Explained with ayahs 33–35
اللہ کی کتاب کے وارث لوگ۔
فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہوگا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہوگا۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کردیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لئے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لئے آخرت میں ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 57
مفسرین میں سے ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اس فقرے کا تعلق قریب ترین دونوں فقروں سے ہے، یعنی نیکیوں پر سبقت کرنے والے ہی بڑی فضیلت رکھتے ہیں اور وہی ان جنتوں میں داخل ہوں گے۔ رہے پہلے دو گروہ، تو ان کے بارے میں سکوت فرمایا گیا ہے تاکہ وہ اپنے انجام کے معاملہ میں فکر مند ہوں اور اپنی موجودہ حالت سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ اس رائے کو علامہ زمخشری نے بڑے زور کے ساتھ بیان کیا ہے اور امام رازی نے اس کی تائید کی ہے۔
لیکن مفسرین کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ اس کا تعلق اوپر کی پوری عبارت سے ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کے یہ تینوں گروہ بالآخر جنت میں داخل ہوں گے، خواہ محاسبہ کے…
Read the full tafseer →(آیت) ذلک ہوالفضل الکبیر جنت عدن یدخلو نہا یحلون فیہا من اساور من ذھب ولولوءا ولباسہم فیہا حریر، شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ منتخب لوگوں کی تین قسمیں بتلائی ہیں، پھر فرمایا ذلک ہو الفضل الکبیر، یعنی ان تینوں کو برگزیدہ بندوں میں شمار کرنا یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ آگے ان کی جزاء کا بیان ہے کہ یہ جنت میں جائیں گے، ان کو سونے کے کنگن اور موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے، اور لباس ان کا ریشمی ہوگا۔
دنیا میں مردوں کے لئے سونے کا زیور پہننا بھی حرام ہے اور ریشمی لباس بھی، اس کے عوض میں ان کو جنت میں یہ سب چیزیں دی جائیں گی۔ اور اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ زیور پہننا تو عورتوں کا کام ہے،…
Read the full tafseer →آیت 33
یہ آخرت میں ان جانبازوں کا صلہ بیان ہوا ہے کہ ان کے لئے اقامت کے باغ ہوں گے جن میں وہ داخل ہوں گے۔ یعنی ان باغوں میں ان کا داخل ہونا محض وقتی سیر و تفریح کے لئے نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ کے لئے ہوگا۔ ’ یعلون ‘ مجہول کا صیغہ تشریف و تکریم پر دلیل ہے۔ سونے کے کنگن، موتی اور ریشم وغیرہ کا ذکر تقریب ِ فہم کے لئے ہے کہ جنت کی نعمتوں کا مخاطب کچھ تصور کرسکے۔ ان چیزوں کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ان کا صحیح اندازہ اسی وقت ہوگا جب یہ آخرت میں سامنے آئیں گی۔ پہلے زمانہ میں سلاطین سونے کے کنگن اور موتی پہنتے تھے، اس وجہ سے جنت کے لباس کا تصور دینے کے لئے یہ تعبیر اختیار کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
33۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جنت میں صرف سابقون جائیں گے لیکن یہ صحیح نہیں قرآن کا سیاق اس امر کا مقتاضی ہے کہ تینوں قسمیں جنتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ سابقین بغیر حساب کتاب کے اور مقصدین آسان حساب کے بعد اور ظالمین شفاعت سے یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔
33۔ 2 حدیث میں آتا ہے کہ ' ریشم کا لباس دنیا میں مت پہنو، اس لئے کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
9: اس سے مراد مسلمان ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن براہ راست تو حضور سرور عالم ﷺ پر نازل ہوا، لیکن پھر اس کا وراث ان مسلمانوں کو بنایا گیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے چن لیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائیں، لیکن ایمان لانے کے بعد ان کی تین قسمیں ہوگئیں، ایک وہ تھے جو ایمان تو لے آئے لیکن اس کے تقاضوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا، چنانچہ اپنے بعض فرائض چھوڑدئیے، اور گناہوں کا بھی ارتکاب کرلیا، ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، کیونکہ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ انہیں جنت میں فوری داخلہ نصیب ہوتا، لیکن انہوں نے گناہ کرکے اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنالیا،…
Read the full tafseer →ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25)
اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔
یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔
Read the full tafseer →4 سونا اور ریشم مسلمان مردوں کے لیے وہاں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو کوئی (مرد) ریشمی (کپڑا) پہنے دنیا میں، نہ پہنے آخرت میں۔
Read the full tafseer →آیت 33{ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا } ”ان کے لیے باغات ہوں گے رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے“
”جَنّٰتُ عَدْنٍ“ کا ترجمہ ”ہمیشگی کے باغات“ بھی کیا گیا ہے اور ”رہنے کے باغات“ residential gardens بھی۔
{ یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًاج وَلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ} ”ان میں انہیں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی ‘ اور ان میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔“
سورة الحج کی آیت 23 میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں۔
Read the full tafseer →38 نوابوں اور راجوں اور مہاراجوں میں یہ دستور تھا کہ وہ سونے کے کنگن پہنتے جن میں ہیرے اور جواہرات وغیرہ جڑے ہوتے تھے۔ نیز وہ ریشم کا نرم و نازک لباس پہنتے تھے یہی عیش و عشرت کی وہ انتہا تھی جو اس دنیا میں سمجھی جاسکتی تھی۔ اس لئے ان چیزوں کا نام لیا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ جنت والوں کا لباس اور عیش و عشرت اس دنیا کے بادشاہوں اور راجوں مہاراجوں سے کم نہ ہوگا۔ سونا اور ریشم اس دنیا میں امت مسلمہ کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں سب سے بڑی اور عام فہم بات ہے کہ جو لوگ ایسی عیاشیوں میں پڑ کر اپنی ذات پر ہی اس طرح خرچ کرنا شروع کردیں تو وہ غریبوں کا کیا خیال رکھ سکیں گے۔ یہی…
Read the full tafseer →46۔ آیت سے معلوم ہوا کہ سونے کے زیور اور موتی اور ریشمی لباس اپنی اصل کے لحاظ سے گندے نہیں، ورنہ اہل جنت کے لیے موقع مدح پر ان کا ذکر کیوں آتا۔ البتہ دنیا میں یہاں کی مصلحتوں اور حکمتوں کی بنا پر مردوں کے لیے حرام ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…
Read the full tafseer →جنت عدن یدخلونھا یحلون فیھا من اساور من ذھب ولولوا ولباسھم فیھا حریر وہ باغات
ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کو وہاں سونے کے کنگنوں اور موتیوں کا زیور پہنایا جائے گا اور وہاں ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی۔
یَدْخُلُوْنَ کی ضمیر اہل جنت کی تینوں اقسام کی طرف راجع ہے ‘ اس کا ثبوت احادیث سے پیش کیا جا چکا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت جَنّٰتُ عَدْنٍ یَدْخُلُوْنَھَا تلاوت کی ‘ پھر فرمایا : ان کو تاج پہنائے جائیں گے جن کا ایک ادنیٰ موتی مشرق سے مغرب تک (پوری دنیا کو) روشن کر دے گا۔ رواہ الترمذی والحاکم والبیہقی۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
قرطبی نے لکھا…
Read the full tafseer →اور جنت الفردوس ان کا ٹھکاناہ ہوگا کہ باغات جس کے چاروں طرف ہوں گے اور جنت میں مردوں کو سونے کے کنگن اور عورتوں کو موتی پہنائے جائیں گے اور پوشاک وہاں ریشم کی ہوگی۔
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا : یعنی یہ تینوں گروہ آخر کار جنات عدن میں داخل ہوجائیں گے۔ طبری اور بیہقی نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے : (ہُمْ أُمَّۃُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ، وَرَّثَہُمُ اللّٰہُ کُلَّ کِتَابٍ أَنْزَلَہُ ، فَظَالِمُہُمْ یُغْفَرُ لَہُ ، وَ مُقْتَصِدُہُمْ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا، وَ سَابِقُہُمْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ) [ طبري : 29236۔ البعث والنشور للبیھقي : 1؍68، ح : 64 ] ”یہ (کتاب کے وارث) امت محمد ﷺ کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نازل کردہ تمام کتابوں کا وارث بنایا۔ ان میں سے ظالم کو بخش…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 4 :۔ آیت : جنت عدن یدخلونھا جنت کے داخل ہونے کے امر میں سب کو جمع کیا کیونکہ یہ میراث ہے نافرمان اور طاعت گزار میراث میں برابر ہوتے ہیں جب وہ نسب کا اعتراف کریں نافرمان اور اطاعت گزار سب کا اقرار کرتے ہیں۔ اسے جنت عدن میں پڑھا گیا ہے (1) ( تفسیر الکشاف، جلد، صفحہ 613) گویا وہ ایسی جنت ہے جو سابقین کے لیے خاص ہے کیونکہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں، جس طرح پہلے گزرا ہے۔ اسے جنات عدن بھی پڑھا گیا ہے (2) ( ایضا، جلد 3، صفحہ 614) فعل مضمر ہے جس کی تفسیر ظاہر فعل کرتا ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی یدخلون جنات عدن یدخلونھا یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے، اس نے یہ قول یحلون کی وجہ سے…
Read the full tafseer →33:۔ الترمذی والحاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تلاوت فرمائی (آیت) ” جنت عدن یدخلونھا یحلون فیھا من اساور من ذھب ولؤلؤا “ (وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کی جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کو وہ وہاں سونے کی کنگنوں اور موتیوں کا زیور پہنایا جائے گا) یعنی ان پر تاج ہوں گے کہ ان میں سے ادنی درجے کا وہ موتی ہوگا جو مشرق اور مغرب کے درمیانی حصہ کو روشن کردے۔
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ [(ان کے لئے) عدن کے باغات ہیں ] يَّدْخُلُوْنَهَا [وہ لوگ داخل ہوں گے ان میں ] [يُحَلَّوْنَ فِيْهَا : ان کو آراستہ کیا جائے گا ] [مِنْ اَسَاوِرَ [کچھ ایسے کنگنوں سے جو ] مِنْ ذَهَبٍ [سونے کے ہوں گے ] وَّلُــؤْلُــؤًا ۚ [اور موتی سے ] وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا [اور ان کا لباس ان میں ] حَرِيْرٌ [باریک ریشم ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
اس کے بعد ان بندوں کا تذکرہ فرمایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی، ان کے بارے میں لفظ (اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا) فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ جسے اللہ تعالیٰ کی کتاب مل گئی وہ اللہ کا برگزیدہ بندہ ہے، (خواہ عمل کے اعتبار سے اس نے اپنی حیثیت گرا رکھی ہو)
حدیث شریف میں ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن کی نعمت عطا فرما دی پھر اس نے کسی شخص کے بارے میں یہ خیال کیا کہ اسے مجھ سے افضل چیز عطا کی گئی ہے تو اس نے سب سے بڑی نعمت کو حقیر جانا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ج 6: ص 75)
پھر ان کی تین قسمیں بتائیں کہ ان میں بعض وہ ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی گناہوں میں مشغول رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت
وترغیب برتجارت آخرت
قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
32:۔ جنت عدن الخ : یہ مبتدا ہے اور یدخلونہا خبر اول، یحلون الخ، خبر ثانی و لؤلؤا، من اس اور کے محل پر معطوف ہے۔ یا لؤلؤا فعل مقدر کا مفعول ہے۔ مثلا یؤتون (روح وغیرہ) ۔ حضرت شیخ نے یلبسون، محذوف مانا ہے۔ یدخلون اور یحلون کی ضمیروں سے تینوں جماعتیں مراد ہیں یعنی وہ سب جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اور انہیں سونے کے کنگن اور موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے۔ اور ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ وقالوا الحمد للہ الخ : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ کی حمد و ثنا کریں گے اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کریں گے کہ جس طرح دنیا میں تو ہی منعم اور کارساز تھا اسی طرح آج آخرت میں بھی تو ہی کارساز اور مہربان ہے۔ ہر قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی مختلف اقسام کو توحید کے دلائل کے طور پر پیش کیا۔ پھر فرمایا کہ خشیت الٰہی علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اہل ایمان کی بعض صفات بیان فرمائیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ نفع بخش تجارت کرتے ہیں۔ پھر قرآن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ برحق ہے ، پہلی کتابوں کی مصدق ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کتاب میں بڑا سامان ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔
ورثائے کتاب
کتابیں…
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَہَا يُحَلَّوْنَ فِيْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُــؤْلُــؤًا 0 ۚ وَلِبَاسُہُمْ فِيْہَا حَرِيْرٌ 33
جَنَّةُ :
كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]
الجنۃ
ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
پھر اس فضل کبیر کا نتیجہ بیان فرماتا ہے۔ جنات عدن اے قولہ تعالیٰ لغوب کہ ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہوں گے جہاں وہ آرائش اور تجمل کے ساتھ رہا کریں گے، عمدہ لباس پہنیں گے اور اللہ کی تعریف کریں گے کہ اس نے ہماری دنیاوی تکالیف کو دور کردیا، ہمارا رب معاف کرنے والا قدردان ہے۔ اس نے ہم کو ہمیشہ رہنے کی جگہ یعنی جنت میں جگہ دی کہ جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف ہے نہ مشقت نہ وہاں بیماری اور بڑھاپے کا ڈر نہ موت کا خطر نہ معیشت کا فکر، نہ کوئی رنج والذین کفروا الخ یہاں سے منکرین کا حال بیان فرماتا ہے کہ دوزخ کی آگ میں ڈالے جاویں گے،
جہاں نہ ان کو موت آوے گی کہ مر کر چھوٹ جاویں نہ ان کے عذاب میں کمی ہوگی،…
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ج وَلِبَاسُہُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ۔ (فاطر : 33)
(ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی کے پہنائے جائیں گے، اور اس جنت میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔ )
ان منتخب لوگوں کا انجام
اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور فروغ کے راستے میں سب کچھ قربان کردینے والوں اور اسی کو زندگی کی سب سے بڑی ترجیح قرار دینے والوں سے آخرت میں جو سلوک کیا جائے گا اور وہ جن انعامات سے نوازے جائیں گے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان کی اقامت کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن پر کبھی خزاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا میں فضل کبیر اور آخرت میں اجرِعظیم۔
جن لوگوں نے کتاب الٰہی کی وراثت کا قولاً اور عملاً حق ادا کرنے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ ان کو اجرِعظیم سے سرفراز کرتے ہوئے سدابہار جنت میں داخل فرمائے گا۔ ان کی کلائیوں میں موتیوں سے سجے ہوئے سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کالباس جنت کی ریشم سے تیار کیا ہوگا۔ جونہی وہ جنت کے محلات میں داخل ہوں گے۔ تو بےساختہ پکار اٹھیں گے کہ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہر قسم کی پریشانیوں سے بچا لیا۔ وہ اس بات کا بھی اقرار اور اظہار کریں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم سے بیشمار کوتاہیاں ہوئیں لیکن ہمارے رب نے ہمیں معاف فرماکر…
Read the full tafseer →جنات اور اس میں کلمات تشکر :
33: جَنّٰتُ عَدْنٍ ) ہمیشہ کے باغات )
نحو : یہ ذلک کی دوسری خبر ہے یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ یا یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبر ید خلونھا ہے۔ یَّدْخُلُوْنَھَا (وہ اس میں داخل ہونگے) یعنی تینوں جماعتیں۔
قراءت : ابو عمرو نے یدخلونھا پڑھا ہے۔
یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا) اور ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے) اساور جمع اسورۃ اور وہ سِوَارٌ کی جمع ہے۔ من ذھبؔ کا مطلب من ذھب مرصع باللؤ لؤ سونے کے جو موتیوں سے مزین ہونگے۔
قراءت : لؤلؤا نصب اور ہمزہ کے ساتھ نافع، حفص نے پڑھا۔ من اساور کے محل پر اس کا عطف کیا گیا۔ تقدیرکلام یہ…
Read the full tafseer →تفسیر 33۔ پھر اس کے ثواب کو ذکر کیا۔ ، جنات عدن یدخلونھا، یہ تین اقسام کے لوگ یاء کے ضمہ کے ساتھ خاء کے فتحہ کے ساتھ دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ اور خاء کے ضمہ کے ساتھ۔ ، یحلون فیھا من اساور من ذھب ولؤ لؤ الباسھم فیھا حریر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
33 تا 35۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا وارث کیا یہ ان کا حال ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوں گے اور ان کو سونے اور موتی کے کنگن اور ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے اسی واسطے دنیا میں مردوں پر یہ دونوں چیزیں حرام ہیں چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت علی ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوۃ ص 378 باب الخاتم فصل 2‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشمی کپڑے کر یہ فرمایا کہ میری امت کے مردوں پر دنیا میں دونوں چیزیں حرام ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت 4 ؎ ہے (4 ؎ مشکوۃ ص 373۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
آیت 31
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اسنے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی (ھو الحق) ” وہ حق ہے “ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لئے تمہارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسئال الہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔
(مصدقا لما بین یدیہ) یعنی گزشتہ کتابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
علم، حشیت اللہ پیدا کرتا ہے
قول باری ہے (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمو۔ اللہ سے ڈرتے بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں) آیت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے نیز یہ کہ علم کے ذریعے اللہ کی خشیت اور تقویٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کی توحید اور اس کے عدل کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کی یہ معرفت اسے خشیت اور تقویٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی توحید، اس کے عدل اور کائنات کی تخلیق میں اس کے مقصد سے ناآشنا ہو وہ نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں تقویٰ یعنی خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہے (یرفع اللہ الذین امنا منکم والذین اوتوا العلم درجات ۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →77 جنتیوں کی بعض عظیم الشان نعمتوں کا ذکر وبیان : سو ان جانبازوں کے آخرت کے صلہ وبدلہ کے ذکر وبیان کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ " ان کے لیے دائمی اقامت کے وہ باغ ہوں گے جن میں ان کو عزت و احترام کے ساتھ داخل کیا جائے گا " اور ان کا یہ داخلہ بھی محض کسی وقتی سیر و تفریح کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ کے قیام کے لیے ہوگا۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہاں کا لباس ریشم ہوگا۔ یعنی شاہانہ لباس جیسا کہ دنیا کے بادشاہ پہنا کرتے تھے۔ مگر یہ بھی صرف اشتراک اسمی ہے تقریب الی الفہم کے لئے۔ ورنہ وہاں کی کسی بھی نعمت کا یہاں پر پورا صحیح تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سو سونا اور ریشم پہننا فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…
Read the full tafseer →ف 7 بعض مفسرین (رح) نے ان داخل ہونیوالوں سے صرف نیکیوں میں آگے بڑھنے والے لوگ مراد لئے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ ان سے تمام مسلمان مراد ہیں چاہے وہ مذکور بالا تینوں قسموں میں سے کسی قسم میں داخل ہوں۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(35:33) جنت عدن مضاف مضاف الیہ۔ رہنے بسنے کے باغات یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن بالمکان اس نے اس جگہ مقام کیا اور عدن سے مراد قامۃ علی وجہ الخلود ہے۔ یعنی دائمی طور پر رہنا بسنا۔ اور بعض عدن کو علم قرار دیتے ہیں اور اسے جنت میں ایک خاص مقام کا نام دیتے ہیں۔
جنت عدن۔ مبتدا ہے اور یدخلونھا اس کی خبر اس میں ضمیر جمع مذکر غائب الذین اصطفینا کی طرف راجع ہے یا ثلثۃ اقسام (ظالم لنفسہ، متقصد سابق بالخیرات) کی طرف راجع ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت کی طرف راجع ہے۔
یحلون فیھا یہ جنت کی خبر ثانی ہے۔ یحلون مضارع مجہول جمع مذکر غائب (ضمیر جمع بمطابق یدخلون) تحیلۃ (تفعیل) مصدر، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ اور ثنا ( ہم نے وارث بنایا) اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) مقتصد (اعتدال اختیار کرنے والا) سابق (آگے بڑھنے والا) اساور (کنگن ، سونے کا ایک زیور) لولو ( موتی) حریر (ریشم) احلنا (ہم نے بسایا ، آباد کیا) دارالمقامۃ (رہنے کا گھر) نصب ( محنت ، مشقت) لغوب ( کام کے بعد کی تھکاوٹ) لا یقضی (فیصلہ نہ کیا جائے گا) لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) یطر خون (وہ چیخیں گے ، چلائیں گے) نعمر (ہم نے عمر دی تھی) نصیر (مدد گار)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے امت کو اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جو کتاب قرآن مجید آپ کی طرف نازل کی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
(ف 2) عذاب دوزخ کا ذکر۔
جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا وارث کیا یہ ان کا حال ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوں گے وہاں ان کو موتی اور سونے کے جڑاؤ کنگن اور ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے اسی واسطے دنیا میں مردوں پر یہ دونوں چیزیں حرام ہیں ۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوموسی سے جو روایت ہے کہ جنت میں کھانے پینے کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے دنیا میں آدمی کو معیشت کا جانی اور مالی نقصان کا خاتمہ بخیر ہونے کا اور عبادات کے قبول ہونے کا طرح طرح کا فکر وغم تھا، جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ سب غم جاتے رہیں گے ۔ اس لیے جنتی لوگ اللہ کالاکھ لاکھ شکر اداکریں گے اور کہیں گے کہ سب خوبیاں…
Read the full tafseer →[17] یعنی مسلمانوں کے یہ تینوں طبقے جنت میں جائیں گے۔ گنہگار بھی اگر مومن ہے تو بہرحال کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور جائے گا۔ لیکن قرآن میں ایسے گناہوں کا بھی ذکر ہے جن کے مرتکب کو ان کا ایمان بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکتا، مثلاً دانستہ قتل مومن، اللہ کے قائم کردہ قانون وراثت کی حدود کو توڑنا اور سودخوری۔ علاوہ بریں احادیث صحیحہ میں ایسے گناہوں کا بھی ذکر ہے جن کے مرتکب جہنم میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 2: بااعتبار اعمال کے مسلمانوں کی تقسیم فرمائی ہے ۔ کہ کچھ لوگ تو وہ ہیں ۔ جو گنہگار اور ظالم ہیں یعنی گو قرآن کو اللہ کی کتاب تسلیم کرتے ۔ مگر عمل میں بتقاضائے بشری سست ہیں ۔ کچھ وہ ہیں جو متوسط درجے کے ہیں ۔ زاہد وتقویٰ کے بلند ترین مراتب پر فائز ہیں ۔ اور نہ فسق وفجور کے عادی ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں جن کی رگ رگ میں اسلام رچا ہوا ہے ۔ جن میں ہر وقت پیش قدمی اور سبقت کا جذبہ متحرک رہتا ہے ۔ جو ہر کار خیر میں بڑھ بڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ فرمایا یہی لوگ اور حقیقت اللہ کے بہت بےفضل کے حامل ہیں ۔
حل لغات :۔ سرا ۔ پوشیدہ طور پر ۔ ریاکاری سے بچنے کے لئے علانیہ ۔ ظاہر طور پر دوسروں کو نیکی پر آمادہ کرنے…
Read the full tafseer →(33) وہ اجوروثواب جن کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا وہ دائمی اور ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ لوگ اس کیفیت سے داخل ہوں گے کہ ان باغوں میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان باغوں میں ان کی عام پوشاک ریشمی ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سونا اور ریشم مسلمانوں کو وہاں ہے۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے جو ریشمی پہنے دنیا میں وہاں نہ پہنے۔
بعض مفسرین نے اس آیت کا تعلق تینوں فرقوں کے ساتھ رکھا ہے۔ مگر بعض نے ان الذین یتلون کتاب اللہ سے قائم کیا ہے فقیر کے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔ (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
ف 2۔ مراد اس سے اہل اسلام ہیں جو اس حیثیت ایمان سے تمام دنیا والوں میں مقبول عنداللہ ہیں، گو ان میں کوئی دوسری وجہ مثل سوء عمل کے موجب ملامت بھی ہو مطلب یہ کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں وہ کتاب پہنچائی۔
3۔ کیونکہ اس پر عمل کرنے کی بدولت کیسے اجر و فضل کے مستحق ہوگئے۔
Read the full tafseer →یہی لوگ جنت عدن کے رہنے والے ہیں اور انعامات جنت کے مستحق ہیں
33 ۔ اوپر جو تین اقسام کے لوگ بیان کئے گئے ہیں بلاشبہ یہ لوگ جنت عدن کے مالک اور وارث بنائے جائیں گے اور اپنے اپنے درجات کے مطابق ان کو وہاں رہنا ہوگا اس بات کو اس ایک مثال سے اچھی طرح سمجھ لو اور وہ یہ ہے کہ ابو ثابت کہتے ہیں کہ میں ایک روز مسجد نبوی میں گیا اور میرے جانے سے پہلے ابوالدرداء ؓ مسجد میں ایک جگہ تشریف فرما تھے اور ان کے قریب میں بھی جاکر بیٹھ گیا اور بیٹھ کر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللھم انس وحشتی وارحم غربتی ویسرلی جلیسا صالحا ” اے اللہ میری قلبی وحشت و پریشانی کو دور فرما اور میری حالت مسافرت پر رحم فرما…
Read the full tafseer →A close look at the last sentence of verse 32 and the statement in verse ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ (That is the great bounty, gardens of eternity they enter. They will be ornamented with bracelets of gold and with pearls, and their dress therein will be (of) silk. - 35:32, 33) shows that in the beginning of verse 32, Allah Ta’ ala has pointed out to three kinds of His chosen servants following which it was said: ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ: That is, 'this…
Read the full tafseer →57 One section of the commentators has held the view that this sentence is related with the two sentences immediately preceding it. That is, the ones who excel in good duds are the best of the people and they alone will enter the Gardens. As for the first two groups, nothing has been stated about them so that they became worried concerning their fate and try to improve their lot. This view has been presented by `Allama Zamakhshari forcefully and supported by Imam Razi.
But the majority of the commentators opine that it is related with the whole preceding discourse, which means that all the…
Read the full tafseer →