Explained with ayahs 139–148
واقعہ حضرت یونس ؑ۔
حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 79
ان فقروں پر غور کرنے سے جو صورت واقعہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ
(1) حضرت یونس جس کشتی میں سوار ہوئے تھے وہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی (Overloaded) تھی۔
(2) قرعہ اندازی کشتی میں ہوئی، اور غالباً اس وقت جب بحری سفر کے دوران میں یہ محسوس ہوا کہ بوجھ کی زیادتی کے سبب سے تمام مسافروں کی جان خطرے میں پڑگئی ہے۔ لہٰذا قرعہ اس غرض کے لیے ڈالا گیا کہ جس کا نام قرعہ میں نکلے اسے پانی میں پھینک دیا جائے۔
(3) قرعہ میں حضرت یونس ہی کا نام نکلا، وہ سمندر میں پھینک دیے گئے اور ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا۔
(4) اس ابتلا میں حضرت یونس اس لیے مبتلا ہوئے کہ وہ اپنے آقا (یعنی اللہ تعالیٰ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
فَسَاهَمَ (پس وہ شریک قرعہ اندازی ہوئے) یہ قرعہ اندازی اس وقت کی گئی جبکہ کشتی بیچ دریا کے پہنچ کر طوفان میں گھر گئی اور وزن کی زیادتی سے اس کے ڈوبنے کا اندیشہ ہوگیا، اور طے یہ پایا کہ ایک شخص کو دریا میں پھینک دیا جائے، قرعہ متعین کرنے کے لئے ڈالا گیا کہ وہ شخص کون ہے ؟
قرعہ اندازی کا حکم
یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ نہ کسی کا حق ثابت کیا جاسکتا ہے نہ کسی کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً قرعہ کے ذریعہ کسی کو چور ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اگر دو آدمیوں میں یہ اختلاف ہو کہ فلاں جائیداد کس کی ملکیت ہے تو قرعہ کے ذریعہ اس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، ہاں قرعہ اندازی اس موقع پر…
Read the full tafseer →فالتقمہ الحوث وھو سلیم (142)
حوت سے مراد کوئی بڑی قسم کی سمندری مچھلی ہے۔ سمندر میں وہیل اور شارک کے قسم کی مچھلیاں ہوتی ہیں جو آدمی کو سمو چانگل سکتی ہیں۔ اسی قسم کی کسی مچھلی نے حضرت یونس کو نگل لیا۔ وھو ملیم یعنی یہ افتاد جو ان کو پیش آئی تو وہ اس کے سزا وار تھے اس لئے کہ ان سے ایک ایسا فعل سر زد ہوا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مستحق تنبیہ ٹھہرایا۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ اگر حضرت یونس نے جو اقدام کیا تھا وہ ایک نیک جذبہ سے کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے اذن کے بدون کیا تھا اس وجہ سے اس پر ان کی گرفت ہوئی اور گرفت آدمی کے درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے ہوتی ہے اس وجہ سے گرفت سخت ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
142۔ 1 حضرت یونس ؑ عراق کے علاقے نینوی (موجودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے، یہ آشوریوں کا پایہ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ بنواسرائیلیوں کو قیدی بنایا ہوا تھا، چناچہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت یونس ؑ کو بھیجا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہ لائی۔ بالآخر اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر وہاں سے نکل گئے اور سمندر پر جا کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ اپنے علاقے سے نکل کر جانے کو ایسے لفظ سے تعبیر کیا جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ بھی اللہ کی اجازت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–144
26: حضرت یونس ؑ کا واقعہ اختصار کے ساتھ سورة یونس (10۔ 98) میں بھی گزر چکا ہے، اور سورة انبیاء (21۔ 87) میں بھی۔ وہ عراق کے شہر نینوا میں بھیجے گئے تھے، اور انہوں نے ایک عرصے تک اپنی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور جب وہ نہ مانی تو انہیں متنبہ کردیا کہ اب تم پر تین دن کے اندر اندر عذاب آکر رہے گا، قوم کے لوگوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ حضرت یونس ؑ چونکہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اس لئے اگر وہ بستی سے چلے جاتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، اس کے بعد حضرت یونس ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہ بستی چھوڑ کر باہر چلے گئے، ادھر بستی کے لوگوں نے جب دیکھا کہ آپ بستی میں نہیں ہیں اور کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148)
قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے…
Read the full tafseer →5 الزام یہ ہی تھا کہ خطائے اجتہادی سے حکم الٰہی کا انتظار کیے بغیر بستی سے نکل پڑے اور عذاب کے دن کی تعیین کردی۔
Read the full tafseer →آیت 142{ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَہُوَ مُلِیْمٌ } ”تو اس کو نگل لیا مچھلی نے اور وہ ملامت زدہ تھا۔“
یہ کوئی بہت بڑی وہیل مچھلی ہوگی۔ آج تو ہم مچھلیوں کی بہت سی ایسی اقسام کو بخوبی جانتے ہیں جو بڑی آسانی سے ایک ہی لقمے میں انسان کو نگل سکتی ہیں۔ وَہُوَ مُلِیْمٌ کے الفاظ میں ناراضگی اور خفگی کا انداز پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اللہ کے ہاں ع ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے“ کے مصداق کسی بہت بڑی شخصیت کی چھوٹی سی غلطی پر بھی بہت سخت گرفت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
83 مُلِیْمٌکا معنی وہ شخص ہے جس کا ضمیر خود ہی ملامت کر رہا ہو کہ وہ واقعی مجرم ہے اور کوئی ملامت کرے یا نہ کرے۔ اور سیدنا یونس کو اپنی اجتہادی غلطی کا احساس بھاگنے کے فوراً بعد ہی ہوگیا تھا۔ اور قرعہ میں ہر بار آپ کا نام نکلنے پر اس کا یقین ہوگیا۔
84 چناچہ آپ مچھلی کے پیٹ میں چلے جانے کے بعد اپنے پروردگار کے حضور توبہ استغفار میں مشغول رہنے لگے۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں آپ کا وظیفہ یہ ہوتا تھا۔ (لاَاِلٰہَ الاَّ أنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمیْن) َجیسا کہ سورة انبیاء کی آیت نمبر 87 میں مذکور ہے۔ اگر آپ یہ کلمات تسبیحات نہ پڑھتے رہتے تو ہمیشہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے یعنی اس…
Read the full tafseer →75۔ عجب نہیں کہ آپ پیرا کی جانتے ہوں، اور ممکن تھا کہ پیر کر کنارہ تک پہنچ جاتے کہ حکم خداوندی سے ایک بڑی قدآور مچھلی نے آپ کو نگل لیا، شارک وغیرہ کی قسم کی بڑی قدآور مچھلیوں کا انسان کو نگل لینا حال میں بھی مشاہدہ میں آچکا ہے۔ صاحب روح المعانی نے جو عراقی ہیں، اور یونس سے متعلق روایت توریت سے بھی خوف واقف ہیں، اپنا مشاہدہ دجلہ سے متعلق لکھا ہے :۔ وقد شاھدنا فیھا حیتانا عظیمۃ جدا ہم نے اس میں بہت ہی عظیم الجثہ مچھلیاں دیکھی ہیں، توریت میں ہے :” خداوند نے ایک، بڑی مچھلی مقرر کر رکھی تھی کہ یوفاہ کو نگل جاوے، اور یوفاہ تین دن رات مچھلی کی پیٹ میں رہا (یوفاہ۔ 1: 17)
76۔ (اپنی اس اجتہادی غلطی پر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →فالتقمہ الحوت وھو ملیم پھر ان کو مچھلی نے (ثابت) نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔
اِلْتَقَمَہٗاس کو لقمہ بنا لیا (یعنی ثابت نگل لیا) مُلِیْمٌیعنی ملامت میں داخل ہونے والے تھے ‘ یا ایسا فعل کیا تھا جس پر ان کو ملامت کی جاسکتی تھی ‘ یا خود اپنے کو ملامت کر رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
(141۔ 142) تو یونس بھی کشتی میں شریک قرعہ ہوئے تو قرعہ میں انہی کا نام نکلا انہوں نے اپنے آپ کو پانی میں ڈال دیا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو مچھلی نے نگل لیا تو یہ خود ہی کو ملامت کر رہے تھے کیونکہ قوم سے بھاگ کر آئے تھے۔
Read the full tafseer →فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَهُوَ مُلِـيْمٌ : ”الْحُوْتُ“ مچھلی۔ اکثر بڑی مچھلی کو ”حُوت“ کہا جاتا ہے۔ ”مُلِـيْمٌ“ ”أَلَامَ یُلِیْمُ“ (افعال) ملامت والا کام کرنا، ملامت کا مستحق ہونا۔ ”مُلِـيْمٌ“ ملامت کا مستحق، خواہ اسے ملامت کی جائے یا نہ کی جائے۔ جب یونس ؑ کو سمندر میں پھینکا گیا تو اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے انھیں سالم نگل لیا۔ مستحق ملامت اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر قوم سے نکل آئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–144
139 ۔ 144:۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 حضرت یونس ہی ذوالنون ہیں جو متی کے بیٹے ہیں یہ اسی بوڑھی کی بیٹے ہیں جس کے پاس حضرت الیاس (علیہ السلام) ٹھہرے تھے چھ ماہ تک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی والدہ خود ہی ان کی خدمت کرتی اور موانست کیا کرتی تھی اور جس پر بھی قادر ہوتی حضرت الیاس کی تکریم کی خاطر ذخیرہ نہ کرتی۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) گھر والوں کی تنگی سے اکتا گئے اور پہاروں کی طرف چل دیئے ‘ اس عورت کا بیٹا حضرت یونس فوت گیا وہ عورت حضرت الیاس کے پیچھے نکل کھڑی ہوئی وہ ان کے پیچھے پہاڑوں میں سرگرداں رہی یہاں تک کہ انہیں تلاش کرلیا اس عورت نے سوال کیا کہ وہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
1:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزہد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان یونس لمن المرسلین (139) اذابق الفلک المشحون “ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے یونس (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تیری قوم پر فلاں دن اس طرح اور اس طرح عذاب آئے گا جب وہ دن آیا تو یونس وہاں سے چلے گئے تو ان کی قوم نے ان کو گم پایا تو وہ لوگ چھوٹے اور بڑے جانور اور ہر چیز کو لے کر (ایک میدان میں) نکلے پھر انہوں نے والدہ کو اس کے بچوں سے بکری کو اپنے بچے سے اور اونٹنی اور گائے کو اپنے بچوں سے الگ کردیا ان کو چیخ و پکار کی آواز سنی گئی اور ان کے…
Read the full tafseer →فَالْتَقَمَهُ [پھر نگل لیا ان (علیہ السلام) کو ] الْحُوْتُ [مچھلی نے ] وَهُوَ [اس حال میں کہ وہ ] مُلِـيْمٌ [خود کو ملامت کرنے والے تھے ] ۔
ل ق م
(س) لقما جلدی جلدی کھانا۔
(افتعال) التقاما کسی چیز کو نگل لینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 142 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا کشتی سے سمندر میں کود پڑنا، پھر مچھلی کے پیٹ میں تسبیح میں مشغول رہنا
ان آیات میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی بعثت اور مصیبت اور ان کی قوم کی ضلالت اور پھر ہدایت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ ایک عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور قوم نے نہ مانا انکار پر تلے رہے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرما دیا کہ دیکھو تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا، اس کے بعد دو دن تک انتظار کیا، تیسرے دن بھی انتظار میں تھے لیکن عذاب کے آثار نہیں دیکھے، جب یہ صورت حال سامنے آئی تو یہ سمجھ کر کہ اگر عذاب نہ آیا تو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
قصہ ششم یونس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان یونس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ فمتعنہم الی حین۔
یہ چھٹا قصہ یونس بن متی (علیہ السلام) کا ہے جو اس سورت کا آخری قصہ ہے کہ جو اپنی قوم کی ایذا پر صبر نہ کرسکے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے اور یہی یونس (علیہ السلام) ذوالنون نبی ہیں جنہوں نے بحکم خداوندی اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا جب وہ ایمان نہ لائے اور برابر کفر اور تکذیب پر ڈٹے رہے تو سجھ گئے کہ انکار بھی وہی انجام ہوگا جو سرکشوں اور نافرمانوں کا ہوا کرتا ہے اس لئے سمجھ گئے کہ عنقریب عذاب آنے والا ہے تو بغیر انتظار وحی کے اور بغیر حکم خداوندی کے یونس (علیہ السلام) اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–143
57:۔ فلولا انہ الخ : حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں اللہ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مصروف ہوگئے اور اپنی لغزش کا اعتراف کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت سے نجات عطا فرمائی۔ جیسا کہ سورة انبیاء (رکوع 6) میں ہے۔ فنادی فی اظلمت ان لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ اگر یونس (علیہ السلام) اللہ کو نہ پکارتے اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف نہ ہوتے تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ربط آیات
پہلے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا ، پھر الیاس (علیہ السلام) کا اور پھر لوط (علیہ السلام) کا۔ یہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے جنہوں نے ایمان اور توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی ، مگر لوگوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ شدید مخالفت کی اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی قوم کو غرق کیا ، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے مخالفین بھی بحر قلزم میں ڈوبے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو بعل کی پوجا سے منع کیا۔ وہ بھی باز نہ آئے تو اللہ نے ان پر بھی عذاب بھیجا۔ اللہ نے حضرت لوط…
Read the full tafseer →فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَہُوَمُلِـيْمٌ 142
لقم
لُقْمَانُ : اسم الحکيم المعروف، واشتقاقه يجوز أن يكون من : لَقِمْتُ الطّعام أَلْقَمُهُ وتَلَقَّمْتُهُ ، ورجل تَلْقَامٌ: كثير اللُّقَمِ ، واللَّقَمُ أصله الملتقم، ويقال لطرف الطریق : اللَّقَمُ.
( ل ق م ) لقمان مشہور حکیم کا نام ہے ہوسکتا ہے کہ یہ بھی لقمت الطعام القمہ وتلقمتہ سے مشتق ہو جس کے معنی کسی چیز کو ہڑپ کو جانا کے ہیں ۔ رجل تلقام ۔ بڑے بڑے لقمے نگلنے والا ۔ اللقیم ۔ لوالا اور راستہ کی ایک جانب کو لقم کہاجاتا ہے ۔
حوت
قال اللہ تعالی: نَسِيا حُوتَهُما[ الكهف/ 61] ، وقال تعالی: فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ [ الصافات/ 142] ، وهو السّمک العظیم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
وان یونس یہ چھٹا قصہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کا ہے جس کا مفصل بیان ہم سورة یونس میں کر آئے ہیں۔ یہ حضرت بھی بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ عبرانی میں ان کو یونہ کہتے ہیں۔ متی ان کے والد کا نام ہے۔ مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو باسٹھ برس آگے ان کو حکم ہوا کہ شہر نینوہ میں جاکر منادی کرے۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ حلیم و غفار ہے جس عذاب کا میں ان سے وعدہ کروں گا، اس کے موافق شاید ان پر بلا نہ پہنچے، میں جھوٹا پڑوں اس لیے وہاں سے بھاگ کر شہر ترسیس کو چلے اور یافہ سے جو جہاز ترسیس جانے کو تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں سخت طوفان آیا، قرعہ ڈالا گیا کہ کس کے سبب سے یہ بلا آئی ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ۔ فَسَاھَمَ فَـکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ ۔ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَھُوَ مُلِیْمٌ۔ (الصآفات : 139 تا 142)
(اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔ یاد کرو جبکہ وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا۔ پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا پس وہ دھکیلا گیا۔ پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ سزاوارِملامت تھا۔ )
حضرت یونس (علیہ السلام) کی سرگزشت کے اہم واقعات
اس سے پہلے قرآن مجید میں سورة یونس اور سورة انبیاء میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب قرآن کریم میں آپ کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–149
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔
حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر…
Read the full tafseer →مچھلی کا نگلنا اور پھر اگلنا :
142: فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَھُوَ مُلِیْمٌ (پھر ان کو مچھلی نے نگل لیا اور یہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے) ملیمؔ ملامت میں داخل ہونے والا۔
Read the full tafseer →تفسیر 142۔ ، فالقمہ الحوت، ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ ، وھو ملیم ، اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
139۔ 148۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة الانبیا میں بھی گزر چکا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ عبد اللہ بن مسعود کی صحیح روایت سے جو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں نینویٰ بستی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے حضرت یونس نبی ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے حضرت یونس کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔ اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے۔ جب نینوا کے لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور گڑگڑاتے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–147
آیت 133
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا، جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ (الا عجوزا فی الغبرین) سو اے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر تھی۔
(ثم دمرنا الاخرین) ” پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا : (آیت) ” ہم نے ان کی بستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–146
کسی کو قتل وغیرہ پر قرعہ اندازی نہیں ہوسکتی
قول باری ہے (فساھم فکان من المدحضین۔ پھر وہ شریک قرعہ ہوئے اور وہ مجرم قرار پائے گئے) بعض جہلانے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی بیمار شخص اپنے غلاموں میں سے چند کو آزاد کرنے کا اعلان کردے تو آزادی کے لئے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی واجب ہوگی اور جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ آزادہوجائے گا۔
یہ استدلال معتدل کی غفلت اور جہالت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لئے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سمندر میں پھینکے جانے کے سلسلے میں شریک قرعہ ہوئے تھے، یہ صورت فقہاء میں سے کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے جس طرح ایسی قرعہ اندازی جائز نہیں کہ جس کے نام قتل کا قرعہ نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
95 حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں : سو قرعہ اندازی کے نتیجے میں حضرت یونس کو دریا میں ڈال دیا گیا جہاں ایک بڑی مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ یہاں پر " اَکَلَ " نہیں " اَلْتَقَمَ " فرمایا گیا۔ جس کے معنیٰ لقمہ بنا لینے اور نگل جانے کے ہیں۔ یعنی مچھلی نے آپ کو غذا کے طور پر کھایا نہیں تھا بلکہ پورا نگل لیا تھا تاکہ اس کا پیٹ آپ (علیہ السلام) کے لئے ایک قسم کی جیل اور قید خانہ بن جائے۔ بعض روایات میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مچھلی کو وحی کے ذریعے ارشاد فرمایا گیا کہ یونس تمہاری خوارک نہیں بلکہ تمہارے پیٹ کو ہم نے اس کیلئے ایک ظرف اور اس کی حفاظت کیلئے ایک محل بنایا ہے۔ (قرطبی، معارف وغیرہ) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
سیدنا یونس (علیہ السلام) کا کشتی میں بیٹھنا اور مچھلی کے پیٹ میں جانا
تشریح : سیدنا یونس (علیہ السلام) کا قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ مگر اس کا اندازذرا مختلف ہے۔ ہوا اس طرح کہ آپ کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ موصل کے علاقہ میں نینوا شہر میں آپ بھیجے گئے آپ نے سات سال تک لگا تار لوگوں کو سمجھایا مگر حسب معمول انہوں نے نافرمانی کی اس پر آپ نے لوگوں کو کہا کہ ” اب تم پر عذاب آنے والا ہے “۔ آپ نے دعا کی آپ اللہ کی اجازت یا مرضی کے بغیر شہر سے نکلے اور کشتی میں سوار ہوگئے۔ آپ سے انجانے میں غلطی ہوگئی تھی لہٰذا آپ کو اس کی سزا یوں دی گئی کہ کشتی ڈوبنے لگی جس پر یہ کہا گیا کہ کوئی غلام آقا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →ف 4 کہ وہ ناحق اپنی قوم سے ناراض ہو کر اور اپنے آقا کے حکم کا انتظار کئے بغیر بھاگ کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
(37:142) التقمہ۔ ماضی واحد مذکر غائب التقم یلتقم التقام (افتعال) نگلنا۔ یا لقمہ کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (کا مرجع حضرت یونس علیہ السلام) ۔ الحوت مچھلی (عام طور پر بڑی مچھلی کو حوت کہتے ہیں ) (بڑی مچھلی نے) نگل لیا۔ اس کا لقمہ کرلیا۔ (ثابت نگل لیا) ۔
وھو ملیم۔ وائو حالیہ ہے، جملہ حالیہ ہے۔ ملیم الامۃ (افعال سے ) اسم فاعل واحد مذکر۔ ملامت یا لوم کا مستحق، سزاوار ملامت، ات بما یلام علیہ۔ ایسا کام کرنے والا جس پر ملامت کی جائے۔
لامہ ویلومہ۔ (باب نصر) لوم وملام وملامۃ ملامت کرنا۔ اس باب سے صفت فاعلی لائم۔ اور صفت مفعولی ملیم ہوگی ! باب افعال سے الامۃ سے صفت فاعلی اور صفت مفعولی ملام۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 148 :۔ ابق (وہ بھاگا ، دوڑا) المحشون ( بھری ہوئی) ساھم (قرعہ ڈالا گیا) المدحضین ( دھکیلے گئے ، الزام لگائے گئے) التقم ( نگل لیا) الحوت ( مچھلی) العرائ (چٹیل میدان ، صاف میدان) سقیم ( بیمار) یقطین ( بیل دار پودا) مائۃ الف (ایک لاکھ) متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) حین (زمانہ ، مدت)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 148 :۔ سورة الصافات میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت یونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ۔
(ف 2) حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہدایت کی جب ان کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبرسنائی اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے جب ان لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی دیکھے توجنگل میں جاکر بہت روئے اور گڑگڑائے اللہ نے ان کے حال پر رحم فرماکران سے عذاب نازل نہیں کیا، حضرت یونس کو معلوم ہوا کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو اپنے دل میں سوچا کہ جس قوم کے نزدیک جھوٹا ٹھہرچکا ہوں اس قوم کی سرحد میں بھی ٹھہرنا مناسب نہیں، یہ سوچ کر آپ نے دریائی سفر کارادہ کیا کشتی پر سوار ہوئے کشی دریا میں چلنے لگی جب قرعہ ڈالا کہ کس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–145
[32] کہ خطائے اجتہادی سے حکم الٰہی کا انتظار کئے بغیر بستی سے نکل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ف 1: حضرت یونس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ ارض نینوی کے نبی تھے انہوں نے قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا مگر یہ لوگ سرکشی اور تمرد میں بڑھتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ یہ مایوس ہوکر چل دیئے ۔ اور ہجرت کی نیت سے جب کشتی پر سوار ہوئے ۔ تو وہ دریا میں ڈگمگانے لگی ۔ انہوں نے قرعہ اندازی کرکے یہ معلوم کرنا چاہا ۔ کہ کون شخص اس کشتی میں ایسا ہے جس کی شامت اعمال سے کشتی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ تین دفعہ متواتر فرد حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر پڑا ۔ اس لئے ان کو دریا میں ڈال دیا گیا ۔ اور مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔ یہ اصل میں اللہ کی طرف سے تادیب تھی ۔ کہ قوم سے مایوس ہوکر بغیر اذن الٰہی ان کو چھوڑ دینے کی یہ…
Read the full tafseer →(142) پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ الزام خوردہ اور پشیمان تھا۔ یعنی الزام وہی کہ بلا اجازت شہر سے کیوں نکل گئے اور عذاب کی تاریخ بلااجازت کیوں معین فرمائی۔
بہرحال ! مچھلی نے نگل لیا اور مچھلی کو یہ حکم ہوا کہ یہ تیری غذا نہیں ہے تیرا پیٹ فقط اس کے لئے قربی خانہ ہے جو تیرے پیٹ میں اس طرح محفوظ رہے جس طرح بچہ ماں کے پیٹ میں محفوظ رہتا ہے چناچہ مچھلی دریا میں اپنا منہ باہر نکال کر چلتی تھی تاکہ یونس کا دم نہ گھٹے حضرت یونس ان اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے جیسا کہ سورہانبیاء میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–143
ف 2۔ صبح اور رات کا ذکر اس لئے کیا کہ عرب میں اکثر عادت رات کو صبح تک چلنے کی ہے۔
Read the full tafseer →مچھلی اس کو لقمہ بنا لیتی اور وہ ملامت کیے گئے لوگوں میں ہوتا :
142۔ اگر وہ پھسلتا تو سیدھا مچھلی کے منہ میں چلا جاتا ۔ مچھلی اسم جنس ہے یعنی اگر وہ پھسل کر دریا میں گرتا تو مچھلیاں اس کو کھا جاتیں اور وہ قیامت تک کے لیے وہیں رہتا ‘ چیز کھائی اور ہضم ہوئی پھر قیامت تک مچھلی کو کیا زندہ ہی رکھا جاتا ؟ ظاہر ہے کہ اس بیان کا مطلب فقط یہ ہے کہ اگر مچھلیاں یا مچھلی اس کو نگل جاتی تو پھر وہ کہاں کنارے پر جاتا وہ تو دریا ہی میں ختم ہوگیا ہوتا اور اس کا حشر ونشر یہیں سے ہوتا جیسا کہ سمندر میں کھائی گئی نعشوں کا ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
Verse 141 opens with the statement: فَسَاهَمَ (fasahama: Then he participated in drawing lots...). These lots were drawn at a time when the boat was caught by a storm while in the middle of the waters. It was apprehended that its excessive weight might cause it to drown. It was decided that one person from the boat should be cast off into the waters. Lots were drawn to determine who would it be.
The Injunction of drawing lots
At this point, it should be borne in mind that the drawing of lots is a method of selecting somebody to do something through which one can neither prove someone's…
Read the full tafseer →79 This is what one understands from a study of these sentences: (1) The vessel which the Prophet Jonah boarded was already overloaded. (2) Lots were drawn in the vessel probably at a time when during the voyage it was felt that the lives of the passengers had been endangered due to the overloading; therefore, lots were cast to pick oat a person to be thrown overboard. (3) The lot fell on the Prophet Jonah, and so he was thrown into the sea. and a fish swallowed him. (4) The Prophet Jonah was so afflicted because he had fled and abandoned the place of his mission without the permission of his…
Read the full tafseer →