Explained with ayahs 36–40
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔
ایک قرأت میں (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی (ترمذی وغیرہ) اے نبی ﷺ یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة الزُّمَر 58
یعنی مجھے زک دینے کے لیے جو کچھ تم کر رہے ہو اور کرسکتے ہو وہ کیے جاؤ، اپنی کرنی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
خلاصہ تفسیر
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (خاص محمد ﷺ کی حفاظت) کے لئے کافی نہیں (یعنی وہ تو سب ہی کی حفاظت کے لئے کافی ہے تو اپنے محبوب خاص بندے کے لئے کیوں کافی نہ ہوگا) اور یہ لوگ (ایسے احمق ہیں کہ حفاظت خداوندی سے تجاہل کر کے) آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈرانے والے ہیں جو خدا کے سوا (تجویز کر رکھے) ہیں (حالانکہ وہ خود بےجان عاجز ہیں اور قادر بھی ہوتے تو خدا کی حفاظت کے مقابلہ میں عاجز ہی ہوتے) اور (اصل بات یہ ہے کہ) جس کو خدا گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (آگے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر کر کے ان کی حماقت کو ظاہر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت 40-39
مشرکین سے برأت کا اعلان
انی عامل کے بعد علی مکانتی کے الفاظ تکرار سے بچنے کے لئے حذف کر یدئے گئے ہیں۔
یہ نبی ﷺ کی زبان سے اعلان برأت کرایا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگ میری بات سننے کے لئے تیار نہیں ہو تو تم اپنی جگہ اور اپنے طریقہ پر کام کرو، میں اپنے طریقہ پر کام کرتا رہوں گا تم عنقریب دیکھ لو گے کن پر وہ عذاب آتا ہے جو ان کو رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور کن پردہ قہر نازل ہوتا ہے جو ٹک کے رہ جات اے ! مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنی روش سے باز آنے والے نہیں ہو تو میں بھی اپنی دعوت سے باز آنے والا نہیں ہوں۔ اب مستقبل فیصلہ کرے گا کہ کون رسوا ہوتا ہے اور کون سرفراز کون ہمیشہ کے لئے…
Read the full tafseer →40۔ 1 جس سے واضح ہوجائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون ؟ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا کافروں کے ستر آدمی قتل اور ستر ہی آدمی قید ہوئے حتی کہ فتح مکہ کے بعد غلبہ وتمکن بھی مسلمانوں کو حاصل ہوگیا جس کے بعد کافروں کے لیے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ باقی نہ رہا
4۔ 2 اس سے مراد عذاب جہنم ہے جس میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–41
13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
درس نمبر 220 ایک نظر میں
اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔
اس کے بعد حضور اکرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
2 یعنی عنقریب پتہ لگ جائے گا کہ خدائے واحد کا بندہ غالب آتا ہے یا صدہا دروازوں کے بھکاری کامیاب ہوتے ہیں۔ واقعات جلد بتادیں گے کہ جو بندہ اللہ کی حمایت اور پناہ میں آیا اس کا مقابلہ کرنے والے آخرکار سب ذلیل و خوار ہوئے (تنبیہ) " عذاب یخزیہ " سے دنیا کا اور " عذاب مقیم " سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ واللہ اعلم
Read the full tafseer →آیت 40 { مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ} ”کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے اور اس پر وہ عذاب نازل ہوجائے جو ہمیشہ رہنے والا ہو !“
Read the full tafseer →56 رسوا کرنے والے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔ گویا تھوڑی ہی مدت بعد تم اس رسوائی کے عذاب سے دوچار ہوجاؤ گے اور دائمی عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہے جس کا علم تمہیں مرنے کے ساتھ ہی ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
52۔ یعنی جب تم اپنا طریقہ نہیں چھوڑتے، میں بھی اپنا طریقہ نہیں چھوڑتا، تم اپنے طریق پر عمل کیے جاؤ، میں اپنے طریق پر۔ عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے، کہ بدراہ اور مستحق عذاب کون سا فریق ہے۔ (آیت) ” من ....... یخزیہ “۔ مراد عذاب دنیوی ہے۔ چناچہ یہ عذاب مشرکین مکہ پر فتح بدر کی صورت میں نازل ہوا۔ (آیت) ” و ...... مقیم “۔ ؛ مراد عذاب آخرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
آیت نمبر 32 تا 41
ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…
Read the full tafseer →من یاتیہ عذاب یخزیہ ویحل علیہ عذاب مقیم کہ کس پر دنیا میں ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو رسوا کر دے گا اور (مرنے کے بعد) دوامی عذاب بھی اس پر نازل ہوگا۔
مَکَانَۃٌ ظرف مکان ہے (بمعنی جگہ) اس جگہ مجازاً مراد حالت ہے ‘ جیسے حیْثُ اور ھُنَا ظرف زمان ہیں اور کبھی بطور مجاز مکان مراد لے لیا جاتا ہے۔
اِنِّیْ عَامِلٌ یعنی میں اپنی حالت پر عمل کر رہا ہوں۔ یہاں مکانتی کا لفظ اختصاراً حذف کردیا گیا ‘ اس سے وعید میں زور بھی پیدا ہوگیا (کہ میں کامیاب ہوں گا اور تم دنیا و آخرت میں تباہ ہو گے) مکانتی کے لفظ کو حذف کردینے سے اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ موجودہ حالت پر ہی نہیں ٹھہر جائیں گے بلکہ جتنا…
Read the full tafseer →آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو، اور مجھے نقصان پہنچانے کی تدابیر کرتے رہو، میں بھی اپنی حالت پر عمل کر رہا ہوں۔ ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب نازل ہوگا جو اسے ذلیل و ہلاک کردے گا اور اس کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہوگا یہ اللہ کی طرف سے کفار کے لیے وعید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (135) ”عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ“ (وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے گا) سے مراد دنیا کا عذاب اور ”عَذَابٌ مُّقِيْمٌ“ (ہمیشہ رہنے والا عذاب) سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
38 ۔ 41:۔ ولن سالتھم اے محمد ! ﷺ اگر آپ ان سے پوچھیں لیقولن یہ امر واضح کیا کہ وہ بتوں کی عبادت کرنے کے باوجود یہ اقرار کیا کرتے تھے کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے جب اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے تو وہ تجھے اپنے ان معبودوں سے کیسے ڈراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جب کہ اس کا رسول ہے جس نے ان کی پیدا کیا اور آسمانوں و زمین کو پیدا کیا۔
قل افرائیتم اے محمد ! ﷺ جب انہوں نے یہ اعتراف کرلیا ہے تو اب ان سے کہو : مجھے بتائو اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا یہ بت تکلیف کو رفع کردیں گے اور اگر وہ مجھے رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل افراء یتم ما تدعون من دون اللہ “ (فرما دیجئے تم بتاؤ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ) یعنی بتوں کو۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” ھل ھن کشفت ضرہ “ کیا اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں) یہاں کا شفاف مضاف ہے اس طرح (آیت) ” ممسکت رحمتہ “ (یہ کیا ہے کوئی) ہٹانے والے یا اس کی رحمت کو روکنے والے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انت علیہم بوکیل “ یعنی حفاظت کرنے والے (نگہبان) (واللہ اعلم )
Read the full tafseer →مَنْ [اس کو ] يَّاْتِيْهِ [پہنچے گا جس کے پاس ] عَذَابٌ [ایک ایسا عذاب جو ] يُّخْزِيْهِ [رسوا کرے گا اس کو ] وَيَحِلُّ عَلَيْهِ [اور اترے گا اس پر ] عَذَابٌ مُّقِيْمٌ [ایک ٹھہرنے والا عذاب ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(قُلْ یَاقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں اپنے طور پر عمل کر رہا ہوں۔ ) تم اپنا مشرکانہ طرز عمل نہیں چھوڑتے اور مجھے تو اپنا دین بہرحال چھوڑنا ہی نہیں ہے۔ تم جو مجھے غلطی پر سمجھ رہے ہو تو تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون ہے جس پر عذاب آنے والا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور جس پر ایسا عذاب نازل ہوگا جو دائمی ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مشرکین کا بدر میں مقتول ہونا مراد ہے، بدر کے مقتولین نے دنیا میں بھی سزا پائی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے دائمی عذاب ہے اور ہر کافر کے لیے عذاب دائمی ہی ہے۔
قال صاحب الروح فان الاول اشارۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
بیان قدرت خداوندی وعدم استطاعت پر مدافعت عذاب :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولئن سالتھم من خلق السموت والا رض ...... الی ....... علیھم بوکیل “۔
(ربط) مضمون سابق میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا کہ مجرمین کو بس اللہ ہی کا عذاب سرکوبی کے لیے بہت کچھ ہے اور یہ مجرم اس عذاب خداوندہی سے کسی طرح نہیں بچ سکتے کیونکہ اللہ عزیز ذوانتقام ہے اب ان آیات میں اللہ رب العزت اپنی اس قدرت و طاقت کا ذکر فرمارہا ہے جو خود ان منکرین کو تسلیم ہے، مقصد یہ ہے کہ مشرکین کا یہ لغو اور بعید از عقل طریقہ کہ آپ ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اگر ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
40:۔ ” قل یقوم الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ آپ اپنی قوم کے مشرکین سے فرما دیں، اچھا اگر تم ضد وعناد کی وجہ سے حق کو نہیں مانتے ہو تو تم اپنی ڈگر پر چلتے رہو اور میں بھی اپنی راہ پر گامزن ہوں۔ قیامت کے دن جان لوگے کون سچا ہے اور کون جھوٹا اور رسوا کن اور دائمی عذاب کس کے حصے میں آتا ہے اور جنت کی نعمتیں اور آرام و راحت کس کے لیے مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…
Read the full tafseer →مَنْ يَّاْتِيْہِ عَذَابٌ يُّخْزِيْہِ وَيَحِلُّ عَلَيْہِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ 40
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» .
والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله :
فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر :
5-
أتيت المروءة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
تفسیر : کفار مکہ کا اپنے معبودوں کی نسبت اعتقاد بڑھا ہوا تھا، ان کو نافع وضار جانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جو ان کو نہیں مانتا اس کو برباد کردیں گے۔ عامہ ہنود کا بھی کالی بھوانی وغیرہما کی نسبت اب تک یہی اعتقاد ہے، اس لیے وہ اپنے معبودوں کی برائی سن کر نبی ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے، چناچہ عبدالرزاق نے معمر سے نقل کیا ہے کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے حضرت ﷺ سے کہا تھا یا تو ہمارے معبودوں کی برائی سے باز آؤ ورنہ ہم ان سے کہہ دیں گے وہ تم کو سڑی کردیں گے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ اس خیال کے غلط کرنے کو اول اپنی مدد اور حمایت کا بھروسہ دلاتا ہے۔ فقال الیس اللہ بکاف عبدہ کہ کیا خدا اپنے بندے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
قُلْ یٰـقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ج فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ۔ (الزمر : 39، 40)
(کہہ دیجیے ! کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو اور میں اپنا کام کرتا رہوں، عنقریب تم جان لو گے۔ کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردیتا ہے، اور کس پر وہ عذاب آتا ہے جو ٹک کے رہ جاتا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مشرکین سے براءت کا اعلان
ان آیات کے لب و لہجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہیں جب نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ قریش اور دیگر اہل مکہ کی آویزش اور مخالفت انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی توحید اور دین حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں سے ایک سوال۔
قرآن مجید نے اللہ کی توحید سمجھانے اور دین حق کی پہچان کروانے کے لیے ہر زاویہ سے کوشش فرمائی ہے کہ لوگ اللہ کی توحید کا اقرار کریں جو دین حق کی مرکزی اور پہلی اساس ہے۔ مشرکین کی سوئی ہوئی حِس کو بیدار کرنے کے لیے سوال کیا جارہا ہے کہ اے حبیب ﷺ ! اگر آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اب ان سے پھر سوال کریں کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سواپکارتے ہو اگر مجھے اللہ کی طرف سے تکلیف پہنچے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ اگر میرا رب…
Read the full tafseer →مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ (اور وہ کون شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا چاہتا ہے) ۔ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ (جو اس کو رسوا کردیگا اور اس پر دائمی عذاب نازل ہوگا) کس طرح اس میں ان کو اپنے ان پر غلبہ و سربلندی پالینے سے ڈرایا گیا جو غلبہ دنیا و آخرت میں میسر ہوگا۔ کیونکہ جب ان پر ذلت و رسوائی اور عذاب اترے گا۔ تو وہ آپ ﷺ کے ان پر غلبے کی آمد ہوگی اور وہ غلبہ اس حیثیت سے ہوگا کہ اللہ العزیز اپنے اولیاء کی نصرت سے ان کو غالب کردیں گے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل رسوا کردیں گے۔ یخزیہ، یہ عذاب کی صفت ہے جیسا کہ مقیم یعنی ایسا عذاب جو اس کو رسوا کرنے والا ہوگا اور وہ بدر کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
( 39۔ 40) ۔۔۔۔۔۔۔۔ ، قل یا قوم اعملواعلی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ وبحل علیہ عذاب مقیم ، یعنی ان پر دائیمی عذاب اترتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
39۔ 41۔ اوپر یہ ذکر تھا کہ ہر کام میں آدمی کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اب ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ پر بھروسہ رکھ کر تم کو نصیحت کرے جاؤں گا تم اگر میری نصیحت کو نہیں مانتے تو جو کچھ تم کر رہے وہ کرو اب آگے تمہیں اس کا خمیازہ دنیا اور آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سردار دنیا میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ آئندہ کی خرابی کا وعدہ قریش سے جن آیتوں میں تھا انس ؓ بن مالک کی یہ…
Read the full tafseer →آیت 40
(قد) ”(اے رسول ! ان سے) کہہ دیجیے : (یقوم اعملوا علی مکانتکم) ” اے میری قوم ! تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ “ یعنی تم اسی حالت میں عمل کرتے رہو جس پر تم اپنے لئے راضی ہو، یعنی ان ہستیوں کی عبادت کرتے رہو جو عبادت کی مستحق ہیں نہ انہیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ (انی عامل) اور میں تمہیں اکیلے اللہ تعالیٰ کے لئے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتا رہوں گا۔ (فسوف تعلمون) ” تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا “ کہ کس کا انجام اچھا ہے۔ (من یاتیہ عذاب یخزیہ) ” اور کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا ؟ “ یعنی دنیا میں (ویحل علیہ) ” اور نازل ہوگا اس پر “ یعنی آخرت میں (عذاب مقیم) ” ہمیشہ کا عذاب۔ “ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →82 مشرکوں سے اعلان براءت و بیزاری کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد میں " قل " کے صیغہ امر سے مشرکین سے براءت و بیزاری کے اعلان کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی مشرکوں سے کہا جائے کہ اگر ان اور ان براہین قاطعہ کے باوجود اگر تمہاری آنکھیں نہیں کھلتیں، تمہارے دلوں کے زنگ نہیں اترتے اور تمہارے باطن کی میل نہیں جاتی اور تم حق کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ تمہاری فطرت مسنح ہوچکی ہے اور تم راہ راست پر آنے والے نہیں ہو۔ لہذا اب آخری جواب و اعلان یہی ہے کہ تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ۔ میں اپنی جگہ اپنا کام کرتا رہوں گا۔ عنقریب ہی جبکہ دوسرے جہاں میں اصل حقائق کھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
سچوں اور جھوٹوں کے احوال
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41:
اسرار و معارف :
اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1 یعنی قتل و قید اور غلامی و محکمومی کی ذلت سے کون دو چار ہوتے ہیں۔2 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یہ ( یعنی رسوائی) دنیا میں اور وہ ( یعنی دائمی عذاب) آخرت میں۔ ( موضح)
Read the full tafseer →(39:40) من۔ موصولہ ہے بمعنی کسی کو۔ کس پر۔ من استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔
یخزیہ۔ یخزی مضارع واحد مذکر غائب۔ اخزاء (افعال) مصدر سے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (عذاب جو) اس کو رسوا کرے گا۔ اور اس سے عذاب دینا ہے۔ بدر کی لڑائی میں اللہ نے کفار مکہ کو رسوا کر بھی دیا۔
یحل علیہ : یحل فعل مضارع واحد مذکر غائب ۔ حلول (باب ضرب) مصدر سے نازل ہونا۔ اس پر نازل ہوگا۔
عذاب مقیم دوامی عذاب۔ یعنی دوزخ کا عذاب۔ یہ آخرت کا عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41 : سالت (تو نے پوچھا) کاشفت ( کھولنے والے) ممسکت ( روکنے والے) حسبی ( مجھے کافی ہے) یخزی (ذلیل و رسوا کرتا ہے) یحل ( حلال ہوتا ہے) عذاب مقیم ( نہ ٹلنے والا عذاب) وکیل ( کام بنانے والا)
تشریح آیت نمبر 38 تا 41 :۔ جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ کفار و مشرکین نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے یہ معبود ناراض ہو کر آپ کو کوئی شدید نقصان پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ ان کفار سے یہ پوچھئے کہ یہ زمین و آسمان اور اس کے اس نظام کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کیا اس اللہ نے پیدا نہیں کیا جس کے ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ پر اپنا بھروسہ رکھ کر تم کو نصیحت کرے جاؤں گا، تم اگر میری نصیحت کو نہیں مانتے تو جو کچھ تم مکروحیلے میری عداوت میں کررہے ہو وہ کروعنقریب تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا آگے فرمایا اے محبوب ﷺ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دین کی وہ سچی باتیں تم پر نازل فرمائی ہیں کہ جس نے ان پر عمل کیا وہ بھلائی کو پہنچا اور جو اس راستہ سے بہکا وہ خرابی میں پڑگیا اور اے محبوب ان بہکنے والوں کی گمراہی کا کچھ الزام تمہارے ذمہ نہیں ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کے نتیجہ کا ظہور ہے جو ضرور ہوکر رہے گا۔
Read the full tafseer →[25] چناچہ یہ عذاب مشرکین مکہ پر جنگ بدر کی صورت میں نازل ہوا۔
Read the full tafseer →اپنی سی کر دیکھو
2: یعنی اے اعداء دین تمہیں اپنی قوت پر ناز ہے ۔ تم اپنی وسلیہ کاریوں کی کامیابی پر اعتماد رکھتے ہو ۔ تمہیں یہ یقین ہے ۔ کہ تم اپنے مکارانہ منصوبوں میں کامرانی حاصل کرلو گے ۔ میں تمہیں بتلائے دیتا ہوں ۔ کہ تم لوگ اپنی سعی کر دیکھو ۔ وہ تمام حیلے اور تدبیریں جو تمہارے امکان میں ہیں ۔ ان کو آزمادیکھو ۔ میں بھی اپنی کامیابی پر متقین ہوں ۔ عنقریب معلوم ہوجائے گا ۔ کہ کون دنیا میں رسوائیوں کے عذاب میں مبتلا ہے ۔ اور آخرت میں دائمی اور ابدی سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔ اور کون فوزوفلاح کی سعادت سے ہمکنار ۔
Read the full tafseer →(40) کہ وہ شخص کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجئے اگر تم نہیں مانتے اور باوجود قائل ہوجانے کے پھر بھی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہو تو اچھا اپنے ڈھنگ پر جو کرتے ہو وہ کئے جائو اور میں بھی اپنی حالت پر جو کچھ کررہا ہوں وہ کئے جائوں گے ہاں اتنی بات کہہ دیتا ہوں کہ بہت جلد تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ دنیا میں کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کس پر مرنے کے بعد دائمی عذاب اور سد کا عذاب نازل ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ دنیا میں یہ آخرت میں۔
خلاصہ : کہ مغلوب اور مقتول ہوکر رسوا ہوگے دنیا میں اور جہنم میں داخل ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ف 4۔ یعنی جیسے تم اپنا طریقہ نہیں چھوڑتے، میں اپنا طریقہ نہیں چھوڑتا۔
Read the full tafseer →وہ کون ہے جس پر آفت آتی ہے اور وہ کون ہے جو آخرت میں عذاب دیا جاتا ہے ؟
40۔ یعنی دونوں طرف سے عمل جاری ہے اور نتیجہ سے یہ بات روشن ہوجائے گی کہ کون ہے وہ جس کو اس دنیا میں رسوائی ہوئی ہے اور کون ہے وہ جو آخرت کے عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ غور کیجئے کہ ان حالات میں جن حالات سے آپ دوچار تھے اس طرح دو ٹوک اور صاف صاف بات کرنا اور ساری مخالفتوں کے باوجود اپنا عمل جاری رکھنا کیا آسان کام تھا لیکن آپ نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اللہ کے حکم سے اپنا عمل جاری رکھا اور پھر یہ عمل سالہا سال جاری رہا اور بلاشبہ جو نتیجہ نکلا وہ آپ نے بھی ، آپ کے مخالفین نے بھی اور ساری دنیا نے بھی اس وقت اپنی آنکھوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
Commentary
In the first verse (36), it was said: أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (Is Allah not sufficient for (the protection of) His slave?). This verse was revealed in the background of an event. The disbelievers had threatened the Holy Prophet ﷺ and his noble Sahabah by saying that, should they act irreverently against their idols, they would never escape the curse of these idols, something very lethal to face. In reply, they were told: Is Allah not sufficient for His slave?
Therefore, some commentators have taken: عَبْدَه (abdahu: His slave) here to mean a particular slave of Allah,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
58 That is, °You may go on doing what you can in order to harm me and do not give me any respite.
Read the full tafseer →