Explained with ayahs 149–160
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–162
سورة الصّٰٓفّٰت 89
اصل میں ملائکہ کے بجائے الجنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے، لیکن بعض اکابر مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جِنّ کا لفظ اپنے لغوی مفہوم (پوشیدہ مخلوق) کے لحاظ سے ملائکہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ ملائکہ بھی اصلاً ایک پوشیدہ مخلوق ہی ہیں۔ اور بعد کا مضمون اسی بات کا تقا ضا کرتا ہے کہ یہاں الجِنہ کے لفظ کو ملائکہ کے معنی میں لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبً آ (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق قرار دیا ہے) اس جملے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ گویا معاذ اللہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ تعالیٰ کا زوجیت کا تعلق ہے، اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ ایک تفسیری روایت میں ہے کہ جب مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ ان کی ماں کون ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ جنات کی سردار زادیاں (تفسیر ابن کثیر، ص 32 ج 4) لیکن اس تفسیر پر یہ اشکال رہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ام تکم سلطن مبین فاتا یکتا بکم ان کنتم صدقین (157-156)
فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اس کی کوئی واضح حجت ہو تو اس کو پیش کرو۔ واضح حجت کی وضاحت یہاں کتاب کے لفظ سے فرما دی ہے کہ اگر تمہارے پاس کسی آسمانی کتاب کی شادت تمہارے اس دعوے کے حق میں موجود ہو تو اس کو پیش کرو۔ خدا کے باب میں کسی کو کوئی بات من گھڑت طور پر کہنے کا حق نہیں ہے۔ بلکہ صرف دلیل وبرہان کی بنیاد پر کہنے کا حق ہے اور سب سے زیادہ واضح برہان اس کی کتاب ہو سکتی ہے جو اس نے لوگوں کی تعلیم و ہدایت کے لئے اماری ہو۔
Read the full tafseer →158۔ 1 یہ اشارہ ہے مشرکین کے اس عقیدے کی طرف کہ اللہ نے جنات کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کیا، جس سے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ یہی اللہ کی بیٹیاں، فرشتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان قرابت داری (سسرالی رشتہ) قائم ہوگیا۔
158۔ 2 حالانکہ یہ بات کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ جنات کو عذاب میں کیوں ڈالتا ؟ کیا وہ اپنی قرابت داری کا لحاظ نہ کرتا ؟ اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ خود جنات بھی جانتے ہیں کہ انہیں عتاب و عذاب الٰہی بھگتنے کے لئے ضرور جہنم میں جانا ہوگا، تو پھر اللہ اور جنوں کے درمیان قرابت داری کس طرح ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–165
30: یہ ان مشرکین کے ایک اور بےہودہ عقیدے کی تردید ہے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جنات کے سرداروں کی بیٹیاں فرشتوں کی مائیں ہیں، گویا العیاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیویاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
وجعلوا بینہ۔۔۔۔۔ انھم لمحضرون (158) ” ، “۔ ان کا زعم یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں تھیں اور ان سے جن پیدا ہوئے یوں جنوں اور اللہ کے درمیان قرابت ہوگئی۔ جنوں کو تو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہیں۔ اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حکم سے حاضر کیے جائیں گے اور رشتہ داروں کے ساتھ یہ سلوک تو نہیں کیا جاتا کہ وہ بطور مجرم پکڑے جاکر پیش کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صراحت کے ساتھ اس عقیدے کی تردید بھی کردی جاتی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
3 یعنی احمقوں نے جنوں کے ساتھ معاذ اللہ دامادی کا رشتہ قائم کردیا۔ سبحان اللہ کیا باتیں کرتے ہیں۔ موقع ملے تو ذرا ان جنوں سے پوچھ آؤ کہ وہ خود اپنی نسبت کیا سمجھتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ دوسرے مجرموں کی طرح وہ بھی اللہ کے روبرو پکڑے ہوئے آئیں گے کیا داماد کا سسرال کے ساتھ یہ ہی معاملہ ہوتا ہے۔ بعض سلف نے نسب سے مراد یہ لی ہے کہ وہ لوگ شیاطین الجن کو اللہ تعالیٰ کا حریف مقابل سمجھتے تھے۔ جیسے مجوس " یزدان " اور " اہرمن " کے قائل ہیں۔ یعنی ایک نیکی کا خدا، اور دوسرا بدی کا۔
Read the full tafseer →آیت 158{ وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا } ”اور انہوں نے تو اللہ کے اور ِجنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کردیا ہے۔“
{ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
91 جنوں اور اللہ تعالیٰ میں سسرالی رشتہ :۔ مشرکین عرب سے جب پوچھا جاتا کہ اگر فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو وہ کہہ دیتے کہ جنوں کی عورتیں اس طرح گویا وہ ایک اور ظلم ڈھاتے تھے اور جنوں اور اللہ تعالیٰ میں دامادی اور سسرال کا رشتہ قائم کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یوں دیا کہ جن ایک مکلف مخلوق ہے۔ جو اپنے اعمال کی جوابدہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے۔ پھر ان کی اکثریت جہنم میں جائے گی اور تم نے انہیں اللہ کا سسر بنا ڈالا ہے۔ تمہاری بےہودگی کی کوئی انتہا ہے ؟ کیا تم یہ گوارا کرتے ہو کہ اپنے داماد کو آگ میں جھونک دو یا جس کو تم آگ میں جھونکتے ہو اسے…
Read the full tafseer →86۔ (تو حق تعالیٰ کے رشتہ داروں کا معاذ اللہ جہنمی ہونا تمہاری موٹی عقل بھی قبول کرتی ہے ؟ ) (آیت) ” وجعلوا ..... نسبا “۔ اس عقیدہ کے لیے ملاحظہ ہوں سورة سبا (پ 22) آیت 40۔ 41 کے حاشیے ہوسکتا ہے کہ اس میں اشارہ عقائد مجوس کی جانب بھی ہو، جیسا کہ امام رازی (رح) کا خیال ہے۔ مجوس کا عقیدہ یہ ہے کہ یزدان واہرمن (خدا وابلیس) دونوں ایک ہی جنس کی چیزیں ہیں، فرق یہ ہے کہ اول خیر محض ہے اور دوسرا شرمحض۔ لیکن بہرحال ہیں دونوں ہم نسب ہی۔ (آیت) ’ الجنۃ “۔ سے مراد کافر جنات ہیں۔ (آیت) ” ولقد ..... لمحضرون “۔ یعنی جنات خود اپنی حقیقت اپنی مسؤلیت سے خوب واقف ہیں۔ (آیت) ” لمحضرون “۔ محضرون سے مراد عذاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا اور ان لوگوں نے اللہ اور جنات کے درمیان رشتہ داری قرار دے رکھی ہے۔
جویبر کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت قریش کے تین قبائل کے متعلق نازل ہوئی : سلیم ‘ خزاعہ اور جہینہ۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : الجِنّۃ سے مراد ملائکہ ہیں۔ فرشتے (انسان کی) نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں ‘ اسلئے ان کو الجِنّۃ فرمایا (جِنّ کا معنی ہے پوشیدہ ہونا) ۔
میں کہتا ہوں : ملائکہ کو الجِنّۃ کے لفظ سے ذکر کرنا یہ بات بتارہا ہے کہ وہ ابنیت خدا کے سزاوار نہیں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : ملائکہ کا ہی ایک خاص گروہ ہے جن میں سے ابلیس بھی ہے ‘ ان کو جِنّ کہا جاتا ہے۔ انہی کو وہ لوگ اللہ کی…
Read the full tafseer →اور بنو ملیح والوں نے تو اللہ تعالیٰ اور جنات میں رشتہ داری قرار دی ہے اور کہتے ہیں کہ جس کا ظہور فرشتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت زنادقہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو ابلیس ملعون کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں کہ اللہ خالق خیر ہے اور ابلیس خالق شر ہے۔
شان نزول : وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبًا (الخ)
جبیر نے بواسطہ ضحاج حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ قریش کے تین قبیلوں سلی، جہینہ اور خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد سے روایت کیا ہے کہ قریش کے امراء و رؤسا کہنے لگے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حضرت ابوبکر نے…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبًا : اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان نسب بنانے سے کیا مراد ہے ؟ ابن کثیر ؓ نے اس کی تفسیر میں دو قول ذکر کیے ہیں، پہلا مجاہد کا قول کہ مشرکین نے کہا، فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ تو ابوبکر ؓ نے پوچھا، تو ان کی مائیں کون ہیں ؟ انھوں نے کہا ”بَنَاتُ سَرَوَاتِ الْجِنِّ“ ”سردار جننیوں کی بیٹیاں۔“ مگر اس تفسیر میں اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان نسبی رشتہ قائم نہیں ہوتا، بلکہ صہری یعنی سسرالی رشتہ قائم ہوتا ہے، کیونکہ جننیوں کی بیٹیاں (نعوذ باللہ) اللہ کی بیویاں ہوں تو جنّ سسر ہوں گے۔ علاوہ ازیں مجاہد کی ابوبکر ؓ سے ملاقات بھی نہیں، اس لیے یہ منقطع ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–160
158 ۔ 160:۔ اکثر اہل تفسیر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہاں الجنہ سے مراد فرشتے ہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہ قریش کے کفار نے کہا : ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے پوچھا : ان کی مائیں کونسی ہیں ؟ تو قریش نے جواب دیا : ان کی باپردہ۔ اہل اشتقاق نے کہا : انہیں جن اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ دکھائی نہیں دیتے۔ مجاہد نے کہا : فرشتوں کے خاندانوں میں سے ایک خاندان ہے جنہیں الجنہ کہتے ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
اسرائیل ‘ سدی سے وہ ابو مالک سے روایت نقل کرتے ہیں کہا : انہیں جنہ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ وہ جنتوں کے خازن ہیں تمام فرشتے جنہ ہیں نسبا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–159
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاستفتھم “ یعنی اس سے سوال کیجئے یعنی قریش کے مشرکین سے (آیت ) ” الربک البنات ولھم البنون “ (کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں) کیونکہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں اور انہوں نے کہا کہ فرشتے عورتیں ہیں، تو فرمایا (آیت ) ” ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون “ (کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے) اسی طرح فرمایا (آیت ) ” الا انھم من افکھم لیقولون (151) ولد اللہ وانہم لکذبون (152) اصطفی البنات علی البنین “ (خبردار وہ کہتے…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا [اور ان لوگوں نے بنایا ] بَيْنَهٗ [اس کے (اللہ کے) درمیان ] وَبَيْنَ الْجِنَّةِ [اور جنوں کے درمیان ] نَسَـبًا ۭ [ایک رشتہ داری ] وَلَقَدْ عَلِمَتِ [اور بیشک جان چکے ہیں ] الْجِنَّةُ [جن لوگ ] اِنَّهُمْ [کہ وہ لوگ ] لَمُحْضَرُوْنَ [یقینا حاضر کئے جانے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–160
مشرکین کی تردید جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے
شیطان نے اپنی کوششوں سے انسانوں کو توحید سے ہٹایا اور شرک کا رواج ڈالا، اس سلسلہ میں اس کی جو کوششیں آگے بڑھیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بتوں کی عبادت پر تو ڈالا ہی تھا جنات اور فرشتوں کے بارے میں بھی لوگوں کو یہ سمجھایا کہ ان میں اور خالق کائنات جل مجدہ کے درمیان رشتہ داری ہے چناچہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا، لوگ شیاطین کی بات مانتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں لگا دیں جن سے وہ بری ہے اور پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا اس کی شان یکتا کے خلاف ہے، اس کی شان (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ) ہے نہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔
(ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
62: وجعلوا الخ : یہ جنوں کے حال کا اعادہ ہے۔ بعض مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی (عیاذا باللہ) رشتہ قائم کر رکھا تھا ان کے خیال میں فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اور ان کی مائیں شاہان جنات کی شہزادیاں ہیں۔ قال مجاھد والسدی و مقاتل ایضا القائل بذلک کنانۃ و خزاعۃ قالوا ان اللہ خطب الی سادات الجن فزوجوہ من سروات بناتہم فالملائکۃ بنات اللہ من سروات بنات الجن (قرطبی ج 15 ص 135) ۔ یا نسب سے مراد مناسبت ہے۔ یعنی انہوں نے شیاطین کو اللہ کی عبادت میں شریک کرلیا۔ اور ان کو شفیع غالب سمجھنے لگے۔ او ارید جعلوا بینہ سبحانہ و بینہم مناسبۃ حیث اشرکوھم بہ تعالیٰ فی استحقاق العبادۃ (روح ج 23 ص 151) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
ربط آیات
اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا بَيْنَہٗ وَبَيْنَ الْجِنَّۃِ نَسَـبًا 0 ۭ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ 158ۙ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
بين
بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–163
فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟
دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–160
وَجَعَلُوْا بَیْنَـہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا ط وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ۔ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ اِلاَّعِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 158 تا 160)
(اور انھوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان ایک رشتہ جوڑ رکھا ہے اور جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ گرفتار کیے جائیں گے۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ مگر اللہ کے وہ بندے جو چن لیے گئے ہیں۔ )
جنوں کا بھی اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑ رکھا ہے
مشرکین کی داستانِ شرک بہت دراز ہے۔ انھوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد مانی اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–163
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے شرک سے توبہ کی جس کے نتیجے میں عذاب سے بچ گئی۔ اہل مکہ کو اس واقعہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو شرک سے توبہ کرلو بصورت دیگر تباہی تمہارا مقدر ہوگی۔
قرآن مجید نے یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کس قسم کے شرک میں ملوث تھی۔ تاہم آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دیگر اقسام کے ساتھ یونس (علیہ السلام) کی قوم میں یہ شرک بھی پایا جاتا تھا کہ وہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں خیال کرتے اور ان کے واسطے اور طفیل دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ جنّات کے بارے میں بھی ان کے ایسے ہی…
Read the full tafseer →جنات کے متعلق غلط بیانی :
158: وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ (اور اللہ تعالیٰ اور) وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ (جنات میں قرار دی) الجنۃ سے مراد فرشتے ہیں۔ ان کے چھپنے کی وجہ سے ان کو جن کہہ دیا۔ نَسَبًا ( رشتہ داری) اور وہ ان کا خیال مزعومہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنات سے شادی کی۔ (معاذ اللہ) جس سے ملائکہ پیدا ہوئے۔ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ (اور فرشتوں کو معلوم ہے کہ بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بات کہی ہے) لَمُحْضَرُوْنَ (وہ ضرور گرفتار ہونگے) آگ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
بینہ وبین الجنۃ کی تفسیر
158، وجعلو ابینہ وبین الجنۃ نسبا، مجاہد اور قتادہ نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر ، الجنۃ، سے مراد ملائکہ ہیں ان کو جن سے اس لیے موسم کیا کیون کہ جن کا معنی ہے پوسیدہ ہونا فرشتے چونکہ نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں اس لیے ان کو ، الجنۃ، کہا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت قریش کے تین قبائل سلیم ، خزاعہ اور جہینہ کے متعلق نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ملائکہ کا ایک خاص گروہ ہے جن میں سی ابلیس بھی ہے ان کو جن کہاجاتا ہے انہی کو وہ لوگ اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ خدا نے کسی جنی عورت سے اپنا جوڑ لگالیا اور اس سے ملائکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
158۔ 163۔ شعب الایمان بیہقی تفسیر سدی تفسیر کلبی تفسیر مقاتل وغیرہ میں قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ ایک روز حضرت ابوبکر صدیق اور کچھ مشرک لوگوں سے اس باب میں بحث ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اگر فرشتے اللہ کی بیٹاں ہیں۔ تو ان بیٹیوں کی ماں کون ہے قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے جواب دیا کہ جنوں کے سرداروں کی بیٹیوں سے نعوذ باللہ من ذلک اللہ تعالیٰ نے شادی کی اور اس شادی کے سبب سے یہ لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کو فرشتے کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اور فرمایا اے رسول اللہ کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–160
آیت 158
یعنی ان مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی نسبی تعلق جوڑ دیا ہے۔ ان کا زعم باطل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹاں ہیں اور بڑے بڑے سردار جن ان کی مائیں ہیں، حالانکہ جنات بھی جانتے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز اور فروتر بندے ہیں۔ اگر ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔
(سبحن اللہ) ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیم کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کر رہے ہیں، جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے۔ (الا عباد اللہ المخلصین) اللہ تعالیٰ کے مخلص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
103 مشرکوں کے ایک اور کفریہ اور شرکیہ عقیدے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے رشتہ داری قائم کر رکھی ہے اللہ اور جنوں کے درمیان "۔ یہاں پر " جن " کے معنیٰ میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں اس لفظ کے وہی مشہور اور متبادر معنیٰ مراد لئے جائیں جو کہ عام طور پر اس لفظ سے سمجھے جاتے ہیں تو بھی صحیح ہے کہ مشرکوں کے اندر یہ شرک بھی موجود تھا۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدائے پاک کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور جنوں کو ان کی مائیں کہتے تھے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں پر اس لفظ کے لغوی معنی مراد لئے جائیں اور لغت کے اعتبار سے لفظ " جن " کا اطلاق فرشتے پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟
تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
ف 2 لغوی طور پر ” جن “ سے مراد ہر وہ مخلوق ہے جو پوشیدہ ہو اور نظر نہ آئے، اس لئے اکثر مفسرین (رح) نے اس آیت میں جنوں سے مراد فرشتے لئے ہیں۔ بعض مفسرین (رح) نے ان سے مراد اصطلاحی جن ہی لئے ہیں کیونکہ جیسا کہ یہ حضرات کہتے ہیں عربوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایک قبیلہ میں شادی کی اور اس سے فرشتے پیدا ہوئے، اوالعیاذ باللہ ( شوکانی) یا ” نسا “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شیطان کو شریک بنا لیا۔ ( قرطبی)3 اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جہاں جنوں مراد فرشتے ہیں اور اگر اصطلاحی جن ہی مراد لئے جائیں تو اس فقرہ کا یہ مطلب ہوگا کہ ” جنوں کو خوب علم ہے کہ وہ ( یعنی…
Read the full tafseer →(37:158) جعلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ جعل مصدر ایسی دستاویز جو کہ بمعنی بنانا۔ ٹھہرانا۔ مقرر کرنا۔ انہوں نے ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے قرار دیا ہے۔ ضمیر فاعل کا مرجع کفار قریش ہیں۔
بینہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔
الجنۃ : یہ جن یجن جنا (باب نصر) سے مشتق ہے۔ جن بمعنی ڈھانپ لینا چھپا لینا ۔ جو اس سے پوشیدہ ہوجانا۔ الجنۃ۔ الجن کی جمع ہے اور معنی مفعول مستعمل ہے۔ یعنی نظروں سے چھپا ہوا۔ پوشیدہ۔
امام راغب (رح) فرماتے ہیں :۔ لفظ جن کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔
(1) انسان کے مقابلہ میں ان تمام روحانیوں کو جن کہا جاتا ہے جو اس سے مستور ہیں۔ اس صورت میں جن کا لفظ ملائکہ اور شیاطین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
فرشتوں کو خدا کی اولاد کہنے کا الزام۔
(ف 1) شان نزول : بعض لوگوں نے بنی خزاعہ میں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے خاندان میں اپنی سسرالی کی بعض جنات کے ساتھ ملنے سے فرشتے پیدا ہوئے (معاذ اللہ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–162
خدا کے بیٹیاں کیوں ہیں ؟
1: خدا جانے کن وجوہ کی بناء پر مکہ والے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اور ان کے مجسموں کی پوجا کرتے تھے ۔ قرآن نے کئی مقامات پر اس عقیدے کو ذکر کیا ہے ۔ اور اس کی وضاحت کے ساتھ تردید فرمائی ۔ ان آیتوں سے مقصود بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے عقیدے کی کمزوری ملاحظہ کریں ۔ فرمایا تم یہ تو سوچو ۔ کہ جب تم اپنے لئے لڑکیوں کے انتساب کو پسند کرتے ہو ۔ تو اللہ نے آخر بیٹیوں کو کیوں پسند کیا ۔ اگر اس کے اولاد ہے ۔ تو وہ اولاد ذکور کیوں نہیں ؟ غرض یہ ہے کہ جو چیزیں تمہارے لئے باعث فخر ہیں ۔ ان کو اگر تم اللہ کے لئے بھی باعث اعزاز سمجھتے ہو ۔ تو اس میں کچھ معقولیت ہوسکتی ہے ۔…
Read the full tafseer →(158) اور ان معاندین و منکرین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان ناتا قرار دے رکھا ہے حالانکہ جنات کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ ان میں جو بدکردار اور کافر ہیں وہ گرفتار کرکے حاضر کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–163
ف 1۔ حاصل مقام کا یہ ہوا کہ جس کے تم مدعی ہو اس میں تین تو قبح ہیں اور دلیل ایک بھی نہیں، نہ مشاہدہ اور نہ عقل اور نہ نقل۔
Read the full tafseer →انہوں نے جنوں اور اللہ کے درمیان بھی ایک رشتہ قائم کردیا ہے :
158۔ اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ کفار عرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے پھر جب ان سے پوچھا گیا کہ اللہ کی کیسے بیٹیاں بناتے ہو تو ان کو کوئی جواب نہ آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے جنوں میں شادیاں کی اور وہاں سے اس کی بیٹیاں پیدا ہوگئیں اور پھر جب اس کا ثبوت ان سے طلب کیا گیا کہ یہ بات تو پہلی بات کی طرح بےثبوت ہے اس کی دلیل کیا ہے تو پھر کھسیانے ہو کر رہ گئے حالانکہ جن بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جیسے انسان اور دوسرے بیشمار مخلوق ہے پھر مخلوق اور خالق کا آپس میں کیسے رشتہ ہوگیا ۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے ان انسانوں سے فرمائی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
In verse 158, it was said: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (And they have made up between Him and the Jinns some kinship). There are two explanations of this sentence. According to the first Tafsir, this is a description of the false belief held by the Mushriks of Arabia that the daughters of the chieftains of the Jinns are mothers of the angels. As if, God forbid, the daughters of the chieftains of the Jinns have marital relations with Allah Ta’ ala and, as a result of this bond, angels have come to exist. Hence, it appears in an exegetical narration when the Mushriks of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–162
89 Though the word used is al jinnah instead of al-mala'ikah, some major commentators have opined that here the word jinn has been used for mala ikah in its literal sense (of hidden creation); mala ikah (angels) also are, in reality, a hidden creation, and the following theme also demands that al jinnah here be taken in the sense of al-mala'ikah
Read the full tafseer →