Explained with ayahs 62–70
زقوم اور طوبی۔
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 34
زَقّوم ایک قسم کا درخت ہے جو تہامہ کے علاقے میں ہوتا ہے۔ مزہ اس کا تلخ ہوتا ہے، بو ناگوار ہوتی ہے، اور توڑنے پر اس میں سے دودھ کا سا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ غالباً یہ وہی چیز ہے جسے ہمارے ملک میں تھوہر کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(عذاب اور ثواب دونوں کا موازنہ کر کے اب اہل ایمان کو ترغیب اور کفار کو ترہیب فرماتے ہیں کہ بتلاؤ) بھلا یہ دعوت (جنت کی نعمتوں کی) بہتر ہے (جو اہل ایمان کے لئے ہے) یا زقوم کا درخت (جو کفار کے لئے ہے) ہم نے اس درخت کو (آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان) ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے (کہ اس کو سن کر تصدیق کرتے ہیں، یا تکذیب و استہزاء کرتے ہیں، چناچہ کفار تکذیب و استہزاء سے پیش آئے، کہنے لگے کہ زقوم تو مسکہ اور خرما کو کہتے ہیں، وہ تو خوب لذیذ چیز ہے۔ اور کہنے لگے کہ زقوم اگر درخت ہے تو دوزخ میں جو آگ ہی آگ ہے درخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ) وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ان ھذا لھوا لغور العظیم، بمثل ھذا فلیعمل الغلمون (61-60)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بات پر استدراک ہے کہ اصل کامیابی یہ ہے جو اللہ کے ان بندوں کو حاصل ہوگی جو آخرت کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاریں گے تو جس کو بازی کھیلنی ہو اس کے لئے بازی کھیلے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رات دن دنیا کے عشق ہی میں سرگرم ہیں اگر انہوں نے کوئی کامیابی حاصل بھی کرلی تو کتنے دنوں کے لئے بالآخر مرنا اور ایک دن دزاء و سزا کے لئے خدا کے حضور پیش ہونا ہے تو اس حیات چند روزہ کی خاطر اپنی تمام مساعی برباد کرنے کے بجائے ابدی کامیابی کے لئے کمر ہمت کیوں نہ باندھیں !
(آیت)
اہل دوزخ کا حشر
اہل جنت کے بعد اب یہ اہل دوزخ کے…
Read the full tafseer →62۔ 1 زَ قوْم تَزَقْم سے نکلا ہے، جس کے معنی بدبودار اور کر یہ چیز کے نکلنے کے ہیں۔ اس درخت کا پھل بھی کھانا اہل جہنم کے کے لئے سخت ناگوار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–62
9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
یہاں فریق مخالف کے انجام کا منظر بھی دے دیا جاتا ہے جو قیامت اور حشرو نشر کا منکر تھا تا کہ اہل جنت کے اچھے ، دائمی ، پرامن اور ہمہ گیر عیش اور اچھے انجام کی اہمیت اور اجاگر ہوجائے اہل جہنم کا انجام یہ ہوگا۔
اذٰلک خیر۔۔۔۔۔ الی الجحیم (62-68) ” ۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے ۔ اس کے شگونے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے ، پھر اس پر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا غیرخالص پانی ملے گا اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہوگی “۔
یہ قائم اور دائم نعمتیں بہتر ہیں اور جنت بہتریں جائے قیام ہے ۔ یازقوم کا درخت بطور خوراک اور جہنم جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
5 اوپر بہشتیوں کی مہمانی کا ذکر تھا۔ یہاں سے دوزخیوں کی مہمانی کا حال سناتے ہیں۔ " زقوم " کسی درخت کا نام ہے جو سخت کڑوا، بدذائقہ ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے یہاں تھوہر، یا سیہنڈ، دوزخ کے اندر حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک درخت اگایا ہے اس کو یہاں " شجرۃ الزقوم " سے موسوم کیا۔ وہ ایک بلا ہے ظالموں کے واسطے آخرت میں۔ کیونکہ جب دوزخ والے بھوک سے بیقرار ہوں گے تو یہ ہی کھانے کو دیا جائے گا اور اس کا حلق سے اتارنا یا اترنے کے بعد ایک خاص اثر پیدا کرنا سخت تکلیف دہ اور مستقل عذاب ہوگا اور دنیا میں بھی ایک طرح کی بلا اور آزمائش ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر سن کر گمراہ ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ سبز درخت دوزخ کی…
Read the full tafseer →آیت 62{ اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّوْمِ۔ ”بھلا مہمانی کے طور پر یہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت ؟“
جنت کی مذکورہ نعمتوں کے مقابلے میں اہل جہنم کی ابتدائی مہمان نوازی زقوم تھوہر کے درخت سے کی جائے گی۔ اس ابتدائی مہمان نوازی کی نوعیت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد اہل جہنم کو کن حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اب اختیار انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو جنت کی دائمی نعمتوں کے حصول کو اپنا ہدف بنا لے یا جہنم اور اس کے خوفناک عذابوں کے ساتھ اپنی عاقبت کو وابستہ کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
36 ایسی مہمانی سے مراد اہل جنت کی مہمانی ہے۔ جیسا کہ سابقہ آیات میں ان کی لذیذ خوراک، صاف اور پاکیزہ مشروب اور نہایت خوبصورت عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کفار مکہ سے پوچھا یہ جارہا ہے کہ آیا اہل جنت کی ایسی مہمانی بہتر ہے یا اہل دوزخ کی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
37 اہل جنت کی خوراک لذید پھل تھے اور اہل دوزخ کی خوراک تھوہر کا درخت ہوگا، جس کے پتے چوڑے اور خاردار ہوتے ہیں۔ بوناگوار اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور اس میں سے جو سفید قسم کا سیال مادہ یا دودھ نکلتا ہے وہ اگر انسان کے جسم پر لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
28۔ (آیت) ” الزقوم “۔ ایک درخت ہے جو عرب میں اپنی تلخی کے لئے مشہور تھا۔ فارسی میں اسے حنظل اور اردو میں تھوہڑ کہتے ہیں۔ دوزخ میں آگ سے پیدا ہوگا، اور کسی طرح بھی انسانی غذا کے قابل نہ ہوگا۔ یوں بھی زہریلا اور تلخ ہوتا ہے، اور پھر دوزخ کے زقوم کا کہنا ہی کیا۔ مجازا ہر زہریلی اور بدمزہ چیز کو کہہ سکتے ہیں۔ قال ثعلب الزقوم کل طعام یقتل (تاج) عبارۃ عن اطعمۃ کریھۃ فی النار (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84
ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →اذلک خیر نزلا ام شجرۃ الزقوم یہ (یعنی اہل جنت کی راحت و نعمت) بہتر دعوت ہے یا زقوم کا درخت ؟
شجرۂ زقوم دوزخیوں کا کھانا ہے۔ زقوم ایک نہایت بدبودار ‘ بدمزہ ‘ مکروہ شکل کا درخت ہوگا۔ دوزخیوں کو مجبور کر کے کھلایا جائے گا ‘ انتہائی کراہت کے باوجود وہ زقوم کھانے پر مجبور ہوں گے۔ عربی محاورہ ہے : تَزَقَّمَ الطَّعَام بڑی ناگواری اور دشواری کے ساتھ اس نے کھانا کھایا۔ نُزُلْ وہ چیز جو مہمان کے آتے ہی اس کے سامنے لائی جاتی ہے (ابتدائی پیشکش) اس لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورۂ بالا نعمتیں تو اہل جنت کو ابتدائی پیشکش کے طور پر دی جائیں گی ‘ اس کے بعد کیا کیا عطا کیا جائے گا ‘ اس کو سمجھنے سے عقل قاصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
(62۔ 69) پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ایسی ہی کامیابی حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کرنے والوں کو نیک اعمال میں پیش قدمی کرنی چاہیے اور خرچ کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور کوشش کرنے والوں کو علم و عبادت میں کوشش کرنی چاہیے۔
بھلا یہ بتاؤ کہ اہل جنت کی جو نعمتیں بیان کی گئیں جو مومنین کے لیے تیار کی گئی ہیں وہ بہتر ہیں یا زقوم کا درخت جو کفار کے لیے ہے ہم نے اس درخت کو ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے ایک امتحان بنایا ہے جو کہتے ہیں زقوم کھجور اور مکھن ہے۔
وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی گہرائی میں سے نکلتا ہے اس کے پھل ایسے ہیں جیسے سانپ کے پھن ایسے خطرناک قسم کے سانپ یمن کی طرف ہوتے…
Read the full tafseer →اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ : ”نُّزُلًا“ کھانے پینے کی چیزیں اور آرام کی جگہ جو مہمان کے آنے کے وقت کے لیے تیار کی جائیں۔ ”الزَّقُّوْمِ“ اسی سے ”تَزَقُّمٌ“ ہے، جس کا معنی کسی ناگوار چیز کو نہایت مشکل سے نگلنا ہے۔ اس درخت کا دنیا میں وجود نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں پیدا فرمائے گا۔ صرف لفظی مشابہت کی حد تک ایک زہریلا پودا ہے جو ”زقوم“ کہلاتا ہے، جس کا دودھ جسم کو لگ جائے تو جسم سوج جاتا ہے اور آدمی مرجاتا ہے۔ صحرا کے قریب کی خشک زمینوں میں پایا جاتا ہے۔ (الوسیط) اہل جنت کے لیے ”رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ 41ۙفَوَاكِهُ ۚ وَهُمْ مُّكْـرَمُوْنَ 42ۙفِيْ جَنّٰتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
62 ۔ 68:۔ اذلک خیر یہ مبتدا اور خبر ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : نزلا اس کا بیان ہے اس کا معنی ہے کیا جنت کی نعمتیں بہتر ہیں ضیافتیں ہیں یا زقوم کا درخت بہترین ضیافت ہے ؟ نزل لغت میں اس رزق کو کہتے ہیں جس میں وسعت ہو۔ نحاس نے کہا : اسی طرح النزل اور نزل ہے مگر یہ بھی جائز ہے کہ نزل بھی اس کی ایک لغت ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ اصل میں یہ نزل ہو اس سے یہ جملہ ہو قیم للقوم نزلھم قوم کے لئے ان کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس کا اشتقاق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ وہ غذا ہے جو اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ وہ پڑائو کرتے اور اس ہی میں مقیم رہتے۔ سورة آل عمران کے آخر میں یہ گذر چکا ہے۔ شجرۃ الزقیوم یہ تزقم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زقوم کے درخت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ سے ظالم لوگوں نے بڑا فتنہ کھڑا کردیا۔ ابوجہل نے کہا تمہارا ساتھی (یعنی محمد ﷺ یہ گمان کرتا ہے کہ آگ میں ایک درخت ہوگا جبکہ آگ درخت کو کھا جاتی ہے اور اللہ کی قسم ! ہم جانتے ہیں زقوم کو کہ وہ کھجور اور مکھن ہے تو تم بھی زقوم سے لطف اندوز ہو جب انہوں نے تعجب کیا کہ آگ میں درخت ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم “ (کہ وہ درخت نکلے گا جہنم کی جڑ میں سے) یعنی اس کو آگ سے غذا دی جائے گی اور آگ سے ہی اس کو پیدا کیا جائے…
Read the full tafseer →اَذٰلِكَ خَيْرٌ [کیا یہ بہتر ہے ] نُّزُلًا [بطور ابتدائی مہمان نوازی کے ] اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ [یا تھوہر کا درخت ] ۔
ز ق م
(ن) زقما لقمہ نگلنا۔ تھوہر کھانا۔
زقوم تھوہر کا درخت۔ دوزخ کے ایک درخت کا نام۔ زیر مطالعہ آیت۔ 62 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
شجرۃ الزقوم کا تذکرہ جسے اہل جہنم کھائیں گے
اوپر اہل جنت کی نعمتوں کا اور وہاں کی کامیابیوں کا تذکرہ فرمایا ہے، اور ان آیتوں میں اہل دوزخ کے کھانے کی چیزوں میں سے ایک چیز یعنی زقوم کا تذکرہ فرمایا، اہل جنت کے بارے میں فرمایا (اُولٰٓءِکَ لَھُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمُ ) اور یہاں یوں فرمایا (اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُزُلًا اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّومِ ) (کیا اہل جنت کا رزق بہتر ہے جو بطور مہمانی ان کو دیا جائے گا یا زقوم کا درخت بہتر ہے) زقوم کا درخت بہت ہی زیادہ بدمزہ اور کڑوا ہوگا جو دوزخ کی گہرائی میں سے نکلے گا، اس کے پھل ایسے ہوں گے جیسے سانپوں کے پھن ہوں۔ اس میں درخت کی بدصورتی بیان فرمائی، مزہ بھی بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔
گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔
امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔
1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
29:۔ اذلک خیر الخ :۔ یہ بشارت و تخویف اخروی ہے۔ اذلک خیر نزلا، بشارت اور ام شجرۃ الزقوم تا ثم ان مرجعہم لا الی الجحیم تخویف اخروی ہے۔ ذلک سے نعیم جنت کی طرف اشارہ ہے جو اس سے قبل اولئک لہم رزق معلوم (الایات) میں مذکور ہیں۔ و ھو متعلق بقولہ تعالیٰ (اولئک لہم رزق معلوم) (روح ج 23 ص 94) ۔ المعنی نعیم الجنۃ خیر نزلا (قرطبی ج 15 ص 85) ۔ شجرۃ الزقوم، یہ نہایت ہی خبیث اور زہر قاتل درخت جہنم میں دوزخیوں کی خوراک ہوگا۔ یہ درخت دنیا کے درخت تھوہر کے مشابہ ہوگا۔ فتنۃ، عذاب، آتش دوزخ کے علاوہ اس درخت کے کھانے سے بھی دوزخی سخت اذیت اور عذاب محسوس کریں گے، یہ درخت جہنم کی تہ میں پیدا ہوگا، اس درخت کے شگوفے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
توحید کے بیان کے بعد جزائے عمل کے سلسلے میں اللہ نے اپنے مخلص بندوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جنت میں ملنے والے انعامات کی ایک جھلک پیش کی۔ اللہ نے ان کے سکون و راحت ، ان کی بیویوں اور ان کے عزت کے مقام کا ذکر کیا۔ اس عیش و آرام کی زندگی میں انہیں دنیا کے اپنے بعض ساتھیوں کی یاد بھی آئے گی اور وہ انہیں جہنم میں پا کر ان سے بات چیت کریں گے۔ انعامال الٰہیہ کا شکر ادا کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی تمہارے ساتھ جہنم میں ہوتے۔ اللہ کی رحمت سے ہم نے ایمان قبول کیا اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہزوئے تو اللہ نے ہمیں راحت کے اس مقام تک پہنچایا ، جہاں ہم ہمیشہ کی زندگی…
Read the full tafseer →اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّوْمِ 62
خير
الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه :
الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ،
( خ ی ر ) الخیر
۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–62
الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔
فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…
Read the full tafseer →اَذٰلِکَ خَیْرٌنُّزُلاً اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّوْمِ ۔ (الصآفات : 62)
(کیا مہمانی کے طور پر وہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت۔ )
اہلِ جنت کو جنت میں جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جن ضیافتوں اور نعمتوں سے نوازا جائے گا اس کا ذکر کرنے کے بعد مخالفین سے پوچھا جارہا ہے کہ آخرت تو بہرحال آنی ہے تمہیں ازسرنو زندہ ہو کر اٹھنا ہے اور زندگی بھر کے اعمال کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کرنی ہے۔ اس جواب دہی کے نتیجہ میں دو میں سے ایک نتیجے کا سامنا لازمی ہے۔ کامیابی کی صورت میں جنت کی نعمتیں میسر آئیں گی اور ناکامی کی صورت میں جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ اور جہنم میں جس مہمانی سے اہل جہنم کو واسطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی نعمتوں اور عیش و عشرت کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی بدترین خوراک۔
جنتیوں کی تکریم و تعظیم اور اس کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم کی بدترین خوراک بتلا کر استفسار فرمایا ہے کہ بتاؤ ! جنت کے انواع و اقسام کے کھانے اور پھل بہتر ہیں یا کہ تھوہر کا درخت ؟ جسے اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے یہ درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے۔ جہنمی اس کو کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کو نگلنے کے لیے ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا اور پھر انہیں جہنم کے ایک اور گڑھے کی طرف دھکیلا جائے گا۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کیونکہ…
Read the full tafseer →62: اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُّزُلًا (بھلا یہ دعوت و مہربانی بہتر ہے) نزلاًؔ یہ تمیز ہے یعنی جنت کی نعمتیں اور جو اس میں مشروبات و مطعومات کی لذات وافرہ ہیں یہ بہترین مہربانی ہے۔
اہل نار کی خوراک اور اس کی تفصیل :
اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُوْمِ (یا زقوم کا درخت) وہ بہتر مہربانی ہے ؟ النزلؔ مہمان کیلئے جو مکان پر رزق وغیرہ پیش کیا جائے۔ الزقومؔ تہا مہ میں پیدا ہونے والا ایک کڑوا درخت (تھور)
Read the full tafseer →62، اذالک، جو ہم نے اہل جنت کے لیے ذکر کیا ۔ ، خیر نزلاام شجرۃ الزقوم ، وہ جو اہل دوزخ پر نازل ہوئی ۔
زقوم کسے کہتے ہیں ؟
زقو م ایک بر اور درخت ہے ، کھا نے میں بہت ہی کڑودوزخ والے اس کو کھاتے وقت بہت ناپسندیدہ سمجھیں گے۔ دوزخیوں کو مجبورکرکے کھلایاجائے گا، انتہائی کراہت کے باوجود وہ قوم کھانے پر مجبورہوں گے۔ عربی محاورہ بولا جاتا ہے تزقم الطعام بڑی ناگواری اور دشواری کے ساتھ اس نے کھاناکھایا۔ ، نزل، ایسی چیز جو مہمان کے آتے ہی اس کے سامنے لائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
62۔ 74۔ اوپر جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ کہ یہ جنت کی نعمتیں بہتر ہیں۔ یا دوزخیوں کی خوراک سینڈھ کا درخت بہتر ہے۔ ترمذی 1 ؎ نسانی ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس دوزخ کے سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی اگر زمین پر ٹپک پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ اور اگر دنیا کے دریاؤں میں وہ قطرہ پڑجاوے۔ تو دریاؤں کا پانی بالکل بگڑ جاوے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا افسوس ہے۔ ان لوگوں کے حال پر جن کی خوراک یہ سینڈھ کا پھل ہوگا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ وہ سینڈھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–74
آیت 74
(اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…
Read the full tafseer →41 دوزخیوں کی اولین دعوت زقوم کا درخت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور تنبیہ و تحضیض ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا وہ درخت ؟ اور یہ بھی محض اسمی اور لفظی اشتراک ہے۔ کیونکہ دنیا کے اس تھوہر " حنظل " اور آخرت و دوزخ کے اس تھوہر " زقوم " کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ چناچہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اگر اس کا ایک قطرہ بھی دنیا کے سمندروں میں ٹپکا دیا جائے تو وہ ان سب کو اس طرح بگاڑ کر رکھ دے کہ تمام اہل زمین کا جینا دوبھر ہوجائے۔ (اخرجہ الترمذی وغیرہ) ۔ اور جب اس کے ایک قطرے کا یہ حال ہوگا تو پھر ان لوگوں کی شقاوت و بدبختی کا اندازہ کون کرسکتا ہے جن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
برُے لوگوں کی سزا بہتر ہے یا جنت کا انعام
تشریح : ان آیات میں جہنم کے عذاب کو بڑے درد ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ لکیر کا فقیر بن کر اپنی عاقبت اور دنیا خراب نہیں کر لینی چاہیے بلکہ اپنی عقل سے کام لے کر صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ تو اس طرح گمراہی میں پڑے رہے کہ ان کے ماں باپ نے گمراہی میں زندگی گزاری وہ بھی اسی راستے پر چلتے رہے اور کچھ لوگ اس طرح گمراہ رہے کہ پیغمبر کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔ الٹا اس کو ہی الزام دیا برا بھلا کہا اور بعضوں نے تو اپنے پیغمبروں کو قتل تک کردیا۔ تو ایسے لوگوں کا راستہ اختیار کرنا اچھا ہے یا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 7 جس سے دو زخیوں کی ضیافت کی جائے گی۔ جنتیوں کی ضیافت کا ذکر کرنے کے بعد اس کے مقابلے میں یہاں دوزخیوں کی ضیافت کا ذکر کیا گیا۔
Read the full tafseer →(37:62) ذلک۔ جنت کی نعمتیں۔ ان کی فراوانی، وہاں ہمیشہ ہمیشہ کا قیام، ابدی زندگی۔ ہر قسم کے عذاب سے خلاصی اور جملہ نعتیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ آیات 41:49) میں۔
نزلا۔ بطور مہمانی، مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت، ذلک کی تمیز ہے ۔ یعنی نعمتیں جنتیوں کو بطور ضیافت ملیں گی ! النزل (طعام مہمانی) جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جائے (راغب) نزل۔ وہ چیز جو مہمان کے آتے ہی اس کے سامنے لائی جاتی ہے (ابتدائی پیش کش) ۔ اس لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ بالا نعمتیں تو اہل جنت کو ابتدائی پیشکش کے طور پر دی جائیں گی۔ اس کے بعد کیا کیا عطا ہوگا اس کو سمجھنے سے عقل قاصر ہے۔ (تفسیر مظہری) ۔
الزقوم۔ ایک درخت جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–74
لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا)
تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
اہل دوزخ کی خوراک۔
(ف 1) اوپر بہشتوں کی مہمانی کا ذکر تھا ان آیتوں میں دوزخیوں کی مہمانی کا ذکر ہے کہ جنت کی نعمتیں بہترین یا دوزخیوں کی خوراک زقوم بہتر ہے زقوم ایک درخت کا نام ہے جو سخت کڑوا اور بدذائقہ ہوتا ہے ودزخ کی اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے یہ درخت لگایا ہے جس کو یہاں زقوم کے درخت سے موسوم کیا ہے۔
Read the full tafseer →[13] زقوم ایک درخت ہے جو عرب میں اپنی تلخی کے لئے مشہور تھا۔ فارسی میں اسے حنظل اور اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ یہ دوزخ میں آگ سے پیدا ہوگا اور کسی طرح بھی انسانی غذا کے قابل نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
جنت کی زندگی
1: جنت کی جن نعمتوں کا تذکرہ گذشتہ آیتوں میں ہوا ہے ۔ یہ ان انعامات کے مقابلہ میں جو ہونے والے ہیں وہ تو ایسی پاکیزہ کامل اور پر سعادت زندگی ہے کہ اس کی صحیح صحیح کیفیت سے اس دنیا میں واقف ہونا ناممکن ہے ۔ محلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قوۃ اعین ۔ یہ محض سمجھانے کے لئے لفائذ کے بعض پہلو ایسے بیان فرمادیئے ہیں جن سے ہم اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ کرسکتے ہیں ۔ اور سمجھ سکتے ہیں ۔ کہ جب ادنیٰ ضروریات حیات کو اللہ تعالیٰ نے اس حسن وخوب کے ساتھ پورا کیا ہے تو وہ روحانی حاجات زندگی جو کہیں بیش قیمت ہیں ۔ باحسن وجوہ پوری کی جائیں گی ۔ جب کھانے پہننے اور اٹھنے بیٹھنے کا یہ اہتمام ہے تو پھر…
Read the full tafseer →(62) بھلا یہ نعمتیں بطور مہمانی کے بہتر ہیں یا درخت زقوم کا یعنی سینڈھ یا تھور کا درخت۔ یعنی اوپر اہل جنت کی مہمان نوازی کا ذکر تھا اب اہل جہنم سے اس کا موازنہ فرماتے ہیں آگے زقوم کے درخت کی تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
ف 3۔ یعنی ایمان لانا اور اطاعت کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →بھلا یہ مہمانی بہتر ہے یا زقوم کا درخت جو مجرموں کی غذا ہے :
62۔ آخرت کے آرام و آسائش کی کہانی بیان کرنے کے بعد پوچھا جا رہا ہے کہ جس مذکورہ مہمانی کا ذکر کیا گیا ہے کیا وہ مہمانی بہتر ہے یا وہ کھانا جو دوزخیوں کو پیش کیا جائے گا اور جس کھانے کو ” تھوہر “ کہا گیا ہے ۔ (الزقوم) کیا ہے ؟ بنجر زمین میں اگنے والا ایک پودا ہے جس کی شکل و صورت بھی بہت کریہہ ہے اور نہایت ہی بدمزہ اور کڑوا بھی ہے کہ گلے سے اتارنا اس کا نہایت مشکل ہوجاتا ہے اطباء اس کو بعض امراض میں دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن بعض زبانوں میں گھی اور گھجور کو ملا کر ایک مرکب تیار کرتے ہیں اور اس مرکب کو بھی زقوم ہی کے نام سے…
Read the full tafseer →Commentary
After having described the conditions prevailing in Jahannam and Jannah briefly, Allah Ta’ ala has invited every human being to compare and decide as to which of the two conditions is better. It was said: أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ that is, 'there are these blessings of Jannah mentioned here - are they better? Or, is it the tree of Zaqqum the fruits of which will be fed to the people of Jahannam?
The reality of Zaqqum
A tree by the name of Zaqqum is found in the territory of Tihamah, a part of the Arabian Peninsula, and ` Allamah ` Alusi has written that…
Read the full tafseer →34 Zaqqum is a tree of the cactus species found in Tihamah. It is bitter in taste, obnoxious in smell and sheds a milk like juice when cut or broken.
Read the full tafseer →