Explained with ayahs 123–132
حضرت الیاس ؑ۔
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
سورة الصّٰٓفّٰت 70
حضرت الیاس ؑ انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے۔ ایک یہ مقام اور دوسرا سورة انعام آیت 85۔ موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جِلْعاد کے رہنے والے تھے (قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے اور دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔) بائیبل میں ان کا ذکر ایلیاہ تشبی (elijah theTishbite) کے ناک سے کیا گیا ہے۔ ان کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں
حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رجُبْعام (Rehoboam) کی نااہلی کے باعث بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
خلاصہ تفسیر
اور الیاس ؑ بھی (بنی اسرائیل کے) پیغمبروں میں سے تھے (ان کا اس وقت کا واقعہ ذکر کیجئے) جبکہ انہوں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) سے (کہ وہ بت پرستی میں مبتلا تھی) فرمایا کہ کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟ کیا تم بعل کو (جو ایک بت کا نام تھا) پوجتے ہو اور اس (کی عبادت) کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بڑھ کر بنانے والا ہے (کیونکہ اور لوگ تو صرف بعض اشیاء کی تحلیل و ترکیب پر قدرت رکھتے ہیں اور وہ بھی عارضی، اور وہ تمام اشیاء کو عدم سے وجود میں لانے پر قدرت ذاتی رکھتا ہے، پھر کوئی دوسرا جان نہیں ڈال سکتا اور وہ جان ڈالتا ہے اور وہ) معبود برحق ہے (اور) تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
وان الیاس لمن المرسلین، اذ قال لقومہ الاتتقون اتدعون یعلا وتذرون احسن الغا یقین اللہ ربکم و رب ابآئکم الاولین (126-123)
حضرت الیاس کی دعوت
بعل اس دیوتا کا نام ہے جس کو حضرت الیاس کی قوم پوجتی تھی، فرینہ دلیل ہے کہ شہر بعلبک کا نام اسی دیوتا کی نسبت سے پڑا ہے اس لئے کہ بک مخفف ہے بکہ کا جس کے معنی شہر کے ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت دی کہ بدبختو ! بہترین خالق اللہ کو چھوڑ کر جو تمہارا اور تمہارے تمام اگلوں کا رب ہے، تم بغل کو پوجتے ہو ! بہترین خالق سے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ صرق خالق ہی نہیں بلکہ بہترین خالق ہے۔ اسی نے پیدا کیا، اسی نے تمام ظاہری و باطنی صلاحیتیں بخشیں وہی پرورش کر رہا ہے…
Read the full tafseer →124۔ 1 یعنی اس کے عذاب اور گرفت سے، کہ اسے چھوڑ کر تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–134
23: حضرت الیاس ؑ کے بارے میں قرآن کریم نے زیادہ تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، تاریخی اور اسرائیلی روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں کفر وشرک کی وبائیں پھوٹیں تو اس وقت آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا، بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی، حضرت الیاس ؑ نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے، لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس ؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس ؑ کو اپنے پاس بلالیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
8 حضرت الیاس (علیہ السلام) بعض کے نزدیک حضرت ہارون کی نسل سے ہیں۔ اللہ نے ان کو ملک شام کے ایک شہر " بعلبک " کی طرف بھیجا۔ وہ لوگ " بعل " نامی ایک بت کو پوجتے تھے۔ حضرت الیاس نے ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا۔
Read the full tafseer →آیت 124{ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلَا تَتَّقُوْنَ } ”جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–124
71 یعنی ان دونوں نبیوں نے بھی راہ حق میں بیشمار قربانیاں دی تھیں۔ وہ اللہ کے حکم کے تحت اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر فرعون جیسے جابر اور ظالم فرمانروا کے پاس پہنچ گئے تھے۔ جبکہ سیدنا موسیٰ خود ان کے مجرم بھی تھے۔ پھر انہوں نے فرعون سے دعوت توحید کے بعد جو مطالبہ کیا تھا وہ بھی اسے سیخ پا کردینے والا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے انہیں ہمارے ہمراہ روانہ کردو۔ اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد انہوں نے اس بگڑی قوم کو سنوارنے کے لئے مقدور بھر کوششیں کی تھیں۔
ان کے ایسے ہی کارناموں کا صلہ ہم نے انہیں یہ دیا کہ رہتی دنیا تک انہیں بھلائی سے یاد کیا جائے۔ چناچہ یہود و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
67۔ (آیت) ” احسن الخالقین “۔ کا لفظ لاکر حق تعالیٰ کے اس صفاتی پہلو پر بھی توجہ دلادی گئی ہے کہ چھوڑے ہوئے بھی ہو تو کس کو ؟ اس کو جو تمہارا پروردگار تمہارا خالق ہے ! اور خالق بھی کیسا ؟ ہر اعتبار سے اشرف واحسن !.... ذرا تو اپنی اس بغاوت وسرکشی کو سوچو سمجھو، اور اس پر شرماؤ۔ بعل فینقی (فینبثین) قوم کے سب سے بڑے دیوتا کا نام تھا۔ اسرائیلی بادشاہ احی، ب نے جب غیر قوموں میں شادیاں کیں تو ان میں سے کوئی بیوی اپنے ہمراہ بعل پرستی بھی شاہی محل میں لے آئی اور شاہی محل سے رفتہ رفتہ ساری اسرائیلی قوم میں سرایت کرگئی، انبیاء اسرائیل میں سے چند نے اس نئے شرک کا مقابلہ پورے زور وقوت کے ساتھ کیا، اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
آیت نمبر 114 تا 138
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →اذ قال لقومہ الا تتقون جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم لوگ (ا اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
(123۔ 125) اور الیاس بھی اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم غیر اللہ کی پرستش سے نہیں ڈرتے کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا اس بعل بت کو پوجتے ہو یا یہ کہ اس بعل کو اور کہا گیا ہے کہ بعل نامی ان کا بت تھا۔ جس کی لمبائی تیس ہاتھ تھی اور اس کے چار منہ تھے اور اس ذات کی عبادت چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بڑح کر بنانے والا ہے اس کی عبادت کیوں نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
وَاِنَّ اِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : ”اَلَا تَتَّقُوْنَ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة شعراء کی آیت (106)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
123 ۔ 132:۔ مفسرین نے کہا : حضرت الیاس بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور الیاس سے مراد حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں اور یوں قراءت کی و ان ادریس یہ عکرمہ کا قول ہے۔ کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں و ان ادریس لمن المرسلین تھا حضرت عبداللہ بن مسعود یہ قول کرنے میں منفرد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اس کا سے مراد حضرت یسع کے چچا ہیں (1) ۔ ابن اسحاق اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت یوشع کے بعد بنی اسرائیل کے معاملات کے نگران حضرت کا لب بن یوفنا تھے پھر حضرت حز قیل تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت حز قیل نبی کو موت عطا کردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
1:۔ ابن عساکر نے جو بیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (اور الیاس (علیہ السلام) بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) ان لوگوں نے اس کا بعلبک نام رکھا) کیونکہ ہو بعل کی عبادت کرتے تھے اور ان کی جگہ کا نام البدء تھا تو اس کا بعلبک نام پڑگیا۔
2:۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (123) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کو بعلبک کی طرف بھیجا اور وہ قوم بتوں کی عبادت کرتی تھی اور بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے اور ہر بادشاہ ایک علاقہ پر حاکم تھا جس کی وہ آمدنی کھاتا تھا۔ اور وہ بادشاہ جو حضرت الیاس (علیہ…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ [جب انھوں (علیہ السلام) نے کہا اپنی قوم سے ] اَلَا تَتَّقُوْنَ [کیا تم لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرو گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
حضرت الیاس (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا
حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے تھے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ لوگ مشرک تھے، ان کا ایک بت تھا جس کا نام بعل تھا یہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے اور اس سے حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ روح المعانی میں ایک قول لکھا ہے کہ یہ بت سونے کا تھا جس کا قد بیس ہاتھ تھا اور چار چہرے تھے، شیطان اس کے اندر داخل ہوجاتا تھا اور اس کے پجاریوں اور خدمت گاروں سے باتیں کرتا تھا وہ لوگ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
قصہ چہارم الیاس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان الیاس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ انہ من عبادنا ال مومنین۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور انبیا بنی اسرائیل میں سے ہیں جو یوشع (علیہ السلام) کے بعد نبی بنائے گئے جن کو اللہ تعالیٰ نے شہر بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا جو دمشق کے غربی جانب میں واقع ہے۔
جمہور علما کے نزدیک حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سے ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) سے پہلے گذرے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ الیاس (علیہ السلام) یہی ادریس (علیہ السلام) ہیں مگر یہ قول صحیح نہیں اس لئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
54:۔ فکذبوہ الخ : لیکن مشرکین نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل سے بچا لیا اور جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ الا عبادللہ المخلصین۔ یہ کذبوہ کی ضمیر فاعل سے استثناء متصل ہے۔ یعنی ان کی قوم کے مخلصین نے ان کو نہیں جھٹلایا۔ یا یہ محضرون سے استثناء منقطع ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ قوم الیاس (علیہ السلام) جنہوں نے ان کو جھٹلایا، عذاب جہنم میں حاضر کی جائے گی لیکن جو اللہ کے مخلص اور برگزیدہ بندے ہوتے ہیں وہ عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلَا تَتَّقُوْنَ 124
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
وقی
الوِقَايَةُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
الیاس کا قصہ : وان الیاس لمن المرسلین یہ چوتھا قصہ حضرت الیاس ( علیہ السلام) کا ہے۔ کتاب السلاطین کے سترہویں باب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جلعاء شہر کے رہنے والے تھے جو ملک شام میں ہے اور اخی اب بادشاہ بنی اسرائیل والی شہر سمرون کے عہد میں تھے۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً نو سو دس برس پیشتر، یہ یا ہو نبی کے بعد مبعوث ہوئے تھے۔ دوسری کتاب السلاطین کے پہلے باب میں یہ ہے۔ اخیزماہ اخی آب کے بیٹے نے چند قاصد بھیجے کہ جاؤ عقرون کے معبود لعل زبوب سے پوچھو کہ میں اس بیماری سے چنگا ہوں گا کہ نہیں اس دم خدا نے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ ان قاصدوں سے کہہ دے کہ تو نے خدا کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلاَ تَتَّقُوْنَ ۔ (الصآفات : 124)
(جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو۔ )
جب انھوں نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بعل پرستی میں مبتلا ہوگئے اور شریعت کے اتباعِ کی بجائے ہَوائے نفس کے اتباع کو اپنا طرزعمل بنا لیا ہے تو آپ نے ان سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو، جب وہ تم سے تمہارے طرزعمل کے متعلق سوال کرے گا تو تم کیا جواب دو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے ایک مرتبہ یہاں اور دوسری مرتبہ سورة انعام آیت 85 میں ذکر ہوا ہے موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 ق م کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جلعاد کے رہنے والے تھے۔ قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں اس مقام پر قرآن مجید نے الیاسین بھی کہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو انہی الفاظ کے ساتھ خطاب فرمایا جن الفاظ میں پہلے انبیائے…
Read the full tafseer →124: اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلاَ تَتَّقُوْنَ (جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا۔ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے) ۔ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
123(وان الیاس لمن المرسلین)
حضرت الیاس کا ذکر
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : الیاس ، ادریس ہی تھے (دونوں نام ایک ہی پیغمبر کے تھے ) مصحف ابن مسعود میں ، وان ادریس لمن المرسلین، لکھا ہوا تھا۔ عکر مہ کا قول بھی یہی ہے۔ باقی دوسرے علماء قائل ہیں کہ الیاس، ادریس کے علاوہ ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الیاس ، حضرت الیسع کے چچا کے بیٹے تھے۔
محمد بن اسحاق نے حضرت الیاس کا نسب اس طرح بیان کیا ہے : الیاس بن بشیربن فخاص بن عیر ازین ہارون بن عمران۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے : اصحاب روایت کہتے ہیں کہ جب الیاس سے پہلے جو پیغمبر تھے، ان کی وفات ہوگئی تو بنی اسرائیل میں نئی نئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
123۔ 124۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں امام بخاری نے بغیر سند کے معلق طور پر حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود اور عبد ؓ اللہ بن عباس کا یہ قول بیان کیا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت ادریس ایک ہی پیغمبر کا نام ہے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے اس قول کو تو معہ سند کے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ضحاک سے روایت کیا ہے جس کی سند ضعیف ہے اور حضرت عبد ؓ بن مسعود کے اس قول کو عبدبن حمید نے اپنی مسند میں اور ابن 3 ؎ ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کیا ہے۔ اس کی سند اگرچہ درجہ کی ہے لیکن یہ روایت اس صحیح روایت کی مخالف ہے۔ جس کو ابن حبان 1 ؎ نے صحیح قرار دیا ہے جو حضرت ابو ؓ ذر کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ حضرت ادریس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
آیت 123
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاس کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاس نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انہیں ” بعل “ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انہیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بات کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کرسکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی
قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →84 خوف خدا اصلاح احوال کی اساس و بنیاد : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خوف خدا اصلاح احوال کی اساس و بنیاد ہے۔ اسی لیے حضرت الیاس نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا " کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟ "۔ اور یہی بات سب سے اہم اور بنیادی بات ہے۔ اس لئے تمام انبیائے کرام اسی کی تذکیر و یاد دہانی کراتے رہے۔ کیونکہ جب خدا کا خوف پیدا ہوگا اور انسان اس کے غضب اور اس کی پکڑ اور ناراضگی سے بچنے کی فکر و کوشش کرے گا تو وہ حق و باطل کو جاننے اور پہچاننے کی طرف متوجہ ہوگا۔ تاکہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے حق کو اختیار کرے اور باطل سے اجتناب کرے۔ اس کے بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
سیدنا الیاس (علیہ السلام) کے حالات
تشریح : سیدنا الیاس (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ وہ بھی مقبولِ الٰہی انسان تھے۔ جن کو نبوت دی گئی ان کی قوم ایک بت جس کا نام ” بعل “ تھا یہ بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار منہ بنائے گئے تھے۔ یہ لوگ اس بت کی پوجا کرتے تھے۔ جب وہ پیغمبر کی تعلیمات پر نہ چلے تو آخر کار اس قوم پر بھی سخت عذاب آیا اور وہ نیست و نابود ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138:
اسرار و معارف :
یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔
پھر الیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
ف 6 بعل کے لفظی معنی آقا اور مالک کے ہیں۔ قرآن کے متعدد مقامات پر یہ لفظ ” شوہر “ کیلئے بھی استعمال ہوا ہے۔ (مثلاً سورة بقرہ آیت 228، سورة نساء، آیت 1127) حضرت الیاس ( علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ایک بت کا نام ” بعل “ رکھا تھا یا یہ ان کی ایک دیوی کا نام تھا۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ حضرت الیاس ( علیہ السلام) اولاد میں حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے ہیں، شہر بعلبک کی طرف ان کو اللہ نے بھیجا اور وہ پوجتے تھے بت اس کا نام بعل تھا۔ ( موضح)
Read the full tafseer →(37:124) الا تتقون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے۔ بمعنی ڈرنا۔ بچنا۔ الا تتقون۔ کیا تم (اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
لغات القرآن آیت نمبر 123 تا 132 :۔ بعل ( بت ( جس کی وہ عبادت کرتے تھے) تذرون (تم چھوڑتے ہو) احسن (بہترین) الخالقین ( پیدا کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 132 :۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں بائبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس ذات کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–132
حضرت الیاس (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ نے ملک شام کے ایک شہر بعلبک کی طرف بھیجا وہ لوگ بعل نامی ایک بت کو پوجتے تھے جو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چارمنہ تھے حضرت الیاس نے کہا کہ اے لوگو، جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا اس کا شکر ادا کرو کیا یہی شکر ہے کہ تم اس کی عبادت کو چھوڑ کر بعل بت کی پوجا کرتے ہو، غرض ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا، جب انہوں نے نہ مانا ودین ودنیا کے عذاب میں پکڑے گئے دنیا کا عذاب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں میں تین برس کا قحط پڑا اور عقبی میں جو سب مشرکوں کا حال ہوگا وہی مصیبت ان لوگوں پر آئے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
[25] مشہور اسرائیلی نبی۔ تورات میں ان کا نام ایلیا آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
ف 2: فرعون مصر کے وقت جب بنی اسرائیل پر تشدد ہونے لگا اوسان کی طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا رکھا گیا ۔ تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور حضرت موسیٰ اور ہارون کو اس ظالم حکومت کی سرکوبی کے لئے بھیجا گیا ۔ کہ فرعون اور اس کی قوم کو توحید اور آزادی کا پیغام سنائیں ۔ اور ان کو بنی اسرائیل کے استخلاص کے لئے آمادہ اور مستعد کریں ۔ چناچہ ان دونوں بزرگوں نے پوری قوت کے ساتھ فرعون کا مقابلہ کیا ۔ اور بالآخر اپنی قوم کو اس کے چنگل سے چھڑانے میں کامیاب ہوگئے ان آیات میں انہی واقعات کا تذکرہ ہے واتینھما الکتب سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ ہارون (علیہ السلام) کی نبوت بھی ایک مستقل نبوت تھی ۔ ظنیت وتبعیت کا…
Read the full tafseer →(124) الیاس کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں۔ یعنی بنی اسرائیل جو بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے ان کو حضرت الیاس نے اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا اور فرمایا کیا تم کو ڈر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–135
ف 7۔ فرعون غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے۔
Read the full tafseer →جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟
124۔ الیاس (علیہ السلام) کی قوم مشہور بت بعل کی پرستار اور توحید سے بیزار ‘ شرک میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول نے ان کو سمجھایا اور راہ ہدایت دکھائی ‘ صنم پرستی اور کو اکب پرستی کے خلاف وعظ وپند کرتے ہوئے توحید خالص کی جانب دعوت دی ، بعل دیوتا مشرق میں آباد سامی اقوام کا مشہور اور سب سے زیادہ مقبول دیوتا تھا یہ بت دراصل زحل یا مشتری کا مثنی سمجھا جاتا تھا ، فینقی ‘ کنعانی اور مدیانی قبائل خاص طور پر اس کی پرستش کرتے تھے اس لیے بعل کی پرستش عہد قدیم سے چلی آتی تھی اور موآبی اور مدیانی قبائل خاص طو پر اس کو پوجتے چلے آتے تھے چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
Commentary
Sayyidna Ilyas (علیہ السلام)
Described in the verses cited above is the fourth event relating to Sayyidna Ilyas علیہ السلام . Before we take up the explanation of these verses, a few bits of information about Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) are being given below.
Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) has been mentioned in the noble Qur'an only at two places: Firstly, in Surah Al-An` am (6:85) and secondly, in these very verses of Surah As-Saffat (37:123) and (37:130). As for the reference in Surah AI-An'am, his good name appears there only as part of a list of righteous prophets, and no event…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
70 The Prophet Elias was from among the Israelite Prophets. He has been mentioned only twice in the Qur'an, here and in Surah AI-An'am: 85. The present-day scholars have determined his period between 875 and 850 B.C. He was an inhabitant of Gilead, which in ancient days was the territory now under the northern districts of the modern state of Jordan, to the south of the River Yarmuk. In the Bible he has been mentioned as Elijah the Tishbite. Here is briefly his lifestory: After the death of the Prophet Solomon the Israelite kingdom was broken up into two parts due mainly to the unworthiness…
Read the full tafseer →