Explained with ayahs 41–42
نیند اور موت کے وقت ارواح کا قبض کرنا۔
اللہ تعالیٰ رب العزت اپنے نبی ﷺ کو خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھ پر اس قرآن کو سچائی اور راستی کے ساتھ تمام جن و انس کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے۔ اس کے فرمان کو مان کر راہ راست حاصل کرنے والے اپنا ہی نفع کریں گے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی دوسری غلط راہوں پر چلنے والے اپنا ہی بگاڑیں گے تو اس امر کا ذمے دار نہیں کہ خواہ مخواہ ہر شخص اسے مان ہی لے۔ تیرے ذمے صرف اس کا پہنچا دینا ہے۔ حساب لینے والے ہم ہیں، ہم ہر موجود میں جو چاہیں تصرف کرتے رہتے ہیں، وفات کبریٰ جس میں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے انسان کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وفات صغریٰ جو نیند کے وقت ہوتی…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 59
یعنی تمہارے سپرد انہیں راہ راست پر لے آنا نہیں ہے۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ راست پیش کردو۔ اس کے بعد اگر یہ گمراہ رہیں تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
خلاصہ تفسیر
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (خاص محمد ﷺ کی حفاظت) کے لئے کافی نہیں (یعنی وہ تو سب ہی کی حفاظت کے لئے کافی ہے تو اپنے محبوب خاص بندے کے لئے کیوں کافی نہ ہوگا) اور یہ لوگ (ایسے احمق ہیں کہ حفاظت خداوندی سے تجاہل کر کے) آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈرانے والے ہیں جو خدا کے سوا (تجویز کر رکھے) ہیں (حالانکہ وہ خود بےجان عاجز ہیں اور قادر بھی ہوتے تو خدا کی حفاظت کے مقابلہ میں عاجز ہی ہوتے) اور (اصل بات یہ ہے کہ) جس کو خدا گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (آگے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر کر کے ان کی حماقت کو ظاہر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →آیت 41
رسول پر ذمہ داری صرف اتمام حجت کی ہے
اعلان برأت کرانے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی کہ تمہارے اوپر جو ذمہ داری تھی وہ تم نے ادا کردی اب ان کا غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرمایا ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لئے تمہارے اوپر کتاب اتاری حق کے ساتھ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے ہم نے دین کے معاملے میں حق و باطل کو بالکل ممیز کردیا۔ اب جو لوگ اس کو قبول کریں گے وہ اپنی دنیا اور عاقب سنواریں گے اور جو اس کی تکذیب کریں گے وہ خود اپنے آپ کو گمراہیوں میں مبتلا کریں گے تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف ان کو اس حق کی دعوت دینے کی تھی، یہ ذمہ داری نہیں تھی کہ تم ان کو لازماً ایمان و اسلام کے…
Read the full tafseer →41۔ 1 نبی کو اہل مکہ کا کفر پر اصرار بڑا گراں گزرتا تھا، اس میں آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا کام صرف اس کتاب کو بیان کردینا ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ مکلف نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ اپنا لیں گے تو اس میں انہیں کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ وکیل کے معنی مکلف اور ذمے دار کے ہیں یعنی آپ ﷺ ان کی ہدایت کے ذمے دار نہیں ہیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرما رہا ہے جس کا مشاہدہ ہر روز انسان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے کیونکہ اس کے احساس و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–41
13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت نمبر 41 تا 44
انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ…
Read the full tafseer →3 یعنی تیری زبان پر اس کتاب کے ذریعہ سے سچی بات نصیحت کی کہہ دی گئی اور دین کا راستہ ٹھیک ٹھیک بتلا دیا گیا۔ آگے ہر ایک آدمی اپنا نفع نقصان سوچ لے۔ نصیحت پر چلے گا تو اس کا بھلا ہے ورنہ اپنا ہی انجام خراب کرے گا۔ تجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ زبردستی ان کو راہ پر لے آئے، صرف پیغام حق پہنچا دینا آپ کا فرض تھا وہ آپ نے ادا کردیا۔ آگے معاملہ خدا کے سپرد کیجیے جس کے ہاتھ میں مارنا جلانا اور سلانا جگانا سب کچھ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 41 { اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کردی ہے لوگوں کے لیے حق کے ساتھ۔“
{ فَمَنِ اہْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ } ”تو جو کوئی ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔“
{ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا } ”اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔“
{ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍ } ”اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔“
آپ ﷺ ان لوگوں کے انجام کے بارے میں جوابدہ نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی حد تک ہے اور قیامت کے دن اسی کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا جائے گا۔
Read the full tafseer →57 یعنی ہمارا کام یہ تھا کہ ہم لوگوں کی ہدایت کے لئے ایک ایسی کتاب نازل کریں جو ٹھوس حقائق پر مبنی ہو تاکہ لوگوں پر اتمام حجت ہوجائے سو ایسی کتاب ہم نے آپ پر نازل کردی ہے اور آپ کا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں اور وہ پیغام آپ نے پہنچادیا۔ لوگوں کو زبردستی ان حقائق کا قائل بنانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آگے ہر شخص خود اپنا نفع سوچ لے۔ اگر نصیحت قبول کرے گا تو اس میں اس کا اپنا ہی بھلا ہے اور اگر اکڑ جائے گا اور مخالفت پر اتر آئے گا تو اس کی سزا خود بھگتے گا۔
Read the full tafseer →53۔ (تو جس کا جی چاہے اسے مانے اور جس کا نہ چاہے نہ مانے) (آیت) ” للناس “۔ یعنی لوگوں کے نفع وافادہ کے لیے۔ اے لاجلھم ولا جل حاجتھم الیہ (مدارک) (آیت) ” بالحق “۔ یعنی عین حق و حکمت کے ساتھ دلائل و شواہد اور مقصد صحیح کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
آیت نمبر 32 تا 41
ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…
Read the full tafseer →انا انزلنا علیک الکتب للناس بالحق فمن اھتدی فلنفسہ ومن ضل فانما یضل لیھا وما
انت علیھم بوکیل ہم نے ہی آپ پر لوگوں (کی ہدایت اور دونوں جہان کی فلاح) کیلئے کتاب نازل کی ‘ اب جو شخص راہ راست پر آئے گا تو اپنے نفع کیلئے (آئے گا) اور جو بےراہ ہوگا تو اس کا بےراہ ہونا (یعنی اس کے بےراہ ہونے کا وبال) اسی پر پڑے گا ‘ آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَاالخ اس پورے جملہ کا ربط آیت وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰن سے ہے اور درمیان میں سب جملے معترضہ ہیں۔ لِلنَّاس یعنی معاش و معاد ‘ دونوں میں حصول منافع و مصالح کے راستہ پر چلنے کیلئے۔
فَمَنِ اھْتَدٰی یعنی اس کتاب سے جو ہدایت…
Read the full tafseer →ہم نے آپ پر یہ قرآن حکیم بذریعہ جبریل نازل کیا ہے جو لوگوں کے سامنے حق و باطل کو واضح کرنے والا ہے سو جو شخص قرآن حکیم کے ذریعے سیدھے راستے پر آئے گا اور اس پر ایمان لائے گا تو اسی کو ثواب ملے گا۔
اور جو شخص قرآن حکیم کا انکار کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور آپ ان کفار پر مسلط نہیں کیے گئے کہ آپ سے ان کے بارے میں باز پرس ہونے لگے۔
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ۔۔ : کفار کے کفر پر اصرار سے رسول اللہ ﷺ کو سخت غم ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے۔ اب جو شخص صحیح راستے پر چلے گا اس کا فائدہ خود اسی کو ہے اور جو گمراہ ہوگا اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر اس کی ذمہ داری نہیں، آپ کا فرض صرف پیغام حق پہنچانا ہے، وہ آپ نے ادا کردیا، آگے معاملہ اللہ کے سپرد کریں، جس کے ہاتھ میں مارنا، زندہ کرنا، سلانا اور جگانا سب کچھ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
38 ۔ 41:۔ ولن سالتھم اے محمد ! ﷺ اگر آپ ان سے پوچھیں لیقولن یہ امر واضح کیا کہ وہ بتوں کی عبادت کرنے کے باوجود یہ اقرار کیا کرتے تھے کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے جب اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے تو وہ تجھے اپنے ان معبودوں سے کیسے ڈراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جب کہ اس کا رسول ہے جس نے ان کی پیدا کیا اور آسمانوں و زمین کو پیدا کیا۔
قل افرائیتم اے محمد ! ﷺ جب انہوں نے یہ اعتراف کرلیا ہے تو اب ان سے کہو : مجھے بتائو اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا یہ بت تکلیف کو رفع کردیں گے اور اگر وہ مجھے رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل افراء یتم ما تدعون من دون اللہ “ (فرما دیجئے تم بتاؤ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ) یعنی بتوں کو۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” ھل ھن کشفت ضرہ “ کیا اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں) یہاں کا شفاف مضاف ہے اس طرح (آیت) ” ممسکت رحمتہ “ (یہ کیا ہے کوئی) ہٹانے والے یا اس کی رحمت کو روکنے والے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انت علیہم بوکیل “ یعنی حفاظت کرنے والے (نگہبان) (واللہ اعلم )
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَا [بیشک ہم نے اتارا ] عَلَيْكَ الْكِتٰبَ [آپ ﷺ پر اس کتاب کو ] لِلنَّاسِ بِالْحَـقِّ ۚ [لوگوں کے لئے حق کے ساتھ ] فَمَنِ اهْتَدٰى [پس جس نے ہدایت پائی ] فَلِنَفْسِهٖ ۚ [تو (اس نے ہدایت پائی) اپنے لئے ] وَمَنْ ضَلَّ [اور جو بھٹکا ] فَاِنَّمَا [تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَضِلُّ [وہ بھٹکتا ہے ] عَلَيْهَا ۚ [اپنے آپ پر ] وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ [اور آپ ﷺ ان پر ] بِوَكِيْلٍ [کوئی نگران نہیں ہیں ] ۔
نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چاہتاہو کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے، اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے۔ اور جو شخص چاہتاہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ جو…
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (اِِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ للنَّاس بالْحَقِّ ) (بےشک ہم نے آپ پر لوگوں کے لیے حق کے ساتھ کتاب نازل کی) (فَمَنْ اھْتَدَی فَلِنَفْسِہٖ ) (سو جو ہدایت پر آجائے یہ اس کی اپنی جان کے لیے ہے) (وَمَنْ ضَلَّ فَاِِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا) (اور جو شخص گمراہی اختیار کرے سو وہ اسے اپنی جان کو ضرر پہنچانے کے لیے اختیار کرتا ہے) (وَمَا اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیلٍ ) (اور آپ ان پر مسلط بنا کر نہیں بھیجے گئے) اس میں آپ کو تسلی دی ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے ذمہ یہ نہیں کیا گیا کہ لوگوں کو زبردستی دین پر لائیں اور اپنی بات منوائیں آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے۔ عمل کرنا نہ کرنا ان کی اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
بیان قدرت خداوندی وعدم استطاعت پر مدافعت عذاب :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولئن سالتھم من خلق السموت والا رض ...... الی ....... علیھم بوکیل “۔
(ربط) مضمون سابق میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا کہ مجرمین کو بس اللہ ہی کا عذاب سرکوبی کے لیے بہت کچھ ہے اور یہ مجرم اس عذاب خداوندہی سے کسی طرح نہیں بچ سکتے کیونکہ اللہ عزیز ذوانتقام ہے اب ان آیات میں اللہ رب العزت اپنی اس قدرت و طاقت کا ذکر فرمارہا ہے جو خود ان منکرین کو تسلیم ہے، مقصد یہ ہے کہ مشرکین کا یہ لغو اور بعید از عقل طریقہ کہ آپ ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اگر ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیا…
Read the full tafseer →41:۔ ” انا انزلناہ الخ “ یہ چوتھی دلیل وحی ہے۔ یہ کتاب جو پیغام حق یعنی ” فاعبد اللہ مخلصًا لہ الدین (صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کر) پر مشتمل ہے ہم ہی نے آپ پر نازل کی ہے۔ تاکہ آپ اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ آپ اپنی طرف سے کوئی دعوی پیش نہیں کرتے۔ ” فمن اھتدی الخ “ جس نے اس کتاب کی ہدایت کو قبول کیا اس نے اپنی جان کو فائدہ پہنچایا اور جس نے گمراہی اختیار کی اس نے اپنا ہی نقصان کیا۔ فمن اختار الھدی فقد نفع نفسہ و من اختار الضلالۃ فقد ضرھا (مدارک ج 4 ص 46) ۔ آپ ان کو راہ راستہ پر لانے کے ذمہ دار نہیں ہیں آپ نے کما حقہ، اللہ کا پیغام ان تک پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَـقِّ 0 ۚ فَمَنِ اہْتَدٰى فَلِنَفْسِہٖ 0 ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْہَا 0 ۚ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْہِمْ بِوَكِيْلٍ 41ۧ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض…
Read the full tafseer →ترکیب : للناس متعلق بانزلنا بالحق حال من الفاعل او المفعول بہ ای متلبسًا بالحق فمن شرطیۃ و جو ابہ فلنفسہ و من موصولۃ مبتدء فانما یضل الجملۃ خبر و ما انت جملۃ مستانفۃ ویمکن ان یکون حالامن فاعل یضل۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں خدا تعالیٰ نے مشرکین کے مذہب کو کبھی تو دلائلِ دینیات سے باطل کیا کبھی امثال بیان کرکے اس کی خرابی ظاہر فرمائی اور کبھی دنیا و آخرت میں بلائیں اور عذاب کی سزا سے ڈرایا مگر اس پر بھی وہ کور باطن نہ مانتے تھے اور نبی کو ہمدردی کا جوش جو ان کو جہنم میں گرتے دیکھتا تھا اور آپ کو سخت رنج ہوتا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس آیت میں آپ کو اطمینان دلاتا ہے۔ فقال انا انزلنا الخ کہ ہم نے…
Read the full tafseer →اِنَّـآ اَنْزَلْـنَا عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ج فَمَنِ اھْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا ج وَمَـآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (الزمر : 41)
(اے پیغمبر ! ہم نے سب لوگوں کی ہدایت کے لیے آپ پر کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے، اب جو ہدایت حاصل کرے گا اپنے لیے کرے گا، اور جو گمراہ ہوگا اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں کیے گئے ہو۔ )
رسول پر ذمہ داری صرف اتمامِ حجت کی ہے
اللہ تعالیٰ کے رسول کے دل میں انسانوں کے لیے جو غایت درجہ ہمدردی اور محبت ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہدایت کو قبول نہ کرنے والوں کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید کے مفہوم میں یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اپنے اور دوسرے کے نفع اور نقصان کا مالک نہیں۔ اسی طرح کوئی اپنی اور کسی کی ہدایت اور گمراہی کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔
نبی کریم ﷺ دن کے وقت لوگوں کی ہدایت کے لیے محنت فرماتے اور رات کو تہجد کی نماز میں ان کے لیے رو رو کر دعائیں کرتے۔ اسکے باوجود لوگ آپ کی مخالفت میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ اس صورت حال پر آپ ﷺ رنجیدہ خاطر ہوجاتے۔ جس پر آپ کو تسلی دینے کے ساتھ یہ حقیقت بتلائی گئی ہے کہ ہم نے آپ کی طرف قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا کہ آپ…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ (ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ لِلنَّاسِ (لوگوں کیلیے) لازم اجلیہ ہے یعنی کیونکہ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس سے بشارت و انذار کا کام لے سکیں اور اطاعت اختیار کرنے کے دواعی مضبوط ہوں اور دواعی بمعصیت کی حوصلہ شکنی ہو۔ بِالْحَـقِّ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ (جو حق کو لیے ہوئے ہے پس جو شخص راہ راست پر آئے گا تو اپنے نفع کے واسطے) پس جس شخص نے ہدایت کو اختیار کرلیا اس نے اپنے نفس کو فائدہ پہنچایا۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا (اور جو شخص بےراہ رہے گا تو اس کا بےراہ ہونا اسی پر پڑے گا) جس نے گمراہی کو چن لیا اس…
Read the full tafseer →41، انا انزلنا علیک الکتاب للناس بالحق فمن اھتدی فلنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا، اس کے گمراہ ہونے کا وبال اسی پر ہوگا۔ ، وما انت علیھم بوکیل نگران اور نگہبان ان کو آپ کے سپرد نہیں کیا گیا اور نہ آپ (علیہ السلام) سے ان کا بدلہ مؤ اخذہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
39۔ 41۔ اوپر یہ ذکر تھا کہ ہر کام میں آدمی کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اب ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ پر بھروسہ رکھ کر تم کو نصیحت کرے جاؤں گا تم اگر میری نصیحت کو نہیں مانتے تو جو کچھ تم کر رہے وہ کرو اب آگے تمہیں اس کا خمیازہ دنیا اور آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سردار دنیا میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ آئندہ کی خرابی کا وعدہ قریش سے جن آیتوں میں تھا انس ؓ بن مالک کی یہ…
Read the full tafseer →آیت 41
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول ﷺ پر کتاب نازل فرمائی جو اپنی خبر اور اپنے اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے، جو ہدایت کی اصل بنیاد اور ہر اس شخص کے لئے پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر پہنچنا چاہتا ہے، نیز اس کتاب کے ذریعے سے تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
(فمن اھتدی) پس جس نے اس کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی اور اس کے احکامات کی پیروی کی (فلنفسہ) تو اس کا فائدہ اسی کی طرف لوٹے گا (ومن ضل) اور جو ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی گمراہ ہوا (فانما یضل علیھا) ” تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے “ اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →83 گمراہوں کی گمراہی کی پیغمبر پر کوئی ذمہ داری نہیں : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح الفاظ میں ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ (علیہ السلام) انکے کوئی ذمہ دار نہیں ہیں "۔ کہ ان کو ایمان پر مجبور کردیں اور ان کو راہ حق و ہدایت پر لا کر ہی چھوڑیں کہ ہدایت دینا تو ہمارے اختیار میں ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے اور کون کس لائق ہے ؟ اور ہم ہی جانتے ہیں کہ آیا وہ دولت ایمان کے قابل ہے یا نہیں۔ آپ ﷺ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے۔ اور آپ کی ذمہ داری پوری ہوگئی ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ سو اب جو اس حق کو قبول کریں گے وہ خود اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
سچوں اور جھوٹوں کے احوال
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41:
اسرار و معارف :
اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…
Read the full tafseer →ف 3 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” حقیقت میں ہم ہی نے آپ ﷺ پر یہ کتاب اتاری ہے “4 یعنی آپ ﷺ کا کام ان پر سیدھی راہ واضح کرنا ہے۔ اس کے بعد اگر یہ اسے اختیار نہ کریں اور گمراہی میں بھٹکتے پھریں، تو آپ ﷺ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(39:41) بالحق۔ حق و حکمت کے ساتھ ۔ دلائل و شواہد اور مقصد صحیح کے ساتھ۔
فمن۔ موصولہ ہے یا استفہامیہ ۔
فانما یضل علیہا۔ ای وبال ضلالہ علیہا۔ تو اس کے بےراہ ہونے کا (اس کی ضلالت کا) وبال اسی کی جان پر ہوگا۔ ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع نفس ہے۔
وکیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے وکل مصدر باب ضرب۔ ذمہ دار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41 : سالت (تو نے پوچھا) کاشفت ( کھولنے والے) ممسکت ( روکنے والے) حسبی ( مجھے کافی ہے) یخزی (ذلیل و رسوا کرتا ہے) یحل ( حلال ہوتا ہے) عذاب مقیم ( نہ ٹلنے والا عذاب) وکیل ( کام بنانے والا)
تشریح آیت نمبر 38 تا 41 :۔ جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ کفار و مشرکین نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے یہ معبود ناراض ہو کر آپ کو کوئی شدید نقصان پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ ان کفار سے یہ پوچھئے کہ یہ زمین و آسمان اور اس کے اس نظام کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کیا اس اللہ نے پیدا نہیں کیا جس کے ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ پر اپنا بھروسہ رکھ کر تم کو نصیحت کرے جاؤں گا، تم اگر میری نصیحت کو نہیں مانتے تو جو کچھ تم مکروحیلے میری عداوت میں کررہے ہو وہ کروعنقریب تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا آگے فرمایا اے محبوب ﷺ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دین کی وہ سچی باتیں تم پر نازل فرمائی ہیں کہ جس نے ان پر عمل کیا وہ بھلائی کو پہنچا اور جو اس راستہ سے بہکا وہ خرابی میں پڑگیا اور اے محبوب ان بہکنے والوں کی گمراہی کا کچھ الزام تمہارے ذمہ نہیں ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کے نتیجہ کا ظہور ہے جو ضرور ہوکر رہے گا۔
Read the full tafseer →[26] داروغہ اپنے ماتحتوں کے کام کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے اور ان پر اختیار بھی رکھتا ہے۔ غرض یہ ہے کہ تم کو اختیار دے کر نہیں بھیجا گیا ہے کہ بازپرسی اور جواب دہی کے ڈر سے لوگوں کو زبردستی مسلمان کرو۔ تمہارا کام ہمارے احکام لوگوں تک پہنچا دینا ہے بس۔
Read the full tafseer →ف 3: حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ آپ پر جو صحیفہ حق نازل کیا گیا ہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص اس کو قبول کرلے ۔ آپ صرف اس حد تک مکلف ہیں ۔ کہ ان تک میرا پیغام پہنچادیں ۔ آئندہ یہ اگر گمراہ ہوں گے تو اپنا ہی بگاڑیں گے ۔ آپ ان کی ہدایت کے لئے اس درجہ بےقرار نہ ہوں ۔
حل لغات :۔ مکانتکم ۔ اپنی جگہ بوکیل ۔ ذمہ دار ۔ اجارہ دار ۔ مسلط اور داروغہ یتوفی ۔ سے مراد مطلق روح پر ضبط واختیار حاصل کرنا ہے ۔ اس لئے جس کی دو صورتیں بیان کی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ ضبط اور اختیار اس نوع کا ہو ۔ کہ پھر روح کو جسم سے الگ کرلیا جائے ۔ اور ایک یہ کہ صرف بیداری کو چھین لیا جائے ۔ اور تعلق حیات…
Read the full tafseer →(41) اے پیغمبر یہ کتاب لوگوں کے نفع اور فائدے کے لئے آپ پر ہم نے نازل فرمائی ہے جو دین حق کی تعلیم پر مشتمل ہے پس اب جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے اور صبح راہ پر چلتا ہے تو اپنے ہی بھلے کو چلتا اور اختیار کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو سوائے اس کے نہیں کہ وہ اپنے برے کو اختیا کرتا ہے اور اس گمراہی کا وبال اسی پر پڑنے والا ہے اور آپ ان پر مختار کار مقرر نہیں ہوئے ہیں۔ یعنی ان کی گمراہی کی آپ سے باز پرس نہیں کیونکہ آپ ان پر وکیل اور ان کے سردار نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ف 4۔ یعنی جیسے تم اپنا طریقہ نہیں چھوڑتے، میں اپنا طریقہ نہیں چھوڑتا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ پر کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے
41۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جار ہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے جو کتاب آپ پر نازل کی ہے وہ سراپا حق ہے اور لوگوں کی ہدایت کے لی اس کو نازل کیا گیا ہے۔ اب اس کی روشنی سے جو فائدہ اٹھائے گا اس میں خود اس کا بھلا ہوگا اور جو آنکھوں پر پٹی باندھے رہے گا تو عمر بھر اس زندگی میں ٹھوکریں کھاتا رہے گا اور انجام کار ایک ایسے گڑھے میں گرے گا جہاں سے کبھی نہیں نکل سکے گا لیکن اصولی بات یہ ہے کہ جو ہدایت پائے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو ہدایت کے قریب نہیں آئے گا وہ خود ہی نقصان اٹھائے گا اور پھر اس کے لیے آپ کو وکیل اور ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
Commentary
In the first verse (36), it was said: أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (Is Allah not sufficient for (the protection of) His slave?). This verse was revealed in the background of an event. The disbelievers had threatened the Holy Prophet ﷺ and his noble Sahabah by saying that, should they act irreverently against their idols, they would never escape the curse of these idols, something very lethal to face. In reply, they were told: Is Allah not sufficient for His slave?
Therefore, some commentators have taken: عَبْدَه (abdahu: His slave) here to mean a particular slave of Allah,…
Read the full tafseer →59 That is, °It is not for you to bring them to the Right Path. Your only duty is to present the Right Path before them. If they prefer to remain astray after that, you are not responsible for it."
Read the full tafseer →