Saad 38:64

Saad · from ayah 64

38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ ۟۠اِنَّ ذٰ لِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ

بےشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, that is truth - the quarreling of the people of the Fire.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:64

بے شک یہ بات سچی ہے، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی یہ ساری باتیں بالکل سچی ہیں جو ہو کر رہیں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ ضرور حق ہے دوزخیوں کا باہم جھگڑ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک یہ اہلِ جہنم کا آپس میں جھگڑنا یقیناً حق ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یہ آگ والوں کا آپس میں جھگڑنا یقینا حق ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ بات یقینا سچی ہے کہ دوزخی باہم ایسے ہی جھگڑتے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اہل دوزخ کی یہ باہمی توتکار ایک امر واقعی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ یہ بات یعنی دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا قطعی طور پر حق (اور سچ) ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ یعنی اہل دوزخ کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا یہ حق ہے اہل جہنم کے مابین جھگڑا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily all this is true. This is how the inmates of the Fire will dispute among themselves.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is going to happen definitely, that is, the mutual quarrel of the people of the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani

That is going to happen definitely, that is, the mutual quarrel of the people of the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! that is very truth: the wrangling of the dwellers in the Fire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, that is truth - the quarreling of the people of the Fire.

— Saheeh International

Such disputes will certainly take place among the dwellers of hell fire.

— Muhammad Sarwar

That most surely is the truth: the contending one with another of the inmates of the fire.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this is the very truth: the wrangling of the fellows of the Fire!

— Abdul Majid Daryabadi

Truly that is just and fitting,- the mutual recriminations of the People of the Fire!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–64

اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–64

سورة صٓ 55 مراد ہیں وہ اہل ایمان جن کو یہ کفار دنیا میں برا سمجھتے تھے۔ مطلب یہ کہ وہ حیران ہو ہو کر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کا یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں کرتے تھے اور خدا، رسول، آخرت کی باتیں کرنے پر جن کا مذاق ہماری مجلسوں میں اڑایا جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–64

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔ زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان ذلک لحق تخاصم اھل النار (64) ذلک کا اشرہ تخاصم اھل النار کی طرف ہے، تخاصم کے معنی باہمی توتکار اور جھگڑے کے ہیں۔ فرمایا کہ اہل دوزخ کی جس توتکار کا ذکر ہوا یہ ایک امر واقعی ہے اس کو کوئی خواب و خیال نہ سمجھے۔ آج جو لوگ حق کی مخالفت میں ایک دوسرے کے لیڈر اور پیرو بنے ہوئے ہیں وہ جو کچھ کریں اس انجام کو سامنے رکھ کر کریں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 64–66

64۔ 1 یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے جس میں تکلف نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

25: اس سے مراد مسلمان ہیں جن کو یہ کافر لوگ دنیا میں برا سمجھتے تھے، اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ ان کو جہنم میں نظر نہیں آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان ذلک لحق تخاصم اھل النار (38: 64) ” بیشک یہ بات سچی ہے کہ اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں “ ذرا دیکھئے کہ ان کا انجام اہل ایمان کے انجام سے کس قدر مختلف اور اپنے طور پر کس قدر بھیانک ہے۔ دنیا میں تو اہل جہنم متقین کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ نے ان پر جو کلام الہٰی نازل کیا ہے۔ یہ اس کے اہل ہی نہیں۔ اور یہی وہ نقشہ عذاب ہے جس کے لیے وہ بچوں کی شتابی مچا رہے تھے۔ اور کہتے تھے۔ وقالو۔۔۔ الحساب (38: 16) ” اے ہمارے رب ' ہمارا حصہ ہمیں یوم الحساب سے بھی پہلے دے دے “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی بظاہر یہ بات خلاف قیاس ہے کہ اس افراتفری میں ایک دوسرے سے جھگڑیں۔ عذاب کا ہولناک منظر کیسے دوسری طرف متوجہ رہنے دے گا۔ لیکن یاد رکھو ! ایسا ہو کر رہے گا۔ یہ بالکل یقینی چیز ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اور حقیقت میں یہ ان کے عذاب کی تکمیل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 64 { اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَہْلِ النَّارِ } ”یقینا یہ حق ہے اہل جہنم کے مابین جھگڑا !“ تم لوگوں کو یقین رکھنا چاہیے کہ جیسے ہم یہ سب کچھ بیان کر رہے ہیں ‘ اس روز اہل ِجہنم کے مابین بالکل اسی طرح سے بحث و تکرار ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 اگرچہ روز محشر کی ہولناکیاں اتنی شدید ہوں گی کہ کسی کو دوسرے کی طرف توجہ کرنے کا ہوش تک نہ ہوگا۔ تاہم یہ ایک یقینی بات ہے اور اہل دوزخ ایک دوسرے کے سر الزام دیں گے اور آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے یہ دو قسم کے لوگ ہوں گے۔ ایک بڑے لوگ جن میں حکمران، سیاسی لیڈر، چودھری، رئیس جھوٹے پیشوایان دین اور ہر ایسا شخص شامل ہوگا جس کی دنیا میں کسی نہ کسی رنگ میں اللہ کے مقابلہ میں اطاعت کی جاتی رہی اور دوسرا فریق کمزور یا مرید قسم کے لوگ ہوں گے جو اپنے بڑوں کی اطاعت حتیٰ کہ عبادت کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

58۔ یہ سرتاسر حقائق ہیں، انہیں شاعری یا انشاپردازی سمجھ کر نظر انداز نہ کرو، اور ہلکا نہ سمجھو، (آیت) ” ذلک “۔ یعنی اہل جہنم کے درمیان منازعہ ومخاصمہ۔ اے الذی حکینا عنھم (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ذلک لحق تخاصم اھل النار بیشک یہ بات یعنی دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات ہے۔ اِنَّ ذٰلِکَ بیشک یہ جو کچھ دوزخیوں کے متعلق ہم نے بیان کیا۔ لَحَقٌّ بلاشبہ صحیح ہے ‘ وہ ضرور ایسی گفتگو کریں گے۔ تَخَاصُمُیہ حَقٌّسے بدل ہے ‘ یا مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ دوزخیوں کے باہم سوال جواب اور آپس کی گفتگو فریقین معاملہ کی گفتگو کے مشابہ ہوگی ‘ اسلئے اس کو تخاصم (باہمی رگڑا جھگڑا) فرمایا۔ اس کے علاوہ پیشواؤں کا متبعین کے متعلق لا مرحبا بکم کہنا اور لوٹ کر پھر ان کو بل لا مرحبا بکم کہنا ایک قسم کا تخاصم ہے اور ساری گفتگو میں تخاصم بھی شامل ہے ‘ اسلئے پوری گفتگو کو ہی تخاصم فرما دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 63–64

(63۔ 64) کیا ہم نے دنیا میں ناحق ان کا مذاق اڑایا تھا یا ان کے دیکھنے سے ہماری نگاہیں چکرا رہی ہیں کہ وہ ہمیں یہاں نظر نہیں آرہے یہ دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ : یعنی اگرچہ یہ بات تمہاری سمجھ میں آنا مشکل ہے کہ اتنے شدید عذاب اور نفسا نفسی میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے، مگر سن لو ! یہ بات بالکل حق ہے کہ آگ میں جلنے والے ایک دوسرے سے سخت جھگڑیں گے اور یہ بھی ان کے عذاب کا ایک حصہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–64

62 ۔ 64:۔ و قالو یعنی مشرکین کے اکابر نے کہا : کیا وجہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو یہاں نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم شریر شمار کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : وہ اشرار سے مراد حضرت محمد ﷺ کے صحابہ لیتے۔ ابو جہل کہے گا : بلال کہاں ہے ‘ صہیب اور عمار کہاں ہے ؟ وہ فردوس میں ہونگے۔ ابو جہل پر تعجب ہے وہ بیچارہ مسکین ‘ اس کا بیٹا حضرت عکرمہ مسلمان ہوگیا اس کی بیٹی جو یریہ مسلمان ہوگئی اس کی ماں مسلمان ہوگئی اور اس کا بھائی مسلمان ہوگیا جب کہ اس نے کفر کیا۔ شاعر نے کہا : و نورا اضاء الارض شرقا و مغربا و موضع رجلی منہ اسود مظلم وہ نور جس نے زمین کے مشرق و مغرب کردیا اور میرے قدم کی جگہ اس سے تاریک و سیاہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–64

1:۔ عبد بن حمید (رح) وان جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن عساکر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “ (اور وہ کہیں گے کیا بات ہے کہ دوزخ میں ہم کو وہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے) یہ ابوجہل بن ہشام کا قول ہوگا دوزخ میں میرے لئے کیا بات ہے کہ میں بلال کو عمار کو صہیب کو اور خباب کو ؓ اور فلاں کو نہیں دیکھتا (آیت ) ” اتخذنہم سخریا “ ہم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور وہ ایسے نہیں تھے (آیت ) ” ام زاغت عنہم الابصار “ (یا ان سے ہماری نگاہ چوک رہی ہے) یا وہ آگ میں تو ہیں اور ہم ان کو نہیں دیکھ رہے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ ذٰلِكَ [بیشک یہ ] لَحَــقٌّ [یقینا حق ہے ] تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ [آگ والوں کا باہمی تو تکار کرنا ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–64

اہل دوزخ کو حیرت ہوگی جب اہل ایمان کو اپنے ساتھ نہ دیکھیں گے اہل دوزخ کہیں گے کہ ہم دنیا میں تھے تو اہل ایمان کو اور خاص کر فقرائے مومنین کو ذلیل سمجھتے تھے اور یوں بھی کہتے تھے کہ یہ اشرار ہیں یعنی برے لوگ ہیں ان میں کوئی خیر نہیں اور بعض مرتبہ ان سے یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ تم دوزخ میں جاؤ گے ہم جنتی ہوں گے (جیسا کہ یہود اور نصاریٰ اور اہل ہنود سمجھتے ہیں) لیکن جب یہ کفار دوزخ میں پہنچیں گے اور ادھر ادھر نظر ڈالیں گے تو انہیں اہل ایمان میں سے کوئی بھی نظر نہ آئے گا نظروں کے سامنے سب کافر ہی ہوں گے اس وقت یوں کہیں گے کیا بات ہے ہم ان آدمیوں کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–64

بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء : قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔ قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ، فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ ” اِنَّ ذٰلِکَ الخ “ اہل جہنم کی یہ گفتگو، راہنمایانِ شرک اور ان کے پیرو وں کا باہمی جھگڑا اور دوزخیوں کا موحدین اور مبلغین توحید کے بارے میں سوال و جواب یہ سب برحق ہے اور ضرور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–64

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔ (اسماعیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَہْلِ النَّارِ۝ 64ۧ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–64

ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔ تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ ۔ (صٓ: 46) (بےشک اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا اور توتکار واقعی حق اور امرواقعی ہے۔ ) آیاتِ بالا میں اہل دوزخ کی جس باہمی توتکار اور جھگڑے کا ذکر فرمایا گیا ہے اسے کوئی شخص زیب داستان نہ سمجھے، یہ ایک حقیقت اور امرواقعی ہے۔ قیامت کے دن ایسا ہی ہوگا۔ آج جو لوگ حق کی مخالفت میں مختلف کردار ادا کررہے ہیں، کوئی رہنمائی کا فرض انجام دے رہا ہے اور کوئی سپوٹ کررہا ہے۔ جب قیامت میں اپنے انجام کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالیں گے۔ اور دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے۔ لیکن یہ جھگڑا اور باہمی لڑائی ان کے کسی کام نہیں آئے گی، دونوں اپنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–65

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے عذابوں میں ایک عذاب یہ بھی ہوگا کہ جہنمی آپس میں لڑتے رہیں گے۔ جہنمیوں کا ایک گروہ جہنم کے کنارے کھڑا ہوگا تو دوسرا گروہ پہنچ جائے گا۔ آنے والا گروہ پہلے کھڑے ہوئے گروہ کو طعنہ دے گا کہ اگر تم ٹھیک ہوتے تو ہمیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ تمہاری وجہ سے جہنم کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو بد ترین ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد اپنے رب سے فریاد کریں گے کہ اے اللہ ! ہم سے پہلے آنے والوں کو جہنم میں دوگنا عذاب دیجیے۔ پھر کہیں گے کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ ہمیں یہاں نظر نہیں آتے جن کو ہم شرارتی سمجھا کرتے تھے۔ کیا ہم نے انہیں مذاق سمجھا یا ہماری آنکھوں کو ان سے پھیر دیا گیا ہے۔ جہنمیوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

64: اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ بات) جو ہم نے ان کی طرف سے بیان کی ہے۔ لَحَقٌّ (بالکل سچی بات ہے) یہ سچائی ہر صورت پوری ہو کررہے گی وہ ضرور کلام کریں گے پھر بتلایا کہ وہ کیا بات سچی ہے فرمایا۔ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ (جہنمیوں کا باہمی لڑناجھگڑنا) جب اللہ تعالیٰ نے ان کے باہمی لے دے اور گفتگو کو اس بات سے تشبیہ دی جو دو باہمی جھگڑے والوں میں ہوتی ہے۔ تو اس کو تخاصم سے تعبیر فرما دیا۔ کیونکہ سرداروں کا قول لا مرحبا بہم اور ان کے معتقدین کا قول بل انتم لا مرحبا بکم یہ خصومت و جھگڑے ہی کی قسم میں سے ہے۔ اس وجہ سے ان کی ساری گفتگو کو تخاصم کہہ دیا۔ کیونکہ ان کی باتوں میں مخاصمت پائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

64، ان ذ(رح) لک ، جو کچھ ہم نے ذکر کیا۔ ، لحق تخاصم اھل النار، دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا ایک سچ اور حقیقت بات ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–64

49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

74 اہل دوزخ کے باہمی جھگڑے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل دوزخ کا باہم جھگڑنا اور ان کی یہ تو تکار ایک قطعی حقیقت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ دوزخیوں کا اس طرح باہم لڑنا جھگڑنا قطعی طور پر حق ہے۔ " ان " اور لام تاکید دونوں تاکیدوں کے ساتھ موکد کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ دوزخیوں کے لڑنے جھگڑنے کا یہ معاملہ قطعی طور پر حق و صدق ہے۔ ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ پس ہر کسی کو چاہیئے کہ وہ بہرطور برے انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جو لوگ دوزخیوں کے اس باہمی جھگڑے اور توتکار کے حقیقت اور واقع ہونے کے بارے میں شک کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں کہ یہ ایک امر واقعی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–64

سرکشوں کا انجام تشریح : یہ نقشہ دوزخ میں جانے والوں کا کھینچا گیا ہے۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ استغفر اللہ، اللہ دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ یہاں انسان کو اس زندگی میں اس بات کے کرنے سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو کمتر سمجھ کر اس کے لیے اپنی غلط رائے نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہر انسان کے دل اور نیت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کچھ لوگ بری نیت سے صرف دکھاوے کے لیے نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اتنے پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیتے جتنے وہ اندر سے مخلص، مہربان، خدا ترس، نرم، متقی اور مقبول خدا ہوتے ہیں۔ یہاں جہنم کا منظر اور جہنمیوں کا تذکرہ نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 64–65

ف 4 اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت قہاری بھی ہے اور غفاری بھی۔ وہ مومنوں کے لئے غفار، کافروں کے لئے قہار اور گناہ گاروں کیلئے ستار ہے۔ سبحان اللہ عزشانہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:64) تخاصم اہل النار : اہل النار مضاف مضاف الیہ مل کر تخاصم (مضاف) کا مضاف الیہ۔ اہل دوزخ کا باہمی رگڑا جھگڑا۔ تخاصم بروزن تفاعل مصدر ہے۔ ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑنا۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تشریح میں رقمطراز ہیں :۔ ان ذلک بیشک یہ جو کچھ دوزخیوں کے متعلق ہم نے بیان کیا لحق بلاشبہ صحیح ہے وہ ضرور ایسی گفتگو کریں گے۔ تخاصم یہ حق سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے (ای ھو تخاصم) دوزخیوں کے باہم سوال و جواب اور آپس کی گفتگو فریقین معاملہ کی گفتگو کے مشابہ ہوگی۔ اس لئے اس کو تخاصم (باہمی جھگڑا رگڑا) فرمایا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–64

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–64

اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا۔ (ف 1) یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لالاکردوزخ کے کنارے جمع کریں گے ، پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا، بعد انکے مقلدین واتباع کی جماعت آئے گی اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لویہ ایک اور جماعت داخل ہوگی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے ک لیے چلی آرہی ہے خدا کی مار ان پر یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے ، اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو، تم پر ہی خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواواضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی ، اب بتاؤ کہاں جائیں جو کچھ ہے یہی ٹھہرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–72

ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(64) بلا شبہ یہ دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات اور ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے۔ یعنی اہل نار کے اس جھگڑے کا ہونا واجب الوقوع ہے اور یہ جھگڑا ضرور ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–68

ف 2۔ یعنی مسلمانوں کو بد راہ اور حقیر سمجھا کرتے تھے، وہ کیوں نظر نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوزخیوں کا یہ مکالمہ بلاشبہ صحیح اور سچ ہے 64۔ دوذخیوں کے جس مکالمہ اور مخاصمہ کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے بلاشبہ بالکل اسی طرح آپس میں ہوگا اس کی تفصیلات پیچھے سورة الاعراف میں گزر چکی ہیں اگر دیکھنے کا شوق ہو تو عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 43 سے آیت 53 تک کی تفسیر دیکھیں اس جگہ اہل دوزخ اور اہل جنت کا مکالمہ بھی آپس میں بیان کیا گیا ہے اور الاعراف والوں کا ذکر بھی وہاں موجود ہے جن کا نتیجہ کچھ لیٹ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–64

In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ أَتْرَ‌ابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

55 This implies the believers whom the disbelievers used to look down upon as bad people in the world. It means: They will look around bewildered and will find only themselves and their guides in Hell but will find no trace of those people of whom they used to talk disparagingly in the world, and whom they used to mock in their meetings for talking about God, the Messenger and the Hereafter.

Read the full tafseer →