Explained with ayahs 50–61
محسن مقروض۔
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
سورة الصّٰٓفّٰت 33
انداز کلام صاف بتارہا ہے کہ اپنے اس دوزخی یار سے کلام کرتے کرتے یکایک یہ جنتی شخص اپنے آپ سے کلام کرنے لگتا ہے اور یہ تین فقرے اس کی زبان سے اس طرح ادا ہوتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے آپ کو ہر توقع اور ہر اندازے سے برتر حالت میں پا کر انتہائی حیرت واستعجاب اور وفور مسرت کے ساتھ آپ ہی آپ بول رہا ہو۔ اس طرح کے کلام میں کوئی خاص شخص مخاطب نہیں ہوتا، اور نہ اس کلام میں جو سوالات آدمی کرتا ہے ان سے درحقیقت کوئی بات کسی سے پوچھنا مقصود ہوتا ہے۔ بلکہ اس میں آدمی کے اپنے ہی احساسات کا اظہار اس کی زبان سے ہونے لگتا ہے۔ وہ جنتی شخص اس دوزخی سے کلام کرتے کرتے یکایک یہ محسوس کرتا ہے کہ…
Read the full tafseer →موت کے خاتمہ پر تعجب
یہاں جس شخص کا یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کافر ساتھی کو دیکھنے کے لئے جہنم میں جھانکے گا، اسی کے بارے میں آگے یہ مذکور ہے کہ وہ جنت کی نعمتوں کو حاصل کر کے فرط مسرت سے یہ کہے گا ”کیا اب ہم کبھی نہیں مریں گے“ ؟ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ جنت کی جادوائی زندگی کا یقین نہیں ہوگا، بلکہ جس شخص کو مسرتوں کا انتہائی درجہ حاصل ہوجائے وہ بسا اوقات ایسی باتیں کرتا ہے، جیسے اسے یقین نہیں ہے کہ یہ مسرتیں اسے حاصل ہوگئی ہیں، یہ جملے بھی اسی نوعیت کے ہیں۔
آخر میں قرآن کریم اس واقعہ کے اصل سبق کی طرف متوجہ کر کے فرماتا ہے، لیمثل ھذا فلیعمل العملون (ایسی ہی کامیابی کے لئے عمل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ان ھذا لھوا لغور العظیم، بمثل ھذا فلیعمل الغلمون (61-60)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بات پر استدراک ہے کہ اصل کامیابی یہ ہے جو اللہ کے ان بندوں کو حاصل ہوگی جو آخرت کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاریں گے تو جس کو بازی کھیلنی ہو اس کے لئے بازی کھیلے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رات دن دنیا کے عشق ہی میں سرگرم ہیں اگر انہوں نے کوئی کامیابی حاصل بھی کرلی تو کتنے دنوں کے لئے بالآخر مرنا اور ایک دن دزاء و سزا کے لئے خدا کے حضور پیش ہونا ہے تو اس حیات چند روزہ کی خاطر اپنی تمام مساعی برباد کرنے کے بجائے ابدی کامیابی کے لئے کمر ہمت کیوں نہ باندھیں !
(آیت)
اہل دوزخ کا حشر
اہل جنت کے بعد اب یہ اہل دوزخ کے…
Read the full tafseer →61۔ 1 یعنی اس جیسی نعمت اور اس جیسے فضل عظیم ہی کے لئے محنت کرنے والوں کو محنت کرنی چاہئے، اس لئے کہ یہی سب نفع بخش تجارت ہے۔ نہ کہ دنیا کے لئے جو عارضی ہے، اور خسارے کا سودا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–62
9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
ان ھذا۔۔۔۔۔ العٰملون (60-61) ” ۔ “۔
اس قسم کے اچھے انجام کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے جو دائمی ہے ۔ جس کی ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جس کے بعد کوئی موت نہیں ہے ۔ جس کے بعد کسی عذاب اور سڑا کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ یہ انجام ہے جس کی فکر ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ جا کچھ بھی اس زمین پر ہے اور جس کے لیے اہل زمین عمریں کھپا دیتے ہیں وہ ہیچ ہے ۔ اس اخروی انجام کے مقابلے میں جو وائمی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
4 اس وقت فرط مسرت سے کہے گا کہ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اس پہلی موت کے سوا جو دنیا میں آچکی اب ہم کو کبھی مرنا نہیں اور نہ کبھی اس عیش و بہار سے نکل کر تکلیف و عذاب کی طرف جانا ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل و رحمت سے اسی تنعم و رفاہیت میں ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک بڑی بھاری کامیابی اسی کو کہتے ہیں اور یہ ہی وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کی تحصیل کے لیے چاہیے کہ ہر طرح کی محنتیں اور قربانیاں گوارا کی جائیں۔
Read the full tafseer →آیت 61{ لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ”ایسی ہی چیز کے لیے عمل کرنا چاہیے عمل کرنے والوں کو !“
ایسی ہی کامیابی کو ہدف بنا کر ہر کسی کو دنیا میں محنت اور بھاگ دوڑ کرنی چاہیے۔ بھاگ دوڑ تو سب ہی کرتے ہیں مگر اکثر و بیشتر سب کے پیش نظر دنیا اور اس کا مال و متاع ہے۔ ہر کوئی اسی کے حصول کے لیے رات دن سرگرداں ہے اور اپنا خون پسینہ ایک کر رہا ہے الا ما شاء اللہ۔ لیکن غور کیا جائے تو چار دن کا یہ عیش و آرام حاصل کرلینا کوئی بہت بڑی کامیابی تو نہیں ‘ اور اس قسم کا عارضی ہدف کوئی قابل ذکر ہدف بھی نہیں۔ بہر حال انسان کا وقت اور خون پسینہ اتنی ارزاں چیز نہیں کہ اسے عارضی اور وقتی کامیابی کے لیے…
Read the full tafseer →35 افضل اعمال کونسے ہیں ؟ درج ذیل دو احادیث میں ان اعمال کا ذکر ہے جنہیں رسول اللہ نے افضل الا عمال بتایا ہے :
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپ سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا صحابہ نے پوچھا : پھر کونسا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا پھر پوچھا : اس کے بعد کون سا ؟ فرمایا : حج مبرور (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب من قال ان الایمان ھوالعمل)
2۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا : اللہ تعالیٰ کو کون سا کام سب سے زیادہ پسند ہے ؟ فرمایا : نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا میں نے پوچھا پھر کون سا کام ؟ فرمایا : ماں باپ سے اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
28۔ (آیت) ” الزقوم “۔ ایک درخت ہے جو عرب میں اپنی تلخی کے لئے مشہور تھا۔ فارسی میں اسے حنظل اور اردو میں تھوہڑ کہتے ہیں۔ دوزخ میں آگ سے پیدا ہوگا، اور کسی طرح بھی انسانی غذا کے قابل نہ ہوگا۔ یوں بھی زہریلا اور تلخ ہوتا ہے، اور پھر دوزخ کے زقوم کا کہنا ہی کیا۔ مجازا ہر زہریلی اور بدمزہ چیز کو کہہ سکتے ہیں۔ قال ثعلب الزقوم کل طعام یقتل (تاج) عبارۃ عن اطعمۃ کریھۃ فی النار (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84
ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →لمثل ھذا فلیعمل العاملون ایسے ہی (مقام یا راحت و نعمت) کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے۔ یعنی دنیوی منافع کے حصول کیلئے کوشش بیکار ہے۔ اول تو دنیوی کامیابی دکھوں سے بھری ہوئی ہے ‘ پھر فنا پذیر بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
(62۔ 69) پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ایسی ہی کامیابی حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کرنے والوں کو نیک اعمال میں پیش قدمی کرنی چاہیے اور خرچ کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور کوشش کرنے والوں کو علم و عبادت میں کوشش کرنی چاہیے۔
بھلا یہ بتاؤ کہ اہل جنت کی جو نعمتیں بیان کی گئیں جو مومنین کے لیے تیار کی گئی ہیں وہ بہتر ہیں یا زقوم کا درخت جو کفار کے لیے ہے ہم نے اس درخت کو ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے ایک امتحان بنایا ہے جو کہتے ہیں زقوم کھجور اور مکھن ہے۔
وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی گہرائی میں سے نکلتا ہے اس کے پھل ایسے ہیں جیسے سانپ کے پھن ایسے خطرناک قسم کے سانپ یمن کی طرف ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : یہ دونوں آیات اس مومن کا بقیہ کلام بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی کہ ”عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ“ (اللہ کے خالص کیے ہوئے بندوں) کو حاصل ہونے والا یہ ”رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ“ (مقرر رزق) ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایسے ہی خوش کن انجام کو حاصل کرنے کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
وہ آپس میں گفتگو شروع کردیں گے جو دنیا میں ہوا کرتی تھی۔ یہ جنت میں ان کی حددرجہ انس کا اظہار ہے اس کا عطف یطاف علیھم کے معنی پر ہے معنی یہ بنے گا وہ پئیں گے اور شراب پر باہم گفتگو کریں گے جس طرح شراب نوشوں کی عادت ہوا کرتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا :
وما بقیت من اللذات الا احادیث الکرام علی المدام (1)
لوگوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ کریم لوگ شراب پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔
یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جو اچھی یا بری صورتحال گذری ہوگی اس کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے مگر اسے ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا خبر دیتے وقت معمول ہے۔
ایک جنتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) یعنی جنت والے۔
2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی کان لی قرین “ (میرا ایک ساتھی تھا) یعنی شیطان۔
جنت کی خریداری کا عجیب واقعہ :
3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کا کل مال آٹھ ہزار دینار تھا۔ جو انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا ان میں سے ایک نے ایک ہزار…
Read the full tafseer →لِــمِثْلِ ھٰذَا [اس کی جیسی کے لئے ] فَلْيَعْمَلِ [چاہے کہ عمل کریں ] الْعٰمِلُوْنَ [عمل کرنے والے ] ۔
Read the full tafseer →(لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ ) (اسی جیسی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے) یعنی ایمان لائیں اور اعمال صالحہ کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔
گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔
امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔
1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
29:۔ اذلک خیر الخ :۔ یہ بشارت و تخویف اخروی ہے۔ اذلک خیر نزلا، بشارت اور ام شجرۃ الزقوم تا ثم ان مرجعہم لا الی الجحیم تخویف اخروی ہے۔ ذلک سے نعیم جنت کی طرف اشارہ ہے جو اس سے قبل اولئک لہم رزق معلوم (الایات) میں مذکور ہیں۔ و ھو متعلق بقولہ تعالیٰ (اولئک لہم رزق معلوم) (روح ج 23 ص 94) ۔ المعنی نعیم الجنۃ خیر نزلا (قرطبی ج 15 ص 85) ۔ شجرۃ الزقوم، یہ نہایت ہی خبیث اور زہر قاتل درخت جہنم میں دوزخیوں کی خوراک ہوگا۔ یہ درخت دنیا کے درخت تھوہر کے مشابہ ہوگا۔ فتنۃ، عذاب، آتش دوزخ کے علاوہ اس درخت کے کھانے سے بھی دوزخی سخت اذیت اور عذاب محسوس کریں گے، یہ درخت جہنم کی تہ میں پیدا ہوگا، اس درخت کے شگوفے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–61
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…
Read the full tafseer →لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–62
الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔
فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ۔ (الصآفات : 60، 61)
(یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے کوشش کرنے والوں کو کوشش کرنی چاہیے۔ )
جنت کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے
ہم جس منزل پر پہنچ گئے ہیں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس سے بڑی کسی اور کامیابی کا تصور انسان کے لیے ممکن نہیں۔ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ ، وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ” پس جونارِ جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا پس وہ ٹھہرا کامیاب۔ “ دنیا میں رات دن کھوئے رہنا کوئی بڑی کامیابی نہیں، اصل کامیابی جنت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
فہم القرآن
ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔
جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے…
Read the full tafseer →61: لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ (ایسی ہی کامیابی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے)
ایک قول :
یہ ہے یہ اسی مومن کا کلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
60، ان ھذالھوالفوز العظیم، وہ کہیں گے کہ ان پر اللہ کی نعمت ہے کہ نہ ان کو موت آئے گی اور نہ ہی ان کو عذاب دیا جائے گا۔ بعض نے کہا کہ یہ مؤمن کا قول ہے کہ یہ بطور تو بیخ کے کلمہ کہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
51۔ 61۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر 2 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–74
آیت 74
(اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…
Read the full tafseer →40 مسلمان کے لیے مسابقے کا اصل میدان آخرت کی کامیابی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسلمان کے لیے مسابقے کا اصل میدان آخرت کی کامیابی ہے۔ اس لیے اس سے آخرت کی کامیابی ہی کو اصل مقصد بنانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسی ہی کامیابی کیلئے کام کرنا چاہیئے کام کرنے والوں کو "۔ نہ کہ دنیا کی ان کامیابیوں کے لئے جو کہ بہرحال عارضی فانی اور ناقص ہیں۔ بلکہ وہ آخرت کی اس کامیابی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے اصل کوشش اور محنت آخرت کی اس حقیقی ابدی اور دائمی کامیابی ہی کیلئے کرنی چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو انسان کو اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–61
ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ
تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 7 جس سے دو زخیوں کی ضیافت کی جائے گی۔ جنتیوں کی ضیافت کا ذکر کرنے کے بعد اس کے مقابلے میں یہاں دوزخیوں کی ضیافت کا ذکر کیا گیا۔
Read the full tafseer →(37:61) لمثل ھذا فلیعمل العاملون۔ ایسی ہی کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ یہ بھی القائل کے کلام کا تمتہ ہوسکتا ہے یا یہ اللہ کا کلام ہوسکتا ہے بہر حال یہاں القائل اور اس کے قرین (ساتھی) کا قصہ ختم ہوا۔ لمثل جار مجرور کو حصر کے لئے متقدم لایا گیا ہے ” ایسی ہی کامیابی کے لئے “۔ لیعمل۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب : چاہیے کہ وہ عمل کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–74
لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا)
تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بہشتی لوگ ایک دوسر سے پوچھتے وقت متوجہ ہوں گے کہ میاں دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا، اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص ، مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نوزندہ کردیں، بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین رکھتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو وہ ہم نشین ضرور دوزخ میں پڑا ہوگا اور آؤ ذراجھانک کردیکھیں کس حال میں ہے پھر جو دیکھا کہ بیچ دوزخ کی آگ میں پڑا ہے یہ حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
[12] یہاں سے آیت 59 کے آخر تک یہ سب کچھ جوش مسرت میں اس جنتی کی زبان پر آجائے گا اور اس کی حالت اس شخص کی طرح ہوگی جو اپنے آپ کو ہر توقع اور ہر اندازے سے برتر حالت میں پاکر انتہائی حیرت واستعجاب اور فرط مسرت کے ساتھ آپ ہی آپ بول رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے…
Read the full tafseer →(61) ایسی ہی کامیابی حاصل کرنے کے لئے عمل کرنے والوں کو چاہیے کہ عمل کریں۔ یہ کلام یا تو حضرت حق تعالیٰ کا ہے کہ اولئک لھم رزق معلوم سے جو نعمتیں بیان کی گئیں یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور انہی نعمتوں کے حصول کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ یا یہ کلام اسی جنتی کا ہے جس نے اپنے اہل مجلس سے کہا دونوں قول تفسیر میں منقول ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
ف 3۔ یعنی ایمان لانا اور اطاعت کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →ایسی ہی کامیابی کے لیے محنت کرنے والوں کو محنت کرنا چاہئے :
61۔ دنیوی کامیابیوں کو حاصل کرنے سے اللہ رب العزت نے منع نہیں فرمایا بلکہ اخروی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے بھی دنیوی کامیابیاں ہی انسان کو مدد دیتی ہیں تو وہ آخرت کو سنوارنے کی محنت کرسکتا ہے بلکہ اللہ رب کریم نے تو انسان کو جو خاص دعا سکھائی ہے اس میں بھی یہ سکھایا ہے کہ (آیت) ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار) ” اے ہمارے ہادی ! دنیوی زندگی کو بھی سنوار دے اور آخرت کی زندگی کو بھی اور ہمیں عذاب آگ سے نجات عطا فرما ۔ “ تاہم دنیا کی کامیابی ایک عارضی کامیابی ہے جس کو (فوز عظیم) نہیں کہا جاسکتا اور حقیقی اور…
Read the full tafseer →Wondering about not having to die anymore
When the man who has been mentioned here will peep into Jahannam to have a look at his disbelieving acquaintance, it has been mentioned that the same man will be so delighted with the blessings of Jannah that he will exclaim: "Is it that we do not have to die anymore?" It does not mean that he will not be certain of the eternal life of Jannah. Instead, it is like the case of a person who achieves the highest degree of happiness. Such a person would occasionally break into exclamations that show as if he does not believe his eyes on having received…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
33 The style clearly shows that while speaking to his friend in Hell, the dweller of Paradise suddenly starts talking to himself. He speaks these three sentences in a way as if he found himself in a state much better than that he ever expected and imagined for himself, and now being beside himself with wonder and joy he is engaged in a sort of soliloquy. In such a state the speaker does not speak to an addressee, nor the questions he asks are meant to find out something from somebody, but in this state the man's own feelings fmd expression through his tongue. The dweller of Paradise, while…
Read the full tafseer →