As-Saaffaat 37:58

As-Saaffaat · from ayah 58

37:58

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ۟ۙاَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِيۡنَۙ

کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then, are we not to die

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:58

اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(پھر وہ خوشی کے عالم میں اپنے جنتی ساتھیوں سے کہے گا) اچھا تو کیا اب ہمیں موت نہیں آئے گی ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا ہمیں مرنا نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو (جنّتی خوشی سے پوچھیں گے:) کیا اب ہم مریں گے تو نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا ہم کبھی مرنے والے نہیں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(پھر وہ خوشی سے اپنے دل میں کہے گا) کیا اب تو ہمیں موت نہیں آئے گی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(پھر وہ جنتی اپنی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ایک کیف کے عالم میں کہے گا کہ) کیا واقعی اب ہمیں موت نہیں آئے گی

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا اب ہمیں مرنا تو نہیں !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا یہ نہیں کہ آئندہ ہم کبھی مریں گے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Then the speaker will address other people of Paradise in delight and wonder, saying,) :Are we not then to die anymore

— Muhammad Taqi Usmani

(Then the speaker will address other people of Paradise in delight and wonder, saying,) :Are we not then to die anymore

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Are we then not to die (any more)"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, are we not to die

— Saheeh International

He will ask his companion, "Did you not say that there would only be one death

— Muhammad Sarwar

Is it then that we are not going to die,

— Muhammad Habib Shakir

Are we not then to die

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–61

محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة الصّٰٓفّٰت 32 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخرت میں انسان کی سماعت اور بینائی اور گویائی کس پیمانے کی ہوگی۔ جنت میں بیٹھا ہوا ایک آدمی جب چاہتا ہے کسی ٹیلی ویژن کے آلے کے بغیر بس یونہی جھک کر ایک ایسے شخص کو دیکھ لیتا ہے جو اس سے نہ معلوم کتنے ہزار میل کے فاصلے پر جہنم میں مبتلائے عذاب ہے۔ پھر یہی نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، بلکہ ان کے درمیان کسی ٹیلی فون یا ریڈیو کے توسط کے بغیر براہ راست کلام بھی ہوتا ہے۔ وہ اتنے طویل فاصلے سے بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–60

ایک جنتی اور اس کا کافر ملاقاتی ابتدائی دس آیتوں میں اہل جنت کے عمومی حالات بیان فرمانے کے بعد ایک جنتی کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے، کہ وہ جنت کی مجلس میں پہنچنے کے بعد اپنے ایک کافر دوست کو یاد کرے گا جو دنیا میں آخرت کا منکر تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اسے جہنم کے اندر جھانک کر اس سے باتیں کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اس شخص کا کچھ نام و پتہ نہیں بتایا گیا۔ اس لئے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون ہوگا ؟ تاہم بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مومن شخص کا نام یہو واہ اور اس کے کافر ملاقاتی کا نام مطروس ہے۔ اور یہ وہی دو ساتھی ہیں جن کا ذکر سورة کہف کی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

افما نحن بمتیتین … وما نحن بمعذبین اس کا یہ انجام اور اپنی یہ کامیابی دیکھ کر گویا وہ خوشی سے اچھل ڑیں گے اور اپنے ساتھیوں سے کہیں گے، کیا یہ واقعہ ہے کہ اب ہم موت کے پنجے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ اور عذاب کے اندیشہ سے ہمیشہ کے لئے نچنت ہوگئے ! ! مطلب یہ ہے کہ اگر یہ بازی ہم نے جیت لی تو سب سے بڑی بازی جیت لی، اسلوب کلام پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی کامیابی ان کی توقعات سے اتنی زیادہ ہوگی کہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی انہیں اپنے اوپر اعتبار نہیں ہوگا اور وہ اپنے ساتھیوں سے اس کی تصدیق چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

58۔ 1 جہنمیوں کا حشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مذید بیدار ہوجائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں کیا یہ دائمی نہیں ؟ اب ہمیں موت آنے والی نہیں ؟ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹ جائیں، اور نہ ہمیں کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہوجائیں۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں دوزخ اور جنت کے درمیان لا کر ذبح کردیا جائے گا کہ اب موت کسی کو نہیں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–62

9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 58–59

افما نحن ۔۔۔۔ بمعذبین (58-59) ” ؟ “ اب یہاں قرآن ایک تبصرہ لاتا ہے جس کے ذریعے قارئین کو اچھے کاموں میں باہم مسابقت اور اچھے انجام کے لیے جہد مسلسل پر ابھارا جاتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 58–61

4 اس وقت فرط مسرت سے کہے گا کہ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اس پہلی موت کے سوا جو دنیا میں آچکی اب ہم کو کبھی مرنا نہیں اور نہ کبھی اس عیش و بہار سے نکل کر تکلیف و عذاب کی طرف جانا ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل و رحمت سے اسی تنعم و رفاہیت میں ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک بڑی بھاری کامیابی اسی کو کہتے ہیں اور یہ ہی وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کی تحصیل کے لیے چاہیے کہ ہر طرح کی محنتیں اور قربانیاں گوارا کی جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58{ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ } ”تو کیا اب ہمیں مرنا تو نہیں !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 57–59

33 سرگزشت بیان کرنے والا جب دوزخ کی طرف جھانکے گا تو اسے اس کا ساتھی دوزخ کے عین وسط میں پڑا دکھائی دے گا۔ اس وقت وہ اس سے کہے گا : ارے کم بخت ! اگر میں تیری باتوں میں آجاتا تو تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے ڈوبتا اور میرا بھی وہی حشر ہوتا جو تمہارا ہو رہا ہے۔ یہ تو مجھ پر اللہ کی خاص مہربانی ہوئی جو میں تیرے بہکاوے میں نہ آیا اور اس عذاب سے بچ گیا ورنہ تو نے تو مجھے گمراہ کرنے میں کسر نہ چھوڑی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 58–59

(58۔ 59) پھر اس کے بعد ایک منادی کی آواز سنائی دے گی کہ جنتیو موت ذبح کردی گئی اب موت نہیں آئے گی اس کے بعد یہ اپنے یاران جنت سے کہے گا کہ کیا ہم سوائے پہلی بار کے مرچکنے کے کہ دنیا میں مرچکے ہیں اب نہیں مریں گے۔ تو اس کے ساتھی کہیں گے ہاں ایسا نہیں مریں گے پھر منادی کی آواز سنائی دے گی کہ دوزخیو دوزخ پر کردی گئی۔ اب اس میں کوئی اور داخل نہ ہوگا اور نہ اس میں سے نکالا جائے گا تو یہ سن کر خوشی میں کہے گا کیا ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 58–59

اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ : ان آیات کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ ہے کہ وہ مومن یہ بات اپنے اس کافر دوست کو کہے گا جو قیامت کا منکر تھا اور وہ دنیا میں کہا کرتا تھا : (اِنْ هِىَ اِلَّا مَوْتَـتُنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِيْنَ) [ الدخان : 35 ] ”کہ ہماری اس پہلی موت کے سوا کوئی (موت) نہیں اور نہ ہم کبھی دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔“ مومن اسے مخاطب کر کے کہے گا، اب دیکھ لو ! کیا تمہاری وہ بات درست نکلی یا غلط کہ : (اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ 58؀ۙاِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ)”تو کیا ہم کبھی مرنے والے نہیں ہیں، مگر ہماری پہلی موت اور نہ ہم کبھی عذاب دیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–61

وہ آپس میں گفتگو شروع کردیں گے جو دنیا میں ہوا کرتی تھی۔ یہ جنت میں ان کی حددرجہ انس کا اظہار ہے اس کا عطف یطاف علیھم کے معنی پر ہے معنی یہ بنے گا وہ پئیں گے اور شراب پر باہم گفتگو کریں گے جس طرح شراب نوشوں کی عادت ہوا کرتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا : وما بقیت من اللذات الا احادیث الکرام علی المدام (1) لوگوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ کریم لوگ شراب پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جو اچھی یا بری صورتحال گذری ہوگی اس کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے مگر اسے ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا خبر دیتے وقت معمول ہے۔ ایک جنتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–61

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) یعنی جنت والے۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی کان لی قرین “ (میرا ایک ساتھی تھا) یعنی شیطان۔ جنت کی خریداری کا عجیب واقعہ : 3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کا کل مال آٹھ ہزار دینار تھا۔ جو انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا ان میں سے ایک نے ایک ہزار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

(اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ) وہ جنتی شخص جو اپنے ساتھی کو دوزخ میں دیکھے گا اس سے خطاب کرنے کے بعد پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر یوں کہے گا۔ یہی بات ہے ناکہ اب ہم مرنے والے نہیں ہیں، وہ پہلی موت جو دنیا میں آئی تھی اس کے بعد اب اور کوئی موت نہیں، ہمیشہ ہمیں جنت میں رہنا ہے اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا۔ (قال صاحب الروح : والمراد استمرار النفی وتاکیدہ وکذا فیما تقدم و استمرار ھذا النفی نعمۃ جلیلۃ) (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں مراد نفی کا استمرار اور تاکید ہے اور گذشتہ میں بھی یہی مراد ہے اور اس نفی کا استمرار بہت بڑی نعمت ہے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–74

افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔ گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔ امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔ 1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–58

28:۔ افما نحن الخ :۔ یہ بھی اسی جنتی ہی کا قول ہے۔ خطاب بدستور قرین سے ہے یا دیگر یارانِ محفل سے۔ وہ شدت مسرت کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کے فضلِ عمیم اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہے گا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اب ہم پر موت نہیں آئے گی۔ جو موت ہمارے لیے مقدر تھی وہ دنیا میں آچکی اور ہم کفار و مشرکین کی طرح اب عذاب میں بھی مبتلا نہیں ہوں گے۔ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ آدمی عذاب سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے من زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز (آل عمران رکوع 19) ایسی سعادت عطمیٰ اور فلاح کامل کی تحصیل کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہئے، نہ کہ حظوظ و لذات دنیا کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–61

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ۝ 58ۙ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–62

الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–59

فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ۔ یَّـقُوْلُ اَئِنَّـکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ ۔ وَلَوْ لاَ نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الصآفات : 50 تا 59) (پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–61

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔ جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 58–59

جنتی کا حال : 58، 59: اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی (کیا ہم سوائے پہلی مرتبہ مرنے کے اب نہیں مریں گے) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ (اور نہ ہم کو عذاب ہوگا) ۔ فاء عاطفہ ہے۔ اور عطف محذوف پر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ أنحن مخلدون منعّمون فما نحن بمیتین ولا معذبین۔ (کیا ہم ہمیشہ نعمتوں میں رہیں گے ہم نہ مریں گے اور نہ عذاب دیے جائیں گے) ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایمان والوں کا حال ہے وہ یہ کہ پہلی موت صرف ان پر آئے گی۔ مگر کفار کی حالت اس سے مختلف ہوگی اس لئے کہ وہ تو ہر گھڑی میں موت کے متمنی ہونگے۔ قولِ حکیم : موت سے زیادہ بری کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا وہ چیز جس میں موت کی تمنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 57–58

57، ولولا نعمۃ ربی ، میرے رب کی طرف سے رحمت اور انعام نہ ہوتا میں گمراہی نہ بچ سکتا۔ ، لکنت من المحضرین ، تو تیرے ساتھ دوزخ میں ڈال دیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–61

51۔ 61۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر 2 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–74

آیت 74 (اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 57–58

37 ہر نعمت اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم سے : سو اس موقع پر وہ جنتی شخص اپنے اس دوزخی ساتھی اور اس کے حال بد کو دیکھ کر اور سراپا شکر وسپاس بن کر خطاب کر کے کہے گا کہ اللہ کی قسم تو تو قریب تھا کہ مجھے ہلاکت میں ڈال دیتا۔ اور اگر میرے رب کریم کا فضل و کرم مجھ پر نہ ہوتا تو یقینی طور پر میں بھی آج ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کو ہر نعمت نصیب ہوتی اللہ ہی کے فضل وکرم سے ہے۔ پس دین و دنیا کی جو بھی کوئی نعمت کسی انسان کو میسر ہوتی ہے وہ دراصل اللہ پاک ہی کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو اپنی کسی لیاقت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–61

ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–62

ف 7 جس سے دو زخیوں کی ضیافت کی جائے گی۔ جنتیوں کی ضیافت کا ذکر کرنے کے بعد اس کے مقابلے میں یہاں دوزخیوں کی ضیافت کا ذکر کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:58) افما نحن بملیتین۔۔ وما نحن بمعذبین۔ (1) یہ کلام القائل کا ہے جو اپنے ساتھی سے کلام کر کے اپنے جلساء کی طرف متوجہ ہو کر کہتا ہے۔ (2) یہ کلام جملہ متسائلین کا ہے جو باہم گفتگو کر رہے تھے۔ (3) یہ کلام القائل کے کلام کا تتمہ ہے جو وہ اپنے قرین سے کر رہا تھا اور یہ کلمات بطور زجر وتوبیخ کے اس نے کہے۔ افما میں ہمزہ استفہامیہ ہے تقریر کے لئے ہے اور اس میں تعجب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ (تقریر کے معنی مخاطب سے ایسی بات کا اقرار کرانا جو متکلم کے نزدیک مظنون اور مخاطب کے نزدیک ثابت ہو۔ جیسے اضربت زیدا)عطف کے لئے ہے اس کا عطف کلام مقدرہ پر ہے ای انحن مخلدون فما نحن بمیتین کیا ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–74

لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا) تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–61

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بہشتی لوگ ایک دوسر سے پوچھتے وقت متوجہ ہوں گے کہ میاں دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا، اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص ، مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نوزندہ کردیں، بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین رکھتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو وہ ہم نشین ضرور دوزخ میں پڑا ہوگا اور آؤ ذراجھانک کردیکھیں کس حال میں ہے پھر جو دیکھا کہ بیچ دوزخ کی آگ میں پڑا ہے یہ حال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 58–61

[12] یہاں سے آیت 59 کے آخر تک یہ سب کچھ جوش مسرت میں اس جنتی کی زبان پر آجائے گا اور اس کی حالت اس شخص کی طرح ہوگی جو اپنے آپ کو ہر توقع اور ہر اندازے سے برتر حالت میں پاکر انتہائی حیرت واستعجاب اور فرط مسرت کے ساتھ آپ ہی آپ بول رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–61

ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) اس واقعہ کے بعد پھر یہ خوش ہوکر اپنے ساتھی اہل جنت سے کہے گا کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ اب ہم کو مرنا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اب جتنی آپس میں کہیں گے کہ اب تو ہمارے لیے موت نہیں ہوگی : 58۔ یہ کلام اس جنتی اور دوزخی میں بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ اس کو مخاطب کرکے کہے گا کہ اب تو ہمارے لیے موت نہیں ہے کہ میں سمجھوں کہ شاید مرنے کے بعد ہم کبھی دوبارہ ایک جگہ اکٹھے ہوجائیں اور تیرے لیے دوبارہ کوئی صورت جنت میں داخل ہونے کی نکل آئے اب تو ایسا ممکن نہیں لہذا جہاں اللہ نے مجھے اپنے خاص فضل و کرم سے پہنچایا میں وہیں رہوں گا اور تو اس طرح دوزخ میں جلتا رہے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مکالمہ ختم کر کے اب اہل جنت آپس ہی میں ایک دوسرے کو کہہ رہے ہوں کہ اب تو بحمد اللہ ہمارے لیے موت نہیں ہوگی اور ہم کو یہیں رہنا ہے جہاں ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–60

An inmate of Jannah and his disbelieving acquaintance After having described the general condition of the people of Jannah, one of them has been mentioned particularly. Once he has settled down with other inmates of Jannah, he will recall a disbelieving acquaintance who denied the possibility of the Hereafter during his mortal life. Then, with the permission of Allah Ta’ ala, he will be given an opportunity to talk to him by peeping into the Jahannam. The identity of this man has not been given in the Qur'an. Therefore, it cannot be said with any degree of certainty as to who this person…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

32 This shows how powerful will be man's hearing, seeing and speaking powers in the Hereafter. Sitting in Paradise he bends his head a little and is able to see a person, who is undergoing torment thousands of miles away in Hell, without the agency of a television set. Then, they not only just see each other, but also commune with each other directly without the medium of the telephone or radio and they speak and hear each other over vast distances.

Read the full tafseer →