Explained with ayahs 71–85
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔
یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
سورة صٓ 67
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یوم الجزاء کے بعد اس پر لعنت نہ ہوگی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوم الجزا تک تو وہ اس نافرمانی کی پاداش میں مبتلائے لعنت رہے گا، اور یوم الجزاء کے بعد وہ اپنے ان کرتوتوں کی سزا بھگتے گا جو تخلیق آدم کے وقت سے لے کر قیامت تک اس سے سرزد ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
(آیت) لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۔ یہاں حضرت آدم ؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پیدا کیا۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ ”ہاتھوں“ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی ہاتھ ہیں جیسے انسانوں کے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعضاء وجوارح کی احتیاج سے منزہ ہے۔ لہٰذا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور عربی زبان میں لفظ ”ید“ بکثرت قدرت کے معنی میں مستعمل ہے، مثلاً ارشاد ہے(آیت) بیدہ عقدة النکاح۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آدم کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ اور یوں تو کائنات کی ساری چیزیں قدرت خداوندی ہی سے پیدا ہوئی ہیں، لیکن جب باری تعالیٰ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
قال رب فالظرنی الی یوم یبعثون قال فانک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم (81-79)
اللہ تعالیٰ کی اس لعنت سے ابلیس نے گمان کیا کہ شاید اس کی مہلت عمل ختم کی جا رہی ہے اور اس کو انسان کے خلاف زور آزمائی کا موقع اب نہیں دیا جائے گا اس وجہ سے اس نے درخواست کی کہ اس کو اس دن تک کے لئے مہلت دی جانے جس دن لوگوں اپنے اعمال کے حساب کے لئے اٹھائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ مہلت دے دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
76۔ 1 یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم ؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
آیت نمبر 80 تا 81
شیطان نے اپنے مقاصد صاف صاف بتا دیئے کہ اپنی کینہ پروری وہ ان مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
11 یعنی پہلے نفخہ کے قریب تک۔ اس کے بعد نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 80 { قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ”اللہ نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں یہ مہلت دے دی گئی۔“
اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں بھی ”استحقار“ کا وہی انداز محسوس کیا جاسکتا ہے جو اوپر آیت 77 میں پایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
73 ابلیس اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس پورے مکالمہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے حوالہ کے لئے دیکھئے اسی سورة کی آیت نمبر 78 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
70۔ (کہ تو بھی اپنے دل کے حوصلے نکال دیکھ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →فرمایا بیشک تو مہلت دیے جانے والوں میں سے ہے
اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ جملۂ اسمیّہ ہے جو اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ابلیس کو مقرر وقت تک مہلت دینا اللہ کو پہلے ہی معلوم تھا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ابلیس کا سوال پر پورا کردیا اور دعا قبول کرلی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
(79۔ 83) اس کے بعد اس خبیث نے چاہا کہ موت کا مزہ نہ چکھے اس لیے بےشرمی کے ساتھ عرض کیا کہ پروردگار قیامت کے دن تک مجھ کو مہلت دیجیے۔ ارشاد خداوندی ہوا جا تجھ کو پہلا صور پھونکنے تک مہلت دی گئی۔ کہنے لگا آپ کی عزت و جلال کی قسم میں ان سب کو آپ کے طریقہ اور اطاعت سے گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو مجھ سے معصوم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ : اس آیت سے آدم ؑ کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ تفصیل سورة مائدہ کی آیت (64) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : (بل یدہ مبسوطتن) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ : ”اَسْتَكْبَرْتَ“ اصل میں ”أَ اِسْتَکْبَرْتَ“ تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
75 ۔ 83:۔ مامنعک کس نے تجھے حکم بجا لانے سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا کہ تو سجدہ کرے لما خلقت بیدی اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کا اظہار کا تھا اگرچہ وہ ہر شے کا خالص ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح ‘ بیت ‘ ناقہ اور مساجد کو مضاف کیا لوگوں سے اسی طریقہ سے خطاب کیا جس طرح لوگ اپنے معمولات میں آگاہ تھے کیونکہ مخلوقات میں سے ریئس اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا مگر اس شے کی عظمت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہاں بھی ید کا ذکر اسی معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں ید کا ذکر تاکید کے لئے اور زائد ہے اس کے معنی ہے لما خلقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
1:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کے پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! ہمیشہ شراب پینے والا دیوث اس میں نہیں ٹھہرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو پہچان لیا (مگر) دیوث کیا ہے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال کو بدکاری کا مشورہ دے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے اور ابوالشیخ (رح) نے…
Read the full tafseer →قَالَ [(اللہ تعالیٰ نے ) کہا ] فَاِنَّكَ [پس بیشک تو ] مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ [مہلت دیے ہوؤں میں سے ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔
ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–85
ربط آیات :
گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ 80ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔
تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّـکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (صٓ: 79 تا 81)
(ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اس وقت تک کے لیے مہلت دے دے، جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ پروردگار نے فرمایا : تجھ کو مہلت دی گئی۔ وقت معین تک کے لیے۔ )
قیامت تک لعنت کی سزا سننے کے بعد ابلیس نے گمان کیا کہ شاید اس کی مہلت عمل ختم کی جارہی ہے جبکہ وہ دل میں یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ میرے جنت سے نکلنے اور میرے تمام مناصب سے محروم ہونے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کردیئے جانے کا سبب چونکہ آدم ہوئے ہیں، اس لیے جب تک میں زندہ ہوں میں اولادِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
فہم القرآن
ربط کلام : نبی کا کام لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو لوگ برے انجام سے بےخوف ہوں گے ان کا انجام ابلیس جیسا ہوگا۔
نبی آخر الزمان ﷺ نے کفار اور مشرکین کو بار بار برے انجام سے متنبہ فرمایا مگر وہ لوگ دعوت قبول کرنے کی بجائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے اس پر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ انہیں سنایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملائکہ اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوئے اور شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذلیل ٹھہرا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے لیکن ہر موقعہ پر جدا گانہ الفاظ اور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے اللہ…
Read the full tafseer →80: قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ (فرمایا بیشک تجھے مہلت دے دی گئی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
77، قال فاخرج منھا، اس جنت سے ان کو نکال دو ۔ بعض نے کہا کہ ان کو آسمان سے نیچے اتاردو۔ حسن اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس خوبصورت بناوٹ سے نکل جاؤ جس میں تو بنایا گیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا کہ یہ تشریح اچھی ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی بد صورتی سے بدل گئی۔ ، فانک رجیم ، بیشک توراندہ درگاہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–88
آیت 74، 88
(قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
90 شیطان کے لیے مہلت کا اعلان : سو ابلیس کی ابلیسانہ ذہنیت کا ایک اور منظر اس طرح سامنے آیا کہ اس نے اپنی اس تحقیر و تذلیل اور محرومی پر معذرت کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے اپنے لیے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تو اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ " تجھے مہلت ہے وقت معلوم تک "۔ یعنی نفخہ اولیٰ تک جبکہ سب لوگ مرجائیں گے اور عمل کی مہلت ختم ہوجائے گی۔ سو تجھے یوم بعث تک تو مہلت نہیں مل سکتی جیسا کہ تو نے سوال اور مطالبہ کیا ہے۔ البتہ نفخہ موت تک تجھے مہلت دے دی گئی ہے۔ سو یہ اس حلیم مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے حلم بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اتنے بڑے طاغی و سرکش کو بھی اس نے اتنی طویل مہلت دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–88
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے
تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
ف 2 یعنی جو تمام مخلوقات کے فنا ہوجانے کے لئے مقرر ہے۔ مراد پہلے صور کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(38:80) قال فانک من المنظرین اس میں فاء سببیہ ہے یعنی ابلیس کا سوال اس جواب کا سبب ہے۔ المنظرین اسم مفعول جمع مذکر۔ انظار (افعال) مصدر سے مہلت دیئے جانے والے۔ مہلت دئیے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا تو مہلت دئیے جانے والوں میں سے ہوگیا یعنی تجھے مہلت دے دی گئی۔
یوم الوقت المعلوم : یوم مضاف الوقت المعلوم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ اس دن تک جس کا وقت (اللہ کو) معلوم ہے اس سے مراد پہلی بار صور پھونکے جانے کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–88
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
اللہ کے نائب کا عہدہ
1: یہ اس وقت کی بات ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو وجود کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کو تھا ۔ جب یہ طے ہورہا تھا ۔ کہ اس ظلوم وجہول کے کندھے پر خلافت عظمی کا بار رکھا جائے ۔ جب ملاء اعلیٰ کے روحانی نعمتوں سے معمور تھا ۔ اور اخلاق اکبر کو یہ منظور تھا ۔ کہ زمین کو بشر کی ہنگامہ آرائیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ اس وقت اس میں خودداری و عظمت کا جذبہ بیدار کرنے اور زمین میں بہترین غائب بنانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ طاء اعلیٰ کو اس کے سامنے جھکایا جائے اور اس کی بتلایا جائے ۔ کہ دنیا میں جانے کا مقصد تسخیر کائنات ہے ۔ تم اس لئے خلعت وجود سے نوازے جارہے ہو ۔ تاکہ قدرت کی بلند…
Read the full tafseer →(80) اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلا شبہ تجھ کو مہلت دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
ف 2۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہی صلصال من حما مسنون اور ان میں کچھ تعارض نہیں، کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا، کہیں مادہ بعیدہ۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابلیس کو ڈھیل دیئے جانے کا اعلان قرآنی
80۔ اللہ تعالیٰ سے اس کا مہلت طلب کرنا اور رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے مہلت کا دیا جانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا ہونا ناگزیر تھا کہ اس دنیا میں ہرچیز کی ایک نقیض ہے اور اس نقیض سے اس کا وجود قائم ہے خیر و نیکی کو باقی رکھنے کے لیے اس کا وجود بھی ناگزیر تھا اس لیے اس کو دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت دی گئی مطلب یہ ہے کہ جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے اس وقت تک اس کا باقی رہنا لازم وضروری ہے اور بلاشبہ وہ کسی کے مٹانے سے بالکل مٹ نہیں سکتی۔ یہ ایک پیرایہ تفہیم کے لیے اختیار کیا گیا ہے اگر یہ بات سمجھ میں آجائے تو انسان اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
In verse 75, it was said: لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (what I created with My hands...):
Here, it is about Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) that Allah Ta’ ala has said that it is He who had created him with His hands. There is a consensus among the majority of the Muslim Ummah that "hands" do not mean that Allah Ta’ ala has hands as human being do. The reason is that Allah Ta’ ala is absolutely pure and free from the need of body or its active limbs. Therefore, it means the power and control of Allah Ta’ ala and that the word: یَد (yad: hand) is commonly used in the Arabic language in the sense of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
67 This dces not mean that there will be no curse on him after the Day of Judgment, but rather it means: "He will remain accessed till the Day of Judgment because of his disobedience, and after the Day of Judgment he will be punished for the sins which he will have committed from . the creation of Adam till Resurrecton. "
Read the full tafseer →