Explained with ayahs 50–61
محسن مقروض۔
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
سورة الصّٰٓفّٰت 31
یعنی تم بھی ایسے ضعیف الاعتقاد نکلے کہ زندگی بعد موت جیسی بعید از عقل بات کو مان بیٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
ایک جنتی اور اس کا کافر ملاقاتی
ابتدائی دس آیتوں میں اہل جنت کے عمومی حالات بیان فرمانے کے بعد ایک جنتی کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے، کہ وہ جنت کی مجلس میں پہنچنے کے بعد اپنے ایک کافر دوست کو یاد کرے گا جو دنیا میں آخرت کا منکر تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اسے جہنم کے اندر جھانک کر اس سے باتیں کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اس شخص کا کچھ نام و پتہ نہیں بتایا گیا۔ اس لئے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون ہوگا ؟ تاہم بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مومن شخص کا نام یہو واہ اور اس کے کافر ملاقاتی کا نام مطروس ہے۔ اور یہ وہی دو ساتھی ہیں جن کا ذکر سورة کہف کی آیت…
Read the full tafseer →قال ھل انتم مطلعون اس کے بعد وہ ساتھیوں سے کہیں گے ذرا دیکھو تو سہی اس کا کیا بنا ! یہ اسلوب کلام، عربی میں کسی کو کسی کام پر ابھارنے کے لئے آتا ہے جس طرح ہم کہتے ہیں ذرا معلوم تو کرو بھلا ! ذرا جھانک کے دیکھو تو سہی ! مطلب یہ کہ جس سزا کے دن کو وہ اتنا مستعبد سمجھتا تھا کہ اس کے خلاف روز مجھ سے لڑتا تھا وہ دن تو آگیا، اب ذرا اس کا پتہ کرو کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے !
Read the full tafseer →54۔ 1 یعنی وہ جنتی اپنے جنت سے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم پسند کرتے ہو کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں، شاید مجھے یہ باتیں کہنے والا وہاں نظر آجائے تو تمہیں بتلاؤں کہ یہ شخص تھا جو باتیں کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–62
9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
قال ھل ۔۔۔۔۔ الجحیم (54-55) ” “۔
اب یہ جتنی اپنے دوزخی دوست سے ہم کلام ہوتا ہے جسے اس نے جہنم میں دیکھ لیا۔ یہ اس سے یوں مخاطب ہوتا ہے ۔ اے فلاں ، قریب تھا کہ اپنی وسوسہ اندازیوں کی وجہ سے تو مجھے ہلاک کردیتا۔ یہ تو مجھ پر اللہ کا انعام تھا کہ اس نے مجھے بچالیا اور میں نے تیری باتوں پر توجہ نہ دی ۔
Read the full tafseer →2 یعنی وہ ساتھی یقینا دوزخ میں پڑا ہوگا۔ آؤ ذرا جھانک کر دیکھیں کس حال میں ہے۔ (یہ اس جنتی کا مقولہ ہوا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ مقولہ اللہ کا ہے۔ یعنی حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم جھانک کر اس کو دیکھنا چاہتے ہو)
Read the full tafseer →آیت 54{ قَالَ ہَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ } ” کوئی کہنے والا کہے گا کہ کیا اب تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہو گے ؟“
یعنی جو شخص تمہیں اس طرح گمراہ کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا اس وقت تم اسے دیکھنا چاہو گے کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ گویا اہل جنت کے لیے وہاں یہ بھی اہتمام ہوگا کہ وہ جس سے ملنا چاہیں مل لیں اور جو دیکھنا چاہیں دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →31 یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ جب اہل جنت آپس میں محو گفتگو ہوں گے اور ان میں سے ایک اپنے دنیادار ساتھی کی سرگزشت سنائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : کیا تم اس کے حالات معلوم کرنا چاہتے ہو ؟ اور سرگزشت بیان کرنے والے کا اپنا کلام بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آؤ ذرا اس کا حال تو معلوم کریں۔
Read the full tafseer →23۔ (آیت) ” قال “۔ کا فاعل حق تعالیٰ بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ مفسر تھانوی (رح) نے قرار دیا اور بیضاوی وغیرہ میں بھی یہ قول نقل ہوا ہے، اور خود وہ جنتی بھی ہوسکتا ہے، جو اپنے رفیقوں، ہم نشینوں سے کلام کرے گا اور یہ قول جمہور مفسرین کا اختیار کیا ہوا ہے۔ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ ساری جنت میں ایک ہی شخص اس کا قائل ہو۔ بلکہ (آیت) ” انتم مطلعون “۔ کے صیغہ جمع سے تو ظاہر ہورہا ہے کہ یہ بہتوں کا تجربہ ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84
ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →قال ھل انتم مطلعون (ارشاد ہوگا :) کیا تم جھانک کر اس کو دیکھنا چاہتے ہو ؟
اس جملہ کا قائل بھی وہی ہوگا جو پہلے جملہ کا قائل ہوگا ‘ یعنی وہ شخص کہے گا : کیا تم دوزخیوں کو جھانک کر دیکھو گے کہ ان کے ساتھ میرا ساتھی بھی ہے ؟ یا یہ قول اللہ کا یا کسی فرشتہ کا ہوگا ‘ یعنی کوئی فرشتہ کہے گا کہ دوزخ میں اس شخص کو جھانک کر دوسرے دوزخیوں کے ساتھ دیکھو کہ ان کا مقام تمہارے مقام کے مقابلہ میں کیسا ہے ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جنت میں کچھ دریچے ہوں گے جن سے اہل جنت دوزخیوں کو دیکھ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(54۔ 55) پھر چناچہ وہ یہوذا مومن اپنے جنتی بھائیوں سے کہے گا کیا تم اس کو دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کی حالت نظر آجائے چناچہ وہ خود ہی جھ ان کے گا تو اپنے اس کافر بھائی کو جہنم کے درمیان پڑا ہوا دیکھے گا۔
Read the full tafseer →قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ : وہ مومن اپنے جنتی ساتھیوں اور ہم نشینوں سے کہے گا، کیا تم جہنم میں جھانکو گے، شاید وہ کہیں نظر آجائے تو دیکھیں کس حال میں ہے ؟ کیونکہ اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والے کو جہنم میں دیکھ کر اور دوستوں کو دکھا کر خوشی ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ۔ عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ۔ هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) [ المطففین : 34 تا 36 ] ”سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں۔ کیا کافروں کو اس کا بدلا دیا گیا جو وہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
وہ آپس میں گفتگو شروع کردیں گے جو دنیا میں ہوا کرتی تھی۔ یہ جنت میں ان کی حددرجہ انس کا اظہار ہے اس کا عطف یطاف علیھم کے معنی پر ہے معنی یہ بنے گا وہ پئیں گے اور شراب پر باہم گفتگو کریں گے جس طرح شراب نوشوں کی عادت ہوا کرتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا :
وما بقیت من اللذات الا احادیث الکرام علی المدام (1)
لوگوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ کریم لوگ شراب پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔
یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جو اچھی یا بری صورتحال گذری ہوگی اس کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے مگر اسے ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا خبر دیتے وقت معمول ہے۔
ایک جنتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) یعنی جنت والے۔
2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی کان لی قرین “ (میرا ایک ساتھی تھا) یعنی شیطان۔
جنت کی خریداری کا عجیب واقعہ :
3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کا کل مال آٹھ ہزار دینار تھا۔ جو انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا ان میں سے ایک نے ایک ہزار…
Read the full tafseer →قَالَ هَلْ اَنْتُمْ [اس نے کہا کیا تم لوگ ] مُّطَّلِعُوْنَ [جھانکنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
ایک جنتی اور ایک دوزخی کا مکالمہ
اہل جنت، جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے، آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے آپس میں باتیں بھی ہوں گی، دل لگی کے طور پر چھینا جھپٹی بھی ہوگی، جیسا کہ سورة الطور میں (یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا) فرمایا۔ انہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہوگی کہ جنتیوں میں سے ایک جنتی یوں کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جس سے ملاقات ہوتی رہتی تھی وہ خود مومن نہ تھا مجھے بھی سرزنش کرتا تھا اور قیامت پر ایمان لانے کو بیوقوفی سمجھتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھیں گے، تو ہی بتا کہ جب ہم مرجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–57
احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید
فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔
فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
27:۔ فاطلع الخ :۔ چناچہ جب وہ دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا تو وہ ساتھی اسے جہنم کے عین وسط میں نظر آئے گا۔ اور اسے خطاب کر کے کہے گا۔ خدا کی قسم ! تو تو مجھے بھی گمراہ کر کے اس ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے ہی والا تھا لیکن توفیق الٰہی میں میری دستگیری کی۔ اگر اللہ کا فضل و احسان اور اس کی توفیق میرے شامل حال نہ ہوتی تو آج میں ساتھ اس دردناک عذاب میں شرک ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–61
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…
Read the full tafseer →قَالَ ہَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ 54
طَلَعَ
طَلَعَ الشمسُ طُلُوعاً ومَطْلَعاً. قال تعالی: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ [ طه/ 130] ، حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] ، والمَطْلِعُ : موضعُ الطُّلُوعِ ، حَتَّى إِذا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ [ الكهف/ 90] ، وعنه استعیر : طَلَعَ علینا فلانٌ ، واطَّلَعَ. قال تعالی: هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ [ الصافات/ 54] ، فَاطَّلَعَ [ الصافات/ 55] ، قال : فَأَطَّلِعَ إِلى إِلهِ مُوسی[ غافر/ 37] ، وقال : أَطَّلَعَ الْغَيْبَ [ مریم/ 78] ، لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلى إِلهِ مُوسی[ القصص/ 38] ، واسْتَطْلَعْتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–62
الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔
فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ۔ یَّـقُوْلُ اَئِنَّـکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ ۔ وَلَوْ لاَ نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الصآفات : 50 تا 59)
(پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
فہم القرآن
ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔
جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے…
Read the full tafseer →54: قَالَ (وہ کہے گا) وہ کہنے والا ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ (کیا تم جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو) آگ کی جانب تاکہ میں تمہیں تمہارا وہ ملاقاتی دکھلائوں۔
ایک قول یہ ہے :
جنت میں ایک روشن دان ہے۔ جس سے اہل جنت اہل نار کو دیکھیں گے۔ یا اللہ تعالیٰ اہل جنت کو فرمائیں گے۔ کیا تم آگ کو جھانکنا چاہتے ہو تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تمہارا مکان اہل نار سے کتنا دور ہے۔
Read the full tafseer →54، قال، اہل جنتیوں کو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ ، ھل انتم مطلعون، دوزخ والوں سے مطلع ہو اور بعض نے کہا مؤمن اپنے جنتی بھائی سے کہے گا کہ کیا تم دوزخ والوں سے آگاہ ہو اور کیا تم میرے دوزخی ساتھی کی جگہ دیکھوگے۔ اس سے جنتی کہے گا تم تو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
51۔ 61۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر 2 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–74
آیت 74
(اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…
Read the full tafseer →34 اہل جنت کے ایک باہمی مکالمے کا ذکر : سو اس سے اہل جنت کے ایک باہمی مکالمے اور اس پر حق تعالیٰ کے ان سے ارشاد کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو جنتی شخص جب اپنے اس دنیاوی ساتھی کو یاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم لوگ اس کو دیکھنا چاہتے ہو ؟ یعنی ادھر اس جنتی نے یہ بات کہی اور ادھر حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد فرما دیا گیا۔ دوسرا حتمال اس میں یہ ہے کہ اس قال کا فاعل و قائل خود وہی جنتی شخص ہو۔ آیت کریمہ کے اندر دونوں احتمال موجود ہیں۔ اور معنیٰ دونوں صورتوں میں صحیح ہے۔ اور حضرات مفسرین کرام سے یہ دونوں ہی قول منقول و مروی ہیں۔ (جامع البیان، خازن اور بیان القرآن وغیرہ) ۔ بہرکیف اہل جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–61
ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ
تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 5 یعنی کیا یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ کہاں ہے اور اس کا کیا حال ہے ؟
Read the full tafseer →(37:54) قال ھل انتم مطلعون۔ مطلعون اسم فاعل جمع مذکر مطلع واحد ۔ اطلاع (افتعال) مصدر۔ اصل میں مطتلعون تھا۔ تاء کو طاء میں مدغم کیا گیا ہے مطلعون جھانک کر دیکھنے والے۔ قال کے فاعل کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں !
(1) یہ ارشاد خداوندی ہے ۔ جب القائل اپنے دنیا کے ہمنشین کے متعلق بات کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا :۔ ” کیا تم اپنے ساتھی کو جو عذاب دوزخ میں مبتلا ہے دیکھنا چاہتے ہو ؟ (تم اور تمہارے دوسرے اہل جنت رفیق)
(2) یہ قول فرشتوں کا ہے جو القائل کے بات کرتے وقت وہاں موجود ہوں گے وہ القائل اور اس کے ساتھیوں سے کہیں گے کیا تم القائل کے دنیا کے ساتھی کا حال دیکھنا چاہتے ہو جو اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–74
لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا)
تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بہشتی لوگ ایک دوسر سے پوچھتے وقت متوجہ ہوں گے کہ میاں دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا، اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص ، مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نوزندہ کردیں، بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین رکھتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو وہ ہم نشین ضرور دوزخ میں پڑا ہوگا اور آؤ ذراجھانک کردیکھیں کس حال میں ہے پھر جو دیکھا کہ بیچ دوزخ کی آگ میں پڑا ہے یہ حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
[11] آیت ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49) 37 ۔ الصافات :49) (گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں) کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو اُمّ سلمہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی ونزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے کے نیچے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے…
Read the full tafseer →(54) پھروہ جنتی اپنے ساتھیوں سے کہے گا اور پوچھے گا تم اس میرے ہم نشین اور اہل مجلس کو جھانک کر دیکھو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
ف 2۔ یعنی وہ منکر بعث تھا۔
Read the full tafseer →کہنے والا کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ کہاں ہے ؟ :
54۔ یہ کہنے والا نہیں جنتیوں میں سے کوئی ایک ہے جو ان دونوں کو جانتا پہچانتا تھا یا یہ کوئی فرشتہ ہے بہرحال چونکہ اس کے دل میں ایک ایسی خواہش پیدا ہوئی ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے جنتیوں کے لیے ہر وہ چیز ہے جس کی وہ خواہش کریں گے تو ضروری ہے کہ اس اہل جنت کی خواہش بھی پوری کی جائے اس لیے ضروری تھا کہ اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو ۔ (مطلعون) اسم فاعل جمع مذکر مطلع مفرد اطلاع مصدر باب افتعال ط ل ع اصل مادہ اس کا مطتلعون تھا لیکن تاء افتعال کو طاء میں ادغام کردیا گیا اور اس کے معنی ہیں جھانک کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
An inmate of Jannah and his disbelieving acquaintance
After having described the general condition of the people of Jannah, one of them has been mentioned particularly. Once he has settled down with other inmates of Jannah, he will recall a disbelieving acquaintance who denied the possibility of the Hereafter during his mortal life. Then, with the permission of Allah Ta’ ala, he will be given an opportunity to talk to him by peeping into the Jahannam. The identity of this man has not been given in the Qur'an. Therefore, it cannot be said with any degree of certainty as to who this person…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
31 That is, "Were you also one of those credulous people who put their faith in an irrational and impossible thing like life-after-death ?"
Read the full tafseer →