وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۟ؕوَاِنَّ لُوۡطًا لَّمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ
اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, Lot was among the messengers.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz
وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۟ؕوَاِنَّ لُوۡطًا لَّمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ
اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, Lot was among the messengers.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
اور لوطؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں
اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے
اور یقینا لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے۔
اور بیشک لوط پیغمبروں میں ہے،
اور بے شک لوط (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھے،
اور بلاشبہ لوط یقینا رسولوں میں سے تھا۔
اور لوط بھی بلاشبہ ہمارے رسولوں میں سے تھے
اور بیشک لوط بھی پیغمبروں میں سے تھا۔
اور بلاشبہ لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
اور بیشک لوط ؑ بھی پیغمبروں میں ہوئے ہیں
اور یقینا لوط ؑ بھی رسولوں میں سے تھا
اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے۔
And Lot too was one of the Messengers.
And surely, LuT is one of the messengers.
And surely, LuT is one of the messengers.
And verily, Lut was one of the Messengers.
And lo! Lot verily was of those sent (to warn).
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And indeed, Lot was among the messengers.
Lot was certainly a Messenger.
And Lut was most surely of the apostles.
And verily Lut was of the sent ones.
So also was Lut among those sent (by Us).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 133–138
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
سورة الصّٰٓفّٰت 74 اصل میں الفاظ ہیں سلاَمٌ عَلیٰ اِلْ یَاسِیْن۔ اس کے متعلق بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت الیاس کا دوسرا نام ہے، جس طرح حضرت ابراہیم کا دوسرا نام ابراہام تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ اہل عرب میں عبرانی اسماء کے مختلف تلفظ رائج تھے، مثلاً میکال اور میکائیل اور میکائین ایک فرشتے کو کہا جاتا تھا۔ ایسا ہی معاملہ حضرت الیاس کے نام کے ساتھ بھی ہوا ہے خود قرآن مجید میں ایک ہی پہاڑ کا نام طور سینا بھی آیا ہے اور طور سینین بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
خلاصہ تفسیر اور بیشک لوط ؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے (ان کا اس وقت کا قصہ قابل ذکر ہے) جب کہ ہم نے ان کو اور ان کے متعلقین کو سب کو نجات دی بجز اس بڑھیا (یعنی ان کی بیوی) کے کہ وہ (عذاب کے اندر) رہ جانے والوں میں رہ گئی، پھر ہم نے اور سب کو (جو لوط اور ان کے اہل کے سوا تھے) ہلاک کردیا (جن کا قصہ کئی جگہ آ چکا ہے) اور (اے اہل مکہ) تم تو ان کے (دیار و مساکن پر سفر شام میں کبھی) صبح ہوتے اور (کبھی) رات میں گزار کرتے ہو (اور آثار بربادی دیکھتے ہو) تو کیا (اس کو دیکھ کر) پھر بھی نہیں سمجھتے ہو (کہ کفر کا کیا انجام ہوا، اور جو آئندہ کفر کرے گا اس کے لئے بھی یہی اندیشہ ہے)۔ معارف و مسائل ان آیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
آیت حضرت لوط کی دعوت یہ حضرت لوط ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ وہ بھی ہمارے رسولوں میں سے تھا۔ اس کی قوم نے بھی اس کی تکذیب کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اس کو اس کے تمام باایمان اہل عیان کے ساتھ اپنے عذاب سے نجات دی اور بقیہ ساری قوم کو تباہ کردیا۔ اس کے اہل میں سے ایک بڑھیا … حضرت لوط کی بیوی … ایمان سے محروم رہ جانے کے باعث پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی چناچہ وہ بھی تباہ ہونے والوں کے ساتھ تباہ ہوئی۔ اس لئے کہ نبی کے ساتھ مجرور رشتہ داری کسی کے کام آنے الی چیز نہیں ہے بلکہ کام آنے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ قریش کو ایک برمحل تنبیہ آخر میں اس ترجیح کے بجائے جو اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–135
135۔ 1 اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو کافرہ تھی، یہ اہل ایمان کے ساتھ اس بستی سے باہر نہیں گئی تھی، کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہونا تھا، چناچہ وہ بھی ہلاک کردی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–134
23: حضرت الیاس ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے زیادہ تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، تاریخی اور اسرائیلی روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں کفر وشرک کی وبائیں پھوٹیں تو اس وقت آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا، بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی، حضرت الیاس ؑ نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے، لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس ؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس ؑ کو اپنے پاس بلالیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ” یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–135
1 یعنی ان کی زوجہ جو معذبین کے ساتھ ساز باز رکھتی تھی۔
Read the full tafseer →آیت 133{ وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا لوط علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
76 الیاسین اور الیاس ایک ہی بات ہے :۔ الیاس اور الیاسین ایک ہی بات ہے۔ الیاسین بھی سیدنا الیاس ہی کا دوسرا نام ہے اور تلفظ کی ایسی کمی بیشی تقریباً سب زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ قرآن میں اس کی دوسری مثال طور سینا ہے جسے سورة والتین میں سینین کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–135
70۔ (اور وہ آپ کی کافر بیوی تھی) حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط پر حاشیے کئی بار گزر چکے، خصوصا سورة الاعراف پ 8) میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
آیت نمبر 114 تا 138 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →وان لوطا لمن المرسلین۔ اور بیشک لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
(133۔ 138) اور لوط کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ جبکہ ہم نے ان کو اور ان کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور ایثا کو نجات دی سوائے ان کی منافقہ بیوی کے کہ وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ رہ گئی۔ چناچہ ہم نے لو اور ان کے متعلقین کے علاوہ جو باقی بچے سب کو ہلاک کردیا۔ اور مکہ والو تم قوم لو کی بستیوں سدوم عمورا، صبور وادادوما پر سے کبھی صبح ہوتے گزرتے ہو اور کبھی رات میں گزرا کرتے ہو۔ کیا پھر بھی اس چیز کا اقرار نہیں کرتے کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تاکہ ان کی پیروی نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–136
وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود (77 تا 83) اور سورة حجر (57 تا 77)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
133 ۔ 138:۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ پہلے گزر چکا ہے یعنی بعد والوں کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا و انکم میں عربوں کو خطا ہے یعنی تم صبح کے وقت ان کے مکانات اور آثار کے پاس سے گزرتے رہتے ہو اور رات کے وقت بھی تم گزرتے رہتے ہو کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے اور تدبر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
1:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا عجوزا فی الغبرین “ (سوائے ایک بڑھیا کے جو رہ جانے والوں میں رہ گئی) یعنی ان کی بیوی پیچھے رہ گئی تو وہ پتھر بنادی گئی اور اس کو ھیشفع کہتے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا عجوزا فی الغبرین “ یعنی ہلاک ہونے والوں میں سے (آیت) ” وانکم لتمرون علیہم “ (اور تم گزرتے ہو ان پر) یعنی اپنے سفروں میں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانکم لتمرون علیہم مصبحین (137) وبالیل “ (اور تم ان پر صبح شام گزرتے ہو) فرمایا ہاں تم…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لُوْطًا [اور بیشک لوط (علیہ السلام) ] لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [یقینا بھیجے ہوؤں (رسولوں) میں سے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ اور قوم کا ہلاک ہونا اور بیوی کے علاوہ ان کے تمام اہل و عیال کا نجات پانا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کی اور ان کے اہل و عیال کی نجات اور ان کی قوم کی ہلاکت کا ذکر ہے، ان کی قوم کے لوگ کافر تو تھے ہی برے اعمال میں بھی بہت آگے بڑھے ہوئے تھے، مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے، حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا وہ لوگ نہ مانے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ اے لوط اگر تم اپنی بات سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں اپنی آبادی سے نکال باہر کردیں گے۔ ان لوگوں پر جس دن صبح صبح عذاب آنا تھا اللہ تعالیٰ نے اس صبح سے پہلے حضرت لوط (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
قصہ پنجم لوط (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وان لوطا لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ یہ پانچواں قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے ان کی قوم لواطت اور بد فعلی میں مبتلا تھی اور یقیناً لوط (علیہ السلام) بھی خدا کے پیغمبروں میں سے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے سدوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا جہاں کے باشندے بت پرست اور لواطت اور قسم قسم کی بےحیائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا تھے ان کی ہدایت کے لئے حضرت لوط (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جب قوم نے نہ مانا تو ان پر اللہ کا قہر اور عذاب آیا پس اے نبی آپ ﷺ اس وقت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–133
55:۔ وان لوطاً الخ : یہ نفی شفاعت قہری پر چھٹا واقعہ ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ البتہ ان کی بیوی کو معذبین میں شامل کردیا۔ اور اس کی بد کردار قوم کا تختہ الٹ کر اسے نیست و نابود کردیا۔ لوط (علیہ السلام) کو عذاب سے ہم نے بچایا اور وہ عذاب سے نجات میں ہمارے محتاج تھے۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ وانکم لتمرون الخ، یہ مشرکین عرب سے خطاب ہے کہ تم صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستی سے گذرتے ہو لیکن پھر بھی تمہیں عبرت نہیں ہوتی اور تم سمجھتے نہیں ہو کہ بدکردار اور سرکش قوموں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ 133ۭ لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له . ( ل و ط ) لوط ( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی محبت دل میں جاگزیں اور پیوست ہوجانے کے ہیں ۔ حدیث میں ہے ۔ (115) الولد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
وان لوطا لمن المرسلین یہ پانچواں قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے، بحیرہ مردار کے پاس چند بستیاں تھیں۔ سدوم عمورہ وغیرہ وہاں حضرت رہتے تھے، ان لوگوں کو بدفعلی کی عادت تھی، لڑکوں کے ساتھ لواطت کیا کرتے تھے۔ حضرت نے بہت کچھ سمجھایا۔ آخر نہ مانا خدا نے ان کو ہلاک کیا۔ لوط اور اس کا خاندان بجز بیوی کے سب بچے باقی سب برباد ہوگئے، وہ بستیاں الٹی گئیں۔ وانکم لتمرون قریش شام کے ملک میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے تھے، یہ الٹی ہوئی بستیاں ان کو رستے میں ملتی تھیں، کبھی قافلہ کو رات وہاں پڑتی تھی، کبھی صبح ہوتے قافلہ وہاں سے نکلتا تھا۔ یہ ہیں معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاِنَّـکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ ۔ وَبِالَّیْلِ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الصآفات : 133 تا 138) (بےشک لوط بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے۔ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی۔ بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔ بیشک تم ان کی بستیوں پر گزرتے ہو صبح کو بھی۔ اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت، قوم کا جواب، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
فہم القرآن ربط کلام : حضرت الیاس (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے اہل کو ذلّت آمیز عذاب سے محفوظ رکھا البتہ ان کی بیوی اور دوسرے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اے عرب کے لوگو ! تم سفر کے دوران صبح و شام قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کے کھنڈرات کے قریب سے گزرتے اور انہیں دیکھتے ہو۔ لیکن پھر بھی عقل سے کام لینے کے لیے تیار نہیں ہو ؟۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے بارے میں قرآن مجید میں کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے اس لیے یہاں اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →تذکرئہ لوط۔ : 133: وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (بیشک لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
130، سلام علی الیا سین، نافع ابن عامرنے آل یاسین پڑھا ہے۔ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے کسرہ کے ساتھ کیوں کہ مصحف میں مفعولا ہی نقل کیا گیا ہے اور دوسرے قراء نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ موصولا نقل کیا۔ جن حضرات نے آل یسین پڑھا ہے (جداجدا) انہوں نے اس مراد آل محمد لیا ہے لیکن یہ قول بعید ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد حضرت الیاس (علیہ السلام) ہیں۔ معروف قرأۃ وصل کے ساتھ ہے اور اس کی لغت میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ الیاسین لغت میں الیاس ہے۔ مثل اسماعیل کی طرح ، اسماعین اور میکا ئیل سے میکائین۔ فراء کا قول ہے کہ الیاسن کی جمع ہے۔ اس سے ان کے اصحاب و اتباع مؤمنین مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
133۔ 138۔ حضرت الیاس کے قصہ کے بعد یہ لوط (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا۔ یہ قصہ سورة الاعراف سورة ہود سورة شعراء اور سورة النمل میں گزر چکا ہے۔ حاصل اس قصہ کا یہی ہے کہ ان لوگوں نے لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کی عادت نکالی تھی۔ ملک شام کے شہروں میں ایک بستی سدوم سے وہاں یہ لوگ رہتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ابراہیم کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) جب ملک عراق سے ملک شام کو آئے تو سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے نبی مقرر ہوئے ایک مدت تک لوط (علیہ السلام) نے طرح طرح کی نصیحت سے ان لوگوں کو راہ راست پر لانا چاہا۔ مگر یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے آخر اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–147
آیت 133 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا، جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ (الا عجوزا فی الغبرین) سو اے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر تھی۔ (ثم دمرنا الاخرین) ” پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا : (آیت) ” ہم نے ان کی بستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
89 ایمان و احسان ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ ہمارے خاص ایماندار بندوں میں سے تھے "۔ یعنی تھے تو بندے اور بشر ہی مگر وحی و نبوت کی وجہ سے وہ ہمارے یہاں ایک ایسے خاص مرتبہ و مقام کے مالک تھے جو اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا۔ یعنی اضافت یہاں پر تعظیم و تشریف کیلیے ہے جیسے " بیت اللہ " میں ہے۔ یہ بات تقریباً سب ہی انبیائے کرام کے تذکروں میں دہرائی گئی ہے کہ وہ ہمارے خاص بندوں میں سے تھے۔ تاکہ یہ بات راسخ اور پختہ ہوجائے کہ نبی کوئی مافوق العادۃ مخلوق نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانوں میں سے ہی ہوتے ہیں جن کو اللہ پاک اپنی نبوت و رسالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر تشریح : یہاں لوگوں کو غصے سے پوچھا جا رہا ہے کہ تم لوگ ان گزرے ہوئے لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیوں سے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے۔ دن رات ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ دیکھو تو توبہ استغفار کرو اور نیکی کی راہیں اختیار کرو۔ کیونکہ ہر بری اور گنہگار قوم کا یہی حال ہوتا ہے جو تم ان تباہ و برباد بستی والوں کا انجام دیکھ رہے ہو۔ عقل سے کام لو اور پیغمبر کی دعوت پر غور کرو اور صالح بن جاؤ تاکہ اللہ تم سے خوش ہو اور تم پر اپنی برکتیں نازل فرمائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138: اسرار و معارف : یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔ پھر الیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
ف 1 یعنی بغرض تجارت شام و فلسطین آتے جاتے، ان کی تباہ شدہ بستی سے دن رات گزرتے رہتے ہو۔ ( کذافی الموضح)
Read the full tafseer →(37:133) یہاں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 26:160 ۔ 175 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
لغات القرآن : آیت نمبر 133 تا 138 :۔ عجوز ( بوڑھی عورت ، بڑھیا) الغبرین ( پیچھے رہ جانے والی) تمرون ( تم گزرتے ہو) مصبحین ( صبح کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 133 تا 138 :۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھیجتے تھے۔ اللہ نے آپ آپ کو سدوم اور عامورہ کی ان بستیوں کے لوگوں کی اصلاح کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا جنہوں نے بےحیائی اور بےغیرتی کے وہ کام کر رکھے تھے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کئے تھے وہ پوری قوم خلاف فطرت فعل کرتی اور اس پر کسی شرمندگی کے بجائے جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعل بد سے روکنا چاہا تو ان پر طعن وطنز کے تیر چلانے کے ساتھ ساتھ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ۔ (ف 1) حضرت الیاس کے قصہ کے بعد یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا یہ قصہ سورة الاعراف ، سورة ہود، سورة الشعراء اور سورة النمل میں گزرچکا ہے حضرت لوط (علیہ السلام) جب ملک عراق سے ملک شام کو آئے تو سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لیے نبی مقرر ہوئے مدت تک حضرت لوط نے طرح طرح کی نصیحت سے ان لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی، ان لوگوں نے لڑکوں سے بدفعلی کی عادت نکالی تھی جب یہ لوگ اپنی عادت بد سے باز نہ آئے تو آخر اللہ کے حکم سے جبرائیل امین نے ان کی بستی کو الٹا دیا، یہ قریش کو فرمایا کہ مکہ سے شام کو جو قافلے آتے جاتے تھے قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
[28] الیاس کو ال یاسین بھی کہتے ہیں جیسے طور سینا کو طور سینین کہہ دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–138
سدومیوں کی بداعمالیاں 2: سدومی لوگوں میں خواہشات نفس کی تکمیل کا مادہ حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ یہ دن رات ناپاک خیالات میں مستغرق رہتے اور اللہ کے قانون کو توڑتے ۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی تھی ۔ اس لئے ان میں جذبات جنسی کو پورا کرنے کا اندازہ ایک قلم بیہودہ اور غیر موزوں تھا ۔ حضرت لوط ان میں اس غرض کے لئے تشریف لائے کہ اس مرض مزمن کی اصلاح کریں ۔ اور ان کو بتائیں کہ اس جرم عظیم کے ہولناک نتائج کس صورت میں ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ارتکاب غیر فطری ہے ۔ مضر ہے ۔ اور مہلک ہے ۔ تم اس سے بازآجاؤ۔ ان لوگوں میں قوت ارادی کی کمی تھی ۔ اور خبث عمل کا زہر ان کی رگوں میں پوری طرح سرایت…
Read the full tafseer →(133) اور بیشک لوط (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–135
ف 7۔ فرعون غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے۔
Read the full tafseer →اور لوط (علیہ السلام) بھی ہمارے رسولوں میں سے ایک تھا : 133۔ لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور بعض روایات کے مطابق چچا زاد بھائی ، آپ کے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ہجرت کی تھی اور ایک ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) شام میں مقیم ہوگئے اور اردن کے قریب جہاں آج کل بحرمیت یا بحر لوط واقع ہے یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم اور عامورہ کی بستیاں آباد تھیں اور انہی بستیوں کی طرف لوط (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے پیغامات کی مخالفت کی اور انجام کار تباہ وبرباد ہوئے اور ان بسیتوں کی جگہ اس طرح شق ہوگئی کہ وہ جگہ ہی سمندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–138
Commentary Mentioned in these verses is the fifth event that relates to Sayyidna Lut (علیہ السلام) . This event has appeared at several places earlier, therefore, no more details are needed. Here, the people of Makkah have been particularly admonished that they passed by the site of Sadum (Sodom) day and night while traveling with theirs trade caravans to the country of Syria, and Sadum was a place where this grave event came to pass, an event full of vital lessons, yet they failed to learn any. The time of morning and evening was particularly mentioned for the reason that the people of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
74 The words in the original are: Salam-un 'ala El-ya-sin. Some commentators say that EI ya-sin is the other name of the Prophet Elias, just as Abraham is the other name of the Prophet Ibrahim; some others say that different versions of the Hebrew names were prevalent among the Arabs, e.g. one and the same angel was called Michal and Micha'il and Micha'in. The same has been the case with the name of the Prophet Elias also. In the Qur'an itself the same mountain has been called Tur Sina' and Tur Sinin.
Read the full tafseer →