Explained with ayahs 34–40
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔
ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
سورة صٓ 37
اس کی تشریح سورة انبیاء کی تفسیر میں گزر چکی ہے (تفہیم القرآن جلد سوم، ص 176۔ 177)۔ البتہ یہاں ایک بات وضاحت طلب ہے۔ سورة انبیاء میں جہاں حضرت سلیمان ؑ کے لیے ہوا کو مسخر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں الریح عاصفتۃً (باد تند) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور یہاں اسی ہوا کے متعلق فرمایا گیا ہے تَجْرِیْ بِاَمْرِہ رُخَآءً (وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوا بجائے خود تو باد تند تھی، جیسی کہ بادبانی جہازوں کو چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے، مگر حضرت سلیمان علی السلام کے لیے وہ اس معنی میں نرم بنادی گئی تھی کہ جدھر ان تجارتی بیڑوں کو سفر کرنے کی ضرورت ہوتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
خلاصہ تفسیر
(حضرت سلیمان نے اللہ سے) دعا مانگی کہ اے میرے رب میرا (پچھلا) قصور معاف کر اور (آئندہ کے لئے) مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا (میرے زمانہ میں) کسی کو میسر نہ ہو (خواہ کوئی غیبی وھبی سامان عطا کر دیجئے خواہ سلاطین زمانہ کو ویسے ہی دبا دیجئے تاکہ مقابلہ ہی نہ کرسکیں اور) آپ بڑے دینے والے ہیں (آپ کو اس دعا کا قبول کرلینا کچھ دشوار نہیں) سو (ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی خطا بھی معاف کردی اور نیز) ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ (جانا) چاہتے نرمی سے چلتی (کہ اس سے گھوڑوں کی ضرورت نہ رہی) اور جنات کو بھی ان کے تابع کردیا یعنی تعمیر بنانے والوں کو بھی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
والسطین کل بنآء وغراص، واخرین مقربین فی الاصنعاد (38-37)
تسخیر جنات کا علم
ہوا کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کو ایک ایسا علم بھی دیا تھا جس سے وہ شریر جنوں کو مسخر کر کے ان کو اپنی تعمیرات کے کاموں میں بھی لگاتے اور سمندری دولت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان سے غوطہ خوری بھی کرتاے۔ شیاطین سے مراد یہاں شیاطین جن ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان ؑ صرف شریر جنوں ہی کو مسخر کرتے، صالحین سے تعرض نہیں کرتے تھے۔ کل نبآء و عواض میں لفظ کل میرے نزدیک صفت کی تاکید کے لئے ہے۔ یعنی وہ نہایت ماہر معماروں اور غوطہ خوروں کو مسخر کئے ہوئے تیھ۔
واخرین مقرنین فی الاصفاد یعنی جنوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 1 ہم نے سلیمان ؑ کی دعا قبول کرلی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، جہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند و تیز کہا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان ؑ کے لئے اسے نرم کردیا گیا یا حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان ؑ چاہتے (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
18: اس کی تفصیل سورة انبیاء : 18 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فسخرناله۔۔۔ الصفاد (38: 36 تا 38) ” تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی ، جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کردیا ۔ ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے “۔
ہوا کو اللہ کے حکم سے اس کے بندوں میں سے کسی کے لیے مسخر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ کے ارادے سے باہر آگئی ۔ انسانوں کی تسخیر کے باوجود ہوا بدستور ارادہ الہٰی کے تحت چلتی ہے۔ اللہ کے حکم سے اس کے نوا میں فطرت کے مطابق ہی چلتی ہے۔ جب اللہ اپنے کسی بندے کے لیے یہ بات سہل بنادے کہ اس کا فعل ارادۂ الہٰی کی تعبیر ہو اور بندے کا حکم الہٰی کے موافق ہوجائے تو ایسے میں کائناتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
8 یعنی جن ان کے حکم سے بڑی بڑی عمارتیں بنانے اور موتی وغیرہ نکالنے کے لیے دریاؤں میں غوطے لگاتے تھے۔ ہوا اور جنات کے تابع کرنے کے متعلق پہلے سورة " سبا " وغیرہ میں کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 37 { وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآئٍ وَّغَوَّاصٍ } ”اور سرکش ِجنات ّکو بھی ہم نے مسخر کردیا تھا سب کے سب عمارتیں بنانے والوں اور غوطہ خوروں کو۔“
حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے یہ جنات بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے اور سمندر کی تہہ سے موتی اور دیگر اشیاء نکالتے تھے۔ -۔ -۔ -۔ - بَنَّـائ کے معنی معمار کے ہیں۔ حسن البناء شہید بھی اسی وجہ سے ”البناء“ کہلاتے تھے کہ ان کا تعلق ایک معمار خاندان سے تھا۔ عرب معاشرے میں کسی بھی پیشے کو حقیر یا باعث عار نہیں سمجھا جاتا۔ بقول غالب ع ”پیشے کو عیب نہیں ‘ رکھیے نہ فرہاد کو نام !“ چناچہ عربوں کے ہاں اگر کسی شخص کے آباء و اَجداد حرم میں لوگوں کو پانی پلایا…
Read the full tafseer →43 جن آپ کے حکم کے تحت بلند وبالا عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ دریاؤں میں غوطہ لگا کر ان سے ہیرے جواہرات موتی وغیرہ نکالتے تھے۔ دوسرے کام جو عام انسانوں کی طاقت سے زیادہ ہوتے تھے وہ آپ جنوں سے لیا کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لئے سورة انبیاء آیت نمبر 82 اور سورة سبا آیت نمبر 12 کے حواشی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
37۔ (کسی جرم کی بنا پر) مطلب یہ ہوا کہ ہم نے یہ سامان کثیر انہیں دے کر معاصر سلاطین کو ان سے پست ومغلوب کردیا۔ (آیت) ” فسخرنا ..... اصاب “۔ آپ کی تسخیر ہوائی پر حاشیے اوپر گزر چکے۔ (آیت) ” والشیطین “۔ آپ کی تسخیر جنات خبیث کا ذکر سورة الانبیاء (پ 17) کے حاشیوں میں آچکا۔ (آیت) ” بنآء ..... الاصفاد “۔ بعض جنات تعمیرات کے ماہرین میں تھے اور بعض غواصی کرکے موتی وغیرہ نکال لاتے تھے۔ اور انہیں میں سے جو مجرم ہوتے تھے، وہ بطور سزازنجیروں میں جکڑدیئے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →والشیطن کل بناء وغواص اور جنات کو بھی ان کا تابع بنا دیا ‘ عمارتیں بنانے والوں کو اور غوطہ خوروں کو بھی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(37۔ 38) اور دوسرے جنات کو بھی جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے یہ سرکش اور فسادی جنات تھے کہ جو کام بھی ان کے سپرد ہوتا تھا اس سے بھاگ جاتے تھے۔
Read the full tafseer →وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ : ”بَنَّاۗءٍ“ اور ”وَّغَوَّاصٍ“ مبالغہ کے صیغے ہیں، اس لیے ان کا ترجمہ ماہر معمار اور ماہر غوطہ خور کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
34 ۔ 40:۔
وہ لقد فتنا سلیمن ایک قول یہ کیا گیا : حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بادشاہ بنے بیس سال گزر چکے تھے کہ آپ کو فتنہ میں ڈالا گیا اور آزمائش کے بعد آپ بیس سال تک حاکم رہے ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے۔ فتنا یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ہم نے سزا دی (1) اس کے سبب وہ روایت ہے جو سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں دو فریق حاضر ہوئے ان میں سے ایک فریق جرادہ کے خاندان سے تھا جو آپ کی بیوی تھی۔ حضرت سلیمان اس سے محبت کرتے تھے تو آپ نے خواہش کی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہو۔ پھر دونوں کے درمیان فیصلہ انصاف سے کیا۔ آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی اسی خواہش کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) اپنی سند میں طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی دعا نہیں سنی مگر آپ اس کو ” سبحان ربی الاعلی الوھاب “ سے شروع فرماتے تھے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ (فرمایا اے میرے رب ! میرے قصور معاف کردیجئے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو) یعنی اس سے ملک نہ چھینا جائے، آپ نے مجھ سے چھین لیا تھا (جیسے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی گم ہوجانے پر حکومت چھین لیا…
Read the full tafseer →وَالشَّيٰطِيْنَ [اور شیطانوں کو ] كُلَّ بَنَّاۗءٍ [سارے معماروں کو ] وَّغَوَّاصٍ [اور غوطہ خوروں کو (مطیع کیا)] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ابتلاء اور دعا، شیاطین کا مسخر ہونا، کاموں میں لگنا، اور زنجیروں میں باندھا جانا
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نے کہا کہ آج کی رات میں ستر عورتوں
اور بعض حضرات نے کہا کہ ” توارت “ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ رُدُّوْھَا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے بعض نے کہا ” حجاب “ سے مراد گھوڑوں کے اصطبل ہیں معنی یہ ہوا ” حتیٰ کہ گھوڑے اپنے اصطبلوں میں داخل ہوگئے۔ “ بعض نے کہا حتیٰ کہ دوڑ میں آگے بڑھ کر چھپ گئے کہ نظر آنے سے رہ گئے۔ جن لوگوں نے تو ارت کی ضمیر گھوڑوں کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔
گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
33:۔ ” فسخرنا الخ “۔ چنانہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی اور ہوا کو اور جنات کو ان کے تابع کردیا۔ ” اصاب “ ای اراد (روح) ۔ حضرت سلیم (علیہ السلام) جہاں چاہتے ہوا سبک رفتاری سے ان کا تخت اٹھا کرلے جاتی اور جنات کو بھی ان کا مطیع بنا دیا ان میں سے کچھ تو تعمیرات کے کام پر لگا دئیے اور کچھ غوطہ زن تھے جو سمندر کی تہ سے جواہر اور دیگر قیمتی اشیاء نکال کردیتے۔ اور جو شیاطین میں زیادہ سرکش اور طاگی تھے ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید میں ڈال رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش ، پریشانی اور ان کے رجوع الی اللہ کا ذکر کیا پھر آپ کے فرزند اور اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر صاحب شریعت رسول اور خلیفۃ اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ، ان پر ہونے والا انعامات کا ذکر ہوا گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز فوت ہوجانے کی وجہ سے ان پر آنے والی ابتلاء اور پھر ان کی طرف سے ان قیمتی گھوڑوں کی قربانی کا حال بیان ہوا اب آج کے درس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش کا ذکر ہورہا ہے ۔
(دوسری آزمائش)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فتنا سلیمن “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا ،…
Read the full tafseer →وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ 37ۙ
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن ) الشیطان
اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
تفسیر : ولقد فتنا سلیمان یہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا دوسرا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ پھر اس آزمائش کی قدرے تفصیل کرتا ہے۔
والقینا علی کرسیہ جسد اثم اناب اور اس کی کرسی یعنی تخت پر ہم نے ایک جسم ڈال دیا پھر وہ رجوع ہوا، بعض کہتے ہیں یہ دو واقعہ ہیں۔ ولقد فتنا ایک اور القینا دوسرا۔ قرآن مجید میں اور کسی حدیث میں جہاں تک کہ محدثین نے تلاش کیا ان دونوں واقعوں کی کوئی بھی تفصیل نہیں کہ آزمائش سلیمان ( علیہ السلام) کی کس بات میں تھی اور ان کے تخت پر جسم ڈالنے اور سلیمان ( علیہ السلام) کے رجوع ہونے سے کیا مراد ہے۔ ہاں مفسروں نے بعض اہل کتاب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فَسَخَّرْنَا لَـہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَـآئً حَیْثُ اَصَابَ ۔ وَالشَّیٰـطِیْنَ کُلَّ بَنَّـآئٍ وَّغَوَّاصٍ ۔ وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۔ (صٓ: 36 تا 38)
(تو ہم نے تابع کردیا اس کے لیے ہوا کو، جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی، جدھر وہ پہنچنا چاہتا تھا۔ اور سرکش جنوں کو بھی ہم نے اس کے تابع کردیا ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور۔ اور بہت سے دوسرے جنوں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ )
آزمائش میں پورا اترنے پر نوازشات
حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب آزمائش میں پورے اترے اور انھوں نے اپنی عبدیت، اوابیّت اور انابت کو پوری طرح ثابت کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی حکومت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایسے اختیارات دیئے جو کسی حکمران کو حاصل نہیں ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا وہ ملک کے جس حصے کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ ہوا انہیں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی وہ دو ماہ کا سفر صبح و شام طے کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے دیو ہیکل جِنّات کو ان کے تابع کردیا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جِنّوں کو مختلف کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ ایک جماعت کو تعمیرات کے کام پر لگایا اور دوسری جماعت کو سمندر پر مامور کیا جو غوطہ زنی کرتے ہوئے سمندر سے ہیرے جواہرات نکالا کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →37: وَالشَّیٰطِیْنَ (اور شیاطین کو)
نحو : اس کا عطف الریح پر ہے ای سخرنالہ الشیاطین کُلَّ بَنَّآ ئٍ (تعمیر کرنے والوں کو) یہ شیاطین سے بدل ہے شیاطین آپ کے لئے بڑی عمارات بناتے تھے۔ وَّ غَوَّاصٍ (اور غوطہ لگانے والوں کو بھی) یعنی موتی نکالنے کیلئے وہ سمندر میں غوطہ لگاتے۔ سلیمان (علیہ السلام) پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سمندر سے موتی نکالے۔ مطلب یہ ہے ہم نے تعمیر کرنے والے اور غوطہ لگانے والے شیاطین کو ان کا مطیع کردیا تھا۔
Read the full tafseer →37، والشیطان ، اور ہم نے شیطان کو آپ کے لیے مسخر کردیا۔ ، کل بنائ، ان سے جو چاہیں تعمیر کروالیں خواہ قلعے ہوں یا محلات ہوں۔ ، وغواص، اور جس سمند روں میں غوطے لگا کرموتی نکالتے ہیں ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی پہلے وہ شخص تھے جن کے لیے سمندروں سے موتی نکالے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
34۔ 40۔ والقینا علی کرسید جسدا کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے سردار دین کی لڑائی میں کچھ پہلو تہی کرنے لگے تھے اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے خفا ہو کر یہ قسم کھائی کہ ایک رات اپنی سو بیبیوں سے صحبت کریں گے جس سے سو لڑکے ان کی اولاد میں لشکر کے سردار پیدا ہوجاویں گے اس قسم کے کھانے کے وقت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لئے ان کی ایک بی بی کے پیٹ سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کو سلیمان کے دکھانے کے لئے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کے بھول جانے پر توبہ استغفار کی یہ تفسیر صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ کے چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن)
(1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔
یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم
قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔
ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…
Read the full tafseer →52 حضرت سلیمان کے لیے جنوں کی تسخیر کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں کو بھی ہم نے انکے تابع کردیا تھا۔ سو تسخیر ہوا کے ساتھ ساتھ تسخیر جنات کی عنایت ایک اور بڑی عنایت تھی جس سے قدرت کی طرف سے حضرت سلیمان کو بطور خاص نوازا گیا تھا۔ اور وہ آپ (علیہ السلام) کے لئے اس طرح کی مختلف خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ مثلاً بڑی بڑی عمارتیں بنانا، محلات تعمیر کرنا اور پل بنانا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ وہ اپنی غیر معمولی قوتوں کی بنا پر بہت تھوڑے عرصے اور قلیل مدت میں پورا کرلیا کرتے تھے۔ سو ہوا پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے جنوں کو حضرت سلیمان کے تابع کردیا تھا جن سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات
تشریح : یہ آیات شان کریمی کی روشن دلیل ہیں۔ اللہ کو نخوت غرور نا شکری اور تکبر بےحد ناپسند ہے وہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب ضرور ملے گا۔ اس کے مقابلہ میں استغفار، شکر، عاجزی، انکساری اور فرمانبرداری اس قدر پسند ہے کہ جس کی مثال سیدنا سلیمان ہیں۔ جب انہوں نے صبر و شکر سے استغفار کیا اور دعا مانگی تو ان کی منہ مانگی دعا قبول ہوگئی واقعی آج تک کسی کو ہواؤں، جِنوں اور پھر تمام نعمتوں کو خرچ کرنے پر حساب کتاب سے آزادی نہیں ملی۔ آپ کو پورا اختیار دیا گیا تھا کہ اپنی مرضی سے ہواؤں کو چلاؤ اور جنوں کو بھی آپ کے قبضہ میں کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 5 ان سے مراد وہ خدمت گار جن میں جنہیں ثمرات کی پاداش میں قید کیا جاتا تھا۔
Read the full tafseer →(38:37) والشیطین۔ واؤ عاطفہ ہے الشیطین معطوف اس کا عطف الریح پر ہے۔ ای وسخرنا لہ الشیطین۔ اور ہم نے شیاطین (جنات) کو بھی ان کا تابع بنادیا۔
کل بناء وغواص۔ یہ جملہ بدل ہے شیاطین کا۔ کل بناء مضاف مضاف الیہ ہے۔ بناء عمارت بنانے والا۔ معمار۔ بناء (بمعنی چھت یا عمارت) سے مشتق ہے۔ فعال اگر چہ مبالغہ کا وزن ہے مگر یہاں بمعنی اسم فاعل ہے ۔ یعنی سب معماروں کو۔ غواص۔ ای کل غواص : غوص مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یہاں مراد نہ صرف پانی کے اندر سے موتی نکالنے والے عوظ خور ہی مراد نہیں بلکہ نادر کام کرنے والے اور عجیب و غریب صنعتیں ایجاد کرنے والے بھی ان میں شامل ہیں۔
غوص کے معنی پانی میں غوطہ لگا کر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنابھول گئے تو اللہ نے گرفت کے طور پر انکی آزمائش کی وہ آزمائش یہ تھی کہ بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان نے فرمایا تگھا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والاسوار پیدا ہوگا، مگر یہ فرماتے وقت زبان سے انشاء اللہ نہ فرمایا، غالبا یاد نہ رہا، تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ادھورابچہ پیدا ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
[14] اس آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کا ذکر ہے اور اس سلسلے میں صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ ان کے تخت پر کوئی جسم ڈال دیا گیا تھا۔ وہ جسم کیا تھا اور اس سے آزمائش کیونکر ہوئی اس کی تفصیل نہ قرآن میں ہے نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لہذا قرآن نے جس بات کو مجمل چھوڑا ہے اس کی تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنی بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی کوئی آزمائش کی تھی جس کے بعد انہوں نے پہلے سے زیادہ اللہ کی طرف رجوع کرلیا۔ اور قرآن کا مقصد اتنے بیان سے پورا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 2: ان آیتوں میں حضرت سلیمان کی وسعت سلطنت کا تذکرہ ہے ۔ کہ کیونکر وہ ہواؤں میں اڑتے تھے اور ان کا تخت ہوائی ان کے تابع تھا ۔ جہاں وہ چاہتے تھے جاتے تھے ۔ اور ہر نوع کے کام کرنے والے ان کے مسخر تھے ۔
حل لغات :۔ الصفنات ۔ صافۃ کی جمع ہے ۔ وہ گھوڑے جو تین پاؤں اور چوٹھے سم پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ مراداصل اور عمدہ گھوڑوں سے ہے الجیاد ۔ جواد کی جمع ہے ۔ بمعنی تیز رفتار گھوڑے فتنا ۔ حضرت سلیمان کے ایک دوسرے واقعہ کا ذکر ہے جب وہ دشمنوں کے حملہ کی خبر سے متاثر ہوکر اپنی کرسی پر سے گر پڑے ، اور ان کو معلوم ہوا کہ حملہ کی خبر غلط ہے تو ہوش میں آئے اور سجدہ شکر ادا کیا ۔
Read the full tafseer →(37) اور اسی طرح جنات کو بھی جو عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے تھے اس کے تابع فرمان کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 1۔ حدیث شیخین میں ہے کہ ایک بار سلیمان (علیہ السلام) اپنے امراء لشکر پر ان کی کسی کوتاہی جہاد پر خفا ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں آج کی رات اپنی ستر بیبیوں سے ہمبستر ہوں گا اور ان سے ستر مجاہد پیدا ہوں گے، فرشتہ نے قلب میں القاء کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے، آپ کو کچھ خیال نہ رہا۔ چناچہ صرف ایک عورت حاملہ ہوئی اور اس سے بھی ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا، جس کے ایک طرف کا دھڑ نہ تھا۔
Read the full tafseer →بڑے بڑے شیاطین کو آپ کے لیے معمار اور غواص بنا دیا
37۔ پہاڑی اقوام کے قوی ہیکل لوگ جو نہایت ہی سرکش اور خود سر تھے آپ کے تابع فرمان بنا دیئے گئے اور آپ نے ان کو معماری اور غواص کا کام سکھایا اور وہ ان کاموں میں بہت ماہر ثابت ہوئے اور انہوں نے آپ کے ملک کی ترقی میں بہت بڑی شہرت حاصل کی اور بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے جس سے آپ کے ملک میں فن تعمیرات نے بھی ترقی کی اور غواصی میں بھی نام پیدا کیا اور اس کی تفصیل بھی آپ کی سر گزشت میں گزر چکی ہے اس کے لیے سورة الانبیاء کی طرف مراجعت کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
Commentary
It was said in verse 35: هَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي (bless me with a kingdom that will not be available to anyone after me.). Some commentators explain the sense of this prayer as 'let not a great kingdom like mine belong to anyone else during my time.' In other words, they take "min ba` di": or 'after me' in the sense of 'other than me.' Maulana Ashraf Thanavi (رح) has done his translation accordingly. But, with most commentators, the sense of the prayer is: 'Even after me, let no one have a kingdom as great as this.' Accordingly, so it happened. The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
37 For explanation, see Surah Al-Anbiya`: 81 and E.N. 74 thereof. However, there is one thing which requires further explanation here. In Surah Al Anbiya`where mention has been made of subjecting the wind for the Prophet Solomon, it has been described as `the strongly blowing wind, but here "which blew gently at his bidding" . This means that the wind in itself was strong and violent as is needed for moving the sailing-ships but it had been made gentle for the Prophet Solomon in the sense that it blew whither-so-ever he wanted it to blow for his commercial fleets.
Read the full tafseer →