ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۟ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then We drowned the disbelievers.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۟ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then We drowned the disbelievers.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کر دیا
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو پانی میں غرق کردیا۔
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا،
پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔
پھر ہم نے باقی لوگوں کو غرق کردیا۔
پھر ہم نے اوروں کو غرق کردیا۔
پھر ہم نے غرق کردیا باقی سب کو
پھر ہم نے غرق کردیا اوروں کو۔
پھر ہم نے غرق کردیا باقی سب کو۔
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
Thereafter We caused the others to be drowned.
Then, we drowned others.
Then, we drowned others.
Then We drowned the others.
Then We did drown the others.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then We drowned the disbelievers.
We drowned all the others (besides Noah and his people).
Then We drowned the others
Then We drowned the others.
Then the rest we overwhelmed in the Flood.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 75–82
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
سورة الصّٰٓفّٰت 43 یعنی آج دنیا میں حضرت نوح ؑ کی برائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ طوفان نوح کے بعد سے آج تک ہزار ہا برس سے دنیا ان کا ذکر خیر کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ ، سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ (اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح ؑ پر سلام ہو عالم والوں میں) اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے ان کی نظر میں حضرت نوح ؑ کو ایسا معزز و مکرم بنادیا کہ وہ قیامت تک حضرت نوح ؑ کے لئے سلامتی کی دعا کرتے رہیں گے چناچہ واقعہ بھی یہی ہے کہ تمام وہ مذاہب جو اپنے آپ کو آسمانی کتابوں سے منسوب کرتے ہیں سب کے سب حضرت نوح ؑ کی نبوت اور تقدس کے قائل ہیں، مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور نصرانی بھی آپ ﷺ کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
سلم علی نوح فی العلمین انا کذلک نجزی المحسنین انہ من عباد نا الامومنین ثم اغرقنا الاخرین (82-78) یہ حضرت نوح ؑ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت و سلامتی کی بشارت ہے کہ اس دنیا میں جو مقام اس کو حاصل ہوا وہ اس سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ تمام خلق میں یہ بازی اسی نے جیتی۔ خوب کاربندوں کے لئے اباری بشارت انا کذلک … الایۃ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ یہ معاملہ صرف حضرت نوح ؑ ہی کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خوب کار بندوں کے ساتھ ہمیشہ یہی معاملہ کیا ہے اور آئندہ بھی وہ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ یہی کرے گا۔ یہ فضیلت کسی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
83۔ 1 شِیْۃً کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم ؑ بھی اہل دین و اہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح ؑ ہی کی طرح قائم مقام الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
15: حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کا پورا واقعہ سورة ہود : 36 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →ثم اغرقنا الاخرین (37: 82) ” پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کردیا “۔ لہٰذا انسانیت کے آغاز ہی سے سنت الہیہ یہی رہی ہے جس طرح ان قصص کے آغاز میں کہا گیا۔ ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ المخلصین (37: 72 – 74) ” اور ان میں ہم نے تنبیہہ کرنے والے رسول بھیجے تھے۔ اب دیکھ لو کہ ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا ہے “۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کا قصہ آتا ہے۔ اس قصے کی دو کڑیاں یہاں لائی گئی ہیں۔ پہلی کڑی میں آپ اپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ بتوں کو توڑتے ہیں ، لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے حکم سے ان کے لیے آگ ٹھنڈی ہوجاتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
3 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ…
Read the full tafseer →آیت 82{ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ } ”پھر ہم نے غرق کردیا باقی سب کو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
46 یعنی رہتی دنیا تک سیدنا نوح کا نام بھلائی سے لیا جاتا رہے گا۔ چناچہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی قومیں آباد ہیں۔ سب اپنا سلسلہ نسب سیدنا نوح سے ملاتی اور اس میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ نیز اکثر اقوام انہیں اپنا مذہبی قائد تسلیم کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایران کے مجوسی اور صابی بھی انہیں اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
37۔ یعنی دوسرے کیش اور مذہب والوں کو، مشرکوں کو۔ اے المغابرین لنوح واھلہ وھم کفارقومہ اجمعین (روح) (آیت) ” ثم “۔ یہاں تراخی ذکر ہی کے لئے ہے۔ ورنہ آسمانی اعتبار سے (آیت) ” جعلنا زریتہ ھم البقین “۔ اور (آیت) ” اغرقنا الاخرین “۔ دونوں فعلوں کا وقوع ساتھ ہی ساتھ ہوا تھا۔ (آیت) ” انا ..... المحسنین “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ تشبیہ تمام امور میں ہے۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ محسنین کو جزائے حسن دیا کرتے ہیں، اب جس مرتبہ کا احسان، اس مرتبہ کی جزاء بس انبیاء میں تساوی لازم نہیں آتی (تھانوی (رح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →ثم اغرقنا الاخرین پھر اوروں کو ہم نے ڈبو دیا۔ یعنی نیکوکاروں کے علاوہ انکی قوم کے دوسرے لوگوں کو ہم نے غرق کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
(80۔ 83) ہم مخلصین کو اچھی تعریف اور نجات کے ذریعے سے ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔ پھر ہم نے ان کے علاوہ دوسرے طریقے کے لوگوں کو ہلاک کردیا اور نوح کے طریقہ والوں میں سے یا یہ کہ رسول اکرم کے طریقہ والوں میں سے ابراہیم بھی تھے کیونکہ ابراہیم، نوح کے طریقہ اور ان کے اصول پر تھے اور رسول اکرم ابراہیم کے اصول پر اور ان کے طریقہ پر تھے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ : پھر نوح ؑ کو ملنے والی جزا میں سے ایک بہت بڑی جزا یہ ہے کہ ہم نے انھیں اور ان کے اہل کو نجات دی اور دوسرے تمام لوگوں کو غرق کردیا جو ان پر ایمان نہیں لائے اور انھیں عمر بھر ستاتے رہے، کیونکہ دشمنوں سے انتقام کے ساتھ دل اور آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
75 ۔ 82:۔ یہاں ندا سے مراد استغاثہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے دعا کی اور یوں عرض کی : رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ ) نوح ( ہم کتنے ہی اچھے دعا قبول کرنے والے تھے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے فلنعم المجیبون لہ کنا ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی نجات دی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا چکے تھے جس طرح پہلے گذر چکا ہے ان کی تعداد اسی تھی۔ الکرب العظیم۔ سے مراد غرق ہونا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی سے باہر نکلے تو جو مرد اور عورتیں آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَغْرَقْنَا [پھر ہم نے غرق کیا ] الْاٰخَرِيْنَ [دوسروں کو ] ۔
Read the full tafseer →(ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ) (پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو غرق کردیا) یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) ، آپ کے اہل و عیال اور اہل ایمان کو نجات دے دی اور ان کے علاوہ کو غرق کردیا۔ کیا طوفان نوح سارے عالم کو محیط تھا ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) کو آدمی ثانی کہا جاتا ہے اور یہ بات مشہور ہے کہ ان کے بعد دنیا میں جو آبادی ہوئی وہ سب ان ہی کی اولاد سے ہے قرآن مجید کی آیت (وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ ) سے بھی یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ یہ الفاظ حصر پر دلالت کرتے ہیں۔ حضرت سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ ) کی تفسیر میں (حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قصہ اول نوح (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون۔۔۔ الی۔۔۔ ثم اغرقنا الاخرین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں توحید اور جنت اور جہنم کا مضمون بیان فرمایا اور پھر اس کے ختم پر یہ فرمایا۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب آگے چند پیغمبروں کے واقعات ذکر فرماتے ہیں جن سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد مخلصین کو اور ان کے پیروؤں کو دنیا کے عذاب سے بچا لیا اسی طرح وہ ان کو آخرت میں عذاب سے بچا لے گا اس سلسلہ میں سات قصے ذکر کئے سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اور البتہ تحقیق نوح جو ہمارے عباد مخلصین میں سے تھا جب وہ اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
36:۔ وان من الخ : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نہایت ہی مطیع اور فرمانبردار بندے تھے۔ ان پر زندگی میں ایک نہایت ہی کٹھن وقت آیا۔ جب وقت کے بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈالدیا۔ اس نازک وقت میں انہوں نے اللہ ہی کے سامنے عاجزی کی۔ اور اللہ ہی سے اس مصیبت سے نجات کی دعا کی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور آگ کو ان پر سرد کردیا اس لیے وہ بھی خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ من شیعتہ یعنی وہ اصول دین میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمنوا اور تابع تھے۔ قال ابن عباس ای من اھل دینہ (قرطبی ج 15 ص 91) ای ممن شایع نوحا و تابعہ فی اصول الدین (روح ج 23 ص 99)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–98
نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ 82 غرق الغَرَقُ : الرّسوب في الماء وفي البلاء، وغَرِقَ فلان يَغْرَقُ غَرَقاً ، وأَغْرَقَهُ. قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–101
تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
سَلٰمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 79 تا 82) (اور سلامتی ہے نوح پر دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے صاحب ایمان بندوں میں سے تھا۔ پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے دنیا ہی میں اظہارِتحسین اس سے بڑے اعزاز کی بات اور کیا ہوگی کہ دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے تحسین و آفرین اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت و سلامتی کی بشارت دی گئی ہے۔ اور بشارت بھی ایسی کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں مخلص بندوں کا انجام ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) بھی شامل ہیں لہٰذا ان کا واقعہ سماعت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ مگر لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کی انہیں دنیا کے عذاب سے بچا لیا گیا اور آخرت میں وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان مخلصین میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقائے کرام سر فہرست ہیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے یکسر…
Read the full tafseer →82: ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ (پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو ڈبو دیا) یعنی کفار کو۔
Read the full tafseer →82، ثم اغرقنا الا خرین، اس سے کفار مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
75۔ 82۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جس طرح قریش اللہ کے رسول کی نصیحت نہیں مانتے اور شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریش سے پہلے بھی بہت قومیں بہک چکی ہیں۔ اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کے نہ ماننے وہ قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ اب اس آیت سے آخر سورة تک اس ارشاد کی تائید میں حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل حضرت موسیٰ حضرت ہارون حضرت الیاس ‘ حضرت لوط حضرت یونس کے سات قصے ذکر فرمائے۔ ان میں سے یہ پہلا قصہ حضرت نوح سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کا ہے مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ جب ان لوگوں نے حضرت نوح کی نصیحت کو نہ مانا۔ اس وقت حضرت نوح نے اکتا کر رب انی مغلوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
آیت 75 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول حضرت نوح کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ لوگ اس دعوت سے دور بھگاتے رہے۔ تب حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارتے وہئے دعا کی : (آیت) ” اے میرے رب ! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ “ اور فرمایا (آیت) ” اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فلنعم المجیبون) ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ وزاری کو سنتے ہیں اور خب جواب دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
55 نیکوکاروں کے لیے جزائے خیر کے قانون عام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو "۔ کہ دنیا میں بھی ان کی فریاد رسی اور حاجت روائی و مشکل کشائی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کو بےمثال اور لازوال نعمتوں سے نوازتے ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ مُحْسِنِیْ عِبَادِکَ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا مَنْ لاَّحَدَّ لِکَرَمِہ وَلا نِہَایَۃَ لِمَنِّہِ وَاِحْسَانہٖ ۔ بہرکیف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے اس ارشاد سے واضح فرما دیا کہ ہمارا یہ معاملہ صرف حضرت نوح ہی سے خاص نہیں بلکہ تمام نیکوکاروں کیلئے عام ہے۔ اس سے پہلے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ ٔ خیر اور ان کی قوم کا انجام تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا مکمل قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے یہاں ہلکا سا ذکر کیا جاتا ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہ مانے تو سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” میں مغلوب ہوں میری مدد کیجیے ـ“ ( سورة قمر) تو اللہ نے ان کی دعا سنی۔ پوری قوم طوفان میں غرق ہوگئی سوائے آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے۔ آپ کو آپ کی اطاعت گزاری کا انعام دنیا میں یہ دیا کہ آنے والی سب نسلیں آپ کا نام عزت و احترام سے لیتی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ تمام مسلمان، یہودی اور نصرانی سب آپ کو اپنا پیشوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
ف 9 اپنے مالک کے پاس آنے سے مراد ہر طرف سے منہ موڑ کر اس کی طرف متوجہ ہونا ہے اور پاک دل سے مراد ایسا دل ہے جو شرک، کفر، بدعت شکوک و شبہات اور ہر قسم کے اعتقادی یا عملی خرابی سے پاک ہو۔
Read the full tafseer →(37:82) ثم اغرقنا الاخرین ۔ اس جملہ کا عطف نجینہ (آیۃ 76) پر ہے ثم تراخی الذکر کے لئے ہے الاخرین اخر کی جمع۔ بمعنی دوسرے ۔ یعنی حضرت نوح اور ان کے پیروئون کو ہم نے نجات دی (ڈوبنے سے بچا لیا) پھر اور ون کو ہم نے ڈبو دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
لغات القرآن (آیت نمبر 75 تا 82) نادی (اس نے پکارا) نعم ( بہترین) مجیبون (قبول کرنے والے) کرب (مصیبت، مشکل) المحسینین (نیک کام کرنے والے) اغرقنا (ہم نے ڈبو دیا ، غرق کردیا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 :۔ ان آیات سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ اور ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تھا ۔ جن لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا اور اس پر پورے خلوص سے چلے تو اللہ نے ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا دیا لیکن جن بد نصیبوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی ان کی نہ صرف دنیا اجاڑدی گئی بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ساڑھے نوسوسال سمجھایارونصیحت کرتے رہے مگر ان کی شرارت اور ایذارسانی برابر بڑھتی رہی آخر حضرت نوح نے مجبورہوکر یہ دعامانگی ، یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا اس لیے ان سے ایسابدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے ، طوفان کے بعد، سام ، حام اور یافث نوح کے تین بیٹے جو طوفان سے نچے ان کی نسل سے تمام دنیا چلی پھر فرمایا کہ رہتی دنیاتک نوح کا ذکر خیرلوگوں میں باقی چھوڑا، چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں نوح (علیہ السلام) کہہ کریاد کیے جاتے ہیں، پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–87
[15] چناچہ ملائکہ اور مومنین ان پر سلام بھیجتے ہیں اور وہ نوح (علیہ السلام) کہہ کر یاد کئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
ف 1: کس طرح ہم نے اس (نوح) کو جو اس کے وابستگان کو نجات دی اور انکی اولاد کو باقی رکھا اور کیونکر آنے والی نسلوں میں نوح (علیہ السلام) کے لئے تعریف اور ستائش کا تذکرہ چھوڑا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح پر سل امتی ہے اور وہ فلاح ومحوذ سے بہرہ ور ہے ہم اسی طرح پاکبازوں سے حسن سلوک روا رکھتے ہیں ہماری یہ سنت ہے کہ اپنے مومن بندوں کو شرف التفات سے محروم نہیں رکھتے ۔ نوح (علیہ السلام) کے مخالفین چونکہ عناد ودشمنی میں حد سے تجاوز کرچکے تھے اس لئے ہم نے ان کو غرق کردیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کا نام ونشان مٹا دیا ۔ میں بیزار ہوں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →(82) پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو ڈبو دیا اور غرق کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ف 3۔ یعنی اور کسی کی نسل نہیں چلی۔
Read the full tafseer →پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا ان لوگوں کو باقی رکھ لیا : 82۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بچے جن کو نوح (علیہ السلام) نے کشتی پر سوار کیا اور وہ کشتی پر سوار ہوگئے خواہ وہ اہل اولاد میں شامل تھے اور خواہ وہ صرف اہل ہی میں شامل تھے اولاد نہیں تھے کیونکہ حسب ونسب کے ساتھ جو تعلق اولاد کا ہے وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہے اور فرمانبرداری میں جو تعلق اہل وآل کو ہے وہ اولاد کو بھی حاصل نہیں ہے اور یاد رہے کہ اہل ہونے کے لیے اولاد ہونا ضروری نہیں ، نوح (علیہ السلام) کے حالات اور نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت عروۃ الوثقی جلد چہارم ص 577 میں ملاحظہ کریں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
In verses 78 and 79, it was said: وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ (And We left for him (a word of praise) among the later people, (that is): Salam be on Nuh (علیہ السلام) among [ the people on all the worlds.). It means that, in the sight of those who were born after Sayyidna Nuh (علیہ السلام) he was made so revered that they would continue praying for his peace and well-being right through the last day of the Qiyamah. As such, this is how it actually happened. All religions with attribution to Divine Scriptures subscribe to the mission of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
43 That is there is none in the world today, who would talk coil of the Prophet Noah. After the Flood till today the world has been praising and speaking well of him for thousands of years.
Read the full tafseer →