As-Saaffaat 37:89

As-Saaffaat · from ayah 89

37:89

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ ۟فَقَالَ اِنِّىۡ سَقِيۡمٌ

اور کہا میں تو بیمار ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And said, "Indeed, I am [about to be] ill."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:89

اور کہا میں تو بیمار ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہا میں تو بیمار ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کہا کہ : میری طبیعت خراب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کہا: میری طبیعت مُضمحِل ہے (تمہارے ساتھ میلے پر نہیں جاسکتا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کہا میں تو بیمار ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو کہا کہ میری طبیعت کچھ خراب ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس کہا، میں نے ماندہ ہو رہا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہا میری طبیعت کچھ خراب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور کہہ دیا کہ میں مضمحل ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر کہا کہ میں تو بیمار ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہا میں تو بیمار ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and then said, :I feel indisposed

— Muhammad Taqi Usmani

and then said, :I feel indisposed

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he said: "Verily, I am sick."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And said, "Indeed, I am [about to be] ill."

— Saheeh International

and said, "I am sick!"

— Muhammad Sarwar

Then he said: Surely I am sick (of your worshipping these).

— Muhammad Habib Shakir

And he said: verily I am about to be sick.

— Abdul Majid Daryabadi

And he said, "I am indeed sick (at heart)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:89

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–98

بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 49 یہ ان تین باتوں میں سے ایک ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی زندگی میں یہ تین جھوٹ بولے تھے۔ حالانکہ اس بات کو جھوٹ، یا خلاف واقعہ کہنے کے لیے پہلے کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ تھی اور انہوں نے محض بہانے کے طور پر یہ بات بنادی تھی۔ اگر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو خواہ مخواہ اسے جھوٹ آخر کس بنا پر قرار دے دیا جائے۔ اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہم تفہیم القرآن جلد سوم (صفحہ 167۔ 168) میں کرچکے ہیں، اور مزید بحث رسائل و مسائل، جلد دوم (صفحہ 35 تا 39) میں کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–98

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 88–94

فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقم فتولوا عنہ مدبرین فراغ الی الھتم فقال الا تاکلون، مالکم لاتنطقون، فراغ علیھم ضرابط بالیمین (93-88) قوم کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی کی وضاحت مذکورہ بالا تقریر حضرت ابراہیم ؑ نے معلوم ہوتا ہے، معبد میں یا کسی تقریب کے موقع پر کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی اچھی طرح واضح کردیں۔ اس کے لئے یہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا کہ شب میں تقریب سے فارغ ہو کر جب لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ایک نظر اس طرح ستاروں پر ڈالی گویا وقت کا اندازہ کرنا چاہتے ہوں اور لوگوں کے کانوں میں بات ڈالتے ہوئے فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 88–89

89۔ 1 آسمان پر غور و فکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی ہی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں مؤثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم ؑ تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ (یعنی توڑ پھوڑ دیا جاسکے)۔ چناچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائیگی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 89–97

16: ان کی قوم کے لوگ انہیں اپنے ایک میلے میں لے جانا چاہتے تھے، حضرت ابراہیم ؑ ایک تو میلے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسرے ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ جب یہ سارے لوگ میلے میں چلے جائیں گے، اور مندر خالی ہوگا تو وہ وہاں جا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیں گے، تاکہ یہ لوگ آنکھوں سے ان بتوں کی بےبسی کا منظر دیکھیں جنہیں انہوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس لیے انہوں نے عذر کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی ان کے مزاج ناساز ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمہارے کفر و شرک کی حرکتیں دیکھ کر میری طبیعت روحانی طور پر خراب ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 88–93

فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔ روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 88–91

8 ان کی قوم میں نجوم کا زور تھا۔ حضرت ابراہیم نے ان کے دکھانے کو تاروں کی طرف نظر ڈال کر کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں (اور ایسا دنیا میں کون ہے جس کی طبیعت ہر طرح ٹھیک رہے کچھ نہ کچھ عوارض اندرونی یا بیرونی لگے ہی رہتے ہیں۔ یہ ہی تکلیف اور بدمزگی کی کیا کم تھی کہ ہر وقت قوم کی ردی حالت دیکھ کر کڑھتے تھے) یا یہ مطلب تھا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں (بیماری نام ہے مزاج کے اعتدال سے ہٹ جانے کا۔ تو موت سے پہلے ہر شخص کو یہ صورت پیش آنے والی ہے) بہرحال حضرت ابراہیم کی مراد صحیح تھی۔ لیکن ستاروں کی طرف دیکھ کر " انی سقیم " کہنے سے لوگ یہ مطلب سمجھے کہ بذریعہ نجوم کے انہوں نے معلوم کرلیا ہے کہ عنقریب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 89{ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ } ”پھر کہا کہ میں تو بیمار ہوں۔“ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ‘ یا یہ کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ مجھے خدشہ ہے کہ مجھ پر بیماری آنے والی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں بت پرستی بھی عام تھی اور ستارہ پرستی بھی۔ ان کے ہاں ہندوئوں کے جنم اشٹمی کے میلے کی طرز پر سالانہ ایک جشن منایا جاتا تھا۔ اس موقع پر شہر کے تمام لوگ باہر کھلے میدان میں جا کر کسی ستارے کی پرستش کیا کرتے تھے۔ چناچہ جب جشن کا دن آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میری تو طبیعت خراب ہے ‘ میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جاسکتا۔ اس طرح آپ علیہ السلام پیچھے رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 87–89

49 سیدنا ابراہیم کی ستارہ پرست قوم :۔ سیدنا ابراہیم کا اصل وطن عراق کا شہر بابل تھا۔ یہ لوگ ستارہ پرست تھے۔ اور بالخصوص سات مشہور سیاروں سورج، چاند، زہرہ، عطارد، مشتری، مریخ اور زحل کی چال سے خوب واقف تھے۔ علاوہ ازیں یہ لوگ ان سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات کے بھی سختی سے قائل تھے۔ انہیں سیاروں کے الگ الگ مندر تعمیر کر رکھے تھے۔ ، جن میں ان سیاروں کے خیالی مجسمے یا بت رکھے جاتے تھے۔ وہ خود ہی زائچے تیار کرتے اور اس کے مطابق ان سیاروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے مجسموں کے سامنے نذریں نیازیں پیش کی جاتی تھیں۔ انہیں زائچوں کے ذریعہ وہ آئندہ سے متعلق اپنی اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 88–90

41۔ اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلہ کا وقت آگیا ہے (جاہلی قوموں میں میلوں ٹھیلوں کی جو اہمیت ہوتی ہے وہ بالکل ظاہر ہے) اور لوگ آپ کو اپنا ہم عقیدہ سمجھ کر آپ سے بھی ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں۔ آپ عذر کررہے ہیں۔...... یہ بیان اسی موقع کا ہے۔ (آیت) ” نظر نظرۃ فی النجوم “۔ گھڑی کی ایجاد سے قبل وقت وغیرہ کے علم کے لئے نظر قدرۃ رات کے وقت ستاروں کی طرف اٹھا کرتی تھی، جیسا کہ آج بھی ان ملکوں میں دستور ہے جہاں گھڑیاں ابھی نہیں پہنچی ہیں۔ اور پھر اہل کلدانیہ (بابل) تو فن نجوم، جوتش وغیرہ کے پرستاروں میں تھے۔ فال وغیرہ کے کتنے احکام تاروں ہی سے لیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقال انی سقیم پھر فرمایا : میں بیمار (ہونے والا) ہوں۔ حضرت ابن عباس نے سقیم کا ترجم کیا ہے : میں طاعون میں مبتلا ہوگیا۔ وہ لوگ طاعون سے بھاگتے تھے۔ حسن نے سقیم کا ترجمہ مریض اور مقاتل نے درد میں مبتلا کیا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابراہیم نے صرف تین بار جھوٹ بولا : دو مرتبہ تو باری تعالیٰ کی ذات کے متعلق ‘ ایک بار فرمایا : اِنِّیْ سَقِیْمٌ‘ دوسری بار فرمایا : بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا (الحدیث) اور تیسری مرتبہ حضرت سارہ کے متعلق فرمایا تھا : یہ میری بہن ہے۔ یہ حدیث سورة انبیاء میں ہم نقل کرچکے ہیں۔ حدیث مذکور میں جھوٹ سے مراد ہے : توریہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 88–93

(88۔ 93) جب قوم نے میلہ میں چلنے کو کہا تو حضرت ابراہیم نے ستاروں کی طرف ایک نظر بھر کر دیکھی یا یہ کہ ذرا سوچ کر کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں تاکہ قوم کو چھوڑ دے۔ غرض وہ لوگ ان کو چھوڑ کر اپنے میلہ میں چلے گئے تو حضرت ابراہیم ان کے بتوں میں جا گھسے اور مذاق اڑا کر کہنے کہ یہ شہد وغیرہ کے چڑھاوے جو تمہارے سامنے رکھے ہیں یہ کھاتے کیوں نہیں ہو۔ چناچہ وہ جواب کہاں سے یتے تو حضرت ابراہیم نے کہا کہ تمہیں کیا ہوا تم بولتے بھی نہیں ہو پھر ان پر قوت کے ساتھ کدال لے کر جا پڑے اور ان کو مارنا شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ : یہ ایسی بات تھی جو درحقیقت سچی تھی، کیونکہ عموماً آدمی کی طبیعت کچھ نہ کچھ خراب ہوتی ہے، مگر قوم نے اس کا مطلب کچھ اور سمجھا (کہ وہ جانے کے قابل نہیں ہیں) جس سے ابراہیم ؑ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ایسی باتوں کو جن میں کہنے والے کی نیت کچھ ہو اور سننے والا کچھ اور سمجھے ”معاریض“ کہتے ہیں، جن کے ساتھ آدمی صریح جھوٹ سے بچ جاتا ہے۔ صحیح بخاری (3358) میں ابراہیم ؑ کی ”ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ“ والی حدیث پر مفصل بحث کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (62، 63) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 83–90

83 ۔ 90:۔ حضرت ابن عباس رضی للہ عنہما نے کہا : من شیعتہ سے مراد ہے ان کے دین والے (1) مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے طریقہ اور سنت پر ہیں (2) ۔ اصمعی نے کہا : شیعہ سے مراد حمایتی و مددگار ہیں (3) ۔ یہ شیاع سے ماخوذ ہے اس سے مراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں جو بڑی کے ساتھ جلائی جاتی ہیں تاکہ آگ روشن ہو۔ کلبی اور فراء نے کہا : معنی ہے حضرت محمد ﷺ کے اعوان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں (4) ۔ شیعتہ میں ضمیر سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ پہلی تعبیر کی صورت میں ضمیر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں یہ تعبیر زیادہ نمایاں ہے کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہی پہلے ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَقَالَ [پھر انھوں نے کہا ] اِنِّىْ سَقِيْمٌ [بیشک میں بیمار ہوں ] س ق م (س۔ ک) سقما بیمار ہونا۔ سقیم فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بیمار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 89 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–98

(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 89–90

39:۔ فتولوا عنہ الخ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سن کر مشرکین نے ان پر مزید اصرار نہ کیا۔ اور صبح اپنی عید میں شرکت کے لیے سب شہر سے باہر چلے گئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) جو ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے ان کے ٹھاکر دوارے میں جا گھسے۔ دیکھا ٹھاکروں کے آگے مختلف کھانے رکھے ہیں جو ان کے پجاریوں نے رکھے تھے تاکہ وہ بابرکت ہوجائیں اور عید سے واپسی پر انہیں کھائیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور استہزاء ٹھاکروں سے خطاب کر کے فرمایا : یہ کھانے جو رکھے ہیں کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ جب انہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو بطور استہزاء دوسرا سوال کردیا، مالکم لا تنطقون، تمہیں کیا ہے۔ تم بولتے کیوں نہیں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ۝ 89 سقم السَّقَمُ والسُّقْمُ : المرض المختصّ بالبدن والمرض قد يكون في البدن وفي النّفس، نحو : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ [ البقرة/ 10] ، وقوله تعالی: إِنِّي سَقِيمٌ [ الصافات/ 89] فمن التّعریض، أو الإشارة إلى ماض، وإمّا إلى مستقبل، وإمّا إلى قلیل ممّا هو موجود في الحال، إذ کان الإنسان لا ينفكّ من خلل يعتريه وإن کان لا يحسّ به، ويقال : مکان سَقِيمٌ ، إذا کان فيه خوف . ( س ق م ) السقم والسقم خاص کر جسمانی بیماری کو کہتے ہیں بخلاف مرض کے کہ وہ جسمانی اور قلبی دونوں قسم کی بیماریوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ [ البقرة/ 10] ان کے دلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 88–90

فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ۔ فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 88 تا 90) (پھر اس نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی۔ اور کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ پس وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ ) آیت کا پس منظر اور اس کا مفہوم اسی آیات کا پس منظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کو ایک عرصہ گزر گیا تھا لیکن نہ گھر میں اس کے لیے جگہ بن سکی تھی نہ گھر سے باہر اسے کوئی ہمنوائی مل سکی۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کرلیا کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے لوگوں میں ان کی گمراہی کھل کر سامنے آجائے۔ چناچہ آپ ایسی کسی بات کے حوالے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 88–93

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معبودان باطل کے خلاف اقدام۔ نہ معلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کتنا عرصہ باپ اور قوم کو سمجھاتے رہے۔ طویل عرصہ تک سمجھانے کے باوجود جب قوم سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوئی تو آپ نے سوچا کہ اگر دلائل انکی سمجھ میں نہیں آرہے اور یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان مورتیوں پر مرے جا رہے ہیں۔ تو اب ان کے معبودوں کی عملی طور پر خبر لینی چاہئے، تب بلا خوف وخطر فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ مجسمے میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ (الانبیاء : 57) اتفاق کی بات دیکھیے اسی کشمکش میں قوم کا میلہ آجاتا ہے۔ مشرک قوم ایسے میلوں میں نہ صرف خود جاتی ہے۔ بلکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

89: فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ (پس آپ نے فرمایا میں بیمار ہونے کو ہوں) عنقریب بیمار ہوجائیں گے۔ یہ مرض طاعون تھا۔ اس علاقہ میں عام بیماری یہی تھی۔ وہ اس کے متعدی ہونے سے خوفزدہ تھے۔ تاکہ وہ اس سے بھاگ سکیں۔ چناچہ وہ عید کیلئے چلے گئے۔ اور آپ کو بیت الاصنام میں چھوڑ کر چلے گئے جبکہ آپ کے ساتھ کوئی اور نہ تھا۔ پس آپ نے بتوں کے ساتھ جو حشر کرنا تھا، کیا۔ لوگوں نے کہا کہ علم نجوم برحق تھا پھر اس کی پہچان کیلئے سیکھنا منسوخ کردیا گیا۔ کذب حرام ہے۔ مگر تعریض کرنا جائز ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو فرمایا یہ تعریض ہے یعنی میں عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔ یا جس کی گردن میں موت لٹکی ہو وہ بیمارہی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 88–89

88، فنظر نظرۃ فی النجوم،۔۔۔۔۔۔ 89۔۔۔۔۔۔۔ فقال انی سقیم، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کی قوم ستاروں کا علم سیکھتی تھی۔ ایسا معاملہ اس لیے اختیار کیا تا کہ وہ آپ کے انکار پر کچھ نہ کہیں ۔ دوسرے دن ان کا عیدکا دن تھا اور ان کے جمع ہونے کا دن تھا ، وہ تہوار کے دن جانے سے پہلے اپنے بتوں کے پاس جاتے اور ان کے لیے بچھونا بچھا تے اور ان کے لیے طرح طرح کے کھانے ان کے سامنے بنا کررکھتے۔ اور ان کا یہ گمان تھا کہ کھانا وہ متبرک کرتے ہیں ۔ پھر میلے سے واپس آکر کھاتے ہیں تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے کہ کیا کل آپ ہمارے ساتھ میلے میں چلیں گے۔ پھر حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) نے آسمان کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–95

83۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 89–91

60 حضرت ابراہیم کی طرف سے خرابیِِ طبع کا عذر اور اس کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ابراہیم نے ان سے کہا کہ میری طبیعت کچھ خراب ہے "۔ اور ظاہر ہے کہ اتنے بڑے موحد بلکہ ابو الانبیاء اور رئیس الموحدین کے لئے اس سے بڑھ کر سقم اور ناسازی طبع اور کیا ہوسکتی تھی کہ ان کی قوم کھلم کھلا بتوں کو پوجتی پکارتی اور ان کو مشکل کشا و حاجت روا مانتی ہو۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ جسمانی طور پر بھی آپ ﷺ کی طبیعت کچھ علیل ہوئی ہو۔ کیونکہ کچھ نہ کچھ عارضہ تو یوں بھی ہر کسی کو رہتا ہی ہے۔ مگر چونکہ ظاہری طور پر آپ (علیہ السلام) ٹھیک تھے اور آپ (علیہ السلام) نے توریہ کے طور پر یہ بات فرمائی تھی جو کہ ضرورت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یا ” میں بیمار ہونے والا ہوں “ یا ” میں بیمارہوں “ کیونکہ دنیا میں ہر شخص کو کوئی نہ کوئی عارضہ ہوتا ہی ہے اور قوم کی حالت دیکھ کر جو کڑھتے تھے وہ بھی اپنی جگہ ایک تکلیف تھی۔ بہرحال حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے توریہ کیا جو اگرچہ جائز ہے مگر اپنی ظاہری صورت میں چونکہ جھوٹ ہوتا ہے اس لئے حدیث میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے اس قول ( انی سقیم) کو تین جھوٹوں میں سے ایک شمار کیا ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں اللہ کی خاطر ایک عظیم تر مقصد کے لئے بولے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہ ایک جھوٹ ہے اللہ کی راہ میں عذاب نہیں ثواب ہے۔ ) (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:89) انی سقیم۔ میں سقیم سقم سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ دکھی، بیمار۔ مضمحل، ناساز، محاورۃ بیزار کے معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ السقم والسقم خاص کر جسمانی بیماری کو کہتے ہیں۔ بخلاف مرض کے کہ وہ جسمانی وقلبی دونوں قسم کی بیماریوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فی قلوبہم مرض (2:10) ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ فقال انی سقیم میں لفظ سقیم یا تو تعریض کے طور پر (کنایۃ) استعمال ہوا ہے یا زمانہ ماضی یا مستقبل کی طرف اشارہ کے لئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ہلکی سی بدنی تکلیف کی طرف اشارہ ہو جو اس وقت ان کو عارض تھی کیونکہ انسان بہرحال کسی نہ کسی عارجہ میں مبتلا ہی رہتا ہے اگرچہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–98

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–89

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا قصہ مختصر طور پر بیان فرمایا، سورة الانبیاء میں اس قصہ کی زیادہ تفصیل گزرچکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے ابراہیم نے اپنے باپ آزر اور قوم کے لوگوں کے روبرو بت پرستی کی مذمت بیان کی جب ان لوگوں پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا تو ابراہیم نے دبی ہوئی آواز میں قسم کھائی کہ کبھی موقع پاکر میں ان بتوں کا پوراعلاج کروں گا سال بھر میں ایک میلہ بستی کے باہرہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جاتے تھے اور میلہ میں جاتے وقت کچھ کھاناپکاکربت خانہ میں رکھ دیتے تھے اور میلہ میں پلٹ کر جب آیا کرتے تھے وہ کھانا کھالیتے تھے اس قصے کے سال جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[17] یہاں ایک مشہور سوال یہ چلا آ رہا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو مریض نہ تھے پھر کیسے اپنے آپ کو مریض ظاہر کردیا ؟ لیکن ایک سوال نفس سوال ہی پر پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا مریض نہ ہونا کہاں سے فرض کرلیا گیا۔ نہ قرآن میں نہ کسی معتبر روایت میں اس کا ذکر ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ کی طبیعت ناساز رہی ہوگی اور اس کا اظہار آپ نے کردیا۔ جہاں تک ستاروں پر نظر کرنے کا تعلق ہے وہ اس مصلحت سے تھا کہ لوگوں کو مزید سوالات کا موقع نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–97

ف 2: فنظر نظر ذفی النجوم سے مراد ایک مستقل واقعہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایلدن بہ مشرکان بابل اپنے لسی مذہبی میلے میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا ابراہیم کو بھی دعوت دی جائے ۔ شاید یہ وہاں کا ٹھاٹھ دیکھ کر اپنے خیالات سے باز آجائے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلنے کو کہا آپ نے غور وفکر کے بعد فرمایا میں تمہارے ان شاغوں سے قطعی بیزار ہوں اور مجھے تمہاری دینی ومذہبی تقریبات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ واضح رہے کہ فنظر نظرۃ فی النجوم محاورہ ہے جس کے معنے سوچنے اور غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ عام طور پر آدمی سوچتے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھاتا ہے اور انی سقیم کے معنے یہ ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–98

ف 5۔ یہ ستاروں کا دیکھنا بطور ایہام و توریہ کے تھا کہ وہ تو بوجہ اس کے کہ کواکب کو متصرف فی الحوادث سمجھتے تھے یوں سمجھے کہ کوئی فائدہ نجوم کے آتا ہوگا جس سے رفتار ستاروں کی دیکھ کر ان کو معلوم ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر میں بیمار ہوجاوں گا۔ اور چونکہ وہ نجوم کے معتقد تھے اس لئے اصرار نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے لوگوں کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : 89۔ آپ نے ان کو جواب دیا کہ میں اس وقت صحیح نہیں ہوں ورنہ جب پہلے ہی جاتا رہا ہوں تو اس دفعہ بھی مجھے جانے میں کچھ عذر نہ ہوتا رہی یہ بات کہ اس وقت جو آپ کی طبیعت پر بوجھ تھا وہ کیا تھا تو واقعات یہ بتاتے ہیں کہ سب سے بڑھ کر بوجھ آپ کی طبیعت پر یہی تھا کہ ان لوگوں کو ہر لحاظ سے سمجھانے کی کوشش کی اور نہایت نرم پالیسی اختیار کی گئی لیکن انہوں نے میری اس نرمی سے بہت ہی غلط فائدہ اٹھایا اب کوئی سخت اقدام کرنا ہی مفید ہو سکتا ہے صرف بات چیت کی پالیسی پر اکتفا مفید نظر نہیں آتا اس لیے آپ بلاشبہ اسی اضطراب میں تھے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–98

In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ‌ نَظْرَ‌ةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

49 This is one of those three things concerning which it is said that the Prophet Abraham had told three lies in his life, whereas it should be ascertained before declaring it a lie, or anything contrary to fact, whether the Prophet Abraham at that time was not suffering from any illness, and therefore, he had trade this excuse only as a pretence. If there is no proof, there is no reason why it should be regarded as a lie. For a detailed discussion, please refer to E.N. 60 of Surah Al-Anbiya`and Rasa 'il-o-Masa'il, vol. II, pp. 35 to 39.

Read the full tafseer →