As-Saaffaat 37:53

As-Saaffaat · from ayah 53

37:53

ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۟ءَاِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِيۡنُوۡنَ

بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

That when we have died and become dust and bones, we will indeed be recompensed?'"

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:53

کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا جب ہم مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہمیں (اپنے کاموں کا) بدلہ دیا جائے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں جزا سزا دی جائے گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہمیں (اس حال میں) بدلہ دیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا واقعی ہم ضرور جزا دیے جانے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہمیں سزا و جزا بھگتنا پڑے گی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیا ؓ بن جایں گے تو ہم بدلہ پانے والے بنیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو کیا واقعی ہمیں (دوبارہ زندہ کر کے بدلہ دیا جائے گا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو جزا وسزا دیئے جائیں گے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا ہمیں (زندہ کر کے) بدلہ دیا جائے گا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی و ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

After we are dead and have become all dust and bones shall we still be requited?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it when we have died and become dust and bones? Is it true that we are going to be recompensed (for our deeds)?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it when we have died and become dust and bones? Is it true that we are going to be recompensed (for our deeds)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(That) when we die and become dust and bones, shall we indeed be indebted (Madinun)"'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Can we, when we are dead and have become mere dust and bones - can we (then) verily be brought to book?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That when we have died and become dust and bones, we will indeed be recompensed?'"

— Saheeh International

Shall we be recompensed for our deeds after we die and become bones and dust?

— Muhammad Sarwar

What! when we are dead and have become dust and bones, shall we then be certainly brought to judgment?

— Muhammad Habib Shakir

When we are dead and have become dust and bones, are we indeed going to be requited?

— Abdul Majid Daryabadi

"'When we die and become dust and bones, shall we indeed receive rewards and punishments?'"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–61

محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–56

سورة الصّٰٓفّٰت 31 یعنی تم بھی ایسے ضعیف الاعتقاد نکلے کہ زندگی بعد موت جیسی بعید از عقل بات کو مان بیٹھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–60

ایک جنتی اور اس کا کافر ملاقاتی ابتدائی دس آیتوں میں اہل جنت کے عمومی حالات بیان فرمانے کے بعد ایک جنتی کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے، کہ وہ جنت کی مجلس میں پہنچنے کے بعد اپنے ایک کافر دوست کو یاد کرے گا جو دنیا میں آخرت کا منکر تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اسے جہنم کے اندر جھانک کر اس سے باتیں کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اس شخص کا کچھ نام و پتہ نہیں بتایا گیا۔ اس لئے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون ہوگا ؟ تاہم بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مومن شخص کا نام یہو واہ اور اس کے کافر ملاقاتی کا نام مطروس ہے۔ اور یہ وہی دو ساتھی ہیں جن کا ذکر سورة کہف کی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون (50) اہل جنت کا ایک مکاملہ اب آگے آیت 59 تک اہل جنت کے ایک باہمی مکاملے کا حالہ ہے جو اس وقت ان کے مابین ہوگا جب وہ تختوں پر ٹیک لگائے جنت میں بیٹھے ہوں گے۔ اس دنیا میں حق کی خاطر مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہوں گی ان پر ان کو جو خوشی ہوگی اس کا بھی اس مکاملہ سے اندازہ ہوتا ہے اور اس لئے خودی کا بھی جو اس تصور سے ان پر طاری ہوگی کہ اب موت، اور عذاب کے اندیشوں سے ان کو ہمیشہ کے لئے رہائی حاصل ہوگئی۔ (آیت) اصحاب جنت میں سے ایک صاحب اپنے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے ساتھیوں کو اپنے ماضی کی ایک سرگزشت سنائیں گے کہ میرا ایک ملنے والا تھا جو بڑے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یعنی ہمیں زندہ کرکے ہمارا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق جزا دی جائے گی ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–62

9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 50–53

فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ” اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–53

1 یعنی یاران جلسہ جمع ہوں گے اور شراب طہور کا جام چل رہا ہوگا۔ اس عیش و تنعم کے وقت اپنے بعض گذشتہ حالات کا مذاکرہ کریں گے۔ ایک جتنی کہے گا کہ میاں دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا۔ جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا۔ اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں، پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نو زندہ کردیں ؟ بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین کرسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53{ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ } ”کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا ہمیں زندہ کر کے بدلہ دیا جائے گا ؟“ یعنی میرا وہ ساتھی دنیا میں حیرت سے مجھے پوچھا کرتا تھا کہ کیا تم بھی محمد ﷺ کی ان باتوں پر یقین رکھتے ہو کہ ہمارے مر کھپ جانے اور مٹی میں مل جانے کے بعد ہمیں پھر سے زندہ کیا جائے گا اور ہمارے اچھے برے اعمال کی ہمیں سزا و جزا دی جائے گی ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 یعنی کیا تمہاری بھی ایسی مت ماری گئی ہے کہ تم اس قسم کے بعید از عقل باتوں کو تسلیم کرنے لگے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 51–53

22۔ یعنی دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا، وہ مجھ سے طنزا کہا کرتا تھا کہ کیوں میاں ! تم بھی حشر ونشر کے ڈھکوسلوں کے قائل ہو ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذامتنا وکنا ترابا وعظاما انا لمدینون کیا جب ہم مرجائیں تے اور خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم جزا و سزا پائیں گے ؟ یعنی اہل جنت میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھ تھا جو قیامت کا منکر تھا۔ مجاہد نے کہا : قریب سے شیطان مراد ہے ‘ یعنی شیطان میرا ساتھی تھا۔ دوسرے اہل تفسیر کے نزدیک قرین سے مراد انسان ہی ہے جو دنیا میں اس جنتی کا ساتھی تھا۔ مقاتل کے نزدیک قرین سے مراد ہے بھائی ‘ دنیا میں دونوں بھائی تھے۔ بعض علماء کا قول ہے : وہ دونوں دنیا میں شریک تھے۔ ایک کافر تھا جس کا نام مطروس تھا ‘ دوسرا مؤمن تھا جس کا نام یہودا تھا۔ انہی دونوں کے بارے میں سورة کہف کی آیت واضْرِبْ لَھُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 51–53

(51۔ 53) چناچہ ان اہل جنت میں سے ایک شخص یعنی یہوذا مومن کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا یعنی ابو فطروس اسی کا بھائی۔ وہ مجھے بطور انکار بعث کہا کرتا تھا کہ کیا تو بعث کے معتقدین میں سے ہے۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ زندہ کر کے ہم سے حساب و کتاب لیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 51–53

قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّىْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ : ”قَرِيْنٌ“ ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو ہم عمر ہو، یا بہادری، قوت اور اس طرح کے دوسرے اوصاف میں ہم سر ہو، اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔ (کیلانی) ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی ؟ ”مَدِیْنُوْنَ“ ”مَدِیْنٌ“ کی جمع ہے، جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–61

وہ آپس میں گفتگو شروع کردیں گے جو دنیا میں ہوا کرتی تھی۔ یہ جنت میں ان کی حددرجہ انس کا اظہار ہے اس کا عطف یطاف علیھم کے معنی پر ہے معنی یہ بنے گا وہ پئیں گے اور شراب پر باہم گفتگو کریں گے جس طرح شراب نوشوں کی عادت ہوا کرتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا : وما بقیت من اللذات الا احادیث الکرام علی المدام (1) لوگوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ کریم لوگ شراب پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جو اچھی یا بری صورتحال گذری ہوگی اس کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے مگر اسے ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا خبر دیتے وقت معمول ہے۔ ایک جنتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–61

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) یعنی جنت والے۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی کان لی قرین “ (میرا ایک ساتھی تھا) یعنی شیطان۔ جنت کی خریداری کا عجیب واقعہ : 3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کا کل مال آٹھ ہزار دینار تھا۔ جو انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا ان میں سے ایک نے ایک ہزار…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ءَاِذَا مِتْنَا [کیا جب ہم مرجائیں گے ] وَكُنَّا تُرَابًا [اور ہوجائیں گے مٹی ] وَّعِظَامًا [اور ہڈیاں ] ءَاِنَّا لَمَدِيْنُوْنَ [تو کیا بیشک ہم ضرور حساب لئے جانے والے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 50–57

ایک جنتی اور ایک دوزخی کا مکالمہ اہل جنت، جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے، آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے آپس میں باتیں بھی ہوں گی، دل لگی کے طور پر چھینا جھپٹی بھی ہوگی، جیسا کہ سورة الطور میں (یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا) فرمایا۔ انہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہوگی کہ جنتیوں میں سے ایک جنتی یوں کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جس سے ملاقات ہوتی رہتی تھی وہ خود مومن نہ تھا مجھے بھی سرزنش کرتا تھا اور قیامت پر ایمان لانے کو بیوقوفی سمجھتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھیں گے، تو ہی بتا کہ جب ہم مرجائیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–57

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–55

27:۔ فاطلع الخ :۔ چناچہ جب وہ دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا تو وہ ساتھی اسے جہنم کے عین وسط میں نظر آئے گا۔ اور اسے خطاب کر کے کہے گا۔ خدا کی قسم ! تو تو مجھے بھی گمراہ کر کے اس ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے ہی والا تھا لیکن توفیق الٰہی میں میری دستگیری کی۔ اگر اللہ کا فضل و احسان اور اس کی توفیق میرے شامل حال نہ ہوتی تو آج میں ساتھ اس دردناک عذاب میں شرک ہوتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–61

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِيْنُوْنَ۝ 53 موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–62

الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–59

فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ۔ یَّـقُوْلُ اَئِنَّـکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ ۔ وَلَوْ لاَ نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الصآفات : 50 تا 59) (پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–61

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔ جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53: ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا (کیا جب ہم مرجائیں گے ہم مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا) لَمَدِیْنُوْنََ (ہم جزاء دیئے جائیں گے) مدینون کا معنی بدلہ دیے جائیں گے۔ یہ لفظ دینؔ سے بناء ہے۔ وہ جزاء کو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53، ء ا ذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمدینون، ان کو بد لہ د یں گے اور ان کا محاسبہ کریں گے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–61

51۔ 61۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر 2 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–53

آیت 50 اللہ تبارک و عالیٰ نے ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں، کامل مسرتوں، ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویوں اور خوش نما مجالس کا ذکر کرنے کے بعد ان میں آپس کی بات چیت اور ایک دوسرے کو ماضی کے واقعات وا حوال سنانے کا ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہیں گے حتی کہ ان میں سے ایک شخص کہے گا : (انی کان لی قرین) ” دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا “ جو قیامت کا منکر تھا اور مجھے اس بات پر ملامت کیا کرتا تھا کہ میں قیامت پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور (قال) ” وہ کہا کرتا تھا “ مجھ سے : (آیت) ” یعنی کیا ہمیں ہمارے اعمال کی جزاو سزا دی جائے گی ؟ یعنی تم اس امر محال کی کیسے تصدیق کرتے ہو جو انتہائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–53

33 حوران جنت کی ایک خاص صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " گویا کہ وہ انڈے ہیں پردوں میں رکھے ہوئے " رنگ کی صفائی اور عمدگی میں۔ اور بعض مفسرین نے اس سے شتر مرغ کا انڈہ مراد لیا ہے کہ اس میں یہ وصف زیادہ نمایاں اور واضح ہوتا ہے۔ (روح، قرطبی، کبیر وغیرہ) ۔ اور اس سے شترمرغ کے انڈے مراد لینے کے اس احتمال کی تایید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اہل عرب اپنے کلام میں نازنینوں کو اکثر و بیشتر شترمرغ کے انڈوں ہی سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ اور شترمرغ کے انڈے سے اس تشبیہہ میں ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ عرب لوگ اپنی کنواری لڑکیوں کی حفاظت اور پاکدامنی کے سلسلے میں انکو شترمرغ کے انڈوں سے تشبیہ اس لیے دیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–61

ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 51–54

ف 5 یعنی کیا یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ کہاں ہے اور اس کا کیا حال ہے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:53) ء اذا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اذا۔ ظرف زمان ۔ کیا جب۔ ء انا ہمزہ استفہامیہ ہے اور انا دراصل اننا ہے ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم۔ جملہ میں استفہام کی تکرار تاکید کے لئے لائی گئی ہے ۔ یعنی کیا جب ہم مرجائیں گے اور (محض) مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا اس صورت میں بھی ہمارا حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور جزا وسزا ملے گی۔ لمدینون۔ لام تاکید کا ہے مدینون دین سے مشتق ہے اسم مفعول جمع مذکر کا صیغہ بحالت رفع ہے۔ بدلہ دئیے ہوئے۔ مجزیون (جن کو اپنے اعمال کی جزا یا سزا دی گئی ہو ) محاسبون (جن کا محاسبہ کیا گیا ہو) ۔ المدین غلام بدلہ دیا ہوا۔ وہ جس سے حساب لیا گیا ہو، المدینۃ مؤنث۔ (نیز…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–74

لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا) تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–61

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بہشتی لوگ ایک دوسر سے پوچھتے وقت متوجہ ہوں گے کہ میاں دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا، اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص ، مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نوزندہ کردیں، بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین رکھتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو وہ ہم نشین ضرور دوزخ میں پڑا ہوگا اور آؤ ذراجھانک کردیکھیں کس حال میں ہے پھر جو دیکھا کہ بیچ دوزخ کی آگ میں پڑا ہے یہ حال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–57

[11] آیت ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀) 37 ۔ الصافات :49) (گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں) کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو اُمّ سلمہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی ونزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے کے نیچے ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–61

ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(53) بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا پھر ہم جزا دیئے جائیں گے اور ہم کو بدلا ملنا ہے۔ یہ قرین مجاہد کے نزدیک شیطان ہے اور مقاتل نے کہا یہ ان دو شخصوں کا واقعہ ہے جن کا قصہ سورة کہف میں گزچکا ہے ان دونوں میں سے ایک کافر تھا دوسرا مومن کافر کا نام فرطوس تھا بہرحال اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب اہل جنت اپنا قصہ بیان کریں گے تو اس میں علی سبیل التذکرہ کوئی جنتی اپنے ایک کافر ملاقاتی کا حال بیان کرے گا تو اس کا تعجب کے ساتھ یہ کہنا کہء اذا متنا وکنا ترابا وعظاماً کا بھی ذکرکرے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا جب ہم مر کر ہڈیاں ہوجائیں گے تو اس وقت ہم کو جزاء دی جائے گی ؟ 53۔ وہ تعجب سے کہا کرتا تھا کہ یار تم عجیب ہو بھلا یہ بھی ممکن ہے جب ہم ہڈیاں اور مٹی ہوجائیں تو دوبارہ زندہ ہوجائیں اور پھر ہم کو اپنے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ بھی دیا جائے ایسا ہونا مجھے تو نظر نہیں آتا یعنی میں تو ایسا نہیں سمجھتا کہ کبھی ایسا ہوگا بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–60

An inmate of Jannah and his disbelieving acquaintance After having described the general condition of the people of Jannah, one of them has been mentioned particularly. Once he has settled down with other inmates of Jannah, he will recall a disbelieving acquaintance who denied the possibility of the Hereafter during his mortal life. Then, with the permission of Allah Ta’ ala, he will be given an opportunity to talk to him by peeping into the Jahannam. The identity of this man has not been given in the Qur'an. Therefore, it cannot be said with any degree of certainty as to who this person…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–56

31 That is, "Were you also one of those credulous people who put their faith in an irrational and impossible thing like life-after-death ?"

Read the full tafseer →