گرپڑے گا۔ زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور محشر کے میدان میں لوگوں کو جمع کرلیا جائے گا۔ اس دن لوگوں کا حساب و کتاب پیش کرنے اور ان پر شہادتیں قائم کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ مجرم جن اور انسانوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں جرم کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے…
Read the full tafseer →37 : فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآ ئُ (جب آسمان پھٹ جائے گا) ایک دوسرے سے جدا ہوجائے گا اور یہ قیام قیامت کیلئے ہوگا۔ فَکَانَتْ وَرْدَۃً (پس وہ سرخ ہوجائے گا) اس کا رنگ سرخ گلاب کے پھول کی طرح ہوجائے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ آسمان کا اصل رنگ سرخی ہے مگر دور ہونے کی وجہ سے نیلگون نظر آتا ہے۔ کَالدِّھَانِ (جیسے زیتون کے تیل کی طرح) جیسا کہ فرمایا کالمہل ؔ یہ زیتون کے تیل کی تلچھٹ کو کہا جاتا ہے دھان جمع دھن ایک قول یہ ہے کہ سرخ چمڑہ ( اس صورت میں یہ واحد ہے اور اس کی جمع ادھنۃ و دُھُنٌ آتی ہے)
Read the full tafseer →36 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
37۔ 45۔ پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اس وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لئے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت نیا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے۔ ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صور کے بعد ہوگا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح 1 ؎ مسلم اور ترمذی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان کا طرح طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ ) یعنی جب قیامت کے روز ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بےنور ہوجائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے (فکانت) تو وہ ہوجائے گا شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے (وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ) سرخ چمڑے کی طرح سرخی مائل۔ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →[ 32] قیامت کے روز آسمان کے حال کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا حال ہوگا اس وقت جبکہ آسمان پھٹ کر سرخ ہوجائے گا لال چمڑے کی طرح۔ یعنی آگ کی تپش اور گرمی سے آسمان اس طرح سرخ ہوجائے گا، جیسا کہ سرخ چمڑا [ قالہ ابن عباس، روح، خازن وغیرہ ] اور بعض نے اس کے معنی تیل کی تلچھت کے کیے ہیں، کہ اس روز آسمان اس طرح مختلف رنگ بدلے گا کہ کبھی سرخ ہوگا، کبھی زرد اور کبھی سبز ہوگا۔ [ جامع البیان، ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] بہرکیف اس سے اس روز کی ہیبت و ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اور اسی کا ذکر وبیان اور اظہار اس آیر کریمہ کا اصل مقصد ہے۔ دوسری مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { واذا السمآء کشطت } […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کیسے آئے گی اور دوزخ کا عذاب
تشریح : جہنم کا ہولناک نقشہ اور قیامت کا خوفناک منظر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ اللہ کے رحمن ہونے کی دلیل ہے۔ کہ قبل از وقت اس غیب کی خبر سے مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ اس دن کی سختیوں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکنے کا بندوبست ابھی اس دنیا کی زندگی میں ہی کرلیا جائے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کی خبر نہ تو کوئی افواہ ہے نہ نجومیوں کی پیشگوئی ہے نہ ہی کوئی سائنسی خبر ہے کہ جو اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے بلکہ یہ اٹل، پکی اور سچی خبر ہے جو وحی الٰہی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کو اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس لیے قیامت کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 11 یعنی ان سے گناہوں کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے۔ قیامت کے دن متعدد مواقع ہوں گے۔ یہ ایک موقع کا ذکر ہے دوسرا موقع وہ ہوگا جب ان سے سوال کیا جائیگا جیسا کہ فرمایا فوربک لنسئلنھم اجمعین اور تیرے رب کی قسم ہم ان سے ضرور باز پرس کرینگے۔ (حجر 92) یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ان سے جو سوال ہوگا وہ گناہوں کی دریافت کے لئے نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو خود ہی تمام گاہوں کا علم ہے بلکہ اس لئے ہوگا کہ گنہگاروں کو ملامت کی جائے واللہ اعلم (قرطبی ابن کثیر)
Read the full tafseer →(55:37) فاذاعطف کا ہے۔ اذا حرف شرط ہے انشقت، ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مؤنث غائب انشقاق (انفعال) مصدر۔ اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 54:1) یہ جملہ شرطیہ ہے۔
فکانت وردۃ :جواب شرط کے لئے کانت (ماضی بمعنی مستقبل) واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے۔ کون (باب نصر) مصدر۔ وردۃ منصوب بوجہ خبر کان کے۔ بمعنی سرخ (جیسا چمڑہ۔ سفید مائل بسرخی۔ سرخ (گلاب کی طرح) وردۃ بطور اسم جنس بمعنی گلاب کا پھول یعنی شرخ) فکانت وردۃ جملہ جواب شرط ہے۔
کالدھان : کاف تشبیہ کا ہے ۔ دھان جمع دھن کی یا ادھنۃ کی بمعنی تیل کی تلچھٹ۔ بعض کے نزدیک یہ دھن کی جمع ہے جیسے رمح ورماح ہے اور اس کے معنی تیل کے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(ف 1) پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اسی وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت دنیا کا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صورت کے بعد ہوگا حضرت عبداللہ بن مسعود کی صحیح مسلم اور ترمذی کی حدیث ہے کہ دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان طرح طرح کا رنگ بدلے گا سی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کبھی آسمان کا رنگ گلابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[9] فارغ ہونے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ابھی تو اس دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے۔ جب یہ مدت پوری ہوجائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر بندوں کے حساب و کتاب کی طرف متوجہ ہوگا اور ایک ایک کا حساب کر کے جس کو جس جزا یا سزا کا سزاوار پائے گا اس کو وہی کچھ دے گا۔ اس اسلوب بیان سے یہ مضمون بھی نکلا کہ یہ کام اللہ تعالیٰ سرسری طور پر نہیں بلکہ پوری یکسوئی سے کرے گا، اس لئے کہ یہی کام درحقیقت اس دنیا کے پیدا کرنے کی غایت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
سرخ تلچھٹ کی طرح
1: فرمایا : کہ یہ زرنگار سقف ، ازرق زواہ ایک وقت آئے گا ۔ کہ آگ کے شعلے اس کو زیتون کی سرخ تلچھٹ کی طرح تپادیں گے ۔ یہ دنیا نجوم وکواکب تیرگی فنا میں گم ہوجائے گی ۔ اور یہ سارا عالم رنگ وبو مٹ جائے گا ۔ پھر ایک وقت آئے گا ۔ جب دوبارہ بساط کون بچھادی جائے گی ۔ اور جن وانس کو کشاں کشاں حی وقیوم خدا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ اور ان سب لوگوں کو سزا دی جائیگی ۔ جو اس کو نہیں مانتے تھے ۔ جو خواہشات نفس کی تکمیل میں سرگرداں رہتے تھے ۔ جن کی زندگی نصب العین محض یہ تھا ۔ کہ دولت اکٹھی کریں ۔ دنیا کی آسائشوں اور آسودگیوں کو سمیٹ لیں ۔ اور ہر نوع کی لذت سے کلام دوہن کی تواضع کریں ۔ جو…
Read the full tafseer →(37) پھر جب آسمان پھٹ جائیگا اور ایسا سرخ ہوجائیگا جیسے تیل کی تلچھٹ ، یا سرخ نری کا چمڑا۔ یعنی اوپر کی آیت مقں قیامت کے دن کی بےبسی کا اظہار تھا کہ اس دن تمام جن وانس عاجز ہوں گے اب فرمایا آسمان پھٹ جائے گا شاید مطلب یہ ہو کہ آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اور فرشتے اتریں گے جیسا کہ سورة فرقان میں گزر چکا ہے کہ فرشتے اتریں گے اور بادلوں میں تجلی الٰہی کا نزول ہوگا اور حساب کتاب شروع ہوگا آسمان کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح سرخ یا تیز گلابی ہوگا۔
کالدھان کے دو معنی کئے گئے ہیں تیل کی تلچھٹ اور سرخ نری کا چمڑا ہم نے دونوں کی طرف اشارہ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
ف 5۔ یہاں تک تو حساب کا وقوع اور اس کا وقت بتلایا گیا، آگے کیفیت حساب و طریق فیصلہ ارشاد فرماتے ہین۔
Read the full tafseer →پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور تیل کی تلچھٹ کی طرح سرخ ہوجائے گا
73۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری تکذیب کا یہ سلسلہ آخر کب تک چلتا رہے گا اور تم کو یہ مہلت کب تک دی جائے گی اور یہ بےثبات زندگی کی ساری ہو ہوا ختم ہو کر رہ جائے گی اور آسمان پھٹ جائیں گے ، ستارے جھڑنے شروع ہوجائیں گے اور یہ سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ ایک تو یہ صورت اس وقت ہوگی جب قیامت کا منظر دیکھنے والے دیکھیں گے لیکن عین ممکن ہے کہ ہر مرنے والے کو بھی موت کے قوت یہی منظر دکھایا جاتا ہو کیونکہ جب موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس وقت بھی یہی کیفیت مرنے والے پر طاری ہوتی ہے اگرچہ یہ بہت ہی قلیل مدت کے لیے ہو اور آنکھ کے جھکپنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ (A flame of fire and a smoke will be loosed against you, and you will not [ be able ] to defend... 55:35) Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and other leading authorities on Qur'anic exegesis have said that the word shuwaz with refers to 'flame or fire without smoke' and the word nuhas refers to 'smoke in which there is no flame'. This verse too addresses the two species of creation, the jinns and mankind. It addresses them and describes how fire and smoke will be unleashed against them. The verse could mean that after the reckoning…
Read the full tafseer →34 This refers to the Day of Resurrection. Bursting of the heavens implies loosening of the discipline of the heavens, scattering of the celestial bodies, upsetting of the system of the heavens. And the meaning of `reddening like red leather" is that during that great upheaval anyone who looks up towards the sky, will feel as though the entire heavens were on fire.
Read the full tafseer →