Explained with ayahs 33–35
اللہ کی کتاب کے وارث لوگ۔
فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہوگا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہوگا۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کردیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لئے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لئے آخرت میں ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 58
ہر قسم کا غم۔ دنیا میں جن فکروں اور پریشانیوں میں مبتلا تھے ان سے بھی نجات ملی، عُقبیٰ میں اپنے انجام کی جو فکر لا حق تھی وہ بھی ختم ہوئی، اور اب آگے چین ہی چین ہے، کسی رنج و الم کا کوئی سوال ہی باقی نہ رہا۔
سورة فَاطِر 59
یعنی ہمارے قصور اس نے معاف فرما دیے اور عمل کی جو تھوڑی سی پونجی ہم لائے تھے اس کی ایسی قدر فرمائی کہ اپنی جنت اس کے بدلے میں ہمیں عطا فرمادی۔
Read the full tafseer →جو شخص دنیا میں سونے چاندی کے برتن اور ریشمی لباس استعمال کرے گا جنت میں ان سے محروم ہوگا
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ریشمی لباس نہ پہنو، اور سونے چاندی کے برتنوں میں پانی نہ پیو، اور نہ ان کی پلیٹ کھانے میں استعمال کرو، کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کفار کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں (بخاری ومسلم)
اور حضرت عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا وہ آخرت میں نہ پہن سکے گا۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت ابو سعید خدری کی ایک روایت میں ہے کہ دنیا میں ریشمی لباس پہننے والا مرد آخرت میں اس سے محروم رہے گا، اگرچہ جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت۔ 34۔ 35
یعنی اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کے تمام وعدوں کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو بےساختہ ان کی زبانوں پر کلمہ شکر جاری ہوجائے گا کہ الحمد اللہ ہم اپنے رب کے جن وعدوں کے لئے جیے اور مرے وہ سب ہماری امیدوں سے کہیں بڑھ کو پورے ہونے۔ اس نے ہمارے سارے غم دور کردیے۔ اب نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا باقی رہا نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ہمارا رب غفور وشکور ہے۔ اس نے ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرمایا اور ہماری ایک ایک نیکی کو شرفِ قبول بخشا۔ اہلِ جنت کے اسی کلمہ شکر کا ذکر دوسرے مقام میں یوں ہوا ہے۔ ’ واخردعوھم ان الحمد للہ رب العلمین، (یونس : 10) (اور ان کا آخری کلمہ یہ ہوگا کہ شکر ہے اللہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
33۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جنت میں صرف سابقون جائیں گے لیکن یہ صحیح نہیں قرآن کا سیاق اس امر کا مقتاضی ہے کہ تینوں قسمیں جنتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ سابقین بغیر حساب کتاب کے اور مقصدین آسان حساب کے بعد اور ظالمین شفاعت سے یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔
33۔ 2 حدیث میں آتا ہے کہ ' ریشم کا لباس دنیا میں مت پہنو، اس لئے کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
9: اس سے مراد مسلمان ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن براہ راست تو حضور سرور عالم ﷺ پر نازل ہوا، لیکن پھر اس کا وراث ان مسلمانوں کو بنایا گیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے چن لیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائیں، لیکن ایمان لانے کے بعد ان کی تین قسمیں ہوگئیں، ایک وہ تھے جو ایمان تو لے آئے لیکن اس کے تقاضوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا، چنانچہ اپنے بعض فرائض چھوڑدئیے، اور گناہوں کا بھی ارتکاب کرلیا، ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، کیونکہ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ انہیں جنت میں فوری داخلہ نصیب ہوتا، لیکن انہوں نے گناہ کرکے اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنالیا،…
Read the full tafseer →وقالوا الحمدللہ الذی اذھب عنا الحزن (35: 34) ” شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کیا “۔ اور یہ دنیا جہاں ہر شخص قلق و بےچینی ، اور مصائب و مشکلات سے دو چار ہوتا ہے آخرت کے مقابلے میں حزن ہے جہاں نعیم مقیم ہوگا۔ حشر کے دن کی پریشانی دنیا کی پریشانیوں سے بھی بڑی ہوگی جس سے ان کو نجات مل چکی ہوگی۔
ان ربنا لغفور شکور (35: 34) ” بیشک ہمارا رب معاف کردینے والا اور قدر فرمانے والا ہے “۔ اس نے ہمیں بخش دیا ، ہمارے معتبر اعمال کی قدر کی اور اس پر بہت بڑا معاوضہ دیا۔
Read the full tafseer →5 یعنی دنیا کا اور محشر کا غم دور کیا۔ گناہ بخشے اور ازراہ قدر دانی طاقت قبول فرمائی۔
Read the full tafseer →آیت 34{ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ } ”اور وہ جب جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔“
واضح رہے کہ یہ ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جنہیں قبل ازیں آیت 32 میں ”سَابِقٌم بِالْخَیْرٰتِ“ کا لقب ملا ہے۔ آیت ماقبل میں اس امت کے تین گروہوں کا ذکر ہوا ہے ‘ یعنی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ‘ درمیانی راہ پر چلنے والے اور بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے۔ یہاں پر ربط ِکلام کو مدنظر رکھا جائے تو آیات 33 ‘ 34 اور 35 کے مضمون کا تعلق آیت 32 کے آخری الفاظ سے ہے۔ یعنی ان آیات میں امت کے مذکورہ آخری گروہ سَابِقٌم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
39 یہ جملہ بالخصوص تیسرے طبقہ کے لوگوں کا وظیفہ ہوگا۔ جنہوں نے قیامت کے دن کی ساری مدت اس فکر میں گزاری ہوگی کہ دیکھیں کہ ان کے حق میں کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے پھر جب انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت مل جائے گی تو خوشی سے اللہ کی حمد بیان کریں گے۔ جس نے ان کے سارے غم و فکر دور کردیئے۔ ہمارا پروردگار تو واقعی بڑا بخشنے والا اور بڑا قدر دان ہے۔ جس نے ہماری خطائیں تو معاف فرما دیں اور ہمارے اعمال سے بہت زیادہ ہمیں بدلہ عطا فرما دیا۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ہمارا کون سا ٹھکانا ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں جائے رہائش دی جو لازوال ہے۔ ہر طرح کی نعمتیں اور رزق پہلے سے ہی موجود ہے جس کے لئے ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
47۔ اکتاہٹ کی تھکن تو طبیعت پر اس وقت غالب ہونے لگتی ہے جب ایک ہی شے سے مسلسل سابقہ پڑتا ہے۔ لیکن جنت کی نعمتیں تو ہر دم ” تازہ بہ تازہ نوبہ نو “ ملتی رہیں گی۔ اس لیے وہاں تھکن اور اکتاہٹ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ ضمنا یہاں یہ حقیقت بھی آگئی، کہ بخلاف دنیا کی عیش و عشرت کے جس کی کثرت لازمی طور پر تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ جنت کی لذتیں برابر راحت و سرور ہی بڑھانے والی ہوں گی۔ آج ذرا دیرتک مسلسل قہقہہ لگا کر دیکھئے یا مسلسل کئی کئی گھنٹہ تھیڑ، سینما، ناچ دیکھنے کا ذرا تجربہ کرلیجئے۔ طبیعت میں لازمی طور پر افسردگی اور تھکاوٹ طاری ہوجائے گی، مسلسل وغیرمنقطع تازگی، شگفتگی قائم رکھنا جنت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…
Read the full tafseer →وقالو الحمد اللہ الذی اذھب عنا الحزن . اور کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم سے (رنج و)
غم دور کیا۔
قَالُوْا یعنی کہیں گے (ماضی بمعنیء مستقبل) احادیث مندرجہ اسی پر دلالت کر رہی ہیں اور اسی پر دلالت کر رہی ہے آیت الَّذِیْ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ (یعنی جنتی جنت میں یہ بات کہیں گے) قبروں سے اٹھنے کے وقت بھی مؤمن یہی بات کہیں گے۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ کہنے والوں کو نہ مرنے کے وقت وحشت ہوگی ‘ نہ قبروں کے اندر ‘ نہ قبروں سے اٹھنے کے وقت۔ گویا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ صور پھونکے جانے پر لوگ سروں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں :…
Read the full tafseer →اور جنتی جنت میں کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ جس نے ہم سے موت وزوال اور قیامت کی سختیوں کے غم کو یا یہ کہ دنیوی مصائب کے غم کو دور کیا بیشک ہمارا پروردگار بڑے گناہوں کو معاف کرنے والا اور معمولی نیکیوں کا قبول کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ : حزن کسی چیز کے ہاتھ سے نکلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی دل کی کیفیت کا نام ہے، یعنی غم، جیسا کہ فرمایا : (لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ) [ الحدید : 23 ] ”تاکہ تم اس پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔“ دنیا میں انسان کو جو بھی ملا ہے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے والا ہے، اس لیے دنیا میں جب تک کوئی نعمت انسان کے پاس رہتی ہے وہ اس خوف میں رہتا ہے کہ یہ نعمت مجھ سے چھن نہ جائے اور جب چھنتی ہے تو اسے غم ہوتا ہے۔ جنت میں داخلے اور موت کے ذبح کردیے جانے کے بعد اہل جنت کو نہ کوئی نعمت چھننے کا خوف ہوگا، یعنی ”لا خوف علیھم“…
Read the full tafseer →آیت : و قالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ابو چابت نے کہا : ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا تو اس نے یوں دعا کی ! اے اللہ ! میری مسافرت پر رحم فرما، میری تنہائی میں مجھ پر مہر بانی کر اور مجھے صالح ساتھی عطا فرما۔ حضرت ابو داودنے ارشاد فرمایا : اگر تو سچا ہے تو میں اس کے ساتھ تیری بنسبت زیادہ سعادت مند ہوں (1) (معالم التنزیل، جلد 4، صفحہ 526 ) ، میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوا سنا : آیت : ثم اور ثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا فمنھم ظالم النفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق با لخیرات کہا : وہ سبقت لے جانے وا ا آئے گا وہ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوگا۔ جہاں تک مقتصد کا تعلق ہے تو اس سے آسان…
Read the full tafseer →34:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت والے جب جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے (آیت) ” وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ کہ ساری تعریفین اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم سے رنج کو دور کردیا یعنی وہ ایسے لوگ تھے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے تھے اور اپنے رب کی عبادت میں چھپے ہوئے اور اعلانیہ طور پر کوشش کیا کرتے تھے اور ان کے دلوں میں ان گناہوں کا رنج ہوگا جو گناہ ان سے پہلے ہوئے اور وہ ڈرتے ہوں گے کہ ان کی وجہ سے ان کی یہ عبادت (شاید) قبول نہ کی جائے ان گناہوں کی وجہ سے جو گزر چکے۔ اور اللہ تعالیٰ کے پاس (یوں کہیں گے) (آیت) ” وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا…
Read the full tafseer →وَقَالُوا [اور کہیں گے ] الْحـَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْٓ [اس اللہ کے لئے ہے جو ] اَذْهَبَ عَنَّا [لے گیا ہم سے ] الْحَزَنَ ۭ [سارے غم ] اِنَّ رَبَّنَا [بیشک ہمارا رب ] لَغَفُوْرٌ [یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] شَكُوْرُۨ [انتہائی قدر دان ہے ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل جنت کے شکر گزاری کے کلمات نقل فرمائے (وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) (اور وہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کے لیے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم کو دور فرما دیا) (اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ) (بلاشبہ ہمارا رب بہت بخشنے والا ہے) اس نے ہمارے گناہوں کو اور لغزشوں کو بخش دیا۔ (شَکُوْرٌ) (بڑا قدر دان ہے) ہماری نیکیوں کی قدر دانی فرمائی اور وہ وہ نعمتیں عطا فرمائیں جن کے ہم بالکل مستحق نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت
وترغیب برتجارت آخرت
قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
32:۔ جنت عدن الخ : یہ مبتدا ہے اور یدخلونہا خبر اول، یحلون الخ، خبر ثانی و لؤلؤا، من اس اور کے محل پر معطوف ہے۔ یا لؤلؤا فعل مقدر کا مفعول ہے۔ مثلا یؤتون (روح وغیرہ) ۔ حضرت شیخ نے یلبسون، محذوف مانا ہے۔ یدخلون اور یحلون کی ضمیروں سے تینوں جماعتیں مراد ہیں یعنی وہ سب جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اور انہیں سونے کے کنگن اور موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے۔ اور ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ وقالوا الحمد للہ الخ : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ کی حمد و ثنا کریں گے اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کریں گے کہ جس طرح دنیا میں تو ہی منعم اور کارساز تھا اسی طرح آج آخرت میں بھی تو ہی کارساز اور مہربان ہے۔ ہر قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی مختلف اقسام کو توحید کے دلائل کے طور پر پیش کیا۔ پھر فرمایا کہ خشیت الٰہی علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اہل ایمان کی بعض صفات بیان فرمائیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ نفع بخش تجارت کرتے ہیں۔ پھر قرآن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ برحق ہے ، پہلی کتابوں کی مصدق ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کتاب میں بڑا سامان ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔
ورثائے کتاب
کتابیں…
Read the full tafseer →وَقَالُوا الْحَـمْدُ لِلہِ الَّذِيْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ 0 ۭ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۨ 34ۙ
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
پھر اس فضل کبیر کا نتیجہ بیان فرماتا ہے۔ جنات عدن اے قولہ تعالیٰ لغوب کہ ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہوں گے جہاں وہ آرائش اور تجمل کے ساتھ رہا کریں گے، عمدہ لباس پہنیں گے اور اللہ کی تعریف کریں گے کہ اس نے ہماری دنیاوی تکالیف کو دور کردیا، ہمارا رب معاف کرنے والا قدردان ہے۔ اس نے ہم کو ہمیشہ رہنے کی جگہ یعنی جنت میں جگہ دی کہ جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف ہے نہ مشقت نہ وہاں بیماری اور بڑھاپے کا ڈر نہ موت کا خطر نہ معیشت کا فکر، نہ کوئی رنج والذین کفروا الخ یہاں سے منکرین کا حال بیان فرماتا ہے کہ دوزخ کی آگ میں ڈالے جاویں گے،
جہاں نہ ان کو موت آوے گی کہ مر کر چھوٹ جاویں نہ ان کے عذاب میں کمی ہوگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
وَقَالُوالْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّاالْحَزَنَ ط اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرُ نِ ۔ الَّذِیْٓ اَحَلَّـنَا دَارَالْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ ج لاَ یَمَسُّنَا فِیْھَا نَصَبٌ وَلاَ یَمَسُّنَا فِیْھَا لُغُوْبٌ۔ (فاطر : 34، 35)
(اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا، یقینا ہمارا رب بخشنے والا اور قدر فرمانے والا ہے۔ جس نے ہمیں اپنے فضل سے اس اقامت کے گھر میں اتارا جس میں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آئے گی اور نہ اس میں ہمیں کوئی تکان لاحق ہوگی۔ )
اہلِ جنت کا کلمہ تشکر
جب یہ لوگ جنت کے باغوں میں داخل ہوں گے اور وہاں وہ ان نعمتوں سے بڑھ کر نعمتیں پائیں گے جن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا میں فضل کبیر اور آخرت میں اجرِعظیم۔
جن لوگوں نے کتاب الٰہی کی وراثت کا قولاً اور عملاً حق ادا کرنے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ ان کو اجرِعظیم سے سرفراز کرتے ہوئے سدابہار جنت میں داخل فرمائے گا۔ ان کی کلائیوں میں موتیوں سے سجے ہوئے سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کالباس جنت کی ریشم سے تیار کیا ہوگا۔ جونہی وہ جنت کے محلات میں داخل ہوں گے۔ تو بےساختہ پکار اٹھیں گے کہ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہر قسم کی پریشانیوں سے بچا لیا۔ وہ اس بات کا بھی اقرار اور اظہار کریں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم سے بیشمار کوتاہیاں ہوئیں لیکن ہمارے رب نے ہمیں معاف فرماکر…
Read the full tafseer →34: وَقَالُوْا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) اور وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ جس نے ہم سے غم کو دور کیا) الحزنؔ سے آگ کا خوف یا موت کا خوف یا دنیا کے غموم مراد ہیں۔ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ) بیشک ہمارا رب بڑا بخشنے والا ( وہ جنایات کو بخش دے گا خواہ کتنی کثرت سے ہوں۔ شَکُوْرٌ) قدر دان ہے (طاعات کو خواہ قلیل ہوں قبول کرلیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34، وقالوا، جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے، الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن حزن واحد ہے۔
حزن کی مختلف تفاسیر
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (حزن سے مراد ہے) دوزخ کا غم۔ قتادہ نے کہا : موت کا غم (مراد ہے) ۔ مقاتل نے کہا : اس غم کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ عکرمہ نے کہا : گناہوں اور خطا کا ریوں کا خوف اور طاعت کے قبول نہ ہونے کا خوف مراد ہے۔ کلبی نے کہا دنیوی زندگی میں آخرت میں ہونے والے امور کا غم مراد ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : دنیا میں روٹی کی فکر مراد ہے۔ بعض نے کہا : معاش اور معاددونوں کا غم مراد ہے ۔ صحیح بات یہ ہے کہ حزن سے ہر فکر مراد ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
33 تا 35۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا وارث کیا یہ ان کا حال ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوں گے اور ان کو سونے اور موتی کے کنگن اور ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے اسی واسطے دنیا میں مردوں پر یہ دونوں چیزیں حرام ہیں چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت علی ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوۃ ص 378 باب الخاتم فصل 2‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشمی کپڑے کر یہ فرمایا کہ میری امت کے مردوں پر دنیا میں دونوں چیزیں حرام ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت 4 ؎ ہے (4 ؎ مشکوۃ ص 373۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
آیت 31
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اسنے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی (ھو الحق) ” وہ حق ہے “ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لئے تمہارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسئال الہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔
(مصدقا لما بین یدیہ) یعنی گزشتہ کتابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
مومن کے غم جنت میں دور ہوں گے
قول باری ہے (الحمد للہ الذی اذھب عنا المحزن۔ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا) بعض سلف سے منقول ہے کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ دنیا میں غمزدہ زندگی گزارے کیونکہ جب اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو اس وقت دنیاوی زندگی میں لاحق ہونے والا غم دور ہونے پر اس کا شکرادا کریں گے۔
حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (الدنیا سجن المومن۔ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے) ایک زاہد سے پوچھا گیا کہ زہاد کو دوسروں کی چیزوں کی کیوں محتاجی ہوتی ہے ؟ اس زاہد نے جواب دیا۔ ” احتیاج کی وجہ یہ ہے کہ دنیا اہل ایمان کے لئے قید خانہ ہے اور تمہیں معلوم ہے کو جو شخص قید خانہ میں ہوتا ہے وہ…
Read the full tafseer →اہل جنت کا نعیم جنت سے سرفرازی پر اظہار تشکر و امتنان : سو اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کے تمام وعدوں کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو فورا اور بےساختہ کہیں گے کہ " شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے دور کردیا غم کو "۔ یعنی وہ تمام رنج و غم جو اس سے پہلے دنیا میں ہمیں لاحق ہوا کرتے تھے۔ سو ان تمام سے اب ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ گئی۔ نیز وہ تمام غم جو ہمیں اپنی عاقبت اور اپنے انجام کے بارے میں لاحق رہتے تھے وہ بھی اب ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئے کہ ہمارے ربِّ غفور و شکور نے اپنے فضل و کرم اور انعام و احسان سے ہمیں جنت کی ان ابدی نعمتوں سے سرفراز فرما دیا ۔ اللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُم ۔ بہرکیف اہل جنت جب اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 1 یعنی ہماری تمام محنتوں اور تکلیفوں کا خاتمہ ہوگیا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” رہنے کا گھر اس سے پہلے کوئی نہ تھا ہر جگہ چل چلائو اور روزی کا غم، دشمنوں کا ڈر اور رنج اور مشقت وہاں پہنچ کر سب گئے۔ (موضح)
Read the full tafseer →(35:34) اذھب عنا۔ ماضی واحد مذکر غائب اذھاب (افعال) مصدر اذھب عن ہٹانا۔ دور کرنا۔ اس نے ہم سے غم و اندوہ کو دور کردیا۔ الحزن۔ خوف الذنوب والسیئات وخوف رد الطاعات۔ گناہوں اور خطائوں کا ڈر۔ عبادتوں کے مسترد ہونے کا اندیشہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ اور ثنا ( ہم نے وارث بنایا) اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) مقتصد (اعتدال اختیار کرنے والا) سابق (آگے بڑھنے والا) اساور (کنگن ، سونے کا ایک زیور) لولو ( موتی) حریر (ریشم) احلنا (ہم نے بسایا ، آباد کیا) دارالمقامۃ (رہنے کا گھر) نصب ( محنت ، مشقت) لغوب ( کام کے بعد کی تھکاوٹ) لا یقضی (فیصلہ نہ کیا جائے گا) لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) یطر خون (وہ چیخیں گے ، چلائیں گے) نعمر (ہم نے عمر دی تھی) نصیر (مدد گار)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے امت کو اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جو کتاب قرآن مجید آپ کی طرف نازل کی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
(ف 2) عذاب دوزخ کا ذکر۔
جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا وارث کیا یہ ان کا حال ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوں گے وہاں ان کو موتی اور سونے کے جڑاؤ کنگن اور ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے اسی واسطے دنیا میں مردوں پر یہ دونوں چیزیں حرام ہیں ۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوموسی سے جو روایت ہے کہ جنت میں کھانے پینے کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے دنیا میں آدمی کو معیشت کا جانی اور مالی نقصان کا خاتمہ بخیر ہونے کا اور عبادات کے قبول ہونے کا طرح طرح کا فکر وغم تھا، جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ سب غم جاتے رہیں گے ۔ اس لیے جنتی لوگ اللہ کالاکھ لاکھ شکر اداکریں گے اور کہیں گے کہ سب خوبیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[18] یعنی کوئی عقلی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے ورغلانے پر یہ جھوٹی امیدیں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے اور اس کا قرب عطا کریں گے حالانکہ یہ خالص دھوکا اور فریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ف 1: جنت اللہ کے فضل و بخشش کا مقام ہے اس لئے اس میں ہر وہ آسودگی اور تنظم و تکلف موجود ہوگا ۔ کہ جس سے اللہ کے نیک بندے دنیا میں محروم رہے تھے بلکہ یہاں ان کو وہ کچھ ملے گا جو اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتا ۔ اس اورمن ذھب سے مراد ہے ۔ پر عظمت زندگی ۔ جس طرح مشرق میں بادشاہ سونے کے کنگن پہنتے ہیں ۔ اسی طرح یہاں مفلس ونادار مسلمان شان و شکوہ سے مسلح ہوں گے ۔ نہایت عدم النظیر موتی ان کی عبادتوں پر ٹکے ہونگے ۔ اور وہ ریشمی لباس پہنے جنت کی دوشوں پر اٹھلاتے پھریں گے اس وقت شکر کے کلمات ان کی زبان پر ہوں گے ۔ یہ اللہ کی حمد و ستائیس کریں گے ۔ کہ اس نے انہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے ۔ غم اور فکر کو دور…
Read the full tafseer →(34) اور ان باغوں میں داخل ہوتے وقت کہیں گے تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے سزاوار اور لائق ہیں جس نے ہر قسم کا غم ہم سے ہمیشہ کے لئے دور کردیا بلاشبہ ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
ف 2۔ مراد اس سے اہل اسلام ہیں جو اس حیثیت ایمان سے تمام دنیا والوں میں مقبول عنداللہ ہیں، گو ان میں کوئی دوسری وجہ مثل سوء عمل کے موجب ملامت بھی ہو مطلب یہ کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں وہ کتاب پہنچائی۔
3۔ کیونکہ اس پر عمل کرنے کی بدولت کیسے اجر و فضل کے مستحق ہوگئے۔
Read the full tafseer →وہ اللہ کی حمد کے گیت گائیں گے کہ واہ سبحان اللہ ! ہمارے تو سارے غم دور ہوگئے
34 ۔ اہل جنت کو جب جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی تو وہ بہت خوش ہو کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گائیں گے کہ شکر ہے اس ذات بےنیاز کا جس نے آج ہمارے سارے غم دور کردیئے۔ ان غموں سے کیا مراد ہے ؟ دنیا کے ہموم وغموم تو عام ہیں جن سے کوئی بھی مصئون نہیں ہے اور اللہ کے بندوں کو سارے غموں سے بڑھ کر یہی غم لگا رہتا ہے کہ ہماری آخرت کا کیا بنے گا بہرحال غم دنیا ہو یا غم آخرت اب اس کے ان سارے غموں کا مداوا ہوگیا جب وہ اپنی منزل مقصود کو پہنچ گیا۔ جس نے کہا کہ یہ دنیا دکوں کا گھر ہے اور ہموم وغموم کی جا ہے بالکل صحیح کہا…
Read the full tafseer →A person who will use utensils of gold and silver and dresses of silk will remain deprived of these in Jannah
Sayyidna Hudhaifah ؓ says that he heard the Holy Prophet ﷺ saying, 'Do not wear dresses of silk and do not drink water in utensils of gold and silver, nor use plates made of these in eating food - because, these things are for disbelievers in this world and for you, in the Hereafter.' (al-Bukhari and Muslim)
And Sayyidna ` Umar ؓ reports that the Holy Prophet ﷺ said, 'Any male who wore a dress made of silk in this world will not wear it in the Hereafter' (al-Bukhari and Muslim). And…
Read the full tafseer →58 "Sorrow": Sorrow of every kind: sorrows and Briefs and worries of the world and of the Hereafter with regard to the final end. It means : "Now we have nothing to worry about: now there can be no question of any sorrow and trouble afflicting us here. "
59 That is "He has forgiven us our errors, has appreciated whatever little provision of deeds we had brought and blessed us with His Paradise as a reward."
Read the full tafseer →