Explained with ayahs 123–132
حضرت الیاس ؑ۔
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 72
یعنی اس سزا سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوں گے جنہوں نے حضرت الیاس کو نہ جھٹلایا اور جن کو اللہ نے اس قوم میں سے اپنی بندگی کے لیے چھانٹ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ ، یہاں ”مخلصین“ (لازم پر زبر ہے) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ”خالص کئے ہوئے لوگ“ یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنی اطاعت اور اجر وثواب کے لئے خالص کرلیا ہو، لہٰذا اس کا ترجمہ مخلص کے بجائے برگزیدہ زیادہ مناسب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
فکذبوہ فانھم المحضرون، الاعباد اللہ المخلصین (128-127)
فرمایا کہ ان کی قوم کے لوگوں نے ان کی تکذیب کردی جس کی پاداش میں تمام مکذبین اللہ تعالیٰ کے حضور میں مجرموں کی طرف پیش ہوں گے۔ صرف وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ نے اپنی بندگی کے لئے خاص کرلیا اور وہ حضرت الیاس پر ایمان لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
130۔ 1 الیاسین، الیاس ؑ کا ہی ایک تلفظ ہے، جیسے طور سینا کو طور سینین بھی کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کو دوسری کتابوں میں (ایلیا) بھی کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–134
23: حضرت الیاس ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے زیادہ تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، تاریخی اور اسرائیلی روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں کفر وشرک کی وبائیں پھوٹیں تو اس وقت آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا، بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی، حضرت الیاس ؑ نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے، لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس ؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس ؑ کو اپنے پاس بلالیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت…
Read the full tafseer →11 یعنی سب نے جھٹلایا۔ مگر اللہ کے چنے ہوئے بندوں نے تکذیب نہیں کی۔ لہذا وہ ہی سزا سے بچے رہیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 128{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جنہیں خالص کرلیا گیا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
75 مگر بعل کے ان پرستاروں کو الیاس کی دعوت راس نہ آئی۔ انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کو جھٹلا دیا اور اس کے در پے آزار ہوگئے۔ ایسے سب لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا مل کے رہے گی۔ اور اس سزا سے وہ لوگ بچے جو سیدنا الیاس پر ایمان لے آئے اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–131
69۔ (کہ انہیں مستحق اجر ومورددعا وثنابنا دیا) (آیت) ” ال یاسین “۔ لفظ الیاس ہی کا یہ دوسرا تلفظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
آیت نمبر 114 تا 138
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →الا عباد اللہ المخلصین مگر جو اللہ کے خالص بندے تھے۔
کذبواکی ضمیر فاعل سے یہ استثناء ہے المحضرین سے مستثنیٰ نہیں ہے ‘ ورنہ عبارت کا معنی صحیح نہیں ہوگا (کیونکہ المحضرین سے عذاب میں حاضر کئے ہوئے لوگ مراد ہیں) بعض کے نزدیک استثناء منقطع ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ المحضرین سے ہی استثناء ہے (لیکن المحضرین سے مراد اچھے برے مؤمن ‘ کافر سب لوگ مراد نہیں ہیں بلکہ) اگر بعض افراد کی وصف کے سات متصف ہوں تو کل پر حکم لگانا (مجازاً محاورات میں) صحیح ہوتا ہے ‘ جیسے آیت میں آیا ہے : اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسَارِقُوْنَ (ظاہر ہے کہ سب قافلے والے چور نہیں تھے ‘ لیکن منادی نے سب کو چور کہہ کر ندا دی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
(128۔ 132) سوائے موحد اور فرمانبردار بندوں کے کہ ان کو ایسی سزا نہ ہوگی اور ہم نے ان کے بعد والوں میں یہ بات رہنے دی کہ الیاس پر سلامتی ہو اور یہ ادریس ہیں یا یہ کہ رسول اکرم کے متعلقین پر سلامتی ہو۔ نیکوکاروں کو ہم اس طرح صلہ دیا کرتے ہیں وہ ہمارے سچے مومن بندوں میں سے تھے۔
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ : یعنی الیاس ؑ کی ساری قوم نے انھیں جھٹلایا، مگر اللہ کے چنے ہوئے بندوں نے نہیں جھٹلایا، بلکہ وہ ان پر ایمان لے آئے، اس لیے وہ عذاب سے محفوظ رہے اور رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
123 ۔ 132:۔ مفسرین نے کہا : حضرت الیاس بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور الیاس سے مراد حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں اور یوں قراءت کی و ان ادریس یہ عکرمہ کا قول ہے۔ کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں و ان ادریس لمن المرسلین تھا حضرت عبداللہ بن مسعود یہ قول کرنے میں منفرد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اس کا سے مراد حضرت یسع کے چچا ہیں (1) ۔ ابن اسحاق اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت یوشع کے بعد بنی اسرائیل کے معاملات کے نگران حضرت کا لب بن یوفنا تھے پھر حضرت حز قیل تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت حز قیل نبی کو موت عطا کردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
1:۔ ابن عساکر نے جو بیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (اور الیاس (علیہ السلام) بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) ان لوگوں نے اس کا بعلبک نام رکھا) کیونکہ ہو بعل کی عبادت کرتے تھے اور ان کی جگہ کا نام البدء تھا تو اس کا بعلبک نام پڑگیا۔
2:۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (123) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کو بعلبک کی طرف بھیجا اور وہ قوم بتوں کی عبادت کرتی تھی اور بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے اور ہر بادشاہ ایک علاقہ پر حاکم تھا جس کی وہ آمدنی کھاتا تھا۔ اور وہ بادشاہ جو حضرت الیاس (علیہ…
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
حضرت الیاس (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا
حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے تھے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ لوگ مشرک تھے، ان کا ایک بت تھا جس کا نام بعل تھا یہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے اور اس سے حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ روح المعانی میں ایک قول لکھا ہے کہ یہ بت سونے کا تھا جس کا قد بیس ہاتھ تھا اور چار چہرے تھے، شیطان اس کے اندر داخل ہوجاتا تھا اور اس کے پجاریوں اور خدمت گاروں سے باتیں کرتا تھا وہ لوگ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
قصہ چہارم الیاس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان الیاس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ انہ من عبادنا ال مومنین۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور انبیا بنی اسرائیل میں سے ہیں جو یوشع (علیہ السلام) کے بعد نبی بنائے گئے جن کو اللہ تعالیٰ نے شہر بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا جو دمشق کے غربی جانب میں واقع ہے۔
جمہور علما کے نزدیک حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سے ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) سے پہلے گذرے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ الیاس (علیہ السلام) یہی ادریس (علیہ السلام) ہیں مگر یہ قول صحیح نہیں اس لئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–133
55:۔ وان لوطاً الخ : یہ نفی شفاعت قہری پر چھٹا واقعہ ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ البتہ ان کی بیوی کو معذبین میں شامل کردیا۔ اور اس کی بد کردار قوم کا تختہ الٹ کر اسے نیست و نابود کردیا۔ لوط (علیہ السلام) کو عذاب سے ہم نے بچایا اور وہ عذاب سے نجات میں ہمارے محتاج تھے۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ وانکم لتمرون الخ، یہ مشرکین عرب سے خطاب ہے کہ تم صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستی سے گذرتے ہو لیکن پھر بھی تمہیں عبرت نہیں ہوتی اور تم سمجھتے نہیں ہو کہ بدکردار اور سرکش قوموں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَادَ اللہِ الْمُخْلَصِيْنَ 128
عبد
والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب :
الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ
[ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] .
الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] .
والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة،
والناس في هذا ضربان :
عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
الیاس کا قصہ : وان الیاس لمن المرسلین یہ چوتھا قصہ حضرت الیاس ( علیہ السلام) کا ہے۔ کتاب السلاطین کے سترہویں باب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جلعاء شہر کے رہنے والے تھے جو ملک شام میں ہے اور اخی اب بادشاہ بنی اسرائیل والی شہر سمرون کے عہد میں تھے۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً نو سو دس برس پیشتر، یہ یا ہو نبی کے بعد مبعوث ہوئے تھے۔ دوسری کتاب السلاطین کے پہلے باب میں یہ ہے۔ اخیزماہ اخی آب کے بیٹے نے چند قاصد بھیجے کہ جاؤ عقرون کے معبود لعل زبوب سے پوچھو کہ میں اس بیماری سے چنگا ہوں گا کہ نہیں اس دم خدا نے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ ان قاصدوں سے کہہ دے کہ تو نے خدا کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ۔ اِلَّا عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 127، 128)
(تو انھوں نے اس کو جھٹلا دیا تو بیشک وہ گرفتار کیے جانے والوں میں سے ہوں گے۔ بجز ان بندگانِ خدا کے جن کو خالص کرلیا گیا تھا۔ )
حضرت الیاس (علیہ السلام) نے جنھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی انھوں نے آپ کی کوششوں کی قدر کرنے کی بجائے آپ کی تکذیب کردی، آپ کی نبوت پر ایمان لانے کی بجائے آپ کو جھٹلایا اور بعل پرستی سے توبہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اور دور ہٹ گئے۔ تو ایسے لوگ یقینا قیامت کے دن ان لوگوں میں ہوں گے جنھیں گرفتار کرکے نہایت ذلت کے ساتھ جہنم کے حوالے کردیا جائے گا۔ اور یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے ایک مرتبہ یہاں اور دوسری مرتبہ سورة انعام آیت 85 میں ذکر ہوا ہے موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 ق م کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جلعاد کے رہنے والے تھے۔ قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں اس مقام پر قرآن مجید نے الیاسین بھی کہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو انہی الفاظ کے ساتھ خطاب فرمایا جن الفاظ میں پہلے انبیائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
127، 128: فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ (پس ان لوگوں نے ان کو جھٹلادیا اس لئے وہ لوگ پکڑے جائیں گے) آگ میں اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے تھے) ان کی قوم میں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
128، الا عباد اللہ المخلصین ، ان کی قوم سے یا ان کے ساتھیوں کو عذاب سے بچالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–132
125۔ 132۔ حسن بصری (رح) کے قول کے موافق ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ کنعانی قوم کے ایک ظالم بادشاہ کا جب انتقال ہوگیا تو اس کی بی بی نے اپنے خاوند کی شکل کی ایک مورت بنائی۔ اور ان کا نام بعل رکھا۔ کہ بعل عربی میں عورت کے خاوند کو بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد اس عورت کا دوسرا نکاح ایک اسرائیلی بادشاہ سے ہوگیا۔ اور اس عورت نے اپنے دوسرے خاوند کو بہکا کر اس بعل بت کی پوجا عام طور پر لوگوں میں جاری کروا دی۔ ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے الیاس (علیہ السلام) نے وہ نصیحت کی ہے۔ جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ حاصل نصیحت یہ ہے۔ کہ اے لوگو جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا۔ اس کا شکریہ کیا یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
آیت 123
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاس کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاس نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انہیں ” بعل “ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انہیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بات کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کرسکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی
قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–131
85 حضرت الیاس کی مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک : سو آپ نے مشرکوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے اور انکے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا " کیا تم لوگ اس کو چھوڑتے ہو جو سب سے بہتر خالق ہے ؟ "۔ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کو جو کہ اس ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا بلاشرکت غیرے خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اسی نے اس کائنات کو اور اس میں موجود ہر شی کو وجود بخشا اور اس کو بلا کسی نمونے اور مثال کے پیدا فرمایا۔ اور اس کو عدم محض سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا۔ اور اس کے سوا دوسری کوئی بھی ہستی ایسی نہ ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے جو ایسا کرے۔ باقیوں کی تخلیق تو محض صنعت اور کاریگری کی حد تک ہوتی ہے اور بس۔ سو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
سیدنا الیاس (علیہ السلام) کے حالات
تشریح : سیدنا الیاس (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ وہ بھی مقبولِ الٰہی انسان تھے۔ جن کو نبوت دی گئی ان کی قوم ایک بت جس کا نام ” بعل “ تھا یہ بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار منہ بنائے گئے تھے۔ یہ لوگ اس بت کی پوجا کرتے تھے۔ جب وہ پیغمبر کی تعلیمات پر نہ چلے تو آخر کار اس قوم پر بھی سخت عذاب آیا اور وہ نیست و نابود ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138:
اسرار و معارف :
یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔
پھر الیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
ف 7” انہوں نے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو نہیں جھٹلایا “ بلکہ تصدیق کی اور ایمان لے آئے۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(37:128) الا عباد اللہ المخلصین۔ بجز اللہ کے مخلص بندوں کے : کذبوہ کی ضمیر فاعل سے استثناء متصل ہے یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی قوم میں مخلص بندے بھی تھے جنہوں نے اپنے رسول کی تکذیب نہ کی۔
لہٰذا یہ لمحضرون کی ضمیر سے استثناء متصل نہیں ہے کیونکہ محضرون مکذبین کے لئے ہے اور مکذبین میں سے کسی کو مستثنیٰ کرنا بعید از مکان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
لغات القرآن آیت نمبر 123 تا 132 :۔ بعل ( بت ( جس کی وہ عبادت کرتے تھے) تذرون (تم چھوڑتے ہو) احسن (بہترین) الخالقین ( پیدا کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 132 :۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں بائبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس ذات کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
حضرت الیاس (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ نے ملک شام کے ایک شہر بعلبک کی طرف بھیجا وہ لوگ بعل نامی ایک بت کو پوجتے تھے جو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چارمنہ تھے حضرت الیاس نے کہا کہ اے لوگو، جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا اس کا شکر ادا کرو کیا یہی شکر ہے کہ تم اس کی عبادت کو چھوڑ کر بعل بت کی پوجا کرتے ہو، غرض ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا، جب انہوں نے نہ مانا ودین ودنیا کے عذاب میں پکڑے گئے دنیا کا عذاب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں میں تین برس کا قحط پڑا اور عقبی میں جو سب مشرکوں کا حال ہوگا وہی مصیبت ان لوگوں پر آئے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
[26] قوم کے سب سے بڑے بت کا نام تھا۔
[27] احسن الخالقین کے معنی ہیں سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
ف 1: حضرت ابن عباس کی رائے میں حضرت الیاس اور حضرت ادریس ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں ۔ مگر جمہور مفسرین کی رائے سے ۔ کہ یہ ایک مستقل پیغمبر تھے ۔
Read the full tafseer →(128) مگر ہاں جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مخلص بندے ہیں۔ یعنی جو اجب نامی حکمراں اور اس کی ملکہ ازبیل کی پیروی کرتے رہے اور حضرت الیاس کو قتل کرنے کے درپے ہوئے اور تکذیب کا شیوہ اختیار کیا وہ مجرمانہ حیثیت سے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے البتہ جو لوگ مومن رہے اور موسوی دین پر قائم رہے وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–135
ف 7۔ فرعون غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے۔
Read the full tafseer →چند بندے اللہ کے ایسے بھی تھے جنہوں نے الیاس (علیہ السلام) کی تصدیق کی :
128۔ وہ خالص بندے کتنے تھے اور کون تھے ؟ کوئی ذکر نہیں اور اس ذکر کی ضرورت بھی نہیں ۔ دراصل بتانا یہی مقصود ہے جو عذاب بھی ان پر آیا وہ عذاب اس قسم کا تھا جو خاص کر کے ان لوگوں کو ہی دیا گیا جنہوں نے الیاس (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی خواہ وہاں سے ہجرت کرائی گئی یا اس جگہ کسی محفوظ مقام پر ان کو پہنچا دیا گیا یا جو صورت بھی ان کے بچانے کی اللہ نے مقرر کی تھی بہرحال ان کو بچالیا گیا اور باقی سب کا جنازہ نکال دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
In verse 128, it was said: إِلَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ (except the chosen servants of Allah). Here, the word used is: مُخْلَصِينَ (mukhlasin) (pronounced with a fathah on the letter lam) which means chosen, elected, people Divinely identified as special. As such, these will be people whom Allah has elected to become recipients of the honor of having obeyed Him perfectly and made themselves deserving of the best returns and rewards from Him. Hence, it would be more appropriate to translate it in the sense of 'the chosen' rather than 'sincere.'
Read the full tafseer →72 That is "Only those people will be made an exception from the punishment, who did not belie the Prophet Elijah, and whom Allah chose from among the nation for His worship. "
Read the full tafseer →