As-Saaffaat 37:57

As-Saaffaat · from ayah 57

37:57

وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۟وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّىۡ لَـكُنۡتُ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ

اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

If not for the favor of my Lord, I would have been of those brought in [to Hell].

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:57

میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر میرے پروردگار کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو اور لوگوں کے ساتھ بھی مجھے دھر لیا جاتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میرا رب فضل نہ کرے تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں (بھی تمہارے ساتھ عذاب میں) حاضر کئے جانے والوں میں شامل ہو جاتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر میرے رب کی نعمت نہ ہوتی تو یقینا میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کیے گئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر مجھ پر میرے اللہ کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی (مجرموں کی طرح) حاضر کئے ہوئے لوگوں میں شامل ہوتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی آج پکڑا ہوا ہوتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر میرے رب (مہربان) کا فضل میرے شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی یقینی طور پر آج ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر میرے پروردگار کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی ماخوذ لوگوں میں ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر میرے رب کی نعمت مجھ پر نہ ہوتی تو میں بھی لازماً پکڑے گئے لوگوں میں سے ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر میرے رب کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو عذاب میں ڈال دیئے گئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

But for Allah's favour, I should be one of those who have been mustered here.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (the speaker) will say (to his companion seen in Jahannam ), :By Allah, you were going almost to ruin me. But for the favor of my Lord, I would have been among those produced for punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

He (the speaker) will say (to his companion seen in Jahannam ), :By Allah, you were going almost to ruin me. But for the favor of my Lord, I would have been among those produced for punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Had it not been for the grace of my Lord, I would certainly have been among those brought forth (to Hell)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And had it not been for the favour of my Lord, I too had been of those haled forth (to doom).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If not for the favor of my Lord, I would have been of those brought in [to Hell].

— Saheeh International

Had I not the guidance of my Lord, I would certainly have been brought into torment".

— Muhammad Sarwar

And had it not been for the favor of my Lord, I would certainly have been among those brought up.

— Muhammad Habib Shakir

And but for the favourcf my lord, I should have been of those brought forward.

— Abdul Majid Daryabadi

"Had it not been for the Grace of my Lord, I should certainly have been among those brought (there)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–61

محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة الصّٰٓفّٰت 32 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخرت میں انسان کی سماعت اور بینائی اور گویائی کس پیمانے کی ہوگی۔ جنت میں بیٹھا ہوا ایک آدمی جب چاہتا ہے کسی ٹیلی ویژن کے آلے کے بغیر بس یونہی جھک کر ایک ایسے شخص کو دیکھ لیتا ہے جو اس سے نہ معلوم کتنے ہزار میل کے فاصلے پر جہنم میں مبتلائے عذاب ہے۔ پھر یہی نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، بلکہ ان کے درمیان کسی ٹیلی فون یا ریڈیو کے توسط کے بغیر براہ راست کلام بھی ہوتا ہے۔ وہ اتنے طویل فاصلے سے بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–60

ایک جنتی اور اس کا کافر ملاقاتی ابتدائی دس آیتوں میں اہل جنت کے عمومی حالات بیان فرمانے کے بعد ایک جنتی کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے، کہ وہ جنت کی مجلس میں پہنچنے کے بعد اپنے ایک کافر دوست کو یاد کرے گا جو دنیا میں آخرت کا منکر تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اسے جہنم کے اندر جھانک کر اس سے باتیں کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اس شخص کا کچھ نام و پتہ نہیں بتایا گیا۔ اس لئے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون ہوگا ؟ تاہم بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مومن شخص کا نام یہو واہ اور اس کے کافر ملاقاتی کا نام مطروس ہے۔ اور یہ وہی دو ساتھی ہیں جن کا ذکر سورة کہف کی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 56–57

قال تاللہ … لکنت من المخضرین اس کے بعد وہ اس کو لتاڑیں گے کہ ظالم تو مجھے بھی لے ڈوبا تھا، یہ تو اللہ کا فضل ہوا کہ تمہارے فریب سے میں محفوظ رہا۔ ورنہ آج جس طرح تم اس عذاب میں گرفتار ہو اسی طرح میں بھی گرفتار ہوتا !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 55–57

57۔ 1 یعنی جھانکنے پر اسے جہنم کے وسط میں وہ شخص نظر آجائے گا اور اسے یہ جنتی کہے گا کہ مجھے بھی تو گمراہ کر کے ہلاکت میں ڈالنے لگا تھا، یہ تو مجھ پر اللہ کا احسان ہوا، ورنہ آج میں تیرے ساتھ جہنم میں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–62

9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–57

قال تاللہ ۔۔۔۔۔ من المحضرین (56-57) ” “۔ یعنی میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جنہیں پکڑکر کچہری میں لایا جاتا ہے اور وہ دراصل پیشی نہیں چاہتے ۔ اس دوست کو دیکھو وہ اپنی خوشحالی اور نیک انجامی کو بیان کرکے اپنی خوشی میں اضافہ کرتا ہے ۔ جب کہ اس کا دوست جہنم کے بچ میں پڑا ہے اور یہ اور اس کے دوست انعاماتا البیہ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ تحدیث نعمت ہے ، دوام نعمت پر خوشی کا اظہار ہے اور یوں لذت میں نفسیاتی اضافہ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 55–57

3 یعنی اس جنتی کو اپنے ساتھی کا حال دکھلا دیا جائے گا کہ ٹھیک دوزخ کی آگ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ حال دیکھ کر اسے عبرت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان یاد آئے گا۔ کہے گا، کم بخت ! تو نے تو مجھے بھی اپنے ساتھ برباد کرنا چاہا تھا۔ محض اللہ کے احسان نے دستگیری فرمائی جو اس مصیبت سے بچا لیا اور میرا قدم راہ ایمان و عرفان سے ڈگمگانے نہ دیا ورنہ آج میں بھی تیری طرح پکڑا ہوا آتا۔ اور اس دردناک عذاب میں گرفتار ہوتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57{ وَلَوْلَا نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ } ”اور اگر میرے رب کی نعمت مجھ پر نہ ہوتی تو میں بھی لازماً پکڑے گئے لوگوں میں سے ہوتا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 57–59

33 سرگزشت بیان کرنے والا جب دوزخ کی طرف جھانکے گا تو اسے اس کا ساتھی دوزخ کے عین وسط میں پڑا دکھائی دے گا۔ اس وقت وہ اس سے کہے گا : ارے کم بخت ! اگر میں تیری باتوں میں آجاتا تو تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے ڈوبتا اور میرا بھی وہی حشر ہوتا جو تمہارا ہو رہا ہے۔ یہ تو مجھ پر اللہ کی خاص مہربانی ہوئی جو میں تیرے بہکاوے میں نہ آیا اور اس عذاب سے بچ گیا ورنہ تو نے تو مجھے گمراہ کرنے میں کسر نہ چھوڑی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 56–57

25۔ یعنی تو نے مجھے خراب کرنے اور اپنا ہم خیال بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی، یہ محض فضل خداوندی تھا جس نے مجھے عقیدہ صحیح پر قائم رکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو لا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین ‘ اگر میرے رب کا مجھ پر فضل نہ ہوتا تو میں بھی ماخوذ لوگوں میں ہوتا۔ یعنی قریب تھا کہ بہکا کر تو مجھے ہلاک کردیتا۔ نِعْمَۃُ رَبِّیْ یعنی اللہ کی طرف سے مجھے ہدایت اور میرا بچاؤ نہ ہوتا تو میں بھی تیرے ساتھ دوزخ میں ڈال دیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 56–57

(56۔ 57) اور کہے گا کہ اللہ کی قسم تو، تو مجھے دین سے گمراہ کرنے کو تھا اور اگر میں تیری باتوں میں آجاتا تو تو مجھے تباہ ہی کر ڈالتا اور اگر میرے پروردگار کا مجھ پر فضل نہ ہوتا کہ اس نے مجھے ایمان کی توفیق دی اور کفر سے محفوظ رکھا تو میں بھی تیرے ساتھ دوزخ کے عذاب میں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ : اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کا احسان یاد کر کے اس کا تذکرہ کرے گا کہ اگر میرے رب کا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوتا جنھیں گرفتار کر کے جہنم میں حاضر کیا گیا ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے ایمان پر قائم رکھا، ورنہ میرے قدم بھی ڈگمگا جاتے۔ ان دونوں دوستوں کا قصہ سورة کہف میں مذکور دو باغوں کے مالک (جو آخرت کا منکر تھا) اور اس کے مومن دوست کے قصے سے مناسبت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–61

وہ آپس میں گفتگو شروع کردیں گے جو دنیا میں ہوا کرتی تھی۔ یہ جنت میں ان کی حددرجہ انس کا اظہار ہے اس کا عطف یطاف علیھم کے معنی پر ہے معنی یہ بنے گا وہ پئیں گے اور شراب پر باہم گفتگو کریں گے جس طرح شراب نوشوں کی عادت ہوا کرتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا : وما بقیت من اللذات الا احادیث الکرام علی المدام (1) لوگوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ کریم لوگ شراب پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جو اچھی یا بری صورتحال گذری ہوگی اس کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے مگر اسے ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا خبر دیتے وقت معمول ہے۔ ایک جنتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–61

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) یعنی جنت والے۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی کان لی قرین “ (میرا ایک ساتھی تھا) یعنی شیطان۔ جنت کی خریداری کا عجیب واقعہ : 3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کا کل مال آٹھ ہزار دینار تھا۔ جو انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا ان میں سے ایک نے ایک ہزار…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ [اور اگر نہ ہوتی میرے رب کی نعمت ] لَكُنْتُ [تو میں ضرور ہوتا ] مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ [حاضر کئے ہوؤں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 50–57

ایک جنتی اور ایک دوزخی کا مکالمہ اہل جنت، جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے، آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے آپس میں باتیں بھی ہوں گی، دل لگی کے طور پر چھینا جھپٹی بھی ہوگی، جیسا کہ سورة الطور میں (یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا) فرمایا۔ انہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہوگی کہ جنتیوں میں سے ایک جنتی یوں کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جس سے ملاقات ہوتی رہتی تھی وہ خود مومن نہ تھا مجھے بھی سرزنش کرتا تھا اور قیامت پر ایمان لانے کو بیوقوفی سمجھتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھیں گے، تو ہی بتا کہ جب ہم مرجائیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–57

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–58

28:۔ افما نحن الخ :۔ یہ بھی اسی جنتی ہی کا قول ہے۔ خطاب بدستور قرین سے ہے یا دیگر یارانِ محفل سے۔ وہ شدت مسرت کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کے فضلِ عمیم اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہے گا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اب ہم پر موت نہیں آئے گی۔ جو موت ہمارے لیے مقدر تھی وہ دنیا میں آچکی اور ہم کفار و مشرکین کی طرح اب عذاب میں بھی مبتلا نہیں ہوں گے۔ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ آدمی عذاب سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے من زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز (آل عمران رکوع 19) ایسی سعادت عطمیٰ اور فلاح کامل کی تحصیل کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہئے، نہ کہ حظوظ و لذات دنیا کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–61

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْلَا نِعْمَۃُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ۝ 57 نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–62

الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–59

فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ۔ یَّـقُوْلُ اَئِنَّـکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ ۔ وَلَوْ لاَ نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الصآفات : 50 تا 59) (پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–61

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔ جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

57: وَلَوْلَا نِعْمَۃُ رَبِّیْ (اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا) اس سے مراد عصمت اور توفیق الٰہی ہے جس کی بناء پر اسلام کی رسی کو تھامے رکھا۔ لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ (تو میں بھی پکڑے ہوئے لوگوں میں سے ہوتا) ان لوگوں میں سے ہوتا جن کو عذاب پر حاضر کیا جائے گا۔ جیسا کہ تجھے اور تجھ جیسے اور لوگوں کو حاضر کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 57–58

57، ولولا نعمۃ ربی ، میرے رب کی طرف سے رحمت اور انعام نہ ہوتا میں گمراہی نہ بچ سکتا۔ ، لکنت من المحضرین ، تو تیرے ساتھ دوزخ میں ڈال دیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–61

51۔ 61۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر 2 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–74

آیت 74 (اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 57–58

37 ہر نعمت اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم سے : سو اس موقع پر وہ جنتی شخص اپنے اس دوزخی ساتھی اور اس کے حال بد کو دیکھ کر اور سراپا شکر وسپاس بن کر خطاب کر کے کہے گا کہ اللہ کی قسم تو تو قریب تھا کہ مجھے ہلاکت میں ڈال دیتا۔ اور اگر میرے رب کریم کا فضل و کرم مجھ پر نہ ہوتا تو یقینی طور پر میں بھی آج ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کو ہر نعمت نصیب ہوتی اللہ ہی کے فضل وکرم سے ہے۔ پس دین و دنیا کی جو بھی کوئی نعمت کسی انسان کو میسر ہوتی ہے وہ دراصل اللہ پاک ہی کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو اپنی کسی لیاقت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–61

ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 55–57

ف 6 یہاں اس جتنی کی اپنے جہنمی دوسرے سے گفتگو ختم ہوگئی۔ اس کے بعد وہ اپنے جتنی ساتھیوں سے خطاب کر کے خوشی اور تعجب بھرے لہجے میں کہے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:57) المحضرین۔ اسم مفعول ، جمع مذکر منصوب وہ لوگ جن کو (عذاب کے لئے ) حاضر کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–74

لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا) تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–61

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بہشتی لوگ ایک دوسر سے پوچھتے وقت متوجہ ہوں گے کہ میاں دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا، اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص ، مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نوزندہ کردیں، بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین رکھتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو وہ ہم نشین ضرور دوزخ میں پڑا ہوگا اور آؤ ذراجھانک کردیکھیں کس حال میں ہے پھر جو دیکھا کہ بیچ دوزخ کی آگ میں پڑا ہے یہ حال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–57

[11] آیت ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37 ۔ الصافات :49) (گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں) کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو اُمّ سلمہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی ونزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے کے نیچے ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–61

ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(57) اور اگر میرے پروردگار کا مجھ پر فضل اور احسان نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار شدگان میں سے ہوتا اور ماخوذ ہوکر حاضر کیا جاتا۔ یعنی اگر خدانخواستہ میں تیری باتوں میں آکر بعثت سے بداعتقاد ہوجاتا تو ہلاک اور تباہ ہوکر تیری طرح جہنم میں پڑا ہوا ہوتا اور میں ماخوذ ہوکر حاضر کیا جاتا وہ اللہ نے مجھ پر اپنا فضل کیا کہ میں قیامت کے اعتقاد سے ہٹا نہیں اور خدا نے جو کچھ فرمایا تھا اور وقوع قیامت کی جو خبردی تھی اس پرجمارہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر میرے رب کا خاص فضل مجھ پر نہ ہوتا تو آج میں بھی اسی قید میں بند ہوتا : 57۔ آپ کو معلوم ہے کہ دوسری جگہ ہم نے اس دوزخ کو اور دوزخ کی زندگی کو چوہوں کے پنجرے سے تشبیہہ دی ہے جس طرح پنجرے میں چوہا اپنی مرضی اور لالچ کے باعث پہنچ تو جاتا ہے لیکن وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے تو نکل نہیں سکتا یہی حال دوزخیوں کا ہے کہ داخل ہوتے وقت تو خود ہی بھاگ بھاگ کر دوزخ کی طرف دوڑتے چلے جا رہے ہیں بلکہ منع کرنے اور روکنے سے بھی نہیں رکتے لیکن جب اس میں پہنچ جائیں گے اور وہاں کے عذاب سے دوچار ہوں گے تو نکلنے کے لیے سرپیر ماریں گے لیکن لاحاصل کبھی نہیں نکل سکیں گے اور یہی بات جنتی اس دوزخ سے کہہ رہا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–60

An inmate of Jannah and his disbelieving acquaintance After having described the general condition of the people of Jannah, one of them has been mentioned particularly. Once he has settled down with other inmates of Jannah, he will recall a disbelieving acquaintance who denied the possibility of the Hereafter during his mortal life. Then, with the permission of Allah Ta’ ala, he will be given an opportunity to talk to him by peeping into the Jahannam. The identity of this man has not been given in the Qur'an. Therefore, it cannot be said with any degree of certainty as to who this person…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

32 This shows how powerful will be man's hearing, seeing and speaking powers in the Hereafter. Sitting in Paradise he bends his head a little and is able to see a person, who is undergoing torment thousands of miles away in Hell, without the agency of a television set. Then, they not only just see each other, but also commune with each other directly without the medium of the telephone or radio and they speak and hear each other over vast distances.

Read the full tafseer →