As-Saaffaat 37:129

As-Saaffaat · from ayah 129

37:129

وَتَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۟ۙوَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَۙ

اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We left for him [favorable mention] among later generations:

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:129

اور الیاسؑ کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے (الیاس علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں ہم نے یہ روایت قائم کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر (بھی) پیچھے آنے والوں میں برقرار رکھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑ دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پچھلی نسلوں میں اس کا ذکر خیر چھوڑ دیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کے طریقہ پر پچھلوں میں ایک گروہ کو چھوڑا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور الیاس کے لئے بھی ہم نے ذکر خیر رکھ دیا (رہتی دنیا تک) پچھلی نسلوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ ثواب واجر میں ہوں گے) اور ہم نے الیاس ؑ کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی (کے طریقے) پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی (کچھ لوگوں کو)۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) اور ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی چھوڑ دیا

— محترمہ رفعت اعجاز

We preserved a good name for him among posterity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We left for him (a word of praise) among the later people,

— Muhammad Taqi Usmani

And We left for him (a word of praise) among the later people,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We left for him among the later generations.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we left for him among the later folk (the salutation):

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We left for him [favorable mention] among later generations:

— Saheeh International

We perpetuated his praise in the later generations.

— Muhammad Sarwar

And We perpetuated to him (praise) among the later generations.

— Muhammad Habib Shakir

And We left for him among the posterity:

— Abdul Majid Daryabadi

And We left (this blessing) for him among generations (to come) in later times:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:129

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 73 حضرت الیاس ؑ کو ان کی زندگی میں تو بنی اسرائیل نے جیسا کچھ ستایا اس کی داستان اوپر گزر چکی ہے، مگر بعد میں وہ ان کے ایسے گرویدہ و شیفتہ ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کم ہی لوگوں کو انہوں نے ان بڑھ کر جلیل القدر مانا ہوگا۔ ان کے ہاں مشہور ہوگیا کہ الیاس ؑ ایک بگولے میں آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں (2 سلاطین، باب دوم) اور یہ کہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چناچہ بائیبل کی کتاب ملاکی میں لکھا ہے " دیکھو، خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پہلے میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا " (45) حضرت یحیٰی اور عیسیٰ (علیہما السلام) کی بعثت کے زمانہ میں یہودی بالعموم تین آنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–129

اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ ، یہاں ”مخلصین“ (لازم پر زبر ہے) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ”خالص کئے ہوئے لوگ“ یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنی اطاعت اور اجر وثواب کے لئے خالص کرلیا ہو، لہٰذا اس کا ترجمہ مخلص کے بجائے برگزیدہ زیادہ مناسب ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وترکنا علیہ فی الاخرین (129) یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر کی سرگزشتوں کے سلسلہ میں گزر چکی ہے یعنی جن لوگوں نے الیاس کی مخالفت کی ان کا تو کوئی نام لویا باقی نہیں رہا لیکن الیاس کے نام اور اس کے کام کو اللہ نے باقی رکھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 128–130

130۔ 1 الیاسین، الیاس ؑ کا ہی ایک تلفظ ہے، جیسے طور سینا کو طور سینین بھی کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کو دوسری کتابوں میں (ایلیا) بھی کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 123–134

23: حضرت الیاس ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے زیادہ تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، تاریخی اور اسرائیلی روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں کفر وشرک کی وبائیں پھوٹیں تو اس وقت آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا، بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی، حضرت الیاس ؑ نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے، لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس ؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس ؑ کو اپنے پاس بلالیا،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 123–132

اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔ وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132) حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 129–130

12 " الیاس " کو " الیاسین " بھی کہتے ہیں کہ جیسے " طورسینا " کو ' طورسینین " کہہ دیا جاتا ہے یا " الیاسین " سے حضرت الیاس کے متبعین مراد ہوں۔ اور بعض نے " آل یاسین " بھی پڑھا ہے۔ تو " یاسین " ان کے باپ کا نام ہوگا۔ یا ان ہی کا نام " یاسین " اور لفظ " آل " مقحم ہو جیسے " کماصلیت علی ال ابراہیم " میں۔ یا " اللہم صل علی ال ابی اوفی " میں ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 129{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور اسی کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“ یعنی یہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی ملت کے افراد تھے اور اسی ملت اور اسی طریقے کا تسلسل ہے جو ہدایت کی صورت میں نسل انسانی میں چلا آ رہا ہے۔ چناچہ یہی بات سورة الانبیاء کی آیت 92 اور سورة المومنون کی آیت 52 میں اس طرح بیان ہوئی ہیـ: { وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ”اور یقینا یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 128–129

75 مگر بعل کے ان پرستاروں کو الیاس کی دعوت راس نہ آئی۔ انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کو جھٹلا دیا اور اس کے در پے آزار ہوگئے۔ ایسے سب لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا مل کے رہے گی۔ اور اس سزا سے وہ لوگ بچے جو سیدنا الیاس پر ایمان لے آئے اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 128–131

69۔ (کہ انہیں مستحق اجر ومورددعا وثنابنا دیا) (آیت) ” ال یاسین “۔ لفظ الیاس ہی کا یہ دوسرا تلفظ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–138

آیت نمبر 114 تا 138 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وترکنا علیہ فی الاخرین۔ اور ہم نے الیاس کیلئے پیچھے آنے والوں میں (یہ بات) رہنے دی کہ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 128–132

(128۔ 132) سوائے موحد اور فرمانبردار بندوں کے کہ ان کو ایسی سزا نہ ہوگی اور ہم نے ان کے بعد والوں میں یہ بات رہنے دی کہ الیاس پر سلامتی ہو اور یہ ادریس ہیں یا یہ کہ رسول اکرم کے متعلقین پر سلامتی ہو۔ نیکوکاروں کو ہم اس طرح صلہ دیا کرتے ہیں وہ ہمارے سچے مومن بندوں میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 129–132

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر پیچھے آیات (78 تا 81) کے تحت گزر چکی ہے۔ ”اِلْ يَاسِيْنَ“ الیاس ؑ ہی کا دوسرا نام ہے، جیسے ایک ہی پہاڑ کو قرآن میں ”طور سینا“ بھی کہا گیا ہے اور ”طور سینین“ بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–132

123 ۔ 132:۔ مفسرین نے کہا : حضرت الیاس بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور الیاس سے مراد حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں اور یوں قراءت کی و ان ادریس یہ عکرمہ کا قول ہے۔ کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں و ان ادریس لمن المرسلین تھا حضرت عبداللہ بن مسعود یہ قول کرنے میں منفرد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اس کا سے مراد حضرت یسع کے چچا ہیں (1) ۔ ابن اسحاق اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت یوشع کے بعد بنی اسرائیل کے معاملات کے نگران حضرت کا لب بن یوفنا تھے پھر حضرت حز قیل تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت حز قیل نبی کو موت عطا کردی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–132

1:۔ ابن عساکر نے جو بیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (اور الیاس (علیہ السلام) بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) ان لوگوں نے اس کا بعلبک نام رکھا) کیونکہ ہو بعل کی عبادت کرتے تھے اور ان کی جگہ کا نام البدء تھا تو اس کا بعلبک نام پڑگیا۔ 2:۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (123) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کو بعلبک کی طرف بھیجا اور وہ قوم بتوں کی عبادت کرتی تھی اور بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے اور ہر بادشاہ ایک علاقہ پر حاکم تھا جس کی وہ آمدنی کھاتا تھا۔ اور وہ بادشاہ جو حضرت الیاس (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے چھوڑی ان (علیہ السلام) کے لئے ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [آخری لوگوں میں (ان کی ثنائ)] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے تھے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ لوگ مشرک تھے، ان کا ایک بت تھا جس کا نام بعل تھا یہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے اور اس سے حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ روح المعانی میں ایک قول لکھا ہے کہ یہ بت سونے کا تھا جس کا قد بیس ہاتھ تھا اور چار چہرے تھے، شیطان اس کے اندر داخل ہوجاتا تھا اور اس کے پجاریوں اور خدمت گاروں سے باتیں کرتا تھا وہ لوگ اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–132

قصہ چہارم الیاس (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وان الیاس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ انہ من عبادنا ال مومنین۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور انبیا بنی اسرائیل میں سے ہیں جو یوشع (علیہ السلام) کے بعد نبی بنائے گئے جن کو اللہ تعالیٰ نے شہر بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا جو دمشق کے غربی جانب میں واقع ہے۔ جمہور علما کے نزدیک حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سے ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) سے پہلے گذرے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ الیاس (علیہ السلام) یہی ادریس (علیہ السلام) ہیں مگر یہ قول صحیح نہیں اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 128–133

55:۔ وان لوطاً الخ : یہ نفی شفاعت قہری پر چھٹا واقعہ ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ البتہ ان کی بیوی کو معذبین میں شامل کردیا۔ اور اس کی بد کردار قوم کا تختہ الٹ کر اسے نیست و نابود کردیا۔ لوط (علیہ السلام) کو عذاب سے ہم نے بچایا اور وہ عذاب سے نجات میں ہمارے محتاج تھے۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ وانکم لتمرون الخ، یہ مشرکین عرب سے خطاب ہے کہ تم صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستی سے گذرتے ہو لیکن پھر بھی تمہیں عبرت نہیں ہوتی اور تم سمجھتے نہیں ہو کہ بدکردار اور سرکش قوموں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 114–138

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَرَكْنَا عَلَيْہِ فِي الْاٰخِرِيْنَ۝ 129ۙ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 123–132

الیاس کا قصہ : وان الیاس لمن المرسلین یہ چوتھا قصہ حضرت الیاس ( علیہ السلام) کا ہے۔ کتاب السلاطین کے سترہویں باب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جلعاء شہر کے رہنے والے تھے جو ملک شام میں ہے اور اخی اب بادشاہ بنی اسرائیل والی شہر سمرون کے عہد میں تھے۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً نو سو دس برس پیشتر، یہ یا ہو نبی کے بعد مبعوث ہوئے تھے۔ دوسری کتاب السلاطین کے پہلے باب میں یہ ہے۔ اخیزماہ اخی آب کے بیٹے نے چند قاصد بھیجے کہ جاؤ عقرون کے معبود لعل زبوب سے پوچھو کہ میں اس بیماری سے چنگا ہوں گا کہ نہیں اس دم خدا نے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ ان قاصدوں سے کہہ دے کہ تو نے خدا کو چھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 129–132

وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ سَلٰـمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 129 تا 132) (اور ہم نے اس کا ذکر بعد کی نسلوں میں باقی رکھا۔ سلام ہے اِل یاسین پر۔ ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ ) ان آیات کی تشریح ہوچکی ہے یہ وہی ترجیع کی آیات ہیں جو گزشتہ انبیائے کرام کی سرگزشتوں کے سلسلے میں گزری ہیں اور ان میں بار بار وہی باتیں فرمائی گئی ہیں جو اس مبارک قافلے کے ہر فرد کے لازمی خصائص اور یقینی انعامات ہیں۔ البتہ دوسری آیت میں اِل یاسین کے بارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 123–132

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے ایک مرتبہ یہاں اور دوسری مرتبہ سورة انعام آیت 85 میں ذکر ہوا ہے موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 ق م کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جلعاد کے رہنے والے تھے۔ قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں اس مقام پر قرآن مجید نے الیاسین بھی کہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو انہی الفاظ کے ساتھ خطاب فرمایا جن الفاظ میں پہلے انبیائے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

129: وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور الیاس کیلئے پچھلے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 128–129

128، الا عباد اللہ المخلصین ، ان کی قوم سے یا ان کے ساتھیوں کو عذاب سے بچالیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 125–132

125۔ 132۔ حسن بصری (رح) کے قول کے موافق ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ کنعانی قوم کے ایک ظالم بادشاہ کا جب انتقال ہوگیا تو اس کی بی بی نے اپنے خاوند کی شکل کی ایک مورت بنائی۔ اور ان کا نام بعل رکھا۔ کہ بعل عربی میں عورت کے خاوند کو بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد اس عورت کا دوسرا نکاح ایک اسرائیلی بادشاہ سے ہوگیا۔ اور اس عورت نے اپنے دوسرے خاوند کو بہکا کر اس بعل بت کی پوجا عام طور پر لوگوں میں جاری کروا دی۔ ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے الیاس (علیہ السلام) نے وہ نصیحت کی ہے۔ جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ حاصل نصیحت یہ ہے۔ کہ اے لوگو جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا۔ اس کا شکریہ کیا یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–132

آیت 123 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاس کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاس نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انہیں ” بعل “ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انہیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بات کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کرسکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کرسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 125–131

85 حضرت الیاس کی مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک : سو آپ نے مشرکوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے اور انکے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا " کیا تم لوگ اس کو چھوڑتے ہو جو سب سے بہتر خالق ہے ؟ "۔ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کو جو کہ اس ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا بلاشرکت غیرے خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اسی نے اس کائنات کو اور اس میں موجود ہر شی کو وجود بخشا اور اس کو بلا کسی نمونے اور مثال کے پیدا فرمایا۔ اور اس کو عدم محض سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا۔ اور اس کے سوا دوسری کوئی بھی ہستی ایسی نہ ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے جو ایسا کرے۔ باقیوں کی تخلیق تو محض صنعت اور کاریگری کی حد تک ہوتی ہے اور بس۔ سو اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 123–132

سیدنا الیاس (علیہ السلام) کے حالات تشریح : سیدنا الیاس (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ وہ بھی مقبولِ الٰہی انسان تھے۔ جن کو نبوت دی گئی ان کی قوم ایک بت جس کا نام ” بعل “ تھا یہ بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار منہ بنائے گئے تھے۔ یہ لوگ اس بت کی پوجا کرتے تھے۔ جب وہ پیغمبر کی تعلیمات پر نہ چلے تو آخر کار اس قوم پر بھی سخت عذاب آیا اور وہ نیست و نابود ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 114–138

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138: اسرار و معارف : یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔ پھر الیاس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 129–130

ف 8” الیاسین “ حضرت الیاس ( علیہ السلام) ہی کا دوسرا نام ہے۔ جیسے ایک ہی پہاڑ کو قرآن میں طور سیناء بھی کہا گیا ہے اور ” طور سینین “ بھی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–132

لغات القرآن آیت نمبر 123 تا 132 :۔ بعل ( بت ( جس کی وہ عبادت کرتے تھے) تذرون (تم چھوڑتے ہو) احسن (بہترین) الخالقین ( پیدا کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 132 :۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں بائبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس ذات کو چھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ نے ملک شام کے ایک شہر بعلبک کی طرف بھیجا وہ لوگ بعل نامی ایک بت کو پوجتے تھے جو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چارمنہ تھے حضرت الیاس نے کہا کہ اے لوگو، جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا اس کا شکر ادا کرو کیا یہی شکر ہے کہ تم اس کی عبادت کو چھوڑ کر بعل بت کی پوجا کرتے ہو، غرض ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا، جب انہوں نے نہ مانا ودین ودنیا کے عذاب میں پکڑے گئے دنیا کا عذاب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں میں تین برس کا قحط پڑا اور عقبی میں جو سب مشرکوں کا حال ہوگا وہی مصیبت ان لوگوں پر آئے گی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 125–129

[26] قوم کے سب سے بڑے بت کا نام تھا۔ [27] احسن الخالقین کے معنی ہیں سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 128–129

ف 1: حضرت ابن عباس کی رائے میں حضرت الیاس اور حضرت ادریس ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں ۔ مگر جمہور مفسرین کی رائے سے ۔ کہ یہ ایک مستقل پیغمبر تھے ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

الیاس (علیہ السلام) کے بعد آنے والوں کے لیے ہم نے اس کا ذکر باقی رکھا : 129۔ یہ اسی سنت اللہ کا اعلان ہے جس کا اعلان ہر نبی کی سرگزشت کے بعد اس سورت میں کیا گیا کہ اس نبی (علیہ السلام) کا ذکر ہم نے اس کے بعد آنے والی قوموں کی نصیحت کے لیے باقی رکھا تاکہ بعد میں آنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء ورسل کی مخالفت کرکے قوم اس دنیا میں پمپ نہ سکی کہ اس کا خاتمہ کردیا گیا اور یہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ پر نبوت ختم کردی گئی اور ساری اقوام عالم کو ایک قوم میں داخل ہونے کی دعوت دی گئی اور انشاء اللہ العزیز اسی دعوت پر اس دنیا کا خاتمہ کر کے اس کی صفوں کو لپیٹ دیا جائے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–129

In verse 128, it was said: إِلَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ (except the chosen servants of Allah). Here, the word used is: مُخْلَصِينَ (mukhlasin) (pronounced with a fathah on the letter lam) which means chosen, elected, people Divinely identified as special. As such, these will be people whom Allah has elected to become recipients of the honor of having obeyed Him perfectly and made themselves deserving of the best returns and rewards from Him. Hence, it would be more appropriate to translate it in the sense of 'the chosen' rather than 'sincere.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

73 The treatment that the Israelites meted out to the Prophet Elijah in his life has been referred to above, but after his death they became so enamoured of him that they held him in the highest esteem and reverence after the Prophet Moses. They formed the belief that Elijah (peace be upon him) had been taken up alive into heaven by a whirlwind (2 Kings, ch. 2), and that he will come back to the world again. Thus, in Malachi (O.T.) it is written: "Behold, I will send you Elijah the Prophet before the coming of the great and dreadful day of the Lord." (4: 5). At the tune the Prophets John and…

Read the full tafseer →