Faatir 35:32

Faatir · from ayah 32

35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ— فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ— وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ— وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ— ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ ۟ؕثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۚ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ‌ۚ وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ‌ۚ وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُؕ

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھیرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then we caused to inherit the Book those We have chosen of Our servants; and among them is he who wrongs himself, and among them is he who is moderate, and among them is he who is foremost in good deeds by permission of Allah. That [inheritance] is what is the great bounty.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:32

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھیرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑا فضل ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جنہیں ہم نے چن لیا تھا پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں جو درمیانے درجے کے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں۔ اور یہ (اللہ کا) بہت بڑا فضل ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چُنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا یہی بڑا فضل ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی میانہ رو ہے اور ان میں سے کوئی نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، اللہ کے حکم سے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث بنایا جنہیں ہم نے (اس وراثت کے لئے) اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ پھر ان میں سے کوئی تو اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے۔ کوئی میانہ رو ہے اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جن کو اپنے بندوں میں سے منتخب کیا۔ پس ان میں سے کچھ تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں، کچھ ان میں سے میانہ رو ہیں اور کچھ ان میں سے اللہ کی توفیق سے بھلائیوں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ یہی سب سے بڑا فضل ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ہم نے اپنی اس کتاب کا وارث بنادیا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا تھا (اس شرف کیلئے) اپنے بندوں میں سے پھر ان میں سے کوئی تو ظلم ڈھانے والا ہے خود اپنی جان پر کوئی میانہ رو ہے اور کوئی سبقت لیجانے والا ہے نیکیوں میں اس کے اذن (و عنایت) سے یہی ہے بڑا فضل

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے یہ کتاب ان لوگوں کے ہاتھ میں بھی پہنچائی جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ پھر ان میں سے بعض تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں سے متوسط ہیں اور بعض ان میں سے اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں یہ بہت ہی بڑا فضل ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے ُ چن لیا تو ان میں سے کچھ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور ان میں کچھ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں اور ان میں سے کچھ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں اللہ کی توفیق سے } یہی بہت بڑی فضیلت ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں ‘ یہی بڑا فضل ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We bequeathed the Book to those of Our servants that We chose. Now, some of them wrong themselves and some follow the medium course; and some, by Allah's leave, vie with each other in acts of goodness. That is the great bounty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We conveyed the Book as an heritage to those of Our slaves whom We chose. Now, some of them are those who wrong their own selves, and some of them are mediocre, and some of them are those who outpace (others) in righteous deeds with Allah‘s permission. That is the great bounty,

— Muhammad Taqi Usmani

Then We conveyed the Book as an heritage to those of Our slaves whom We chose. Now, some of them are those who wrong their own selves, and some of them are mediocre, and some of them are those who outpace (others) in righteous deeds with Allah‘s permission. That is the great bounty,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We gave the Book as inheritance to such of Our servants whom We chose. Then of them are some who wrong themselves, and of them are some who follow a middle course, and of them are some who are, by Allah's leave, foremost in good deeds. That -- that is indeed a great grace.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We gave the Scripture as inheritance unto those whom We elected of Our bondmen. But of them are some who wrong themselves and of them are some who are lukewarm, and of them are some who outstrip (others) through good deeds, by Allah's leave. That is the great favour!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then we caused to inherit the Book those We have chosen of Our servants; and among them is he who wrongs himself, and among them is he who is moderate, and among them is he who is foremost in good deeds by permission of Allah. That [inheritance] is what is the great bounty.

— Saheeh International

We gave the Book as an inheritance to Our chosen servants, among whom some are unjust against their souls, some are moderate, and some are exceedingly virtuous by the permission of God. This is indeed a great favor.

— Muhammad Sarwar

Then We gave the Book for an inheritance to those whom We chose from among Our servants; but of them is he who makes his soul to suffer a loss, and of them is he who takes a middle course, and of them is he who is foremost in deeds of goodness by Allah's permission; this is the great excellence.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter We made inheritors of the book those whom We chose of Our bondmen. Then of them are some who wrong themselves, and of them are some who keep the middle way, and of them are some who, by Allah's leave, go ahead in virtues. That! that is a great grace.

— Abdul Majid Daryabadi

Then We have given the Book for inheritance to such of Our Servants as We have chosen: but there are among them some who wrong their own souls; some who follow a middle course; and some who are, by Allah's leave, foremost in good deeds; that is the highest Grace.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

عظمت قرآن کریم اور ملت بیضا۔ جس کتاب کا اوپر ذکر ہوا تھا اس بزرگ کتاب یعنی قرآن کریم کو ہم نے اپنے چیدہ بندوں کے ہاتھوں میں دیا ہے یعنی اس امت کے ہاتھوں۔ پھر حرمت والے کام بھی اس سے سرزد ہوگئے۔ بعض درمیانہ درجے کے رہے جنہوں نے محرمات سے تو اجتناب کیا واجبات بجا لاتے رہے لیکن کبھی کبھی کوئی مستحب کام ان سے چھوٹ بھی گیا اور کبھی کوئی ہلکی پھلکی نافرمانی بھی سرزد ہوگئی۔ بعض درجوں میں بہت ہی آگے نکل گئے۔ واجبات چھوڑ کر مستحباب کو بھی انہوں نے نہ چھوڑا اور محرمات چھوڑ کر مکروہات سے بھی یکسر الگ رہے۔ بلکہ بعض مرتبہ مباح چیزوں کو بھی ڈر کر چھوڑ دیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پسندیدہ بندوں سے مراد امت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 55 مراد ہیں مسلمان جو پوری نوع انسانی میں سے چھانٹ کر نکالے گئے ہیں تاکہ وہ کتاب اللہ کے وارث ہوں اور محمد ﷺ کے بعد اسے لے کر اٹھیں۔ اگرچہ کتاب پیش تو کی گئی ہے سارے انسانوں کے سامنے۔ مگر جنہوں نے آگے پڑھ کر اسے قبول کرلیا وہی اس شرف کے لیے منتخب کرلیے گئے کہ قرآن جیسی کتاب عظیم کے وارث اور محمد عربی ﷺ جیسے رسول عظیم کی تعلیم و ہدایت کے امین بنیں۔ سورة فَاطِر 56 یعنی یہ مسلمان سب کے سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں، بلکہ یہ تین طبقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں 1)۔ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو سچے دل سے اللہ کی کتاب اور محمد ﷺ کو ایمانداری کے ساتھ اللہ کا رسول تو مانتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا، حرف ثم عطف کے لئے آتا ہے، اور اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس حرف سے پہلے اور بعد کی دونوں چیزیں اصل وصف میں مشترک ہونے کے باوجود تقدیم و تاخیر رکھتی ہیں۔ پہلی چیز مقدم اور بعد کی چیز موخر ہوتی ہے، پھر یہ تقدیم و تاخیر کبھی زمانے کے اعتبار سے ہوتی ہے، کبھی رتبہ اور درجہ کے اعتبار سے۔ اس آیت میں حرف ثم عطف ہے اس سے پہلی آیت کے لفظ اوحینا پر، معنی یہ ہیں کہ ہم نے یہ کتاب یعنی قرآن جو خالص حق ہی ہے، اور تمام پہلی آسمانوں کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، پہلے بطور وحی آپ کے پاس بھیجی، اس کے بعد ہم نے اس کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنادیا جن کو ہم نے منتخب اور پسند کرلیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 32 یہ اس انتظام کا ذکر ہے جو اپنی ہدایت سے خلق کو بہرہ یاب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ’ الذین اصطفینا من عبادتا ‘ سے یہاں بنی اسماعیل یا بالفاظ دیگر ’ امین عرب ‘ من حیث الجماعت مراد ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے اپنا وہ آخری رسول بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا جس کے ذریعے سے خلق کو آخری اور کامل شریعت ملنے والی تھی۔ فرمایا کہ ہم نے اپنے بندوں میں سے ایک دوسرے گروہ کو چنا اور اس کو اپنی کتاب کا وارث بنایا۔ ’ وارث بنایا ‘ کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ا سے سے پہلے جوگ کتاب الٰہی کے وارث بنائے گئے تھے (یعنی بنی اسرائیل) ان سے یہ امانت چھینی اور ایک دوسرے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 کتاب سے قرآن اور چنے ہوئے بندوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ یعنی اس قرآن کا وارث ہم نے امت محمدیہ کو بنایا ہے جسے ہم نے دوسری امتوں کے مقابلے میں چن لیا اور اسے شرف و فضل سے نوازا۔ یہ تقریبًا وہی مفہوم ہے جو آیت البقرہ ا۔ 142 کا ہے۔ 32۔ 2 امت محمدیہ کی تین قسمیں ہیں یہ پہلی قسم ہے جس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو بعض فرائض میں کوتاہی اور بعض محرکات کا ارتکاب کرلیتے ہیں یا بعض کے نزدیک وہ ہیں جو صغائر کا ارتکاب کرتے ہیں انہیں اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اس لیے کہا کہ وہ اپنی کچھ کوتاہیوں کی وجہ سے اپنے کو اس اعلی درجہ سے محروم کرلیں گے جو باقی دو قسموں کو حاصل ہوں گے۔ 32۔ 3 یہ دوسری قسم ہے۔ یعنی ملے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–36

9: اس سے مراد مسلمان ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن براہ راست تو حضور سرور عالم ﷺ پر نازل ہوا، لیکن پھر اس کا وراث ان مسلمانوں کو بنایا گیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے چن لیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائیں، لیکن ایمان لانے کے بعد ان کی تین قسمیں ہوگئیں، ایک وہ تھے جو ایمان تو لے آئے لیکن اس کے تقاضوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا، چنانچہ اپنے بعض فرائض چھوڑدئیے، اور گناہوں کا بھی ارتکاب کرلیا، ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، کیونکہ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ انہیں جنت میں فوری داخلہ نصیب ہوتا، لیکن انہوں نے گناہ کرکے اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنالیا،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ کتاب اللہ نے امت مسلمہ کو دی ہے اور اللہ نے اس کام کے لئے اس کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں : ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا ” “۔ ان الفاظ پر امت مسلمہ کو غور کرنا چاہئے۔ اللہ نے اسے بہت ہی بڑا اعزاز دیا ہے اور اللہ نے اس کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اس انتخاب کے ذریعہ سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کتاب کے کچھ تقاضے ہیں۔ کیا یہ برگزیدہ امت سن رہی ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟ اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ اللہ نے تو اس امت کو اس انتخاب کی وجہ سے بہت بڑی عزت دی ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس پر جزاء اور انعام مقرر کرکے اسے مزید فضیلت عطا کردی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی پیغمبر کے بعد اس کتاب کا وارث اس امت کو بنایا جو بہمیت مجموعی تمام امتوں سے بہتر و برتر ہے۔ ہاں امت کے سب افراد یکساں نہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو باوجود ایمان صحیح کے گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں (یہ " ظالم لنفسہ " ہوئے) اور وہ بھی ہیں جو میانہ روی سے رہتے ہیں۔ نہ گناہوں میں منہمک، نہ بڑے بزرگ اور ولی۔ (انکو " مقتصدا " فرمایا) اور ایک وہ کامل بندے جو اللہ کے فضل و توفیق سے آگے بڑھ بڑھ کر نیکیاں سمیٹتے اور تحصیل کمال میں مقتصدین سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ مستحب چیزوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اور گناہ کے خوف سے مکروہ تنزیہی بلکہ بعض مباحات تک سے پرہیز کرتے ہیں۔ اعلیٰ درجہ کی بزرگی اور فضیلت تو ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32{ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاج } ”پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے ُ چن لیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت کو کتاب کی وراثت کے لیے چن لیا ہے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة الحج کی آخری آیت میں واضح تر انداز میں آچکا ہے : { وَجَاہِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖط ہُوَ اجْتَبٰٹکُمْ } ”اور جہاد کرو اللہ کے لیے جیسے کہ اس کے لیے جہاد کا حق ہے ‘ اس نے تمہیں چن لیا ہے“۔ سورة الحج میں اس مفہوم کے لیے لفظ ”اِجْتَبٰی“ استعمال ہوا ہے جبکہ آیت زیر مطالعہ میں لفظ ”اِصْطَفٰی“ آیا ہے۔ سورة الحج کے مطالعے کے دوران بھی ذکر ہوا تھا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 اعمال کے لحاظ سے تین قسم کے مسلمان اور ان کا انجام :۔ اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ اس کے اولین وارث صحابہ کرام ؓ کی جماعت ہے۔ اس آیت سے ان کی بہت فضیلت ثابت ہوئی۔ پھر ان کے بعد درجہ بدرجہ اور نسل بعد نسل آپ کی ساری امت بھی اس کتاب کی وارث ہے۔ پھر ان وارثوں کے تین طبقات ہیں یا تین قسم کے گروہ ہیں۔ ایک وہ جو اپنے نفس پر ظلم کر رہے ہیں۔ یعنی وہ اللہ کے باغی نہیں ہیں مشرک بھی نہیں ہیں۔ کتاب وسنت کی اتباع کے داعی بھی ہیں۔ مگر ان کے اعمال ان کے دعوٰے کی پوری طرح تصدیق نہیں کرتے۔ وہ خطا کار ضرور ہیں مگر اپنے جرائم پر نادم ضرور ہوتے ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو نیک اعمال بجا لارہا ہے تاہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ (اور انہیں کا مجموعی نام ملت اسلامی یا امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول اللہ ﷺ کے توسط یہ کتاب الہی کی امانت اب امت محمدی ﷺ کے ہاتھ میں پہنچی ہے، اور وہی دنیا کی ساری ملتوں میں سے حق تعالیٰ کی پسند کی ہوئی جماعت ہے۔ (آیت) ” الذین اصطفینا من عبادنا “۔ سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد امت مومنین ہے۔ وھم اھل الایمان وعلیہ الجمھور (مدارک) وھم کما قال ابن عباس ؓ وغیرہ امۃ محمد ﷺ (روح) وھم ھذہ الامۃ (ابن کثیر) امام ابو یوسف (رح) سے دریافت کیا گیا کہ آیت میں جن طبقات کا ذکر ہے، یہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا سب مسلمان ہیں۔ سئل ابویوسف (رح) عن ھذہ الایۃ فقال کلھم مومنون (مدارک ( 45۔ مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے جیسا کہ سبز اور سرخ اور زرد وغیرہ اوعر پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں جُدَدٌ جُدَّۃٌ کی جمع ہے، پہاڑی راستے وغیرہ کو کہتے ہیں، (مثلاً ) سفیدوسرخ اور زرد اور وہ رنگ تیز اور ہلکا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ بھی اس کا عطف جُدَدٌ پر ہے یعنی نہایت تیز رنگ کی چٹانیں ہیں، کثیر الاستعمال اَسْوَدُ غِربیبٌ ہے اور قلیل الستعمال غِرْبِیْبٌ اَسْوَدُ ہے اور اسی طرح انسانوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا . پھر یہ کتاب ہم نے ان لوگوں کے ہاتھ میں پہنچائی جن کو ہم نے اپنے تمام بندوں میں سے منتخب کرلیا۔ اِرث کا معنی ہے کسی کے پاس سے ایک چیز کا دوسرے کے پاس منتقل ہوجانا۔ اَوْرَثْنَا کا ترجمہ اَخَّرْنَا بھی کیا گیا ہے ‘ اسی معنی کے لحاظ سے میراث کو میراث کہتے ہیں۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ گذشتہ امتوں سے اس قرآن کو مؤخر کردیا اور اپنے منتخب بندوں کو دیا۔ مِنْ عِبَادِنَا میں مِنْ تبعیضیہ اور عِبَادِنَا میں اضافت عباد کی عزت و عظمت کو ظاہر کر رہی ہے۔ عباد سے مراد ہیں صحابۂ کرام اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے علماء امت۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک پوری امت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پھر آپ پر قرآن حکیم نازل کرنے کے بعد اس کے یاد رکھنے اور اس کے لکھنے اور اس کی کتاب کی تلاوت کرنے کی دولت ان لوگوں کو نصیب فرمائی جن کو ہم نے بذریعہ ایمان اپنے تمام بندوں میں پسند کیا ہے یعنی رسول اکرم کی امت تو ان میں سے بعض کبیرہ گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں کہ ان کی نجات شفاعت یا مغفرت وعدہ ہی کے ساتھ ہوسکتی ہے اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں کہ ان کی نیکیاں اور گناہ دونوں برابر ہیں کہ ان کا معمولی سا حساب ہو کر پھر ان کی نجات ہوجائے گی اور کچھ ان میں ایسے ہیں جو اللہ کی توفیق سے دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے جارہے ہیں اور آخرت میں جنت عدن کا قرب حاصل کرتے جارہے ہیں یہ انتخاب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا : یعنی ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی، پھر اس کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جنھیں ہم نے اس کتاب کا وارث بننے کے لیے، یعنی امت مسلمہ میں شامل ہونے کے لیے چن لیا اور یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم جسے چاہتے ہیں چن لیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ) [ الشورٰی : 13 ] ”اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔“ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ : کتاب اللہ کے وارث بننے والے افراد کی، یعنی امت مسلمہ کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 01 :۔ یہ آیت مشکل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اصطفینا من عبادنا پھر فرمایا : منھم ظالم النفسہ اس میں علماء جو صحابہ، تابعین اور ان کے بعد سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے گفتگو کی ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ فمنھم ظالم النفسہ سے مراد کافر ہے ؛ اسے ابن عیینہ نے عمر و بن دینار سے وہ عطا سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے ـ: آیت : فمنھم ظالم النفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق با لخیرات کہا : دو فرقے نجات پا گئے عر بی میں تقدیر کلام یہ ہوگی فمنھم من عبادنا ظالم النفسہ یہاں ظالم سے مراد کافر ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا “ (پھر ہم نے وارث بنایا اس کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے) فرمایا کہ اس سے مراد محمد ﷺ کی امت ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر کتاب کا وارث بنایا جو نازل کی گئی ان کے ظالم کو بخش دیا جائے گا۔ اور ان کے درمیانی درجہ والوں سے آسان حساب کیا جائے گا اور ان پر سے سبقت لے جانے والا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔ ہر مسلمان جنت میں جائے گا : 2:۔ الطیالسی واحمد عبد بن حمید اور ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن جریر وابن المنذر وابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ اَوْرَثْنَا [پھر ہم نے وارث بنایا ] الْكِتٰبَ [کتاب کا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کو جنہیں ] اصْطَفَيْنَا [ہم نے چن کیا ] مِنْ عِبَادِنَا ۚ [اپنے بندوں میں سے ] فَمِنْهُمْ [تو ان میں سے ] ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ [کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنی جان پر ] وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ [اور ان میں سے کوئی میانہ رو ہے ] وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ [اور ان میں سے کوئی سبقت کرنے والا ہے ] بِالْخَــيْرٰتِ [بھلائی پر ] بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی اجازت سے ] ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ [یہ ہی بڑا فضل ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: کتاب کا وارث بنائے جانے والوں سے مراد مسلمان ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب پیش تو کی گئی ہے سارنے انسانوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–33

اس کے بعد ان بندوں کا تذکرہ فرمایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی، ان کے بارے میں لفظ (اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا) فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ جسے اللہ تعالیٰ کی کتاب مل گئی وہ اللہ کا برگزیدہ بندہ ہے، (خواہ عمل کے اعتبار سے اس نے اپنی حیثیت گرا رکھی ہو) حدیث شریف میں ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن کی نعمت عطا فرما دی پھر اس نے کسی شخص کے بارے میں یہ خیال کیا کہ اسے مجھ سے افضل چیز عطا کی گئی ہے تو اس نے سب سے بڑی نعمت کو حقیر جانا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ج 6: ص 75) پھر ان کی تین قسمیں بتائیں کہ ان میں بعض وہ ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی گناہوں میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–37

مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت وترغیب برتجارت آخرت قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔ (ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31:۔ ثم اور ثنا۔ تا۔ ولا یمسنا فیہا لغوب۔ یہ وارثان کتاب اللہ (قرآن) کے لیے بشارت اخروی ہے۔ الذین اصطفینا سے امت محمدیہ کے علماء مراد ہیں جو کتاب اللہ سمجھیں اور اس کے احکام پر عمل کریں المراد بالمصطفین علماء الامۃ من الصحابۃ و من بعدہم ممن یسیر بسیرتہم (روح ج 22 ص 195) ۔ پھر ان میں تین گروہ ہوئے۔ اول ظالم لنفسہ، جنہوں نے کتاب اللہ پر عمل کرنے اور اس کی خدمت کرنے میں بہت زیادہ کوتاہی اور سستی کی۔ دوم مقتصد، جن کے عمل بالکتاب اور مخالفت کے پلرے برابر رہے۔ سوم سابق بالخیرات، جن کے عمل بالکتاب اور اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوا۔ قال الحسن الظالم من خفت حسناتہ والمقتصد من استوت والسابق من رجحت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–37

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی مختلف اقسام کو توحید کے دلائل کے طور پر پیش کیا۔ پھر فرمایا کہ خشیت الٰہی علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اہل ایمان کی بعض صفات بیان فرمائیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ نفع بخش تجارت کرتے ہیں۔ پھر قرآن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ برحق ہے ، پہلی کتابوں کی مصدق ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کتاب میں بڑا سامان ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ورثائے کتاب کتابیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا۝ 0 ۚ فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ۝ 0 ۚ وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ۝ 0 ۚ وَمِنْہُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِـاِذْنِ اللہِ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ۝ 32ۭ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي : أصله وبقيّته، قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–32

ترکیب : الوانہا مرفوع۔ بمختلف و جدد بفتح الدال جمع جدۃ وھی الطریقۃ ویقراء بضمھا و ھو جمع جدید کسر یروسرر قال الجوہری الجدۃ الخطۃ التی فی ظھر الحمار تخالف لونہ والجدۃ الطریق والجمع جدود جدائد، قال المبرد و طرائق و خطوط و غرابیب سود عطف علی بیض و علی جدد کانہ قیل ومن الجبال ذوجد و مختلفۃ اللون و منہا غرابیب متحدۃ اللون، وغرابیب جمع غربیب ھو الشدید السواد الذی یشبہ لونہ لون الغراب والغرابیب تابع و تاکید لسود و حق التاکید التاخیر فقیل فی جو ابہ ھو تاکید مضمر بفسرہ سود کما جاء فی قول النابغہ ؎ المومن العائذات الطیر مسیحھا والطیر عطف بیان للعائذات و ھو الشاہد ومن الحبال مستانفۃ کانہ قال واخرجنا با…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْـکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاج فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّـنَـفْسِہٖ ج وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ ج وَمِنْہُمْ سَابِقٌ م بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَضْلُ الْـکَبِیْرُ ۔ (فاطر : 32) (پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنھیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا، پس ان میں سے کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی ان میں سے بیچ کی راس ہے اور کوئی ان میں سے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ ) کتاب اللہ کے منتخب وارث ثُمَّحرفِ عطف ہے اور ترتیب پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حرف سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–32

فہم القرآن ربط کلام : یہ اللہ تعالیٰ کی قدر افزائی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں کچھ بندوں کو اپنی کتاب کا وارث بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا جس کے ” من جانب اللہ “ ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ قرآن واقعتا حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا یہ حقیقی اور ٹھوس دلائل پر مبنی ہے۔ اس کے ارشادات سچے ہیں اس کی تعلیمات پہلی آسمانی کتابوں کی تائید کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہر بات سے باخبر اور ان کے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔ وہی لوگوں میں سے اپنے بندوں کو اپنی کتاب کا وارث بنانے والا ہے جن میں سے کچھ اپنے آپ پر زیادتی کرنے والے ہیں۔ کچھ ان میں میانہ رو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وارثین قرآن کے درجات : 32: ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ (پھر ہم نے یہ کتاب ان لوگوں کے ہاتھوں پہنچائی) قرآن مجید آپ کی طرف بذریعہ وحی نازل فرمایا پھر ہم نے اس کے پہنچانے کا فیصلہ کیا ان بندوں کو۔ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا (جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا) اور وہ آپ کی امت سے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین ؓ اور جو ان کے بعد ان کے پیروکار قیامت تک ہونگے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام امتوں پر چنا اور ان کو امت وسط بنایا تاکہ وہ لوگوں پر گواہ ہوں اور ان کو افضل الانبیاء (علیہم السلام) کی طرف نسبت کا شرف عنایت فرما دیا۔ فائدہ : پھر اس امت کے مراتب بالترتیب بیان فرمائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32، ثم اور ثنا الکتاب ، وہ کتاب جو آپ کی طرف نازل فرمائی جس کا ذکر پہلی آیت میں گزرچکا ہے۔ ، الذین اصطفینا من عبادنا ، یہاں پر ثم بمعنی واؤکے ہے ۔ اور ہم نے ان کو وارث بنادیا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ثم کان من الذین آمنوا، یہاں پر بھی ثم واؤ کے معنی میں ہے۔ مجاہد نے ، اور ثنا، کا ترجمہ اخزنا سے کیا ہے اس معنی کے لحاظ سے میراث کو میراث کہتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک پوری امت اسلامیہ مراد ہے۔ فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد کی تفسیریں ، فمنھم ظالم لنفسہ ومھم مقتصد ومنھم سابق بالخیرات، اسامہ بن زید نے اللہ عزوجل ، فمنھم ظالم لنفسہ، کے بارے میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

32۔ بعض مفسروں نے سورة واقعہ میں جو اہل محشر کی تقسیم ہے اس تقسیم کو اور اس آیت کی تقسیم کو ایک قرار دیا ہے اور اپنی جان پر ظلم کرنے والوں سے مراد کافر اور منافق لوگ لیے ہیں مگر یہ تفسیر قرآن شریف کی عبادت کے مخالف ہے کس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تینوں قسم کے لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے ساتھ فرمایا ہے وہ لوگ کافر اور منافق کیوں کر قرار دئے جاسکتے ہیں اگرچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی ایک روایت اس تفسیر کی تائید میں بعضے مفسروں نے ذکر کی ہے لیکن وہ روایت اس روایت کے مخالف ہے جس کو علی بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور یہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–35

آیت 31 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اسنے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی (ھو الحق) ” وہ حق ہے “ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لئے تمہارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسئال الہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ (مصدقا لما بین یدیہ) یعنی گزشتہ کتابوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–33

علم، حشیت اللہ پیدا کرتا ہے قول باری ہے (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمو۔ اللہ سے ڈرتے بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں) آیت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے نیز یہ کہ علم کے ذریعے اللہ کی خشیت اور تقویٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کی توحید اور اس کے عدل کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کی یہ معرفت اسے خشیت اور تقویٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی توحید، اس کے عدل اور کائنات کی تخلیق میں اس کے مقصد سے ناآشنا ہو وہ نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں تقویٰ یعنی خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے (یرفع اللہ الذین امنا منکم والذین اوتوا العلم درجات ۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

74 مخلوق کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے انتظام کا ذکر : سو مخلوق کی ہدایت و راہنمائی کے لیے خداوند قدوس کے انتظام کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " پھر ہم نے اپنی اس کتاب کا وارث بنادیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو "۔ یعنی اس سے پہلے کتاب ہدایت کے حامل ہونے کا شرف و اعزاز ایک عرصہ دراز تک بنی اسرائیل کو حاصل رہا، مگر جب انہوں نے اس کا حق ادا کرنے میں تقصیر و کوتاہی سے کام لیا اور وہ نااہل قرار پائے تو ہم نے ان سے یہ اعزاز چھین کر بنی اسماعیل کو دے دیا اور اپنی آخری کتاب ہم نے آپ ﷺ کی طرف اتاری۔ پھر یہ کتاب حق جو ہم نے آپ کو بذریعہ وحی عنایت فرمائی آپ ﷺ کے بعد اس کا وارث ہم نے اپنے چنے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–45

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی پیغمبر ﷺ کے بعد کتاب کے وارث اپنے بر گزیدہ بندوں کو بنایا یعنی یہ امت جو امت وسط ہے اور اسے خیر الانبیا ( علیہ السلام) کی امت ہونے کا شرف حاصل ہے اور ” اور ثنا “ سے مراد یہ ہے کہ ہم نے مقرر کردیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اس کتاب کے وارث اس امت کے علماء کو بنا دینگے۔ ( فتح البیان)6 بعض علماء نے تفسیر (رح) نے سورة واقعہ میں جو اہل محشر کے تین گروہ مذکور ہیں۔ ان پر اس آیت کو بھی منطق کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی جان پر ظلم کرنے والوں سے کافر اور منافق مراد لئے ہیں مگر یہ تفسیر قرآن کے سیاق کے خلاف ہے کیونکہ یہاں تین قسم کے لوگوں کا ذکر فرما کر ان کا جتنی ہونا بیان کیا ہے اور اس کے بعد اہل دوزخ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35: 32) ثم اور ثنا۔ ماضی جمع متکلم ایراث (افعال) مصدر۔ ہم نے وارث بنایا ثم حرف عطف ہے اور ثنا کا عطف الذی اوحینا پر ہے۔ ثم اور ثنا الکتب پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنایا۔ اصطفینا۔ ماضی جمع متکلم اصطفاء (افتعال) مصدر۔ ہم نے منتخب کرلیا۔ ہم نے چن لیا۔ مقتصد۔ اسم فاعل واحد مذکر اقتصاد (افتعال) مصدر۔ قصد مادہ سیدھے راستہ پر قائم ۔ متوسط ۔ میانہ رو۔ القصد (باب ضرب ) راستہ کا سیدھا ہونا اسی سے اقتصاد ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ (1) محمود علی الاطلاق۔ جو افراط و تفریط کے درمیان ہو جیسے سخاوت جو اسراف وبخل کے مابین کو کہتے ہیں۔ اور شجاعت جو لاپرواہی اور بزدلی کے درمیان درجہ کا نام ہے چناچہ اسی معنی کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 31–37

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ اور ثنا ( ہم نے وارث بنایا) اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) مقتصد (اعتدال اختیار کرنے والا) سابق (آگے بڑھنے والا) اساور (کنگن ، سونے کا ایک زیور) لولو ( موتی) حریر (ریشم) احلنا (ہم نے بسایا ، آباد کیا) دارالمقامۃ (رہنے کا گھر) نصب ( محنت ، مشقت) لغوب ( کام کے بعد کی تھکاوٹ) لا یقضی (فیصلہ نہ کیا جائے گا) لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) یطر خون (وہ چیخیں گے ، چلائیں گے) نعمر (ہم نے عمر دی تھی) نصیر (مدد گار) تشریح : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے امت کو اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جو کتاب قرآن مجید آپ کی طرف نازل کی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اس آیت میں تین قسم کے لوگوں کا بیان فرمایا کہ ، بعض تو ان میں سے گناہ گار ہیں اور گناہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور عمل نہیں کرتے، صرف ایمان ہی ایمان ہے، اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو اوسط درجے کے ہیں پورے عامل نہیں اور بعض کامل ہیں اور ایمان میں بھی اور عمل میں بھی ہر ایک نیک کام میں پیش قدمی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ہدایت کرتے ہیں خدا کے حکم سے ، ان لوگوں کو کتاب یعنی قرآن کا عطا فرمانایہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–32

[15] یعنی امت مسلمہ۔ [16] مسلمانوں کی یہاں تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی قسم اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی ہیں تو مسلمان مگر گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اور عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کا حق ادا نہیں کر رہے، مسلمان ہیں مگر گنہگار، دوسری قسم متوسط درجے والے، یعنی وہ جو نہ گناہوں میں منہمک ہیں اور نہ بڑے بزرگ ولی ہیں، فرمانبردار بھی ہیں اور خطاکار بھی۔ تیسری قسم نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ صف اول کے لوگ ہیں جن کی رگ رگ میں اسلام رچا ہوا ہے اور جو کتاب و سنت کے اتباع میں پیش پیش ہیں۔ یہ گناہوں سے بچتے بھی ہیں اور طاعت میں فرائض کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کئے رہتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–33

ف 2: بااعتبار اعمال کے مسلمانوں کی تقسیم فرمائی ہے ۔ کہ کچھ لوگ تو وہ ہیں ۔ جو گنہگار اور ظالم ہیں یعنی گو قرآن کو اللہ کی کتاب تسلیم کرتے ۔ مگر عمل میں بتقاضائے بشری سست ہیں ۔ کچھ وہ ہیں جو متوسط درجے کے ہیں ۔ زاہد وتقویٰ کے بلند ترین مراتب پر فائز ہیں ۔ اور نہ فسق وفجور کے عادی ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں جن کی رگ رگ میں اسلام رچا ہوا ہے ۔ جن میں ہر وقت پیش قدمی اور سبقت کا جذبہ متحرک رہتا ہے ۔ جو ہر کار خیر میں بڑھ بڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ فرمایا یہی لوگ اور حقیقت اللہ کے بہت بےفضل کے حامل ہیں ۔ حل لغات :۔ سرا ۔ پوشیدہ طور پر ۔ ریاکاری سے بچنے کے لئے علانیہ ۔ ظاہر طور پر دوسروں کو نیکی پر آمادہ کرنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) پھر ہم نے اپنے بندوں کو برگزیدہ اور منتخب کیا ان چیدہ اور پسندیدہ بندوں کو اس کتاب کا وارث بنایا اور ان کے ہاتھوں تک اس کتاب کو پہنچایا۔ پھر ان میں سے بعض اپنی جانوں پر زیادتی اور ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان بندوں میں سے متوسط اور میانہ رو ہیں اور بعض ان بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی توفیق سے بھلے کاموں میں سبقت کرنیوالے اور آگے بڑھ جانے والے ہیں اور نیکیوں میں ترقی کرنے والے ہیں یہ کتاب کا وارث بنانا اور کتاب کا عطا فرمانا بڑا فضل اور بڑی بزرگی ہے۔ یعنی جو کتاب برحق نبی کریم ﷺ پر وحی کی گئی تھی اس کتاب کا امت محمدیہ کو جو چیدہ اور پسندیدہ امت ہے اور تمام بندوں میں سے جن کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–36

ف 2۔ مراد اس سے اہل اسلام ہیں جو اس حیثیت ایمان سے تمام دنیا والوں میں مقبول عنداللہ ہیں، گو ان میں کوئی دوسری وجہ مثل سوء عمل کے موجب ملامت بھی ہو مطلب یہ کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں وہ کتاب پہنچائی۔ 3۔ کیونکہ اس پر عمل کرنے کی بدولت کیسے اجر و فضل کے مستحق ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حاملین اور وارثین قرآن کے فضائل ومناقب قرآن کی زبان میں 32 ۔ اوپر قرآن کریم کے فضائل میں بتایا گیا تھا کہ اس کی فضیلت اس سے پہلے اتاری گئی کتابوں پر کیونکر اور کیسے ہے ؟ اور یہ بھی کہ جس طرح نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی ورسول ہیں اسی طرح قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا والوں کی طرف آخری کتاب وپیغام ہے۔ ساتھ ہی وضاحت کردی کہ جس طرح آخری رسول گزشتہ رسولوں کی تصدیق کرتا ہے اسی طرح قرآن کریم گزشتہ کتب الٰہی کامیمن ہے اور ان کی تعلیمات کو جو حق تھیں یعنی اللہ کی طرف سے نزل شدہ تھیں جن کو وہ کتابیں دی گئی تھیں انہوں نے اپنی طرف سے نہیں ملائی تھیں ان کی تصدیق و توصیف کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The word: ثُمَّ (thumma: Then) in verse 32: ثُمَّ أَوْرَ‌ثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا (Then We conveyed the Book as an heritage to those of Our slaves whom We chose.) serves as a conjunction to denote that the two things mentioned before and after it, despite having common characteristic, are marked by precedence and succession. What comes first has precedence, and that which comes after, succeeds. In addition to that, on some occasions, this precedence and succession takes effect in terms of time while, on some others, in terms of rank and degree. In this verse,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55 This implies the Muslims, who have been sorted out from all mankind so that they may become heirs to the Book of Allah, and convey its message to others after the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings). Though this Book has been presented before all human beings, those who accepted it in the first instance, were chosen for the honour to become heirs to a great Book like the Qur'an and the trustees of the teaching and guidance imparted by a great Messenger like the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings). 56 That is, "All these Muslims are…

Read the full tafseer →