Explained with ayahs 12–20
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ…
Read the full tafseer →سورة صٓ 20
یعنی ان کا کلام الجھا ہوا نہ تھا کہ ساری تقریر سن کر بھی آدمی نہ سمجھ سکے کہ کہنا کیا چاہتے ہیں، بلکہ وہ جس معاملہ پر بھی گفتگو کرتے، اس کے تمام بنیادی نکات کو منقح کر کے رکھ دیتے، اور اصل فیصلہ طلب مسئلے کو ٹھیک ٹھیک متعین کر کے اس کا بالکل دو ٹوک جواب دے دیتے تھے۔ یہ بات کسی شخص کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک وہ عقل و فہم اور قادر الکلامی کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا ہوا نہ ہو۔
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے، یعنی ہم نے انہیں عقل وفہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نبوت مراد ہے۔ اور ”فصل الخطاب“ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے۔ چناچہ حضرت داؤد ؑ اونچے درجے کے خطیب تھے، اور خطبوں میں حمد وصلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے انہوں نے ہی کہنا شروع کیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوت فیصلہ مراد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرمائی تھی۔ درحقیقت…
Read the full tafseer →وشددنا مکلہ وا تینہ الحکمۃ و فصل الخطاب (20)
حضرت دائود کی قوت و صولت
یہ حضرت دائود ؑ کی قوت و صولت کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر ذوالاید کے لفظ سے ہوا ہے شدونا ملکہ یعنی ہم نے اس کی حکومت اچھی طرح مستحکم کی تھی اور اس کو مستحکم رکھنے کے لئے اس کو حکمت اور فصل خطاب کی صلاحت سے نوازا تھا۔ حکمت کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی فصل خطاب سے مراد فیصلہ نزاعات کی صلاحیت ہے۔ لفظ خطاب آگے آیت 23 میں بحث و نزاع کے مفہوم میں آیا بھی ہے۔ حکومت کے استحکام کے لئے دل سے فیصلہ معاملات کی صلاحیت سے بھرپور ہوں۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو حکومت کی بنیاد ریت پر ہے اگرچہ اس کے پاس دوسرے اسباب و وسائل کی کتنی ہی وافر مقدار…
Read the full tafseer →20۔ 1 ہر طرح کی مادی اور روحانی اسباب کے ذریعے سے۔
20۔ 2 یعنی، نبوت، اصبات رائے، قول سداد اور نیک کام۔
20۔ 3 یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، بصیرت اور استدلال وبیان کی قوت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
10: جیسا کہ سورة انبیاء :79 میں گذر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو بہت دلکش آواز عطا فرمائی تھی، اور معجزے کے طور پر یہ خصوصیت بخشی تھی کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ ذکر اور تسبیح میں شریک ہوتے تھے، اور اڑتے ہوئے پرندے بھی رک جاتے، اور وہ بھی ذکر کرنے لگتے تھے۔
Read the full tafseer →وشددناملکه واتینه الحکمة وفصل الخطاب (38: 20) ” ہم نے اس کی حکومت مضبوط کردی تھی اور اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی “۔ چناچہ آپ کی حکومت بہت ہی مضبوط تھی۔ آپ کی حکومت کی پالیسی حکمت دانش مندی اور ٹھوس فکر پر مبنی تھی۔ اور اس کے فیصلے دو ٹوک ہوتے تھے۔ آپ کے اندر بےپناہ قوت فیصلہ تھی۔ کسی حکومت میں جب قوت اور حکمت جمع ہوجائے تو وہ کمال کی انتہاؤں کو چھولیتی ہے۔
لیکن ان کمالات کے باوجود حضرت داؤد پر بھی اللہ کی طرف امتحان آئے۔ ان کو بھی آزمایا گیا ۔ ان آزمائشوں میں بھی وہ اللہ کی نگرانی میں رہے ، کیونکہ وہ پیغمبر تھے اور اللہ اپنے پیغمبروں کو غلطی سے بچاتا ہے۔ ان…
Read the full tafseer →12 یعنی دنیا میں اس کی سلطنت کی دھاک بٹھلا دی تھی اور اپنی اعانت و نصرت سے مختلف قسم کی کثیر التعداد فوجیں دے کر خوب اقتدار جما دیا تھا۔
13 یعنی بڑے مدبر و دانا تھے۔ ہر بات کا فیصلہ بڑی خوبی سے کرتے اور بولتے تو نہایت فیصلہ کن تقریر ہوتی تھی۔ بہرحال حق تعالیٰ نے ان کو نبوت، حسن تدبیر، قوت فیصلہ اور طرح طرح کے علمی و عملی کمالات عطا فرمائے تھے۔ لیکن امتحان و ابتلاء سے وہ بھی نہیں بچے۔ جس کا قصہ آگے بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 20 { وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ } ”اور ہم نے اس کی حکومت کو خوب مضبوط کیا تھا ‘ اور ہم نے اسے حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بھی۔“
یعنی ایسی واضح ‘ فیصلہ کن اور دو ٹوک بات جو تمام مخاطبین و متعلقین کے لیے موجب ِاطمینان ہو۔
اب آگے اس سورت میں چند ایسے واقعات کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ دراصل ان واقعات کا بیان یہاں اشاروں کنایوں میں ہوا ہے۔ تفصیلات کی تحقیق کے لیے اگر ہم تورات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں ان واقعات کے حوالے سے جو معلومات ملتی ہیں وہ انبیائِ کرام علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں۔ یوں ہمارے لیے شش و…
Read the full tafseer →23 اس کا مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ خطاب یا تقریر یا باہمی گفتگو کے درمیان آپ کا انداز گفتگو ایسا مدلل سادہ اور عام فہم ہوتا تھا کہ مخاطب آسانی سے آپ کا ما فی الضمیر سمجھ جاتا تھا۔
Read the full tafseer →19۔” فلسطین کی سب سے بڑی حکومت وہی تھی جو داود (علیہ السلام) کے عہد میں قائم ہوئی تھی “۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 7 صفحہ 78) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” الحکمۃ وفصل الخطاب “۔ اس کے معنی علم قضا کے بھی کیے گئے ہیں، اور فریقین کے درمیان فیصلہ صحیح کے بھی۔ الفصل بین الخصوم بالحق (جصاص) العلم بالقضاء (جصاص۔ عن الحسن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…
Read the full tafseer →وشددنا ملکہ واتینہ الحکمۃ وفصل الخطاب اور ہم نے ان کی سلطنت کو بڑی قوت دی تھی اور ہم نے
ہی ان کو حکمت اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی۔
وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ یعنی ان کی حکومت کے ڈر (کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا) اور اپنی طرف سے نصرت اور فوجوں کی کثرت سے ان کی حکومت کو مستحکم کردیا تھا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے تمام بادشاہوں سے بڑھ کر حضرت داؤدک اقتدار عطا فرمایا تھا ‘ ان کے قلعہ (اور شاہی محل) کی نگرانی ہر رات 36 ہزار سپاہی کرتے تھے۔
بغوی نے بروایت عکرمہ ‘ حضرت ابن عباس کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی نے کسی بڑے آدمی پر حضرت داؤد کے…
Read the full tafseer →اور ہم نے سپاہیوں کے ذریعے ان کی سلطنت کو نہایت قوت دی تھی کہ ہر رات کو ان کی عبادت گاہ کی تینتیس ہزار آدمی حفاظت کیا کرتے تھے اور ہم نے ان کو نبوت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی تھی کہ وہ فیصلہ فرمانے کے وقت تقریر میں نہیں رکھتے تھے گواہوں اور قسم پر فیصلہ فرماتے تھے۔
Read the full tafseer →وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ : ”الْحِكْمَةَ“ کے مفہوم میں نبوت، کتاب اللہ کا علم اور معاملات کی فہم و فراست، سب چیزیں شامل ہیں اور ”وَفَصْلَ الْخِطَابِ“ سے مراد ہے مقدمہ سن کر صحیح، واضح اور دو ٹوک فیصلہ کرنا۔ ”وَفَصْلَ الْخِطَابِ“ میں یہ بھی شامل ہے کہ لمبی بات کو مختصر الفاظ میں ایسے طریقے سے بیان کیا جائے کہ ہر شخص کو پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ ان دونوں چیزوں کے لیے اعلیٰ درجے کی عقل اور فہم و فراست کے ساتھ قادر الکلام ہونا بھی ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19 ۔ 20:۔ والطیر محشورۃ اس کا عطف الجبال پر ہے۔ فراء نے کہا : اگر اسے والطیر محشورۃ پڑھا جائے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ یہاں فعل ظاہر نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) جب تسبیح کرتے تو پہاڑ انہیں جواب دیتے اور پرندے ان کے پاس جمع ہوجاتے اور ان کے ساتھ تسبیح کہتے ‘ ان کا آپ کا پاس جمع ہونا ہی ان کا حشر ہے معنی کہ ہم نے پرندوں کو مسخر کیا کہ وہ آپ کے پاس جمع ہوتے تاکہ وہ آپ کے ساتھ ملک کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے ہوا کو مسخر کیا تاکہ پرندے ان کے پاس جمع ہوں تاکہ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں یا ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ پرندوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والطیر محشورہ “ (اور پرندے جمع کئے ہوئے) یعنی آپ کے لئے مسخر کردیئے گئے (آیت ) ” کل لہ اواب “ (سب ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوئے تھے) اواب کا معنی ہے مطیع (آیت ) ” وشددنا ملکہ واتینہ الحکمۃ “ (اور ہم نے ان کو سلطنت کی بڑی قوت دی تھی اور ہم نے ان کو حکمت دی تھی) حکمت کا معنی ہے سنت (آیت ) ” وفصل الخطاب “ (اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی) سے مراد ہے کہ گواہ طالب پر اور قسم مطلوب پر۔
2:۔ عبد بن حمید وحاکم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشددنا ملکہ “ (ہم نے اس کی سلطنت کو بڑی قوت دی تھی) یعنی وہ دنیا…
Read the full tafseer →وَشَدَدْنَا [اور ہم نے مضبوط کیا ] مُلْكَهٗ [ان کی سلطنت کو ] وَاٰتَيْنٰهُ [اور ہم نے دی ان (علیہ السلام) کو ] الْحِكْمَةَ [دانائی ] وَفَصْلَ الْخِطَابِ [اور بات کا فیصلہ کرنا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
حضرت رسول اکرم ﷺ کو تسلی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ
رسول اللہ ﷺ کو مشرکین کی باتوں سے رنج ہوتا تھا، آیت بالا میں آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ہمارے بندۂ داؤد کو یاد کیجیے جو قوت والے تھے اور فرمایا کہ وہ اواب تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے، پھر ان کی تسبیح کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرو اور پرندوں کو بھی حکم دیا تھا جو جمع ہوجاتے تھے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے یعنی اس کے ذکر میں مشغول رہتے تھے سورة سبا کے دوسرے رکوع میں بھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔
(ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…
Read the full tafseer →22:۔ وشددنا الخ : ہم نے اس کے ملک کو ذاتی ہیبت و وجاہت۔ غیبی مدد و نصرت، کثرت عساکر اور گوناگوں نعمتوں کی فراوانی سے مضبوط و مستحکم کردیا۔ اور اس کو نبوت اور کمال علم و عمل سے سرفراز فرمایا اور اسے فیصلہ کن انداز گفتگو کا ملکہ عطا کیا (خازن، روح وغیرہما) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے…
Read the full tafseer →وَشَدَدْنَا مُلْكَہٗ وَاٰتَيْنٰہُ الْحِكْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ 20
شد
الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء :
قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ،
( ش دد ) الشد
یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے
: وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–26
ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔
تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔
وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…
Read the full tafseer →وَشَدَدْنَا مُلْـکَہٗ وَاٰتَیْنٰـہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ۔ (صٓ: 20)
(ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی اور اس کو حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی مستحکم حکومت کا اصل سبب
اوپر آیت 17 میں ذَا الْاَیْدِ کے لفظ سے حضرت دائود (علیہ السلام) کی قوت و صولت کو بیان کیا گیا تھا۔ اس آیت کریمہ میں اسی کی وضاحت ہے کہ ہم نے دائود کو جو ہیبت و صولت عطا کی تھی اس کا سبب یہ تھا کہ ہم نے انھیں ایک مستحکم حکومت سے نوازا تھا۔ اور اس حکومت کے استحکام کے لیے ہم نے ان کو حکمت بھی عطا کی تھی اور فصلِ خطاب سے بھی بہرہ ور فرمایا تھا۔ یعنی ایسا نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن
ربط کلام : حالات سے دل گرفتہ ہونے کی بجائے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو صبر کرنے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذہن میں رکھنے اور ان کی طرح حوصلہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
کفار مکہ نے عجب صورت حال اختیار کر رکھی تھی۔ ایک مجلس میں کہتے کہ آپ ﷺ جادوگر ہیں۔ دوسری مجلس میں پروپیگنڈہ کرتے کہ آپ ﷺ پر جادو ہوچکا ہے۔ آپ توحید کی دعوت دیتے تو کہتے کہ یہ شخص کذّاب ہے۔ اندازہ کیجیے کہ جس شخص کا جادو اور جادوگروں سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو۔ جس نے زندگی بھر جھوٹ بولنا تو دور کی بات کبھی مغالطہ دینے والی بات نہ کی ہو۔ اس کے خلاف گھر گھر اور ہر مقام پر الزامات لگائے جارہے ہوں بحیثیت انسان اس کی…
Read the full tafseer →مضبوط سلطنت ‘ فیصلہ کن خطاب :
20: وَ شَدَدْنَا مُلْکَہٗ (اور ہم نے ان کی سلطنت کو مضبوط کردیا) ان کے ملک کو مضبوط کردیا۔ ایک قول یہ ہے آپ کے قلعہ کے گرد تینتیس ہزار آدمی بطور حفاظت مقر ر تھے۔ وَاٰتَیْنٰـہُ الْحِکْمَۃَ (اور ہم نے ان کو حکمت) حکمت سے مراد زبور اور شریعت کا علم ایک قول ہے کہ ہر موافق حق کلمہ حکمت کہلاتا ہے۔ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطاء فرمائی) فیصلہ کرنے کا علم اور جھگڑا طے کرنے کی اہلیت اور حق و باطل میں جدائی کرنے والاعلم دیا۔ الفصلؔ دو چیزوں میں امتیاز کو کہا جاتا ہے کلام بین کو فصل بمعنی مفصول کہا جاتا ہے جیسا کضرب الا میر اے مضروب الامیر۔
فَصْلَ…
Read the full tafseer →حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت
20، وشددنا ملکہ، یعنی ہم نے ان کی حکومت کو مضبوط متحکم بنادیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اللہ نے تمام بادشاہوں سے بڑھ کر حضرت داؤد علیہ کو اقتدار عطا فرمایا تھا، ان کے قلعہ کی نگرانی ہر رات 36 ہزار سپاہی کرتے تھے۔
بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی نے کسی بڑے آدمی پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سامنے یہ دعوی کیا کہ اس نے میری گائیں چھین لی ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے مدعی علیہ السلا سے پوچھا اس نے انکار کردیا۔ آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیے ، اس کے پاس گواہ نہ تھے۔ آپ نے فرمایا، چلے جاؤ، میں تمہارے معاملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
18۔ 24۔ ذالاید کے معنی صاحب قوت حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی قوت عبادت الٰہی میں بڑھی ہوئی تھی اس لئے ان کو صاحب قوت فرمایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے (1 ؎ صحیح بخاری باب من نام عند السحر ص 152 ج 1) رسول ﷺ نے فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور ایک دن کھانا کھایا کرتے تھے۔ اسی طرح آدھی رات سویا کرتے تھے۔ اور آدھی رات عبادت کیا کرتے تھے۔ اس حدیث سے عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہوے۔ نیک کاموں میں جو لگا اور برے کاموں سے بچتا رہے اس کو اواب کہتے ہیں۔ دائود (علیہ السلام) جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18
چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، سا لئے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزرار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا : (آیت) ” جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غرورب آفتاب سے پہلے ، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔ “ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤد ہیں وہ ذالاید) ” صاحب قوت تھے “ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے۔ انہ اواب) یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعید، خوف، امید، کثرت گریہ زاری اور کثرت دعا کے ساتھ اللہ…
Read the full tafseer →فصل الخطاب کیا تھا ؟
قول باری ہے (واتیناہ الحکمۃ وفصل الخطاب ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی) اشعث نے حسن سے روایت کی ہے کہ مقدمات کے فیصلوں کا علم عطا ہوا تھا ، شریح سے مروی ہے کہ گواہیوں اور قسم اٹھوانے کا علم مراد ہے۔ ابوحصین سے مروی ہے کہ انہوں نے ابو عبدالرحمن سلمی سے روایت کی ہے کہ فصل خطاب کے معنی اہل مقدمات کے درمیان فیصلہ کرنے کے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اہل مقدمات کے درمیان حق کی بنیاد پر فیصلے کرنا مراد ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب حاکم کی عدالت میں کوئی مقدمہ پیش ہو تو اس پر اس کا فیصلہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے فیصلہ کرنے کے عمل کو نظر انداز…
Read the full tafseer →25 حضرت داؤد کے استحکام سلطنت کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے مضبوط کردیا تھا ان کی بادشاہی کو "۔ قدرتی رعب و دبدبے سے اور لشکروں و فوجوں کی کثرت سے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد روئے زمین پر سب سے بڑے زور اور قوت والے بادشاہ تھے۔ روایات میں وارد ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی حفاظت کے لئے ہر روز ہزار اور بعض روایات کے مطابق دس ہزار سپاہی کھڑے ہوتے تھے۔ اور بعض روایات کے مطابق چالیس ہزار ایسے حراس اور سپاہی کھڑے ہوتے تھے جن کے دوبارہ کھڑے ہونے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ (روح، جامع البیان، ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ اور ان کی حکومت و سلطنت کے استحکام اور اس کی مضبوطی کیلئے انکو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…
Read the full tafseer →ف 12 ” حکمت “ کے مفہوم میں نبوت، کتاب اللہ کا علم اور معاملات کی فہم و فراست سب چیزیں شامل ہیں۔ اور ” فصل الخطاب “ سے مراد ہے مقدمہ سن کر فیصلہ سنانے کا طریقہ یا لمبی بات کو مختصر الفاظ میں ایسے طریقہ سے بیان کرنا کہ ہر ایک کی پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ اس سے گویا حضرت دائود ( علیہ السلام) کی فصاحت و بلاغت کی طرف اشارہ ہے۔ ایک روایت میں ہے حضرت دائود ( علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے خطبہ میں ” اما بعد “ کا لفظ استعمال کیا۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(38:19) والطیر محشورۃ۔ واؤ عاطفہ ہے ای وسخرنا الطیر محشورۃ۔ اور ہم نے (اسی طرح) پرندوں کو (بھی ان کا مطیع کردیا تھا) جو جمع ہوجاتے تھے (ان کے ہمرہ)
محشورۃ اسم مفعول واحد مؤنث حشر مصدر۔ قرار گاہ سے نکال کر کہیں جمع کی ہوئی جماعت۔ ہر طرف سے آپ کے گرد جمع ہوجانے والے۔ ای محشورۃ الیہ من کل جانب۔
کل یعنی پہاڑ اور پرندے سب کے سب۔
لہ میں لام تعلیل کا ہے۔ اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع داؤد (علیہ السلام) ہے ای کل واحد من الجبال والطیر لاجل تسبیحہ رجاع الی التسبیح۔ یعنی پہاڑوں اور پرندوں میں سے ہر ایک حضرت داؤد کی تسبیح خوانی کے باعث رجوع کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) حضرت داؤد (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکرالٰہی کیا کرتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکرالٰہی کا مطلب سمجھتے تھے اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فوج ولشکر کی کثرت عطا فرمائی ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد کی بادشاہت بڑی مضبوط اور قوی بادشاہت تھی چھتیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے میں رہتے تھے پھر فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد کو حکمت یعنی نبوت عطا کی ۔ فصل خطاب یعنی وہ کلام وہ عقل جو مدعی ، مدعی علیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
(ف 1) یعنی یہ لوگ تکذیب رسل میں کوئی قدرت سے کام نہیں لے رہے ، ان سے پہلے بھی قوموں نے اپنے پیغبروں کو جھٹلایا اور اللہ کا غضب اور غصہ حرکت میں آیا ہے ۔ اور ان منکرین کو چشم زون میں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے ۔ اس لئے اگر یہ بھی اسی انجام کے منتظر ہیں ۔ اور یہی چاہتے ہیں ۔ کہ اللہ کی غیرت کو آزمائیں ۔ تو یہ بھی دیکھ لیں ۔ اس کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ وہ اب بھی فطرت کے دشمنوں سے پوری طرح انتقام لے گا ۔ اور انہیں بتائے گا ۔ کہ حق وصداقت کا انکار کس درجہ مذموم ہوتا ہے ۔
حل لغات :۔ فلیرتقوا فی الاسباب ۔ غرض یہ ہے کہ اگر آسمان و زمین کی حکومت ان کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تو پھر یہ کیوں آسمان…
Read the full tafseer →(20) اور ہم نے اس کی سلطنت کو اور اس کو حکمت یعنی نبوت اور واضح اور فیصلہ کن تقریر عطا فرمائی تھی۔ یعنی وہ سلطنت جو طالوت سے چھینی تھی اس کو بہت مضبوط کردیا اور ان کی سلطنت کی دھاک بیٹھ گئی اور ان کا اقتدارجمادیا اور ان کو حسن تدبیر یا نبوت عطا فرمائی اور قوۃ فیصلہ اور فیصلہ کردینے والی تقریر کا ملکہ یا علم قضا اور فیصلہ کرنا اور مدعی مدعا علیہ کے درمیان حق و باطل کا سمجھ لینا یا ایسی تقریر جو مخاطب بلا تکلف سمجھ لے۔
شعبی فرماتے ہیں کہ خطبہ کے بعد امابعد کہنا یہ انہی سے شروع ہوا۔ بہرحال ہر قسم کے علم و حکمت سے اس کو نوازا اب آگے ان کا ان کے ایک معاملہ میں مبتلا ہوکر ان کی لغزش کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
ف 7۔ مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اور اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذباللہ من الجھل۔
Read the full tafseer →ہم نے دائود (علیہ السلام) کو مستحکم حکومت اور فصل الخطاب بھی دیا
20۔ دائود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبیوں میں سے ایک نبی اور اس زمانہ کے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے ایک بہت بڑے بادشاہ بھی تھے۔ آپ کی حکومت میں جہاں روحانی طور پر ترقی ہوئی وہاں مادی طور پر بھی اس دور کی حکومتوں کے مقابلہ میں بہت ترقی ہوئی آپ کے زمانہ میں آپ کے ملک کے اندر نئی نئی ایجادات میں لوہے کے کام کو خصوصا ترقی ہوئی لوہا تانبا وغیر صاف کرنے اور اس سے مختلف اور بڑی بڑی اشیاء تیار کرنے کے کارخانے لگائے گئے اور اس طرح زرہیں اور دوسرے جنگی سامان تیار کیے گئے۔ ان ایجادات کے باعث آپ کی حکومت کو چار چاند لگ گئے اور اس…
Read the full tafseer →The word: الْحِكْمَةَ (al-hikmah) appearing in verse 38:20: وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (and gave him wisdom, and a decisive speech), as obvious, means wisdom, that is, 'We had blessed him with the precious assets of reason, insight and vision.' Some elders have suggested that it means 'nubuwwah', the station and mission of a prophet. As for the second gift: فَصْلَ الْخِطَابِ (fasl al-khitab: translated here as: a decisive speech), it has been explained in different ways by commentators. Some have said that it means power of oration - and the fact is that Sayyidna Dawud (علیہ…
Read the full tafseer →20 That is, "He was never ambiguous in speech but clear and forthright. Whatever problem he talked about he would lay bare its basic points, and would clearly and precisely determine the real issue under question, and would pass a decisive judgement. " This quality is not attained by a person unless he is granted wisdom, understanding and mastery of language of the highest degree.
Read the full tafseer →