As-Saaffaat 37:132

As-Saaffaat · from ayah 132

37:132

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۟اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏

بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, he was of Our believing servants.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:132

واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یقینا وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک وہ ہمارے باایمان بندوں میں سے تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ وہ بھی ہمارے خاص ایماندار بندوں میں سے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک وہ ہمارے (کامل) ایمان دار بندوں میں سے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

He was one of Our believing servants.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, he was from among Our believing servants.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, he was from among Our believing servants.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, he was one of Our believing servants.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! he is one of our believing slaves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, he was of Our believing servants.

— Saheeh International

He was one of Our believing servants.

— Muhammad Sarwar

Surely he was one of Our believing servants.

— Muhammad Habib Shakir

Verily he was one of Our bondmen believing.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:132

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 130–134

سورة الصّٰٓفّٰت 74 اصل میں الفاظ ہیں سلاَمٌ عَلیٰ اِلْ یَاسِیْن۔ اس کے متعلق بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت الیاس کا دوسرا نام ہے، جس طرح حضرت ابراہیم کا دوسرا نام ابراہام تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ اہل عرب میں عبرانی اسماء کے مختلف تلفظ رائج تھے، مثلاً میکال اور میکائیل اور میکائین ایک فرشتے کو کہا جاتا تھا۔ ایسا ہی معاملہ حضرت الیاس کے نام کے ساتھ بھی ہوا ہے خود قرآن مجید میں ایک ہی پہاڑ کا نام طور سینا بھی آیا ہے اور طور سینین بھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 130–132

سَلٰمٌ عَلٰٓي اِلْ يَاسِيْنَ ”الیاسین“ بھی الیاس ؑ ہی کا ایک نام ہے، اہل عرب اکثر عجمی ناموں کے ساتھ یار اور نون بڑھا دیتے ہیں، جیسے ”سینا“ سے ”سینین“ اسی طرح یہاں بھی دو حرف بڑھا دیئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 130–132

سلم علی ال یاسین، انا ذلک نجزی المحسنین وانہ من عبادنا المومنین (132-130) ال یاسین میرے نزدیک الیاس کی جمع ہے اور اس سے مراد ان کے تمام آل و اتباع ہیں۔ عربی میں اس طرح جب کسی اسم کی جمع آتی ہے تو اس سے اس کے تمام اجزاء و فروع مراد ہوتے ہیں۔ قرآن میں طور سنین طور کی جمع اسی اصول پر استعمال ہوئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نبی پر جو برکت و سلامتی نازل ہوتی ہے اس میں اس کے تمام جاں نثار ساتھی بھی شامل ہوتے ہیں۔ انا کذلک … الایۃ اس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔ مقصود اس کے بار بار اعادہ سے یہ ہے کہ یہ ایک سنت الٰہی ہے۔ جو لوگ اس طرح اپنے ایمان و احسان کا مظاہرہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے نام کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 131–135

135۔ 1 اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو کافرہ تھی، یہ اہل ایمان کے ساتھ اس بستی سے باہر نہیں گئی تھی، کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہونا تھا، چناچہ وہ بھی ہلاک کردی گئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 123–134

23: حضرت الیاس ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے زیادہ تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، تاریخی اور اسرائیلی روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں کفر وشرک کی وبائیں پھوٹیں تو اس وقت آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا، بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی، حضرت الیاس ؑ نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے، لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس ؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس ؑ کو اپنے پاس بلالیا،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 123–132

اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔ وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132) حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 132{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 130–134

76 الیاسین اور الیاس ایک ہی بات ہے :۔ الیاس اور الیاسین ایک ہی بات ہے۔ الیاسین بھی سیدنا الیاس ہی کا دوسرا نام ہے اور تلفظ کی ایسی کمی بیشی تقریباً سب زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ قرآن میں اس کی دوسری مثال طور سینا ہے جسے سورة والتین میں سینین کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 132–135

70۔ (اور وہ آپ کی کافر بیوی تھی) حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط پر حاشیے کئی بار گزر چکے، خصوصا سورة الاعراف پ 8) میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–138

آیت نمبر 114 تا 138 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انہ من عبادنہ المؤمنین ہیں ‘ بلاشبہ وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ اِنَّہٗ کی ضمیر الیاس ہی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قراءت میں چونکہ الیاس کی جگہ ادریس کا لفظ آیا ہے اور اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کی بجائے اِنَّ اِدْرِیسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ مردی ہے ‘ اس لئے اس جگہ بھی سَلٰمٌ عَلٰٓی اِدْرِیْسِیْنَ منقول ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 128–132

(128۔ 132) سوائے موحد اور فرمانبردار بندوں کے کہ ان کو ایسی سزا نہ ہوگی اور ہم نے ان کے بعد والوں میں یہ بات رہنے دی کہ الیاس پر سلامتی ہو اور یہ ادریس ہیں یا یہ کہ رسول اکرم کے متعلقین پر سلامتی ہو۔ نیکوکاروں کو ہم اس طرح صلہ دیا کرتے ہیں وہ ہمارے سچے مومن بندوں میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 129–132

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر پیچھے آیات (78 تا 81) کے تحت گزر چکی ہے۔ ”اِلْ يَاسِيْنَ“ الیاس ؑ ہی کا دوسرا نام ہے، جیسے ایک ہی پہاڑ کو قرآن میں ”طور سینا“ بھی کہا گیا ہے اور ”طور سینین“ بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–132

123 ۔ 132:۔ مفسرین نے کہا : حضرت الیاس بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور الیاس سے مراد حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں اور یوں قراءت کی و ان ادریس یہ عکرمہ کا قول ہے۔ کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں و ان ادریس لمن المرسلین تھا حضرت عبداللہ بن مسعود یہ قول کرنے میں منفرد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اس کا سے مراد حضرت یسع کے چچا ہیں (1) ۔ ابن اسحاق اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت یوشع کے بعد بنی اسرائیل کے معاملات کے نگران حضرت کا لب بن یوفنا تھے پھر حضرت حز قیل تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت حز قیل نبی کو موت عطا کردی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–132

1:۔ ابن عساکر نے جو بیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (اور الیاس (علیہ السلام) بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) ان لوگوں نے اس کا بعلبک نام رکھا) کیونکہ ہو بعل کی عبادت کرتے تھے اور ان کی جگہ کا نام البدء تھا تو اس کا بعلبک نام پڑگیا۔ 2:۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (123) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کو بعلبک کی طرف بھیجا اور وہ قوم بتوں کی عبادت کرتی تھی اور بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے اور ہر بادشاہ ایک علاقہ پر حاکم تھا جس کی وہ آمدنی کھاتا تھا۔ اور وہ بادشاہ جو حضرت الیاس (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّهٗ [بیشک وہ ہیں ] مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ہمارے ایمان لانے والے بندوں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے تھے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ لوگ مشرک تھے، ان کا ایک بت تھا جس کا نام بعل تھا یہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے اور اس سے حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ روح المعانی میں ایک قول لکھا ہے کہ یہ بت سونے کا تھا جس کا قد بیس ہاتھ تھا اور چار چہرے تھے، شیطان اس کے اندر داخل ہوجاتا تھا اور اس کے پجاریوں اور خدمت گاروں سے باتیں کرتا تھا وہ لوگ اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–132

قصہ چہارم الیاس (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وان الیاس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ انہ من عبادنا ال مومنین۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور انبیا بنی اسرائیل میں سے ہیں جو یوشع (علیہ السلام) کے بعد نبی بنائے گئے جن کو اللہ تعالیٰ نے شہر بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا جو دمشق کے غربی جانب میں واقع ہے۔ جمہور علما کے نزدیک حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سے ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) سے پہلے گذرے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ الیاس (علیہ السلام) یہی ادریس (علیہ السلام) ہیں مگر یہ قول صحیح نہیں اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 128–133

55:۔ وان لوطاً الخ : یہ نفی شفاعت قہری پر چھٹا واقعہ ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ البتہ ان کی بیوی کو معذبین میں شامل کردیا۔ اور اس کی بد کردار قوم کا تختہ الٹ کر اسے نیست و نابود کردیا۔ لوط (علیہ السلام) کو عذاب سے ہم نے بچایا اور وہ عذاب سے نجات میں ہمارے محتاج تھے۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ وانکم لتمرون الخ، یہ مشرکین عرب سے خطاب ہے کہ تم صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستی سے گذرتے ہو لیکن پھر بھی تمہیں عبرت نہیں ہوتی اور تم سمجھتے نہیں ہو کہ بدکردار اور سرکش قوموں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 114–138

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 132 عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 123–132

الیاس کا قصہ : وان الیاس لمن المرسلین یہ چوتھا قصہ حضرت الیاس ( علیہ السلام) کا ہے۔ کتاب السلاطین کے سترہویں باب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جلعاء شہر کے رہنے والے تھے جو ملک شام میں ہے اور اخی اب بادشاہ بنی اسرائیل والی شہر سمرون کے عہد میں تھے۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً نو سو دس برس پیشتر، یہ یا ہو نبی کے بعد مبعوث ہوئے تھے۔ دوسری کتاب السلاطین کے پہلے باب میں یہ ہے۔ اخیزماہ اخی آب کے بیٹے نے چند قاصد بھیجے کہ جاؤ عقرون کے معبود لعل زبوب سے پوچھو کہ میں اس بیماری سے چنگا ہوں گا کہ نہیں اس دم خدا نے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ ان قاصدوں سے کہہ دے کہ تو نے خدا کو چھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 129–132

وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ سَلٰـمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 129 تا 132) (اور ہم نے اس کا ذکر بعد کی نسلوں میں باقی رکھا۔ سلام ہے اِل یاسین پر۔ ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ ) ان آیات کی تشریح ہوچکی ہے یہ وہی ترجیع کی آیات ہیں جو گزشتہ انبیائے کرام کی سرگزشتوں کے سلسلے میں گزری ہیں اور ان میں بار بار وہی باتیں فرمائی گئی ہیں جو اس مبارک قافلے کے ہر فرد کے لازمی خصائص اور یقینی انعامات ہیں۔ البتہ دوسری آیت میں اِل یاسین کے بارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 123–132

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے ایک مرتبہ یہاں اور دوسری مرتبہ سورة انعام آیت 85 میں ذکر ہوا ہے موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 ق م کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جلعاد کے رہنے والے تھے۔ قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں اس مقام پر قرآن مجید نے الیاسین بھی کہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو انہی الفاظ کے ساتھ خطاب فرمایا جن الفاظ میں پہلے انبیائے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

132: اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 130–134

130، سلام علی الیا سین، نافع ابن عامرنے آل یاسین پڑھا ہے۔ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے کسرہ کے ساتھ کیوں کہ مصحف میں مفعولا ہی نقل کیا گیا ہے اور دوسرے قراء نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ موصولا نقل کیا۔ جن حضرات نے آل یسین پڑھا ہے (جداجدا) انہوں نے اس مراد آل محمد لیا ہے لیکن یہ قول بعید ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد حضرت الیاس (علیہ السلام) ہیں۔ معروف قرأۃ وصل کے ساتھ ہے اور اس کی لغت میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ الیاسین لغت میں الیاس ہے۔ مثل اسماعیل کی طرح ، اسماعین اور میکا ئیل سے میکائین۔ فراء کا قول ہے کہ الیاسن کی جمع ہے۔ اس سے ان کے اصحاب و اتباع مؤمنین مراد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 125–132

125۔ 132۔ حسن بصری (رح) کے قول کے موافق ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ کنعانی قوم کے ایک ظالم بادشاہ کا جب انتقال ہوگیا تو اس کی بی بی نے اپنے خاوند کی شکل کی ایک مورت بنائی۔ اور ان کا نام بعل رکھا۔ کہ بعل عربی میں عورت کے خاوند کو بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد اس عورت کا دوسرا نکاح ایک اسرائیلی بادشاہ سے ہوگیا۔ اور اس عورت نے اپنے دوسرے خاوند کو بہکا کر اس بعل بت کی پوجا عام طور پر لوگوں میں جاری کروا دی۔ ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے الیاس (علیہ السلام) نے وہ نصیحت کی ہے۔ جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ حاصل نصیحت یہ ہے۔ کہ اے لوگو جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا۔ اس کا شکریہ کیا یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–132

آیت 123 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاس کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاس نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انہیں ” بعل “ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انہیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بات کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کرسکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کرسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 132–133

89 ایمان و احسان ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ ہمارے خاص ایماندار بندوں میں سے تھے "۔ یعنی تھے تو بندے اور بشر ہی مگر وحی و نبوت کی وجہ سے وہ ہمارے یہاں ایک ایسے خاص مرتبہ و مقام کے مالک تھے جو اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا۔ یعنی اضافت یہاں پر تعظیم و تشریف کیلیے ہے جیسے " بیت اللہ " میں ہے۔ یہ بات تقریباً سب ہی انبیائے کرام کے تذکروں میں دہرائی گئی ہے کہ وہ ہمارے خاص بندوں میں سے تھے۔ تاکہ یہ بات راسخ اور پختہ ہوجائے کہ نبی کوئی مافوق العادۃ مخلوق نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانوں میں سے ہی ہوتے ہیں جن کو اللہ پاک اپنی نبوت و رسالت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 123–132

سیدنا الیاس (علیہ السلام) کے حالات تشریح : سیدنا الیاس (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ وہ بھی مقبولِ الٰہی انسان تھے۔ جن کو نبوت دی گئی ان کی قوم ایک بت جس کا نام ” بعل “ تھا یہ بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار منہ بنائے گئے تھے۔ یہ لوگ اس بت کی پوجا کرتے تھے۔ جب وہ پیغمبر کی تعلیمات پر نہ چلے تو آخر کار اس قوم پر بھی سخت عذاب آیا اور وہ نیست و نابود ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 114–138

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138: اسرار و معارف : یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔ پھر الیاس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 131–137

ف 1 یعنی بغرض تجارت شام و فلسطین آتے جاتے، ان کی تباہ شدہ بستی سے دن رات گزرتے رہتے ہو۔ ( کذافی الموضح)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–132

لغات القرآن آیت نمبر 123 تا 132 :۔ بعل ( بت ( جس کی وہ عبادت کرتے تھے) تذرون (تم چھوڑتے ہو) احسن (بہترین) الخالقین ( پیدا کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 132 :۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں بائبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس ذات کو چھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ نے ملک شام کے ایک شہر بعلبک کی طرف بھیجا وہ لوگ بعل نامی ایک بت کو پوجتے تھے جو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چارمنہ تھے حضرت الیاس نے کہا کہ اے لوگو، جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا اس کا شکر ادا کرو کیا یہی شکر ہے کہ تم اس کی عبادت کو چھوڑ کر بعل بت کی پوجا کرتے ہو، غرض ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا، جب انہوں نے نہ مانا ودین ودنیا کے عذاب میں پکڑے گئے دنیا کا عذاب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں میں تین برس کا قحط پڑا اور عقبی میں جو سب مشرکوں کا حال ہوگا وہی مصیبت ان لوگوں پر آئے گی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 130–134

[28] الیاس کو ال یاسین بھی کہتے ہیں جیسے طور سینا کو طور سینین کہہ دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 132–138

سدومیوں کی بداعمالیاں 2: سدومی لوگوں میں خواہشات نفس کی تکمیل کا مادہ حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ یہ دن رات ناپاک خیالات میں مستغرق رہتے اور اللہ کے قانون کو توڑتے ۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی تھی ۔ اس لئے ان میں جذبات جنسی کو پورا کرنے کا اندازہ ایک قلم بیہودہ اور غیر موزوں تھا ۔ حضرت لوط ان میں اس غرض کے لئے تشریف لائے کہ اس مرض مزمن کی اصلاح کریں ۔ اور ان کو بتائیں کہ اس جرم عظیم کے ہولناک نتائج کس صورت میں ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ارتکاب غیر فطری ہے ۔ مضر ہے ۔ اور مہلک ہے ۔ تم اس سے بازآجاؤ۔ ان لوگوں میں قوت ارادی کی کمی تھی ۔ اور خبث عمل کا زہر ان کی رگوں میں پوری طرح سرایت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(132) بلا شبہ وہ الیاسین ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔ یعنی کامل مومنوں میں سے تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ الیاس بھی ہمارے مومن بندوں میں سے تھا : 132۔ مومن بندوں میں ہونے کی وضاحت بھی ہم نے پیچھے آیت 111 میں کردی ہے اس لیے اس کے لیے محولہ آیت کی تفسیر ایک بار بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 130–132

The word: إِلْ يَاسِينَ (il ya sin) used in: سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ (Salam on it ya sin -130) is also the very name of Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) . The people of Arabia are used to adding the letters 'ya' and 'nun' with non-Arab names fairly often - for example, (sina: Sinai) could take the form of سِینِین (sinin). Similarly, here too, two letters have been added.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 130–134

74 The words in the original are: Salam-un 'ala El-ya-sin. Some commentators say that EI ya-sin is the other name of the Prophet Elias, just as Abraham is the other name of the Prophet Ibrahim; some others say that different versions of the Hebrew names were prevalent among the Arabs, e.g. one and the same angel was called Michal and Micha'il and Micha'in. The same has been the case with the name of the Prophet Elias also. In the Qur'an itself the same mountain has been called Tur Sina' and Tur Sinin.

Read the full tafseer →