فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِ ۟ۙفَنَظَرَ نَظۡرَةً فِى النُّجُوۡمِۙ
تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And he cast a look at the stars
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِ ۟ۙفَنَظَرَ نَظۡرَةً فِى النُّجُوۡمِۙ
تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And he cast a look at the stars
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
پھر اس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی
تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی
اب ابراہیم ؑ نے ایک نگاه ستاروں کی طرف اٹھائی
اس کے (کچھ عرصے) بعد انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نگاہ ڈال کر دیکھا۔
پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا
پھر (ابراہیم علیہ السلام نے اُنہیں وہم میں ڈالنے کے لئے) ایک نظر ستاروں کی طرف کی،
پس اس نے ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی۔
پھر (ایک دفعہ) انہوں نے ستاروں میں نظر ڈالی۔
پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔
پھر (ایک موقع پر) انہوں نے ایک (معنی خیز) نظر ڈالی ستاروں میں
پھر ابراہیم نے ستاروں کو ایک نگاہ بھر کے دیکھا
پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔
تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی
Then he looked carefully at the stars
Then, he cast a look at the stars,
Then, he cast a look at the stars,
Then he cast a glance at the stars,
And he glanced a glance at the stars
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And he cast a look at the stars
The people invited him to attend their feast). Then he looked at the stars
Then he looked at the stars, looking up once,
Then he glanced a glance on the stars.
Then did he cast a glance at the Stars.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 88–98
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 47 اب ایک خاص واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات سورة (آیات 51 تا 73) اور سورة عنکبوت (آیات 16 تا 27) میں گزر چکی ہیں۔ سورة الصّٰٓفّٰت 48 ابن ابی حاتم نے مشہور تابعی مفسر قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اہل عرب نَظَرَ فِی النُّجُوْمِ (اس نے تاروں پر نگاہ ڈالی) کے الفاظ محاصرے کے طور پر اس معنی میں بولا کرتے ہیں کہ اس شخص نے غور کیا، یا وہ شخص سوچنے لگا۔ علامہ ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے اور ویسے بھی یہ بات اکثر مشاہدے میں آتی ہے کہ جب کسی شخص کے سامنے کوئی غور طلب معاملہ آتا ہے تو وہ آسمان کی طرف، یا اوپر کی جانب کچھ دیر دیکھتا رہتا ہے، پھر سوچ کر جواب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقم فتولوا عنہ مدبرین فراغ الی الھتم فقال الا تاکلون، مالکم لاتنطقون، فراغ علیھم ضرابط بالیمین (93-88) قوم کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی کی وضاحت مذکورہ بالا تقریر حضرت ابراہیم ؑ نے معلوم ہوتا ہے، معبد میں یا کسی تقریب کے موقع پر کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی اچھی طرح واضح کردیں۔ اس کے لئے یہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا کہ شب میں تقریب سے فارغ ہو کر جب لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ایک نظر اس طرح ستاروں پر ڈالی گویا وقت کا اندازہ کرنا چاہتے ہوں اور لوگوں کے کانوں میں بات ڈالتے ہوئے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
89۔ 1 آسمان پر غور و فکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی ہی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں مؤثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم ؑ تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ (یعنی توڑ پھوڑ دیا جاسکے)۔ چناچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائیگی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
15: حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کا پورا واقعہ سورة ہود : 36 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔ روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
8 ان کی قوم میں نجوم کا زور تھا۔ حضرت ابراہیم نے ان کے دکھانے کو تاروں کی طرف نظر ڈال کر کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں (اور ایسا دنیا میں کون ہے جس کی طبیعت ہر طرح ٹھیک رہے کچھ نہ کچھ عوارض اندرونی یا بیرونی لگے ہی رہتے ہیں۔ یہ ہی تکلیف اور بدمزگی کی کیا کم تھی کہ ہر وقت قوم کی ردی حالت دیکھ کر کڑھتے تھے) یا یہ مطلب تھا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں (بیماری نام ہے مزاج کے اعتدال سے ہٹ جانے کا۔ تو موت سے پہلے ہر شخص کو یہ صورت پیش آنے والی ہے) بہرحال حضرت ابراہیم کی مراد صحیح تھی۔ لیکن ستاروں کی طرف دیکھ کر " انی سقیم " کہنے سے لوگ یہ مطلب سمجھے کہ بذریعہ نجوم کے انہوں نے معلوم کرلیا ہے کہ عنقریب…
Read the full tafseer →آیت 88{ فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ } ”پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں پر نگاہ ڈال کر گویا یہ تاثر دیا کہ وہ ستارہ شناسی کی مدد سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
49 سیدنا ابراہیم کی ستارہ پرست قوم :۔ سیدنا ابراہیم کا اصل وطن عراق کا شہر بابل تھا۔ یہ لوگ ستارہ پرست تھے۔ اور بالخصوص سات مشہور سیاروں سورج، چاند، زہرہ، عطارد، مشتری، مریخ اور زحل کی چال سے خوب واقف تھے۔ علاوہ ازیں یہ لوگ ان سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات کے بھی سختی سے قائل تھے۔ انہیں سیاروں کے الگ الگ مندر تعمیر کر رکھے تھے۔ ، جن میں ان سیاروں کے خیالی مجسمے یا بت رکھے جاتے تھے۔ وہ خود ہی زائچے تیار کرتے اور اس کے مطابق ان سیاروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے مجسموں کے سامنے نذریں نیازیں پیش کی جاتی تھیں۔ انہیں زائچوں کے ذریعہ وہ آئندہ سے متعلق اپنی اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
41۔ اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلہ کا وقت آگیا ہے (جاہلی قوموں میں میلوں ٹھیلوں کی جو اہمیت ہوتی ہے وہ بالکل ظاہر ہے) اور لوگ آپ کو اپنا ہم عقیدہ سمجھ کر آپ سے بھی ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں۔ آپ عذر کررہے ہیں۔...... یہ بیان اسی موقع کا ہے۔ (آیت) ” نظر نظرۃ فی النجوم “۔ گھڑی کی ایجاد سے قبل وقت وغیرہ کے علم کے لئے نظر قدرۃ رات کے وقت ستاروں کی طرف اٹھا کرتی تھی، جیسا کہ آج بھی ان ملکوں میں دستور ہے جہاں گھڑیاں ابھی نہیں پہنچی ہیں۔ اور پھر اہل کلدانیہ (بابل) تو فن نجوم، جوتش وغیرہ کے پرستاروں میں تھے۔ فال وغیرہ کے کتنے احکام تاروں ہی سے لیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →فنظر نظرۃ فی النجوم سو ابراہیم نے ایک نگاہ بھر ستاروں کو دیکھا۔ فِی النُّجُوْمِ یعنی ستاروں کے مواقع پر نظر ڈالی ‘ یا علم النجوم ‘ یا کتاب النجوم کو دیکھا۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت علم النجوم پر غور کرنا اور سیکھنا سکھانا جائز تھا (ورنہ حضرت ابراہیم ستاروں کی رفتار کو نہ دیکھتے) لیکن ہماری شریعت میں علم النجوم کی ممانعت کردی گئی۔ زرین نے حضرت ابن عباس کی روایت سے نقل کیا ہے کہ نجومی سے کاہن زائد ہے اور کاہن سے جادوگر ہے اور جادوگر کافر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تینوں کافر ہیں ‘ تینوں کا ایک ہی حکم ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی کسی قدر تفصیل اس طرح کردی جائے کہ اگر حوادث عالم کی ستاروں کے طلوع اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
(88۔ 93) جب قوم نے میلہ میں چلنے کو کہا تو حضرت ابراہیم نے ستاروں کی طرف ایک نظر بھر کر دیکھی یا یہ کہ ذرا سوچ کر کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں تاکہ قوم کو چھوڑ دے۔ غرض وہ لوگ ان کو چھوڑ کر اپنے میلہ میں چلے گئے تو حضرت ابراہیم ان کے بتوں میں جا گھسے اور مذاق اڑا کر کہنے کہ یہ شہد وغیرہ کے چڑھاوے جو تمہارے سامنے رکھے ہیں یہ کھاتے کیوں نہیں ہو۔ چناچہ وہ جواب کہاں سے یتے تو حضرت ابراہیم نے کہا کہ تمہیں کیا ہوا تم بولتے بھی نہیں ہو پھر ان پر قوت کے ساتھ کدال لے کر جا پڑے اور ان کو مارنا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ : ابراہیم ؑ نے جب دیکھا کہ محض زبانی نصیحت سے وہ بتوں کے بےبس اور بےاختیار ہونے کو ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عملاً انھیں توڑنا پڑے گا تو انھوں نے پہلے تو اعلان کیا کہ اللہ کی قسم ! جب تم کہیں گئے تو میں تمہارے بتوں کی کوئی تدبیر ضرور کروں گا۔ (دیکھیے انبیاء : 57) پھر مناسب موقع کا انتظار کرنے لگے، کیونکہ ان کی موجودگی میں یہ کام نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی دوران ان کی قوم کے ایک جشن یا میلے کا دن آگیا، انھوں نے ابراہیم ؑ کو اس میں شرکت کی دعوت دی۔ ابراہیم ؑ چاہتے تھے کہ جب وہ لوگ اپنے میلے میں چلے جائیں اور ان کے بتوں کے پاس کوئی نہ رہے تو اطمینان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–90
83 ۔ 90:۔ حضرت ابن عباس رضی للہ عنہما نے کہا : من شیعتہ سے مراد ہے ان کے دین والے (1) مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے طریقہ اور سنت پر ہیں (2) ۔ اصمعی نے کہا : شیعہ سے مراد حمایتی و مددگار ہیں (3) ۔ یہ شیاع سے ماخوذ ہے اس سے مراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں جو بڑی کے ساتھ جلائی جاتی ہیں تاکہ آگ روشن ہو۔ کلبی اور فراء نے کہا : معنی ہے حضرت محمد ﷺ کے اعوان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں (4) ۔ شیعتہ میں ضمیر سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ پہلی تعبیر کی صورت میں ضمیر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں یہ تعبیر زیادہ نمایاں ہے کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہی پہلے ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →فَنَظَرَ [پھر انھوں نے دیکھا ] نَــظْرَةً [ایک منظر ] فِي النُّجُوْمِ [ستاروں میں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–98
(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
38:۔ فنظر نظرۃ الخ :۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس انتظار میں تھے کہ انہیں کبھی ایسا موقع ہاتھ آئے جس پر وہ معبودانِ باطلہ کی بےبسی اور بیچارگی کو مشرکین پر واضح کرسکیں۔ چناچہ مشرکین کی عید کا دن آگیا جس میں وہ سب شہر سے باہر چلے جاتے۔ اور ایک مخصوص جگہ میں عید مناتے۔ مشرکین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی عید کی خوشی میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ وہ تو ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ یہ مشرکین سب باہر چلے جائیں اور وہ اکیلے شہر میں رہ جائیں تاکہ ان کے ٹھاکروں کو تور پھوڑ سکیں۔ چناچہ انہوں نے غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد یہی فیصلہ کیا کہ انہیں کسی بہانے سے ٹال کر خود شہر ہی میں رہنا چاہئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–98
نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…
Read the full tafseer →فَنَظَرَ نَــظْرَۃً فِي النُّجُوْمِ 88ۙ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ۔ فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 88 تا 90) (پھر اس نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی۔ اور کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ پس وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ ) آیت کا پس منظر اور اس کا مفہوم اسی آیات کا پس منظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کو ایک عرصہ گزر گیا تھا لیکن نہ گھر میں اس کے لیے جگہ بن سکی تھی نہ گھر سے باہر اسے کوئی ہمنوائی مل سکی۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کرلیا کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے لوگوں میں ان کی گمراہی کھل کر سامنے آجائے۔ چناچہ آپ ایسی کسی بات کے حوالے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معبودان باطل کے خلاف اقدام۔ نہ معلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کتنا عرصہ باپ اور قوم کو سمجھاتے رہے۔ طویل عرصہ تک سمجھانے کے باوجود جب قوم سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوئی تو آپ نے سوچا کہ اگر دلائل انکی سمجھ میں نہیں آرہے اور یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان مورتیوں پر مرے جا رہے ہیں۔ تو اب ان کے معبودوں کی عملی طور پر خبر لینی چاہئے، تب بلا خوف وخطر فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ مجسمے میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ (الانبیاء : 57) اتفاق کی بات دیکھیے اسی کشمکش میں قوم کا میلہ آجاتا ہے۔ مشرک قوم ایسے میلوں میں نہ صرف خود جاتی ہے۔ بلکہ…
Read the full tafseer →ستاروں پر نگاہ ڈالنا : 88: فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ (پس ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کو ایک نگاہ بھر کر دیکھا) آپ نے ستاروں کو دیکھا اس حالت میں کہ آپ اپنی نگاہ آسمان پر ڈالنے والے تھے۔ اپنے دل میں سوچ بچار کر رہے تھے کہ وہ کس طرح تدبیرو حیلہ کریں یا ان کو دکھایا کہ وہ ستاروں کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ کفار کا عقیدہ ستاروں کے متعلق تھا۔ پس آپ نے ان کے وہم میں یہ بات ڈالی کہ وہ اس نشانی سے استدلال کر رہے ہیں کہ وہ عنقریب بیمار ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
88، فنظر نظرۃ فی النجوم،۔۔۔۔۔۔ 89۔۔۔۔۔۔۔ فقال انی سقیم، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کی قوم ستاروں کا علم سیکھتی تھی۔ ایسا معاملہ اس لیے اختیار کیا تا کہ وہ آپ کے انکار پر کچھ نہ کہیں ۔ دوسرے دن ان کا عیدکا دن تھا اور ان کے جمع ہونے کا دن تھا ، وہ تہوار کے دن جانے سے پہلے اپنے بتوں کے پاس جاتے اور ان کے لیے بچھونا بچھا تے اور ان کے لیے طرح طرح کے کھانے ان کے سامنے بنا کررکھتے۔ اور ان کا یہ گمان تھا کہ کھانا وہ متبرک کرتے ہیں ۔ پھر میلے سے واپس آکر کھاتے ہیں تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے کہ کیا کل آپ ہمارے ساتھ میلے میں چلیں گے۔ پھر حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) نے آسمان کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–95
83۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →59 حضرت ابراہیم کی طرف سے بت شکنی کی سکیم کا ذکر : سو اس سے معبودان باطلہ کے خلاف دستی کارروائی اور بت شکنی کے لیے حضرت ابراہیم کی ایک اس کیم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر انہوں نے ایک ۔ معنیٰ خیز۔ نظر ڈالی ستاروں میں "۔ جیسا کہ غور و خوض کے وقت عام طور پر ہوتا ہے۔ اور { نَظْرَۃٌ} اور { فِیْ } سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ نیز اس سے ان مشرکوں کو بھی دھوکہ لگا اور ان کی عقلوں پر مزید پردہ پڑا کہ وہ ستاروں میں تاثیر مانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم کی کوئی پروا نہ کی اور ان کو اپنے ٹھاکروں کی خبر لینے کے لئے پیچھے چھوڑ کر وہ خود اپنے میلے پر روانہ ہوگئے۔ سو حضرت ابراہیم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–102
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →ف 12 یہاں سے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے جس واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کی تفصیل سورة انبیاء آیت (51، 73) میں بھی گزر چکی ہے۔13 اکثر مفسرین (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بتوں کے علاوہ ستاروں کی بھی پرستش کیا کرتے تھے اور ستاروں کی گردش کی حادث زمانہ میں اور موثر مانتے تھے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے انہیں مغالطے میں ڈالنے کیلئے ستاروں پر ایک نظر ڈالی تاکہ وہ سمجھیں کہ ستاروں سے اپنا آئندہ حال معلوم کررہے ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہ محاورہ ہے جو غور و فکر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے سوچتے ہوئے آسمان کی طرف…
Read the full tafseer →(37:88) فنظر نظرۃ فی النجوم۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے پھر اس نے ستارون کو ایک نظر بھر کر دیکھا۔ یہاں ایک خاص واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات سورة الانبیاء (آیات 51:73) اور سورة عنکبوت (آیات 16 ۔ 27) میں گذر چکی ہیں۔ قوم (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک سالانہ تہوار اور میلہ ہوا کرتا تھا۔ اور قوم کا قاعدہ تھا کہ تہوار کے موقعہ پر بتون کے پاس جا کر ان کے سامنے فرش بچھاتے اور میلے میں جانے سے پہلے ان کے سامنے لذیذ کھانے مختلف قسم کے رکھتے تھے اور اس کو متبرک فعل سمجھتے تھے۔ پھر جب میلہ سے واپس لوٹتے تھے تو بتوں کے سامنے رکھے ہوئے کھانے اور مٹھائیان بطور تبرک خود بھی کھاتے تھے اور یار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا قصہ مختصر طور پر بیان فرمایا، سورة الانبیاء میں اس قصہ کی زیادہ تفصیل گزرچکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے ابراہیم نے اپنے باپ آزر اور قوم کے لوگوں کے روبرو بت پرستی کی مذمت بیان کی جب ان لوگوں پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا تو ابراہیم نے دبی ہوئی آواز میں قسم کھائی کہ کبھی موقع پاکر میں ان بتوں کا پوراعلاج کروں گا سال بھر میں ایک میلہ بستی کے باہرہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جاتے تھے اور میلہ میں جاتے وقت کچھ کھاناپکاکربت خانہ میں رکھ دیتے تھے اور میلہ میں پلٹ کر جب آیا کرتے تھے وہ کھانا کھالیتے تھے اس قصے کے سال جب…
Read the full tafseer →[16] ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم میں نجوم کا زور تھا۔ فال وغیرہ کے کتنے ہی احکام ستاروں ہی سے لیا کرتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے نظر آسمان کی طرف اٹھائی تو وہ لوگ یہ سمجھے یہ کہ ستاروں کی مدد سے اپنا مستقبل دریافت کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
ف 2: فنظر نظر ذفی النجوم سے مراد ایک مستقل واقعہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایلدن بہ مشرکان بابل اپنے لسی مذہبی میلے میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا ابراہیم کو بھی دعوت دی جائے ۔ شاید یہ وہاں کا ٹھاٹھ دیکھ کر اپنے خیالات سے باز آجائے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلنے کو کہا آپ نے غور وفکر کے بعد فرمایا میں تمہارے ان شاغوں سے قطعی بیزار ہوں اور مجھے تمہاری دینی ومذہبی تقریبات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ واضح رہے کہ فنظر نظرۃ فی النجوم محاورہ ہے جس کے معنے سوچنے اور غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ عام طور پر آدمی سوچتے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھاتا ہے اور انی سقیم کے معنے یہ ہیں کہ…
Read the full tafseer →(88) پھرابراہیم نے تاروں کو ایک نگاہ بھر کر دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
ف 4۔ صاف دل کا مطلب یہ کہ سوء عقائد دریا وغیرہ سے پاک تھا، جس کا حاصل توحید خالص و اخلاص کامل ہے۔
Read the full tafseer →پس ایک روز اس نے ستارروں کی طرف نگاہ اٹھائی : 88۔ گزشتہ باتیں انہوں نے اپنے والد اور قوم سے صرف ایک بار نہیں کیں بلکہ اکثر موقع بہ موقع ہوتی رہیں کبھی ایک بات ہوتی کبھی دوسری ‘ کبھی اشارہ میں اور کبھی تفصیل کے ساتھ ۔ پھر یہی نہیں کہ آپ کی قوم کے لوگ صرف بتوں اور قبروں ہی کی پرستش کرنے والے تھے نہیں ان میں ستارہ پرست ‘ سورج کی پوجا کرنے والے ‘ چاند کو پوجنے والے سب ہی قسم کے لوگ موجود تھے اور آپ وقتا فوقتا سب ہی کے خلاف تبلیغ کرتے رہتے تھے ، اس دفعہ جب انہوں نے اپنی قوم اور والد کو مخاطب کرکے بات کی تو ان کی دلچسپیوں کا ذکر کرنے کے بعد اور ان سے سوال کرنے کے بعد پھر رب العالمین کو آپ لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
In verses 88 and 89, it was said: نَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ. (Then, he cast a look at the stars, and then said, "I feel indisposed" 37:88-89). There is a background to these verses. The people of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) used to have a festival on a particular day. When that day came, they invited Sayyidna Ibrahim to go with them and enjoy the festival. Their purpose was that if he accompanies them in the festival, he might be impressed with them and forget about calling them to his faith. (ad-Durr-ul-Manthur, Ibn Jarir and others). But, Sayyidna Ibrahim…
Read the full tafseer →47 The reference is to a particular incident the details of which have been given in Surah Al-Anbiya': 71-73 and Al-`Ankabut: 16-27 above. 48 Ibn Abi Hatim has cited a saying of the famous commentator Qatadah, an immediate follower of the Companions, to the effect that the Arabic idiomatic expression, cast a glance at the stars," means that he pondered deeply, or that he started thinking seriously. 'Allama Ibn Kathir has preferred this same view, and this is also supported by the common observation: when a person is confronted by a problem that needs serious consideration, he looks upward or…
Read the full tafseer →