Explained with ayahs 71–85
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔
یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سورة صٓ 68
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ " میں تیرے چیدہ بندوں کو بہکاؤں گا نہیں، " بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ " تیرے چیدہ بندوں پر میرا بس نہ چلے گا۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
(آیت) لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۔ یہاں حضرت آدم ؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پیدا کیا۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ ”ہاتھوں“ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی ہاتھ ہیں جیسے انسانوں کے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعضاء وجوارح کی احتیاج سے منزہ ہے۔ لہٰذا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور عربی زبان میں لفظ ”ید“ بکثرت قدرت کے معنی میں مستعمل ہے، مثلاً ارشاد ہے(آیت) بیدہ عقدة النکاح۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آدم کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ اور یوں تو کائنات کی ساری چیزیں قدرت خداوندی ہی سے پیدا ہوئی ہیں، لیکن جب باری تعالیٰ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
قال فبعزتک لاغرینھم اجمعین، الا عبادک منھم المخلین (83-82)
جب اس کو یہ مہلت مل گئی تو اس نے بڑے طنطنہ کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت کی قسم کھا کر کہا کہ اب میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور ان میں سے بجز ان کے جن کو تو نے اپنی بندگی کے لئے خاص کرلیا ہو، سب میرے فتراک ضلالت کے پیغمبر ہو کے رہیں گے۔ یعنی میں یہ بابت کر دوں گا کہ اس انسان کو تو نے جس عزت و شرف کا اہل سمجھا ہے یہ ہرگز اس کا اہل نہیں ہے اور میں اس کو سجدہ نہ کرنے میں بالکل بجانب حق ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
76۔ 1 یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم ؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
28: اس واقعے کی پوری تفصیل سورة بقرہ : 31 تا 36 میں گذر چکی ہے، نیز شیطان نے جو مہلت مانگی تھی وہ روز حشر تک کے لیے تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ ایک معین وقت تک مہلت دی جاتی ہے۔ لہذا پہلے صور کے بعد تمام مخلوقات کو موت آئے گی تو ان میں شیطان کو بھی آئے گی۔ جیسا کہ سورة حجر : 38 میں بھی گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
آیت نمبر 82 تا 83
اس نے اپنا منہاج کار بھی متعین کردیا ، وہ اللہ کی عزت کی قسم اٹھا کر اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ میں ان تمام انسانوں کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ ہاں وہ صرف ان لوگون کو مستثنیٰ کرتا ہے جن پر اس کا بس نہیں چلتا۔ اس لیے نہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ وہ کچھ مہربانی کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے دام میں آنے والے نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ شیطان کی دست درازیوں سے محفوظ ہیں۔ ان کے اور شیطان کے درمیان کیا پردہ ہوتا ہے ؟ وہ یہ کہ بندہ اللہ کی بندگی اخلاص کے ساتھ کرے تو وہ شیطان کی دسترس سے دور ہوجاتا ہے۔ یہی طریق نجات ہے اور یہی زندگی کی مضبوط رسی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
12 یعنی میری سب باتیں سچی اور ٹھیک ہی ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 83 { اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے ان میں سے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص کرلیا ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
74 یہ مطلب نہیں کہ ابلیس اللہ کے مخلص بندوں کو بہکانے کی کوشش ہی نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے دام فریب میں نہ آسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
71۔ ابلیس اپنے سارے دم خم، اور اتنے بلند بانگ دعو وں کے باوجود حق تعالیٰ کے ان بندوں کے سامنے شروع ہی سے ہار مانے ہوئے ہے جو اپنے کو اس کے اثرات سے بچانے کی فکر واہتمام میں لگے ہوتے ہیں اور ان کے حق میں اسے اغواء تک کی ہمت نہیں ہوتی۔ (آیت) ” الا ...... المخلصین “۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ کہا ہے کہ ابلیس نے یہ استثناء کرکے اپنی سچائی کو قائم رکھا، یعنی اندھا دھند یہ دعوی نہیں کر بیٹھا کہ میں سارے ہی انسانون کو بہکالوں گا، بلکہ اللہ کے نیک وپارسا بندوں کو اس سے مستثنی کردیا، تو جھوٹ ایسی گندی چیز ہے جس سے ابلیس تک حیا آئی، تو اس مسلمان کی حالت پر حیف ہے جو مومن ہو کر جھوٹ سے پرہیز نہ کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →الا عبادت منھم المخلصین سوائے ان تیرے بندوں کے جو ان میں سے (تیرے) منتخب ہوں گے
فَبِعِزَّتِکَ میں بھی فاء سببی ہے۔ ابلیس کو مہلت مل جانا ہی عزم اغواء کا سبب ہے ‘ اگر اللہ کی طرف سے اس کو مہلت نہ ملتی تو وہ اغواء پر قادر نہ ہوتا۔ ابلیس ملعون نے اللہ کی عزت یعنی غلبۂ کامل اور ہمہ گیر قدرت کی قسم کھائی تاکہ اس ذریعہ سے اس کو بنی آدم کے اغواء پر تسلط حاصل ہوجائے۔
الْمُخْلَصِیْنَ یعنی وہ لوگ جن کو اللہ نے اپنی طاعت کیلئے منتخب کرلیا ہے اور گمراہی سے محفوظ بنا دیا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
(79۔ 83) اس کے بعد اس خبیث نے چاہا کہ موت کا مزہ نہ چکھے اس لیے بےشرمی کے ساتھ عرض کیا کہ پروردگار قیامت کے دن تک مجھ کو مہلت دیجیے۔ ارشاد خداوندی ہوا جا تجھ کو پہلا صور پھونکنے تک مہلت دی گئی۔ کہنے لگا آپ کی عزت و جلال کی قسم میں ان سب کو آپ کے طریقہ اور اطاعت سے گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو مجھ سے معصوم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ : اس آیت سے آدم ؑ کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ تفصیل سورة مائدہ کی آیت (64) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : (بل یدہ مبسوطتن) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ : ”اَسْتَكْبَرْتَ“ اصل میں ”أَ اِسْتَکْبَرْتَ“ تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
75 ۔ 83:۔ مامنعک کس نے تجھے حکم بجا لانے سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا کہ تو سجدہ کرے لما خلقت بیدی اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کا اظہار کا تھا اگرچہ وہ ہر شے کا خالص ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح ‘ بیت ‘ ناقہ اور مساجد کو مضاف کیا لوگوں سے اسی طریقہ سے خطاب کیا جس طرح لوگ اپنے معمولات میں آگاہ تھے کیونکہ مخلوقات میں سے ریئس اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا مگر اس شے کی عظمت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہاں بھی ید کا ذکر اسی معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں ید کا ذکر تاکید کے لئے اور زائد ہے اس کے معنی ہے لما خلقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
1:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کے پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! ہمیشہ شراب پینے والا دیوث اس میں نہیں ٹھہرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو پہچان لیا (مگر) دیوث کیا ہے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال کو بدکاری کا مشورہ دے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے اور ابوالشیخ (رح) نے…
Read the full tafseer →اِلَّا [سوائے ] عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ [ان میں سے تیرے ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے بندوں کے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔
ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–85
ربط آیات :
گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَادَكَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِيْنَ 83
عبد
والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب :
الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ
[ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] .
الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] .
والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة،
والناس في هذا ضربان :
عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔
تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (صٓ: 82، 83)
(اس نے کہا تیری عظمت کی قسم، میں ان سب کو بہکا کر رہوں گا۔ بجز تیرے ان بندوں کے جنھیں تو نے خاص کرلیا ہے۔ )
جیسے ہی اسے مہلت ملی اور اسے اطمینان ہوگیا کہ اب میں اپنی انتقامی کارروائی میں آزاد ہوں تو اس نے نہایت طنطنہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت کی قسم کھا کر کہا کہ اب میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ میں ان میں سے ہر ایک کو بہکائوں گا اور یہ میرے بہکانے کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ بجز ان لوگوں کے جنھیں تو نے بندگی کے لیے خاص کرلیا ہے۔ اس طرح سے میں یہ ثابت کردوں گا کہ میرا آدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
فہم القرآن
ربط کلام : نبی کا کام لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو لوگ برے انجام سے بےخوف ہوں گے ان کا انجام ابلیس جیسا ہوگا۔
نبی آخر الزمان ﷺ نے کفار اور مشرکین کو بار بار برے انجام سے متنبہ فرمایا مگر وہ لوگ دعوت قبول کرنے کی بجائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے اس پر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ انہیں سنایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملائکہ اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوئے اور شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذلیل ٹھہرا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے لیکن ہر موقعہ پر جدا گانہ الفاظ اور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے اللہ…
Read the full tafseer →83: اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کئے ہوئے ہیں)
قراءت : مُخْلِصِیْنَ ، مکی، بصری وشامی قراء نے لام کا کسرہ پڑھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
77، قال فاخرج منھا، اس جنت سے ان کو نکال دو ۔ بعض نے کہا کہ ان کو آسمان سے نیچے اتاردو۔ حسن اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس خوبصورت بناوٹ سے نکل جاؤ جس میں تو بنایا گیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا کہ یہ تشریح اچھی ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی بد صورتی سے بدل گئی۔ ، فانک رجیم ، بیشک توراندہ درگاہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
82۔ 88۔ مسند امام 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں معتبر سند کی ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ شیطان نے قسم کھا کر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جس وقت تک جان رہے گی۔ اس وقت تک میں ہر ایک انسان کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس ملعون کے جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم میں جان رہے گی۔ اور انسان گناہ کر کے توبہ استغفار کرتا رہے گا۔ میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتا رہوں گا۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ کیونکہ آیت میں فقط شیطان کا قول ہے۔ اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–88
آیت 74، 88
(قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
91 شیطان کا زور اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں پر نہیں چل سکتا : سو مہلت ملنے پر ابلیس نے بڑے زور اور طنطنے کے ساتھ کہا کہ " تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا سوائے تیرے چنے ہوئے خاص بندوں کے "۔ کہ تیرے خاص اور چنے ہوئے بندوں پر میرا زور اور میرا جادو بہرحال نہیں چل سکے گا۔ سو اس ملعون کا زور اور جادو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو ایمان و یقین کی قوت اور اپنے رب پر توکل و اعتماد کے شرف سے محروم ہوتے ہیں۔ اور وہ اس سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرما دی گئی ہے ۔ { اِنَّہ لَیْسَ لَہ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–88
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے
تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 3 انہیں میں گمراہ نہ کرسکوں گا۔
Read the full tafseer →(38:83) الا عبادک منہم المخلصین۔ الا حرف استثناء عبادک مضاف مضاف الیہ (تیرے بندے) مل کر موصوف المخلصین صفت موصوف و صفت مل کر مستثنیٰ متصل ہم مستثنیٰ منہ۔ سوائے ان میں سے تیرے مخلص بندوں کے۔
المخلصین۔ اسم مفعول جمع مذکر اخلاص (افعال) مصدر۔ خالص کئے ہوئے ۔ مخصوص لوگ۔ جو منتخب کر لئے گئے ہیں۔ جو چن لئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
شیطان کا اللہ تعالیٰ سے تکبر کرنا۔
(ف 1) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ، شیطان نے قسم کھا کر اللہ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جب تک جان رہے گی تب تک بہکانے میں کوتاہی نہ کروں گا، مگر تھوڑے سے لوگ جو تیری راہ میں اخلاص والے ہوں گے یعنی انبیاء واولیائ، اللہ نے قسم کھا کر جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم مین جان رہے گی اور گناہ کرکے توبہ کرتا رہے گا میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتارہوں گا اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر سمجھنا چاہیے کیو کہ یہاں فقط شیطان کا قول ہے اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے کہ اور اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کے قول کی قسم کھاک رجوجواب دیا ہے وہ بھی موجود ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–88
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
اللہ کے نائب کا عہدہ
1: یہ اس وقت کی بات ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو وجود کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کو تھا ۔ جب یہ طے ہورہا تھا ۔ کہ اس ظلوم وجہول کے کندھے پر خلافت عظمی کا بار رکھا جائے ۔ جب ملاء اعلیٰ کے روحانی نعمتوں سے معمور تھا ۔ اور اخلاق اکبر کو یہ منظور تھا ۔ کہ زمین کو بشر کی ہنگامہ آرائیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ اس وقت اس میں خودداری و عظمت کا جذبہ بیدار کرنے اور زمین میں بہترین غائب بنانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ طاء اعلیٰ کو اس کے سامنے جھکایا جائے اور اس کی بتلایا جائے ۔ کہ دنیا میں جانے کا مقصد تسخیر کائنات ہے ۔ تم اس لئے خلعت وجود سے نوازے جارہے ہو ۔ تاکہ قدرت کی بلند…
Read the full tafseer →(83) مگرہاں اولاد آدم میں سے تیرے وہ بندے محفوظ رہیں گے جو چیدہ اور مخلص ہوں گے۔ یعنی سب کو بہکائوں گا اور گمراہ کروں گا مگر تیرے چیدہ بندے میرے قبضے میں نہیں آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
ف 2۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہی صلصال من حما مسنون اور ان میں کچھ تعارض نہیں، کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا، کہیں مادہ بعیدہ۔
Read the full tafseer →ابلیس نے اپنے دعویٰ سے اللہ کے بندوں کو خارج کردیا
83۔ ابلیس کا دعویٰ اپنی فطرت کے مطابق تھا کہ جب میں مجسمہ شر ہوں اور ڈھیل ومہلت مجھ کو تو نے دے ہی دی ہے تو اب میں اپنا کام پورے زور وشور سے جاری کروں گا اور تیرے ان انسانوں کو جن کو تو نے اشرف المخلوقات قرار دیا ہے ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا گویا یہ انسان کی اندرونی اس طاقت و قوت کا اعلان ہے جس کو ابلیس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور تفہیم کے لیے اس کو مشخص کیا گیا ہے اس نے انسانوں کو گمراہ کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا اس دعویٰ سے اللہ کے ان بندوں کو خود ہی خارج کردیا جو کبھی گناہ نہیں کرتے اور اگر ان سے گناہ ہوجاتا ہے تو وہ اس پر کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
In verse 75, it was said: لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (what I created with My hands...):
Here, it is about Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) that Allah Ta’ ala has said that it is He who had created him with His hands. There is a consensus among the majority of the Muslim Ummah that "hands" do not mean that Allah Ta’ ala has hands as human being do. The reason is that Allah Ta’ ala is absolutely pure and free from the need of body or its active limbs. Therefore, it means the power and control of Allah Ta’ ala and that the word: یَد (yad: hand) is commonly used in the Arabic language in the sense of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
68 This does not mean "I will not lead Your chosen servants astray," but this: "I shall have no power over Yew chosen servants."
Read the full tafseer →