Explained with ayahs 83–87
اب بھی سنبھل جاؤ۔
ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
سورة الصّٰٓفّٰت 43
یعنی آج دنیا میں حضرت نوح ؑ کی برائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ طوفان نوح کے بعد سے آج تک ہزار ہا برس سے دنیا ان کا ذکر خیر کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور نوح ؑ کے طریقہ والوں میں سے (یعنی ان لوگوں میں سے جو اصولی عقائد میں نوح ؑ کے ساتھ متفق تھے) ابراہیم بھی تھے (ان کا وہ واقعہ یاد رکھنے کے قابل ہے) جب کہ وہ اپنے رب کی طرف صاف دل سے متوجہ ہوئے (صاف دل کا مطلب یہ کہ ان کا دل بد عقیدگی اور دکھلاوے کے جذبہ سے پاک تھا) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو ؟ کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا (معبود بنانا) چاہتے ہو تو تمہارا رب العالمین کے ساتھ کیا خیال ہے، (یعنی تم نے جو اس کی عبادت ترک کر رکھی ہے تو کیا اس کے معبود ہونے میں کوئی شبہ ہے ؟ یعنی اول تو ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
وان من شیعتہ الابراہیم (83)
حضرت ابراہیم اور ان کی دعوت
حضرت نوح ؑ کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر نبی و رسول حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔ ان کی نسبت فرمایا کہ یہ بھی انہی کے زمرہ اور گروہ میں سے ہیں۔ جو دعوت خلق کو انہوں نے دی وہی دعوت انہوں نے بھی دی اور اللہ کی راہ میں جس ایمان و احسان کا مظاہرہ انہوں نے کیا اسی صدق و اخلاص کا مظاہرہ انہوں نے بھی کیا۔ اوپر آیت 78 میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ نوح کی ملت پر ہم نے پچھلوں میں سے ایک گروہ کو قائم رکھا یہ اسی کے تسلسل کی طرف اشارہ ہے کہ جس ملت کے داعی حضرت نوح تھے اسی ملت کے داعی بن کر حضرت ابراہیم ؑ اٹھے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ تمام انبیاء کی ملت اصلاً ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
83۔ 1 شِیْۃً کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم ؑ بھی اہل دین و اہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح ؑ ہی کی طرح قائم مقام الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
15: حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کا پورا واقعہ سورة ہود : 36 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →وان من شیعتہ ۔۔۔۔۔ ظنکم برب العلمین (83 – 87)
یہ اس قصے کا آغاز ہے اور قصے کے اندر پہلا منظر ہے۔ نوح سے اب ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک آگئے۔ ان دونوں انبیاء کی دعوت ، نظریہ اور منہاج دعوت ایک ہے۔ اگرچہ دونوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے ہیں لیکن دونوں ایک ہی گروہ کے لوگ ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کا دبا ہوا نظام زندگی ایک ہے۔ اور اس زاویہ سے یہ دونوں باہم مربوط ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی سلسلہ سے ہے جس میں وہ باہم شریک ہیں۔
Read the full tafseer →4 انبیاء (علیہم السلام) اصول دین میں سب ایک راہ پر ہیں، اور ہر پچھلا پہلے کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔ اسی لیے براہیم کو نوح (علیہم السلام) کے گروہ سے فرمایا۔ (وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ ) 23 ۔ المؤمنون :52)
Read the full tafseer →آیت 83{ وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِیْمَ } ”اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی تھا۔“
یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی دین حق اور نظریہ توحید کے پیروکار تھے جس پر حضرت نوح علیہ السلام کاربند تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام کی نسل سے تھا۔ اسی طرح قوم عاد اور قوم ثمود بھی سامی النسل تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش شہر اُر میں ہوئی جو موجودہ عراق کے جنوبی علاقے میں اپنے وقت کا مشہور شہر تھا۔ اس شہر کے کھنڈرات دریافت ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →47 شیعہ کا لغوی مفہوم :۔ یہاں لفظ شیعہ استعمال ہوا ہے۔ شیعہ ایسے فرقہ یا پارٹی کو کہتے ہیں جن کے عقائد آپس میں ملتے جلتے ہوں مگر دوسروں سے مختلف ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ توحید اور معاد کے بارے میں سیدنا ابراہیم کے بھی وہی عقائد تھے جو سیدنا نوح کے تھے۔ اور یہ تو واضح سی بات ہے کہ تمام انبیاء کی اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ اور اسی اصولی تعلیم کا نام دین ہے۔
Read the full tafseer →38۔ یعنی انھیں کے خاندان میں سے اور عقائد و اصول میں ان سے متحد۔ اے ممن شایعہ فی الایمان و اصول الشریعۃ (بیضاوی) اے من اھل بیتہ وعلی امتہ ومنھاجہ (کبیر) اے ممن شایعہ علی اصول الدین او شایعہ علی التصلب فی دین اللہ (مدارک) قال ابن عباس ؓ اے من اھل دینہ وقال مجاھد اے علی منھاجہ وسنتہ (قرطبی) (آیت) ” ابرھیم “۔ ذکر بار ہا آچکا اور آپ پر حاشیے بھی گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84
ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →وان من شیعتہ لابراھیم اور (ایمان و اصول دین میں فقط ‘ یا تمام فروع میں ‘ یا اکثر فروع میں بھی) بلاشک و شبہ ابراہیم ‘ نوح کی پیروی کرنے والوں میں سے تھے۔
حضرت نوح سے دو ہزار چھ سو چالیس سال کے بعد حضرت ابراہیم ہوئے۔ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم کے درمیان حضرت ہود اور حضرت صالح پیغمبر ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
(80۔ 83) ہم مخلصین کو اچھی تعریف اور نجات کے ذریعے سے ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔
پھر ہم نے ان کے علاوہ دوسرے طریقے کے لوگوں کو ہلاک کردیا اور نوح کے طریقہ والوں میں سے یا یہ کہ رسول اکرم کے طریقہ والوں میں سے ابراہیم بھی تھے کیونکہ ابراہیم، نوح کے طریقہ اور ان کے اصول پر تھے اور رسول اکرم ابراہیم کے اصول پر اور ان کے طریقہ پر تھے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ : ”شِیْعَۃٌ“ ”شَاعَ یَشِیْعُ شِیَاعًا“ (ض) سے مشتق ہے، جس کا معنی ساتھ دینا ہے، ایسی جماعت جو کسی کا ساتھ دے۔ یعنی نوح ؑ کا ساتھ دینے والے گروہ میں سے ابراہیم ؑ بھی ہیں، کیونکہ وہ بھی توحید، آخرت اور دین کی تمام بنیادی چیزوں کے متعلق وہی عقائد و اعمال رکھتے تھے جو نوح ؑ کے تھے، بلکہ تمام انبیاء کا اصل دین ایک ہی ہے جس کا نام اسلام ہے اور سب کی امتیں ایک امت ہیں جس کا نام امت مسلمہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ) [ المؤمنون : 52 ] ”اور بیشک یہ تمہاری امت ہے، جو ایک ہی امت ہے اور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–90
83 ۔ 90:۔ حضرت ابن عباس رضی للہ عنہما نے کہا : من شیعتہ سے مراد ہے ان کے دین والے (1) مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے طریقہ اور سنت پر ہیں (2) ۔ اصمعی نے کہا : شیعہ سے مراد حمایتی و مددگار ہیں (3) ۔ یہ شیاع سے ماخوذ ہے اس سے مراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں جو بڑی کے ساتھ جلائی جاتی ہیں تاکہ آگ روشن ہو۔
کلبی اور فراء نے کہا : معنی ہے حضرت محمد ﷺ کے اعوان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں (4) ۔ شیعتہ میں ضمیر سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ پہلی تعبیر کی صورت میں ضمیر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں یہ تعبیر زیادہ نمایاں ہے کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہی پہلے ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔
اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں :
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ [اور بیشک ان کے گروہ میں سے ] لَاِبْرٰهِيْمَ [ہی ابراہیم (علیہ السلام) ہیں ] ۔
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بتوں کو توڑ دینا پھر آگ میں ڈالا جانا اور صحیح سالم محفوظ رہ جانا
یہاں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے، ارشاد فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا اتباع کرنے والوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے۔
اتباع کا مطلب کیا ہے ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان دونوں کی شریعتوں میں اصول دین میں تو اتفاق تھا ہی احکام میں بھی اکثر اتفاق تھا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ تابع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت کے کام میں بہت محنت کی اور تکلیفیں برداشت کیں اسی طرح حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔
نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
36:۔ وان من الخ : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نہایت ہی مطیع اور فرمانبردار بندے تھے۔ ان پر زندگی میں ایک نہایت ہی کٹھن وقت آیا۔ جب وقت کے بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈالدیا۔ اس نازک وقت میں انہوں نے اللہ ہی کے سامنے عاجزی کی۔ اور اللہ ہی سے اس مصیبت سے نجات کی دعا کی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور آگ کو ان پر سرد کردیا اس لیے وہ بھی خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ من شیعتہ یعنی وہ اصول دین میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمنوا اور تابع تھے۔ قال ابن عباس ای من اھل دینہ (قرطبی ج 15 ص 91) ای ممن شایع نوحا و تابعہ فی اصول الدین (روح ج 23 ص 99)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–98
نوح (علیہ السلام) کی دعا
سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِيْمَ 83ۘ
شيع
الشِّيَاعُ : الانتشار والتّقوية . يقال : شاع الخبر، أي : كثر وقوي، وشَاعَ القوم : انتشروا وکثروا، وشَيَّعْتُ النّار بالحطب : قوّيتها، والشِّيعَةُ : من يتقوّى بهم الإنسان وينتشرون عنه، ومنه قيل للشّجاع : مَشِيعٌ ، يقال : شِيعَةٌ وشِيَعٌ وأَشْيَاعٌ ، قال تعالی: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ
[ الصافات/ 83] ، هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ، وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] ، فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] ، وقال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] .
( ش ی ع ) الشیاع
کے معنی منتشر ہونے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْ شَیْعَتِہٖ لَاِبْرٰھِیْمَ ۔ (الصآفات : 83)
(اور بیشک اسی کی جماعت میں سے ابراہیم بھی تھا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کے قافلہ حق کے ایک سالار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں
اس سے پہلے آیت 78 میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے طریقے کو بعد کے آنے والوں میں بھی باقی رکھا۔ پیش نظر آیت کریمہ اس کی دلیل ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک جلیل القدر شخصیت گزرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے دور کا امام بنایا۔ اور آج دنیا میں تمام قابل ذکر مذاہب ان کو اپنا بزرگ مانتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں کہا گیا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد کئی پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ ان میں سب سے نمایاں ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت گرامی ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی دعوت کے ساتھ مبعوث کیے گئے جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار انبیاء کرام دیا کرتے تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف یوں کروایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اسی مقدس جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ جن کا تعلق حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ہے۔ حضرت ابراہیم کو جب بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم دیا یا کسی آزمائش میں ڈالا تو وہ دل وجان سے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں خراج…
Read the full tafseer →ابراہیم ( علیہ السلام) نوح ( علیہ السلام) میں 2640 سال کا فاصلہ :
83: وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰھِیْمَ (اور نوح کے طریقہ والوں میں ابراہیم بھی تھے) ہٖ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی ان میں سے جنہوں نے اصول دین میں نوح (علیہ السلام) کی مشایعت کی یا اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھامنے اور تکذیب پر صبر و ضبط میں ان کے طریقہ پر چلنے والے ابراہیم تھے۔ ان کے اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان 2640 سال کا عرصہ ہے۔ اور درمیانے عرصہ میں صرف ہود اور صالح (علیہما السلام) دو پیغمبر ہوئے۔
Read the full tafseer →83، وان من شیعتہ، اس سے مراد اہل دین وملت اور طریقہ ہے۔ ، لابراھیم ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–95
83۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83
یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
55 نیکوکاروں کے لیے جزائے خیر کے قانون عام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو "۔ کہ دنیا میں بھی ان کی فریاد رسی اور حاجت روائی و مشکل کشائی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کو بےمثال اور لازوال نعمتوں سے نوازتے ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ مُحْسِنِیْ عِبَادِکَ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا مَنْ لاَّحَدَّ لِکَرَمِہ وَلا نِہَایَۃَ لِمَنِّہِ وَاِحْسَانہٖ ۔ بہرکیف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے اس ارشاد سے واضح فرما دیا کہ ہمارا یہ معاملہ صرف حضرت نوح ہی سے خاص نہیں بلکہ تمام نیکوکاروں کیلئے عام ہے۔ اس سے پہلے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–102
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113:
اسرار و معارف :
یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
ف 9 اپنے مالک کے پاس آنے سے مراد ہر طرف سے منہ موڑ کر اس کی طرف متوجہ ہونا ہے اور پاک دل سے مراد ایسا دل ہے جو شرک، کفر، بدعت شکوک و شبہات اور ہر قسم کے اعتقادی یا عملی خرابی سے پاک ہو۔
Read the full tafseer →(37:83) شیعتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا گروہ ۔ اس کا فرقہ۔ شیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینے کے ہیں۔ مثلاً شاع الخبر۔ خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی اور شاع القوم قوم منتشر اور زیادہ ہوگئی۔ الشیعۃ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے اردگرد پھیلے رہتے ہیں۔ یہاں آیت ہذا کا مطلب ہے :۔
کہ انہی (یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) ) کے پیروکاروں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے شیعہ کا اطلاق واحد، تثنیہ ، جمع، مذکر، مؤنث سب پر ہوتا ہے۔ اس کی جمع شیع اور اشیاع ہے۔
لابراہیم۔ لام تحقیق کے لئے ہے بمعنی بےشک۔ بلا شبہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے)
تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا قصہ مختصر طور پر بیان فرمایا، سورة الانبیاء میں اس قصہ کی زیادہ تفصیل گزرچکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے ابراہیم نے اپنے باپ آزر اور قوم کے لوگوں کے روبرو بت پرستی کی مذمت بیان کی جب ان لوگوں پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا تو ابراہیم نے دبی ہوئی آواز میں قسم کھائی کہ کبھی موقع پاکر میں ان بتوں کا پوراعلاج کروں گا سال بھر میں ایک میلہ بستی کے باہرہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جاتے تھے اور میلہ میں جاتے وقت کچھ کھاناپکاکربت خانہ میں رکھ دیتے تھے اور میلہ میں پلٹ کر جب آیا کرتے تھے وہ کھانا کھالیتے تھے اس قصے کے سال جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–87
[15] چناچہ ملائکہ اور مومنین ان پر سلام بھیجتے ہیں اور وہ نوح (علیہ السلام) کہہ کر یاد کئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
ف 1: کس طرح ہم نے اس (نوح) کو جو اس کے وابستگان کو نجات دی اور انکی اولاد کو باقی رکھا اور کیونکر آنے والی نسلوں میں نوح (علیہ السلام) کے لئے تعریف اور ستائش کا تذکرہ چھوڑا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح پر سل امتی ہے اور وہ فلاح ومحوذ سے بہرہ ور ہے ہم اسی طرح پاکبازوں سے حسن سلوک روا رکھتے ہیں ہماری یہ سنت ہے کہ اپنے مومن بندوں کو شرف التفات سے محروم نہیں رکھتے ۔ نوح (علیہ السلام) کے مخالفین چونکہ عناد ودشمنی میں حد سے تجاوز کرچکے تھے اس لئے ہم نے ان کو غرق کردیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کا نام ونشان مٹا دیا ۔
میں بیزار ہوں
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →(83) اورنوح کے طریقے پر چلنے والوں میں سے ابراہیم بھی تھا۔ یعنی جس طرح تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام عقائد دینیہ کے اصول میں ایک دوسرے کے موافق ہوتے ہیں اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی عقائد میں انہی عقائد کے پابند تھے جو عقائد حضرت نوح (علیہ السلام) کے تھے یعنی توحید، بعثت قیامت وغیرہ میں وہی خیالات حضرت ابراہیم کے بھی تھے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت نوح کے درمیان حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہم السلام) دومشہور پیغمبر گزرے ہیں حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے مابین کہتے ہیں کہ دو ہزار چھ سو چھیالیس برس کا زمانہ گزرا ہے۔ (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ف 3۔ یعنی اور کسی کی نسل نہیں چلی۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) بھی نوح (علیہ السلام) کے گروہ ہی میں سے تھے :
83۔ وہ لوگ جو نوحعلیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے ان سب کو پیش نظر رکھ کر بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق اہل اور اولاد دونوں حیثیتوں سے نوح (علیہ السلام) سے خاص تھا اس لیے نوح (علیہ السلام) کے بعد نبوت و رسالت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے لازم قرار پائی تھی اور اس جگہ ذریت کو بااہل ہر حال میں تعلق نسل نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ضروری تھا اسی لیے زیر نظر آیت نے یہ بات واضح کردی اور زیر نظر آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق نوح (علیہ السلام) کے ساتھ حسب ونسب کے لحاظ سے…
Read the full tafseer →Commentary
After having related the event concerning Sayyidna Nuh (علیہ السلام) the Qur'an mentions two events from the blessed life of Sayyidna Ibrahim ill. Both events highlight the great sacrifices Sayyidna Ibrahim offered for the sake of Allah alone. Out of these, the first event mentioned in the verses cited above relates to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) being thrown into the fire. Its details have already appeared in Surah Al-Anbiya' (21: 51-70). Yet, the way it has been described at this place, it needs some explanatory notes that appear below.
The word: شِيعَتِهِ (shi'ah) in verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
43 That is there is none in the world today, who would talk coil of the Prophet Noah. After the Flood till today the world has been praising and speaking well of him for thousands of years.
Read the full tafseer →