As-Saaffaat 37:125

As-Saaffaat · from ayah 125

37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ۟ۙاَتَدۡعُوۡنَ بَعۡلًا وَّتَذَرُوۡنَ اَحۡسَنَ الۡخٰلِقِيۡنَۙ

کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you call upon Ba'l and leave the best of creators -

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:125

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم بعل (نامی بت) کو پوجتے ہو، اور اس کو چھوڑ دیتے ہو جو سب سے بہتر تخلیق کرنے والا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا بعل کو پوجتے ہو اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم بَعل (نامی بُت) کو پوجتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بنانے والوں میں سے سب سے بہتر کو چھوڑ دیتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم بعل کو تو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم لوگ بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگ بعل (جیسی بےحقیقت چیز) کو پوجتے پکارتے ہو ؟ اور چھوڑتے ہو اس کو جو سب سے بہتر خالق ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تم بعل کو پکارا کرتے ہو اور اسے چھوڑے ہوئے ہو جو سب سے بڑھ کر بنانے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم بعل کو پکارتے اور اسے پوچتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you call upon Baal and forsake the Best of the Creators?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you invoke Bal, and ignore the Best of the creators,

— Muhammad Taqi Usmani

Do you invoke Bal, and ignore the Best of the creators,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Will you call upon `Ba`l and forsake the Best of creators,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Will ye cry unto Baal and forsake the Best of creators,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you call upon Ba'l and leave the best of creators -

— Saheeh International

Do you worship Ba`al and abandon the Best Creator.

— Muhammad Sarwar

What! do you call upon Ba'l and forsake the best of the creators,

— Muhammad Habib Shakir

Call ye upon Bal and forsake the Best of creators.

— Abdul Majid Daryabadi

"Will ye call upon Baal and forsake the Best of Creators,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:125

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 125–127

سورة الصّٰٓفّٰت 71 بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، مثلاً سورة بقرہ آیت 228، سورة نساء آیت 127، سورة ہود آیت 72، اور سورة نور آیت 31 میں۔ لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians) کا سب سے بڑا نر دیوتا بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth) ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 125–126

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا (کیا تم بعل کو پوجتے ہو) بعل کے لغوی معنی شوہر اور مالک وغیرہ ہیں، لیکن یہ اس بت کا نام تھا جسے حضرت الیاس ؑ کی قوم نے اپنا معبود بنایا ہوا تھا۔ بعل کی پرستش کی تاریخ بہت قدیم ہے، شام کے علاقہ میں حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ میں اس کی پرستش ہوتی تھی، اور یہ ان کا سب سے زیادہ مقبول دیوتا تھا۔ شام کا مشہور شہر بعلبک بھی اسی کے نام سے موسوم ہوا اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اہل حجاز کا مشہور بت ہبل بھی یہی بعل ہے۔ (قصص القرآن، ص 82 ج 2) وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ (اور اس کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بڑھ کر بنانے والا ہے) اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔ اور ”احسن الخالقین“ (سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 123–126

وان الیاس لمن المرسلین، اذ قال لقومہ الاتتقون اتدعون یعلا وتذرون احسن الغا یقین اللہ ربکم و رب ابآئکم الاولین (126-123) حضرت الیاس کی دعوت بعل اس دیوتا کا نام ہے جس کو حضرت الیاس کی قوم پوجتی تھی، فرینہ دلیل ہے کہ شہر بعلبک کا نام اسی دیوتا کی نسبت سے پڑا ہے اس لئے کہ بک مخفف ہے بکہ کا جس کے معنی شہر کے ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت دی کہ بدبختو ! بہترین خالق اللہ کو چھوڑ کر جو تمہارا اور تمہارے تمام اگلوں کا رب ہے، تم بغل کو پوجتے ہو ! بہترین خالق سے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ صرق خالق ہی نہیں بلکہ بہترین خالق ہے۔ اسی نے پیدا کیا، اسی نے تمام ظاہری و باطنی صلاحیتیں بخشیں وہی پرورش کر رہا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 125–126

126۔ 1 یعنی اس کی عبادت پرستش کرتے ہو، اس کے نام کی نذر نیاز دیتے اور اس کو حاجت روا سمجھتے ہو، جو پتھر کی مورتی ہے اور جو ہر چیز کا خالق اور اگلوں پچھلوں سب کا رب ہے، اس کو تم نے فراموش کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 123–134

23: حضرت الیاس ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے زیادہ تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، تاریخی اور اسرائیلی روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں کفر وشرک کی وبائیں پھوٹیں تو اس وقت آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا، بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی، حضرت الیاس ؑ نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے، لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس ؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس ؑ کو اپنے پاس بلالیا،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 123–132

اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔ وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132) حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 123–125

8 حضرت الیاس (علیہ السلام) بعض کے نزدیک حضرت ہارون کی نسل سے ہیں۔ اللہ نے ان کو ملک شام کے ایک شہر " بعلبک " کی طرف بھیجا۔ وہ لوگ " بعل " نامی ایک بت کو پوجتے تھے۔ حضرت الیاس نے ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 125{ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ } ”کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

72 سیدنا الیاس کا مرکز تبلیغ اور بعل کی پرستش :۔ سیدنا الیاس، سیدنا ہارون کی اولاد سے ہیں۔ ان کا زمانہ نبوت نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کا مرکز تبلیغ بعلبک نامی شہر تھا جو شام میں واقع تھا۔ آپ کی قوم بعل نامی بت کی پرستار تھی اور یہی بعل ہی ان کا دیوتا تھا۔ بعل کا لغوی معنی مالک، آقا، سردار اور خاوند ہے اور قرآن میں بعل کا لفظ متعدد مقامات پر خاوند کے معنوں میں استعمال ہوا ہے مگر قدیم زمانے میں سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنوں میں استعمال کرتی تھیں۔ ان لوگوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل (یعنی دوسرے دیوتاؤں یا معبودوں کا سردار) کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ بابل سے لے کر مصر تک پورے شرق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 124–125

67۔ (آیت) ” احسن الخالقین “۔ کا لفظ لاکر حق تعالیٰ کے اس صفاتی پہلو پر بھی توجہ دلادی گئی ہے کہ چھوڑے ہوئے بھی ہو تو کس کو ؟ اس کو جو تمہارا پروردگار تمہارا خالق ہے ! اور خالق بھی کیسا ؟ ہر اعتبار سے اشرف واحسن !.... ذرا تو اپنی اس بغاوت وسرکشی کو سوچو سمجھو، اور اس پر شرماؤ۔ بعل فینقی (فینبثین) قوم کے سب سے بڑے دیوتا کا نام تھا۔ اسرائیلی بادشاہ احی، ب نے جب غیر قوموں میں شادیاں کیں تو ان میں سے کوئی بیوی اپنے ہمراہ بعل پرستی بھی شاہی محل میں لے آئی اور شاہی محل سے رفتہ رفتہ ساری اسرائیلی قوم میں سرایت کرگئی، انبیاء اسرائیل میں سے چند نے اس نئے شرک کا مقابلہ پورے زور وقوت کے ساتھ کیا، اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–138

آیت نمبر 114 تا 138 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اتدعون بعلا وتذرون احسن الخالقین کیا تم بعل کی پوجا کرتے ہو اور سب سے اعلیٰ خالق کو چھوڑ بیٹھے ہو ؟ یعنی اس کی (خالص ‘ بغیر شرک کے) عبادت نہ کرتے ؟ بعل ایک بت کا نام تھا جس کو وہ لوگ پوجتے تھے ‘ اسی کے نام پر ان کے شہر کا نام بعلبک رکھ دیا گیا تھا۔ مجاہد ‘ عکرمہ اور قتادہ نے کہا : یمنی زبان میں بعل کا معنی ہے رب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 123–125

(123۔ 125) اور الیاس بھی اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم غیر اللہ کی پرستش سے نہیں ڈرتے کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا اس بعل بت کو پوجتے ہو یا یہ کہ اس بعل کو اور کہا گیا ہے کہ بعل نامی ان کا بت تھا۔ جس کی لمبائی تیس ہاتھ تھی اور اس کے چار منہ تھے اور اس ذات کی عبادت چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بڑح کر بنانے والا ہے اس کی عبادت کیوں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا : قرآن کے متعدد مقامات پر لفظ ”بَعْلًا“ شوہر کے معنی میں آیا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (228) اور نساء (127) اس کا معنی مالک اور آقا بھی ہے۔ مشرک اقوام اس لفظ کو رب یا معبود کے معنی میں استعمال کرتی ہیں، اس لیے الیاس ؑ کی قوم نے اپنے سب سے بڑے بت کا نام ”بعل“ رکھا ہوا تھا۔ الیاس ؑ نے انھیں سمجھایا کہ کیا تم ”بعل“ نامی بت کو پوجتے ہو ؟ وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ : اور بنانے والوں میں سب سے بہتر یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دیتے ہو۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اور بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب پیدا کرنے والوں سے بہتر فرمایا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بعض…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–132

123 ۔ 132:۔ مفسرین نے کہا : حضرت الیاس بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور الیاس سے مراد حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں اور یوں قراءت کی و ان ادریس یہ عکرمہ کا قول ہے۔ کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں و ان ادریس لمن المرسلین تھا حضرت عبداللہ بن مسعود یہ قول کرنے میں منفرد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اس کا سے مراد حضرت یسع کے چچا ہیں (1) ۔ ابن اسحاق اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت یوشع کے بعد بنی اسرائیل کے معاملات کے نگران حضرت کا لب بن یوفنا تھے پھر حضرت حز قیل تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت حز قیل نبی کو موت عطا کردی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–132

1:۔ ابن عساکر نے جو بیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (اور الیاس (علیہ السلام) بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) ان لوگوں نے اس کا بعلبک نام رکھا) کیونکہ ہو بعل کی عبادت کرتے تھے اور ان کی جگہ کا نام البدء تھا تو اس کا بعلبک نام پڑگیا۔ 2:۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (123) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کو بعلبک کی طرف بھیجا اور وہ قوم بتوں کی عبادت کرتی تھی اور بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے اور ہر بادشاہ ایک علاقہ پر حاکم تھا جس کی وہ آمدنی کھاتا تھا۔ اور وہ بادشاہ جو حضرت الیاس (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَتَدْعُوْنَ [کیا تم لوگ پکارتے ہو ] بَعْلًا [بعل (بت) کو ] وَّتَذَرُوْنَ [اور چھوڑتے ہو ] اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ [تخلیق کرنے والوں کے بہترین کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے تھے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ لوگ مشرک تھے، ان کا ایک بت تھا جس کا نام بعل تھا یہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے اور اس سے حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ روح المعانی میں ایک قول لکھا ہے کہ یہ بت سونے کا تھا جس کا قد بیس ہاتھ تھا اور چار چہرے تھے، شیطان اس کے اندر داخل ہوجاتا تھا اور اس کے پجاریوں اور خدمت گاروں سے باتیں کرتا تھا وہ لوگ اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–132

قصہ چہارم الیاس (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وان الیاس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ انہ من عبادنا ال مومنین۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور انبیا بنی اسرائیل میں سے ہیں جو یوشع (علیہ السلام) کے بعد نبی بنائے گئے جن کو اللہ تعالیٰ نے شہر بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا جو دمشق کے غربی جانب میں واقع ہے۔ جمہور علما کے نزدیک حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سے ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) سے پہلے گذرے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ الیاس (علیہ السلام) یہی ادریس (علیہ السلام) ہیں مگر یہ قول صحیح نہیں اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 124–127

54:۔ فکذبوہ الخ : لیکن مشرکین نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل سے بچا لیا اور جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ الا عبادللہ المخلصین۔ یہ کذبوہ کی ضمیر فاعل سے استثناء متصل ہے۔ یعنی ان کی قوم کے مخلصین نے ان کو نہیں جھٹلایا۔ یا یہ محضرون سے استثناء منقطع ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ قوم الیاس (علیہ السلام) جنہوں نے ان کو جھٹلایا، عذاب جہنم میں حاضر کی جائے گی لیکن جو اللہ کے مخلص اور برگزیدہ بندے ہوتے ہیں وہ عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 114–138

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ۝ 125ۙ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 123–132

الیاس کا قصہ : وان الیاس لمن المرسلین یہ چوتھا قصہ حضرت الیاس ( علیہ السلام) کا ہے۔ کتاب السلاطین کے سترہویں باب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جلعاء شہر کے رہنے والے تھے جو ملک شام میں ہے اور اخی اب بادشاہ بنی اسرائیل والی شہر سمرون کے عہد میں تھے۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً نو سو دس برس پیشتر، یہ یا ہو نبی کے بعد مبعوث ہوئے تھے۔ دوسری کتاب السلاطین کے پہلے باب میں یہ ہے۔ اخیزماہ اخی آب کے بیٹے نے چند قاصد بھیجے کہ جاؤ عقرون کے معبود لعل زبوب سے پوچھو کہ میں اس بیماری سے چنگا ہوں گا کہ نہیں اس دم خدا نے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ ان قاصدوں سے کہہ دے کہ تو نے خدا کو چھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 125–126

اَتَدْعُوْنَ بَعْلاً وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ۔ اللّٰہَ رَبَّـکُمْ وَ َربَّ اٰبَـآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الصآفات : 125، 126) (کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑتے ہو۔ اس اللہ کو جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے آبائواجداد کا بھی۔ ) حضرت الیاس (علیہ السلام) کی دعوت آپ نے کہا کہ کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑتے ہو جو تمہارا بہترین خالق ہے۔ بہترین خالق سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا کوئی اور حامل بھی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جس کی مخلوق ہو اس کے سوا کوئی اور خالق نہیں۔ ویسی صفت تخلیق سے متصف ہونا کسی اور کے بس کی بات نہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 123–132

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے ایک مرتبہ یہاں اور دوسری مرتبہ سورة انعام آیت 85 میں ذکر ہوا ہے موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 ق م کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جلعاد کے رہنے والے تھے۔ قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں اس مقام پر قرآن مجید نے الیاسین بھی کہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو انہی الفاظ کے ساتھ خطاب فرمایا جن الفاظ میں پہلے انبیائے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

125: اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا (کیا تم بعل کو پوجتے ہو) بعل یہ سونے کا بنایا ہوا بت تھا۔ اس کی لمبائی بیس ہاتھ تھی۔ اس کے چار چہرے تھے۔ وہ اس کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوگئے۔ اور اس کی تعظیم کرنے لگے۔ یہاں تک کہ اس کے خدام کی تعداد چار سو تھی۔ اور ان سادھوؤں کو لوگ بعل کے رسول کہتے تھے۔ جس مقام پر یہ بت پایا جاتا تھا۔ وہ بک کے نام سے معروف تھا۔ پس دونوں ناموں کو جوڑ کر بعلبک بنا لیا گیا۔ یہ شام کا شہر ہے۔ ایک قول : یہ ہے الیاس (علیہ السلام) کی ڈیوٹی جنگلوں اور بیابانوں کی لگی ہے جیسا کہ خضر کی سمندروں پر لگی ہے۔ قولِ حسن بصری (رح) : الیاس وخضر (علیہما السلام) دونوں فوت ہوچکے۔ ہم اس طرح نہ کہیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 125۔ ، اتدعون، کیا تم عبادت کرتے ہو، بعلا، بت کا نام ہے جس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ اس کی مناسبت سے ان کے شہرکو بعلبک کہاجاتا تھا۔ مجاہد، عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ بعل اہل یمن کی لغت میں رب کو کہتے ہیں۔ ، وتذرون احسن الخالقین، وہ اس کی عبادت نہیں کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 125–132

125۔ 132۔ حسن بصری (رح) کے قول کے موافق ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ کنعانی قوم کے ایک ظالم بادشاہ کا جب انتقال ہوگیا تو اس کی بی بی نے اپنے خاوند کی شکل کی ایک مورت بنائی۔ اور ان کا نام بعل رکھا۔ کہ بعل عربی میں عورت کے خاوند کو بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد اس عورت کا دوسرا نکاح ایک اسرائیلی بادشاہ سے ہوگیا۔ اور اس عورت نے اپنے دوسرے خاوند کو بہکا کر اس بعل بت کی پوجا عام طور پر لوگوں میں جاری کروا دی۔ ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے الیاس (علیہ السلام) نے وہ نصیحت کی ہے۔ جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ حاصل نصیحت یہ ہے۔ کہ اے لوگو جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا۔ اس کا شکریہ کیا یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–132

آیت 123 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاس کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاس نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انہیں ” بعل “ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انہیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بات کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کرسکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کرسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 125–131

85 حضرت الیاس کی مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک : سو آپ نے مشرکوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے اور انکے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا " کیا تم لوگ اس کو چھوڑتے ہو جو سب سے بہتر خالق ہے ؟ "۔ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کو جو کہ اس ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا بلاشرکت غیرے خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اسی نے اس کائنات کو اور اس میں موجود ہر شی کو وجود بخشا اور اس کو بلا کسی نمونے اور مثال کے پیدا فرمایا۔ اور اس کو عدم محض سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا۔ اور اس کے سوا دوسری کوئی بھی ہستی ایسی نہ ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے جو ایسا کرے۔ باقیوں کی تخلیق تو محض صنعت اور کاریگری کی حد تک ہوتی ہے اور بس۔ سو اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 123–132

سیدنا الیاس (علیہ السلام) کے حالات تشریح : سیدنا الیاس (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ وہ بھی مقبولِ الٰہی انسان تھے۔ جن کو نبوت دی گئی ان کی قوم ایک بت جس کا نام ” بعل “ تھا یہ بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار منہ بنائے گئے تھے۔ یہ لوگ اس بت کی پوجا کرتے تھے۔ جب وہ پیغمبر کی تعلیمات پر نہ چلے تو آخر کار اس قوم پر بھی سخت عذاب آیا اور وہ نیست و نابود ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 114–138

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138: اسرار و معارف : یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔ پھر الیاس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 124–125

ف 6 بعل کے لفظی معنی آقا اور مالک کے ہیں۔ قرآن کے متعدد مقامات پر یہ لفظ ” شوہر “ کیلئے بھی استعمال ہوا ہے۔ (مثلاً سورة بقرہ آیت 228، سورة نساء، آیت 1127) حضرت الیاس ( علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ایک بت کا نام ” بعل “ رکھا تھا یا یہ ان کی ایک دیوی کا نام تھا۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ حضرت الیاس ( علیہ السلام) اولاد میں حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے ہیں، شہر بعلبک کی طرف ان کو اللہ نے بھیجا اور وہ پوجتے تھے بت اس کا نام بعل تھا۔ ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:125) اتدعون بعلا۔ ہمزہ استفہامیہ۔ تدعون مضارع جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر سے بمعنی پکارنا۔ مطلب۔ پوجا کرنا۔ اس سے حاجت مانگنا۔ بعلا مفعول ہے تدعون کا۔ ایک بت کا نام ہے جسے جہالت کے زمانہ میں اکثر مشرقی سامی قوموں میں پوجا جاتا تھا۔ بعل بمعنی شوہر بھی آیا ہے مثلاً وھذا بعلی شیخا (11:72) اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ اور ان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا (4:128) اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے لڑنے کا اندیشہ ہو۔ تذرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ وذر یذر (فتح) وذر مصدر۔ چھوڑنا۔ تم چھوڑتے ہو۔ اس مصدر سے صرف مضارع اور امر ہی مستعمل ہیں۔ احسن الخالقین۔ احسن۔ بہت اچھا ۔ اسم تفضیل کا صیغہ جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–132

لغات القرآن آیت نمبر 123 تا 132 :۔ بعل ( بت ( جس کی وہ عبادت کرتے تھے) تذرون (تم چھوڑتے ہو) احسن (بہترین) الخالقین ( پیدا کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 132 :۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں بائبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس ذات کو چھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–132

حضرت الیاس (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ نے ملک شام کے ایک شہر بعلبک کی طرف بھیجا وہ لوگ بعل نامی ایک بت کو پوجتے تھے جو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چارمنہ تھے حضرت الیاس نے کہا کہ اے لوگو، جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا اس کا شکر ادا کرو کیا یہی شکر ہے کہ تم اس کی عبادت کو چھوڑ کر بعل بت کی پوجا کرتے ہو، غرض ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا، جب انہوں نے نہ مانا ودین ودنیا کے عذاب میں پکڑے گئے دنیا کا عذاب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں میں تین برس کا قحط پڑا اور عقبی میں جو سب مشرکوں کا حال ہوگا وہی مصیبت ان لوگوں پر آئے گی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 125–129

[26] قوم کے سب سے بڑے بت کا نام تھا۔ [27] احسن الخالقین کے معنی ہیں سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 123–127

ف 2: فرعون مصر کے وقت جب بنی اسرائیل پر تشدد ہونے لگا اوسان کی طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا رکھا گیا ۔ تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور حضرت موسیٰ اور ہارون کو اس ظالم حکومت کی سرکوبی کے لئے بھیجا گیا ۔ کہ فرعون اور اس کی قوم کو توحید اور آزادی کا پیغام سنائیں ۔ اور ان کو بنی اسرائیل کے استخلاص کے لئے آمادہ اور مستعد کریں ۔ چناچہ ان دونوں بزرگوں نے پوری قوت کے ساتھ فرعون کا مقابلہ کیا ۔ اور بالآخر اپنی قوم کو اس کے چنگل سے چھڑانے میں کامیاب ہوگئے ان آیات میں انہی واقعات کا تذکرہ ہے واتینھما الکتب سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ ہارون (علیہ السلام) کی نبوت بھی ایک مستقل نبوت تھی ۔ ظنیت وتبعیت کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(125) کیا تم بعل نامی بت کو پوجتے ہو اور اس معبود حقیقی کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بہتر بنانے والا اور پیدا کرنے والا ہے۔ یعنی کچھ بنانے والے ایسے ہیں جو بعض اشیاء کی تحلیل و ترکیب کرلیتے ہیں یعنی قدرت کی پیدا کردہ چیزوں کو ملا کر کوئی کھلونے بنا لیتا ہے کوئی گاڑی یا انجن بنا لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو اشیاء کا موجد اور خالق ہے انسان اصل اشیاء کا ایجاد کرنے والا نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حقیقی بنانے والا ہے اور سب سے بہتر بنانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو : 125۔ الیاس (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ میری قوم تم بعل کو پکارتے ہو اور اس کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا ٹھہراتے ہو اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو جو سب کا پیدا کرنے والا ہے اس کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اس دنیا میں جتنے نیک سے نیک اور اچھے سے اچھے انسان پیدا ہوئے کیا وہ سب کے سب اسی رب العالمین کی مخلوق نہیں ؟ کیا اس کے خالق ہونے سے کسی کو انکار ہے یا کوئی ہے جو اس کو اپنا خالق نہ مانتا ہو ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–126

The word: بَعل (ba'l) in verse 125: أَتَدْعُونَ بَعْلًا (Do you invoke literally means husband, master etc. But, it was the name of a particular idol that the people of Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) had taken to as the object of their worship. The history of the worship of ba` l (Baal) goes way back in time. It was worshipped in the country of Syria during the time of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and it used to be the most popular idol-god they had. Ba'labakk, (Baalbek or ancient Heliopolis in present Lebanon), the once famous city of Syria was also named after it. Some people think that Hubal,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–127

71 Lexically, ba al means master, chief and possessor. This word was also used for husband, and has been used in this sense at several places in the Qur'an itself, e.g. in Surah AI-Baqarah: 228, An-Nisa': 127, Hud: 72 and An-Nur: 31. However; in the ancient times the Semetic nations used it in the meaning of deity or lord; they had even given the name of Baal to a special god. The chief male god of the Phoenicians, in particular, was Baal and their chief goddess was Ashtoreth, his wife. The scholars differ as to whether Baal meant the sun or Jupiter, and Ashtoreth the moon or Venus. In any…

Read the full tafseer →