As-Saaffaat 37:157

As-Saaffaat · from ayah 157

37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then produce your scripture, if you should be truthful.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:157

تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو جاؤ اگر سچے ہو تو اپنی ہی کتاب لے آؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنی کتاب لاؤ اگر تم سچے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم اپنی کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو لاؤ اپنی کتاب، اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر تم سچے ہو تو ایسی تحریر لا کر دکھاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس پیش کرو تم اپنی کتاب اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو لے آؤ تم اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

تو اچھا اپنی وہ کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو لائو تم اپنی کتاب اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

— محترمہ رفعت اعجاز

Bring your Book, if you are truthful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then bring your book, if you are truthful.

— Muhammad Taqi Usmani

Then bring your book, if you are truthful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then bring your Book if you are truthful!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then produce your writ, if ye are truthful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then produce your scripture, if you should be truthful.

— Saheeh International

Bring your book if what you say is true.

— Muhammad Sarwar

Then bring your book, if you are truthful.

— Muhammad Habib Shakir

Then bring your book, if ye say sooth.

— Abdul Majid Daryabadi

Then bring ye your Book (of authority) if ye be truthful!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:157

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 88 یعنی ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے کے لیے دو ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو ایسی بات مشاہدے کی بنا پر کہی جاسکتی ہے، یا پھر اس طرح کا دعویٰ کرنے والے کے پاس کوئی کتاب الٰہی ہونی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہو کہ ملائکہ میری بیٹیاں ہیں۔ اب اگر اس عقیدے کے قائلین نہ مشاہدے کا دعویٰ کرسکتے ہیں، اور نہ کوئی کتاب الہٰی ایسی رکھتے ہیں جس میں یہ بات کہی گئی ہو، تو اس سے بڑی جہالت و حماقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ محض ہوائی باتوں پر ایک دینی عقیدہ قائم کرلیا جائے اور خداوند عالم کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو صریحاً مضحکہ انگیز ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–157

خلاصہ تفسیر (توحید کے دلائل تو اوپر بیان ہوچکے) سو (اب اس کے بعد) ان لوگوں سے (جو ملائکہ اور جنات کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس طرح کہ ملائکہ کو نعوذ باللہ خدا کی بیٹیاں اور جنات کے سرداروں کی بیٹیوں کو ان فرشتوں کی مائیں قرار دیتے ہیں جس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے نسبی رشتہ ہے، اور جنات سے زوجیت کا تعلق ہے، سو ان سب سے) پوچھئے کہ کیا خدا کے لئے تو بیٹیاں (ہوں) اور تمہارے لئے بیٹے (ہوں، یعنی جب اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو تو عقیدہ مذکور میں خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہو، پس اس عقیدے میں ایک خرابی تو یہ ہے اور) ہاں (دوسری بات سنو کہ) کیا ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 156–158

ام تکم سلطن مبین فاتا یکتا بکم ان کنتم صدقین (157-156) فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اس کی کوئی واضح حجت ہو تو اس کو پیش کرو۔ واضح حجت کی وضاحت یہاں کتاب کے لفظ سے فرما دی ہے کہ اگر تمہارے پاس کسی آسمانی کتاب کی شادت تمہارے اس دعوے کے حق میں موجود ہو تو اس کو پیش کرو۔ خدا کے باب میں کسی کو کوئی بات من گھڑت طور پر کہنے کا حق نہیں ہے۔ بلکہ صرف دلیل وبرہان کی بنیاد پر کہنے کا حق ہے اور سب سے زیادہ واضح برہان اس کی کتاب ہو سکتی ہے جو اس نے لوگوں کی تعلیم و ہدایت کے لئے اماری ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 156–157

157۔ 1 یعنی عقل تو اس عقیدے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ کی اولاد ہے، اور وہ بھی مؤنث، چلو کوئی نقلی دلیل ہی دکھا دو ، کوئی کتاب جو اللہ نے اتاری ہو، اس میں اللہ کی اولاد کا اعتراف یا حوالہ ہو ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 149–157

29: جیسا کہ سورت کے شروع میں عرض کیا گیا، مکہ مکرمہ کے بت پرست، فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ یہاں سے ان کے اس بےہودہ عقیدے کی تردید ہورہی ہے۔ یہ بت پرست اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ ان میں سے کچھ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اول تو یہ فرما رہے ہیں کہ یہ کیسے غضب کی بات ہے کہ تم اپنے لیے تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیوں کا عقیدہ رکھتے ہو۔ پھر آگے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے، نہ بیٹوں کی نہ بیٹیوں کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 156–157

ام لکم ۔۔۔۔۔ صدقین (37: 156 – 157) ” پھر کیا تمہارے پاس اپنی باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو “۔ ان کا دوسرا افسانہ یہ تھا کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 156–157

2 یعنی آخر یہ مہمل اور بےتکی بات نکالی کہاں سے۔ عقل و فہم اور اصول سے تو اس کو لگاؤ نہیں۔ پھر کیا کوئی نقلی سند اس عقیدہ کی رکھتے ہو۔ ایسا ہے تو بسم اللہ وہ ہی دکھلاؤ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 157{ فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”تو لائو تم اپنی کتاب اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 دعویٰ کے اثبات کے لئے دو طرح کے دلائل عینی شہادت اور نقلی دلیل :۔ کسی دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے دو طرح کے دلائل ہی کام دے سکتے ہیں۔ ایک عینی شہادت جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب سے پوچھا کہ جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو اس وقت تم موجود تھے اور یہ دیکھا تھا کہ انہیں عورتیں بنا کر پیدا کیا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ مشرکین عرب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا اور حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں میں نرو مادہ کی تمیز ہے ہی نہیں اور دوسری دلیل کوئی نقلی دلیل بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی کسی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عورتیں بنا کر پیدا کیا ہے اور وہ اس کی بیٹیاں ہیں۔ اگر مشرکین عرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 156–157

85۔ یعنی دلیل عقلی نہیں قائم کرسکتے ہو تو کوئی مستند مذہبی نوشتہ ہی پیش کرو، جس میں یہ عقیدہ درج ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاتوا بکتبکم ان کنتم صدقین سو اگر تم اس میں سچے ہو تو اپنی وہ کتاب پیش کرو۔ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌکھلی ہوئی دلیل جو اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہو اور بتارہی ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اسباب علم (بقول اشاعرہ) ہیں : عقل ‘ حس اور سچی خبر ‘ اور سچی خبر جب تک حس پر مبنی نہ ہو مفید یقین ہوتی ‘ یا اللہ کی طرف سے اطلاع ملی ہو (تو ایسی خبر موجب یقین ہوتی ہے) دلالت عقل کی نفی تو پہلی آیت میں کردی اور فرما دیا : اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَھُمْ الْبَنُوْنَ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ کا صاحب اولاد ہونا عقلاً محال ہے ‘ اس پر مزید یہ کہ کوئی ہوشمند ملائکہ کو عورتیں نہیں سمجھ سکتا ‘ کوئی صحیح عقل ادراک نہیں کرسکتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 156–157

(156۔ 157) کیا جو تم کہتے ہو اسے سوچتے نہیں کیا تمہارے پاس اے مکہ والو اس کے بارے میں کوئی کتاب ہے جس میں اس پر واضح دلیل ہو کہ نعوذ باللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہوت تو وہ کتاب پیش کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 156–157

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِيْنٌ : دعوے کو ثابت کرنے کے لیے یا عینی شہادت ہوتی ہے یا کوئی نقلی دلیل۔ عینی شہادت کا رد یہ کہہ کر فرمایا کہ جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو کیا تم موجود تھے ؟ ظاہر ہے موجود نہیں تھے۔ اب کسی معتبر نقلی دلیل کا مطالبہ فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب ہے جس میں لکھا ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ جب یہ بھی نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ تمہارے عقائد من گھڑت اور جھوٹ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 149–157

149 ۔ 157:۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لئے سابقہ قوموں کی خبروں کو ذکر کیا تو اب کفار کے قول کے خلاف استدلال کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں فاستفتہم سورت کے آغاز میں جو اس قسم کا کلام ہے اس پر معطوف ہے اگرچہ دونوں میں طویل مساف ہے اے محمد ! ﷺ اہل مکہ سے پوچھو ! کیا تیرے رب کی بیٹیاں ہیں : اس کی وجہ یہ تھی کہ جہینہ ‘ خزاعہ ‘ بنو ملیح ‘ بنو سلمہ اور بنو عبدالدار نے یہ گمان کیا تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بٹیاں ہیں ‘ یہ سوال زجر و توبیخ کے لئے ہے۔ شھدون کا معنی ہے جب ہم نے فرشتوں کو مٔونث بنایا اس وقت وہ حاضر تھے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 149–159

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاستفتھم “ یعنی اس سے سوال کیجئے یعنی قریش کے مشرکین سے (آیت ) ” الربک البنات ولھم البنون “ (کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں) کیونکہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں اور انہوں نے کہا کہ فرشتے عورتیں ہیں، تو فرمایا (آیت ) ” ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون “ (کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے) اسی طرح فرمایا (آیت ) ” الا انھم من افکھم لیقولون (151) ولد اللہ وانہم لکذبون (152) اصطفی البنات علی البنین “ (خبردار وہ کہتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ [تو تم لوگ لاؤ اپنی کتاب ] [اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : اگر تم لوگ ہو سچ کہنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کی تردید جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے شیطان نے اپنی کوششوں سے انسانوں کو توحید سے ہٹایا اور شرک کا رواج ڈالا، اس سلسلہ میں اس کی جو کوششیں آگے بڑھیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بتوں کی عبادت پر تو ڈالا ہی تھا جنات اور فرشتوں کے بارے میں بھی لوگوں کو یہ سمجھایا کہ ان میں اور خالق کائنات جل مجدہ کے درمیان رشتہ داری ہے چناچہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا، لوگ شیاطین کی بات مانتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں لگا دیں جن سے وہ بری ہے اور پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا اس کی شان یکتا کے خلاف ہے، اس کی شان (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ) ہے نہ اس نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–166

مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔ (ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 151–158

62: وجعلوا الخ : یہ جنوں کے حال کا اعادہ ہے۔ بعض مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی (عیاذا باللہ) رشتہ قائم کر رکھا تھا ان کے خیال میں فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اور ان کی مائیں شاہان جنات کی شہزادیاں ہیں۔ قال مجاھد والسدی و مقاتل ایضا القائل بذلک کنانۃ و خزاعۃ قالوا ان اللہ خطب الی سادات الجن فزوجوہ من سروات بناتہم فالملائکۃ بنات اللہ من سروات بنات الجن (قرطبی ج 15 ص 135) ۔ یا نسب سے مراد مناسبت ہے۔ یعنی انہوں نے شیاطین کو اللہ کی عبادت میں شریک کرلیا۔ اور ان کو شفیع غالب سمجھنے لگے۔ او ارید جعلوا بینہ سبحانہ و بینہم مناسبۃ حیث اشرکوھم بہ تعالیٰ فی استحقاق العبادۃ (روح ج 23 ص 151) ۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 149–166

ربط آیات اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 157 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7»…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 149–163

فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟ دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 156–157

اَمْ لَـکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ۔ فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الصآفات : 156، 157) (کیا تمہارے پاس (ان باتوں کے لیے) کوئی واضح دلیل موجود ہے۔ تو لائو اپنی وہ کتاب اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ ) اپنے موقف پر کوئی واضح دلیل کتاب سے پیش کرو یعنی بظاہر تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ کوئی نقلی اور نہ کوئی عرفی۔ اس کے باوجود بھی تمہیں دعویٰ ہے اپنی بات کے صحیح ہونے کا، تو محض خالی دعویٰ تو کوئی معنی نہیں رکھتا، اس کے لیے تم اپنے پاس کوئی مضبوط دلیل رکھتے ہو تو اسے پیش کرو۔ لیکن وہ مضبوط دلیل کسی آسمانی کتاب کی شہادت کی صورت میں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 150–163

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے شرک سے توبہ کی جس کے نتیجے میں عذاب سے بچ گئی۔ اہل مکہ کو اس واقعہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو شرک سے توبہ کرلو بصورت دیگر تباہی تمہارا مقدر ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کس قسم کے شرک میں ملوث تھی۔ تاہم آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دیگر اقسام کے ساتھ یونس (علیہ السلام) کی قوم میں یہ شرک بھی پایا جاتا تھا کہ وہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں خیال کرتے اور ان کے واسطے اور طفیل دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ جنّات کے بارے میں بھی ان کے ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

157: فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ (پس اپنی وہ کتاب پیش کرو) جو تم پر اس سلسلہ میں اتری ہو۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اپنے اس دعویٰ میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

157، فاتو ابکتا بکم، ایسی دلیل لے آؤ جس میں تمہارے لیے حجت ہو۔ ، ان کنتم صادقین، اگر تم اپنے قول میں سچے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 149–157

149۔ 157۔ اوپر پہلے کے انبیاء اور ان کی نافرمان امتوں کا ذکر فرما کر تنبیہ کے طور پر قریش کی ایک نافرمانی کا یوں ذکر فرمایا۔ کہ اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ تم لوگ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں جو کہتے ہو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے تو کیا اس وقت تم نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں۔ پھر فرمایا جب یہ بات نہیں ہے تو یہ ان لوگوں کا ایک جھوٹ ہے کہ یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرا کر اللہ کے لئے بیٹیاں اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ یہ لوگ کیا بکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو بات یہ لوگ منہ سے نکالتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہیں ہے تو اس کے سچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 149–157

آیت 149 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ سے فرماتا ہے : (فاستفتھم) یعنی غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انہوں نے شرکت کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں۔ (الربک البنات ولھم البنون) ” کیا آپ کے رب کی بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں ؟ “ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنائی اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنادیں، حالانکہ وہ خود اپنے لیے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 147–182

او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

102 مشرکین سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ : سو ان سے صاف وصریح طور پر حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ " لاؤ تم لوگ اپنی کتاب اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں "۔ یعنی دلیل و ثبوت کے لئے یا تو مشاہدہ درکار ہوتا ہے جس کی نفی اوپر آیت نمبر 150 میں ہوگئی۔ یا پھر کوئی سند اور کتاب چاہیئے ہوتی ہے۔ سو اس کی نفی اب یہاں فرمائی جا رہی ہے کہ ایسی کوئی کتاب نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ تو پھر جب عقل و نقل کی کوئی بھی دلیل تمہارے پاس موجود نہیں ہے اے مشرکو تو پھر تم اتنی بڑی گستاخی اور اس قدر سنگین بات آخر کس برتے اور کس بنیاد پر کہتے ہو جس سے زمین و آسمان پھٹ پڑیں ؟- { تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 149–166

کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 157–158

ف 2 لغوی طور پر ” جن “ سے مراد ہر وہ مخلوق ہے جو پوشیدہ ہو اور نظر نہ آئے، اس لئے اکثر مفسرین (رح) نے اس آیت میں جنوں سے مراد فرشتے لئے ہیں۔ بعض مفسرین (رح) نے ان سے مراد اصطلاحی جن ہی لئے ہیں کیونکہ جیسا کہ یہ حضرات کہتے ہیں عربوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایک قبیلہ میں شادی کی اور اس سے فرشتے پیدا ہوئے، اوالعیاذ باللہ ( شوکانی) یا ” نسا “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شیطان کو شریک بنا لیا۔ ( قرطبی)3 اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جہاں جنوں مراد فرشتے ہیں اور اگر اصطلاحی جن ہی مراد لئے جائیں تو اس فقرہ کا یہ مطلب ہوگا کہ ” جنوں کو خوب علم ہے کہ وہ ( یعنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 156–157

(37:156) ام لکم سلطان مبین۔ ام بطور حرف اضراب استعمال ہوا ہے ای بل ألکم حجۃ واصحۃ نزلت من السماء بان الملئکۃ بناتہ تعالیٰ بلکہ کیا تمہارے پاس کوئی آسمان سے نازل شدہ واضح دلیل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ فائدہ : پہلے فرمایا الربک البنات ولہم البنون یہ صورت عقلاً محال ہے لہٰذا یہ ان کا دعوی عقلا باطل ہوا۔ پھر فرمایا :۔ ام خلقنا الملئکۃ انثا وہم شھدون ۔ یہ صورت عینی شہادت کی ہے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہے لہٰذا یہ دعوی بھی باطل ٹھہرا۔ تیری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ :۔ اس امر کی کوئی واضح دلیل کسی معتبر کی طرف سے ہو اور وہ معتبر ذات خدا وند تعالیٰ کی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ :۔ اگر تمہارے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 149–166

لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 149–157

اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین سے پوچھو کہ اتنی بڑی عظمت وقدرت والے اللہ کے لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے تم لوگ خدا کے لیے ایسی چیز پسند کرتے ہو جو اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اور یہ کہتے ہو کہ فرشتے عورتیں ہیں اور خدا کی لڑکیاں ہیں اس کا جواب اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے تم کو خوب معلوم ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جو گواہی دیتے ہو بلکہ یہ لوگ اپنے شیطانی وسواس سے افتراء کرکے یہ کہتے ہیں کہ خدا کی اولاد ہے یہ جھوٹے ہیں کیا اس نے لڑکے چھوڑ کر لڑکیاں اپنے لیے بنائیں عورتوں کو اپنے لیے پسند کیا افسوس تمہارے حال و خیال پر، تم کیسے نامعقول حکم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 149–162

خدا کے بیٹیاں کیوں ہیں ؟ 1: خدا جانے کن وجوہ کی بناء پر مکہ والے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اور ان کے مجسموں کی پوجا کرتے تھے ۔ قرآن نے کئی مقامات پر اس عقیدے کو ذکر کیا ہے ۔ اور اس کی وضاحت کے ساتھ تردید فرمائی ۔ ان آیتوں سے مقصود بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے عقیدے کی کمزوری ملاحظہ کریں ۔ فرمایا تم یہ تو سوچو ۔ کہ جب تم اپنے لئے لڑکیوں کے انتساب کو پسند کرتے ہو ۔ تو اللہ نے آخر بیٹیوں کو کیوں پسند کیا ۔ اگر اس کے اولاد ہے ۔ تو وہ اولاد ذکور کیوں نہیں ؟ غرض یہ ہے کہ جو چیزیں تمہارے لئے باعث فخر ہیں ۔ ان کو اگر تم اللہ کے لئے بھی باعث اعزاز سمجھتے ہو ۔ تو اس میں کچھ معقولیت ہوسکتی ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(157) سو اگر تم سچے ہو تو وہ اپنی کتاب لائو۔ یعنی تم بیٹیوں کو اپنے لئے تو عیب اور ذلت و رسوائی کا سبب اس بات کی کوئی نقلی دلیل ہے اور تم سچے ہو تو اس کتاب کو لاکر پیش کرو کیونکہ عقلی دلیل تو تمہارے پاس نہیں عقل تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ہی سے انکار کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو اولاد سے پاک بتاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 157–163

ف 1۔ حاصل مقام کا یہ ہوا کہ جس کے تم مدعی ہو اس میں تین تو قبح ہیں اور دلیل ایک بھی نہیں، نہ مشاہدہ اور نہ عقل اور نہ نقل۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس اپنی نقلی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو ؟ : 157۔ ان عقائد ونظریات میں تم سچے ہو تو اپنی نقلی یا عقلی دلیل پیش کرو اگر تم رکھتے ہو ؟ میں تو تمہارے پاس قرآن کریم اللہ کی کتاب کے طور پر پیش کررہا ہو اور ہر اس بات پر جو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں سو سو عقلی دلیلیں بھی پیش کرتا ہوں اس کائنات کے ایک ایک ذرہ سے لے کر بڑے بڑے فلکی اجرام سے استشہاد کرتا ہوں اور سب سے بڑھ کر تمہاری اپنی جانوں کے اندر کی شہادتیں پیش کرتا ہوں اگر تمہارے پاس بھی کوئی حکمت ہے ‘ کوئی کتاب ہے کوئی پیغام پہلی کتابوں کا ہے تو اس کو پیش کرو اگر تم سچے ہو ورنہ تسلیم کرلو کہ سچائی نام کی کوئی چیز تمہارے پاس موجود نہیں ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–157

Commentary Events relating to the noble prophets described earlier provided some good counsel and some lessons to learn. Now, once again, the text turns to the essential subject of the affirmation of pure monotheism (tauhid) and the refutation of ascribing partners to the pristine divinity of Allah (shirk). Then, described at this particular place is the shirk of a particular kind. The disbelievers of Arabia believed that angels were the daughters of Allah Ta’ ala, and the daughters of the chieftains of Jinns were the mothers of angels. According to ` Allamah Whidi, this belief was not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

88 That is, "There can be only two bases for regarding the angels as the daughters of Allah: Either such a thing could be said on the basis of observation, or the one who asserted it should possess a Divine book in which Allah Himself might have stated that the angels were His daughters. Now, if those who held such belief could neither make a claim to have observed such a thing nor did they possess any divine book that might contain such a thing, there could be no greater stupidity than this that one should base one's religious belief on mere conjecture, and attribute to AIlah, Lord of the…

Read the full tafseer →